Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 4

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 4

–**–**–

پاگل ہو تم ۔۔۔ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔ندوہ نے جھٹکے سے اپنے بازو چھڑواۓ تھے اور بے یقینی سے تارز کی طرف دیکھتی ہوٸ پیچھے ہوٸ تھی۔۔۔۔
یہ بکواس نہیں ہے حقیقت ہے۔۔۔ تارز نے سر جھکا کر مدھم سے ٹوٹے ہوۓ لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔
اچانک کمرے میں چلتے ہوۓ چھت کے پنکھے کی آواز کانوں میں زور زور سے لگنے لگی تھی۔۔۔۔خاموشی کو چیرتی ہوٸ
ندوہ کو اپنے کانوں اور آنکھوں پر یقین نہیں تھا۔۔۔ وہ جو کہہ رہا تھا اس کے وہم و گمان میں بھی ایسی بات کبھی نہیں آٸ تھی۔۔۔اسے تارز کی ذہنی حالت پر شک ہو رہا تھا ۔۔۔ یا پھر ۔۔ یا پھر ہو سکتا ہے۔۔۔ وہ مذاق کر رہا ہو ۔۔۔ وہ ایسا ہی تو تھا شرارتی مذاق کرنے ولا ۔۔۔
تم ۔۔۔۔ تم۔۔۔ مزاق کر رہے ہو میرے ساتھ۔۔۔ ندوہ نے ڈولتی سی آواز میں انگلی کا اشارہ اس کی طرف کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
لیکن اس کی حالت صاف صاف اس کے اندر کے حال کی گواہ تھی وہ ٹوٹا ہوا تھا بکھرا ہوا تھا۔۔۔ سر نیچے جھکا کر کسی مجرم کی طرح کھڑا تھا۔۔۔
آہستہ سے تارز نے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔۔۔ اس کی آنکھوں میں پانی تھا۔۔۔ چہرے پر رت جگے اور دل و دماغ کی جنگ کے آثار تھے۔۔۔
نہیں ۔۔۔ مزاق میں کوٸ کسی کو ایسے چھوتا ہےکیا۔۔ بہت ہی مدھم سرگوشی تھی لیکن لہجہ اس کے جزبات کی عکاسی کر رہا تھا۔۔۔
ایک دم سے ندوہ کو اپنی گردن پر پھر سے اس کے لبوں کی وہ جسارت محسوس ہوٸ تھی اس کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے تھے۔۔۔ وہ سچ کہہ رہا تھا۔۔۔ اس طرح سے کون کس کو چھوتا ہے۔۔۔
اوہ میرے خدایا اس کا دل ڈوب گیا تھا۔۔۔
تم ۔۔۔ پاگل ہو گۓ ہو۔۔۔۔ندوہ کی آنکھیں حیرانگی سے پھٹنے کو تھیں۔۔۔ وہ قدم قدم پیچھے جا رہی تھی ۔۔۔ دماغ ساٸیں ساٸیں کرنے لگا تھا ۔۔۔ اسے ایک دم سے سامنے کھڑے اپنے اس سب سے پیارے کزن سے گھن آنے لگی تھی۔۔۔ اس کے رشتے کے اتنے کزنز میں سے ایک واحد وہ تھا جس کے وہ اتنی قریب تھی ۔۔۔ اور جس کو اس نے اپنے اتنا قریب آنے دیا تھا۔ ۔۔۔ لیکن اس کا صلہ آج اسے یہ مل رہا تھا۔۔۔
آج کے بعد مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔۔ ندوہ چیخنے کے سے انداز میں غصے سے کہتی ہوٸ نیچے کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
اور تارز یونہی ساکت کھڑا تھا۔۔۔۔ نظریں تیزی سے بھاگ کر جاتی ہوٸ ندوہ کی پشت پر ٹکی تھیں۔۔۔۔
******************
‏سب ـــــــــــــــــــ خاک تھا!
‏اِک ‘ع’ تھی پھر ‘ش’ تھا،
‏کچھ آگ تھی کچھ راکھ تھی
‏اِک دشت تھا اک بحر تھا،
‏صحرا بھی تھا اور پیاس تھی
‏پھر اِک خلا ۔۔۔۔۔ بے انت سا !
‏اک بند گلی سا راستہ، ویرانیاں، تنہائیاں!
‏پھر ‘ق’ تھا!
‏پھر سارا منظر راکھ تھا
‏سب خاک تھا !
سگریٹ سلگ رہی تھی۔۔۔ اور بار بار ہاتھ اس کو لبوں تک لاتے اور پھر دھواں ہوا میں گھل جاتا۔۔۔
میں نے کیا کیا۔۔۔ درست یا غلط ۔۔۔ دل کو کیا ہوا۔۔۔ اتنے ماہ کی جنگ میں وہ خود کو یہی سمجھاتا رہا تھا کہ وہ ندوہ کو کبھی یہ پتہ نہیں چلنے دے گا کہ وہ اس سے محبت کرنے لگا ہے۔۔ لیکن آج وہ وہ جو کر بیٹھا تھا اس کے اختیار میں کہاں تھا بس ہو گیا تھا۔۔۔ اور اب ۔۔۔۔ پچھتاوا۔۔۔ وہ اس سے اور دور ہو گٸ تھی ۔۔۔ اس سے نفرت کرنے لگے گی ۔۔۔۔
کیا کروں۔۔۔۔ دل تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔ مجھے کچھ بھی نہیں کرنا ہاں اظہار کر دیا بس ۔۔۔ بس۔۔۔۔ بس۔۔۔ اب اور آگے کچھ بھی نہیں۔۔۔
وہ خود کو سرزنش کر رہا تھا۔۔۔ دماغ دل کو جھنجوڑ رہا تھا۔۔۔
دل میں ایک ٹیس سی اٹھ رہی تھی۔۔۔
کتنا عجیب سا احساس تھا اس کو چھونے کا۔۔۔ جیسے جیسے ایک مردہ جسم میں کوٸ روح پھونک دے ۔۔۔ جیسے جیسے۔۔۔ ایک ساکت سے پل میں شور و غل کی لہر دوڑ جاۓ۔۔۔ جیسے ایک ارتھ۔۔۔ جو ریڑھی کی ھڈی میں سے ہوتا ہوا دل کی دھڑکن کو تیز کر دے۔۔۔ وہ لمحہ بے خودی کا تھا۔۔۔ وہ بے اختیار وہ جسارت کر بیٹھا تھا۔۔۔ جو اب ایک پل کو چین نہیں آنے دی رہی تھی۔۔۔ بازو۔۔۔۔ لب۔۔۔۔ دل۔۔۔۔ وجود کا رٶواں روٶاں اس کے لمس کے جادو میں جکڑا جا چکا تھا۔۔۔ وہ جو پیچھے قدم کھسکا رہا تھا۔۔۔ قدم خود بہ خود آگے کی طرف جا رہے تھے۔۔۔
وہ ہار گیا تھا۔۔۔ بری طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
***************
کمرے سے باہر جاٶ۔۔۔ ندوہ ایک دم سے سامنے رکھے نوٹس گرا کر سٹپٹا کر اٹھتے ہوۓ سختی سے بولی تھی۔۔۔
تارز اس کے سامنے اس کے کمرے میں کھڑا تھا۔۔۔
بہت دن تو یونہی گزر گۓ تھے خاموشی میں تارز کے پیپر تھے وہ سارا سارا دن اوپر رہتا۔۔۔ حدفہ اس کا کھانا بھی اوپر دے آتی تھی۔۔۔ اس سے تارز کا سامنا نہ ہونے کے برابر تھا۔۔ اس کے بھی پیپرز تھے بمشکل ہر بات کو ذہن سے جھٹک کر وہ پڑھتی رہتی تھی ۔۔۔ آج تارز کے پیپرز ختم ہوۓ تھے اور وہ آج اس کے سامنے کھڑا تھا
مجھے معاف کردو۔۔۔ مدھم سی آواز میں کہا تھا ۔۔۔لہجہ شرمندہ سا تھا۔۔۔
دوپہر کا وقت تھا سلمی اپنے کمرے میں سو رہی تھی اور حدفہ ابھی سکول سے نہیں لوٹی تھی۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھی اپنے نوٹس کے ڈھیر میں ڈوبی پڑھنے میں مصروف تھی جب وہ یہاں آ دھمکا تھا۔۔۔
تارز تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ۔۔۔ تمہیں پتہ بھی ہے میں کیسا سوچتی تمھارے لیے۔۔۔ میں نے تمہیں ہمیشہ چھوٹا بھاٸ ۔۔۔ اس کی معافی مانگنے پر ندوہ کو تھوڑا حوصلہ ہو ا تھا اور وہ اسے سمجھانے کے سے انداز میں کہہ رہی تھی۔۔
ندوہ کے بھاٸ کہنے پر ایک دم سے جیسے عجیب سا احساس ہوا تھا وہ جو اس سے معافی مانگ کر سب کچھ ختم کرنے کو آیا تھا بھک سے سارا لحاظ ہوا ہو گیا تھا۔۔۔
سمجھا نہ ۔۔۔ ہوں تو نہیں۔۔۔ ڈھیٹ سے انداز میں اس نے کہا تھا۔۔۔
چپ کر جاٶ۔۔۔ ابھی کے ابھی… اب کبھی اس بات کا ذکر بھی مت کرنا ۔۔۔ تمہیں پتا ہے میں ھدیل سے محبت کرتی۔۔۔ ندوہ کو اس کے انداز اور اس کی بات پر پھر سے غصہ آ گیا تھا۔۔۔ سختی سے دانت پیستے ہوۓ اس نے کہا تھا۔۔۔
لیکن اس کی بات ابھی پوری بھی نہ ہوٸ تھی جب تارز پھر سے مخصوص انداز میں بول پڑا تھا۔۔۔
ہنہ۔۔۔ ھدیل ۔۔۔ جو دس سال بعد ایک دن کے لیے آیا۔۔۔ جس سے کبھی بات تک نہیں ہوٸ تمھاری جسے تم جانتی تک نہیں۔ ۔۔۔ اس سے محبت ہے تمہیں۔۔۔ تارز کے لہجے میں طنز خود بہ خود جھلکنے لگا تھا۔۔۔
تمہیں اس سے مطلب۔۔۔ ندوہ نے تنک کر کہا اور غصے سے بھری نظر اس پر ڈالی تھی ۔۔۔
تم آل ریڈی ۔۔۔ میری نظروں سے گر چکے ہو ۔۔ پلیز ۔۔۔ جاٶ یہاں سے۔۔۔ نفرت بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ ندوہ نے منہ پھیر لیا تھا۔۔۔۔
نہیں جاٶں گا۔۔۔ تارز نے ڈھیٹ لہجے میں کہا تھا۔۔۔
تم ھدیل کو چھوڑ دو۔۔۔ وہ تم سے محبت نہیں کرتا میں کرتا ہوں۔۔۔ بڑے آرام سے کہتا ہوا وہ پھر سے ندوہ کے آگے آ چکا تھا۔۔۔۔
میں تم سے اتنی بڑی ہوں ۔۔۔ تمہیں احترام نہیں ہمارے رشتے کا۔۔۔ندوہ کو اس کا اس طرح بے باکی سے اس کے سامنے آ کر کھڑے ہو جانا بہت برا لگا تھا۔۔۔سختی سے دانت پیستے ہوۓ طنز بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
کتنی بڑی ہو۔۔۔ تارز نے اپنے مخصوص انداز میں قہقہ لگایا اور اس کے بلکل ساتھ کھڑا ہوا ۔۔۔
ندوہ کا سر اس کے سینے کے پاس آ رہا تھا اور اس کا نازک سا سراپا کہیں سے اس کے مضبوط جسم کے آگے اسے اس سے بڑا نہیں دکھا رہا تھا۔۔۔
قد اور جسامت کی بات نہیں کر رہی میں ۔۔۔ عمر کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ ندوہ ایک دم سے ماتھے پر بل ڈالتی ہوٸ ایک طرف ہوٸ اور سخت لہجہ اپنایا تھا۔۔۔
اوہ۔۔۔ تو کتنی بڑی ہو تم۔۔۔ دس ۔۔۔ بیس۔۔۔ تارز نے لاپرواہی کے سے انداز میں انگشت انگلی کو ہونٹوں پر رکھتے ہوۓ مذاق اڑانے کے انداز میں کہا۔۔۔
ڈھاٸ ۔۔ ڈھاٸ سال ۔۔ ندوہ نے دانت پیس کر اسے گھورتے ہوۓ کہا۔۔۔
صرف۔۔۔ تارز نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔
ندوہ جو تن بدن میں جیسے آگ لگی تھی۔۔۔ اسے تارز زہر لگ رہا تھا۔۔۔۔
اب تم بدتمیزی کر رہے ہو۔۔۔ ندوہ نے غصے سے بھاری آواز میں کہا۔۔۔اور انگلی کھڑی کرتے ہوۓ اسے خبردار کیا۔۔۔
نہیں تو صرف پیار کرتا ہوں۔۔ بڑے آرام سے اس کی انگلی کو وہ ہاتھ میں لے چکا تھا۔۔۔ لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی۔۔۔
بھاڑ میں جاۓ تمھارا پیار۔۔۔ ندوہ نے غصے سے کہا اور بری طرح اپنی انگلی اس سے چھڑوانے کی کوشش کی۔۔۔
لیکن وہ ناکام تھی۔۔۔ تارز ساکت کھڑا تھا اور انگلی پر گرفت اتنی مضبوط تھی کہ ندوہ اس کو چھڑوانے کے چکر میں تڑپ گٸ تھی۔۔۔
اور وہ تو جیسے اس کی اس حالت سے محزوز ہو رہا تھا۔۔۔ مسکراہٹ دباۓ کھڑا تھا ہنوز ویسے ہی۔۔۔۔
یہ بڑی ہو تم مجھ سے ۔۔۔ ایک دم جھٹکے سے ندوہ کی انگلی کو چھوڑ کر اس نے اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔
اور پھر سارے معافی مانگنے کے ارادے ترک کرتا ہوا وہ ایک نۓ عزم سے مسکراتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔۔
وہ تھا تارز ابتہاج ۔۔۔ جس نے جان بوجھ کر میڈیکل کے پیپر برے دۓ کیونکہ وہ ڈاکٹر بننا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ بچپن سے ہی ایسا تھا ہر کام اپنی مرضی سے کرتا تھا۔۔۔ اور جو سیدھے طریقے سا حاصل نہ ہو اس کو پھر اپنے انداز میں حاصل کرتا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔
************
امی آپ کا فون کہاں ہے۔۔۔ ندوہ نے کمرے میں ارد گرد نظر دوڑاتے ہوۓ سلمی سے کہا۔۔۔
تارز کی باتوں اس کے انداز اور لہجے نے اسے اندر تک ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔ وہ عجیب کشمکش کا شکار ہو گٸ تھی تارز کی باتوں سے کیا وہ واقعی ہی وہ ھدیل کو نہیں جانتی تھی۔۔۔ ہاں وہ ٹھیک کہہ رہا تھا اس نے کبھی ھدیل سے بات نہیں کی تھی۔۔۔لیکن آج اس کی باتوں نے عجیب سا احساس دلایا تھا ۔۔۔ وہ ھدیل سے رابطہ کرنا چاہتی تھی اس سے بات کرنا چاہتی تھی آج سے پہلے تک تو کبھی اس نے یوں نہیں سوچا تھا کہ وہ ھدیل سے شادی سے پہلے بات کرے گی لیکن اب دل چاہ رہا تھا وہ اس سے بات کرے ھدیل سے اپنے لیے اظہار محبت سنے۔۔۔
4
یہ پڑا ہے۔۔۔ سلمی نے چشمہ تھوڑا نیچے کرتے ہوۓ اسے کہا تھا۔۔۔
دیں مجھے… ذرا۔۔۔ گھٹی سی آواز میں ندوہ نےبکہا اور ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔
سلمی کے ہاتھ سے موباٸل لیتے ہی وہ تیزی سے کال لسٹ میں سے ھدیل کا نمبر نکال رہی تھی۔۔۔
کیا ہوا پریشان سی لگ رہی ہو۔۔۔ سلمی نے اس کے چہرے کا جاٸزہ لیتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
نہیں ہوں پریشان ۔۔۔ مصروف سے انداز میں کہا اور ھدیل کا نمبر اپنے فون میں نوٹ کیا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔ یہ تازر کہاں ہوتا آجکل سارا سارا دن نظر ہی نہیں آتا۔۔۔۔ سلمی پھر سے تجسس کے سے انداز میں گویا ہوٸ تھیں۔۔۔
مجھے نہیں پتہ امی۔۔۔ اور یہ لیں ۔۔۔ ندوہ نے کھوۓ کھوۓ سے لہجے میں کہا اور فون سلمی کے ہاتھ میں تھاماتی وہ باہر نکل آٸ تھی۔۔۔
**************
ندوہ ۔۔۔ کیا بات ہوٸ ہے تم دونوں میں۔۔۔ حدفہ نے تجسس کے انداز میں ندوہ کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا اور دودھ کا گلاس اس کے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔
ندوہ جو فون کی سکرین پر نظریں جماۓ بیٹھی تھی ایک دم سے چونکی تھی۔۔۔ وہ کل سے ھدیل کو مسیج کر رہی تھی۔۔۔ اور وہ اتنا کھڑوس تھا کہ اس کے سارے مسیج ریڈ کرنے کے باوجود بھی کوٸ جواب نہیں دے رہا تھا۔۔۔ وہ لب کچلتے ہوۓ بار بار سکرین کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔مصروف سے انداز میں کہتی ہوٸ وہ پھر سے مسیج ٹاٸپ کر رہی تھی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ تارز بھاٸ اور تم ۔۔۔ کیا ہوا ہے اتنی تو دوستی تھی۔۔۔ حدفہ نے دودھ کا گلاس منہ کو لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔
کوٸ دوستی نہیں تھی۔۔۔ سڑے سے انداز میں ندوہ نےکہا اور جل کر سکرین کی طرف دیکھا جہاں ھدیل اس کا مسیج پھر سے ریڈ کر چکا تھا۔۔۔
ہا۔ ا۔۔۔۔ا۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔ا۔۔۔۔۔۔۔کیا بہت زیادہ لڑاٸ ہوٸ ہے۔۔۔ حدفہ نے حیرانگی سے آنکھیں پھیلا کر کہا۔۔۔
میں بات کرتی تارز بھاٸ سے وہ معافی مانگیں آپ سے آخر کو بڑی ہیں آپ۔۔۔ خدفہ نے بڑے سمجھ دار انداز میں کہا۔۔۔
اوہ پلیز حدفہ چپ کر جاٶ گی۔۔۔۔ ندوہ اپنے دونوں ہاتھوں میں سر کو جکڑ کر کہا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ کیا اتنی کوٸ بڑی بات ہو گٸ ۔۔۔ حدفہ نے پھر سے پرتجسس انداز میں کہا۔۔۔
حدفہ۔۔۔۔ ندوہ نے چیخ کر کہا۔۔۔ اور گھور کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔
وہ ایک دم سے چپ ہوٸ تھی۔۔۔
***************
یہ کیا ہے۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے زور سے گفٹ پلنگ پر اچھالا تھا اور سخت آواز میں کہتے ہوۓ غصے سے تارز کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
گفٹ۔۔۔ بڑے آرام سے ڈھیٹ انداز میں پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کہا ۔۔۔ جبکہ لبوں پر مخصوص مسکراہٹ کا راج تھا۔۔۔
وہ اب اس کے ساتھ یہی انداز اپناۓ ہوۓ تھا۔۔ وہ پارٹ ٹو میں آ چکا تھا ۔۔۔ اب وہ اس سے نہیں پڑھتا تھا۔۔۔ ہاں البتہ اسے تنگ کرنے میں کوٸ کثر نہ چھوڑ رکھی تھی اس نے۔۔۔ اول تو وہ اس کے سامنے آتی نہیں تھی اور اگر آ بھی جاتی تو اس طرح کی باتیں کرتا کہ ندوہ کا خون تک جل کر رہ جاتا تھا۔۔
وہ تو میں بھی دیکھ رہی ہوں ۔۔۔ پر مجھے کس لیےدیا یہ ندوہ نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔۔۔نہیں دے سکتا کیا۔۔۔ مخصوص انداز میں کہتے ہوۓ سینے پر ہاتھ باندھے اور لبوں پر پیار بھری مسکراہٹ سجاۓ وہ کھڑا تھا۔۔
اتنے ماہ ہو گۓ تھے وہ بار بار ندوہ کو اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔۔۔پر جتنا اس کی محبت بڑھتی جا رہی تھی اتنی ہی ندوہ کی نفرت اس سے بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔
نہیں ہرگز نہیں۔۔۔ ندوہ نے نفرت سے اس کی طرف دیکھا اور بلا کا سخت لہجہ اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
یہ محبت میں نہیں دیا۔۔۔ کزن ہونے کے ناطے سے دیا ہے۔۔۔ تارز نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ غصے میں ماتھے پر بل ڈالے کھڑی اس کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔ وہ اس کی پہلی محبت تھی آج سے پہلے اس نے کبھی کسی بھی لڑکی کے بارے میں ایسے نہیں سوچا تھا۔۔۔
تارز۔۔۔ پلیز۔۔۔ ندوہ نے اچانک اس کے آگے ہاتھ جوڑ لیے تھے۔۔۔
تارز نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا تھا وہ رو رہی تھی۔۔۔
تارز ۔۔۔ تم یہاں سے چلے جاٶ۔۔۔ ۔۔۔ وہ باقاعدہ رو رہی تھی۔۔۔
وہ تنگ آ چکی تھی تارز کی بیوقوفانہ محبت سے۔۔۔ اور ھدیل کی بے نیازی سے۔۔۔
دل تو ھدیل کے لیے بھرا ہوا تھا۔۔۔ وہ اس سے کوٸ بات نہیں کرتا تھا آخر کو کیوں نہیں کرتا۔ تھا۔۔ وہ پریشان رہنے لگی تھی۔۔۔
ندوہ پلیز۔۔۔ تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔ تارز ایک دم اس کے یوں رونے پر گڑ بڑا گیا تھا۔۔۔
وہ اسے جتنا بھی تنگ کرتا رہا تھا وہ کبھی بھی یوں نہیں ردعمل ظاہر کرتی تھی جیسے وہ آج اس کے سامنے رو دی تھی۔۔۔
پلیز مت رو ٶ۔۔۔ تارز نے تڑپ کر اس کے جڑے ہاتھوں کو پکڑنا چاہا تھا جسے ایک جھٹکے سے ندوہ نے الگ کیا تھا۔۔۔
میں ھدیل سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔ ندوہ نے دو ٹوک انداز میں آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں تم سے کبھی محبت نہیں کر سکتی۔۔۔ اور ھدیل بھی بہت محبت کرتے ہیں مجھ سے۔۔۔ بڑے جزب سے ندوہ نے جھوٹ بولا تھا۔۔۔
تارز کا رنگ ایک دم سے زرد پڑا تھا۔۔۔
تو کیا چاہتی ہو تم۔۔۔ تارز نے مدھم سی آواز میں ٹوٹے ہوۓ لہجے کے ساتھ کہا۔۔۔
تم چلے جاٶ اور یہ سب بھول جاٶ۔۔۔ ندوہ نے سخت لہجے میں کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ امتحان ہوتے ہی میں یہاں سے چلا جاٶں گا۔۔۔ پر آج کے بعد میں تمھاری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں۔۔۔ تارز نے بھیگی آواز میں گہری نظر ڈالتے ہوۓ کہا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: