Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 5

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 5

–**–**–

میری آنکھ میں آنسو کی وجہ صرف تم ہو تارز ۔۔ ۔۔ ندوہ نے گال سے آنسو ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت سے رگڑتے ہوۓ آنسوٶں سے رندھی آواز میں کہا۔۔۔
تارز نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔آنکھوں کی پتلیاں اس کی تکلیف پر پھیل کر پر نم سی ہو گٸ تھیں۔۔۔ چھت پر چلتے پنکھے سے اس کے بال دھیرے دھیرے اڑ رہے تھے۔۔۔۔
تارز نے پہلی دفعہ اس کو یوں اپنے سامنے روتے ہوۓ دیکھا تھا۔۔۔اور یہ سچ آج اس کے دل کو معلوم ہوا تھا کہ جس سے دل کو محبت ہو جاۓ اس کے آنسو پھر خود کے دل پر گرتے محسوس ہوتے ہیں۔۔۔
اب نہیں رہوں گا یہ وجہ بن کے۔۔۔۔۔ بہت مدھم سی آواز تھی۔۔۔
اپنے سینے پر ہاتھ باندھے اور لب اپنے اندر کے کرب کو چھپانے کی خاطر بھینچ لیے تھے۔۔۔ چہرہ تکلیف سے سرخ ہوا جا رہا تھا۔۔۔
میں تو تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں ہمیشہ۔۔ لہجہ بکھر سا گیا تھا۔۔۔
آنکھوں میں محبت کا سمندر موجزن تھا۔۔۔ گہری نظروں سے سامنے کھڑی ندوہ کے سراپے کو دل میں اتارا۔۔ ہلکے سے نیلے رنگ کے سادہ سے جوڑے میں دوپٹے کو سینے پر پھیلاۓ۔۔ بالوں کا لاپرواہی سے جوڑا بناۓ جس سے بہت سی بالوں کی باغی لٹیں گردن پر بکھری ہوٸ تھیں اور کچھ چہرے پر۔۔۔ اس کا قد چھوٹا تھا پاس کھڑی ہوتی تو چہرہ بمشکل تارز کے سینے پر آتا تھا۔۔۔۔نازک سا سراپا تھا ۔۔۔ موٹی سی آنکھیں تھیں ۔۔۔ ستواں سا ناک ۔۔۔ بھرے سے کم کٹ گداز سے لب۔۔۔۔ وہ بہت حسین تھی اس کے دل پر بجلیاں سی گر جاتی تھیں۔۔۔
ہاں تو پھر چلے جاٶ خاموشی سے اسی میں میری خوشی۔۔۔ پھٹی پھٹی سی آواز تھی ندوہ کی ۔۔۔
چہرے کا رخ ناگواری سے دوسری طرف کیا۔۔۔ تارز کی خود پر گڑی نظریں تکلیف کا باعث بن رہی تھیں۔۔۔۔
تارز اس کی تکلیف کو اور بڑھا رہا تھا ۔۔۔ جس سے وہ محبت کرتی تھی اس کی بے رخی نے اندر ہی اندر اس کو گھولنا شروع کر دیا تھا۔۔۔ اور تارز کی یہ بے تکی محبت اسے ازیت سے دوچار کرتی تھی ۔۔۔ کیونکہ تارز نے ہی اسے اس تلکیف سے اسے آشانہ کیا تھا۔۔۔ وہ تو بڑے آرام سے اپنی زندگی میں پر سکون ھدیل کے ساتھ کے خواب بنتی رہتی تھی۔۔۔ ھدیل کی محبت کی طلب کی تڑپ تارز نے اس کے دل میں ڈالی تھی جو اب اسےکسی پل کو چین نہیں دیتی تھی۔۔۔۔
ایک بات کہوں جو مجھے محسوس ہوتی ہے۔۔۔ تارز نے مدھم سی آواز میں کمرے کی خاموشی کو توڑا تھا۔۔۔۔
ندوہ نے ناگواری سے جھکا ہوا چہرہ اوپر اٹھایا تھا ۔۔۔ ناک سرخ ہو رہا تھا۔۔۔ اور لب ایک دوسرے میں ضبط کی حالت میں پیوست تھے۔۔۔
ھدیل تم سے محبت نہیں کرتا۔۔۔ بہت پر یقین لہجہ تھا۔۔۔
تارز ہنوز محبت بھری آنکھوں سے اسے جزب کرنے کے سے انداز سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سخت لہجے میں کہا تھا ندوہ نے۔۔۔
ناک غصے سے پھولنے لگی تھی۔۔۔ اور موٹی سی آنکھیں سکڑ کر اپنے حجم سے کم کی ہو گٸ تھیں۔۔۔
میں مما کو رشتے کا کہوں یا نانا ابو سے بات کروں تو کیا تم مان جاٶ گی۔۔۔ تارز نے جزبات میں بھیگے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
وہ ابھی بھی اسے قاٸل ہی کرنے کے چکروں میں تھا۔۔۔ افف وہ کیا کرے دل ایسا کمبخت ظالم تھا کہ خود غرضی کا لبادہ اترتا ہی نہ تھا۔۔۔
خبردار اگر تم نے ایسا کچھ بھی کیا۔۔کیا سوچیں گے سب ہم دونوں کے بارے میں ۔۔۔ سب کو صرف میں ہی غلط لگوں گی۔۔۔ تمہیں تو سب چھوٹا سمجھتے ہیں۔۔۔ ندوہ ایک دم سٹپٹا کر غصے میں بولی تھی۔۔۔
میں سب کو بتاٶں گا کہ تمھارا کوٸ قصور نہیں ہے اس میں۔۔۔ محبت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
چہرے پر تڑپ تھی۔۔۔ ماتھے پر پریشانی کے بل ۔۔۔ لب جزبات کی لو میں پھیلے ہوۓ تھے۔۔۔
اوہ خدایا۔۔۔ تارز تمہیں بات کیوں نہیں سمجھ آتی۔۔۔ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی اور تم ہو کہ زبردستی مجھے خود سے محبت کروانے پر تلے بیٹھے ہو۔۔۔ میری جان بخشو۔۔۔ ندوہ نے دونوں ہاتھوں کو زور سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر تارز کے آگے کیے تھے۔۔۔
اس کے ہاتھ۔۔۔ یہ ہاتھ۔۔۔ سفید رنگ کی پشت اور گلابی ہتھیلی والے ہاتھ۔۔۔ یہی ہاتھوں کی جنبش نے اس کے دل کے بند کواڑوں کے تالے توڑ ڈالے تھے۔۔۔ دل گستاخ نے تو چاہا کہ جکڑے ان ہاتھوں کو اور لبوں سے لگا کر کہے۔ ۔۔۔۔ مجھے ان کو ہمیشہ اپنے مضبوط ہاتھوں کے حصار میں رکھنا ہے۔۔۔۔ پر کیا کرے وہ اس کی آنکھوں سے بھی اتنی ہی محبت کرتا تھا جو اس کی وجہ سے نم تھیں۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔ ۔۔۔۔ میں چلا جاٶں گا۔۔۔ پھر کبھی واپس نہیں آٶں گا۔۔ آواز درد اور کرب سے لڑ کھڑا سی گٸ تھی۔۔۔
مت آنا۔۔۔ خدارا۔۔۔۔ وہی سختی ہنوز قاٸم تھی۔۔۔
ندوہ کے ہاتھ ویسے ہی جڑے تھے۔۔۔ لب ویسے ہی پیوست تھے۔۔۔ ناک کے نتھنے غصے سے پھولے ہوۓ تھے۔۔۔
تم خوش رہنا ھدیل کے ساتھ۔۔۔ طنز بھری مسکراہٹ سجا کر کاٹ دار لہجے میں کہا۔۔۔
تارز کی آنکھوں کے کونے بھیگ گۓ تھے۔۔۔
یقینََ رہوں گی۔۔۔ دانت پیس کر ندوہ نے کہا اور ایک بھر پور نظر اس پر ڈالی تھی۔۔۔
ہلکی سی مسٹڈ رنگ کی ڈریس شرٹ میں بکھرے بالوں اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ وہ کھڑا تھا۔۔۔ وہ تیزی سے پلٹی تھی ۔۔۔ تیز تیز قدم اٹھاتی وہ نیچے کی طرف اترتے زینے کے پاس جا رہی تھی۔۔۔
وہی شام ہے ۔۔۔ وہی درد ہے۔۔۔۔
جسے کروٹوں نے نبھا لیا۔۔۔۔
جو گزر گٸ میری خاک پر۔۔۔
اسے بارشوں نے بہا لیا۔۔۔
وہ جو لوگ سمجھے تھے ڈوب گیا ۔۔۔۔
وہی شمس میرے حلق میں ہے
کوٸ لفظ تم کو جلا نہ دے۔۔۔
گویا ہم نے خود کو بجھا دیا۔۔۔
مجھے جانا ہو گا۔۔۔ ندوہ مجھے کبھی نہیں مل سکتی ۔۔۔ میں غلط جگہ پر محبت کر بیٹھا ہوں ۔۔۔ یہ میری کہانی نہیں ہے۔۔۔ میں زبردستی اس کی اور ھدیل کی کہانی میں گھس آیا ہوں ۔۔۔ اور جب کسی اور کی کہانی میں گھس کے یہ چاہو کہ وہ تمھاری کہانی بن جاۓ ۔۔۔ تو ایسا ممکن نہیں ہوتا ۔۔۔ زندگی کی کہانی لکھی جا چکی ہے ۔۔۔ نہ بدلنے کے لیے۔۔۔۔ مجھے واپس اپنی کہانی میں جانا ہو گا۔۔۔ ندوہ ھدیل کی ہے میری نہیں۔۔۔
****************
اچھا ممانی۔۔۔ ان دو سالوں میں کوٸ غلطی ہوٸ ہو تو معاف کر دیجیے گا۔۔۔ تارز نے سلمی کے آگے سر جھکاتے ہوۓ معدب لہجے میں کہا۔۔۔
وہ آج خان پور واپس جا رہا تھا پارٹ ٹو کے پیپرز ختم ہوتے ہی اس نے وعدے کے مطابق اپنا سامان باندھ لیا تھا۔۔۔ وہ اب نہ تو ندوہ کو فون پر مسیج کرتا تھا اور نہ تنگ کرتا تھا اس نے یہ باقی کا سارا وقت خاموشی سے کاٹا تھا۔۔۔ ہاں اتنا ضرور تھا کہ ندوہ کی محبت کو دل سے کھرچ کر باہر نہیں نکال سکا تھا۔۔۔
ارے بیٹا کیسی باتیں کرتے ہو تم تو میرے بیٹے ہو۔۔۔ سلمی نے شفقت سے ہاتھ سر پر رکھ کر خفگی بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔
تارز نے مسکرا کر جھکا ہوا سر اٹھایا تھا اور محبت سے پاس بیٹھے دادود کی طرف دیکھا تھا جو فرش پر داٸیں باٸیں چھڑی گھوما رہے تھے اور آنکھوں سے خاموش آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے۔۔۔۔
اچھا نانا ابو۔۔۔ اب حدفہ سے کہیے گا کہ آپکو اخبار پڑھ کر سنایا کرے۔۔۔ داود سے بغل گیر ہو کر تارز نے بھیگے سے لہجے میں کہا۔۔۔
اس نے آہستہ سے آنکھوں کے نم کونوں کو صاف کیا تھا۔۔۔
دو سال وہ یہاں رہا تھا اور اس گھر کو اپنا سمجھ کر رہا تھا ہر شخص نے اپناٸت دی تھی۔۔۔ محبت دی تھی۔۔۔اور اب دل اداس ہو رہا تھا۔۔۔ حدید نے اسے کتنا کہا تھا کہ لاہور میں ہی کسی یونیور سٹی میں ایڈمیشن لے ۔۔۔ لیکن وہ بضد تھا کہ اسلام آباد جاۓ گا ۔۔۔
اب کب آٶ گا جلدی چکر لگانا ۔۔۔ اداس کر کے جا رہے ہو۔۔۔ داود نے نقاہت بھری آواز میں کہا تھا۔۔۔
تارز آہستہ سے ان سے الگ ہوا تھا۔۔۔ اور پاس کھڑی حدفہ کے گلے لگا تھا جو اداسی اور نارضگی کے ملے جلے تاثر چہرے پر سجاۓ کھڑی تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔م ۔۔ وہ بس ضبط سے اتنی سی ہی آواز نکال سکا تھا۔۔۔
اچھا پھر میں نکلتا ہوں۔۔۔ وہ آہستہ سے بیگ کو کندھے پر ڈالتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
ندوہ سے تو مل لو۔۔۔ ندوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندوہ۔۔۔۔۔۔۔ تارز جا رہا ہے۔۔۔ سلمی نے اونچی آواز میں کمرے کی طرف رخ پھیر کر ہانک لگاٸ تھی۔۔۔
ندوہ کا تارز کے ساتھ سرد رویہ سب کو محسوس ہوتا تھا لیکن سب یہی سمجھتے تھے کے دونوں کی بچپن اے اتنی گہری دوستی تھی کوٸ لڑاٸ تھی ایک نہ ایک دن ختم ہو ہی جاۓ گی۔۔۔
ممانی۔۔۔۔ میں خود ۔۔ مل آتا ہوں۔۔۔۔ تارز نے ہاتھ کھڑا کیا اور مدھم سے لہجے میں کہتا ہوا وہ کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔
وہ کمرے میں موجود نہیں تھی ہاں واش روم کے پاس پڑی کرسی پر پڑا اس کا دوپٹہ دیکھ کر اندازہ ہوا تھا وہ شاٸد واش روم میں تھی ۔۔ کتابیں سارے پلنگ پر بکھری ہوٸ تھیں۔۔۔
وہ جان بوجھ کر اس سے ملنا نہیں چاہتی تھی تارز کو اس بات کو باخوبی اندازہ تھا وہ آگے بڑھا اور اس کی پاس پڑے پیپر پر اس کے قلم کے ساتھ یہ نظم لکھ ڈالی۔۔۔
تمہاری زندگی سے میں
بہت سے فاصلے لے کر
تمہیں بس اتنا کہتا ہوں۔۔۔۔
کسی کو زندگی سے
اس طرح رخصت نہیں کرتے
کہ مجھ کو زندگی سے جس طرح
تم نے نکالا ہے۔۔۔۔
وہ ۔۔۔ دھیرے سے پلنگ سے اٹھا تھا اس کے دوپٹے کو اٹھا کر اس کی خوشبو کو خود میں اتارا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔
*****************
کیوں نہ رو دوں۔۔۔ کب سے میری بچی نے اتنے خواب سجا رکھے تھے۔۔۔ سلمی نے ہچکیوں میں روتے ہوۓ کہا۔۔۔۔اور پاس کھڑے حدید کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ جو کمر پر دونوں ہاتھ رکھے سر پر نماز کی ٹوپی سجاۓ کھڑے تھے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوۓ ساتھ پڑی کرسی پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھ گۓ۔۔۔۔
اچھا چلو اب بس ابا جی کو آواز جاۓ گی۔۔۔ سلمی کی پیٹھ پر تسلی کا ہاتھ رکھتے ہوۓ مدھم سے لہجے میں کہا ۔۔ اور اپنے سر کی ٹوپی اتار کر ہاتھ میں پکڑ کر سر کو نیچے جھکا لیا اور نظریں فرش پر گاڑ دیں۔۔۔۔
آپ کو تو بس اپنی پڑی ہے۔۔۔ میرے دکھ کا اندازہ بھی ہے اتنا اچھا رشتہ تھا۔۔۔ سلمی نے دوپٹے کے پلو سے گال رگڑے اور روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
5
تو اب کیا کروں ان کے پیر پڑ جاٶں کہ میری بچی کو زبردستی اپنے بیٹے سے بیاہ دو بھٸ۔۔۔ لا حولا ولا۔۔۔۔۔۔ حدید نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔۔
آخر کو تمھاری بہن ہے ۔۔ ۔۔۔ ہاتھ کو ہوا میں اچھالتے ہوۓ کہا ۔۔۔
میری بہن کو کچھ نہ کہیں آپ۔۔۔ وہ تو خود اتنا رو رہی تھی اتنی چاہت کرتی تھی وہ ندوہ کی ۔۔۔ سلمی نے تنک کر انگلی کھڑی کی ۔۔۔
ھدیل نے رشتے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔تارز کو گھر سے گۓ ایک سال ہونے کو آیا تھا۔۔۔اور اس ایک سال میں ندوہ نے ھدیل کی محبت پانے کی ہر کوشش کر ڈالی تھی ۔۔۔ اسے کال تک کی لیکن وہ بات بھی نہیں کرتا تھا اور آج راحت خالہ نے روتے ہوۓ بتایا کہ وہ ندوہ سے شادی کے لیے انکار کر چکا ہے۔۔۔
دیکھو سلمی بیگم یہ رشتہ تم نے اور تمھاری بہن نے اپنی خوشی سے طے کیا تھا اور پھر آج ختم بھی تمھاری بہن نے ہی کر ڈالا میں اس میں کیا کہہ سکتا ہوں میں تو بس اپنی بیٹی کے اچھے نصیب کی دعا کر سکتا ہوں۔۔۔ حدید نے مدھم سے صبر کے لہجے میں کہا۔۔۔
یہ بچوں کہ بچپن میں رشتے طے کر دینے کہ میں اسی لیے سخت خلاف ہوں۔۔۔ وہ ماتھے پر بل ڈالتے ہوۓ تھوڑے رعب سے گویا ہوۓ تھے۔۔۔
۔ تمہیں تب بھی میں ڈھکے چھپے الفاظ میں منع کرتا رہتا تھا۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنساۓ آہستہ سے بولے۔۔۔
اچھا خیر اب کہاں ہے ندوہ۔۔۔ دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھے حدید اپنی کرسی سے اٹھے تھے اور بیٹی کے لیے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
اپنے کمرے میں ہے۔۔۔ سلمی نے روہانسی سی آواز میں سر اٹھا کر کہا۔۔۔
حدید آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ندوہ اور حدفہ کےکمرے میں آۓ تھے سورج نے ڈوبنے کے بعد اندھیرا کر رکھا تھا ۔۔۔ اور آج کسی نے کوٸ لاٸٹ آن نہیں کی تھی۔۔۔ حدید ساتھ ساتھ صحن اور برآمدے کی لاٸٹ جلاتے ہوۓ کمرے میں آۓ تھے جہاں اندھیرے میں ندوہ گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھی تھی ۔۔۔حدید نے کمرے کی لاٸٹ کے بٹن کو جیسے ہی دبایا تھا کمرہ روشن ہو گیا تھا اور ندوہ کے اندر کے اندھیرے کو واضح کر گیا تھا۔۔۔
آجاٸیں ۔۔۔ ابا۔۔۔۔۔۔وہ ایک دم سر جھکا کر بولی تھی ۔۔ کہ اس کی بھیگی آنکھیں حدید نہ دیکھ لیں۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوۓ ندوہ کے پاس پڑے پلنگ پر بیٹھ گۓ تھے۔۔۔
کچھ دیر دونوں نفوس کے درمیان خاموشی رہی ۔۔۔
جاب ملی پھر۔۔۔ حدید کی محبت بھری آواز نے کمرے کے جامد سکوت کو توڑا تھا۔۔۔
جی ۔۔۔۔ ندوہ نے مدھم سی روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
اور پھر تڑپ کر وہ حدید کے سینے سے جا لگی تھی اور ہچکیوں کے ساتھ رو دی تھی۔۔ حدید اس کے سر پر دھیرے سے تھپک رہے تھے۔۔۔
ندوہ ۔۔۔ تمہیں میں نے کبھی اپنے بیٹے سے کم نہیں سمجھا۔۔۔ مجھے تمہیں زندگی کے ہر مقام پر مضبوط دیکھنا ہے۔۔۔ حدید نے محبت بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ ندوہ کے چہرے کو اوپر کیا تھا اور اس کے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔
زندگی ایک رشتے کے ختم ہو جانے پر ختم نہیں ہو جایا کرتی میری بیٹی ۔۔۔ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے ۔۔ اللہ کے ہر کام میں بہتری ہے۔۔۔ کل ایک وقت ایسا آۓ گا کہ تم خود اس کے لیے شکر بجا لاٶ گی۔۔۔ ان کی میٹھی آواز ندوہ کی ہچکیوں کو تھمنے پر مجبور کر گٸ تھی۔۔۔
وہ آہستہ سے اس کے سر کو تھپکتے ہوۓ اٹھے تھے اور باہر نکل گۓ تھے۔۔۔
عقل ہے محو تماشاۓ لب بام ابھی
کہ اس نے بدلا ہے روپ سر عام ابھی
زندگی کچھ اسطرح سے مانوس وصل رہی
کہ بےخبر ہے دل ہجر انجام ابھی۔۔۔۔
ندوہ پھر سے تکیے میں منہ دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔اس نے ھدیل سے اندھی محبت کی تھی ۔۔۔ بچپن سے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس کے نام کو خود سے جڑے سنا تھا۔۔۔ پھر جب آہستہ آہستہ دل نے ھدیل کے نام پر دھڑکنا شروع کیا۔۔۔ پھر اس نے خواب بنے۔۔۔ خوابوں میں رنگ بھرے۔۔۔ اور اب جب ان خوابوں کے حقیقت میں بدلنے کا وقت آیا تو ھدیل نے اس کے سارے خواب تار تار کر دیۓ تھے۔۔۔
***************
ارے بھٸ ایسے نہیں چلنے کا ۔۔۔ اس کو کہو کوٸ جاب تلاش کرے۔۔۔ ابتہاج نے چاۓ کا کپ سیما کے ہاتھ سے لیتے ہوۓ ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔۔
حبان نے جب ماسٹرز کیا تھا صرف چار ماہ ہی فارغ رہا تھا ۔۔اور ان کو دیکھ لو سال بھر ہونے کو آیا شاعر صاب پلنگ توڑ رہے ہیں۔۔۔ آج پھر ابتہاج کو دوپہر دو بجے کے قریب تارز پر غصہ آ گیا تھا۔۔۔
وہ فزکس میں اپنی ایم ایس سی مکمل کرنے کے بعد سال بھر سے گھر میں پڑا تھا اور کوٸ اچھی جاب نہیں مل رہی تھی۔۔۔سال بھر سے اس کی یہ روٹین تھی دوپہر کو تین بجے اٹھتا جم چلا جاتا رات گۓ واپس آتا رات کو ریڈیو پر ایک شاعری کا شو کرتا تھا ۔۔۔ پھر رات کو ساری رات جاگنے کے بعد وہ صبح کو سو جاتا تھا۔۔۔
اچھا نہ تلاش کر تو رہا ہے۔۔۔ کہہ رہا تھا اسلام آباد ہی کرے گا جاب ۔۔۔ سیما نے ازلی انداز میں تارز کی طرف داری کی اور ابتہاج کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔۔۔
تو کر لے نہ کہیں تو کرے پھر۔۔۔ ابتہاج نے خالی کپ غصے سے میز پر رکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
اچھا۔۔۔۔ اچھا۔۔۔ آپ بلا وجہ پارہ ھاٸ کر رہے ہیں۔۔۔ میں بات کرتی ہوں اس سے۔۔۔ سیما نے چاۓ کے کپ کو اٹھاتے ہوۓ ماتھے پر بل ڈال کر کہا تھا۔۔۔
اور پھر آج وہ تارز کے کمرے میں اس کی کلاس لینے کو پہنچ گٸ تھیں۔۔۔ایسا مہینے میں دو دفعہ تو ضرور ہوتا تھا باقی مہینہ خوش اصلوبی سے گزر ہی جاتا تھا۔۔۔
تاری۔۔۔ تاری۔۔۔ تارز کے سر پر سے کمبل کھینچ کر اب وہ اسے آوازیں دے رہی تھیں ۔۔۔
ہاں جی۔۔۔۔۔۔۔ آج پھر صبح صبح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرمان جا ری کرنے آٸ ہوں گی آپ اپنے شوہر نامدار کا۔۔۔۔۔۔۔ تارز آنکھیں ملتا ہوا اٹھا تھا اور پھر کمر کے پیچھے تکیے رکھتا ہوا وہ تھوڑا سیدھا ہو کر بیٹھا تھا۔۔۔
شرم کرو تمھارے بابا ہیں۔۔۔ سیما نے کمبل کو بیڈ پر سے اٹھا کر جھاڑتے ہوۓ کہا اور خفا سے انداز میں تارز کو دیکھا۔۔۔
مجھے تو بابا کم ہٹلر زیادہ لگتے ہیں۔۔۔ وہ دونوں بازوٶں کو ہوا میں اٹھاتا ہوا انگڑاٸ لے رہا تھااور لا پرواہی کے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
اچھا چپ کرو۔۔ بتاو وہ اسلام آباد والے انٹرویو کا کیا بنا پھر۔۔۔ سیما کمبل ایک طرف سلیقے سے رکھتے ہوۓ اس کے ساتھ بیٹھیں اور محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔تھوڑی دیر پہلے کا غصہ ہوا ہو چکا تھا۔۔۔
مما ۔۔۔ ہو جاۓ گی جاب ۔۔۔ فکر نہ کریں۔۔۔۔ تارز نے سیما کے گرد بازو حاٸل کر کے کہا اور سر اس کے کندھے پر ٹکا دیا تھا۔۔۔
کیوں نہ کروں ۔۔۔ آوارہ یوں بستر میں پڑے رہتے ہو۔۔ سیما نے اس کے سر پر چپت لگا کر مصنوعی خفگی سے کہا۔۔۔
حبان سے ہی کچھ سیکھ لو تمھارا ہی بڑا بھاٸ ہے کیسے سلجھا ہوا ہے ہر کام کو وقت پر اور کتنی ذمہ داری سے کرتا ہے وہ مجال ہے جو کبھی تمھارے بابا سے اونچی آواز میں بولا ہو وہ۔۔۔ اور ایک تم ہو۔۔۔ وہ اسے اب تھوڑے سخت لہجے میں سمجھا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ حبان کی مثالیں دے رہی تھیں۔۔۔
اس میں اور حبان میں زمین آسمان کا فرق رھا تھا۔۔۔ وہ ہمیشہ وہی کرتا تھا تو جو سیما اور ابتہاج اس کے لیے چاہتے تھے۔۔ اور تارز ہمیشہ وہ کرتا تھا جو وہ چاہتا تھا۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ اور ایک میں ہوں ۔۔۔ جس نے آپ لوگوں کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔۔۔ وہ سیما کے گلے لگ کر جھولنے کے سے انداز میں بولا تھا۔۔۔
ارے آپ آج سے مجھے کھانا دینا بند کر دیں۔۔۔ ایک دم سیما کے چہرے کو اپنی طرف گھوماتے ہوۓ تارز نے کہا تھا۔۔۔
سیما نے غصے سے دیکھتے ہوۓ اس کے ہاتھ کو اپنے چہرے سے ہٹایا تھا۔۔۔
تم سے اچھی تو ندوہ ہے۔۔۔ حدید بتا رہا تھا یونیورسٹی میں لیکچرر شپ مل گٸ ہے اسے ۔۔ سیما نے خفا سے انداز میں کہا۔۔۔
ندوہ کا نام کانوں میں پڑتے ہی جیسے دل میں ایک ٹیس اٹھی تھی۔۔۔ کہاں بھولا تھا وہ اسے ۔۔۔ ہر پل ہر لمحے میں اس کی یاد کی چبھن تھی ۔۔۔
کیوں شادی نہیں کرنی اس نے ۔ پہلے تو کہہ رہے تھے اس کی ایم ایس سی مکمل ہونے کے بعد فورا شادی ہے۔۔۔ ابھی تک کیوں نہیں ہوٸ۔۔۔ اپنے بے ترتیب دل کو سنبھالتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
وہ پوچھا جس کے بارے میں ہر وقت اس کے دل میں پھانس رہتی تھی۔۔۔
شادی کہاں ۔۔۔۔ اس کمبخت ھدیل نے تو دو سال سے منگنی ہی ختم کر رکھی ہے۔۔۔ سیما نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔۔
اور اس کے سر پر تو جیسے دھمکا ہوا تھا۔۔ بے یقینی سے سیما کی طرف دیکھا ۔۔۔
کہ۔۔۔کیا۔۔۔ مطلب۔۔۔۔۔ کس کی منگنی۔۔۔ زبان لڑکھڑا سی گٸ تھی۔۔۔۔۔
ارے بھٸ اپنی ندوہ کی اتنی پیاری میری بچی۔۔۔ سیما کا چہرہ اداس ہو گیا تھا اور لہجہ پریشان سا ہو گیا تھا۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔ایک منٹ۔۔۔ کب ہوا اس کا یہ رشتہ ختم۔۔۔ تارز نے ایک دم سے سیدھے ہوتے ہوۓ بے یقینی اور خوشی کی سی کفیت میں پوچھا ۔۔
وہ تو تین سال سے خاندان سے اور اس کے ہر معاملے سے بے نیاز رہتا تھا نہ کسی تقریب پر جاتا تھا اور نہ ہی کسی غم میں شرکت کرتا تھا اور اسے آج ندوہ کی بات ختم ہونے کی خبر ملی تھی۔۔۔
دو سال ہونے کو آۓ ہیں۔۔۔۔ سیما نے پریشان سے لہجے میں کہا۔۔۔ بس راحت نے رشتہ لٹکا سا رکھا ہے وہ ھدیل کو مجبور کر رہی ہے ان کو کہہ رہی وہ مان جاۓ گا بس یہی سب چل رہا ہے پر وہ تو منع کر چکا ہے صاف صاف الفاظ میں۔۔۔
اچھا۔۔۔۔ گہری سوچ میں ڈوبی ہوٸ آواز میں تارز نے کہا ۔۔۔
سیما کب اٹھی کب اس کے کمرے سے نکل کر باہر گٸ تارز کو کوٸ خبر نہیں تھی۔۔۔
تو ندوہ حدید۔۔۔۔ تم ہی میری کہانی کا اصل کردار ہو جسے میں کسی اور کہانی کا اہم کردار سمجھ کر چھوڑ آیا تھا۔۔۔ تم میری ہو۔۔۔ یہ ہماری کہانی ہے۔۔۔ تارز کے لب مسکرا رہے تھے ۔۔ دفن کی ہوٸ محبت کفن پھاڑے کھڑی تھی اور دل کی دھڑکن کی تیزی اس میں روح پھونک رہی تھی۔۔۔۔
***************
5b
ایک دم سے وہ ماضی کی یادوں سے باہر آیا تھا اور پھر سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے داود کے کمرے میں آیا تھا۔۔ اور وہ وہیں تھی ۔۔۔ دواود کی ٹانگیں دباتی ہوٸ۔۔۔۔ اس کو دیکھ کر ایک دم سے سٹپٹا گٸ تھی۔۔
نانا ابو۔۔۔ میں بھی دباٶں۔۔۔ شرارت بھری نظروں سے ندوہ کی طرف دیکھتے ہوۓ بڑے معدب لہجے میں تارز نے کہا۔۔۔
جب کے لب مسکراہٹ کو دبا رہے تھے۔۔ وہ آہستہ سے ندوہ کے بلکل ساتھ پلنگ پر بیٹھا تھا۔۔
ارے ۔۔۔ تارز آٶ آٶ۔۔۔۔ داود نے مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
ندوہ اس کے پاس بیٹھتے ہی جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوٸ تھی۔۔۔ تارز نے ایک ہی لمحے میں اس کے بازو کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔۔۔
تم کہاں چلی بیٹھو… محبت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔لبوں پر وہی شریر مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
دباٶ ۔۔۔ نانا ابو کو۔۔۔ مسکراہٹ دبا کر کہا۔۔۔
جبکہ وہ اپنے ناخن اس کے ہاتھ پر گاڑے اپنا بازو چھڑوا رہی تھی۔۔۔
ارے بیٹا جانے دے کب سے دبا رہی ۔۔۔ داود نے آہستہ سے کہا۔۔۔
جانے دیا نانا ابو۔۔۔ تارز نے اب بازو چھوڑ کر ہاتھ تھام لیا تھا ۔۔۔ اور اپنے مخصوص انداز میں اس کے ہاتھ کو سینے سے لگایا تھا۔۔۔
وہ اب غم اور غصےسے سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: