Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 16

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 16

–**–**–

مما آپکے سامنے کر رہی یہ سب۔۔۔ اتنی اچھی بلکل نہیں ہے۔۔۔تارز نے سیما کی گردن کے گرد بازو حاٸل کیے اور مدھم سی آواز میں کان میں سرگوشی کی آواز میں شرارت گھلی تھی۔۔۔
جبکہ نظریں سامنے اوپن کچن میں اس کے لیے مصروف انداز میں کھانا تیار کرتی ندوہ پر ٹکی تھیں۔۔۔۔
چل ہٹ۔۔۔ بدتمیز۔۔۔ اتنی پیاری ہے تجھ سے تو لاکھ درجے بہتر ہے ۔۔۔ ۔۔سیما نے قہقہ لگا کر تارز کو چپت لگاٸ تھی۔۔۔۔
وہ مہندی کی رات سے ایک دن پہلے رات کو دس بجے پہنچا تھا ۔۔۔ آتے ہی سیما کو بھوک بھوک کا راگ آلاپنے لگا تھا۔۔۔ ندوہ جلدی سے چہرے پر لرزتی پلکوں کو لے کر اٹھی تھی اور اس کے لیے کھانا گرم کرنے لگی۔۔۔
اچھا آپ پوری کی پوری ہو گٸ اس کی۔۔۔۔۔۔ تارز نے بھنویں اچکا کر مصنوعی کمینگی دکھانے کے انداز سے کہا۔۔۔۔
ہاں ہو گٸ ۔۔۔ تم تو آج آۓ ہو پتہ بھی ہے بڑے بھاٸ کی شادی ہے اس نے سارا کام سنبھالا میرے ساتھ۔۔۔سیما نے بھی بھرپور خفگی دکھا کر کہا۔۔
زیادہ کام تو نہیں کروایا نہ اس سے۔۔۔۔۔ تارز نے سیما کے کان کے قریب ہو کر تنگ کرنے کے لیے لاڈ سے کہا ۔۔۔۔
اور پھر ان کے گھور کر دیکھنے پر قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔
اچھا بڑی فکر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ماں کی بھی کیا کر کبھی اتنی فکر۔۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے مصنوعی خفگی دکھا کر مسکراتے ہوۓ تارز کا کان پکڑ کر کہا۔۔۔
وہ کچن سے کافی فاصلے پر بیٹھے تھے جس کی وجہ سے کچن میں مصروف ندوہ ان کی گفتگو سن بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔
ندوہ بار بار چور نظر سے بھاری ہوتی ہوٸ پلکوں کو اٹھا کر تارز کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اس کا سیما کے ساتھ شریر سا انداز اسے اندر سے سرشار کر گیا تھا ۔۔ اس دن کے بعد آج وہ اس کے چہرے پر ایسے قہقے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ سیما نے اسے یہ بتاکر پہلے اداس کر دیا تھا کہہ تارز صبح آۓ گا مہندی کے دن اس کی سیٹ نہیں ہوٸ ۔۔ وہ بے دلی سے کمرے میں لیٹی تھی جب باہر سے اس کے قہقوں کی آواز سن کر وہ دھڑکتے دل کے ساتھ بھاگی باہر آٸ تھی ۔۔۔ وہ سیما کے گلے لگا ہوا تھا اور سیما اس سے شکوے کر رہی تھی ۔۔۔ اس کو ایک نظر دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لیے ساکن سا ہوا تھا ۔۔۔ ندوہ ایک نظر ڈال کر پھر نظر نہیں اٹھا سکی تھی ۔۔۔ دھیرے سے سلام ہی کیا تھا۔۔۔ جس کا بے نیازی سے تارز نے جواب دیا تھا۔۔۔
وہ پھر بچوں کی طرح لاڈ کرتا ہواسیما کو بھوک کا بتانے لگا اس کو پاس کھڑے ایسی بے نیازی دکھاٸ جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو ۔۔۔ ایک لمحے کے لیے تو ندوہ کے دل میں ٹیس سی اٹھی تھی ۔۔۔ پھر وہ سیما کو کندھے سے پکڑ کر روکتی ہوٸ کچن میں گھس گٸ تھی۔۔۔
آپ تو جان ہیں میری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیما کے خفگی بھرے چہرے کو اپنے ہاتھ سے اپنی طرف موڑتے ہوۓ تارز نے کہا تھا۔۔۔۔
ہاں یہ ہی الفاظ اسے کہتا ہو گا مجھے تو مسکے لگاتا بس ۔۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے مصنوعی غصہ دکھایا تھا۔۔۔۔
اسے کبھی یہ نہیں کہا یہ صرف آپکو ۔۔۔۔ اسے کچھ اور کہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر سیما کو کہا۔۔۔
اور پھر ایک جاندار قہقہ لگایا تھا جس پر سیما بھی ہنس پڑی تھیں
اچھا میں اب سونے جا رہی ہوں ۔۔۔۔ سیما نے مصروف سے انداز میں کہا اور اپنی گود سے تارز کے سر کو اوپر اٹھایا جو اس نے ہنستے ہنستے ابھی لاڈ سے رکھا تھا۔۔۔۔
اچھا سنیں بابا سے بھی میں صبح مل لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے خجل ہوتے ہوۓ کان کھجا کر کہا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے آنکھیں نکال کر خفگی سے دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
کھانے کی ٹرے لا کر تارز کے سامنے رکھتے ہوۓ دل ہولے سے لرز رہا تھا۔۔۔ سیما کے جاتے ہی تارز کا چہرہ پھر سے سپاٹ ہو گیا تھا۔۔بے تاثر ۔۔۔ وہ ندوہ کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔۔۔۔
ایسی بھی کیا بے نیازی ندوہ نے روہانسی شکل بنا کر تارز کی طرف دیکھا تھا ماتھے پر بس اب نشان تھا سفید سا۔۔۔
افف دل ڈوب گیا تھا۔۔۔۔۔ اور وہ اپنی لمبی آنکھوں پر مڑی ہوٸ پلکوں کی جھالر گراۓ سنجیدہ چہر ے کے ساتھ کھانا کھانے میں مصروف تھا وہ اس کے بلکل پاس کھڑی تھی اور تارز ایسے بے نیاز تھا جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو۔۔۔
ندوہ کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔۔۔
اس کو اب کیا مسٸلہ ہے میرے سر پر کیوں کھڑی ہے۔۔۔ ایک ہفتے میں وہ اتنا یاد آٸ تھی کہہ آج وہ جہاز پر آنے پر مجبور ہو گیا تھا۔۔۔ جیسے ہی گھر میں سیما نے دروازہ کھولا تو سوچا اب اسے دیکھنے کے لیے کمرے تک جانے تک کے وقت کا انتظار کرنا پڑے گا ۔۔ لیکن ابھی انہی سوچوں میں گم تھا جب وہ گلابی گالوں اور لمبی پلکوں کو معمول سے بلکل برعکس چہرے پر گراۓ سامنے آٸ تھی۔۔۔
اوردل ایک لمحے کے لیے ساکن سا ہوا تھا۔۔۔ لیکن پھر اگلے ہی پل ھدیل کی طلاق والی بات ذہن میں آتے ہی حلق تک کڑوا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔ پہلے تو وہ بنا مقصد ہی اس سے علیحدگی کی طلبگار تھی لیکن اب تو اس کے پاس وجہ بھی تھی ھدیل اب اس کو با آسانی اپنا سکتا تھا۔۔۔
ندوہ تارز کے ساتھ والی کرسی کو کھینچتے ہوۓ اس پر بیٹھی تھی۔۔۔ تارز کی آنکھیں ہنوز ویسے ہی نیچے تھیں اور چہرے پر وہی کاٹ دار سنجیدگی ۔۔۔ ندوہ کو وہ یوں خفا سا بھی دل میں اترتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ندوہ کے لبوں پر شریر سی شرماٸ سی مسکراہٹ در آٸ تھی۔۔۔۔
کیسا گزرا سفر۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ مدھر سی آواز نے لاونج کی خاموشی کو توڑا تھا۔۔۔
تارز کا ہاتھ لمحہ بھر کے لیے رکا تھا لیکن نظر اٹھا کر پھر بھی نہیں دیکھاتھا۔۔۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
تو ندوہ اب میں انتظار کروں گا کہ کب تم مجھ سے علیحدگی کا مطالبہ کب کرو گی تمہیں خود تو میں بھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔ تارز نے نوالہ دھیرے سے چباتے ہوۓ سوچا تھا۔۔۔
کیسے مناٶں ۔۔۔ اور کیسے بتاٶں ۔۔۔ ندوہ نے بری طرح لب کچلا تھا۔۔..۔۔ کیسے کہوں کہ تارز تمھاری ندوہ ہار گٸ ہے ۔۔۔ اب وہ ہی نہیں تم بھی اس کا سکون بن چکے ہو۔۔۔ ایسا سکون جو روح میں اترتا ہے اور دل کی دھڑکنوں کی رفتار کو بڑھا دیتا ہے۔۔۔ ایسا سکون۔۔۔۔ جس کے وجود سے اٹھنے والی خوشبو سانسوں کو بھلی لگنے لگتی ہے۔۔۔ ایسا سکون جس کے چہرے کا ہر نقش خدا کا شہکار لگنے لگتا ہے۔۔۔ ایسا سکون جس کے لیے ساری دنیا تیاگ دینے کو من کرتا ہے۔۔۔ ایسا سکون جو دماغ کی کھڑکیوں کہ بند کر کے دل کی سارے دروازے کھول دیتا ہے۔۔۔ایسا سکون جس کی ایک جسارت پر تن من وارنے کو جی کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ پاگلوں کی طرح تارز کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ ان چند دونوں میں اس کے لیے کیا سے کیا ہو گیا تھا۔۔۔
تارز کھانا کھا کر اب نپکن سے ہاتھ پونچھ رہا تھا۔۔۔ اور پھر کرسی کو پیچھے دھکیلتا ہوا وہ خاموشی سے اٹھ کر کمرے کی طرف چل دیا تھا۔۔۔
ندوہ مسکراتی ہوٸ برتن سمیٹ کر جب کمرے میں آٸ تو وہ آنکھوں پر بازو رکھے چت لیٹا ہوا تھا۔۔۔
افف کیا کروں کہاں سے لاٶں وہ ہمت ۔۔۔ندوہ بچوں کہ طرح روہانسی شکل بناۓ اسے دیکھتی ہوٸ اپنی جگہ پر لیٹ چکی تھی۔۔۔۔وہ تو سفر کی تھکان کی وجہ سے سو گیا تھا لیکن ندوہ کی آنکھوں میں نیند کہاں تھی وہ تو اس انوکھی سی کشش کی نٸ شکار تھی ۔۔۔ سچی پاک محبت کی دنیا میں پہلا قدم تھا ۔۔
تارز کی طرف رخ موڑے اسے دیکھتے دیکھتے آنکھ لگی تھی۔۔۔
************
کیا تلاش کر رہے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے کمر پر ہاتھ رکھ کر حیرانی سے پوچھا تھا۔۔۔
لیکن جناب نے کوٸ جواب دینا مناسب نہیں سمجھا تھا ہنوز سپاٹ چہرہ لیے بس الماری کے کپڑوں میں سر دیے کھڑا تھا۔۔۔
آج شام کو مہندی تھی قریبی بہت سے رشتہ دار گھر آ چکے تھے ۔۔ وہ سیما کے ساتھ سب کو ناشتہ کروا کر اندر آٸ تو تارز اٹھ چکا تھا۔۔۔ اور بہت ہی مصروف انداز میں کچھ تلاش کر رہا تھا۔۔۔ کچھ دیر تو ندوہ دیکھتی رہی لیکن اس کے مسلسل تلاش کرنے پر پریشان سی ہوتی پاس آٸ تھی۔۔۔
میرا خیال ہے جواب دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے خفگی کے سے انداز میں لاڈ سے کہا تھا۔۔
دل جانتا تھا وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے ۔۔۔ بس ناراض ہے اس دن والی بات پر ۔۔۔
تارز کے بال اور چہرے پر موجود پانی کی ننھی بوندیں اس بات کی گواہ تھی کہ وہ ابھی منہ ہاتھ دھو کر باہر آیا ہے۔۔۔
کیا فاٸدہ ۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے مصروف سے انداز میں بے رخی سے کہا تھا۔۔۔
مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے ابروۓ چڑھا کر پوچھا تھا۔۔۔
تم کیوں پوچھ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز ایک دم سے سیدھا ہوا تھا اور سینے پر ہاتھ باندھ اور بڑے پرسوکون انداز میں طنز بھرا لہجہ اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
ویسے ہی تجسس ہو رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے جز بز سا ہوتے ہوۓ کہاتھا۔۔
صرف تمھارے تجسس کے لیے میں تمہیں بتانے میں وقت برباد کرنے کے بجاۓ وہ چیز نہ تلاش کر لوں۔۔۔۔۔۔۔ تارز اب پھر مصروف ہو چکا تھا۔۔۔
وہ اپنا پسندیدہ کرتا تلاش کرنے میں مصروف تھا نیا لے نہیں سکا تھا مصروفیت کے باعث اور اب جو وہ تھا وہ ملنے کو نہیں دے رہا تھا ۔۔۔ وہ پہلے سے ہی کوفت زدہ کھڑا تھا اوپر سے ندوہ آ گٸ تھی۔۔۔
ایسی بھی کیا بے رخی ۔۔۔ ندوہ روہانسی ہوٸ تھی ۔۔دل کیا کندھا زور سے کھینچ کر تارز کا رخ اپنی طرف کرے اور اس کے سینے سے لگ جاۓ ۔۔۔لیکن یہ سوچنا بہت آسان تھا ۔۔۔۔ پر کرنا۔۔۔
وہ نادم سی صورت بناۓ لب کچلتی ہوٸ باہر چلی گٸ تھی۔۔۔۔
***********
آپکے ہاتھ کتنے پیارے ہیں۔۔۔ ۔۔۔ فروا نے ندوہ کے ہاتھ پر مہندی لگاتے ہوۓ چمکتی آنکھوں کے ساتھ ستاٸشی نظر ڈالتے ہوۓ کہا۔۔۔
تارز بھاٸ اپکی واٸف کے ہاتھ کتنے پیارے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ فروا نے مسکراتے ہوۓ تارز کی طرف رخ موڑا جو مزے سے ساری مہمان رشتہ داروں کے درمیان صوفے پر ٹانگیں پسارے لیٹا تھا۔۔۔
فروا تارز کی چچا زاد تھی ۔۔۔ اور اسی کے بہت اسرار پر ندوہ اس سے مہندی لگوانے کے لیے بیٹھی تھی۔۔۔سارے گھر میں گہما گہمی تھی ابھی دوپہر کا وقت تھا کچھ لوگ کپڑے پریس کرتے پھر رہے تھے اور لڑکیاں مہندی لگوا رہی تھیں۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔ دیکھوں تو۔۔۔ تارز ایک دم شرارتی انداز میں اٹھ کر پاس آیا تھا ۔۔۔
16
نرماہٹ سے ندوہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔
تارز کے ایک دم سے یوں پاس آ کر بیٹھنے اور ہاتھ پکڑنے پر ندوہ جھینپ گٸ تھی۔۔۔ پلکیں گالوں پر لرزنے لگی تھیں۔۔۔۔
یہ کیسی فضول سی مہندی لگا رہی ہو میری بیوی کے ہاتھ پر۔۔۔۔۔۔تارز نے مصنوعی رعب چلاتے ہوۓ فروا کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
ہا۔۔ا۔ا۔ا۔ا۔ تارز بھاٸ ۔۔۔ سب سے پیارا اور نیو ڈاٸزاٸن لگا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فروا نے کمر پر ہاتھ رکھ کر ناک پھلا کر کہا۔۔۔
نہیں مجھے پسند نہیں آیا ۔۔۔ رکو کاپی دکھاٶ۔۔۔ میں بتاتا ہوں کونسا لگانا ہے۔۔۔۔۔۔ تارز نے مصنوعی رعب دار آواز میں کہا اور پاس پڑی مہندی کے ڈاٸزاٸن والی کاپی اٹھاٸ۔۔۔
ساری ارد گرد بیٹھی لڑکیاں کھی کھی کرتی ہوٸ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی تھیں۔۔۔
تارز کا مسخرا پن اور شرارتیں کسی کے لیے نٸ نہیں تھی وہ ہر شادی بیاہ اور کسی بھی تقریب میں ایسے ہی مزاق اور شرارتیں کرتا تھا ۔۔۔۔
اللہ اللہ دیکھو تو چچی کیسے ہیں تارز بھاٸ۔۔۔۔۔۔۔۔ فروا نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کچھ دور بیٹھی سیما کو کہا۔۔۔
اس بدتمیز سے کوٸ بعید نہیں ۔۔۔ خود نہ لگانے لگ جاۓ مہندی ندوہ کے ۔۔۔۔۔۔۔ سیما نے بھی ساتھ بیٹھی کشور کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا۔۔۔
سب لوگوں کے قہقے فضا میں گونجے تھے۔۔۔۔
ندوہ حیران ہوتے ہوۓ تارز کی طرف دیکھ رہی تھی ابھی تھوڑی دیر پہلے کمرے میں تو اسے اتنے روکھے سے انداز میں جواب دے رہے تھے اور اب سب کے سامنے ایسے پیار نچھاور کر رہے تھے جیسے کوٸ خفگی ہی نہ ہو۔۔۔
ہاۓ۔۔۔۔ اتنا پیار تارز بھاٸ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زارا نے مصنوعی آنکھ دباتے ہوۓ شرارت سے کہا۔۔۔
ہے تو۔۔۔۔ اکلوتی تو ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔ اور پیار سے ندوہ کی طرف دیکھا ۔۔۔
جو بلش ہو گٸ تھی۔۔۔ نظریں اٹھانا مشکل ہو رہا تھا تارز کی ساری رشتہ دار عورتیں بیٹھی ہوٸ تھیں۔۔۔
توبہ ۔۔۔ بے شرم کہیں کا۔۔۔۔۔۔۔۔ کشور نے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔
سب لوگ تارز کی باتوں سے اس کے انداز سے خوب انجواۓ کر رہے تھے۔۔۔۔
آۓ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔پھپھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا انکل نے کبھی نہیِں کیا اتنا پیار وہ تو آج بھی آگے پیچھے پھرتے آپکے۔۔۔۔ ۔۔۔ تارز نے کشور کی طرف شرارت سے دیکھتے ہوۓ کہا اور آنکھ دباٸ۔۔۔
اور پھرپاس آ کر ان کے چہرے کو اپنی طرف گھومایا۔۔۔۔ آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔۔۔
چل ۔۔۔ ہٹ ۔۔۔ پراں ۔۔۔ سیما یہ نا سدھرا شادی کے بعد بھی ۔۔۔ ویسا ہی ہے مسخرا پورا۔۔۔۔۔۔۔ کشور نے تارز کو قہقہ لگاتے ہوۓ ایک طرف کیا تھا۔۔۔
تارز بھاٸ ویسے گزارا کیسے ہوتا ندوہ بھابھی اتنی ڈیسنٹ کم گو اور آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فروا نے ندوہ کے ہاتھ پر مہندی لگاتے لگاتے چہرہ اوپر اٹھا کر شرارت سے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
ایسا ویسا گزارا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کوٸ کم گو نہیں ہیں۔۔۔ بہت حکم چلاتی مجھ پر۔۔۔ کیوں بیگم ۔۔۔۔۔۔ تارز پھر سے واپس آ کر ندوہ کے پاس بیٹھا اور اپنا کندھا ندوہ کے کندھے پر مارتے ہوۓ شرارت سے کہا۔۔۔
ہاۓ۔۔ے ۔۔۔ے۔۔۔۔ فرمابرداری چیک کریں ذرا جناب کی ۔۔۔۔ ۔۔۔ فروا نے منہ پر ہاتھ رکھ کر قہقہ لگایا تھا۔۔۔
ندوہ شرم سے گلابی ہو گٸ تھی۔۔۔ تارز بھی سب کے ساتھ ڈھیٹ بنا قہقے لگا رہا تھا۔۔۔ اس کے کسی انداز سے کوٸ یہ گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ ندوہ کے ساتھ اتنا ناراض ہے۔۔۔ ندوہ خود حیران ہو رہی تھی۔۔۔
ندوہ بار بار سر جھٹک کر منہ پر آٸ بالوں کی آوارہ لٹ کو پیچھے کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی کیونکہ ایک ہاتھ پر مہندی لگ چکی تھی اور دوسرے پر فروا لگا رہی تھی۔۔۔
تارز نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ پیار سے اس کے چہرے پر آٸ لٹ کو اس کے کان کے پیچھے کیا تھا۔۔۔
اففف ۔۔۔۔۔ تارز بھاٸ جلاٸیں تو نہ ہم سب کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شازیہ نے بھی زارا کی طرف دیکھتے ہوۓ قہقہ لگا کر کہا۔۔۔
سب لوگ اس کے ندوہ کے ساتھ لاڈ انجواۓ کر رہے تھے۔۔۔ ویسے بھی ان کی شادی کو ابھی دو ماہ سے بھی کم عرصہ ہوا تھا تو سب کی نگاہوں اور شرارتوں کا مرکز تھے وہ ۔۔۔ تارز ذرا مختلف تھا اس سے پہلے کہ سب مل کر اس کی کٹ لگاتے اور چھیڑتے وہ اپنی ایسی حرکتیں کر کر کے سب کو ہنسا رہا تھا۔۔۔
یہی تو چاہتا ہوں ۔۔۔ جل جل کر مرو تم سب کی سب۔۔۔۔۔ تارز نے مسکراہٹ دبا کر مصنوعی ناک چڑھا کر کہا۔۔۔
سب لوگ اس کے انداز پر کھلکھلا کر ہنسے تھے۔۔۔۔
تارز ۔۔۔ بس کر اب ۔۔۔ ماموں بلا رہے ۔۔۔ چھوڑ دے بھابھی کا گھٹنا بیغیرت۔۔۔۔۔۔ شہنام نے باہر سے آ کر ہنستے ہوۓ اسے لتاڑا تھا ۔۔۔
وہ واقعی میں ندوہ کے بلکل ساتھ لگا بیٹھا تھا۔۔۔
چلو جی ایک اور جلنے والے کا اضا فہ ہو گیا۔۔۔ ۔۔۔تارز نے ہاتھ کا اشارہ شہنام کی طرف کرتے ہوۓ مصنوعی خفگی سے کہا۔۔۔
سب لوگوں کا قہقہ پھر سے گونجنے لگا تھا۔۔۔
اچھا بیگم پریشان نہیں ہونا۔۔۔ ہاں۔۔۔ تارز نے بچوں کی طرح لاڈ کے انداز میں ندوہ کو دیکھا ۔۔
میں ابھی ہٹلر کی بات سن کر آتا ہوں ندوہ کو پیار سے دیکھتا ہوا شرارت سے اٹھا تھا۔۔۔ ساری کزنز اس کے انداز پر قہقے لگا رہی تھیں۔۔۔
ندوہ بھی مسکراہٹ روک روک کر تھک گٸ تھی۔۔۔
چل آ جا اب۔۔۔۔۔۔۔ شہنام نے زبردستی تارز کا ہاتھ پکڑ کر ندوہ کے پاس سے اٹھایا۔۔۔۔
تارز تو چلا گیا پر باقی سب کتنی دیر ندوہ کو سرگوشیاں کر کے چھیڑتی رہیں۔۔۔
**************
ہلکے سے ٹی پنک کلر کے فراک کے ساتھ سوفٹ سا میک اپ کیے وہ خوبصورتی کی انتہا کو چھو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ وہ سنگہار میز کے سامنے کھڑی کانوں میں جھمکے پہن رہی تھی ۔۔۔ جب آٸینے کے عکس میں تارز کا سراپا نظر آیاتھا ۔۔۔
وہ مصروف سے انداز میں ٹاول کے ساتھ بال خشک کر رہا تھا۔۔۔چہرہ پھر سے سنجیدہ اور سپاٹ تھا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے باہر والے تازر سے یکسر مختلف تھا وہ اس وقت۔۔
وہ جو بڑے انداز میں مسکرا کر پلٹی تھی ۔۔۔ اس کے چہرے کی سختی دیکھ کر روہانسی سی ہو گٸ تھی۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے باہر تارز کی محبت دیکھ کر وہ خوش ہو گٸ تھی کہ شاٸد تارز کی ناراضگی ختم ہو گٸ ہے پر کمرے میں آنے کے بعد وہ پھر سے خفا سے تارز میں تبدیل ہو گیا تھا۔۔۔
ندوہ کے سنگہار کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے تو تارز کا دل مچل گیا تھا۔۔۔ پر دوسرے ہی لمحے ھدیل کے خیال نے چہرہ سخت کر دیا تھا۔۔۔
گہرے جامن رنگ کے کرتے میں تارز غضب ڈھا رہا تھا۔۔۔۔غصے سے لب بھینچے اب وہ ڈراٸر کو چلاۓ اپنے بال سیٹ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔
اتنی ناراضگی ایک نظر بھی نہ ڈالی اتنی محبت سے وہ آج صرف تارز کے لیے تیار ہوٸ تھی۔۔۔لیکن وہ تو ایسے بے نیاز تھا جیسے کہ وہ کمرے میں موجود ہی نہ ہو۔۔۔۔
تارز نے سینٹ کا چھڑکاٶ کرتے ہوۓ ایک چور سی نظر پھر سے ندوہ پر ڈالی تھی جو پریشان سی کھڑی لب کچل رہی تھی۔۔۔۔جبکہ ایک ہاتھ بھی دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو بے چینی سے چٹخ رہا تھا۔۔۔
اب مجھ سے علیحدگی کی بات کرنے کا سوچ رہی ہو گی ۔۔۔ تارز کے چہرے پر ناگوار سی مسکراہٹ ابھری تھی۔۔
افف کیسے کروں محبت کا اظہار اب ان سے۔۔۔۔۔۔ خود ہی کیوں نہیں سمجھ جاتے تارز۔۔۔۔ روہانسی سی شکل بنا کر سوچا۔۔۔
کوٸ جب اتنا پیار کرے تو اس کی تھوڑی سی بھی بے رخی بہت بری طرح کھلتی ہی ۔۔۔ ندوہ کا بھی یہی حال تھا ۔۔۔ تارز کے بے پناہ محبت کے بعد اس کی اتنی بے زاری اور بے رخی اسے ایک پل کو بھی چین نہیں لینے دے رہی تھی۔۔۔
تارز ایک نظر خود پر ڈالتا ہوا بڑے آرام سے اسے وہیں پر سوچ انداز میں کھڑا چھوڑ کر باہر نکل گیا تھا۔۔۔
اور وہ نادم سی سر جھکاۓ پریشان حال کھڑی تھی۔۔۔۔
***************
پل ۔۔۔۔۔۔بھر۔۔۔۔۔ ٹھہر۔۔۔۔۔ جاٶ دل یہ سنبھل۔۔۔۔ جاۓ
کیسے تمہیں۔۔۔۔۔۔ روکا کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری طرف آتا۔۔۔۔۔۔۔ ہر غم پھسل۔۔۔۔۔۔ جاۓ
آنکھوں میں تم کو بھروں۔۔۔۔۔۔
بن بولے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باتیں۔۔۔۔۔۔۔ تم سے ۔۔۔۔۔۔کروں۔۔۔۔
اگر تم ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب لوگ دھیرے دھیرے سے ہل رہے تھے تارز کی خوبصورت آواز مہندی ھال میں گونج رہی تھی۔۔۔
تیری۔۔۔۔۔۔۔ نظروں۔۔۔۔۔۔ میں ہیں۔۔۔۔۔ تیرے سپنے۔۔۔
تیرے سپنوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں راضی۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے باتیں۔۔۔۔۔۔ دل کی ہوتی۔۔۔۔۔۔ لفظوں کی دھوکے بازی۔۔۔۔
تم ساتھ ہو یا نہ ۔۔۔۔۔۔ہو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔فرق ہے۔۔۔۔
بے درد تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی بے درد ہے۔۔۔
اگر تم ساتھ۔۔۔۔۔۔۔ ہو۔۔۔۔۔
اگر تم ساتھ۔۔۔۔۔ ہو۔۔۔۔
تارز کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آ گٸ تھی۔۔۔۔ مڑی ہوٸ پلکوں کی جھالر اٹھا کر ندوہ کی طرف دیکھا تھا جبکہ انگلیاں دھیرے دھیرے گٹار پر رقص کر رہی تھیں
اگر تم ساتھ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ہو۔۔۔۔۔۔۔
آواز میں عجیب سا درد تھا۔۔۔ سب لوگ اس کی خوبصورت آواز کے سحر سے محزوز ہو رہے تھے۔۔۔
غیر سا۔۔۔۔۔ ہوا خود سے ۔۔۔۔۔۔۔بھی نہ کوٸ۔۔۔۔۔۔ میرا
درد سے۔۔۔۔۔۔ چل کر لے ۔۔۔۔۔۔۔یاری دل یہ کہہ رہا۔۔۔۔
کھولوں جو باہیں ۔۔۔۔ بس غم یہ سمٹ رہے ہیں ۔۔۔
تارز کی آنکھوں میں بار بار اس سے ہاتھ چھڑا کر بھاگتی ہوٸ ندوہ آ رہی تھی جو دور کھڑے باہیں پھلاۓ ھدیل کی طرف جا رہی تھی۔۔۔ گانے کے بول کے ساتھ دل کی گھٹن بھی بڑھ رہی تھی۔۔۔
آنکھوں کے آگے۔۔۔۔ لمحے یہ کیوں گھٹ رہے ہیں۔۔۔۔
جانے کیسے۔۔۔۔۔۔ کوٸ سہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جداٸیاں۔۔۔۔۔۔
تارز نے ایک دم خاموش ہو کر آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔ پھر سے آنکھیں کھولیں اور گٹار پر پھر سے انگلیاں زور سے ماری تھیں۔۔۔۔
تینو ۔۔۔۔۔۔۔اتنا میں ۔۔۔۔۔۔۔پیار کراں۔۔۔۔۔۔۔۔
اک ۔۔۔۔۔۔۔پل وچ ۔۔۔۔۔۔۔۔سو بار ۔۔۔۔۔کراں۔۔۔۔۔
تارز نے گہری آنکھوں سے ندوہ کی طرف دیکھتے ہوۓ گانا تبدیل کیا تھا ۔۔۔
سب کزنز چیخنے کے انداز میں پر جوش ہوۓ تھے۔۔۔۔ تارز اب دھیرے سے چلتا ہوا ندوہ کے قریب آ گیا تھا۔۔۔
ندوہ جھینپ سی گٸ تھی سب لوگ اب ان دونوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔
تو۔۔۔۔ جاوے۔۔۔۔جے۔۔۔۔ مینو ۔۔۔۔ چھڈ ۔۔۔ کے۔۔۔۔
موت۔۔۔ دا۔۔۔ انتظار ۔۔۔ کراں۔۔۔۔۔
تارز ایک گھٹنا نیچے لگا کر ندوہ کے پیروں میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
سب لوگوں کا شور بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
کہ۔۔۔۔۔ تیرے ۔۔۔۔ لیے۔۔۔۔ دنیا ۔۔۔۔ چھوڑ ۔۔۔ دی ۔۔۔۔ ہے۔۔۔
تجھ ۔۔۔۔۔پہ۔۔۔۔۔ ہی۔۔۔۔۔ سانس۔۔۔۔۔ آ کے۔۔۔۔۔ رکے۔۔۔۔۔۔
میں۔۔۔۔۔تجھ۔۔۔۔کو ۔۔۔۔ اتنا ۔۔۔۔ چاہتا ۔۔۔۔ ہوں ۔۔۔۔
یہ ۔۔۔۔ تو۔۔۔۔ کبھی۔۔۔۔۔ سوچ ۔۔۔۔ نہ۔۔۔ سکے۔۔۔۔
تارز نے سر نیچے جھکا لیا تھا۔۔۔۔ آنکھوں کی نمی بڑھنے لگی تھی۔۔۔۔ سب لوگ تالیاں پیٹ رہے تھے۔۔۔
ندوہ ساکت کھڑی تھی۔۔۔ تارز ایک دم سے خود پر قابو پا کر اٹھا تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: