Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 7

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 7

–**–**–

یہ کس چیز کہ مٹھاٸ اور شور کیوں ہو رہا اتنا۔۔۔ تارز نے گلاب جامن اٹھا کر منہ میں رکھی حیرانگی سے حدفہ کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔
جو اس کے سامنے مسکراتی ہوٸ مٹھاٸ کا ڈبہ لیے کھڑی تھی۔۔۔وہ ابھی شام کو چھ بجے آفس سے گھر آیا تھا ۔۔۔ رات سیما ۔۔مہک اور ابتہاج دیر سے پہنچے تھے صبح وہ جلدی آفس کے لیے نکل گیا تھا۔۔ اب لوٹا تو گھر میں شور شرابا تھا ہر طرف قہقے اور خوشی کا سماں تھا۔۔۔
لو جو تارز بھاٸ کو کسی نے بتایا ہی نہیں تھا۔۔۔ حدفہ نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور پاس کھڑی مہک سے کہا جو اپنے بیٹے کو گود میں اٹھاۓ کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔۔
تارز نے نہ سمجھی کے انداز میں ایک نظر حدفہ اور پھر ایک نظر مہک پر ڈال کر ہونٹ تھوڑے باہر نکالے۔۔۔اور سر کو نفعی میں ہلایا۔۔۔۔
ندوہ آپی آپ کی بھابھی بننے جا رہی ہیں۔۔۔ حدفہ نے پر جوش انداز میں چہکتے ہوۓ کہا۔۔۔
تارز ایک دم ساکن ہوا تھا ۔۔اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔
کہ۔۔۔کیا مطلب۔۔۔۔لڑ کھڑاتی سی زبان میں پوچھا جب کہ آنکھیں سکڑ گٸ تھیں اور ماتھا شکن آلودہ ہو گیا تھا۔۔۔
مطلب کیا حبان بھاٸ اور ندوہ کا رشتہ طے کر دیا ہے۔۔۔ مہک نے لا پرواہ انداز میں کہا وہ اپنے بیٹے کو سلانے کے غرض سے ہلکا ہلکا جھولنے کے انداز میں ہل رہی تھی۔۔۔
تارز کے لب ایک دم پیوست ہوۓ تھے۔۔ گردن کی رگیں پھول گٸ تھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔۔۔۔
وہ تیزی سے کمرے کی طرف بڑھا تھا جہاں سے شور و غل سناٸ دے رہا تھا۔۔۔ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو سب سے پہلے نظر سامنے سر جھکاۓ بیٹھی ندوہ پر پڑی جو سلیقے سے سر پر دوپٹہ جماۓ ابتہاج اور سیما کے درمیان میں بیٹھی تھی۔۔سب لوگ مسکرا رہے تھے اس کے آتے ہی شور اور بڑھ گیا تھا سب اس کو اس عجیب رشتے کے طے ہونے کا بتا رہے تھے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔۔۔ندوہ نے سر اوپر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر ایک فاتحانہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر ابھری تھی۔۔۔ تارز کا منہ اتر گیا تھا دونوں کی نظریں ملی تھیں۔۔۔ ندوہ پر سکون تھی۔۔۔ اور تارز کے اندر کی تڑپ اور کرب اس کے چہرے پر واضح تھا۔۔۔۔ایک لمحہ ٹھہر گیا تھا ۔۔۔ ایک دم سے جیسے تارز کو ہوش آیا تھا ۔۔ وہ سیما کے پاس ہوا تھا
مما۔۔۔ مما میری بات سنیں۔۔۔ تارز نے مدھم سی آواز میں دانت پیستے ہوۓ سیما کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔
ایک منٹ ۔۔۔ سیما باتوں میں مصروف تھی لاپرواہی سے مسکراتے ہوۓ اس سے بے نیازی برتی۔۔۔
مما ابھی ایک منٹ نہیں۔۔۔ تارز نے تھوڑا غصے کے انداز میں دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
ندوہ نے محوزوز ہوتے ہوۓ تارز کی حالت کو دیکھا ۔۔ اس کا تڑپنا ۔۔ اس کو سکون دے گیا۔۔۔ اب تمہیں پتہ چلا تارز ابتہاج کہ سب لوگ میرے ساتھ ہیں یا تمھارے ساتھ وہ پھر سے مسکرا دی تھی۔۔۔
سیما کو اس کا غصہ دیکھ کر اٹھنا ہی پڑا پر تجسس انداز میں وہ اٹھیں تھیں اور تارز کے پیچھے چل دی تھیں وہ تیزی سے چلتا ہوا ڈراٸینگ روم میں آیا تھا ۔۔۔
باقی سب لوگ داٶد کے کمرے میں بیٹھے تھے۔۔۔وہ سیما کو ذرا الگ یہاں لے آیا تھا۔۔۔
ہم۔مم۔م۔ بولو کیا مصیبت آن پڑی تمہیں سارے بڑے باتیں کر رہے تھے بیچ میں سے اٹھا کر لے آۓ مجھے۔۔۔ ڈراٸنگ روم میں آتے ہی سیما نے تنک کر تھوڑا ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔۔۔
مما حبان سے ندوہ کا۔۔۔ تارز نے پریشانی سے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بات شروع کی۔۔۔
ہاں تو کیا۔۔ ۔۔۔۔۔ تارز کے رک جانے پر سیما نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
حبان مان گیا۔۔۔۔ ایک دم سے تارز نے بات کا رخ بدلہ ۔۔۔
مان جاۓ گا تمھارے جیسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ سیما کو تارز کے عجیب سے انداز پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔
مطلب اس سے ابھی تک بات نہیں ہوٸ۔۔۔۔ تارز نے ایک دم سے انگلیوں کو لبوں پر رکھتے ہوۓ حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
ہاں تو اس سے پوچھنے کی ضرورت بھی کیا ہے ہمیشہ سے ہماری ہر بات مانتا آیا ہے ہماری مرضی کے مطابق زندگی گزارتا آیا ہے۔۔۔ سیما نے تیوری چڑھا کر کہا اور تارز کے چہرے کا غور سے جاٸزہ لیا۔۔۔
لیکن یہ اس کی زندگی کا بہت اہم فیصلہ ہے۔۔۔ تارز نے مسکین سی شکل بنا کر ایک اور پتا پھینکا ۔۔۔
چھوڑو تم ہم جانتے ہیں حبان کو اور تمہیں کیا مسٸلہ ہے تمہاری تو اتنی دوستی ہے ندوہ سے تمہیں خوشی نہیں ہوٸ کیا۔۔ سیما نے چڑ کر کہا اور عجیب نا سمجھی کی حالت میں تارز کے پریشان حال چہرے کو دیکھا۔۔۔
بس چھوڑیں آپ۔۔۔ تارز نے غصے سے بازو جھٹکا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔
سیڑھیاں پھلانگتا ہوا وہ اپنے کمرے میں آیا لب کچلتے ہوۓ کمرے کے دو چکر لگاۓ اور پھر جیب سے موباٸل نکال کر انگلیاں چلاٸیں۔۔۔
ہاں ۔۔ کیسے ہو۔۔ دوسری طرف سے جیسے ہی حبان نے فون اٹھایا تارز نے جلدی سے بے چین سی آواز میں کہا۔۔۔
سلام تو کر لو پہلے۔۔۔ حبان نے مخصوص انداز میں طنز کیا تھا ۔۔
دونوں کی بچپن سے ہی نہیں بنتی تھی ایک تو مہک کے درمیان میں ہونے کی وجہ سے گیپ زیادہ تھا دونوں میں دوسرا عادات ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھیں۔۔۔
تمھاری یہاں بات پکی کر دی ۔۔ اپنی طرف سے تو تارز نے حبان کے سر پر دھماکا ہی کیا تھا۔۔۔
ہاں بتایا مجھےبابا نے۔۔۔ حبان نے پر سکون انداز میں کہا۔۔
تو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ تارز کا سانس ہی تو اٹک گیا تھا گھٹی سی آواز میں بس تو ہی نکل سکا منہ سے۔۔۔
تو کیا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ حبان نے حیران ہو کر اس کی بات کو دھرایا تھا۔۔۔۔
اسے لگا تھا حبان کو خبر ہو گی تو وہ شاٸد کوٸ ایکشن لے گا پر اس کا اندازہ بلکل غلط ثابت ہوا وہ واقعی میں مما بابا پر چھوڑ چکا تھا اپنی زندگی کا فیصلا ۔۔۔ کٹھ پتلا کہیں کا۔۔۔ تارز نے فون بند کیا اور زور سے بیڈ پر مارا ۔۔۔۔
****************
تمھارا دماغ ٹھیک ہے تارز ۔۔۔ مہک نے آنکھیں پھیلا کر اور منہ حیرانگی سے کھولتے ہوۓ کہا۔۔۔
آپی نہیں خراب ہو چکا ہے۔۔۔ پلیز کچھ کرو۔۔ تارز نے بے چارگی سے مہک کی طرف دیکھا وہ واقعی میں بہت پریشان لگ رہا تھا۔۔
حبان سے مایوس ہو جانے کے بعد اب تارز نے مہک کو مسیج کر کے اوپر اپنے کمرے میں بلایا تھا۔۔۔
پاگل ہو کیا تم ۔۔۔ ندوہ اتنی بڑی تم سے لڑکے اپنی عمر سے کوٸ پانچ چھ سال چھوٹی لڑکی مانگتے اور ایک تم ہو۔۔ چار پانچ سال بڑی ہے تم سے وہ۔۔۔ مہک کو اس کی بے تکی محبت پر حیرت سے زیادہ غصہ آیا تھا ۔۔
کیونکہ وہ سب لوگ اسے ابھی بہت چھوٹوں کی طرح ٹریٹ کرتے تھے۔۔۔
ارے بس کریں آپی۔۔۔ دو سال ہے صرف ۔۔ اب جس بندے سے بھی بات کروں گا وہ سال بڑھاتا جاۓ گا اس کی عمر کے۔۔۔ مجھے یہ بتاٸیں لگتی ہے کیا وہ مجھ سے بڑی۔۔۔ تارز نے بھی برابر غصہ دکھایا تھا۔۔۔
لگتی اور ہونے میں فرق ہوتا تارز ۔۔۔ اور یہ بڑھی ہوٸ شیو اور مونچھیں یہ سب اسی لیے کیا ہوا تم نے۔۔۔ مہک نے تارز کے چہرے کو غور سے اور ناگواری سے دیکھا۔۔۔
تارز نے اب ہلکی سی شیو اور مونچھیں رکھنی شروع کر دیں تھیں جس کی وجہ سے وہ بڑا لگتا تھا چہرے سے ۔۔۔
آپی یہ سب چھوڑیں بس آپ بات کریں سب سے ۔۔۔ تارز نے چڑ کر کہا ۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جلدی سے جلدی یہ نیا ٹنٹا ختم ہو اور اس کی بات چلے۔۔۔
کیا ندوہ بھی یہی چاہتی ہے۔۔۔ مہک نے ٹھہرے سے لہجے میں غور سے تارز کے چہرے کو کھوجتے ہوۓ کہا۔۔۔
نہیں۔۔۔ تارز نے نظریں چرا کر ارد گرد دیکھا۔۔۔۔
تو تم واقعی پاگل ہو۔۔۔ یہ وقتی تمھارے سر پر خمار چڑھا ہوا ہے ۔۔ پاگل وہ جلدی بوڑھی ہو جاۓ گی اور تم جوان ہو گے۔۔۔ مہک نے اس کو سمجھانے کی غرض سے اس کے ماتھے پر انگلی رکھ کر اسے زور سے پیچھے کو دھیکلا
بس کریں آپی یہ فضول باتیں ۔۔آپ بس یہ رشتہ ختم کروا کر میرا کروایں۔۔۔ تارز نے غصے سے مہک کے بازو کو جھٹکا۔۔۔
فضول بات میں نہیں تم کر رہے ہو۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا تم اپنا دماغ درست رکھو۔۔۔ مہک ایک دم سے غصے میں کہتی ہوٸ اٹھی تھی۔۔
اور خبردار ایسی کوٸ بھی ضد کی بابا کا پتا ہے نہ ۔۔۔ تمھاری ویسے بھی فیور کر کر کے میں اور مما تھک چکے ہیں۔۔۔ مہک نے تیزی سے اسے ڈانٹتے ہوۓ کہا۔۔۔
جانے دو مجھے اب علیا رو رہا ہو گا۔۔۔ وہ اسے گھور کر نا گواری سے دیکھتے ہوۓ نیچے جا چکی تھی۔۔۔
*************
یہ کیوں کیا تم نے۔۔۔ تارز نے سرگوشی کی آواز میں کہا۔۔۔
ندوہ داٶد کو دبا کر ابھی ان کے کمرے سے نکلی ہی تھی جب تارز اس کا منہ دبا کر کھینچتا ہوا ڈراٸینگ روم میں لے آیا تھا ایک جھٹکے سے اسے چھوڑتے ہوۓ اب وہ کانپتی سی غصے میں بھری آواز میں کہہ رہا تھا۔۔۔
کہنا کیا چاہتے ہو۔۔ ندوہ نے غصے سے اپنا بازو سہلاتے ہوۓ کہا۔۔
اسے تارز کے ایسے غصے کو دیکھ کر کوٸ حیرانگی نہیں ہوٸ تھی ۔۔ اسے پتہ تھا اب وہ اپنی بیو قو فی میں ایسا کچھ ضرور کرے گا۔۔۔۔
تمہیں معلوم ہے میں کتنا چاہتا ہوں تمہیں۔۔تڑپ جیسے لہجے میں تارز نے کہا۔۔۔ اب وہ بے بس اس کے سامنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کھڑا تھا۔۔۔
اور تمہیں بھی یہ پتہ ہے میں بلکل نہیں چاہتی ہوں تمہیں۔۔ ندوہ نے پر سکون لہجے میں کہا اسے اب تارز سے خوف نہیں آ رہا تھا وہ حبان سے رشتہ ہو جانے پر پر سکون تھی۔۔۔
۔خدا کا واسطہ اب جو ہمارے بیچ رشتہ بننے جا رہا ہے اس کا ہی احترام کرنا۔۔۔ ندوہ نے اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہاتھ تم نہیں میں جوڑتا ہوں تمھارے آگے ۔۔۔ تارز نے دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنے سر کے قریب کیے۔۔۔ اور سر نیچے جھکا لیا۔۔
پلیز ندوہ میری محبت پر یقین کرو۔۔۔ مدھم سی آواز تھی۔۔
ٹھیک ہے کر لیا یقین ۔۔۔ تو کیا۔۔۔۔۔ مجھے تو نہیں ہے محبت تم سے۔۔۔
تارز نے لب بھینچتے ہوۓ اپنے سامنے کھڑی اس پتھر دل لڑکی کو دیکھا۔۔۔
تو کیا حبان سے ہے تمہیں محبت۔۔۔ بھیگی سی مدھم سی آواز اندھیرے کمرے میں گونجی تھی۔۔۔
ہو جاۓ گی ۔۔۔ ندوہ نے بھی مدھم سی آواز میں پر سکون لہجے میں کہا۔۔۔
7
تو اس طرح مجھ سے بھی ہو جاۓ گی۔۔۔ تارز نے سختی سے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
تم سے کبھی نہیں ہو گی۔۔۔ ندوہ نے ہنوز اسے انداز میں کہا تھا۔۔
تارز سر جھکاۓ کھڑا رہ گیا تھا۔۔۔ اور وہ پاس سے گزرتی ہوٸ باہر نکل گٸ تھی۔۔۔
اب میری آخری امید حبان ہے۔۔۔ دل میں کچھ سوچتا ہوا وہ بھی وہاں سے نکل گیا تھا۔۔
******************
ایک ہفتے کی چھٹی لے کر آ گۓ ہو خیر ہے۔۔۔ ابتہاج نے کن اکھیوں سے ایک نظر تارز پر ڈال کر طنز بھرے لہجے میں کہا جو دو بجے کے قریب اٹھ کر اب آنکھیں ملتا ہوا اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔۔
جی ۔۔ ۔۔ خیر ہے۔۔۔ ۔۔۔۔ تارز نے مختصر جواب دیا جان چھڑوانے والا انداز تھا۔۔۔
وہ رات بہت دیر سے خان پور پہنچا تھا سب لوگ سو چکے تھے وہ سیما کو مختصر بتاتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا کہ وہ ایک ہفتے کی چھٹی لے کر آیا ہے۔۔۔ وہ حبان سے بات کرنے کا عزم لے کر آیا تھا۔۔ وہ ندوہ کو حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا چاہتا تھا۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور تھا ۔۔ جو ایک دفعہ ھدیل کی وجہ سے تو پیچھے ہو گیا تھا لیکن اب کسی قیمت پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔
تارز چلتا ہوا سامنے کچن میں کھڑی سیما کے پاس آ گیا۔۔۔
مما حبان ۔۔۔ ٹوکری میں سے سیب اٹھا کر ہاتھ میں لیتے ہوۓ وہ بھاری سی خماری بھری آواز میں بولا ۔۔
وہ نکل گیا ہے آفس کے لیے۔۔۔۔ خیریت ۔۔۔ سبزی بناتے ہوۓ مصروف سے انداز میں سیما نے کہا۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ سیب کھاتے ہوۓ پریشان سے لہجے میں کہا۔۔۔
بڑی جلدی نہیں شادی رکھ دی۔۔۔ تارز نے آنکھیں سکیڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
کیوں دو ماہ ہیں بڑی جلدی تھوڑی ہے۔۔۔ سیما نے عجیب سی نظروں سے تارز کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
پھر بھی دو ماہ صرف ۔۔۔ ۔۔۔ تارز نے پھر سے اسی لہجے میں کہا اور پاس پڑی ڈاٸنگ ٹیبل کی کرسی کو گھوما کر الٹے رخ کو بیٹھ گیا ۔۔
تمہیں کیا مسٸلہ ہے حبان کی ہے تمھاری تو نہیں ہے ۔۔ تم نے کونسا لاہور سے کام کروانے آ جانا ہے وہی بیگانوں کی طرح وقت پر ہی پہنچو گے۔۔۔ تھوڑی دور بیٹھے ابتہاج سے رہا نہیں گیا تھا۔۔تنک کر طنز بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
مما ایک بات تو بتاٸیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے تھوڑا رازدانہ انداز اپناتے ہوۓ سیما سے کہا۔۔۔
میں آپ دونوں کا ہی بیٹا ہوں۔۔۔ آواز میں مصنوعی تجسس بھر کر پوچھا۔۔۔
تمہیں اگر عقل کی کوٸ بات کہہ دیں تو ایسے شروع ہو جاتے ہو۔۔۔ ابتہاج اس کی بات پر بھڑک کر بولے تھے۔۔۔
میں بھی دو گھڑی اگر آپ لوگوں کے پاس بیٹھ جاٶں تو آپ لوگ طعنے ہی دیتے رہتے ہو۔۔۔ تارز غصے سے کرسی پر سے اٹھا تھا اور اس کے تیز تیز قدموں کا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا۔۔۔
****************
حبان سے ملنا ہے۔۔۔۔ تارز نے سامنے کھڑے آدمی سے کہا۔۔۔
وہ حبان کے آفس آیا تھا ۔۔گھر میں حبان سے بات کرنا مناسب نہیں تھا اس لیے وہ اس کے آفس پہنچ گیا تھا کہ یہاں سے اسے لے کر وہ کسی جگہ پر بیٹھ کر اسے سمجھاۓ گا۔۔۔ وہ یہی سوچ کے زیر اثر اس کے آفس پہنچ گیا تھا۔۔۔
سر وہ لنچ ٹاٸم ہے اس وقت آپکو وہ کیفے ٹیریا میں ملیں گے۔۔ لڑکے نے جواب دے کر مسکرا کر دیکھا۔۔۔
اوکے تھنکیو۔۔۔ تارز مصاحفہ لیتا ہوا کیفے ٹیریا کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔
جیسے ہی وہ کیفے ٹیریا کی طرف آیا تو سامنے کے منظر نے اس کے قدموں کو تھمنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔
حبان ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جو رو رہی تھی اور حبان اس کے سامنے سر پکڑے بیٹھا تھا ۔۔۔
پھر وہ لڑکی غصے سے اٹھی تھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی باہر کی طرف آ رہی تھی وہ ابھی بھی ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو صاف کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ حبان وہیں پریشان حال سر کو ہاتھوں میں جکڑے بیٹھا تھا۔۔۔
لڑکی تیز تیز قدم اٹھاتی تارز کے پاس سے گزرتی ہوٸ آفس سے باہر کے راستے کی طرف جا رہی تھی۔۔۔
تارز کو ایک دم سے جیسے ہوش آیا تھا۔۔۔ وہ حبان کو وہیں چھوڑ کر اب لڑکی کے پیچھے ہو لیا تھا۔۔۔۔
ایکسکیوزمی۔۔۔ تارز نے مدھم سی آواز میں کہا۔۔۔
لڑکی اپنی کار کا لاک کھول رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے بہتے آنسو صاف کر رہی تھی۔۔ تارز کی آواز پر اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا۔۔ وہ کافی لبرل سی خوبصورت لڑکی تھی جس کی ظاہری حالت سے وہ کافی اچھے گھرانے کی لگ رہی تھی۔۔۔
وہ ۔۔۔ مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔ تارز نے مہزب لہجے میں کہا۔۔۔
لڑکی نے ناگوار سی نظر ڈالی ۔۔۔
لیکن مجھے کسی سے بات نہیں کرنی۔۔۔ لڑکی نے سخت لہجے میں کہا اور پھر گاڑی کا لاک کھولنے میں مصروف ہو گٸ تھی۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ میری بات سنیں۔۔۔ میں تارز ہوں حبان کا چھوٹا بھاٸ۔۔ تارز نے تیزی سے اسے اپنے بارے میں بتایا تھا۔۔۔
جس پر ایک دم سے دروازہ کھولتے ہوۓ اس کے ہاتھ رک گۓ تھے۔۔
***************
میری حبان سے ملاقات یونیورسٹی میں ہوٸ تھی۔۔۔ وہ مجھ سے سینیر تھے۔۔۔ تانیہ نے نظریں جھکا کر مدھم سے لہجے میں کہا۔۔
تارز اس کے سامنے بلکل خاموش بیٹھا تھا۔۔ وہ حبان کے آفس کے پاس ہی ایک ریسٹورانٹ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔
شروع شروع میں ۔۔۔ میں ان سے سٹڈی میں ہیلپ لینے جاتی تھی۔۔۔پھر ہماری دوستی ہوٸ۔۔۔ اور کب یہ دوستی گہری محبت میں بدل گٸ مجھے پتہ بھی نہ چلا۔۔۔ تانیہ آنسوٶں کے زیر اثر بھاری سی آواز میں تارز کو اپنی رام کہانی سنا رہی تھی۔۔۔
اچھا تو مما بابا کا لاڈلا سپوت۔۔۔ جس کے گن گاتے نہیں دونوں تھکتے تھے۔۔ ایک جاندار قسم کی محبت کرتے تھے اور ہم میں سے کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی۔۔۔ تارز نے لبوں پر مسکراہٹ سجا کر سوچا تھا۔۔۔
حبان مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں مجھے یقین ہے اس بات کا لیکن اب آ کر وہ اس پانچ سال کے ریلشن کو ختم کر رہے ہیں کیونکہ آپ کے پرینٹس نے ان سے پوچھے بنا ان کا رشتہ ۔۔۔۔۔۔ تانیہ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا وہ پھر سے رونے لگی تھی۔۔۔
پلیز۔۔۔ روٸیں مت۔۔۔ تارز ایک دم سے اس کے یوں رونے پر پریشان ہو گیا تھا۔۔۔جلدی سے پاس پڑے ٹشو باکس کو اس کے قریب کیا تھا۔۔۔
تو اور کیا کروں ۔۔۔ اتنی مشکل سے میں نے اپنے پیرینٹس کو حبان کے لیے راضی کیا تھا۔۔۔ وہ میری شادی اپنے کسی دوست کے بیٹے سے کرنا چاہتے تھے ان کے ٹرمز میری وجہ سے خراب ہوۓ ۔۔۔۔ وہ اب ٹشو سے ناک اور آنکھیں پونچھتے ہوۓ بھاری سی آواز میں کہہ رہی تھی۔۔۔
آپکی شادی حبان سے ہی ہو گی۔۔۔ تارز نے مسکراتے ہوۓ اپنے سامنے بیٹھی لڑکی کی طرف دیکھا۔۔۔
جی۔۔۔ تانیہ نے بے یقینی اور حیرانگی سے تارز کی طرف دیکھا۔۔۔
جی۔۔۔۔۔ لیکن اس کے لیے آپکو میرا ساتھ دینا ہو گا۔۔۔ تارز نے ارد گرد دیکھتے ہوۓ مدھم سے لہجے میں کہا۔۔۔
کیسا ساتھ۔۔۔ تانیہ نے پر تجسس انداز میں دیکھا تھا ۔۔۔
جو میں کہوں گا وہ کرنا ہو گا۔۔۔ تارز نے مسکرا کر شرارت سے بھری آواز میں کہا۔۔۔
لیکن حبان۔۔۔ ۔۔۔ تانیہ نے پھر روہانسی آواز میں کہا تھا۔۔۔
دیکھیں مس۔۔۔ تارز نے تانیہ کی طرف انگلی کی اور پھر اس کا نام جاننے کے لیے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
تانیہ۔۔۔ مدھم سے لہجے میں تانیہ نے حیران سی شکل بنا کر کہا تھا۔۔۔
اوکے مس تانیہ یہ جو میرا بھاٸ ہے نہ ۔۔ یہ اپنا امیج خراب ہونے سے ڈرتا ہے جو یہ ہم سب کے سامنے اپنا بنا چکا ہے۔۔ اور کوٸ مسٸلہ نہیں۔ آپ بس سب مجھ پر چھوڑ دیں ۔۔۔ وقت آنے پر آپکو وہ سب کرنا ہے جو میں کہوں گا۔۔۔ تارز نے بڑے ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں کہا ۔۔۔
تانیہ پریشان سی ہو کر لب کچلنے لگی تھی۔۔۔
پریشان نہ ہوں کوٸ خطرے کی بات نہیں ہو گی۔۔۔ مجھ پر بھروسہ رکھیں۔۔۔ تارز نے مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
اور سامنے بیٹھی تانیہ نے سر ہلا دیا تھا ۔۔۔۔
اپنا نمبر دیں مجھے ابھی آپکو وہ سب کرتے جانا ہے جو میں کہوں ۔۔ حبان کو کسی طرح بھی یہ شک نہ ہو کہ میں یہ سب آپ کو کرنے کو کہہ رہا ہوں۔۔۔ تارز نے رازدار انداز میں کہا اور اپنے فون کو جیب سے نکالا۔۔۔
بھابھی ۔۔۔ بھابھی لکھ سکتا ہوں۔۔۔تارز نے شرارت بھری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر سامنے بیٹھی تانیہ سے کہا۔۔۔
تانیہ نے دھیرے سے مسکرا کر سر اثبات میں ہلا دیا تھا ۔۔
ایک بات پوچھوں ۔۔ تانیہ نے تھوڑا جھجھکتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
جی ۔۔۔ تانیہ کا نمبر محفوظ کرتے ہوۓ تارز نے آنکھیں اوپر اٹھا کر دیکھا۔۔۔
آپ یہ سب کیوں کر رہے میرے لیے۔۔۔ تانیہ نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔۔۔
میں نے سنا ہے دو پیار کرنے والوں کو ملا دیں تو ان کی دعا سے آپکا پیار آپکو مل جاتا ہے۔۔۔ بس آپ دعا دے دیں مجھے۔۔ تارز نے معنی خیز انداز میں کہا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: