Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 2

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 2

–**–**–

تارز۔۔۔۔ کہاں ہوٸ ہے جاب۔۔۔۔حدید نے اخبار کو فولڈ کیا اور مسکرا کر سامنے بیٹھے تارز سے کہا۔۔۔
وہ جو کچن کی کھڑکی میں سے نظر آتی ندوہ کو بار بار چور نظروں سے دیکھ رہا تھا ایک دم سے سٹ پٹایا تھا۔۔۔
ماموں یہیں ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے۔۔۔ فارس عوان کا نام تو سنا ہو گا۔۔۔ تارز ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا ایک دم سے سیدھا ہوا۔۔ اور بڑے مہدب انداز میں گویا ہوا۔۔۔
شام کی چاۓ کے بعد آج وہ سب کے ساتھ برامدہ نما لاونج میں بیٹھا تھا۔۔۔ کل تو جب پہنچا تو سارا دن بس سوتا ہی رہا تھا۔۔۔ آج ہی موقع ملا تھا حدید کے ساتھ بیٹھنے کا۔۔۔ حدید اور سیما دو ہی بہن بھاٸ تھے۔۔۔ حدید کی بس دو بیٹیاں تھی۔۔۔ ندوہ اور حدفہ۔۔۔۔ اور سیما کے تین بچے تھے دو بیٹے اور ایک بیٹی ۔۔۔ حبان۔۔۔ مہک ۔۔۔۔ اور یہ سب سے چھوٹا تارز۔۔۔
ہاں ۔۔۔ یاد آیا۔۔۔ وہ میرے آفس کے راستے میں ہی پڑتی کمپنی ۔۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہی چل دیا کرنا روز صبح۔۔۔ حدید نے مسکرا کر دیکھا ۔۔۔
ماموں وہ دراصل میں نے رہاٸش ذرا پاس تلاش کر لی ہے۔۔۔ کان کھجاتے ہوۓ تھوڑا معزرت طلب لہجے میں کہا۔۔۔
ارے باولے ہوۓ ہو کیا ۔۔۔ جب گھر ہے تو کیا ضرورت پڑی کہیں اور جا کر رہنے کی۔۔۔ داود نے اپنا کانپتا ہاتھ تارز کی پیٹھ پر رکھتے ہوۓ کہا۔
وہ بی ایس سی میں یہیں ان کے پاس رہ کر پڑھا تھا دو سال اس لیے سب گھر والوں کا تارز کے ساتھ الگ ہی پیار تھا مسواۓ ندوہ کے ۔۔۔ جس کا پیار تین سال پہلے چڑ اور نفرت میں بدلنے والا تارز خود ہی تھا۔۔۔۔
کوٸ اضافی خرچہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ تمھارا اوپر والا کمرہ ہے جس میں رہا کرتے تھے۔۔۔ حدید نے بھی داود کی بات کی تاٸید کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہاں تو ٹھیک کہہ رہے ابا جی۔۔۔ کہیں نہیں جاٶ گے تم۔۔۔ سلمی نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔۔۔۔
ارے لڑکیو۔۔۔ کتنی دیر ہے اب یہ کونسی نٸ بریانی ایجاد کر لی تم دونوں نے جو پکنے کا نام نہیں لے رہی بچہ بھوکا بیٹھا ہے کب سے۔۔۔ سلمی نے مسکرا کر تارز کی طرف دیکھا اور پھر کچن کی طرف رخ کر کے ہانک لگاٸ۔۔
ارے ممانی نہیں۔۔۔ ابھی اتنی بھوک نہیں ۔۔۔ تارز نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔۔۔
وہ جس مقصد کے تحت جان بوجھ کر خان پور سے پھر سے لاہور آیا تھا۔۔۔ اس کے لیے اب سب گھر والوں اور ندوہ کا دل جیتنا بہت ضروری تھا۔۔۔ ھدیل سلمی کا بھانجا تھا۔۔۔ اب اس کی جگہ لینے کے لیے سلمی کے دل میں اپنا مقام بنانا ضروری تھا۔۔۔
لو بھلا یہ کیا بات کی صبح گیارہ بجے کا ناشتہ کیے ہوۓ ہو بر خوردار ۔۔۔ داود نے پیار سے تپھکی دیتے ہوۓ کہا۔۔
اور وہ بس مسکرا کر ہی رہ گیا۔۔۔ نظریں پھر سے کچن کی کھڑکی کے پار کھڑی ندوہ کو دیکھنے لگی تھیں۔۔۔
*********************
سنو۔۔۔ وہ شام کو کچن کے برتن دھو کر رکھنے کے بعد کچن میں ہی کھڑی ہاتھ دھو رہی تھی جب عقب سے تارز کی بھاری آواز نے لمحہ بھر کے لیے اس کے ہاتھوں کو ساکت کر دیا تھا۔۔۔
ندوہ ویسے ہی خاموش کھڑی رہی تھی کچھ بھی نہیں بولی تھی۔۔۔
مجھے تم سے بات کرنی اوپر آٶ گی تھوڑی دیر کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز اب بلکل پیچھے آ کر کھڑا تھا اور اسے اپنے کان کے قریب اس کی سرگوشی سناٸ دی تھی۔۔۔
او ہ خدایا یہ لڑکا میرے کس گناہ کی پاداش ہے۔۔ ندوہ نے زور سے آنکھیں بند کر کے سوچا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ سختی سے دانت پیسے۔۔۔ لیکن پلٹی نہیں۔۔۔
سوچ لو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے گہری سانس لی اور پھر مسکراہٹ دبا کر نظر اس کی دمکتی گردن پر گاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
تم کیا مجھے دھمکا رہے ہو صبح سے ۔۔۔ ایک دم سے وہ مڑی تھی تو چہرہ بلکل اس کے سینے کے برابر میں تھا۔۔۔ ٹی شرٹ کے سامنے کے دو کھلے بٹنوں پر نظریں مرکوز رکھتے ہوۓ ندوہ نے کہا۔۔۔
میری بات سن لو ایک بس ۔۔۔ جھک کر جزبوں کے بھنور میں ڈولتی سی آواز میں کہا۔۔۔ آواز میں تین سال کی دوری کا کرب چھپا تھا۔۔۔
تم پاگل ہو مجھے تمھاری کوٸ بات نہیں سننی اور جاٶ یہاں سے۔۔۔ تارز اتنا قریب کھڑا تھا کہ ندوہ کو اپنےدنوں ہاتھ شلف پر ٹکا کر کمر کو شلف کے ساتھ لگا کر خود کو اس سے دور رکھنا پڑ رہا تھا۔۔۔وہ ایسا ہی تھا کوٸ لحاظ شرم تو چھو کر نہ گزری تھی محترم کو اور اوپر سے محبت کا ٹنٹا پال بیٹھا تھا۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ پھر میرا بھی جو دل کرے گا۔۔۔ بڑے ذو معنی لہجے میں وہ کہہ رہا تھا جب ندوہ نے اسے درمیان میں ہی ٹوک دیا۔۔
آتی ہوں میں چلو تم ۔۔۔ وہ ایک دم سے گھبرا کر بولی تھی۔۔۔
ندوہ کے ہتھیار پھینکنے پر وہ ایک دم سے فاتحانہ انداز میں مسکرایا تھا۔۔۔
اور تیزی سے کچن سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔
ندوہ نے ایک دم سے سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنی اٹکی ہوٸ سانس بحال کی۔۔۔کیا کرے وہ اس کا کیوں آ گیا تھا تین سال بعد وہ پھر سے اس کی زندگی عذاب کرنے کو۔۔۔وہ بے دلی سے سیڑھیاں چڑھتی ہوٸ اوپر آٸ تھی۔۔۔
وہ کمرے میں کمر پر دونوں ہاتھ رکھے کھڑا تھا اس کو دیکھ کر ایک دم سے چہرے پر وہی جاندار مسکراہٹ بکھر گٸ تھی جو ہمیشہ سے اسے دیکھ کر اس کے چہرے پر آ جاتی تھی۔۔۔
بولو۔۔۔ اور جلدی بولو۔۔۔ دروازے میں ہی رکتے ہوۓ ایک ناگوار نظر تارز پر ڈالتی ہوٸ وہ گویا ہوٸ۔۔۔
جس کی مسکراہٹ اب اور گہری ہو گٸ تھی اور آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔۔۔
اندر آٶ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسکراہٹ دباتے ہوۓ تارز آگے ہوا تھا۔۔۔
ہاتھ اب بھی کمر پر ہنوز ویسے ہی رکھے ہوۓ تھے۔۔۔
نیلے رنگ کی ٹی شرٹ کے نیچے ڈھیلا سا ٹریوزر پہنے وہ معمولی سے حلیے میں کھڑا تھا۔۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔ یہاں۔۔۔ ہاتھ سینے پر باندھتے ہوۓ ندوہ نے چہرے کا رخ دوسری طرف موڑا ۔۔۔
ندوہ کو اس کے چہرے اور چہرے پر بکھری مسکراہٹ سے چڑ تھی۔۔۔
آواز نیچے جا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسکراہٹ ہنوز تارز کے لبوں کا حصار کیے ہوۓ تھی۔۔۔
اور نظریں اس دشمن جان پر ٹکی تھیں جو اتنی پتھر تھی کہ بار بار اس سے سر ٹکرا ٹکرا کر وہ تھک چکا تھا۔۔۔
تارز ۔۔۔ بولو اب۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز کی بلکل خاموشی سے دیکھنے پر وہ چڑ کر گویا ہوٸ تھی۔۔۔ گھبراہٹ ہوتی تھی اسے تارز کے یوں دیکھنے سے۔۔۔
مجھے تم سے شادی کرنی ہے۔۔۔ بڑے بھیگے اور جزب کے لہجے میں ڈوبی ہوٸ آواز نے آخر کو کمرے کے سکوت کو توڑا تھا۔۔۔
مجھے نہیں کرنی۔۔۔ تین سال بعد آ کر پھر وہی رٹ لگا رہے ہو۔۔۔ ۔۔۔۔اب سختی سے ندوہ کی آواز اونچی ہوٸ تھی۔۔۔
وہ تھک گٸ تھی اس کو سمجھاتے سمجھاتے پر وہ تھا کہ اپنی ضد پر اڑا بیٹھا تھا۔۔۔
ہاں لگا رہا ہوں۔۔۔ تمھیں سمجھ نہیں آتی ھدیل کا چلے جانا تمھاری بچپن کی منگنی کا ختم ہو جانا یہ سب قسمت کا کھیل ہے۔۔۔ تارز نے آگے ہوتے ہوۓ کرب سے کہا۔۔۔
قسمت تمہیں مجھ سے ملانے میں جتی ہے۔۔۔ تارز کی آواز میں درد تھا۔۔۔
نہیں یہ میری بد نصیبی ہے جس شخص کو بچپن سے اپنے دل میں بسایا ۔۔۔ پوجنے کی طرح چاہا۔۔۔ وہ مجھے۔۔۔ کہتے کہتے جیسے ندوہ کی آواز نے اس کا ساتھ چھوڑا تھا ۔۔۔ کوٸ گولا سا تھا جو گلے میں اٹک رہا تھا۔۔۔
وہ تمھارے قابل نہیں تھا ندوہ۔۔۔ تارز اب بلکل قریب آگیا تھا۔۔ چہرے پر بیچارگی سجا کر کہا۔۔۔
تم بھی نہیں ہو قابل ۔۔۔ ندوہ نے حقارت بھری نظر ڈالی تھی۔۔
میں ہوں۔۔۔ تارز نے ڈھٹاٸ سے کہا۔۔۔
تم بیوقوف ہو۔۔ کبھی کسی لڑکے کو خود سے عمر میں بڑی لڑکی سے محبت کرتے دیکھا ہے کیا۔۔۔ یہ محبت نہیں صرف تمھارے ذہن کا فطور ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے ہزاروں بار اس کے آگے دہرایا ہوا جملہ اس کے آگے آج پھر دانت پیستے ہوۓ دہرایا تھا۔۔۔
کتنی بڑی ہو ہاں ۔۔۔ کیا کوٸ دس سال بڑی ہو۔۔۔ اتنی بھی ہوتی مجھے تب بھی کو مسٸلہ نہیں تھا ابھی تو صرف دو سال ہی ۔۔۔ تارز کو اب اس کی اس بے تکی بات پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔۔
دو نہیں ڈھاٸ۔۔۔۔ ندوہ نے تنک کر کہا۔۔۔ اور ماتھے پر بل ڈال کردیکھا
ارے بھاڑ میں جاۓ جتنے بھی ۔۔۔ مجھے پرواہ نہیں۔۔۔ آ گیا تھا وہ اپنی مخصوص انداز میں واپس آ گیا تھا صبر کا پیمانہ لبریز ہی ہوا چاہتا تھا۔۔۔
مجھے ہے۔۔۔ تم چھوٹے ہو مجھ سے مجھے عجیب لگتا ۔۔۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا یہ نہیں چاہا۔۔۔ تمہیں چھوٹوں کی طرح ٹریٹ کیا۔۔۔ ندوہ کا غصہ بھی اب آسمان کو چھونے لگا تھا۔۔۔وہ ہمیشہ کی طرح سخت رویہ اپناتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
ضروری تو نہیں جیسے تمہیں لگے باقی سب بھی وہی محسوس کریں۔۔۔ ناک پھلا کر تارز نے کہا غصے سے گردن کی رگیں پھول گٸ تھیں۔۔۔
تمہیں غلط لگتا آیا ہے ہمیشہ سے ۔۔۔ بلکہ میری ہی غلطی ہے۔۔ میں نے تمہیں ہمیشہ چھوٹے بھا۔۔۔ ندوہ غصے میں ایک ہی جست میں بولے جا رہی تھی جب اچانک تارز کا مضبوط ہاتھ اس کے لبوں کو پیوست کر کے اس کی آواز کو بند کرچکا تھا۔۔۔
بھاٸ نہیں ہوں تمھارا۔۔ سمجھی تم۔۔۔فورا اتنی مضبوطی سے ہاتھ رکھا تھا کہ وہ تڑپ گٸ تھی۔۔۔
ندوہ زور سے اس کے ہاتھ پر اپنے ناخن گاڑے ہوۓ تھی۔۔ پر اس پر کوٸ اثر نہیں تھا۔۔۔
تمھاری ہاں کا انتظار ہے باقی سب کو راضی کرنا میرا کام ہے۔۔ دھیرے سے ندوہ کے لبوں سے ہاتھ اٹھا کر کہا۔۔۔
میری۔۔۔۔۔۔۔ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ندوہ نے چیخ کر کہا ۔۔۔ چہرے پر تارز کی انگلیوں کے نشان پڑ گۓ تھے۔۔۔
اور یہ نہ ہی رہے گی۔۔۔ اس سے پہلے کہ تارز کچھ بولتا وہ پھر سے اسی انداز میں چیخی تھی۔۔۔۔
تم غلط کر رہی ہو میرے ساتھ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آواز میں درد تھا۔۔۔ تارز نے گہری نظروں سے غصے میں بھری ندوہ کو دیکھا
میں غلط نہیں ۔۔۔ بلکہ تم بیٹھو اور سوچو۔۔۔ تم کہاں کہاں غلط تھے ۔۔۔ ندوہ کا اب وہاں کھڑے ہونا محال ہو گیا تھا۔۔۔ تیزی سے وہ کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔۔
وہ وہیں کھڑا رہ گیا تھا ٹوٹے سے انداز میں بکھرے سے انداز میں۔۔۔ ماضی کے سمندر میں غوطے لگاتا ہوا۔۔۔
**************
2
یہ دیکھو ۔۔۔ دیکھو ۔۔۔ اس کو بنانا تم نے ڈاکٹر ۔۔ اس کے نمبر تو دیکھو۔۔۔ابتہاج نے غصے سے وہ کاغز سیما کے آگے پھینکا تھا جس پر وہ ابھی ابھی تارز کا انٹرمیڈیٹ کا رزلٹ نوٹ کر کے لاۓ تھے۔۔۔
انیس سالہ تارز سرخ چہرہ لیے کھڑا تھا ۔۔۔۔ اس کے چہرے پر کوٸ شرمندگی کے آثار نہیں تھے۔۔۔۔
تارز۔۔۔ یہ ۔۔۔ سیما نے روہانسی سی آواز میں کہتے ہوۓ اپنے بیٹے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
وہ پاس ہو گیا تھا لیکن اس کے نمبر اس قابل ہر گز نہیں تھے کہ وہ ڈاکٹر بنتا۔۔۔۔
مما ۔۔۔میں پہلے ہی بتا چکا تھا آپکو بھی اور بابا کو بھی۔۔۔ مجھے میڈیکل میں نہیں جانا۔۔۔ تارز نے دو ٹوک انداز میں کہا ۔۔۔
مجھے باٸیو میں کوٸ انٹرسٹ نہیں ۔۔۔ ہوا میں دونوں ہا تھوں کو روکتے ہوۓ کہا۔۔۔
جناب کو کسی میں بھی کوٸ انٹرسٹ نہیں ۔۔۔آواراگردی کروا لو اس سے جتنی مرضی خبیث سے۔۔۔ ابتہاج نے دانت پیسے۔۔۔
ان کو تارز کے اس لاپرواہ انداز سے چڑ ہو رہی تھی۔۔۔
مجھے لاہور جا کر پڑھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہنوز ضدی انداز میں تارز نے کہا تھا۔۔۔
وہ سوچ چکا تھا ۔۔۔ کہ وہ اب میڈیکل میں آگے نہیں جاۓ گا بلکہ وہ اس خان پور جیسے چھوٹے شہر کو چھوڑ کر لاہور جاۓ گا۔۔۔۔
لو سن لو ایک اور فرماٸش ۔۔۔۔ ارے تم چھوڑو یہ پڑھاٸ مکینکی سیکھو سیدھی سیدھی۔۔۔ تمھارے بس کا روگ نہیں یہ پڑھاٸ۔۔۔ ابتہاج نے غصے سے بپھرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
امی میں میتھ کو لے کر پڑھ لیتا ہوں نہ۔۔۔ مجھے لاہور بھیج دیں ماموں کے پاس۔۔۔ تارز نے لا پرواہی سے ابتہاج کے غصے سے بھرے چہرے کو بنا دیکھے رخ سیما کی طرف موڑ کر کہا۔۔۔
چلو ہم تو ذلیل ہو چلے صاحب زادے کے ہاتھوں اب دوسرے بھی بھگتیں اسے۔۔۔ ابتہاج نے سیما کے چہرے پر رضامندی کے آثار دیکھتے ہوۓ سر ہوا میں طنز کے انداز میں مارتے ہوۓ کہا۔۔۔
بس کریں آپ دونوں ۔۔۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے کیا حرج ہے اگر پڑھنا چاہتا ہے لاہور جا کر ۔۔۔ ماشاللہ وہاں ندوہ ہے نہ اس کو پڑھاۓ گی بی۔ ایس ۔سی میں اتنے اچھے نمبر لیے ہیں اس نے ۔۔۔ سیما واقعی تارز کی بات مان چکی تھی ۔۔۔
تمھاری زمہ داری ہے یہ اب جو بھی کرے میری بلا سے ۔۔۔ ابتہاج غصے میں بھرے کمرے سے باہر جا چکے تھے۔۔۔۔
انھیں پتہ تھا سیما اب وہی کرے گی جو اس کا دل چاہے گا۔۔۔اس لیے اس سے بحث کرنا فضول تھی۔۔۔
**************
ارے کچھ بھی مشکل نہیں لگتا مجھے مما تو ایسے ہی پیچھے پڑٸ ہیں میرے ۔۔ تارز نے دانتوں میں بال پواٸنٹ دباتے ہوۓ کہا
اچھا جی۔۔۔ دکھاٶ تو مجھے ۔۔۔ ندوہ نے ہلکا سا قہقہ لگایا اور اس کے سامنے پڑی حساب کی کتاب کو اٹھایا۔۔۔۔
وہ لاہور آ چکا تھا ۔۔۔ بی ۔۔۔ ایس ۔۔۔ کرنا چا ہتا تھا لیکن اس میں میرٹ نہ بننے کی وجہ سے اسے اب ڈبل میتھ کے ساتھ بی ایس سی کرنی پڑ رہی تھی۔۔۔
ڈبل میتھ اتنا آسان نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو اور پھر پہلے تم میڈیکل پڑھ کر آۓ ہو۔۔۔ ندوہ نے محبت سے سامنے بیٹھے اپنے پھپھو کے بیٹے کو دیکھا۔۔۔ جو منہ پھلاۓ بیٹھا تھا۔۔۔
تارز اس سے ڈھاٸ سال چھوٹا تھا ۔۔۔ سیما اس کی ایک ہی پھپھو تھی اور تارز کا بچپن سے گھر میں بہت آنا جانا تھا۔۔۔ ندوہ اور حدفہ کا اپنا کوٸ بھاٸ نہیں تھا اس لیے ندوہ بچپن سے ہی تارز کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتی تھی جیسے وہ اس کا چھوٹا بھاٸ ہو۔۔۔ لیکن وہ شروع سے ہی ندوہ کو دوستوں کی طرح ٹریٹ کرتا تھا ۔۔۔۔
میٹرک میں اچھا تھا میرا میتھ سچ میں۔۔۔ تارز نے کرسی کے بازوٶں پر اپنے بازو ٹکا کر کہا۔۔۔
جب سے وہ لاہور آیا تھا تب سے ندوہ اسے پڑھانے کے چکروں میں اس کے آگے پیچھے پھرتی رہتی تھی۔۔۔ اب جا کر وہ قابو آیا تھا۔۔۔۔
یہ میٹرک سے بہت مختلف ہے ۔۔۔ ندوہ نے لب بھینچتے ہوۓ مسکرا کر کہا۔۔۔
میتھ کے ساتھ کیا رکھا ہے۔۔۔ تارز کی کتاب کو کھولتے ہوۓ ندوہ نے کہا۔۔۔
فزکس ۔۔۔ بڑے فخر سے تارز نے کہا۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ تو پھر شروع کریں آج سے ۔۔۔ ندوہ نے مسکرا کر پیار سے اسے دیکھا۔۔۔
وہ پڑھاٸ میں بہت اچھی تھی اور بی ایس میں ریاضی کے ساتھ ہی بہت اچھے نمبروں میں پاس ہوٸ تھی ۔۔۔ اب پھپھو کے اسے روز فون آتے تھے کہ وہ تارز کو پڑھاۓ۔۔۔۔
کل سے کرتے ہیں نہ۔۔۔ چلو آج موی دیکھنے چلتے ہیں۔۔۔ تارز نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا اور منہ میں دباٸ قلم کو زور سے کتاب پر مارا۔۔۔
تارز دماغ ٹھیک ہے تمھارا ۔۔۔۔ دادا جی کو پتہ لگا نا تو خیر نہیں ہماری۔۔۔ ندوہ نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ارے ان کو کون بتاۓ گا میں تم اور حدفہ بس ۔۔۔ تارز نے بازو کھولے اور پھر سر کے پیچھے باندھ کر مسکرایا۔۔۔
نہیں بلکل نہیں ۔۔۔ پھپھو تمہیں میرے حوالے کر کے گٸ ہیں ۔۔ پہلے پڑھیں گے پھر چلیں گے۔۔۔ وہ پھر سے اس کی بند کی ہوٸ کتاب کھول چکی تھی۔۔۔
چلو جی ۔۔۔ ایک مما کو چھوڑ کر آیا ۔۔۔ یہاں ایک اور ہیں ۔۔۔ تارز نے ہونٹ باہر نکال کر ناراض سے انداز میں کہا۔۔۔
اچھا اچھا زیادہ بتاٸیں مت بناٶ۔۔۔ ندوہ نے تھوڑا بڑوں والا غصہ دکھاتے ہوۓ کہا۔۔۔
اسے شروع سے ہی بڑوں کی طرح رعب چلانے کا بہت شوق تھا۔۔۔
اور اٹھو تم بھی جاو اپنی کتابیں لے کر آو۔۔۔ پاس بیٹھی دانت نکالتی ہوٸ حدفہ سے کہا۔۔۔۔
یہ شروع سے ہی ایسی ہے کیا استانی۔۔۔۔ تارز نے گھور کر ندوہ کی طرف دیکھا اور پاس بیٹھی حدفہ سے پوچھا۔۔۔
کھولو بک۔۔۔۔ ندوہ نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوۓ اور مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔۔۔
ارے مارنا نہیں مجھے۔۔۔ تارز نے قہقہ لگا یا تھا کیونکہ اب وہ اس کی ڈھٹاٸ سے تنگ آ کر اس کی طرف کتاب کو مارنے کے انداز میں اٹھا رہی تھی۔۔۔
تارز ایک دم کرسی سے اٹھا تھا اور اب ندوہ اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔۔ اور وہ قہقہ لگاتا ہوا آگے بھاگ رہا تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Uqaab by Seema Shahid – Episode 8

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: