Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 14

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 14

–**–**–

ندوہ الماری سے کپڑے نکال کر بڑے بڑے ڈگ بھرتی نیچے کی طرف چلی گٸ تھی۔۔۔ ماتھا شکن آلودہ تھا اور چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔
ایک دم سے تارز کی بے باک جسارت نے ہاتھ پاٶں پھلا دیے تھے۔۔۔ ابھی بھی عجیب سا احساس تھا جو جکڑے ہوۓ تھا ۔۔ حدفہ بے خبر سو رہی تھی وہ تیزی سے اس کے پاس سے گزرتی ہوٸ واش روم میں گھسی تھی۔۔۔ کپڑے بدن سے گیلے ہو کر چپکے پڑے تھے جو مزید الجھن کا شکار کر رہے تھے۔۔۔
کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ بے ارادہ بار بار کلی کر رہی تھی۔۔۔ لبوں پہ ہاتھ رکھے سامنے آٸینے میں اپنے چہرے کو دیکھا تھا۔۔۔
اففففف۔۔۔ دل کیا اسے گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑ ہی ڈالے۔۔۔ تڑپ کر اپنے سرخ ہوتے چہر ے کے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔۔
باہر نکل کر ندوہ نے ٹاول سے بال خشک کرتے ہوۓ گھڑی پر نظر پڑی تو ایک بجا رہی تھی۔۔۔
اسی طرح شاور کے نیچے ساکت کھڑے رہنے کے کچھ دیر بعد ماتھے پر جلن کے احساس سے تارز ھوش میں آیا تھا۔۔۔ شاور کو بند کرتا ہوا وہ باہر آیا تھا۔۔ ٹشو باکس سے اکھٹے تین ٹشو نکال کر ماتھے پر رکھے اور ویسے ہی گیلے کپڑوں اور گیلے دل کو لے کر وہ صوفے پر بیٹھتا چلا گیا تھا۔ ۔۔۔
ایک کمزور سا لمحہ بہکنے پر مجبور سا کر گیا تھا اور پھر وہ ایسی حالت میں سامنے کھڑی تھی کہہ دل کا بے ایمان ہو جانا بنتا تھا۔۔۔
لیکن ندوہ کے دل کا میل شاور کا تیز پانی اور اس کی سچی جسارت بھی نہ دھو سکی ۔۔۔۔ شاٸد وہ ٹھیک کہتی ہے اس کے دل میں میری محبت کبھی نہیں جاگ سکتی ۔۔۔ کپڑوں سے پانی نچڑ کر فرش گیلا کر رہا تھا اور سردی سے دانت بجنے لگے تھے۔۔۔۔۔ لیکن وہ سر جھکاۓ ایک ہاتھ سے ماتھے کےبہتے خون کو روکے بیٹھا تھا۔۔۔
تم نیچے کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے قیمض کے بازو نیچے کرتے ہوۓ حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔۔
وہ تہجد کے لیے وضو کرنے کے بعد حدفہ کو نماز کے لیے اٹھانے آٸ تھیں جب ندوہ کو دیکھ کر حیران سی ہوٸیں۔۔۔
وہ میں ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ ایک دم سے اٹھ بیٹھی تھی اور سلمی کے ماتھے کے بل دیکھ کر گڑ بڑا گٸ تھی۔۔۔
تارز سے لڑاٸ ہوٸ ہے کوٸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے تجسس سے پوچھا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے گھٹی سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
تو پھر اوپر جاٶ۔۔۔ مجھے یہ سب پسند نہیں اتنا اچھا شوہر دیا ہے اللہ نے تم یوں ناراض ہو ہو کر نیچے آٶ گی تو اس کے دل سے اتر جاٶ گی جلدی ۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے غصے سے کہتے ہوۓ اس کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ امی اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے خجل ہو کر جھوٹ بولا اوپر جانے کو تو بلکل دل نہیں تھا۔۔۔۔
تو پھر تو تمہیں اوپر ہی ہونا چاہیے ۔۔چلو جاٶ اوپر اسی وقت نہیں تو مجھ سے برا کوٸ نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔ سلمی نے پریشان ہو کر ڈانٹنے کے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔
امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے بے چارگی سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
اوپر جاٶ اپنے کمرے میں ویسے بھی میں بہت عرصےسے نوٹ کر رہی ہوں رویہ تمھارا۔۔۔۔۔۔ صبح تمھارا دماغ درست کرتی فلحال جاٶ اوپر۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے دانت پیستے ہوۓ اس کی بے چارگی کو نظر انداز کیا تھا۔۔۔لہجہ اب بھی جھاڑنے والا ہی تھی۔۔۔
ندوہ چارو نہ چار اوپر آٸ تھی۔۔۔۔ کمرے کے دروازے میں ایک دم رکی تھی ۔۔۔ تارز ویسے ہی گیلے کپڑوں میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ کمرے کا دروازہ کھلا تھا جس کی وجہ سے کمرہ مزید ٹھنڈا ہو رہا تھا۔۔۔۔ ویسے ہی کیوں بیٹھا ہوا ہے اب۔۔۔ ابھی تک کپڑے بھی نہیں بدلے۔۔۔ ندوہ نے چور سی نظر تارز پر ڈالی تھی ۔۔۔ وہ ساکت لب بھینچے بیٹھا تھا جسم سردی کی وجہ سے مسلسل کانپ رہا تھا۔۔۔ ماتھے پر اب خون رک چکا تھا لیکن وہاں سے ماتھا سوج کر اوپر کو ابھرا ہوا تھا۔۔۔ بال گیلے ہو کر بکھرے اور بے ترتیب سے تھے۔۔۔
ندوہ نے جلدی سے کمرے کا دروازہ بند کیا اور ہیٹر آن کیا تھا ۔۔۔ وہ بار بار تارز کی طرف دیکھ رہی تھی جو ابھی تک اسی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
بدتمیز ۔۔۔ ڈھیٹ۔۔۔ اور اب کس بات کا نخرہ دکھا رہا مجھے یوں گیلا بیٹھ کر ۔۔۔ غلطی بھی خود کرتا ہے اور پھر ۔۔۔ ندوہ منہ میں بڑبڑاتے ہوۓ اس کے کپڑے نکال رہی تھی۔۔۔۔ اس کے کپڑے اور ٹاول ہاتھ میں پکڑے وہ تارز کے پاس آٸ تھی۔۔۔۔
رول توڑا تھا سزا تو ملنی تھی۔۔۔ ندوہ نے کپڑے اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ مدھم سی آواز میں کہا تھا۔۔۔۔ ۔۔
تارز نے کوٸ جواب نہیں دیا تھا ۔۔
تارز کپڑ ے بدل لو ۔۔۔ اس نے کپڑے تارز کے ساتھ صوفے پر رکھے تھے۔۔۔۔
تارز کے ہونٹ نیلے ہو رہے تھے۔۔۔۔ پھر ایک جھٹکے سے وہ اٹھا تھا اور خود الماری سے ایک ٹریوزر اور ٹی شرٹ نکال کر وہ سپاٹ چہرہ لیے واش روم میں گھس گیا تھا۔۔۔
ندوہ نے دھیرے سے صوفے پر پڑے کپڑے اٹھا کر پھر سے الماری میں لٹکا دۓ تھے۔۔۔۔مجھے کس بات کے نخرے دکھا رہا ہے۔۔۔۔ ندوہ نے لب کچلتے ہوۓسوچا ۔۔۔ پھر سر جھٹک کر لاپرواہی سے اپنی جگہ پر اپنے مخصوص انداز میں لیٹ چکی تھی۔۔۔۔ تارز سپاٹ چہرہ اور سوجا ہوا ماتھا لے کر کمرے سے نکلا تھا اور خاموشی سے لیٹ گیا تھا۔۔۔۔ ایک ماہ اور دس دن میں آج پہلا دن تھا جب تارز نے اس کا ہاتھ اپنے سینے سے نہیں لگایا تھا۔۔۔۔
ندوہ نے سکھ کا سانس لیا اور آنکھیں موندی تھی۔۔۔
لیکن کتنی عجیب بات تھی آج نیند نہیں آ رہی تھی۔۔۔ ندوہ نے زبردستی آنکھوں کو زور سے بھینچا تھا۔۔۔
*************
تارز ۔۔۔ ماتھے پر کیا ہوا ہے۔۔۔۔حدید نے نظر پڑتے ہی پریشان لہجے میں پوچھا تھا۔۔۔
وہ ناشتے کے لیے تیار ہو کر نیچے آیا ہی تھا جب حدید کی نظر اس کے ماتھے کے زخم پر پڑی تھی۔۔۔وہ ایک دم سے پریشانی سے کرسی پر سے اٹھے تھے سلمی اور حدفہ بھی پرہشان شکل بنا کر دیکھنے لگیں تھی داٶد کے بھی کان کھڑے ہو گۓ تھے۔۔۔ بس ایک ندوہ تھی جو نظریں چرا کر اردگرد دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔
ماموں رات غلطی سے اندھیرے کی وجہ سے میٹ میں پاٶں پھنسنے سے گر گیا تھا تو ڈریسنگ کا کونا لگا ۔۔۔۔۔۔ تارز نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پرسجا کر جھوٹ بولا تھا۔۔ ندوہ کی طرف ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی۔۔۔
اوہ ۔۔۔۔۔۔کافی گہرہ زخم ہے پاٶڈین دو سلمی۔۔۔۔ ۔۔۔ تارز نے پاس آ کر تارز کے ماتھے کو دیکھتے ہوۓ کہا تھا اور اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا تو چونک کر تارز کی طرف دیکھا پھر جلدی سے اس کا بازو تھاما تھا۔۔۔ وہ بری طرح بخار میں تپ رہا تھا۔۔۔
اففف ۔۔۔ تارز اتنا تیز بخار ہے تمہیں۔۔۔۔ندوہ ۔۔۔۔ بخار ہے تارز کو اتنا تیز۔۔۔ حدید اچھنبے سے فورا ندوہ کی طرف رخ کر کے گویا ہوۓ ۔۔
ندوہ ایک دم سے سٹپٹا گٸ تھی۔۔۔۔
جی ۔۔۔ جی۔۔۔ ابا ۔۔۔ وہ سردی لگ گٸ ہے۔۔۔ شاٸد ان کو۔۔۔ ندوہ نے بے چینی سے لب کچلا تھا۔۔۔
تو بتایا کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ حدید نے غصے سے جھاڑنے کے انداز میں کہا ااور سلمی سے پاٶڈین پکڑ کر روٸ کی مدد سے تارز کے زخم پر لگاٸ تھی۔۔۔۔
ماموں ٹھیک ہو جاٶں گا ۔۔۔۔۔۔۔ پریشان نہ ہوں آپ۔۔۔ تارز نے لب بھینچتے ہوۓ مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
کیا مطلب ہو جاٶں گا۔۔۔ ندوہ اٹھو جا کر میڈیسن باکس لاٶ میرا ۔۔۔ … حدید نے ہونک بنی بیٹھی ندوہ سے کہا تھا جو ایک دم سے حدید کے غصے کو دیکھتے ہوۓ اٹھی تھی۔۔۔
حدید اور سلمی پہلے بھی تارز سے پیار کرتے تھے لیکن اب تو کچھ زیادہ ہی خیال اور عزت کرنے لگے تھے ۔۔ جب سے تارز سے اس کی شادی ہوٸ اس کی اپنی تو کوٸ اہمیت ہی نہیں رہی تھی ہر کوٸ بس تارز تارز ہی کرتا رہتا تھا ۔۔۔
جی ابا۔۔۔۔ ندوہ جلدی سے کرسی پیچھے کھسکاتے ہوۓ اٹھی تھی ۔۔۔
اتنی دیر ضد میں گیلے کپڑوں میں بیٹھے گا تو یہی حال ہو گا۔۔۔۔ ۔۔ ندوہ نے دانت پیس کر سوچا اور غصے سے تارز کی طرف دیکھا تھا جو سب میں سپاٹ چہرہ لیے بیٹھا تھا۔۔۔
ندوہ نے میڈیسن باکس لا کر حدید کے پاس میز پر رکھا تھا ۔۔۔ حدید نے اچٹتی سی نظر ندوہ پر ڈالی تھی۔۔۔جو یونیورسٹی کے لیے تیار تھی۔۔۔
اور تم کہاں۔۔۔ جا رہی ۔۔۔ چھٹی کرو ۔۔۔ حدید نے ماتھے ہر بل ڈال کر حکم دینے کے انداز میں ندوہ کو کہا تھا۔۔۔۔
نہیں ماموں جانیں دے اسے۔۔۔۔۔۔ تارز نے فورا بخار سے بھاری ہوتی آواز میں سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا تھا ۔۔۔
کیوں ۔۔۔ کوٸ ضرورت نہیں آج جانے کی گھر رہے تمھارے پاس ۔۔۔ ۔۔ حدید نے سختی سے تارز کی بات کی تردید کرتے ہوۓ کہا۔۔۔اور گھور کر ندوہ کی طرف دیکھا۔۔۔
آرام کرو اوپر جا کر۔۔۔۔ حدید نےمیڈیسن کھلانے کے بعد تارز کو محبت سے کہا جبکہ ہاتھ اس کی پشت کو تھپتھپا رہے تھے۔۔۔
جی ماموں ۔۔۔ ۔۔۔ تارز دھیرے سے مسکرایا تھا ۔۔۔
اور کرسی پیچھے کرتا ہوا وہ اوپر کی طرف چل دیا تھا۔۔ ایک ہاتھ ٹاٸ کی ناٹ کو ڈھیلا کرتا ہوا وہ دوسرے ہاتھ سے فون سے نمبر ملا رہا تھا ۔۔۔ طبیعت کی ناسازی اسے آج نہ جانے پر مجبور کر چکی تھی۔۔۔
ندوہ چاۓ میں جوشاندہ ڈال کر دو اسے ۔۔۔ حدید نے ندوہ کو اگلا حکم صادر کیا تھا۔۔۔۔
وہ تیزی سے کچن کی طرف چل پڑی تھی۔۔۔
چلیں جی اب الٹا میں نواب کی خدمتیں کروں ۔۔۔ ندوہ دانت پیستے ہوۓ چاۓ بنا رہی تھی۔۔۔
تارز کو چاۓ دے کر میرے پاس آٶ ۔۔۔ عقب سے سلمی کی سخت آواز پر وہ چونک کر مڑی تھی ۔۔۔ پھر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ اور چاۓ کپ میں انڈیلی۔۔۔
تارز چاۓ۔۔۔ دھیرے سے اسے آواز دی تھی ۔۔۔ لیکن وہ تو شاٸد غنودگی میں تھا۔۔۔ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا ہوا تھا ندوہ چاۓ ساٸیڈ ٹیبل پر رکھی اور پھر نیچے آ گٸ۔۔۔
****************
جی امی ۔۔۔ آپ نے بلایا تھا۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے دروازے کے پاس کھڑے ہوتے ہوۓ کہا ۔۔۔
سلمی نے کپڑے الماری میں رکھتے ہوۓ گردن موڑ کر دیکھا تھا۔۔۔
آٶ۔۔۔۔۔۔۔۔ الماری کا دروازہ بند کرتے ہوۓ وہ بیڈ پر بیٹھی تھیں۔۔۔
چاۓ دے آٸ۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ کے پاس بیٹھتے ہی سلمی نے فکر مندی سے ہوچھا تھا۔۔
14
جی سو رہے ہا۔۔۔ ۔۔۔۔ ندوہ نے بالوں کی لٹ کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوۓ پر تجسس انداز میں سلمی کی طرف دیکھا تھا۔۔
سو رہا ہے ۔۔۔ نہیں۔۔۔ سو رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے اپنے آخری فقرے پر زور دیتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔
امی بچپن سے اسے عزت نہیں دی اب۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے بے زاری سے کہا تھا۔۔۔
بچپن سے اور رشتہ تھا ۔۔۔ اب اور رشتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے جھاڑنے کے سے انداز میں کہا تھا۔۔۔
تمھاری خالہ راحت کا فون آیا تھا کل رات۔۔۔۔۔۔ مدھم سے لہجے میں کہا۔۔۔
تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ ٹھنڈی سانس بھرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
کہہ رہی تھی ھدیل کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گٸ ہے …۔۔۔۔ سلمی نے بھی ٹھہرے سے لہجے میں کہا۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے حیران ہو کر تجسس بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
ابھی سال بھر ہی تو ہوا تھا ھدیل کی شادی کو۔۔۔اور اس کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گٸ ۔۔ اور اگر راحت خالہ نے یہ بات امی تک پہنچاٸ ہے تو یقینََ کوٸ بڑی بات ہو گی۔۔۔ ندوہ نے پر سوچ انداز میں سلمی کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
راحت کہہ رہی تھی کہ ھدیل کی ہی زیادہ قصور ہے ۔۔۔ اسے ہر بات پر ٹوکنا ڈانٹنا ۔۔۔غصہ کرنا ۔۔۔ باہر کی لڑکیاں کہاں اتنا کچھ سہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے تاٸیدی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔
چاہیے محبت کی ہی کیوں نہ ہو شادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی آخری بات پر سلمی نےٹھہر کر زور دیا تھا۔۔۔
تو آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ سپاٹ لہجے میں ندوہ نے سلمی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
تمہیں اس لیے بتا رہی ہوں کہ میں رات سے شکر ادا کر رہی ہوں اللہ کا کہ خدا نے تمہیں ھدیل جیسے لڑکے سے محفوظ رکھا ۔۔۔ ۔۔۔ سلمی نے ندوہ کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھرا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
تم بھی خدا کا شکر ادا کیا کرو تارز کی قدر کیا کرو ۔۔۔ اس سے یوں کھینچی کھینچی مت رہا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ محبت بھرے لہجے میں آہستہ آہستہ اسے سمجھا رہی تھیں۔۔۔۔
امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے روہانسی سی صورت بنا کر سلمی کی طرف دیکھا تھا جو سلمی کی طرف یوں دیکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو یہ بہت مشکل کام ہے امی ۔۔۔۔
محبت شوہر سے ہو جایا کرتی ہے لیکن اس کے لیے پہلے کچھ قدم آگے بڑھنا پڑتا ہے چاہے اس میں من راضی ہو یا نہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے اب اسے گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔
وہ ماں تھی ۔۔۔ ندوہ کا تارز کے ساتھ رویہ ویسے تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا لیکن تارز کی اتنی محبت پر بھی اس کا روکھا سا رویہ سلمی کو عجیب لگتا تھا۔۔۔
تارز جیسا نہ تو ھدیل تھا نہ حبان۔۔۔ تم خوش قسمت تھی اس لیے خدا نے دونوں سے بچایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے خود سے الگ کر کے ندوہ کو دونوں کندھوں سے تھام کر کہا۔۔۔
تارز سے محبت کرو اس کی قدر کرو جس طرح وہ تمھیں پھول کی طرح دل میں سجاۓ تمھارے گرد منڈلاتا پھرتا ہے اس کی محبت سے بڑھ کر اسے محبت دو۔۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے ٹھہرے سے لہجے میں اسے سمجھایا تھا۔۔۔
سب سے بڑی بات وہ ہمارا سہارا ہے۔۔۔ اس نے ہمیں ماں باپ سمجھا ۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے نظریں جھکا کر کہا۔۔۔
ہم سے کتنی محبت کرتا ہے اگر اس کی جگہ حبان یا ھدیل ہوتے کیا تب تم ہمارے پاس ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔ اور کیا وہ بیٹے کی طرح ہمارے گھر رہ کر ہماری زمہ داریوں کو بانٹتے۔۔۔سلمی ابھی بھی نظریں جھکاۓ ہوٸ تھیں۔۔۔
تمھارے بابا کی جاب ختم ہو چکی ہے۔۔۔ سلمی نے روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
ندوہ نے چونک کر دیکھا اسے نہیں پتہ تھا اس بات کا۔۔۔
ابھی وہ روز بس دوکان پر بیٹھنے جاتے ہیں۔۔۔
کب سے۔۔۔ ندوہ نے حیران ہو کر سوال کیا تھا۔۔۔۔
تین ماہ سے۔۔۔ ۔۔۔ اور تین ماہ سے گھر کا سارا خرچا تارز نے ہی اٹھایا ہوا ہے۔۔۔ تمہاری شادی پر بھی اسی نے اپنی کمپنی سے لون اپرو کروا کر تمھارے بابا کو پیسے دیے تھے۔۔۔۔۔سلمی کی آنکھوں میں پانی تھا۔۔ تارز کے لیے بے پناہ محبت تھی۔۔۔
ندوہ کی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔۔۔
مما بابا مجھ سے پیسے کیوں نہیں لیتے تھے مجھے تو بتاتے آپ لوگ ندوہ نے روہانسی آواز میں کہا تھا۔۔۔
تارز نے منع کیا تھا ۔۔۔ سلمی نے محبت سے اسے دیکھا ۔۔۔
ندوہ بلکل ساکن سی ہوٸ تھی۔۔۔۔۔ تو تارز ابتہاج اور کتنے پرت ہیں تمھارے جو آہستہ آہستہ مجھ پر کھلیں گے ۔۔۔
سوچو۔۔۔ اپنے دل کے بند دروازے کھولو۔۔۔ اس کی محبت کی پھوار کو دل تک آنے دو۔۔۔۔۔۔۔ سلمی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی ۔۔۔
اور وہ پر سوچ انداز میں وہیں کافی دیر خاموشی سے بیٹھی ہی رہ گٸ تھی۔۔۔
**********
سوپ لاٸ ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے مدھم سی آواز میں کہتے ہوۓ سوپ کا باول بیڈ کی ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا تھا۔۔۔
تارز کو وہ کتنی بار دیکھنے آٸ تھی پر وہ بے سدھ سو رہا تھا چاۓ کا کپ بھی ویسے ہی پڑا پڑا کالا ہو چکا تھا۔۔۔ اب شام کے چار بجے وہ سوپ بنا کر لاٸ تھی اور جیسے ہی کمرے کی لاٸٹ چلاٸ تو تارز نے بے زار سی شکل بنا کر دیکھا تھا ۔۔۔ بخار نے اسے نڈھال کر رکھا تھا آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں اور ماتھے پر ابھی بھی نشان سرخ تھا۔۔۔سوپ کا باول رکھتے ہوۓ اچانک نظر پاس پڑے کوڑے دان پر پڑی تھی جس میں کل رات کے کتنے ٹشو خون میں لت پت پڑے تھے۔۔۔رات اس کے سر سے کافی دیر تک خون بہتا رہا تھا ندوہ کا دل اچانک ڈوبا تھا۔۔۔ اس خیال سے
ابھی کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ لاٸٹ آف کر دو بس۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے بھاری آواز میں سپاٹ بے تاثر چہرے کے ساتھ کہا تھا۔۔۔
بال بکھرے تھے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں جس سے پتا چل رہا تھا کہ بخار ابھی بھی تیز ہے۔۔۔ ندوہ نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا تھا۔۔۔
صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔۔۔۔۔۔۔ شرمندہ سی آواز میں دھیرے سے کہا۔۔۔
جب کے دانت بری طرح لب کچل رہے تھے۔۔۔سلمی نے جو انکشاف تارز کے بارے میں کیے تھے ان کے بعد تارز کی عزت اس کے دل میں نا چاہتے ہوۓ بھی گھر کر چکی تھی ۔۔۔
کوٸ بات نہیں ۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا مجھے کچھ دیر ریسٹ کروں گا خود ہی ٹھیک ہو جاٶں گا۔۔۔۔۔۔ تارز نے سپاٹ لہجے سے کہا۔۔۔
بچوں جیسی ضد ہوٸ یہ تو۔۔۔ ندوہ نے خفگی بھری آواز میں کہا۔۔۔
میں۔۔۔ بچہ نہیں ہوں۔۔۔ تمہیں کہا تو ہے ابھی دل نہیں چاہ رہا لے جاٶ۔۔۔ تارز کو بچہ کہنے پر پھر سے تپ چڑھی تھی۔۔۔ دانت پیستے ہوۓ تھوڑی اونچی آواز میں کہا۔۔۔
ندوہ ایک دم سے سٹپٹاٸ تھی۔۔۔تارز نے پہلی دفعہ اس کے ساتھ اتنا سخت رویہ اپنایا تھا۔۔۔۔۔ وہ حیران سی باٶل اٹھا کر باہر نکل گٸ تھی ۔۔۔
مجبوری میں خدمتیں کرنے آ گٸ ہے۔۔۔ مجھے اب تمھاری مجبوری نہیں چاہیے تارز نے دانت پیستے ہوۓ کہا اور زور سے تکیے پر سر مارا۔۔۔ ماتھے کی تکلیف سے زیادہ تزلیل کا احساس تھا۔۔۔۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے اس نے اپنی بیوی کے ساتھ نہیں کسی غیر محرم کے ساتھ وہ جسارت کی ہو۔۔۔ تارز نے آنکھیں موندیں تھیں جلن کا احساس تھا سر بھاری ہو رہا تھا چھینکیں مسلسل آ رہی تھیں ۔۔۔
سوپ کو لا کر کچن میں رکھ کر شلف سے ٹیک لگاۓ وہ کتنی دیر ہی کھڑی رہی تھی۔۔۔بار بار تارز کی بے رخی کا دل میں خیال آ رہا تھا۔۔۔ کیا مسٸلہ ہے مجھے یہی تو میں چاہتی تھی وہ مجھ سے بے زار ہو جاۓ ۔۔۔ اب جب ایسا موقع آ گیا ہے تو دل کیوں بے چین ہو رہا ہے۔۔۔
بے وجہ ٹی چینل بدل بدل کر بے زار ہو گٸ تھی۔۔۔ داٶد کے کمرے میں گٸ تو وہ بھی تارز کے لیے ہی فکر مند ہو رہے تھے اسے تارز کا خیال رکھنے کی نصحتیں شروع کر دیں ۔۔۔۔۔ مغرب کے بعد وہ پھر سے اوپر آٸ تھی ۔۔۔ وہ بےسدھ سو رہا تھا لیکن اب کی بار ہلکی ہلکی کراہانے کی آوازیں آ رہی تھیں لاٸٹ جلا کر ندوہ آگے ہوٸ تھی ۔۔
تارز۔۔۔ تارز کیا ہوا۔۔۔ ۔۔۔۔ فکر مندی سے ندوہ نے اس پر جھکتے ہوۓ کہا تھا اور پھر اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہی جیسے اس کی آنکھیں ایک دم سے پوری کھلی تھیں۔۔۔
اوہ گاڈ اتنا تیز بخار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے ایک دم سے پریشان ہو کر دیکھا۔۔۔
حدید بھی رات دس بجے تک گھر آتے تھے ۔۔۔ ندوہ نے پریشانی سے سر پر ہاتھ رکھا اور ایک نظر تارز پر ڈالی جس کی اب آنکھیں بھی نہیں کھل رہی تھیں ۔۔۔
کچھ خیال آتے ہی بھاگتی ہوٸ نیچے گٸ اور ٹھنڈا پانی اور پٹی لے آٸ تھی ۔۔۔ وہ اتنی بوکھلاٸ ہوٸ تھی ۔۔کہ سلمی بھی پریشان ہو کر اس کے ساتھ اوپر آ گٸ تھیں ۔۔۔ ۔۔۔
ندوہ اسے تو بہت بخار ہے۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے تارز کےماتھے پر ہاتھ رکھ کر پریشان سی آواز میں کہا ۔۔۔
پہلے شرٹ اتارو اس کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے مصروف سے انداز میں کہا
ندوہ جو پٹی کو ٹھنڈے پانی میں بھگو رہی تھی۔۔۔ چونک کر سلمی کی طرف دیکھا جو اب بیڈ پر سے اٹھ گٸ تھیں۔۔۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے پریشان سا ہو کر سلمی کی طرف بے یقینی سے دیکھا تھا۔۔۔
ہاں اتارو جلدی اور جرابیں اتارو۔۔۔ میں تمھارے بابا کو کال کرتی ہوں جلدی آٸیں۔۔۔۔۔۔ سلمی ندوہ کو ہداٸیت دیتی نیچے جا چکی تھیں ۔۔۔
اور وہ لب کچلتے پریشان حال سی کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔ تارز کو دیکھا جھک کر وہ بے سدھ تھا ۔۔۔ بخار نے نڈھال کر رکھ تھا ۔۔۔
ندوہ نے جھجکتے ہوۓ کمبل اس پر سے اتارا تھا ۔۔۔
اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ کر اس کی شرٹ کے بٹن کھولے اس کے جسم کی گرماہٹ اسے اپنے ہاتھوں پر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ شرٹ کے سارے بٹن کھولے اب وہ یہ سوچ رہی تھی اس کے بازو سے کیسے شرٹ کو اتارے ۔۔۔
تھوڑا سا جھک کر اسے اوپر اٹھانے کی کوشش کی۔۔۔
اففف۔۔۔ کتنا وزنی ہے ۔۔۔ مجھ سے ہو گیا کیا یہ بھلا ۔۔۔ بڑی مشکل سے اس کے ساتھ گھلتی ہوٸ وہ اس کی شرٹ اتارنے میں کامیاب ہو ہی گٸ تھی ۔۔۔ سانس چڑھ گیا تھا ۔۔۔
پاٶں سے جرابیں اتاری اور پھر اس کے ماتھے پر گیلی پٹیاں رکھیں۔۔۔۔۔
ہر ایک گیلی پٹی جو وہ اس کے ماتھے پر رکھ رہی تھی وہ اس کےپتھر دل میں سوراخ کا سبب بن رہی تھی۔۔۔۔
تارز کے اتنا قریب خود اپنی مرضی سے آج وہ پہلی دفعہ بیٹھی تھی۔۔۔
*************
اب کے مجھ کو دیکھ کے وہ ۔۔ دیکھتا رہ جاۓ گا۔۔
اس قدر بدلیں گے ہم۔۔۔۔ وہ سوچتا رہ جاۓ گا
میرے چہرے پر بھی ہوں گے بے رخی کے زاویے
ایسا ہے کہ مجھ میں مجھ کو وہ ڈھونڈتا رہ جاۓ گا
تارز نے دھیرے سے رخ موڑ کر بے سدہ سوٸ ندوہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ بخار بہت حد تک کم ہو چکا تھا ۔۔ حدید رات کو اپنے ساتھ ڈاکٹر کو لے آۓ تھے ۔۔۔ اور پھر ندوہ کی بہت دیر تک پٹیاں کرنے کی وجہ سے اب وہ خود کو کافی بہتر محسوس کر رہا تھا۔۔۔
آج اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے آفس کی بھی کوٸ پریشانی نہیں تھی ۔۔۔ اچانک انہی سوچوں میں گم نظر اپنے آپ پر گٸ تھی اس کی شرٹ اتری ہو ٸ تھی۔۔۔ اور اب بخار کم ہونے کی وجہ سے سردی لگ رہی تھی ۔۔۔ شرٹ کا ایک حصہ ندوہ کے کندھے کے نیچے تھا ۔۔۔ جیسے ہی تارز نے شرٹ کو کھینچا تھا ۔۔ ندوہ کےکندھے کو جھٹکا لگا تھا۔۔۔
وہ تیر کی سی تیزی سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔۔۔
اٹھ گۓ طبیعت کیسی ہے۔۔۔ ۔۔۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد ندوہ نے مدھم سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ بے رخی سے مختصر سا جواب دے کر وہ پھر سے کمبل لے چکا تھا۔۔۔۔۔۔
ناشتہ کیا کرو گے۔۔۔ ندوہ نے پھر سے مدھم سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
تارز اس کی طرف پیٹھ کیے ہوۓ تھا۔۔۔
کچھ بھی نہیں ۔۔۔ سپاٹ لہجے میں جواب ملا تھا۔۔۔۔۔۔
پوچھ ایسے رہی جیسے بہت فکر ہو میری تارز نے بے دلی سے سوچا تھا۔۔۔
ایسے بھوکے پیٹ میڈیسن تھوڑی لی جاۓ گی ۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے لب کچلتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
رات سے دل تارز کی پریشانی میں گھلنے سا لگا تھا۔۔۔۔
سر کھانا بند کرو گی۔۔۔ سر میں درد ہے میرے۔۔۔۔۔ تارز نے بے رخی سے کہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے اپنی مرضی سے کچھ بنا دیتی ہوں اور امی کے ہاتھ اوپر بھیج دیتی ہوں۔۔۔۔ ندوہ نے بیڈ سے اٹھتے ہوۓ مصروف سے انداز میں کہا تھا۔۔۔
کیاپتا بخار ہے اس لیے اس طرح بے زاری دکھا رہا مجھ سے ۔۔۔ ندوہ اس کےپیروں کے پاس کھڑی سوچ رہی تھی۔۔۔
کچھ چاہیے تو بتا دو ۔۔۔ نیچے جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ ایک بار پھر سے ہمت کر کے ندوہ نے دھیرے سے کہا تھا۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ چاہیے۔۔۔۔ خاموشی۔۔۔ مل سکتی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے ایک دم سے کمبل سے باہر سر نکالا تھا اور تھوڑا غصے میں کہا۔۔۔
ندوہ نے حیران سے انداز میں اسے دیکھا تھا۔۔۔۔اور پھر الجھی سی وہ نیچے جا چکی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: