Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 17

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 17

–**–**–

وہ اب ندوہ کے بلکل سامنے کھڑا تھا لمحہ بھر کے لیے ندوہ کی آنکھیں اس کی گہری بولتی آنکھوں سے ٹکرا گٸ تھیں ۔۔۔
افف ۔۔دل کی دھڑکنوں کی رفتار کے شور نے سب آوازوں کو دبا دیا تھا۔۔۔
سب لوگ سٹیاں اور تالیوں سے ھال کو بے ہنگم کیے ہوۓ تھے۔۔۔
تارز کی آنکھوں کی نمی باقی سب سے تو چھپ گٸ تھی لیکن جیسے ہی وہ اس کے اتنا قریب کھڑا ہوا تھا تو ندوہ اس کی آنکھوں میں تیرتی نمی کو باخوبی دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔
ایسے لگا جیسے کسی نہ دل کو مٹھی میں لیا ہو ۔۔ سب لوگ شور کر رہے تھے وہ گانا ختم کر چکا تھا ۔۔۔ ۔۔۔ پھر دھیرے سے ندوہ کے پاس سے گزرتا ہوا وہ دوسری طرف جا چکا تھا۔۔۔
ندوہ یہ میری آخری کوشش تھی ۔۔۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں تمھارے دل کی دیواروں سے یہ کوشش بھی ٹکرا کر زمین بوس ہو جاۓ گی ۔۔۔
بظاہر وہ سب کے ساتھ قہقے لگا رہا تھا لیکن دل میں درد تھا۔۔۔ اور وہ ظالم حسینہ ابھی بھی جوں کی توں وہیں کھڑی تھی ۔۔۔
تارز کی آنکھوں کی نمی سے دل کی بستی میں طوفان امڈ آیا تھا۔۔۔ وہ ساکت کھڑی تھی ۔۔۔ کیا میں اس قابل ہوں کہ وہ مجھ سے اتنی محبت کرے۔۔۔ ایسی محبت جس کا گماں بھی نہ کیا کبھی میں نے ۔۔۔ دل کی گھٹن بڑھنے لگی تھی اس سے پہلے کہ وہ بری طرح سب کے سامنے رو دیتی وہ بھاگتی ہوٸ ھال سے باہر نکلی تھی ۔۔۔ اور سامنے بڑے سے لان کے ایک گوشے میں لگے بنچ پر جا کر تیز تیز سانس لیتے ہوۓ اس کے گال آنسوٶں سے بھیگ گۓ تھے۔۔۔ کیا کیا نہیں کیا تھا اس نے تارز کے ساتھ ۔۔۔ کہاں کہاں اس کی محبت کو نہیں دھتکارا تھا۔۔۔ کتنی پاگل تھی میں ۔۔۔ سچی محبت کی پہچان نہیں تھی مجھے ۔۔۔
تارز نے سگریٹ کو منہ میں رکھ کر لاٸٹر سے جلایا تھا پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا وہ ھال کے لان میں آ گیا تھا ۔۔۔
رشک سے سارا جہاں میری طرف دیکھتا ہے
تو مگر اب بھی کہاں میری طرف دیکھتا ہے۔۔
ہجر میں جان بلب ہوں،میرا قاتل بے سود
ہاتھ میں تھامے کماں میری طرف دیکھتا ہے
راکھ سے عشق تھا میری سو جدا ہوتے ہوۓ
کتنی حسرت سے دھواں میری طرف دیکھتا ہے
تارز نے چند قدم اور آگے بڑھاۓ تھے لیکن ندوہ کی آواز پر قدم جامد ہوۓ تھے ۔۔ فورا اس نے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ زمین پر پھینک کر اوپر پاٶں رکھا تھا پھر پریشان سا ہو کر آہستہ سے دبے قدموں درخت کی اوٹ میں ہو گیا تھا ۔۔۔ وہ فون کان سے لگاۓ بیٹھی رو رہی تھی۔۔ کہیں وہ ھدیل سے ۔۔۔
اوہ دل میں آنے والے خیال نے دل کی رفتار کو کم کیا تھا ۔۔ وہ اور قریب ہوا تھا ۔۔ اب ندوہ کی با تیں وہ آسانی سے سن سکتا تھا
کیسی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے آنسوٶں میں ڈوبی آواز میں کہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہوں کیا ہوا ..اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔ عروہ نے تجسس اور پریشانی کے ملے جلے تاثر میں کہا۔۔۔
عروہ مجھے تارز سے محبت ہو گٸ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آنسو سے آواز بھاری ہو رہی تھی ۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تارز کو اپنے کانوں پر یقین نہیں رہا تھا ۔۔۔ فوار کان کو ہاتھ سے تھپتھپایا تھا۔۔۔
تو پاگل لڑکی پھر رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔ عروہ نے ہلکا سا قہقہ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
میں کیسے بتاٶں انہیں ۔۔۔ کہ مجھے محبت ہو گٸ ہے ان سے۔۔۔۔۔۔ بچوں کی طرح روتے ہوۓ ندوہ نے ہونٹ باہرنکال کر کہا تھا۔۔۔۔
تارز کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔ کیسے کی بچی ۔۔۔ جیسے نفرت کا علان کرتی رہتی تھی محاز کھولے رکھتی تھی ویسے ہی بتاٶ اسے ۔۔۔۔۔۔۔ عروہ نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا تھا۔۔۔
بہت مشکل ہے ۔۔۔ نفرت کرتی تھی تو ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا۔۔۔ پر اب تو عجیب ہی فیلنگز ہوتی ہیں ۔۔۔ جب بھی وہ پاس آتے ہیں دل اتنی زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے ہاتھوں کو پسینہ آجاتا ہے ۔۔۔ آنکھیں اوپر اٹھاۓ نہیں اٹھتی ۔۔۔
تارز نے بمشکل اپنی ہنسی کو روکا تھا اور سر خوشی سے درخت سے ٹکا لیا تھا۔۔۔ نچلے لب کو دانتوں میں دباۓ ۔۔آسمان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
پاگل لڑکی ۔۔۔۔انتہاٸ کوٸ عجیب مخلوق ہو تم سچی ۔۔۔ شوہر ہے تمھارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عروہ نے چیخنے کے سے انداز میں کہا۔۔۔
ہاں پتا ہے ۔۔۔ شوہر ہے پر یہ کہاں کی لوجک ہوٸ شوہر ہے تو آرام سے محبت کا اظہار کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے خفا سی آواز میں عروہ سے کہا۔۔۔
مجھے بتاٶ کیسے بتاٶں تارز کو کوٸ طریقہ مجھ سے اب ان کی ناراضگی اور برداشت نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے بے چینی سے لبوں کو کچلا تھا۔۔۔
تم مسیج کرو پاگل اس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ عروہ نے ایک دم جوش سے کہا تھا۔۔۔
سب لکھ کر بتا دو اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عروہ کی چہکتی آواز لان کی خاموشی میں فون سے باہر بھی سناٸ دی تھی۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک ہے میں مسیج کرتی ہوں ۔۔۔۔ ندوہ نے گالوں پر آۓ آنسو ہتھیلی کی پشت سے رگڑے تھے۔۔۔
آج رات کو ہی کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ پر سوچ انداز میں ندوہ نے کہا تھا ۔۔۔
اچھا اب میں جاتی ہوں مجھے تلاش کر رہے ہوں گے سب ۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے خدا حافظ کہتے ہوۓ فون بند کیا تھا ۔۔۔
پھر کھڑے ہو کر آنسو اچھی طرح صاف کیے تھے۔۔۔ اس کے قدم ھال کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
اور وہ لبوں پر فتح کی خوبصورت مسکراہٹ سجاۓ کھڑا تھا۔۔۔ اظہار تو منہ سے ہی کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔ میرے سکون۔۔۔۔۔
تارز کی آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔۔۔
وہ دور اندھیرے سے نکل کر روشنیوں میں گم ہوتے ندوہ کے سراپے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
***************
شہنام ۔۔۔ اپنا فون دے ذرا میرا فون گراہےشاٸد ادھر ھال میں مل نہیں رہا ۔۔۔ میں کال کروں ذرا۔۔۔ تارز نے پریشانی سے پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔۔۔
مہندی کی تقریب ختم ہو چکی تھی ۔۔۔ کچھ لوگ گھر کے لیے نکل چکے تھے کچھ ابھی ھال میں ہی موجود تھے۔۔۔ ندوہ تارز کے کزنز کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔جب تارز نے آ کر اپنے فون کے غاٸب ہونے کی اطلاع دی ۔۔۔
اوہ ۔۔۔ لے میرے نمبر سے بل کر ذرا۔۔۔۔۔۔ شہنام نے جلدی سے اپنا فون آگے بڑھایا تھا۔۔۔
تارز نے پریشان شکل بنا کر فون پکڑا پھر اپنا نمبر ملا کر بے چینی سے لب کچلتے ہوۓ ارد گرد دیکھا۔۔۔
یار بند جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے پریشان سی صورت بنا کر شہنام کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
لو جی عجیب انسان ہے تو ۔۔۔ رک ذرا سب سے کہتے ہیں تلاش کریں سب ۔۔۔۔۔۔ شہنام نے اپنا فون پکڑ کر کہا۔۔۔
پھر جتنے بھی گھر کے افراد وہاں موجود تھے وہ تارز کا فون تلاش کر رہے تھے اور وہ فون کو جیب میں ڈالے پریشان حال کھڑا تھا۔۔۔
جیسے تم تلاش کر رہی ہو ایسے تو مل ہی جاۓ گا۔۔۔ تارز نے ندوہ کے قریب ہو کر کہا ۔۔
وہ جو مختلف کرسیوں کو پیچھے کرتی کھوٸ کھوٸ سی فون تلاش کر رہی تھی ایک دم چونک کر پلٹی تھی۔۔تارز بلکل پیچھے کھڑا تھا۔۔۔
ڈھنگ سے دیکھو گی تو ہی ملے گا ۔۔۔تارز نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ تو پلکیں چہرے پر لرزاتی ہوٸ اتنی قربت کے زیر اثر بےحال سی کھڑی تھی۔۔۔
خیر تم نےپہلے کبھی میرا کوٸ کام بھی دل سے نہیں کیا تو اس کے لیے بھی میں شکوہ کیوں کرو ۔۔۔ تم رہنے ہی دو۔۔۔ تارز نے جان بوجھ کر طنز بھرے لہجے کو اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
جبکہ دل اس کی اس طرح کی حالت پر الٹی سیدھی قلابازی کھا رہا تھا۔۔۔
ندوہ کی صورت ایک دم سے روہانسی ہوٸ تھی۔۔۔ وہ تو سب سے زیادہ چاہتی تھی تارز کا فون مل جاۓ ۔۔۔ آج ہی توسوچا تھا کہ اس سے مسیج میں محبت کا اظہار کر دے گی اور آج ہی فون چوری ہو گیا تھا۔۔۔
فون ہوتا تو ملتا سب لوگ تلاش کر تے کر تے بحال ہو گۓ تھےاور وہ دکھی آتما بنا کمر پر ہاتھ دھرے سب پاگلوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ سب کزنز کی اچھی پھرکی گھومانے کے بعد اس نے پریشان سی صورت میں اپنے موباٸل پر إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ پڑھا اور سب کو جانے کا کہا۔۔۔
*****************
اچھا اب پریشان نہ ہو ۔۔۔ اور آ جاۓ گا فون ہی تو تھا۔۔۔۔۔۔۔ ابتہاج نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا ۔۔۔
وہ جو سب میں گھرا ہونٹ باہر نکالے پوری طرح ادکاری کے جوہر دکھا رہا تھا بار بار چور نظر سے سب کو ٹرے میں سجاۓ چاۓ پیش کرتی ندوہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
بابا۔۔۔ کب پریشان ہوں ۔۔۔ بس کوٸ ضروری کال کوٸ بہت اہم مسیج بھی آنا ہوتا کبھی۔۔۔۔۔۔تارز نے مسیج پر زور دیتے ہوۓ گہری نظر پاس آتی ہوٸ ندوہ پر ڈالی تھی۔۔۔
اب وہ چاۓ کا کپ پکڑ کر تارز کے پاس جھکی تھی۔۔۔۔
سنو۔۔۔۔ مجھے تمھارے ہاتھ کی چاۓ نہیں پینی لے جاٶ۔۔۔۔۔۔ تارز نےمصنوعی خفگی بھرے انداز میں ندوہ کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی ۔۔۔
ندوہ کا چہرہ ایک دم سے زرد ہوا پھر وہ روہانسی شکل بناۓ چاۓ کا کپ ہاتھ میں پکڑے وہاں سے تیزی سے نکلی تھی۔۔۔
سکون میرے۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بہت بے سکون رکھا ۔۔ تم نے اتنا عرصہ اب کچھ سزا تو تمھاری بھی بنتی ہے میرے ہاتھوں ۔۔۔ تارز کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی اور آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں ۔۔۔
کمرے کے دروازہ کھولنے کی آواز پر تارز نے فورا آنکھوں پر بازو کو دھرا تھا وہ بیڈ پر لیٹا کب سے اس کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ وہ سلمی اور حدفہ کے ساتھ تھی اب جا کر کمرے میں آٸ تھی۔۔۔
لب کے کونے کو دانتوں میں دبا ۓ وہ تارز کو دیکھ رہی تھی کہ سو گیا ہے یا جاگ رہا ہے ۔۔۔ تارز نے بظاہر آنکھوں پر بازو رکھا ہوا تھا لیکن ہلکی سی بازو کی اٶٹ سے وہ ندوہ کی بے چینی واضح طور پر دیکھ رہا تھا۔۔۔
کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسے کہوں ہمت کروں ۔۔۔ ندوہ نے تارز کو اٹھانے کے لیے ہاتھ آگ بڑھایا تھا۔۔۔۔ اور پھر لب کچلتے ہوۓ
17
پیچھے کیا۔۔۔۔پھر بے چینی سے کمرے کے چکر لگانے لگی۔۔۔
بڑی بات ہے جناب سر میں فٹ فاٸلر مارتے ہوۓ اور مجھے دھکا دیتے ہوۓ تو اتنی ہمت دکھاٸ تھی۔۔۔ اب اتنی سی بات کہنے میں اتنا ڈر رہی ہے محترمہ۔۔۔
کیا ہے تمہیں ۔۔۔ جا کر لیٹو اپنی جگہ پر کیا میرے سر پر منڈلاۓ جا رہی ہو۔۔۔ نیند آ رہی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔
تارز نے بازو ہٹا کر رعب سے کہا تھا۔۔۔
ندوہ چونک کر سٹپٹا گٸ تھی۔۔۔ فورا ہمت پھر سے ہوا ہوٸ تھی وہ تیر کی سی تیزی سے جا کر ایک طرف لیٹ گٸ تھی۔۔۔۔
تارز کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ آ گٸ تھی۔۔۔
**************
ٹوٹ جا۔۔۔۔ ٹوٹ جا۔۔۔۔ تارز نے پورے زور سے شرٹ کے بٹن کو کھینچتے ہوۓ خود سے سر گوشی کی ۔۔۔
ندوہ ۔۔۔۔ سبز رنگ کے بنارسی سوٹ میں غضب ڈھاتی اس کے دل کو بے چین کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ سب لوگ بارات کے لیے تیاری میں مصروف تھے۔۔۔ ندوہ سیما کے ساتھ کھڑی کسی بارے میں بات کر رہی تھی جب تارز ہاتھ میں بٹن پکڑے معصوم سی شکل بناۓ وہاں آیا تھا۔۔۔
مما ۔۔۔ بٹن لگا دیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے سیما کو کندھے سے ہلا کر کہا تھا۔۔۔
وہ جو ندوہ کو مختلف ہداٸت کرنے میں مصروف تھیں تارز کی بات سن کرماتھے پر بل ڈال کر تارز کی طرف مڑیں۔۔۔۔
تارز تمھارے الٹے ہی کام ہوتے اب نکلنے کی جلدی اور ایک نیا بکھیڑا لے کر کھڑے ہو ۔۔۔
ندوہ بیٹا جلدی سے ٹانک دو بٹن اس کا۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ کے ہاتھ سے زیور کا ڈبہ لیتے ہوۓ سیما نے مصروف سے انداز میں کہا۔۔۔
جی۔۔۔۔ ندوہ نے مدھر سی آواز میں کہتےہوۓ تارز پر چور سی نظر ڈالی تھی سیاہ کوٹ پینٹ میں ملبوس بالوں کو سلیقے سے سیٹ کیے وہ دل دھڑکا دینے کی حد تک خوبرو لگ رہا تھا۔۔۔۔
ندوہ سیما کے بتانے پر کمرے سے سوٸ دھاگا لینے آٸ تو تارز بھی پیچھے ہی آ گیا تھا۔۔۔۔ وہ سوٸ میں دھاگا ڈال کر پلٹی تو تارز بلکل پیچھے کھڑا تھا۔۔۔
افف ۔۔۔ تارز کی خوشبو دل کو اتھل پتھل کر گٸ تھی۔۔۔ آنکھیں اٹھانا مشکل ہونے لگا تھا۔۔۔
شرٹ اتار کر دوں۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے دھیرے سے بھاری سی آواز میں کہا۔۔۔
جب کہ لب مسکراہٹ دبا رہے تھے اور آنکھیں شریر سی چمک لیے ہوٸ تھیں۔۔۔
نہ۔۔ نہیں لگا دوں گی ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ جھینپ گٸ تھی۔۔۔ گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔۔
افف یہ۔۔۔ یہ شرماتاچہرہ ۔۔۔ تارز نے محبت سے اس کے چہرے کا طواف کیا تھا۔۔۔ وہ تو پلکیں نیچے گراۓ ۔۔۔۔کھڑی تھی۔۔۔
ندوہ تمھارا یہ انداز دیکھنے کو چھ سال ترسا ہوں ۔۔۔۔
تمہیں تو لگانا نہیں آتا ایسے بٹن ۔۔۔ سوٸ ہی گھسیڑ دیتی ہو سینے میں۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے مسکراہٹ بمشکل دبا کر مصنوعی سنجیدگی طاری کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
نہیں اب لگا لیتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے تھوک نگلتے ہوۓ کہا ۔۔۔
اور ہلکے سےکپکپاتے ہاتھوں سے بٹن لگانا شروع کیا۔۔۔ تارز کی گہری آنکھوں کی تپش اپنے چہرے پر باآسانی محسوس کر رہی تھی۔۔۔
بول دو نہ جو دل میں ہے کیوں تڑپا رہی ہو۔۔۔ تارز نے اس کے جھکے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوۓ سوچا۔۔۔۔۔۔
لگ گیا ۔۔۔۔ ندوہ نے قینچی کے لیے باکس میں نظر دوڑاٸ ۔۔۔ پھر پریشان ہو کر اوپر تارز کی طرف دیکھا۔
کیا ہوا اب ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔تارز جو مسکرا کر دیکھ رہا تھا اس کے اچانک اوپر دیکھنے پر فورا چہرے کو خجل سا ہو کر سنجیدہ شکل میں تبدیل کیا۔۔۔
قینچی نہیں ہے دھاگا کیسے کاٹوں۔۔۔ مدھم سی آواز میں کہا۔۔
دانتوں سے ۔۔۔ تارز نے مسکراہٹ دباٸ۔۔۔
ندوہ نے ہونک شکل بنا کر دیکھا ۔۔۔ پھر آگے بڑھ کر دانتوں سے دھاگا کاٹ دیا تھا۔۔۔۔
تارز نے لب دانتوں میں دبا کر اس کی مانگ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
ڈھیلا سا لگایا ۔۔۔ تارز نے بھنویں اوپر نیچے اٹھاتے ہوۓ کمینگی بھری شرارت سے کہا ۔۔۔ جبکہ ہاتھ سے بٹن کو پکڑا ہوا تھا۔۔۔
پھر سے لگاٶ ۔۔۔ مصنوعی رعب سے کہا۔۔۔
ندوہ نے روہانسی شکل بنا کر چونک کر دیکھا۔۔۔
اچھا چلو رہنے دو ۔۔۔ ایسے ہی گزارا کر لیتا ہوں ۔۔۔ بڑی بے زار سی آواز میں کہا۔۔۔ اور کمرے سے نکل گیا۔۔
ڈھیلا تو نہیں تھا۔۔۔ ندوہ نے سوچتے ہوۓ باکس بند کیا۔۔۔۔
*************
تارز کا فون ۔۔۔ ۔۔۔ وہ پریشان سی تارز کا فون ہاتھ میں لیے کھڑی تھی ۔۔۔
بارات سے واپس آ کر بھی گھر میں رونق کا سا ساماں تھا۔۔۔ قہقے باتیں ۔۔۔ وہ بھی اب سب کے باری باری اٹھ جانے پر تانیہ کے پاس سے اٹھ کر آٸ تھی۔۔۔۔۔۔ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد زیور اتارا تو سوچا الماری کے لاکر میں ہی رکھ دیتی ہوں ۔۔ جیسے ہی لاکر کھولا تارز کا موباٸل سامنے پڑا تھا۔۔۔ فون سوٸچ آف تھا۔۔۔۔
چلو جناب فون گھر چھوڑ گۓ تھے اور یاد بھی نہیں۔۔۔۔ ندوہ کو انجانی سی خوشی ہوٸ تھی ۔۔۔ جلدی سے فون کو لے کر وہ باہر آٸ تھی۔۔۔
شہنام تارز کہاں ہیں ۔۔۔۔ سامنے سے آتے شہنام کو دیکھ کر اس نے مصروف سے انداز میں پوچھا تھا۔۔۔
بھابھی وہ ادھر تانیہ بھابھی کے کمرے میں ہے ۔۔۔ میں ابھی آ رہا وہاں سے اٹھ کر ۔۔۔ شہنام نے نیند کی خمار ی میں کہا اور آگے بڑھ گیا۔۔۔
وہ تیزی سے پر جوش انداز میں تانیہ کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب دروازے کے پاس تارز کے فقرے نے قدم روک لیے۔۔۔
بہت محبت کرتی ہے بھابھی اب ۔۔۔ بس آپکی دعاٸیں رنگ لے آٸیں ۔۔۔ تارز چہکتے ہوۓ تانیہ سے کہہ رہا تھا۔۔۔ آواز میں خوشی تھی جوش تھا۔۔
ندوہ نے پریشان ہو کر نا سمجھی کے انداز میں قدم ایک اور آگے بڑھایا تھا۔۔۔۔۔
شرم کرو پھر کیوں تنگ کر رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تانیہ نے ہلکے سے قہقے کے ساتھ کہا تھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بلکل نہیں۔۔۔۔۔۔ اظہار تو زبان سے ہی سنوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے شریر سے انداز میں کہا۔۔۔
لڑکیوں کے لیے بہت مشکل ہوتا یہ تارز فون چھپا کر اچھا نہیں کیا مسیج میں ہی کرنے دیتے اسے اقرار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تانیہ نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔۔۔
کیوں۔۔۔۔ تارز ابتہاج کو ہر کام اپنی مرضی سےپسند ہے۔۔۔۔۔ تارز نےبڑے انداز سے قہقہ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔
باہر کھڑی ندوہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔۔۔ زور سے ماتھے پر ہاتھ مارا۔۔۔ تو کیا اس دن تارز نے لان میں میری اور عروہ کی باتیں سن لی تھیں۔۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ سوچا۔۔۔ اور لبوں پر عجیب سی مسکراہٹ در آٸ تھی۔۔۔۔
اس تارز ابتہاج کو مزہ میں چکھاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے نچلا لب دانتوں میں دبا کر شرارت سے سوچا ۔۔۔۔
سب کو پھرکی کراتے ہیں نہ۔۔۔ اب دیکھیں میں کیسے تڑپاتی آپکو۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ بھرپور طریقے سے مسکراتی ہوٸ واپس اپنے کمرے میں آ گٸ تھی اور موباٸل دوبارہ وہیں رکھ دیا تھا جہاں سے اٹھایا تھا۔۔۔
ضروری نہیں ہر دفعہ جناب کی پلینگ کامیاب ہو۔۔۔۔۔ شریر سی مٹھی سی گدگدی تھی جو پورے جسم میں سراٸت کر رہی تھی۔۔۔ آنکھیں چمک رہی تھیں اور لب مسکرا رہے تھے۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: