Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 13

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 13

–**–**–

تارز اور چاۓ۔۔۔ ندوہ نے حیران سے انداز میں سلمی کو دیکھا اور پھر کچن کی کھڑکی کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ اور حدفہ مصروف انداز میں کچن میں کام کر رہے تھے۔۔۔
ہاں۔۔۔ کہہ رہا آج شام کی چاۓ اس کے ہاتھ کی۔۔۔ سلمی نے ہلکا سا قہقہ لگا کر محبت سے کہا۔۔۔۔
ندوہ آہستہ سے چلتی ہوٸ کچن کے پاس آٸ تھی۔۔۔ تارز صبح آفس والی پینٹ شرٹ میں ہی ملبوس تھا ٹاٸ اتاری ہوٸ تھی شرٹ کی ایک ساٸڈ پینٹ کے اندر دوسری باہر تھی شرٹ کے بازو فولڈ کیے ہوۓ تھے ۔۔۔۔ وہ چاۓ کو پھینٹنے میں مصروف تھا۔۔ اس کو دیکھ کر ایک دم سے مسکرا کر پلٹا تھا۔۔۔
ارے۔۔۔ اٹھ گٸ محترمہ۔۔۔ حدفہ نے بے زار سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
وہ پکوڑے نکال رہی تھی ۔۔ بہت ساری پلیٹیں مختلف لوازمات سے سجی ہوٸ شلف پر پڑی تھیں ۔۔ ایک میں کیک تھا۔۔کوکیز۔۔۔ڈراٸ فروٹس۔۔۔ اور ایک میں حدفہ پکوڑے فراٸ کرنے کے بعد رکھ رہی تھی۔۔۔
دیکھیں ذرا ۔۔۔ اپنے شوہر کو ۔۔۔ اور لگیں ان کے ساتھ ۔۔۔ حدفہ نے جلدی سے ہونٹ نکالتے ہوۓ چمچ ندوہ کی طرف بڑھایا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔ اۓ۔۔۔ خبر دار جو میری بیوی سے کام کروایا تو۔۔۔ آج سے شام کی چاۓ میرے ہاتھ سے ۔۔۔ تارز نے حدفہ کو آنکھیں نکالی تھیں ۔۔۔ پھر محبت سے ندوہ کی طرف دیکھا جو سینے ہر ہاتھ باندھے ایسے چہرے کے ساتھ کھڑی تھی جیسے کہہ رہی ہو یہ کیسا ڈرامہ ہو بھٸ اب بھلا۔۔۔
اور تم کام کیا کرو گی میرے ساتھ موٹی ہوتی جا رہی ہو۔۔۔ تارز نے قہقہ لگایا اور پکوڑا اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا جس پر حدفہ نے زور سے چپت لگاٸ تھی۔۔۔
آپی چیک کریں ذرا انھیں۔۔۔ یہ کیا بات ہوٸ۔۔۔ حدفہ نے بے چارگی سے ندوہ کی طرف دیکھا۔۔۔
تارز آپ نکلیں۔۔۔ میں لے کر آتی ۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔۔۔
نہیں بلکل نہیں ۔۔۔ بس ابھی لے کر آ رہا ۔۔۔ اتنا بھی بے کار مت سمجھو دو سال اکیلے رہا ہوں اسلام آباد۔۔۔۔ تارز نے کالر کھڑے کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
حدفہ نے زبان نکال کر منہ چڑھایا۔۔۔
بڑے۔۔۔ سارا کام میں نے کیا ہے۔۔۔ حدفہ نے روہانسی شکل بنا کر کہا ۔۔۔
چل جھوٹی ۔۔۔تارز نے لب دانتوں میں دبا کر آنکھیں نکالی تھیں۔۔۔
چلو ۔۔۔۔ چلو جا کر بیٹھو۔۔۔۔۔۔ تارز نے ندوہ کو باہر جا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
اور تم کہاں جا رہی پکوڑے ڈالو پلیٹ میں ۔۔۔ ۔۔۔ حدفہ جو جان بچہ کر کھسک رہی تھی تارز نے جھٹکے سے بازو اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
تارز بھاٸ۔۔۔۔۔۔۔ حدفہ نے منہ بنا کر پیر پٹخا تھا۔۔۔
ندوہ حدفہ کی حالت پر مسکراتی ہوٸ باہر آٸ تھی۔۔
ندوہ۔۔۔ ۔۔۔سلمی نے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوۓ ندوہ کو اپنے پاس بلایا تھا۔۔۔
جی۔۔۔۔ ۔۔ ندوہ مسکراتی ہوٸ ان کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔۔
بہت ۔۔۔ اچھا ہے تارز۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ سلمی نے محبت سے ندوہ کاماتھا چومتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
جی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے پر سوچ انداز میں کہا تھا۔۔۔۔
ان کو لاہور آۓ ہوۓ دو ہفتے ہونے کو تھا۔۔۔ تارز ہر گھڑی ہر لمحہ اس پر محبت لٹا رہا تھا۔۔۔رات کو اس کے ہاتھ کو سینے سے لگا کر سونا۔۔ اسے خود یونیورسٹی چھوڑ کر آنا آفس سے وقت نکال کر اسے گھر چھوڑنے آنا راستے سے ایک گلاب لے کر دینا۔۔۔ اور شام کی چاۓ وہ بناتی تھی جب وہ آفس سے آتا تھا لیکن آج چاۓ بھی وہ بنا رہا تھا۔۔۔۔اب تارز اور حدفہ مل کر کھانے کے میز کو سجا رہے تھے۔۔۔۔
ندوہ نے چاۓ کے کپ کو منہ لگا کر ایک گھونٹ لیا تھا اور حیران ہو کر تارز کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔ جو پہلے سے اسے محبت پاش نظروں سے دیکھنے میں مصروف تھا چاۓ بہت مزے کی تھی ۔۔۔ وہ حیران ہوٸ تھی ۔۔۔
سلمی اور داٶد بھی چاۓ کی تعریف کر رہے تھے ۔۔۔ اور وہ اپنی تعریف پر قہقے لگاتا بس اس کی طرف دیکھ رہا تھا جس نے ایک لفظ بھی منہ سے تعریف کا نہیں نکالا تھا۔۔۔
*************
پاگل لڑکی ۔۔۔کتنی خوش قسمت ہو تم۔۔۔۔۔۔عروہ نے آنکھیں سکیڑ کر ایک نظر سامنے لاونج میں بیٹھے تارز کو دیکھا اور پھر ندوہ کی طرف۔۔
عروہ نے ستاٸشی نظر پھر سے تارز پر ڈالی تھی۔۔۔ جو ھادی کے ساتھ باتوں میں مگن تھا۔۔۔وہ دونوں کچن میں کھڑی تھیں اور کھڑکی سے سامنے لاونج کا منظر واضح نظر آ رہا تھا۔۔۔
ندوہ اور تارز ۔۔۔ ندوہ کے ماموں کی طرف ڈنر پر آۓ تھے۔۔۔ ھادی کی بڑی بہن عروہ سے ندوہ کی بچپن سے دوستی تھی۔۔ ندوہ نے اسے اپنی ہر الجھن بتا دی تھی
تم یہ کیوں نہیں سوچتی کہ وہ کتنی محبت کرتا تم سے۔۔۔اس نے جو بھی کیا ۔۔۔۔ جنگ اور محبت میں سب جاٸز ہے ۔۔۔ عروہ اسے ڈانٹنے کے انداز میں سمجھا رہی تھی
لیکن میں تو نہیں کرتی نہ اس سے محبت ۔۔۔ ندوہ نے بے زار سی شکل بنا کر کہا تھا۔
تم بیو قوف جو ٹھہری ۔۔۔ دیکھو تو اس کی طرف ۔۔۔کیا بندہ ہے پاگل لڑکی ۔۔۔۔۔عروہ نے تارز کی طرف اس کی توجہ دلاٸ تھی
ندوہ نے مڑ کر پہلی دفعہ تارز کو اس نظر سے دیکھا تھا۔۔۔ وہ ھادی کے ساتھ بات کرتے ہوۓ بار بار قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔۔ سفید رنگ کی شرٹ زیب تن کۓ وہ غضب کا لگ رہا تھا۔۔۔ وہ بہت خوبرو تھا۔۔۔۔ عروہ بلکل ٹھیک کہہ رہی تھی۔۔۔ لیکن دل اس کے لیے کچھ بھی محسوس ہونے کی حامی نہیں بھرتا تھا۔۔۔
بس کر دو۔۔۔ ندوہ نے گھٹی سی آواز میں عروہ کی بات کی نفی کی تھی۔۔۔
بس تو تم کر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کچھ تم نے بتایا ہے کون کرتا ہے آجکل اپنی بیوی کے ساتھ ۔۔۔ عروہ کے ماتھے پر اب بل پڑ گۓ تھے۔۔۔ خفگی سے اسے لتاڑا
جب وہ میرے پاس آتا ہے۔۔۔ مجھ سے کوٸ بھی بات کرتا ہے ۔۔۔ یا مجھے ساتھ لگاتا ہے۔۔۔ مجھے عجیب سا احساس ہوتا ہے جیسے کہ شرمندگی سی ۔۔۔ کہ میں بڑی ہوں اس سے۔۔۔ ندوہ نےلب کچلتے ہوۓ اپنے تارز کے لیے احساسات کو بیان کیا تھا۔۔۔
تمھارا تو دماغ خراب ہے۔۔۔کہاں سے لگتی ہو تم اس سےبڑی ہاں۔۔۔اس کو دیکھو تو۔۔۔۔ عروہ نے جھاڑنے کے سے انداز میں کہا تھا۔۔۔
دیکھا ہے دن رات اسی کو دیکھتی ہوں آجکل۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں تمھاری جگہ ہوتی تو رشک کرتی اپنی قسمت پر۔۔۔ عروہ نے چاۓ کے کپ ٹرے میں سجاتے ہوۓ کہا تھا۔۔
وہ لوگ کھانا کھا چکے تھے اب بس چاۓ پینے کے بعد انھیں واپسی کے لیے نکلنا تھا ۔۔۔
عروہ چاۓ لے کر کچن سے باہر نکلی تھی اور وہ بھی اس کے پیچھے مریل قدم اٹھاتی باہر آ گٸ تھی ۔۔۔
کیا کروں ۔۔۔ عروہ نےجو کہا اور جو میرا دل کہتا ہے۔۔ کیا میں واقعی میں بیوقوف ہوں۔۔۔ لیکن میں اس رشتے میں صرف کومپروماٸز کی قاٸل نہیں ہوں۔۔۔ تارز باٸک چلا رہا تھا اور وہ اس کے پیچھے اپنے آپ سے الجھ رہی تھی۔۔۔
آسکریم کھاٶ گی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ تارز نے ہلکی سی گردن موڑ کر آواز کو تھوڑا اونچا کرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
کھلا دو۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ندوہ نے سوچوں میں گم سی آواز میں حامی بھر لی تھی۔۔۔۔
رکو ذرا میں ابھی لے کر آتا ہوں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ باٸیک کو ایک طرف لگاتا ہوا وہ آٸسکریم لینے کے لیے بڑھا تھا جبکہ ندوہ خیالوں سے الجھی وہیں کھڑی تھی۔۔۔
ہاۓ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اکیلی کیوں کھڑی ہو ۔۔۔۔ ۔۔ باٸک پر موجود دو لڑکوں میں سے ایک لڑکے کی آواز پر ندوہ نے چونک کر دیکھا تھا ۔۔۔
دو لڑکے باٸک پر سوار اس کے قریب آ گۓ تھے۔۔۔اور اب ان میں سے ایک غلاضت بھری آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہوا اس پر معنی خیز گھٹیا جملے اچھالا رہا تھا۔۔۔
ندوہ نے پریشان ہو کر آسکریم پارلر کی طرف دیکھا تھا جہاں تارز نہیں دکھاٸ دے رہا تھا۔۔۔
لڑکے اس کے خوف کو دیکھتے ہوۓ اور شیر ہو گۓ تھے۔۔۔اب سامنے والا لڑکا باٸیک کو فرنٹ سے اس طرح اوپر اچھال رہا تھا جیسے ندوہ پر چڑھا دے گا۔۔۔
ندوہ نے گھٹی سی چیخ نکالی تھی۔۔۔۔ اور اسی کی ساتھ لڑکوں کا فلک شگاف قہقہ ابھرا تھا۔۔۔ پھر وہ باٸک تھوڑا آگے لے گۓ تھے لیکن ایک دم سے سامنے والا لڑکا اچھل کر باٸک سے نیچے گرا تھا جس کا گریبان تارز کے ہاتھ میں تھا۔۔۔
گرنے والا لڑکا ہی کیونکہ باٸیک چلا رہا تھا اس لیے دوسرا لڑکا جو پیچھے بیٹھا تھا لڑھکتا ہوا باٸیک کے ساتھ کتنی دور تک گھستا چلا گیا تھا۔۔۔
جبکہ تارز اب پہلے لڑکے کے جبڑوں پر لگاتار مکوں کے وار کر رہا تھا۔۔۔ لڑکا ادھ موا سا ہو گیا تھا۔۔ لوگوں کی بھیڑ اکھٹی ہو گٸ تھی ان میں سے کچھ لوگوں نے تارز کو زبردستی پیچھے کیا تھا۔۔۔۔
ندوہ کا گلا خشک ہو گیا تھا سانس خوف سے اٹک کر رہ گٸ تھی تارز کا یہ روپ وہ پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی۔۔۔ تارز کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔ اب وہ چلتا ہوا ندوہ کے پاس آ رہا تھا آسکریم کے کپ لڑکے کو مارنے کے چکر میں زمین بوس ہو چکے تھے۔۔۔
تارز پاگل ہو گۓ تھے کیا۔۔۔کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی ۔۔۔ندوہ نے اس کے آتے ہی چیخنے کے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔
ابھی تو اور پیٹتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر لوگ نہ آتے بیچ میں تارز نے دانت پیستے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
پاگل مت بنو۔۔۔ ندوہ نے خوف اور خفگی کے زیر اثر تارز کو جھاڑا تھا۔۔۔
تمھارے ساتھ بدتمیزی کی تھی انھوں نے ۔۔۔ تارز نے ہاتھ کا اشارہ بھیڑ کی طرف کرتے ہوۓ غصے سے بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
تو۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ندوہ نے چیخ کر کہا۔۔۔۔
تو جان سے مار دیتا میں ان کو۔۔۔ ۔۔۔۔ تارز بھی اسی انداز میں غرایا تھا۔۔۔۔
اگر یہ سب تماشہ مجھے امپریس کرنے کے لیے تھا۔۔۔ندوہ نے ناک پھلا کر کہا۔۔۔
اوہ۔۔۔ جسٹ شٹ اپ۔۔۔ تمھاری حفاظت فرض ہے میرا ۔۔۔ بھاڑ میں جاۓ تمہیں امپرس کرنا ۔۔۔ تارز کو اس کی بات پر تپ چڑھی تھی۔۔۔
ندوہ ایک دم سے اس کے ایسے دھاڑنے پر سٹپٹاٸ تھی
بیٹھو پیچھے۔۔۔ ۔۔۔۔ باٸک کو سٹارٹ کرتے ہوۓ رعب دار آواز میں کہا۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچ کر۔۔۔ دونوں کے درمیان بلکل خاموشی تھی تارز نے خفا سی صورت بنا رکھی تھی۔۔۔ ندوہ نے لا پرواہی سے سر جھٹکا اور چادر تان کر لیٹ گٸ تھی۔۔۔
بار بار آنکھوں کے سامنے وہی منظر آ رہا تھا ۔۔۔
13
تارز کے ہاتھ کی گرفت کو اپنے ہاتھ پر محسوس کر کے وہ ایک دم چونکی تھی ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ کو مخصوص انداز میں سینے پر رکھ چکا تھا۔۔۔۔
خفا بھی ہے لیکن یہ نہیں بھولا ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ سوچا تھا۔۔۔
اچانک اپنی ہتھیلی پر تارز کے لبوں کی جنبش کو محسوس کر کے وہ ساکن سی ہوٸ تھی آج پہلے دن اس نے یہ جسارت کی تھی ندوہ نے ایک دم سے ہاتھ کھینچ لیا تھا ۔۔۔
دوبارہ تارز نے ہاتھ نہیں پکڑا تھا
**************
اچھا۔۔۔۔ تو میں اور ندوہ چھٹی اپلاٸ کرتے ہیں پھر۔۔۔ تارز نے فون کان کو لگا کر سامنے سے آتی ندوہ کو دیکھا تھا۔۔۔ اور پھر گھڑی کی طرف وہ آج بھی بارہ بجے کے قریب اوپر آٸ تھی۔۔۔
ہاں ۔۔۔ ندوہ کو ذرا جلدی آنا ہوگا ۔۔۔ بہت کام ہو گا شادی کا بیٹا مہک کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی علیا بہت تنگ کرتا ویسے بھی ۔۔۔ ۔۔۔ سیما نے پریشان سی آواز میں کہا۔۔۔
مما اپنی لاڈلی بہو سے آپ خود بات کرنا ۔۔۔ میری طرف سے پوری اجازت ہے۔۔۔تارز نے واش روم میں گھستی ندوہ کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔
ندوہ تو بہت اچھی ہے۔۔۔ اب تانیہ پتا نہیں کیسی ہو گی۔۔۔ بس عجیب سا خوف ہے اس کو لے کر میرے دل میں ۔۔۔ سیما نے اپنی پریشانی ظاہر کی تھی۔۔۔
مما۔۔۔ چھوڑ دیں نہ۔۔۔ بہت اچھی لڑکی تانیہ میں مل چکا ہوں اس سے۔۔۔ تارز نے کمر کے نیچے تکیہ لگا کر بیڈ پر ٹانگیں پساری تھیں۔۔۔
اچھا اللہ کرے۔۔۔ ۔۔۔ مدھم سی آواز میں سیما نے کہا تھا ۔۔۔
بابا کا موڈ کچھ بہتر ہوا بھاٸ کے ساتھ ۔۔۔۔ تارز نے تجسس بھری آواز میں پوچھا تھا۔۔۔
بس چپ چپ سے ہیں زیادہ بات نہیں کرتے حبان کے ساتھ۔۔۔ سیما نے دکھی سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
اچھا چلیں۔۔۔ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاٸیں گے بھاٸ کے ساتھ۔۔۔ تارز نے ان کی پریشانی کم کرنے کے لیے محبت سے کہا تھا۔۔۔
ہاں امید تو بہت ہے۔۔۔ سیما نے ٹھنڈی سانس خارج کرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
ندوہ واش روم سے باہر نکل کر اب اپنی طرف کے تکیے درست کررہی تھی ۔۔۔ چہرہ ویسے ہی بارہ بجا رہا تھا جیسے روز بجاتا تھا۔۔۔اس وقت۔۔۔
ندوہ پاس ہے تو بات کروا دو۔۔۔ سیما نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔
آپ اس کے نمبر پر کال کر لیں نہ ۔۔۔ تارز نے کن اکھیوں سے ندوہ کی طرف دیکھا جو اب روز کی طرح سیدھے لیٹ کر چادر سینے تک تان کر ایک بازو منہ پر رکھ چکی تھی۔۔۔۔
کیوں تمہیں کیا تکلیف ہے بات کرواتے ہوۓ۔۔۔۔ سیما نے مصنوعی حفگی کا اظہار کیا تھا۔۔۔
شک بہت کرتی مجھ پر پھر میرا فون چیک کرنے لگے گی۔۔۔ تارز نے کان کھجاتے ہوۓ قہقہ لگایا تھا۔۔۔
ندوہ نے ایک دم سے آنکھوں پر سے بازو ہٹا کر گھور کر دیکھا تھا۔۔۔
کوٸ حال نہیں تمھارا اچھا ابا کو اور سب کو سلام دینا میرا۔۔۔۔۔۔سیما نے مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔
جی جی کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے معدب انداز میں کہا اور پھر فون بند کرتے ہی ندوہ کی طرف دیکھا جو پہلے سے اسے گھور رہی تھی۔۔۔
بات کیوں نہیں کرواٸ میری پھپھو سے ۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے رعب سے کہا تھا۔۔۔
یہ میرا ٹاٸم ہے ۔۔۔ بہت مشکل سے رات بارہ بجے تو تم کمرے میں آتی ہو۔۔۔۔۔ تارز نے محبت سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
اور دس منٹ واش روم میں گھسی رہتی ہو ۔۔۔۔ تھوڑا سا آگے ہو کرکہنی کے بل سر کو ہاتھ پر ٹکایا۔۔۔۔ چہرے پر بچوں کی طرح خفگی سجاٸ۔۔۔
نیند آنےسے پہلے تک کا یہ تھوڑا سا تو وقت ہوتا ہے جب میں تمھارا ہاتھ اپنے سینے سے لگاتا ہوں ۔۔۔ تارز نے اس کے ہاتھ کو تھام کر اس کے اور اپنے درمیان حاٸل تکیے کو اٹھا کر اپنے پیچھےکیا۔۔۔۔۔
ندوہ نے ایک دم سے آنکھیں سکیڑ کر اس کی خمار آلودہ ادھ کھلی آنکھوں اور معنی خیز انداز میں مسکراتے لبوں کی طرف دیکھا۔۔۔۔
میں نے کل بھی کہا تھا اس تکیے سے آگے نہیں آ سکتے تم ۔۔۔ ندوہ نے تھوک نگل کر سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔
تکیے کی ایسی تیسی۔۔۔ تارز نے شرارت سے کہا اور قہقہ لگایا تھا اسے ندوہ کے چہرٕ ے پر معصوم سا خوف اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
کیاکہوں اس بیو قوف بیوی کو کہہ مجھے اس کی نفرت سے بھی پیار ہے۔۔۔
آرام سے ۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ ایک دم بیڈ سے اتر کر نیچے کھڑی ہوچکی تھی۔۔۔
کب ختم ہو گی یہ سزا۔۔۔ ۔۔۔۔۔ تارز نے اپنے بال ہاتھوں میں جکڑ کر مصنوعی بے چینی دکھا کر ندوہ کو اور حراساں کیا تھا۔۔۔
یہ سزا نہیں تمہاری ہار ہے تارز ۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
ابھی تو ایک ماہ ہوا ہے۔۔۔ تم نے ہار مان لی ۔۔۔ ایک سال کا وقت کہا تھا تم نے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ندوہ نے ناگواری ظاہر کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
میرے دل میں تو کیا محبت جگاٶ گے ۔۔۔ تمہارے اپنے دل سے محبت نکل جاۓ گی۔۔۔ ندوہ نے ناک چڑھا کر کہا تھا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔۔ بہت جانتی ہو تم تو مجھے واہ واہ۔۔۔۔۔ تارز ایک دم سے اٹھ کر بیٹھا تھا۔۔۔ اور ہونٹ باہر نکال کر مصنوعی داد دیتے ہوۓ کہا۔۔۔
اتنا تو میں خود کو نہیں جانتا ہوں۔۔۔ ۔۔۔ معصوم سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
مجھے سونا ہے۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے ناک پھلا کر بے زار سی شکل بناٸ تھی ۔۔۔
تو کس نے روکا۔۔۔ تارز نے کندھے اچکا کر شرارت سے دیکھا۔۔۔
اپنی جگہ پر چلو۔۔۔۔ ندوہ نے گھو ر کر خبردار کرنے والے انداز میں کہا۔۔۔
تارز منہ بناتا ہوا رول ہو کر اپنی جگہ پر گیا تھا۔۔۔۔
بدتمیز۔۔۔ ندوہ منہ میں بڑ بڑاتی ہوٸ چادر درست کر رہی تھی۔۔۔
اور تارز مسکراہٹ دباتا ہوا اس کے لیٹنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں جکڑ کر سینے پر رکھتے ہی جو سکون اس کی روح میں سراٸیت کرتا تھا۔۔۔ وہ اس کے لیے انمول تھا۔۔۔ اسی لیے تو وہ ندوہ کو ۔۔۔۔سکون میرے۔۔۔۔ کہتا تھا۔۔۔۔
*************
چھپکلی۔۔۔۔ ندوہ کی زور دار آواز کے ساتھ بھیانک چیخ بھی نمودار ہوٸ تھی ۔۔۔
تارز جو بیڈ پر لیٹا موباٸل پر انگلیاں چلا رہا تھا ایک دم سے چونک گیا تھا۔۔۔ تیزی سے سلیپرز کو پاٶں میں پھساتا وہ واش روم کی طرف بھاگا تھا۔۔۔
ندوہ آج بھی روز کی طرح بارہ بجے کمرے میں آٸ تھی ۔۔۔ وہ جان بوجھ کر کسی لیکچر کی تیاری کو جواز بنا کر رات گۓ تک نیچے لاونج میں بیٹھی رہتی تھی۔۔۔ اب بھی وہ کمرے میں آ کر واش روم میں گٸ تھی جہاں ایک چھپکلی کو دیکھ کر اس کی روح فنا ہوٸ تھی۔۔۔
تارز دروازے کے پاس پہنچا تو وہ ۔۔۔ چھپکلی کے ڈر سے واش روم کے اندر کھڑی تھی کیونکہ چھپکلی داخلی دروازےکے بلکل اوپر تھی۔۔۔
تو اس میں اتنا ڈرنے والی کیا بات ہے۔۔۔ تارز نے شرارت سے دیکھ کر کہا اسے ہنسی آ رہی تھی.. وہ بچوں کی طرح ڈر رہی تھی۔۔۔
اور دانت پیس پیس کر ہاتھ کے اشارے سے تارز کو چھپکلی بھگانے کو کہہ رہی تھی
نکالو اسے باہر ۔۔۔ ۔۔۔۔ تارز کو مسلسل دانت نکالتا دیکھ کر ندوہ نے روہانسی شکل بنا کر کہا
ہٹو۔۔۔ یہ واٸپر دو ۔۔۔ تارز نے اس کی طرف آ کر واٸپنگ سٹک کو اٹھایا تھا۔۔۔ وہ چپھکلی کو باہر کی طرف نکال رہا تھا سٹک کو دیوار پر مار کر جبکہ وہ اندر کی طرف کا رخ کرتی جا رہی تھی ۔۔ ندوہ چیخ مار کر تارز کے ساتھ چپکی تھی ۔۔۔
اتنی سی بات تھی ۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے مدھم سی سرگوشی کی تھی ندوہ کے کان میں جو آنکھیں زور سے بند کۓ کھڑی تھی۔۔۔
ندوہ نے فورا آنکھیں کھول کر ارد گرد کا جاٸزہ لیا تھا اور سکون کا سانس لیا تھا ۔۔۔ پھر احساس ہو کہ وہ تارز کی کمر کے گرد بازو حاٸل کیے ہوۓ ہے۔۔۔ ایک دم سے وہ سیدھی ہوٸ تھی۔۔۔
ندوہ نے پیچھے ہو کر تارز کے چہرے کی طرف دیکھا تھا جو معنی خیز انداز میں مسکراہٹ دبا رہا تھا۔۔۔
تارز کی شرارت کی رگ پھڑکتے ہی اس کا ہاتھ شاور پر گیا تھا ۔۔۔ اور ایک دم سے دونوں پر شاور کا پانی تیزی سے گرنے لگا تھا۔۔۔
تارز کا جاندار قہقہ پورے واش روم میں گونجا تھا وہ ندوہ کے بازو کو گرفت میں لے چکا تھا۔۔۔۔تاکہ وہ بھاگے نہ ۔۔۔ تارز کی اس اچانک حرکت پر وہ بوکھلا گٸ تھی لمحہ بھر میں ہی دونوں پوری طرح بھیگ چکے تھے۔۔۔
تارز۔۔۔۔ دماغ خراب ہے کیا ۔۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ غصے سے تارز کی طرف دیکھا ۔۔۔
جو بھرپور طریقے سے مسکراتا ہوا اس کی حالت سے محزوز ہو رہا تھا۔۔۔
ہاتھ چھوڑو۔۔۔۔ ۔۔۔ندوہ نے چیخنے کے انداز میں کہا تھا ۔۔۔
ندوہ کے بال بھیگ کر اس کی چمکتی گردن پر چپک گۓ تھے۔۔۔ منہ پر شاور کا پانی تیزی سے گر رہا تھا جس سے وہ بمشکل آنکھیں کھول پا رہی تھی ۔۔۔ ایک دم سے تارز کے دل کی دھڑکن بے ترتیب سی ہونے لگی تھی اور دماغ مفلوج ہو کر دل کو سارے اختیارات سونپ گیا تھا۔۔۔
ندوہ کے لاشعور نے جیسے خطرے کی گھنٹی بجاٸ تھی چونک کر چہرہ اوپر اٹھا کر تارز کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔ لیکن اب آنکھوں سے خماری سی جھلکنے لگی تھی۔۔ لبوں کی شریر مسکراہٹ بھی غاٸب تھی ۔۔
ایک دم سے ندوہ کو اپنی کمر پر گرفت محسوس ہوٸ تھی اور
پھر سانس بند ہونے کا احساس۔۔۔ آنکھیں پوری طرح کھل گٸ تھیں اور آواز بند تھی۔۔۔ تارز کے سینے پر پڑنے والے مکے اس پر کوٸ اثر نہیں کر رہے تھے۔۔۔ اور وہ تو جیسے حواسوں میں نہیں تھا۔۔ ناک سے لمبے لمبے سانس لیتی ہوٸ وہ مسلسل اسے پیچھے کرنے کی ناکام کوشش میں روہانسی ہو گٸ تھی ۔۔۔
ندوہ نے اپنی پوری قوت سے اسے پیچھے دھکا دیا تھا۔۔۔ اور لپک کر سامنے پڑے فٹ فاٸلر کو اٹھا کر تارز کے ماتھے پر دے مارا۔۔۔
ایک دم سے خون ابھر تھا۔۔۔ وہ اپنا سانس بحال کرتی لبوں کو ہاتھ کی پشت سے بے دردی سےرگڑتے ہوۓ تیزی سے واش روم سے باہر نکلی تھی۔۔۔
اور وہ خون آلودہ ماتھا لیے چلتے شاور کے نیچے ہی کھڑا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: