Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 15

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 15

–**–**–

چاۓ۔۔۔۔۔ ۔۔ ندوہ نے بیڈ کی ساٸیڈ میز پر چاۓ کا کپ رکھتے ہوۓ مدھم سی آواز میں کہا تھا۔۔۔۔ اور کن اکھیوں سے تارز کے چہرے کا جا ٸزہ لیا وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ فون کی سکرین پر کچھ دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔۔
وہ آج دس بجے ہی کمرے میں موجود تھی۔۔۔ نیچے دل ہی نہیں لگ رہا تھا بار بار دل اوپر جانے کو ہمک رہا تھا ۔۔۔ زبردستی تارز کی نیند پوری ہونے کا انتظار کرتی رہی ۔۔۔پھر چاۓ بناٸ اور اوپر آ گٸ۔۔۔
ممانی نیچے سے زبردستی بھیجتی ہیں تو محترمہ دل پر پتھر رکھ کر آ جاتی ہیں تارز نے سپاٹ چہرے کے ساتھ سوچا تھا۔۔۔
میڈیسن لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے پھر سے دھیرے سے پوچھا اور ماتھے کی طرف دیکھا سوجن کافی حد تک کم تھی البتہ چوٹ کا نشان ابھی بھی سرخ تھا۔۔۔
پتہ نہیں کیوں ایک دم سے اپنی اس حرکت پر افسوس سا ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔ اور اس کی لمبی مڑی ہوٸ پلکوں سے تھوڑا سا اوپر گہرے زخم کا نشان اس کے دل کو گھٹن کا شکار کر رہا تھا۔۔۔
لے لی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے مختصر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ نظر اٹھا کر دیکھنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔۔
کیا ہے دل کو ۔۔۔۔ یہی سب تو میں چاہتی تھی ۔۔۔ کہ وہ کم بولے مجھے تنگ نہ کرے بار بار محبت نہ جتاۓ اب کیوں دل کو بے چینی ہے۔۔۔
اپنی طرف کا بستر درست کرتی وہ چور نظر سے تارز کا جاٸزہ لے رہی تھی۔۔۔صبح سے شاٸد بستر سے بھی نہیں نکلا تھا بال بکھرے سے تھے ۔۔۔ اور چہرے پر ایسی سنجیدگی آج سے پہلے ندوہ نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔
تارز شاٸید سارا دن سویا تھا اس وجہ سے اب اسے نیند نہیں آ رہی تھی وہ موباٸل پر سپاٹ چہرے کے ساتھ کچھ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔
اور اسے۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے ۔۔۔۔۔کیوں نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ بار بار تکیے پر سر درست کر رہی تھی ۔۔۔ تارز نے ہاتھ ہی نہیں پکڑا ۔۔۔۔ ۔۔۔ لب کچلتے دل میں عجیب سا خیال ابھرا۔۔۔
اففف کیا سوچے جا رہی ہوں میں ۔۔۔ آنکھیں زور سے بند کی ۔۔۔ ۔۔۔تارز کے زخم کا نشان سامنے تھا۔۔۔ فورا آنکھیں پھر سے کھول دیں ۔۔۔
لاٸٹ بند ہوٸ تھی۔۔۔۔ مطلب وہ بھی سونے کے لیے لیٹ رہا تھا۔۔۔
ندوہ نے ہاتھ کو ایک طرف کھول کر رکھا۔۔۔ وہ لا شعوری طور پر ایسا کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ابھی تارز ہاتھ تھامنے والا ہے۔۔۔ نا جانے کیوں ایک عجیب سا انتظار ۔۔۔ ابھی اس کا مضبوط ہاتھ اس کی گرفت میں ہو گا اور پھر آنکھیں خود بخود بند ہونے لگیں گی۔۔۔۔۔۔۔ایک دوسرے میں پیوست دونوں لب دھیرے سے مسکراہٹ میں بدلے تھے۔۔۔۔
تارز نے ہاتھ تھاما ہی نہیں ہاتھ تو جوں کا توں ویسے ہی بیڈ پر دھرا تھا۔۔۔
افف کیا مصیبت ہے ۔۔۔ مجھے کیا ہو رہا ہے ۔۔۔الجھن بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ اور ذہن تھا کہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔۔۔۔
میں ہار گیا تم بلکل ٹھیک کہتی تھی ندوہ ۔۔ کہ میں ہار جاٶں گا اور میں ہار گیا ۔۔۔ سب کچھ پانے کے بعد بھی تمہیں نہیں پا سکا ۔۔۔ تھوڑا سا بھی پیار تمھارے دل میں نہیں جگا سکا۔۔۔۔
تم ویسی ہی ہو ۔۔۔ سخت دل ۔۔۔ شاٸد تم ھدیل سے بہت محبت کرتی تھی۔۔۔
اوہ۔۔۔ دونوں ہاتھوں سے تارز نے سر کو جکڑا تھا۔۔۔ یہ تو کبھی میں نے سوچا ہی نہیں ۔۔ تم ھدیل سے محبت کرتی تھی ۔۔۔ تو میں یہ کیا کر بیٹھا ہوں ۔۔۔ تم اپنے دل کے دروازے اس کے بعد بند کر چکی ہو۔۔۔جن پر میری بے پناہ محبت کی دستک کوٸ اثر نہیں کرتی ہے۔۔۔
عجیب سی گھٹن کا شکار ہو رہا تھا دل ۔۔۔ ایک دم سے گرمی لگنے لگی تھی ۔۔۔ کمبل کو زور سے ایک طرف کیا تھا۔۔۔
اسی طرح نفس کی جنگ لڑتے لڑتے دونوں نفوس کب نیند کی وادیوں میں گۓ دونوں کو خبر نہیں تھی۔۔۔
********
یہ کیا۔۔۔ ندوہ نے تارز کے بڑھے ہوۓ ہاتھ میں کارڈ دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔ آنکھوں میں سوالیہ نشان تھا۔۔۔
کریڈیٹ کارڈ ۔۔ حبان بھاٸ کی شادی کی شاپنگ کر لینا ۔۔۔۔۔۔۔ دھیرے سے سنجیدہ انداز میں کہا۔۔۔
وہ ندوہ کی یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے گاڑی میں بیٹھے تھے۔۔۔
تو اپنے پاس رکھیں۔۔۔ آپ کے ساتھ ہی جاٶں گی۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے حیران ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔
تارز کی بے رخی دل کو کھلنے لگی تھی پر دماغ اور دل سرد جنگ میں مصروف تھے۔۔۔
میں کیا کروں گا ساتھ جا کر ممانی کے ساتھ چلے جانا۔۔۔۔۔۔ تارز نے بےزاری سے کہا ۔۔ ۔۔۔ اور ایک نظر اس پر ڈالی تھی
روز کے معمول سے تھوڑا ہٹ کر لگ رہی تھی ۔۔۔ اور آپ کہہ رہی تھی ۔۔۔ یہ اب کیا نیا چکر ہے۔۔۔ تارز نے سنجیدگی سے سوچا لیکن پھر سے رات والی بات ذہن میں آتے ہی چہرہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔۔۔
کیوں۔۔۔ آٹو میں دھکے کھاٸیں ہم ۔۔۔ آپ جلدی آ جاٸیں آج آفس سے۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے آنکھیں سکیڑتے ہوۓ نارمل انداز میں کہا۔۔۔
کیوں دل بار بار یہ خواہش کر رہا تھا کہ تارز پھر سے ویسا ہی ہو جاۓ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ رکھنے والا۔۔۔
ہاں یہی تو وہ کام ہیں جن میں صرف میری ضرورت ہے تمہیں ۔۔۔۔۔۔ تارز نے دانت پیستے ہوۓ سوچا تھا۔۔۔ جبڑے ایک دوسرے میں پیوست ہو گۓ تھے۔۔۔
ٹھیک ہے میں آ جاتا ہوں آج جلدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنیجیدہ سے انداز میں کہا تھا۔۔۔
تم تیار رہنا میں نکلنے سے پہلے کال کروں گا آفس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے نظریں سامنے مرکوز کرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ دروازہ کھولتے ہوۓ ایک آخری نظر تارز پر ڈالی تھی۔۔۔
وہ سامنے نظریں گاڑے سنجیدہ سا لب بھینچے بیٹھا تھا۔۔۔ نہیں تو اس وقت اس کی آنکھیں اسے گاڑی کی سیٹ سے لے کر یونیورسٹی کے گیٹ تک چھوڑ کر آتی تھیں ۔۔
مایوس سا چہرہ اور الجھا سا دل کے کر وہ کار سے اتری تھی ابھی کار سے دوسرا پاٶں نکال کر اس نے دروازہ بند ہی کیا تھا جب گاڑی ایک زن کی آواز میں پاس سے گزر گٸ تھی ۔۔۔
تو آج اس کی آنکھوں نے اسے یونیورسٹی کے گیٹ تک نہیں چھوڑا تھا۔۔۔ پر کیوں۔۔۔ گھٹن زدہ دل کے ساتھ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی گیٹ تک جا رہی تھی۔۔۔
*******************
نگاہوں کے تصادم سے عجیب تکرار کرتا ہے۔۔۔
یقیں کامل نہیں لیکن گماں ہے پیار کرتا ہے
لرز جاتی ہوں میں یہ سوچ کر کہیں کافر نہ ہو جاٶں
دل اس کی پوجا پر بڑا اسرار کرتا ہے
اسے معلوم ہے شاٸد میرا دل ہے نشانے پر
لبوں سے کچھ نہیں کہتا نظر سے وار کرتا ہے
میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں مجھ سے محبت ہے؟
پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں جب وہ اظہار کرتا ہے۔۔۔۔۔۔
پوری شاپنگ کے دوران ندوہ تارز کے ہر ہر انداز کو دل میں اتار رہی تھی ۔۔۔ لیکن وہ تھا کہ بس ہوں ہاں سے کام لے رہا تھا۔۔۔ تین دن ہونے کو آۓ تھے لیکن ندوہ نے ایک دفعہ بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی۔۔۔
اسے تارز کی یہ سنجیدگی بری طرح بے چین کر رہی تھی۔۔۔ دل عجیب سی خواہشات کرنے لگا تھا جس سے وہ خود پریشان سی ہو جاتی تھی۔۔۔یہ سب کیا تھا۔۔۔ کیوں تھا ۔۔ لیکن جو بھی تھا دل میں گھٹن کی جگہ اب ایک گدگدی سی لینے لگی تھی۔۔۔
تارز پاس بیٹھتا تو اس کے جسم سے اس کے کپڑوں سے اٹھنے والی خوشبو اب دل کو بھلی لگنے لگی تھی۔۔۔
اس کا ہر انداز۔۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا ۔۔۔۔ چلنا ۔۔۔۔بولنا ۔۔۔۔ کھانا ۔۔۔۔ سب ہی تو وہ نوٹ کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے میں جلدی جانے کو دل کرتا۔۔۔ اس کے ساتھ لیٹ کر اس کے ہاتھ پکڑنے کے انتظار کرنا ۔۔۔ کیا تھا یہ سب ۔۔۔۔۔۔۔ کیوں ہو رہا تھا۔۔۔۔
جھٹلانا۔۔۔ سر جھٹک دینا۔۔۔ خود کو سرزنش کرنا ۔۔۔ یہی سب کام تھے اب اس کے۔۔۔۔۔۔
حبان کی شادی کے دن قریب آ گۓ تھے سیما نے اسے جلدی خان پور بلایا تھا۔۔۔ تارز نے ہفتہ رک کر آنا تھا ۔۔۔
وہ بے دلی سے پیکنگ کرنے میں مصروف تھی جب کہ تارز ہنوز سپاٹ چہرہ لیے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹاٸپ کر رہا تھا۔۔۔ندوہ بار بار اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اسے کوٸ اداسی نہیں میں جا رہی ہوں صبح ۔۔۔ ہونٹ بچوں کی طرح باہر نکالتے ہوۓ سوچا ۔۔۔ دل کر رہا تھا اٹھا کر کچھ دے مارے مجھے دیکھتا کیوں نہیں اب۔۔۔
خوش ہوں گی میڈیم ۔۔۔۔ اب بہت سے دن میرے ساتھ ایک کمرے میں گھٹن نہیں ہوگی ان کو۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے خود پر قابو پا کر سوچا کیونکہ دل بار بار اس کو دیکھنے کو چاہ رہا تھا۔۔۔
عجیب سی اداسی ہو رہی تھی اب اتنے دن کے لیے وہ اس سے دور جا رہی تھی ۔۔۔ اس کا سکون نہیں ہو گا پورے ایک ہفتے کے لیے کمرے میں ۔۔۔ ۔۔۔ شرٹ کے بٹن کو کھولا۔۔۔۔ گھبراہٹ پھر بھی ہو رہی تھی ۔۔۔ جلدی سے اٹھ کر ہیٹر کو بند کیا تھا۔۔۔۔
ندوہ پیکنگ کرنے کے بعد اب بستر پر لیٹ چکی تھی۔۔۔
نیند بھی نہیں آ رہی تھی کروٹ بار بار بدل کر تھک چکی تھی ۔۔۔ اوپر سے تارز پتا نہیں آج پوری زندگی کا کوٸ کام کرنے بیٹھا تھا۔۔۔گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔۔
اور پھر کتنے ہی لمحے بس اسے دیکھتی ہی رہ گٸ تھی۔۔۔ وہ بہت دل موہ لینے والا حسن رکھتا تھا۔۔۔ دل عجیب ہی طرز میں دھڑکا تھا ۔۔۔
وہ گڑ بڑا گٸ تھی اپنی حالت پر فورا گھبرا کر ارد گرد دیکھا۔۔۔
تارز کے فون کی بل نے کمرے کی خاموشی میں خلل پیدا کیا تھا۔۔۔
جی مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فون اٹھا کر سلام کے بعد تارز نے صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر کہا تھا۔۔۔
ندوہ کی تیاری مکمل ہے نہ ۔۔۔۔۔ میری بات کروا دو اس سے ۔۔۔ سیما نے محبت بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔۔
جی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سنجیدہ سی معدب آواز میں کہتا ہوا وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔۔۔
ندوہ۔۔۔۔۔ مما ہیں۔۔۔۔۔۔۔ سپاٹ چہرے کے ساتھ مدھم سی آواز میں کہتے ہوۓ ندوہ کی طرف فون کو بڑھایا تھا۔۔۔
جی پھپھو۔۔۔۔۔۔۔ سیدھے ہو کر بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوۓ میٹھی سی آواز میں ندوہ نے کہا تھا
بیٹا ہریشانی تو نہیں کوٸ اکیلے آنے میں ۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے محبت بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔۔
نہیں پھپھو آپ فکر نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ مسکرا کر کمبل پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ میں تمہیں فون کرتی رہوں گی ۔۔۔ حبان یا تمھارےانکل آ جاٸیں گے وقت پر ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سیما نے سمجھانے کے انداز میں کہا تھا۔۔۔
15
ٹھیک ہے پھپھو۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نےمسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
اچھا اپنا بہت سا خیال رکھنا اور اس کا بھی بدتمیز کا بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے ہلکا سا قہقہ لگایا تھا۔۔۔
جی رکھتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ کے لب مسکرا دۓ تھے ۔۔
یہ مسکراہٹ زبردستی کی نہیں تھی۔۔۔یہ لا شعوری طور پر ہونٹوں پر در آٸ تھی۔۔۔
ہنہ۔۔۔ رکھتی ہے ۔۔۔ کبھی سر پھوڑ کر تو کبھی دل توڑ کر۔۔۔۔ تارز نے دانت پیستے ہوۓ سوچا تھا ۔۔۔
فون بند کر کے ابھی وہ رکھنے کو تھی جب فون کی سکرین پر آۓ مسیج پر لکھے نام کو دیکھ کر وہ رک گٸ تھی ۔۔۔
بھابھی۔۔۔۔
مسیج پر لکھا نام دیکھ کر نا چاہتے ہوۓ بھی وہ مسیج کو کھول چکی تھی۔۔۔
تارز۔۔۔۔ تھنکیو سو مچھ فار ایوری تھنگ۔۔۔۔ تم اگر اس دن مجھے نہ ملتے تو شاٸد آج میں اور حبان ایک نہ ہوتے۔۔۔تم نے میری اور حبان کی محبت کے لیے اتنا کچھ کیا ۔۔ مجھے حوصلہ دیا ساری پلینگ کی ۔۔۔ ہمارا ناٹک بھی اسی لیے کامیاب ہوا کہ ہمارا مقصد نیک تھا۔۔۔۔ میں ساری زندگی تمھاری مشکور رہوں گی ۔۔۔ اور اللہ سے دعا ہے جلد از جلد ندوہ کے دل میں خدا تمھارے لیے بے پناہ محبت ڈال دے۔۔۔ اسے احساس ہو جاۓ کہ تم کتنے بہترین انسان ہو اور وہ کتنی خوش قسمت لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔
اب وہ پچھلی چیٹ پڑھ رہی تھی۔۔۔ جس میں تارز نے تانیہ کو ندوہ سے محبت کی ساری داستان بتاٸ ہوٸ تھی۔۔۔ وہ روز بس ندوہ کو ڈسکس کرتے تھے۔۔۔ تارز کے ہر مسیج میں بس ایک ہی بات تھی ۔۔۔
بھابھی دعا کیا کریں نہ میرے لیے بھی ۔۔۔ میرے سکون ۔۔۔ کو بھی احساس ہو جاۓ میری بے پناہ محبت کا۔۔۔
ندوہ کا دل دھیرے سے ایک عجیب سی دھن میں رقص کرنے لگا تھا۔۔۔ سب کچھ جان کر آج غصہ کیوں نہیں آیا تھا۔۔
مسراتے ہوۓ اس نے فون بند کر کے ایک طرف رکھا اور لیٹ کر آنکھیں موند لیں جب کہ لب بے ساختہ مسکرا رہے تھے۔۔۔
**************
میری جب شادی ہوٸ تھی تو سولہ سال کی تھی۔۔۔۔۔۔ سیما نے مسکرا کر کہا اور چاول بھگونے کے لیے سینک میں ٹیپ چلایا۔۔۔
اتنی چھوٹی پھپھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے حیرت سے منہ کھولتے ہوۓ کہا۔۔۔ وہ سلاد کاٹنے میں مصروف تھی۔۔۔
اسے خان پور آۓ آج چوتھا دن تھا۔۔۔ سارا دن وہ اور سیما شاپنگ میں مصروف رہتی تھیں ۔۔۔ خان پور کیونکہ چھوٹا شہر تھا تو خریداری کے لیے پاس کے بڑے شہر جانا پڑتا تھا جہاں سے پھر وہ شام گۓ لوٹتی تھیں۔۔۔۔۔۔ آج دونوں نے بازار جانے کا پروگرام کینسل کیا اور ابتہاج کی بریانی کی فرماٸش آ گٸ تھی۔۔۔
تو اور کیا بہت چھوٹی تھی اور ابتہاج باٸیس سال کے تھے۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے مسکراتے ہوۓ کہا اور بریانی کے بھنتےہوۓ مسالے میں چمچ چلایا۔۔۔۔
ہاٶ۔و۔۔۔۔و۔ کیوٹ پھپھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ مسکرا کر سیما کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
خاک کیوٹ ۔۔۔ اتنے سخت مزاج اصولوں کے پابند تھے۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے برا سا منہ بنایا ۔۔۔ ان کی ساری پچھلی زندگی ان کے ذہن میں گھوم گٸ تھی۔۔۔
میں چھوٹی سی تھی ناول پڑھ پڑھ کر ایک اور ہی دنیا میں رہنے والی۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے پر سوچ انداز میں کہا۔۔۔ ان کے لب مسکرا دیے تھے۔۔۔
دل کرتا تھا ۔۔۔ ابتہاج ہنسے بولیں میرے ساتھ مزاق کریں میری شرارتوں میں ساتھ دیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔ بڑی طنز بھری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر سیما نے کہا۔۔۔
ندوہ کے چہرے پر سے ہنسی غاٸب ہوٸ تھی۔۔۔
میں بہت شرارتی تھی بچپن سے ہی تھی۔۔۔ تارز بلکل مجھ پر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ بتاتے بتاتے سیما ایک دم سے کھلکھلا کر ہنسی تھیں۔۔۔
تارز کا نام سنتے ہی ہر دفعہ کی طرح دل اندر کو ڈوبا تھا۔۔۔ جب سے یہاں آٸ تھی یہ ہی حالت ہو رہی تھی کوٸ بھی تارز کا نام لیتا تھا تو دل ڈوب سا جاتا تھا۔۔۔ رات گۓ تک وہ یاد آتا تھا۔۔۔
تو کیا انکل آپ سے محبت نہیں کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ کو اپنی آواز دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی
کرتے تھے بہت کرتے بھی ہیں لیکن ظاہر نہیں کرتے تھے۔۔۔۔ بس ترس ترس کے گزر ہی گٸ ۔۔۔۔۔۔۔ سیما گھٹی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولیں تھیں۔۔۔
مجھے تو اچھا لگتا ہے شوہر دوست جیسا ہو۔۔۔ ہر بات سمجھنے والا ساتھ دینا والا ایسا نہ ہو کہ بس اپنا ہی حکم چلاۓ آپکے احساسات کا کوٸ خیال نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے کھوٸ کھوٸ سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
جیسے میرا تارز۔۔۔۔۔۔۔سیما نے آگے بڑھ کر ندوہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھرا تھا
ندوہ ایک دم سے شرما گٸ تھی ۔۔۔ کب اس کے اندر کی شرمندگی شرمانے میں تبدیل ہوٸ اسے خبر تک نہیں ہوٸ تھی۔۔۔
دیکھو۔۔۔ اچانک شادی ہوٸ تم سے ۔۔۔ لیکن پھر بھی کتنی محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا اور دھیرے سے اس کی چہرے کو ہاتھوں کی گرفت سے آزاد کیا تھا۔۔۔
ابھی کل بات ہوٸ تو بدتمیز پتا ہے کیا کہتا مجھے۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے ہلکا سا قہقہ لگایا اور چاول کو چمچ سے نکال کر ہاتھ میں مسلتے ہوۓ جانچا۔۔۔
کہتا مما میری بیوی کو کوٸ تکلیف نہ ہو گھر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیما بھرپور مسکراہٹ اور چمکتی آنکھوں کے ساتھ ندوہ کو بتا رہی تھیں۔۔۔
ایک دم سے دل پر جیسے گدگدی سی ہونے لگی تھی۔۔۔۔تو محترم کو اگر میری اتنی فکر ہے تو چار دن سے مجھے تو ایک مسیج تک نہیں کیا۔۔۔ دل نے بچوں کی طرح اداس ہو کر سوچا تھا۔۔۔
میں نے کہا بدتمیز یہ اسکا بھی گھر ہے۔۔۔۔۔۔۔ سیما قہقہ لگاتے ہوۓ کہہ رہی تھیں۔۔۔
کہتا میں آٶں تو وہ مجھے کوٸ شکاٸت نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے مسکرا کر ندوہ کی طرف دیکھا۔۔۔
ندوہ کے چہرے پر بھی دلکش مسکراہٹ ابھر آٸ تھی۔۔۔ دل دھیرے دھیرے مدھر سی پریم بنسری پر رقص کنعاں تھا۔۔۔
*****************
اب پتا چلا میرا پیارا سا دیور ۔۔۔ اتنا دیوانہ کیوں ہیں ۔۔۔ تانیہ نے شرارت سے ایک آنکھ دباتے ہوۓ کہا ۔۔۔ اور محبت سے سرشار نظر سامنے بیٹھی ندوہ پر ڈالی ۔۔۔
ندوہ ایک دم سے جھینپ گٸ تھی۔۔۔
کیسے۔۔۔۔۔۔۔ مسکراہٹ کو دباتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔۔
وہ آج تانیہ سے ملنے اور مہندی کا جوڑے دینے آٸ تھی۔۔۔ خان پور آۓ اسے چھ دن ہو گۓ تھے ۔۔۔ جیسے جیسے تارز کے آنے کے دن قریب آرہےتھے ویسے ویسے دل اس کی محبت میں بھیگتا جا رہا تھا۔۔۔
اتنی پیاری ہو آپ ماشاللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ تانیہ نے ستاٸشی نظر ندوہ پر ڈالتے ہوۓ مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
آپ سے تو کم ہوں۔۔۔ ۔۔۔ندوہ نے بھی دلکش مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
اچھا کیسا ہے وہ میرا ماسٹر ماٸنڈ ہیرو۔۔۔۔۔۔ تانیہ نے ہلکا سا قہقہ لگا کر پوچھا تھا۔۔۔
ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے دل کی بے تابی ہر قابو پا کر کہا تھا۔۔۔
کیونکہ خود اسے کال کرنے کی ہمت ہوتی نہیں تھی اور وہ تھا کہ کال کرتا نہیں تھا۔۔۔
تانیہ اسے اپنے اور حبان کے قصے سنا رہی تھی اور اسے ہر بات پر بس تارز کی یاد ستا رہی تھی۔۔۔۔
*****************
کیا۔۔۔ یہ کب ہوا امی ۔۔۔۔۔۔۔۔ندوہ نے حیرانگی سے آنکھیں پھیلا کر کہا تھا۔۔۔۔
کل آیا تھا راحت کا فون مجھے بہت رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے پریشان سی آواز میں کہا۔۔۔
ندوہ کا ہاتھ ابھی بھی منہ پر ہی تھا ۔۔۔ ھدیل نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔۔۔۔
افسوس ہوا مجھے۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے مدھم سی آواز میں کہا۔۔۔
کہہ رہی تھی کہ ھدیل نے بھی خود کو کمرے میں بند کر رکھا ہے اس دن سے ۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے ٹھہرے سے لہجے میں کہا تھا۔۔۔
امی آپ خالہ کو حوصلہ دیں ۔۔۔ اب کوٸ کیا کر سکتا ہے جب وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تو۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے پر سوچ انداز میں کہا تھا۔۔۔
ہاں کہہ تو سہی رہی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔ سلمی نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
اچھا چھوڑیں تارز کا کیا حال ہے۔۔۔۔۔۔۔ دھڑکتے دل اور لبوں پر محبت بھری مسکراہٹ سجا کر کہا۔۔۔
وہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ سلمی نے بھی مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
تم سناٶ کیسے ہیں سب۔۔۔۔۔۔۔۔ سلمی اب اس سے سب کا حال پوچھ رہی تھیں۔۔۔
اور وہ تھی کہ کسی اور ہی سوچ میں ڈوبی ہوٸ تھی۔۔۔
تو ندوہ بی بی تم بد نصیب نہیں تھی اور تارز سے شادی ہوجانا تمھاری خوش نصیبی تھی بد نصیبی نہیں۔۔۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور تارز کے لیے شدید محبت کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔۔ دھڑکتے دل سے وہ پرسوچ انداز میں اٹھی تھی ۔۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی واش روم میں آٸ تھی اور پھر شاور کے پانی کے نیچے وہ سن کھڑی تھی ۔۔۔ ساکت۔۔۔ جس کا وجود۔۔۔روح۔۔۔۔دل۔۔۔ دماغ ۔۔۔۔ سب کچھ تارز کی محبت میں سرشار تھا۔۔۔
وہی لمحہ جو اسے گھن زدہ لگا تھا آج اسی لمحے کی یاد لبوں پر مسکراہٹ کا سبب بن رہی تھی۔۔۔
ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ کا سسبب بن رہی تھی۔۔۔
دل کی دھڑکنوں کی بے ترتیبی کا سبب بن رہی تھی ۔۔۔
شاور کا گرتا پانی اور اس لمحے کے لمس کی یاد دل کے سارے میل کو دھو رہی تھی۔۔۔
وہ دھیرے سے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی ہو رہی تھی۔۔۔
وہ تارز کی ہو رہی ہی تھی۔۔۔
وہ اس کی ہو چکی تھی۔۔۔ شاور بند کر کے وہ کانپتی ہوٸ باہر آٸ تھی۔۔۔
ہر چیز پیاری لگ رہی تھی اس کی سامنے لگی ہوٸ تصویر اس میں اس کی جان لیوا مسکراہٹ ۔۔۔ اس کے بازو۔۔ اس کی آنکھیں۔۔۔ اس کے لب ۔۔۔۔ اس کا چوڑا سینہ۔۔۔ جس پر سر رکھنے کو دل مچلنے لگا تھا ۔۔۔ اس کے بازو جن کو وجود اپنی آغوش بنانے کے لیے ہمکنے لگا تھا ۔۔۔۔
وہ مسکرا رہی تھی ۔۔۔ شرما رہی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: