Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 6

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 6

–**–**–

ذرا ٹھہرومیری حالت سنبھل جاۓ تو پھر جانا
دل بے تاب تھوڑا سا بہل جاۓ تو پھر جانا۔۔۔
ابھی تو فرقتوں کے سحر سے نکلا نہیں ہوں میں۔۔۔
تمھارے وصل کا جادو یہ چل جاۓ تو پھر جانا۔۔
کٸ صدیوں رہا ہوں کرب کے اس زرد موسم میں
سنو یہ درد کا موسم بدل جاۓ تو پھر جانا۔۔۔
میرے دل میں ابھی جینے کی خواہش پھر سے جاگی ہے
یہ ننھی سی تمنا پھول پھل جاۓ تو پھر جانا۔۔۔
ندوہ مسلسل غصے سے بھری اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش میں لگی تھی ۔۔۔جبکہ تارز مسکراہٹ دباۓ ہنوز اس کے چہرے پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے داود کی ٹانگ دبا رہا تھا۔۔
ہاتھ میں اب تکلیف ہونے لگی تھی مسلسل اس کی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش میں وہ ہلکانے ہوۓ چلی جا رہی تھی۔۔۔ مجھے معلوم ہے تارز تم یہ سب مجھے یہ جتانے کے لیے کرتے ہو کہ تم دو سال چھوٹے ہی سہی لیکن تم مظبوط ہو مجھ سے۔۔۔
ندوہ چلی گٸ ہے کیا ۔۔۔ داٶد نے کی آواز پر دونوں لمحہ بھر کو چونکے تھے۔۔۔
نہیں نانا ابو۔۔۔ میرے۔۔۔۔ پاس۔۔۔ ہی تو کھڑی ہے۔۔۔ تارز نے محبت پاش نظروں سے تاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔ جبکہ آنکھوں میں ہنوز شرارت اور ڈھیٹ پن جھلک رہا تھا۔۔۔
جبکہ ندوہ غصے سے لال پیلی ہوۓ جا رہی تھی۔۔۔
اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ داود نے اپنے محسوسات کی تاٸید پر مسکرا کر کہا۔۔۔
بیٹھ جاٶ ندوہ کھڑی کیوں ہو۔۔۔ تارز نے جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہا۔۔
ندوہ کے صبر اور برداشت کا پیمانہ لبریز ہی ہو جاتا تھا۔۔اس کی آنکھیں گیلی ہونے لگی تھیں۔۔۔اور جیسے ہی اس کی آنکھ میں اٹکا آنسو اس کی گال پر گرا تھا ۔۔۔ تارز کے چہرے پر سے مسکراہٹ ایک دم سے غاٸب ہوٸ تھی اور ہاتھ کی گرفت بھی فورا ڈھیلی ہو ٸ تھی۔۔۔
ندوہ نے غصے سے بازو سہلاتے ہوۓ اسے دیکھا تھا جو اب اس کے رونے پر پریشان سی صورت بنا کر بیٹھا تھا۔۔۔۔ پھر وہ وہاں رکی نہیں تھی تیزی سے اس کمرے سے نکلی تھی۔۔۔
*****************
ھاں بھٸ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ موٹی۔۔۔ تارز نے حدفہ کے سر پر چپت لگاتے ہوۓ کہا۔۔ اور سب پر ایک نظر ڈالی ۔۔۔
وہ شام کے چھ بجے آفس سے گھر آیا تھا۔۔۔ سلمی آنکھوں پر چشمہ نیچے کیے اخبار پڑھنے میں مصروف تھی۔۔۔ حدفہ پاس بیٹھی کچھ لکھ رہی تھی۔۔۔ جبکہ دشمن جاں محترمہ صوفے پر ٹانگیں پسارے اپنے فون کی سکرین کو اوپر نیچے اچھال رہی تھیں۔۔۔
کچھ نہیں تارز بھاٸ ۔۔۔ آساٸن منٹ۔۔۔ حدفہ نے اپنا سر سہلاتے ہوۓ مصروف سے انداز میں کہا اور پھر سے کتابوں پر جھک گٸ۔۔۔
ندوہ اس کے آنے پر فورا سے اٹھی تھی۔۔۔ چہرہ سپاٹ ہو گیا تھا۔۔۔
ندوہ ایک چاۓ کا کپ تو بنا دو۔۔۔ وہ تارز کے پاس سے گزر کر جانے کو تھی جب تارز نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔۔
ندوہ نے خون پی جانے والے انداز میں اسے دیکھا تھا۔۔۔ اور وہ مسکرا کر کندھے اچکا گیا۔۔۔
ہاں ۔۔۔ ندوہ بنا دو ایک میرے لیے بھی بنا دینا۔۔۔۔ میں اب کمرے میں جا رہی ہوں وہیں دے دینا۔۔۔ سلمی صوفے سے اٹھتے ہوۓ ندوہ کے غصےسے بھرے چہرے سے بے نیاز اسے ہدایت دیتی ہوٸ کمرے کی طرف چل دی۔۔۔
ندوہ نے ضبط سے لب بھینچے اور کچن کی طرف چل دی۔۔۔۔ ابھی وہ کیتلی میں دودھ ہی انڈیل رہی تھی جب تارز کچن میں آ دھمکا تھا۔۔۔
میں لا رہی ہوں باہر ادھر آنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ ابھی وہ دروازے پر ہی پہنچا تھا جب ندوہ نے سخت لہجے میں کہا اور ایک ناگوار نظر اس پر ڈالی ۔۔۔ ٹاٸ کی ناٹ ڈھیلی کی ہوٸ تھی۔۔۔ اور شرٹ کے کف فولڈ تھے۔۔۔ سارے دن آفس میں کام کی تھکان کے باوجود اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور لب مسکرا رہے تھے۔۔۔ جو ندوہ کا خون جلانے کا سبب بن رہے تھے۔۔۔
تم پر اعتبار نہیں زہر نہ ملا دو کہیں چاۓ میں ۔۔۔ تارز نے دروازے کے درمیان میں سینے پر ہاتھ باندھ کر شرارت سے کہا۔۔۔
نفرت کی حد تو یہاں تک ہی جاتی ہے۔۔ پر میں تمہیں اس قابل بھی نہیں سمجھتی کے تمھارا میرے ہاتھوں سے قتل ہو۔۔ ندوہ نے ناگواری سے دیکھ کر سخت لہجے میں کہا۔۔۔
تارز نے اس کی اس بات پر قہقہ لگایا تھا۔۔۔
ارے۔۔۔۔ واہ۔۔۔ یہ ہوٸ نہ بات۔۔۔ ٹکر ہونی چاہیے نہ۔۔۔ جتنی میں تم سے محبت کروں ۔۔ تمہیں اتنی ہی نفرت ہو پھر ہی مزہ ہے۔۔۔ وہ بڑے شرارتی لہجے میں مسکراہٹ دبا کر اسے اور زچ کر رہا تھا۔۔۔
ندوہ نے دانت پیس کر خونخوار نظروں سے گھورا اور دو کپ میں چاۓ انڈیلی۔۔۔
بکواس بند کرو اور یہ چاۓ لو اپنی۔۔۔۔ بڑی بے رخی سے اس کے سامنے شلف پر چاۓ پٹختے ہوۓ ندوہ نے کہا
اور دوسرے کپ کو ٹرے میں سجاۓ وہ باہر نکل گٸ تھی۔۔۔
جب کے وہ چاۓ کے کپ کو اٹھا کر لبوں تک لے جاتے ہوۓ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ اسے ہر انداز میں دلکش لگتی تھی۔۔ غصے میں ۔۔۔ پیار میں ۔۔۔ ہنستے ہوۓ۔۔۔ ڈانٹتے ہوۓ۔۔۔ وہ اپنی سوچوں میں ڈوبا زیر لب مسکرا رہا تھا۔۔۔
اوہ۔۔۔ وہ ایک دم سے گڑ بڑا گیا تھا ۔۔۔گرم چاۓ نے لب جلا دۓ تھے۔۔
**************
میری بھی شرٹ پریس کر دو۔۔۔ تارز نے اپنی شرٹ استری کے میز ہر رکھتے ہوۓ ۔۔۔ پورے دانت نکال کر اس کی طرف دیکھا اور میٹھے سے لہجے میں کہا۔۔۔
ندوہ نے ماتھے پر بل ڈال کر ایک بھرپور غصے کی نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر کچھ دور بیٹھے حدید کی طرف جو ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے۔۔۔ لیکن تارز نے اتنی اونچی آواز میں کہا تھا کہ وہ بھی مسکرا کر متوجہ ہوۓ تھے۔۔ رات کا وقت تھا جب ندوہ اپنے صبح کے کپڑے پریس کر رہی تھی میتھ میں ایم فل کے بعد اب وہ یونیورسٹی میں لیکچرر شپ کے لیے جاتی تھی۔۔۔ وہ اب بہت سنجیدہ اور کم گو ہو گٸ تھی۔۔۔ ھدیل کے انکار نے اس کے چہرے سے ساری شوخی ہنسی سب کچھ چھین لیا تھا۔۔
اچھا سنو۔۔۔ کالر پر ذرا زور سے مارو نہ استری۔۔۔ تارز نے اسے بے دلی سے اپنی شرٹ استری کرتے دیکھا تو شرارتی رگ اور بھڑک گٸ تھی۔۔۔بڑے مزے سے اس کے سر پر کھڑا اب وہ اسے ہدایت دے رہا تھا۔ اور ندوہ کا ضبط سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
اور یہ کف بھی۔۔۔ بڑی محبت سے ندوہ کی طرف دیکھتا اور کبھی چور نظروں سے پاس بیٹھے حدید کو کہ کہیں وہ اس کی یہ حرکتیں نہ نوٹ کر لیں ۔۔نہیں تو کبھی داماد بنانے کو راضی نہیں ہوں گے۔۔۔
بہت اچھے کرتی ہے کپڑے استری تم بیٹھ جاٶ۔۔۔ آ کر۔۔۔ اچانک حدید نے رخ موڑ کر کہا ۔۔۔ اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے ساتھ آ کر بیٹھنے کو کہا۔۔۔
اچھا ۔۔۔ یہ بات ہے۔۔ تو یہ پینٹ بھی کر دو۔۔۔ تارز نے بھی مسکرا کر حدید کو دیکھا اور پورے دانت نکالتے ہوۓ پینٹ بھی ندوہ کے قریب رکھ کر مسکراہٹ دباتا ہوا حدید کی طرف چل دیا۔۔۔
ندوہ نے شرٹ استری کر کے ایک طرف رکھی اور اس کی پینٹ استری کیے بنا وہ اندر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸ تھی۔۔۔ خود کو سمجھتا کیا ہے۔۔ یا مجھے کیا سمجھانا چاہتا ہے۔۔۔ وہ دانت پیستے ہوۓ سوچ رہی تھی ابھی کمرے میں آٸ ہی تھی کہ وہ بھی پیچھے ہی تھا۔۔۔ ندوہ نے چونک کر ایک نظر تارز پر اور پھر ایک نظر سوٸ ہوٸ حدفہ پر ڈالی۔۔۔
اگر تم سمجھتے ہو کہ تمھاری ان چھچھوری حرکتوں کی وجہ سے میں متاثر ہو کر تم سے محبت کرنے لگوں گی تو یہ بھول ہے تمھاری سمجھے تم۔۔۔ ندوہ نے غصے سے بھری آواز میں دانت پیس کر اور اپنے مخصوص انداز میں انگلی کھڑے کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں نے یہ کب کہا۔۔۔میں تو اپنے کام کروا رہا ہوں تم سے ۔۔۔ تم خود ہی یہ سمجھ رہی ہو۔۔۔ تارز نے ہلکا سا قہقہ لگایا پھر معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوۓ گویا ہوا ۔۔۔
تم آخر کو چاہتے کیا ہو۔۔۔ ندوہ نے غم اور غصے کے ملے جلے لہجے میں کہا۔۔۔
تمھارا عمر بھر کا ساتھ۔۔۔ تارز نے جزبات میں ڈوبی آواز میں کہا۔۔۔ وہ کمرے کے دروازے کے درمیان میں کھڑا اسے ساری دنیا کی محبت آنکھوں میں سموۓ دیکھ رہا تھا۔۔۔
ناممکن۔۔۔ ندوہ نےدو ٹوک انداز میں کہا ۔۔۔
ناک غصے سے پھولنے لگی تھی۔۔۔
ممکن۔۔۔ بنا کر رہوں گا۔۔۔ ڈھیٹ پن سے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
ندوہ نے زچ ہو جانے کے انداز سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔وہ اسے پاگل ہی لگ رہا تھا۔۔ جو بہت جلد اسے بھی پاگل کر دینے والا تھا۔۔۔
مما بابا آ رہے کل آپی کے سسرال تو سوچ رہا ہوں بات کر ہی لوں ۔۔۔ تارز نے سینے پر ہاتھ باندھ کر خلاف معمول سنجیدہ لہجے میں کہا۔۔
خبر دار ہر گز نہیں۔۔ ندوہ ایک دم سٹ پٹا گٸ تھی۔۔
حکم کس حق کے تحت اتنا چلاتی ہو ۔۔۔ ہاں۔۔۔ تارز نے مصنوعی رعب دکھاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
کوٸ حق نہیں رکھتی میں اور نہ مجھے شوق ہے۔۔۔۔ندوہ نے روہانسی آواز میں کہا اور واش روم میں گھس گٸ۔۔۔
اور وہ مسکرا دیا تھا ۔۔۔۔کب مانو گی۔۔۔ کب مانوگی۔۔۔ تارز نے دھیرے سے مکے کی شکل میں ھاتھ کو سینے کی باٸیں طرف مارتے ہوۓ سوچا تھا۔۔۔
****************
ہٹاو میرے آگے سے یہ۔۔۔ ندوہ نے جھٹکے سے تارز کے موباٸل پر ہاتھ مارا تھا جو ایک طرف جا گرا تھا۔۔۔
کیوں۔۔۔ دیکھو اس کو وہ کتنا خوش ہے۔۔۔ تارز نے پھر سے موباٸل اٹھا کر ندوہ کے سامنے کیا تھا۔۔۔
ندوہ نے کھا جانے والی نظر سے تارز کی طرف دیکھا تھا۔۔
حبان کو ھدیل نے اپنی شادی کی ساری تصاویر ٹیگ کی تھیں جو تارز اب ندوہ کو دکھا رہا تھا۔۔۔
وہ یہ ساری تصاویر نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ اسے اب اس بات سے کوٸ سروکار نہیں تھا۔۔۔ وہ اب ان باتوں پر ٹوٹ کر بکھر کر حدید کو اور سلمی کو دکھ نہیں دینا چاہتی تھی۔۔
ہاں تورہے مجھے کیا پرواہ۔۔ ندوہ نے اپنا موباٸل ہاتھ میں لے کر لاپرواہی سے کہا ۔۔۔ وہ ضبط کی آخری سیڑھی پر تھی اور تارز اس کی چہرے کے پیچھے چھپے کرب کی کھوج میں لگا تھا۔۔۔
تو تم کیوں نہیں خوش رہتی ۔۔۔ بہت بھیگی سی آواز تھی۔۔۔
وہ ندوہ کو پھر سے ویسا ہی دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ ہنسنے کھیلنے والی ۔۔۔ زندہ دل ۔ ۔۔۔۔ لیکن اب وہ ایسی نہیں رہی تھی ۔۔۔ وہ ٹھیک کہتی تھی وہ اب اس سے دو سال بڑی نہیں تھی بلکہ بہت سے سال بڑی تھی۔۔۔ لیکن وہ اسے دل و جان سے چاہتا تھا اس کو کیسے بتاۓ کے اس کے لیے
6
جو محسوسات اس کے دل میں ہے وہ کبھی نہیں بدلیں گی۔۔ وہ صرف دل لگی نہیں کرتا اس سے بلکہ بہت محبت کرتا ہے لیکن اس نے تو اپنے دل کی دیواروں کو سیسہ پلاٸ دیواریں بنا لیا تھا۔۔ جس سے وہ بار بار ٹکریں مار رہا تھا ۔۔۔ اسے لاہور آۓ پندرہ دن ہو چکے تھے اور ندوہ کا ہنوز وہی رویہ تھا ۔۔۔ اس کو لگتا تھا وہ اسے اپنی شرارتوں اپنی محبتوںں سے جیت لے گا لیکن اب یوں لگتا تھا وہ خود ہار جاۓ گا۔۔۔
میں خوش ہی رہتی ہوں تم نے کب مجھے اداس دیکھا ہاں البتہ تم میرے سامنے نہ آیاکرو تو زیادہ خوش رہ سکتی ہوں۔۔۔ دوٹوک انداز میں کہتی ہوٸ وہ سیدھی ہوٸ تھی۔۔۔
یہ تھوبڑا تو حضور آپکو تاحیات دیکھنا ہے۔۔۔۔ عادت ڈال لیں محترمہ۔۔۔ بڑے انداز سے وہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا تھا جبکہ ایک ھاتھ ہوا میں تھا۔۔۔۔
خوش فہمی تمھاری ۔۔۔ اور تمہیں جو شوق چڑھا ہے رشتہ ڈالنے کا ڈال لو شوق سے۔۔۔ ندوہ کا خون جل کر رہ گیا تھا اس کے اس ڈھیٹ انداز سے ۔۔۔
ہاں پورا ارادہ ہے امی ابو آج ادھر آ رہے ہیں ساتھ آپی بھی ہیں میں ان سے کہوں گا وہ بات آگے بڑھاٸیں۔۔۔ مسکرا کر تارز نے کہا اور ایک کہنی بیڈ پر ٹکا کر بڑے انداز میں محبت سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
سیاہ جوڑے میں سرخ چہرہ لیے۔۔۔ بیٹھی تھی ۔۔۔ آنکھیں بلکل کسی بٕھی احساس سے خالی تھیں ۔۔۔
میں انکار کر دوں گی ۔۔۔۔ ندوہ نے سختی سے کہا۔۔۔
سوچ ہے تمھاری تم سے پوچھے گا کون۔۔۔ بڑے لاپرواہ انداز میں تکیہ اٹھایا اور اپنے سر کے نیچے رکھتا ہوا وہ سیدھا لیٹ گیا تھا۔۔۔
میرے ابا۔۔۔ میں ابا سے کہوں گی ۔۔۔ ندوہ نے اس کے لیٹنے کے انداز کو ناگواری سے دیکھا اور دو ٹوک انداز میں کہا۔۔۔
میں ماموں کو یقین دلا دوں گا کہ میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا۔۔۔ ہلکا سا قہقہ لگایا تھا۔۔۔ اور آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔۔
ابا تمھاری نہیں میری بات کا یقین کریں گے سمجھے تم ۔۔۔۔ ندوہ کو اب تپ چڑھ گٸ تھی اس پر۔۔۔۔
اب جاٶ یہاں سے ۔۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔ اس کے سر سے اتنی زور سے تکیہ کھینچا تھا کہ اس کا سر بیڈ پر زور سے لگا تھا۔۔۔
کیوں تم رونا چاہتی ہو۔۔۔ مسکراہٹ دبا کر کہا ۔۔
ندوہ نے آنکھیں نکال کر ماتھے پر بل ڈالے۔۔۔۔
اچھی بات ہے رو کر ھدیل کو دل سے دھو ڈالو ۔۔۔ اس دل پر صرف میری حکومت ہو گی۔۔۔ بڑے معنی خیز اور ڈھیٹ انداز میں کہا۔۔۔
اپنے گھٹیا ڈاٸیلاگ اپنے پاس رکھو ۔۔ میں نہ تو ھدیل کے لیے مری جا رہی ہوں ۔۔۔ اور نہ ہی تمہیں اپنے دل کے تخت پر سجاٶں گی ۔۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا اور بیزار سی شکل بناٸ۔۔۔
میرا خیال ہے تم نہیں جاٶ گے مجھے ہی جانا پڑے گا۔۔۔ وہ ایک دم سے ایک ہاتھ میں موباٸل اٹھاتی بیڈ سے اترتی ہوٸ بولی تھی۔۔۔
ارے ارے۔۔۔۔ غصہ نہیں جانے والا ہوں۔۔۔ تارز ایک دم سے جھٹکے کی صورت میں اٹھا تھا۔۔۔
اٹھ کر اپنا موباٸل نکالا ۔۔۔
ویسے جوڑی اچھی لگ رہی ہےھدیل کی ۔۔ اپنے موباٸل ہر نظریں جما کر وہ بے اختیار ہی کہہ گیا تھا۔۔۔
ندوہ کا رنگ ایک دم سے پھیکا پڑا تھا۔۔۔ اور پھر وہ وہاں نہیں رکی تھی۔۔۔
دور تھا اک گزر گیا ۔۔۔
نشا تھا اک اتر گیا۔۔۔۔
اب وہ مقام ہے جہاں۔۔۔
اپنی آرزو بھی نہیں تیری تلاش بھی نہیں۔۔۔
وہ بھاری دل کے ساتھ بھاری قدم اٹھاتی ۔۔ داود کے کمرے میں جا رہی تھی ایک وہی تھے جو اس کے آنکھوں سے بہتے لاوے کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔
*************
یہ میں اور ابتہاج ترس کھا کر نہیں کہہ رہے ہیں ۔۔۔ سیما نے حدید کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔۔۔
حدید نے تشکر بھری نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔
میں دل سے چاہتی ہوں ۔۔۔ ندوہ ہمارے گھر کی بہو بنے۔۔۔۔ سیما نے مسکرا کر اب سلمی کی طرف دیکھا جو نم آنکھیں لیے بیٹھی تھی۔۔۔
ندوہ جیسی سلجھی ہوٸ بچی ہمارے گھر میں آۓ اس سے بڑھ کر ہماری کیا خوش نصیبی ہو گی۔۔ ابتہاج نے بھی گفتگو میں حصہ ڈالا تھا ۔۔۔
درست کہہ رہے ہیں آپ لیکن ۔۔۔ ندوہ سے پوچھنا ضروری ہے۔۔۔ حدید نے سر جھکا کر کہا۔۔۔
وہ ابتہاج کی بہت عزت کرتا تھا۔۔۔ اور آج ندوہ کا رشتہ مانگنے پر حدید کی نظر میں ابتہاج کی یہ عزت اور بڑھ گٸ تھی۔۔۔
ہاں توپوچھیں نہ ۔۔۔ مجھے پتہ ہے وہ کبھی انکار نہیں کرے گی۔۔۔ سیما نے میٹھی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔۔۔
بے شک ۔۔ میری بچی ایسی ہی ہے۔۔۔ حدید نے محبت بھری نظروں سے سیما کی طرف دیکھا۔۔۔
سیما ۔۔ تم نے میرے دل پر پڑا منوں بوجھ کم کر دیا۔۔۔ سلمی نے سیما کے گلے لگتے ہوۓ کہا۔۔۔
ارے ایسی باتیں کیوں کرتی ہو ۔۔ سیما نے سلمی کی پشت کو آہستہ سے تھپکتے ہوۓ محبت سے کہا۔۔۔
میں تو اس دفعہ ابتہاج کو لے کر ہی اس لیے آٸ ہوں تمھاری طرف۔۔۔ہم تو تب سے سوچ کر بیٹھ تھے جب سے ھدیل کے رشتے کی شش و پنج چل رہی تھی۔۔۔ اب جب پرسوں اس کی شادی کا پتہ چلا تو ۔۔۔ سیما کچھ شرمندہ سی ہو کر چپ ہوٸ تھی۔۔۔
بس سیما بہت بڑی غلطی ہو گٸ اتنی دیر آس لگاۓ بیٹھی رہی۔ سلمی پھر سے رو دی تھی اور اپنے ہی دوپٹے سے آنسو صاف کرنے لگی۔۔۔
یہ سب قسمت کے کھیل ہیں۔۔۔ تم دیکھنا ندوہ میرے گھر میں بہت خوش رہے گی۔۔۔۔ سیما نے مسکراتے ہوۓ سلمی کے جھکے چہرے کو اوپر کیا تھا۔۔۔
سیما۔۔۔سیما۔۔۔میرے پاس آ جا بیٹی ۔۔۔ داٶد جو اتنی دیر سے بس خاموش بیٹھے تھے اب نقاہت بھری کانپتی آواز میں بولے۔۔
جی ابا۔۔۔ سیما محبت سے اٹھ کر ان کے پلنگ تک آٸ تھی اور پھر ان کے گلے لگ گٸ تھی۔۔۔
تو نے آج ۔۔ ۔۔ اپنے بوڑھے باپ کا سر فخر سے اونچا کر دیا۔۔۔ داٶد نے سیما کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا تھا۔۔۔ اور اس کا ماتھا چوما تھا۔۔
ابا ۔۔۔ یہ آپ لوگوں کی نہیں میری خوش قسمتی ہے۔۔۔ سیما نے مسکرا کر سب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
سب کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔۔۔۔۔۔
****************
مہک بیٹا تھوڑی دیر کے لیے باہر جاٶ گی تم اور حدفہ ۔۔۔ ہمیں ندوہ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔ سلمی نے مسکراتے ہوۓ حدفہ اور مہک سے کہا تھا۔۔۔
حدفہ جو مہک کے دو سال کے بیٹے کو گود میں لے کر بیٹھی تھی مسکراتی ہوٸ باہر نکلی تھی ۔۔۔ اور مہک ندوہ کی طرف محبت سے دیکھتی ہوٸ زیر لب مسکراتی ہوٸ باہر نکلی تھی۔۔۔
ندوہ کا دماغ ساٸیں ساٸیں کرنے لگا تھا۔۔۔ اچھا تو تارز ابتہاج تم نے کر ہی دیا جو تم نے کہا تھا۔۔۔
ندوہ جو پلنگ پر ٹأنگیں پسارے بیٹھی تھی جلدی سے ٹانگیں سمیٹی تھیں۔۔۔ سلمی اس کے ساتھ پلنگ پر جبکہ حدید سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گۓ تھے۔۔۔
ندوہ۔۔۔ ہم تم سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔۔ اور ہمیں اس بات پر بھی یقین ہے کہ تم بھی ہمیں بہت چاہتی ہو ہماری عزت کرتی ہو۔۔۔ حدید نے ٹھہر ٹھہر کر میٹھے سے لہجے میں کہنا شروع کیا تھا ۔۔
سلمی ان کی باتوں کی تاٸید میں صرف سر ہی ہلا رہی تھی لیکن اس کے چہرے پر سجی مسکراہٹ اس کے اندر کی خوشی کا واضح ثبوت تھی۔۔۔
اوہ میرے خدایا اب میں ابا کو کیسے انکار کروں گی۔۔۔ کیا کہوں گی میں ان سے ۔۔۔ کہہ مجھے کیوں نہیں کرنی تارز سے شادی۔۔۔ کیا کہوں گی مجھے بڑی عمر کے شوہر پسند ہیں میں اس کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکوں گی۔۔۔افف میرے خدا میرے اس جواز کو تو ابا رد کر دیں گے ۔۔ ندوہ لب کچلتے ہوۓ سوچ رہی تھی۔۔۔۔
تمھاری پھپھو تمھارے لیے رشتہ لے کر آٸ ہیں بہت چاہت کے ساتھ۔۔۔ہم دونوں اس رشتے سے بہت خوش ہیں ۔۔۔ حدید نے مسکراتے ہوۓ بڑے مان سے کہا۔۔۔
ندوہ نے بیچارگی سے سلمی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
پھر بھی تمھاری ہاں ہمارےلیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔۔۔ حدید نے اگلی بات بھی اسی محبت بھرے لہجے میں کی۔۔۔۔
حبان بہت اچھا لڑکا ہے تمہیں بہت خوش رکھے گا۔۔۔ حدید نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
ندوہ نے چونک کر نظر اٹھاٸ تھی ۔۔۔ کیا کہا تھا ابا نے تارز نہیں حبان ۔۔۔ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا ۔۔۔
ایک دم سے جیسے سکون کی لہر اسے وجود میں سراٸیت کر گٸ تھی۔۔۔
ابا جیسے آپ لوگ مناسب سمجھیں۔۔۔ ندوہ نے مدھم سی آواز میں کہا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: