Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 3

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 3

–**–**–

اس کو لاہور آۓ اورندوہ سے پڑھتے ہوۓ چار ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔۔۔ندوہ باقاعدگی سے اسے پڑھاتی تھی۔۔
آج بھی جب وہ اسے پڑھا رہی تھی تو لاشعوری طور پر تارز کی نظر اس کے ہاتھوں پر ٹک گٸ تھی کتنے خوبصورت تھے اسکے ہاتھ۔۔۔ سفید۔۔۔ نرم۔۔۔ مخروطی انگلیوں والے نازک سے ہاتھ۔۔۔ انگلی کی پوریں گلابی تھیں۔۔۔ اور ناخن سلیقے سے تراشے ہوۓ مناسب حد تک بڑھے ہوۓ تھے۔۔۔ وہ اسے میتھ کا کوٸ سوال سمجھا رہی تھی اور وہ اس کے ہاتھوں کی جنبش میں کھویا ہوا تھا۔۔۔ پتہ نہیں کیوں بے ساختہ یہ دل کیا کہ وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر دیکھے۔۔۔
کیا سوچے جا رہے ہو۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے تارز کو گم سم بیٹھے دیکھ کر اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا تھا۔۔۔
کہ۔۔۔کچھ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ سمجھاٶ تم۔۔۔ تارز نے گھبرا کر کہا۔۔۔ ایک دم سے جیسے وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آیا تھا۔۔۔۔ اسے اپنے خیال پر شرمندگی ہوٸ تھی۔۔
سمجھاتو میں رہی ہوں لیکن تمھارا دھیان نہیں ہے آج ۔۔۔ ندوہ نے لب بھینچتے ہو ۓ کرسی کی پشت سے سر ٹکایا۔۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ ویسے ہی چلو نہ آج باہر چلتے کہیں۔۔۔ ۔۔۔۔تارز ایک دم سے اس کی کھوجتی نظروں سے گڑ بڑا گیا تھا لمحہ بھر کو تو یوں لگا جیسے وہ جان جاۓ گٸ ہے کہ اس نے اس کے ہاتھوں پر نظر غلط ڈالی ہے۔۔۔۔
اتنے دن سے بور کر رہی ہو مجھے۔۔۔ اپنے اندر کی چوری کو چھپاتے ہوۓ تارز نے خجل ہو کر کان کو کھجایا تھا۔۔۔
”تم یہاں پڑھنے آۓ ہو ۔۔“۔۔۔ ندوہ نے غصے سے گھورا تھا۔۔۔
پتہ ہے مجھے پر جینے تو دو ۔۔۔ سانس تو بند مت کرو۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ تارز نے مصنوعی خفگی دکھاٸ تھی۔۔۔
سانس تمھیں نہ بس گھوم پھر کر ہی آتا ہے ۔۔۔ہے نہ۔۔۔ ندوہ نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔
اور وہ ایک دم سے اس کے ہنستے چہرے کے خدو خال کو غور سے دیکھنے لگا تھا۔۔وہ ایک مکمل حسن رکھتی تھی۔۔۔ اس کے موتیوں جیسے دانت اس کے بھرے بھرے گداز لبوں کی اوٹ میں دمک رہے تھے۔۔۔گہری سی آنکھیں ۔۔۔ مڑی ہوٸ پلکیں نازک سا سراپا۔۔
وہ قہقہ لگاکر ایک دم سے پھر سے تارز کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرا رہی تھی۔۔۔ وہ ایک دم سے خجل ہوا تھا بری طرح اپنے دل اور دماغ کو سرزنش کیا تھا۔۔اور خود کو نارمل ظاہر کیا۔۔۔
اچھا دیکھو دوست نہیں ہو۔۔۔ بڑے لاڈ سے اس نے ندوہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
وہ ندوہ سے ایسے ہی لاڈ اٹھواتا تھا جانتا تھا وہ اس سے کتنا پیار کرتی ہے۔۔۔ وہ کیا سب گھر والے اسے بہت پیار کرتے تھے۔۔۔
ہوں تو۔۔۔ ندوہ نے لا پرواہی سے کندھے اچکاۓ۔۔۔
چلو نہ چلتے ہیں ۔۔۔ تارز ایک دم سے اٹھا تھا پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے۔۔وہ الجھا سا کھڑا تھا۔۔۔
ابا سے کون اجازت لے گا۔۔۔ قلم کو ہونٹو ں میں دباۓ شریر سی مسکراہٹ سجاۓ ندوہ نے تارز کو دیکھا تھا۔۔۔
اسے تارز کی ہر شرارت پر پیار آ جاتا تھا۔۔۔ وہ تھا ہی ایسا ہنسا دینے والا ۔۔۔ شریر سا اس کے آنے سے ان کے سونے سے گھر میں رونق ہو گٸ تھی۔۔۔
میں لوں گا۔۔۔ فکر نا کرو۔۔۔ تم بس جاٶ اور تیاری پکڑو۔۔۔۔۔۔ تارز نے شرارت سے آنکھ دبا کر کہا۔۔۔
ارے کسی اور دن چلتے ہیں نہ حدفہ کی بھی طبیعت ناساز ہے۔۔۔ ندوہ نےبچارا سا منہ بنا کر اگلا بہانہ کیا۔۔۔
تو کچھ نہیں ہم چلتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ پھر بھی باز نہیں آیا تھا۔۔
چلو چلو ۔۔۔۔ بند کرو بس آج اسے۔۔۔۔ تارز نےآگے بڑھ کر اس کی گود میں کھلی کتاب کو بند کیا تھا ۔۔۔
اور وہ قہقہ لگاتی ہوٸ اس کے بازو کھینچنے پر اٹھی تھی۔۔۔
**************
لڑکا بڑا بڑا نہیں لگ رہا اس سے۔۔۔ سنبل نے پاس بیٹھی ندوہ کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
وہ اپنی ایک ہم جماعت کی نسبت کی تقریب پر بناٸ گٸ تصاویر کو دیکھ رہی تھیں جب سنبل نے اسے اپنے خیالات سے آ گاہی دی۔
ہاۓ مجھے تو ایسے بہت پسند ۔۔۔ کوٸ سات آٹھ سال بڑا تو ہو نا چاہیے شوہر کو۔۔۔ مجھے تو بہت پسند ایسی جوڑیاں۔۔ ندوہ چمکتی آنکھوں سے ایک نظر سنبل پر ڈالی اور پھر سے گود میں دھری اس البم پر جس میں اس کی ہم جماعت اپنی عمر سے کافی بڑی عمر کے لڑکے کے پہلو میں بیٹھی مسکرا رہی تھی۔۔۔
ارے کیا آپ آپ کر کے عزت کرتے رہو ۔۔۔ مجھے تو نہیں پسند۔۔۔ سنبل نے ناک چڑھا کر کہا۔۔۔
تم تو پاگل ہو۔۔۔ مجھے تو بچپن سے ایسے ہی اچھا لگتا۔۔۔ اتنے لاڈ کرتے شوہر پھر بیوی کے۔۔۔ ندوہ نے لب کو دانتوں میں دبا کر اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا۔۔۔
وہ میری فری باجی ہیں نے میجر سے شادی ہوٸ ان کی ۔۔۔ اتنے پیارے لگتے دونوں ۔۔۔ اور وہ ایسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتے اپنی بیوی کو اتنے اچھے لگتے مجھے ۔۔۔ ندوہ نے پر جوش انداز میں اپنی ایک خالہ زاد کا بتایا۔۔۔
مجھے پتہ ہے یہ سب تمہیں اس لیے بھی اچھا لگتا ۔۔۔ ھدیل بڑا ہے کافی تم سے۔۔ سبنل نے شرارت سے آنکھ دباتے ہو کہا اور ہلکا سا کندھا اس کے کند ھےپر مارا۔۔
جی ہاں۔۔۔۔ پورے سات سال بڑے ہیں۔۔۔۔ ندوہ نے شرماتے ہوۓ کہا۔۔۔
آنکھوں میں ھدیل کا سراپا گھوم گیا تھا۔۔۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب سی ہوٸ تھی۔۔۔ ھدیل اس کا خالہ زاد تھا ۔۔۔ بچپن سے ہی راحت اسے اپنے اکلوتے بیٹے کےلیے مانگ چکی تھی۔۔ جیسے جیسے ہوش سنبھالا تو اس کو اپنی امی اور خالہ کی باتوں کا اندازہ ہونے لگا۔۔۔ ھدیل کو وہ کسی اور نظر سے دیکھنے لگی ۔۔۔ اور پھر کب یہ سارے احساسات شدید محبت کی شکل اختیار کر گۓ اسے خبر بھی نہ ہوٸ۔۔۔
ارے واہ۔۔۔ سبنل نے شرارت سے اس کے کندھے پر چپت لگاٸ۔۔۔
تمہیں پتہ ہے اتنے ڈیسنٹ ہیں ۔۔۔۔ اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں دباۓ گلابی چہرے کے ساتھ وہ سراپا محبت لگ رہی تھی۔۔۔
ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ اب شروع ہو جاٶ اپنے ھدیل کی تعریفیں۔۔۔۔ سنبل نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
اور پھر واقعی وہ شروع ہو چکی تھی ھدیل کی باتیں کرنا ۔۔۔ ھدیل بہت کم گو اور سنجیدہ تھا۔۔۔ اور ندوہ کو ایسے ہی لڑکے پسند تھے۔۔۔
***************
ارے ارے واہ واہ۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔ تارز نے دھاڑ سے دروازےکے پٹ کو دیوار میں مارتے ہو بڑے تعریفی انداز میں سامنے کھڑی ندوہ کو دیکھ کر کہا۔۔۔
تارز ۔۔۔۔ کتنے بدتمیز ہو تم ۔۔۔ ناک تو کیا کرو دروازہ۔۔۔ ندوہ نے جلدی سے کرسی پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر کندھے پر ڈالہ اور خفگی کےلہجے میں کہا۔۔۔
کہاں کی تیاری ہے۔۔۔ تارز کبھی سامنے بیٹھی حدفہ کی طرف دیکھ رہا تھا اور کبھی سنگہار میز کے سامنے کھڑی ندوہ کی طرف جو خلاف معمول آج نک سک سے تیار ہوٸ تھی۔۔ورنہ تو وہ گھر میں ہمیشہ سادہ سے حلیے میں رہتی تھی پر آج تو رنگ ڈھنگ ہی کچھ اور تھے۔۔۔
اس نے سلیقے سے بال کھول رکھے تھے۔۔ ہلکا سا میک اپ اور کانوں میں چھوٹی چھوٹی جھمکی لٹک رہی تھی۔۔۔ بھرے بھرے خوبصورت ہونٹ بے وجہ مسکرا رہے تھے اور آنکھیں چمک رہی تھیں۔۔۔
وہ راحت خالہ آ رہی ہیں ہے نہ۔۔۔ حدفہ نے شرارت سے پہلے ندوہ کی طرف دیکھا پھر آنکھ دبا کر تارز کی طرف دیکھا ۔
ہاں تو راحت خالہ ہی ہیں اس کو کیا ہو رہا پھر۔۔۔ ایسے کیوں ہو رہی یہ۔۔۔ تارز نے نا سمجھی کے انداز میں کہا اور ہاتھ سے اشارہ ندوہ کی طرف کیا۔۔۔
پاگل ۔۔۔ ساتھ وہ بھی آ رہے۔۔۔ ھدیل بھاٸ۔۔۔ حدفہ نے اس کی نا سمجھی پر قہقہ لگا کر کہا۔۔۔
تارز نے کن اکھیوں سے چونک کر ندوہ کی طرف دیکھا جو شرما کر گلابی ہوۓ جا رہی تھی۔۔۔۔
اوہ اچھا یاد ہے مجھے بچپن میں بھی آیا کرتا تھا نہ وہ موٹا سا۔۔ تارز کو ایک دم سے عجیب جلن کا سا احساس ہوا تھا تھوڑے سے تلخ لہجے میں کہا۔۔۔
نہیں اب موٹے نہیں بلکل بھی وہ۔۔۔ ندوہ نے ماتھے پر بل ڈال کر تھوڑا ڈانٹنے کے سے انداز میں کہا۔۔۔
اس کو کیا ہو رہا۔۔ تارز نے طنز بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ اور ہاتھ سے اشارہ منہ پھلاۓ کھڑی ندوہ کی طرف کیا۔۔۔
کیوں نہ ہو۔۔۔۔ حدفہ نے ہنستے ہوۓ شریر سے لہجے میں کہا ۔۔۔
کیوں ہو۔۔۔ وہی تو پوچھ رہا ہوں ۔۔۔ اسے بے چینی سی ہونے لگی تھی ۔۔تنک کے پوچھا۔۔
ارے تارز بھاٸ خالہ نے بچپن سے ھدیل بھاٸ کے لیے رشتہ مانگا ہوا ہے اس کا۔۔۔ حدفہ نے مصنوعی خفگی کے انداز میں کہا۔۔
جبکہ وہ ایک دم سے اپنے دل میں بڑھتی گھٹن پر پریشان سا ہوا تھا۔۔۔ دل جیسے ڈوب سا گیا ہو۔۔۔ آنکھیں اٹھا کر ایک بھرپور نظر سامنے کھڑی شرماتی لجاتی ندوہ پر ڈالی اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔
کیا ہوا ہے مجھے۔۔۔ وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا بری طرح پریشان ہو رہا تھا۔۔۔
تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا اور سامنے پڑے پلنگ پر ڈھےسا گیا۔۔۔ ۔
بار بار آنکھوں کے آگے ندوہ کا شرماتا چہرہ آ رہا تھا۔۔۔ ندوہ اسے بہت توجہ دیتی تھی ہر بات ہر چیز میں اس کا خیال رکھنے کی عادت تھی اسے ۔۔۔۔
آج شاٸد اس کی توجہ کہیں اور ہوٸ اس لیے مجھے جلن ہو رہی شاٸد ۔۔ وہ اپنے دل کی حالت کا جواز خود ہی تلاش کرنے میں مصروف تھا جب حدفہ اوپر آٸ تھی اور اس کی خالہ راحت کے آنے کے بارے میں بتایا۔۔۔ وہ اپنے ہوش سنبھالنے تک سنتا آیا تھا کہ سلمی ممانی کی بہن راحت ہے جو کہ انگلینڈ میں مقیم ہے۔۔۔۔ بچپن میں ایک دو دفعہ کسی تقریب میں وہ ھدیل کو دیکھ بھی چکا تھا۔۔۔ وہ ایک عام سی شکل و صورت رکھنے والا سنجیدہ اور کم گو سا بچہ ہوا کرتا تھا اس سے تو وہ کافی بڑا تھا اس لیے اتنی کوٸ بات چیت نہیں تھی ہاں البتہ حبان کے ساتھ کافی دوستی تھی اس کی۔۔۔
اس نے حدفہ کو توسر ہلا کر نیچے بھیج دیا تھا۔۔۔ لیکن وہ خود نہیں گیا تھا اور نہ ہی اس کا دل تھا جانے میں وہ یوں ہی چھت کو گھورتا رہا۔۔۔
***************
3
ماشاللہ میتھ میں ایم ایسی ۔۔۔ مشکل تو ہوتی ہو گی میری گڑیا کو۔۔۔سلمی نے پیار سے ساتھ بیٹھی ندوہ کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کہا۔۔
ندوہ ان کی اس محبت سے سر شار ہو گٸ تھی ۔۔۔ سامنے بیٹھے وجود نے دل کی بستی کو الٹ پلٹ کر رکھا تھا ۔۔آ نکھیں اتنی بھاری ہو رہی تھیں کہ اٹھاۓ نہیں اٹھ رہی تھیں۔۔
نہیں خالہ شروع سے اچھا ہے میرا میتھ ۔۔۔ مشکل نہیں ہوتی۔۔۔ ندوہ نے دھیرے سے مسکرا کر کہا۔ تھا۔۔۔
کون سا سمسٹر ہے۔۔۔ ھدیل نے گلے کو کھنکارتے ہوۓ پہلی دفعہ گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا ۔۔۔
ھدیل کی بھاری آواز نے ندوہ کے کانوں میں رس گھول دیا تھا۔۔۔ وہ کہاں ھدیل سے کبھی بات کر تی تھی۔۔۔ اور اسے وہ ایسا ہی اچھا لگتا تھا ۔۔۔ کم گو سا کھڑوس سا۔۔۔ سنجیدہ سا ۔۔۔ اسے ایسے لڑکوں کی شخصیت بہت متاثر کرتی تھی۔۔۔ اور وہ خود کو بہت خوش نصیب تصور کر رہی تھی کہ اس کی جس سی شادی ہونے جا رہی تھی وہ اس کے دل میں بسنے والے سانچے کے عین مطابق تھا۔۔۔۔
پہلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے گھٹی سی آواز میں بمشکل ھدیل کے سوال کا جواب دیا تھا۔۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔م۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھدیل نے بھاری سی آواز میں بس اتنا کہنا ہی مناسب سمجھا۔۔۔
وہ بار بار اپنے موباٸل پر کچھ کر رہا تھا ۔۔۔
ھدیل بیٹا کچھ بھی تو نہیں لے رہے تم ۔۔۔ سلمی نے پیار سے پاس بیٹھے ھدیل کی پشت پر ہاتھ ٹکا کر کہا۔۔۔
خالہ۔۔۔۔ شکریہ۔۔۔ اتنا کچھ تو کھا گیا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔ ھدیل نے مسکراتے ہوۓ کہا
اچھا مما آپ اگر رات رک رہی ہیں یہاں تو ٹھیک ہے میں چلتا ہوں پھر۔۔۔ ھدیل ایک دم جانے کے لیے کھڑا ہوتے ہوۓ راحت سے کہہ رہا تھا۔۔۔
ندوہ کا دل ڈوب گیا تھا۔۔۔ یہ وہ پہلا لمحہ تھا جب اس نے نظریں اٹھا کر ھدیل کے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
دل کی دھڑکنیں بے ترتیب سی ہو گٸ تھیں۔۔۔ ھدیل کے سنجیدہ سے چہرے پر اب ایک عدد چشمہ ٹکا ہوا تھا۔۔جو اس کے رعب دار چہرے پر جچ رہا تھا۔۔۔۔ ندوہ نے ایک نظر میں اس کے چہرے کو دل میں سمویا اور فورا نظریں نیچے کر لی تھیں۔۔۔
ارے ۔۔۔۔۔ارے۔۔۔۔بیٹا ایسے کیسے ۔۔۔ تم بھی رکو ۔۔۔ گے ۔۔ تمھارے خالو بس آنے والے ہیں ۔۔ سلمی بھی فورا ھدیل کے ساتھ ہی کھڑی ہو گٸ تھیں اور خفگی کےسے انداز میں ھدیل سے گویا ہوٸیں۔۔۔
خالہ بہت معزرت مجھے تھوڑا کام ہے۔۔۔ میں خالو سے پرسوں ملنے آ جاٶں گا جب مما کو لینے آٶں گا۔۔۔ وہی ٹھہرا سا مہزب لہجہ۔۔۔ ھدیل نے سلمی کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا۔۔
سلمی سہی کہہ رہا ۔۔۔ ہم لوگوں کی واپسی سے پہلے پہلے بہت سے کام ہیں میں نے ہی کہا ہے جلدی جلدی کر لے۔۔۔ راحت نے محبت بھرے لہجے میں مسکراتے ہوۓ کہا۔۔
ھدیل خدا حافظ کہتا ہوا جلدی سے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔اور ندوہ بس اس کی پشت کو دیکھتی رہ گٸ تھی۔۔۔
راحت اس کو ایسے دیکھ کر محبت سے مسکرا دی تھی۔۔۔
جلدی سے پڑھاٸ پوری کرو پھر تمہیں لے جاٶں میں یہاں سے۔۔۔۔راحت نے شرارت سے اس کی تھوڈی سے اس کے چہرے کو اوپر اٹھاتے ہوۓ کہا۔۔۔
نروہ شرم سے پانی پانی ہو گٸ تھی۔۔۔۔تو کیا خالہ نے اسے دیکھ لیا تھا جس طرح وہ ھدیل کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ افف گال گرم ہو گۓ تھے اور یہاں بیٹھنا محال ہو گیا تھا۔۔۔ وہ تیزی سے وہاں سے اٹھی تھی اور کمرے سے باہر نکل گٸ تھی۔۔۔
بہت پیاری ہے ماشااللہ۔۔۔۔ راحت دور تک برامدے میں اسے جاتا ہو دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
********************
تارز دروازہ تو ناک کیا کرو۔۔ ندوہ نے ماتھے پر بل ڈالے وہ ابھی نہا کر باہر نکلی تھی۔۔۔ گیلے بال ٹاول سے خشک کر رہی تھی وہ لاپرواہی کے انداز میں بنا دوپٹہ لیے کھڑی تھی۔۔۔
جو بھی تھا اب تارز تھوڑا بڑا ہو گیا تھا۔ وہ دونوں بہنیں اور سلمی گھر میں اکیلی ہوتی تھیں اکثر ۔۔ اس کو عادت تھی بنا دوپٹے کے گھومنے کی لیکن اب جب سے تارز آیا تھا اسے دوپٹہ ہر وقت لینا پڑتا تھا۔۔ بس ایک کمرہ تھا جہاں وہ آرام سے دوپٹہ اتار دیا کرتی تھی۔۔۔اب تارز بلکل بچوں کی طرح جہاں چاہتا تھا وہاں آ دھمکتا تھا۔۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔ بڑے لاپرواہ انداز میں تارز نے کہا اور پھر ندوہ پر ایک نظر ڈالی جو وہیں کہیں اٹک گٸ تھی۔۔۔
وہ گیلے بالوں اور دھلے ہوۓ شفاف چہرے کے ساتھ اس کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔ وہ بے اختیار اسے دیکھے ہی جا رہا تھا۔۔۔ دماغ مفلوج ہو چکا تھا سارے اختیارات دل نے سنبھال لیے تھے۔۔
کچھ نہیں ہوا۔۔۔ بولو کیا کام ہے۔۔۔ ندوہ نے ٹاول کو ہی کندھے پر گرا کر اس سے پوچھا تھا۔۔
تم پڑھا نہیں رہی اتنے دن سے۔۔۔ وہ ایک دم سے جیسے ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا تھا۔۔۔
تین دن سے راحت کے آنے کی وجہ سے وہ اتنی مصروف تھی کےشام کو اس کو پڑھانا اسے کہاں یاد رہتا تھا۔۔۔۔ دراصل دل ہی نہیں کرتا تھا آج کل کسی بھی اور کام کو بس ھدیل کے بارے میں سوچے جانا خالہ کے پاس بیٹھ کر اس کے بارے میں باتیں سنتے رہنا یہ سب میں کہاں تارز کا ہوش رہتا تھا اسے۔۔۔
اور تارز کو بری طرح اس کی یہ لا پرواہی کھل رہی تھی۔۔۔ اس سے ندوہ کی یہ بے پرواہی یہ بے رخی برداشت نہیں ہوتی تھی اب ۔۔۔پورے سات ماہ ہونے کو آۓ تھے اور ان سات ماہ میں سے پہلی دفعہ ایسا تھا کہ ندوہ اس سے یوں لا پرواہی برت رہی تھی۔۔۔
اوہ ہاں۔۔۔ وہ طبیعت کچھ نا ساز تھی اس وجہ سے ۔۔۔ ندوہ نے نظریں چرا کر جھوٹ بولا ۔۔۔ اور پھر محبت بھری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر خفا سے کھڑے تارز کو دیکھا۔۔۔
کیا ہوا طبیعت کو۔۔۔ تارز نے پریشان سے لہجے میں کہا۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔چلو میں آتی ہوں پڑھتے ہیں پھر۔۔۔۔ ندوہ نے خجل ہوتے ہوۓ اپنے جھوٹ کو اور شرمندگی کو چھپایا تھا۔۔۔۔
اپنی خود غرضی میں وہ تارز کو بھول ہی گٸ تھی۔۔۔ کتنی غلط بات تھی۔۔۔۔ اسے افسوس ہو ا کہ اتنے دن سے وہ تارز کو پڑھا نہیں رہی تھی۔۔۔
تارز خاموشی سے سر ہلاتا ہوا باہر نکلا تھا۔۔۔
اور وہ ٹاول ہاتھ میں پکڑے شرمندہ سےانداز میں کھڑی تھی۔۔۔
*************
آج پھر ویسا ہی ٹیسٹ۔۔۔ ندوہ نے ٹیسٹ پر غصے سے سامنے پڑی میز پر مارا تھا۔۔۔اور سختی سے سامنے گم سم سے بیٹھے تارز سے کہا۔۔۔
تارز کیا مسٸلہ ہے تمھارے ساتھ کتنے دن سے میں دیکھ رہی ہوں تم کوٸ بھی ٹیسٹ ڈھنگ سے نہیں دے رہے ہو۔ ۔۔۔ تارز کے کچھ بھی جواب نا دینے سے وہ اور چڑ گٸ تھی۔۔۔ ڈانٹنے کے سے انداز میں تارز کو کہا۔۔۔
تارز ویسے ہی پریشان حال سر نیچے کیے بیٹھا تھا۔۔۔۔کو ٸ بھی جواب نہیں دے رہا تھا۔۔۔ اس کے پارٹ ون کے پیپر سر پر تھے اور ندوہ آجکل اس پر بھرپور توجہ دے رہی تھی ۔۔۔ اس کی اپنی یونیورسٹی کے بھی بہت مشکل دن چل رہے تھے ۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ تارز کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتتی تھی۔۔۔ اور وہ تھا کہ اب جب پپر نزدیک تھے بلکل ہی اسے مایوس کر رہا تھا۔۔۔ جبکہ وہ اچھا خاصہ ذہین تھا ۔۔۔۔
بولو تو ۔۔۔ کچھ ۔۔۔ کوٸ پریشانی ہے کیا۔۔۔ ندوہ نے دھیرے سے اپنا ھاتھ کرسی کے بازو پر پڑی اس کی بازو پر رکھا تھا اور محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
تارز نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ وہ اب کیا بتاتا اسے کہ وہ کتنی مشکل میں ہے۔۔۔ وہ دل اور دماغ کی جنگ میں بری طرح پھنسا ہوا تھا۔۔۔ کب کیسے وہ ندوہ کے بارے میں اس طرح سوچنے لگا تھا جیسا وہ خود کبھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ اس کے دل میں دھڑکن بن کر دھڑکنے لگی تھی۔۔۔ دماغ نہیں نہیں کرتا ہی رہ جاتا تھا لیکن دل مانتا ہی نا تھا۔۔۔ وہ جب بھی پڑھنے بیٹھتا تھا وہ ہنستی ہوٸ بولتی ہوٸ اس کو نظر آنے لگتی تھی۔۔۔ کبھی اس کے خوبصورت ہاتھ۔۔۔ کبھی چہرے پر گرے اٹھکلیاں کرتے ہوۓ اس کے بال کبھی جھکی ہوٸ پلکیں تو کبھی دمکتی سی گردن اور کبھی خوبصورت لب ۔۔۔ اور کبھی لبوں کی اوٹ سے نظر آتے موتیوں جیسے دانت۔۔۔۔ اس کا ذہن قید میں تھا۔۔۔ دل بادشاہ بن گیا تھا اور دماغ لو زندان میں ڈالنے کا حکم صادر کر چکا تھا۔۔۔
پھوپھا کی کال آٸ تھی کیا ۔۔۔ ندوہ اب اس کی حالت پر بری طرح پریشان ہو چکی تھی۔۔۔
ابا سے بات کروں کالج میں ہے کیا کوٸ مسٸلہ۔۔۔۔ وہ اس کے کچھ بھی نہ بولنے کی وجہ سے خود ہی جواز پر جواز تلاش کر رہی تھی۔۔۔
نہیں ۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ گھٹی سی آواز میں تارز نے کہا تھا۔۔۔
کیونکہ وہ جانتا تھا دل جو بھی کر رہا ہے وہ سراسر بیو قوف کی سوا اور کچھ بھی نہیں ۔۔۔ لیکن وہ بے بس تھا ۔۔۔
پھر یہ ۔۔۔ یہ۔۔۔ کیا ہے۔۔۔ دیکھو تو۔۔۔۔ ندوہ نے ٹیسٹ پیپر اس کی آنکھوں ک آگے کیا تھا جس میں سارے سوالات پر کراس لگا ہوا تھا۔۔۔۔
پڑھنے کو دل نہیں چاہتا میرا میں کیا کروں ۔۔۔ تارز نے گھٹی سی آواز میں کہا اور ندوہ سے نظریں چراٸ تھیں۔۔۔
بکواس نہ کرو تم اب پیپر اتنے نزدیک ہیں تمھارے پارٹ ون کے۔۔۔ اور تم مجھے یہ کہہ رہے۔۔۔ پھپھو کے سامنے میں بھی شرمندہ ہو جاٶں گی۔۔۔ میں کرتی ہوں ان کو آج ہی کال۔۔۔ ندوہ کو اس کی بے تکی بات پر غصہ آ گیا تھا وہ تنک کر گویا ہوٸ تھی۔۔۔
کر دو میں کون سا ان سے ڈرتا ہوں۔۔۔ ہنوز وہی کھویا کھویا سا لہجہ تھا تارز کا۔۔۔ وہ بے حال بیٹھا تھا۔۔ بکھرے سے بال ملگجی سی شرٹ ۔۔۔ بازو کے کف فولڈ کیے ہوۓ سامنے کے بٹن کھلے ہوۓ۔۔۔
اچھا۔۔۔ ڈرتے تو تم کسی سے بھی نہیں۔۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔ جانتی تھی وہ بچپن سے ہی تھوڑا الگ سا تھا سب میں سے ضدی ڈھیٹ ۔۔۔ اور کسی کی بھی نہ سننے والا
نہیں اب ڈرنے لگا ہوں کسی چیز سے۔۔۔ بہت ڈوبی ہوٸ آواز تھی ایسے جیسے کسی کھاٸ سے آٸ ہو۔۔۔
ہاں وہ ڈرنے لگا تھا ۔۔۔ ندوہ کو کھونے سے اس کی محبت میں پاگل ہونے سے۔۔۔ اس کے انکار سے۔۔
کیا ہوا۔۔۔ کوٸ پریشانی ہے کیا۔۔۔ ندوہ کو اس کی حالت پر پھر سے ترس آ چکا تھا۔۔۔۔ لہجے میں پھر سے محبت بھر کر اس نے پریشان سے انداز میں تارز سے پوچھا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھا تھا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔
*********-************
تارز۔۔۔۔ یہ ۔۔۔یہ ۔۔۔ کیا ہے یہ۔۔۔ ندوہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ابھی ابھی پھینکی گٸ سگریٹ کی طرف دیکھا۔۔۔
تارز کافی دن سے پڑھنے کے لیے نہیں آ رہا تھا۔۔ زیادہ وقت باہر گزارتا یا پھر اوپر اپنے کمرے میں ۔۔۔ وہ آج بھی بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی کہ وہ آۓ گا پڑھنے پر وہ نہیں آیا تھا ۔۔۔ اب پریشان ہو کر وہ آج اوپر اس کے کمرے میں آٸ تھی تو وہ ٹیرس میں کھڑا سگریٹ پھونک رہا تھا اور اس کو دیکھتے ہی اس کو پھینک چکا تھا۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔ خجل سا ہو کر تارز نے گردن کے پیچھے ہاتھ پھیرا۔۔۔
۔۔ تم ۔۔۔۔ تم ۔۔۔ سگریٹ پی رہے تھے۔۔۔۔ غصے سے اونچی آواز میں ندوہ نے اسے ڈانٹا تھا۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ سگریٹ ہی تھی کوٸ شراب تھوڑی نہ تھی جو ایسے کر رہی ہو۔۔۔ وہ پہلے تھوڑا سا شرمندہ ہوا لیکن پھر ایک دم سے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔۔۔۔
بکواس مت کرو ۔۔۔ خبردار جو دوبارہ کبھی میں نے دیکھی جو تمھارے ہاتھ میں ۔۔۔ میں ابا کو اور دادا جی کو بتا دوں گی۔۔۔ندوہ اس کو ڈانٹتے ہوۓ بلکل اس کے سامنے اس کے قریب آ گٸ تھی ۔۔۔
پڑھنے کیوں نہیں آ رہے کچھ دن سے ۔۔۔ سخت لہجے میں پوچھا۔۔۔
ویسے ہی۔۔۔ تارز نے اس سے نظریں چرا گیا تھا ۔۔۔
پاگل ہو کیا ۔۔ ابھی دو پورے چیپٹر پڑے جن کو ریواٸز کرنا تمہیں ۔۔ ندوہ نے ہاتھ سے اس کے چہرے کا رخ اپنی طرف کر کے سختی سے کہا۔۔
ایک دم سے وہ ساکت سی ہوٸ تھی تارز کی آنکھیں بھیگی ہوٸ تھیں۔۔۔
کیا ہے تارز تم کچھ بتا تے بھی تو نہیں۔۔۔ بتاٶ نہ مجھے دوست کہتے ہو نہ۔۔۔ تمہیں میری قسم بتاٶ ۔۔۔ ندوہ اس کی اس حالت پر تڑپ گٸ تھی۔۔۔ وہ بچپن سے اس سے محبت کرتی تھی ہمیشہ چھوٹے بھاٸ کی طرح اسے چاہا تھا اس نے۔۔۔
تارز ایک دم سے اس کے گلے لگا تھا۔۔۔ وہ لڑکھڑا سی گٸ تھی ۔۔ تارز کے مضبوط بازو اسے جکڑ چکے تھے۔۔۔ وہ دھیرے سے کانپ رہا تھا۔۔۔ ندوہ سکتے کی سی حالت میں ناسمجھی کے انداز میں کھڑی تھی۔۔۔
اس کو کیا ہوا ہے ۔۔۔ کوٸ بہت بڑا مسٸلہ ہے لازمی۔۔۔ ندوہ انہی سوچوں میں گم کھڑی تھی جب تارز کے لب اسے اپنی گردن پر محسوس ہوۓ تھے۔۔۔ ایک عجیب سے احساس نے جیسے اس کے رونگٹے کھڑے کیے تھے ایک جھٹکے سے اس نے تارز کو خود سے الگ کیا تھا۔۔۔
تارز ۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔ یہ۔۔۔ کیا کر رہے ۔۔۔ وہ ایک دم خوف سے ناسمجھی کے انداز میں بولی تھی۔۔ اور پھٹی پھٹی نظروں سے سر جھکاۓ کھڑے تارز کو دیکھا۔۔۔
یہ ہی ہے وجہ۔۔۔ وہ تڑپنے کے سے انداز میں بولا تھا۔۔۔
کہ۔۔۔۔ کہ۔۔۔کیا مطلب تمھارا۔۔۔ ندوہ نے خوف سے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
سچ کہہ رہا ہوں ۔۔ مجھے تم سے محبت ہو گٸ ہے۔۔۔ تارز نےآگے بڑھ کر ندوہ کے دونوں بازو تھام کر کہا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: