Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 8

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 8

–**–**–

ہے۔۔۔۔واٹس اپ برو۔۔۔ تارز ایک دم سے حبان کے کمرے کا دروازہ کھول کے اندر آیا اور دھڑام سے بے تکلفی سے اس کے بیڈ پر گرتے ہوۓ کہا۔۔۔
حبان جو اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا ماتھے پر بل ڈال کر تارز کی طرف دیکھا۔۔۔جو آرام سے اس کو دیکھ کر دانت نکال رہا تھا۔۔۔
تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے دروازے پر دستک دیا کرو پہلے۔۔۔ جبان نے غصے میں کہا۔۔۔ اور لیپ ٹاپ کی سکرین کو بند کیا۔۔۔
کیوں آپ کیا کر رہے تھے۔۔۔ تارز نے ازلی ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے ہوۓ شرارت سے کہا۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔ حبان نے سنجیدہ سے انداز میں مختصر جواب دیا۔۔۔
تارز ایک دم اٹھ کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔
اٹھیں ذرا ۔۔۔ اٹھیں تو۔۔۔ اب وہ حبان کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کر رہا تھا اور شرارت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔ حبان حیران سا ہوتا ہوا کھڑا ہوا اور ارد گرد دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ تارز بڑے پرجوش انداز میں کہتا ہوا حبان سے بغل گیر ہوا تھا۔۔۔۔
کس بات کی ۔۔۔ حبان نے نہ سمجھی کے انداز میں کہا تھا۔۔
ارے شادی ہونے والی اس کی ۔۔۔تارز نے چہرہ سامنے کرتے ہوۓ پرجوش انداز میں کہا اور حبان کو بازوٶں سے پکڑ کر خوشی سے ہلایا۔۔۔
حبان نے پریشان ہو کر اس کی شکل کو دیکھا۔۔۔
خیر ہے ۔۔شادی میری خوش تم ایسے ہو رہے جیسے تمھاری۔۔۔ حبان نے عجیب سے انداز میں مسکراتے ہوۓ کہا اور پھر سے بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔
ارے آپکی خوشی میں خوش ہو رہا تھا۔۔ تارز نے کان کھجاتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔
آفس آۓ تھے میرے خیریت اور پھر بات بھی نہیں کی ویسے ہی چلے بھی گۓ۔۔۔ حبان نے پھر سے لیپ ٹاپ کی سکرین کھولتے ہوۓ مصروف سے انداز میں کہا۔۔۔
او ہاں ۔۔۔ آیا تھا۔۔۔۔ کچھ مدد چاہیے تھی ۔۔۔ اپنے لیے ۔۔۔ پر پھر سوچا آپکی ہی مدد کر دوں۔۔۔ تارز نے معنی خیز انداز میں کہا۔۔۔۔
جبکہ آنکھیں خوشی اور شرارت سے چمک رہی تھیں۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ حبان نے ایک دم حیران ہو کر تارز کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔ مطلب یہ کہ ۔۔۔ لاٸیں ندوہ کا نمبر دوں ۔۔۔بات شات کریں اس سے بھٸ۔۔۔ تارز نے خجل ہو کر فورا اپنی بات کا رخ بدلہ تھا۔۔۔
مجھے کوٸ شوق نہیں بات کرنے کا۔۔۔حبان نے سڑے سے لہجے میں کہا۔۔۔اور نظریں لیپ ٹاپ پر جھکا لیں۔۔۔
آۓ ۔۔۔ ہاۓ۔۔۔۔۔ نخرے تو دیکھو۔۔۔۔۔ تارز نے ہوا میں ہاتھ کو لہراتے ہوۓ شرارتی انداز میں کہا۔۔۔
حبان نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔۔
اوۓ۔۔۔چل یار۔۔۔ نکل میرے کمرے سے۔۔۔ کیا دماغ کھانے آ گیا ہے۔۔۔ حبان کو اس کی کمینی سی ہنسی پر چڑ ہو رہی تھی۔۔۔
اب آپ ۔میری انسلٹ کر رہے ہیں۔۔۔ بدلہ لوں گا اس کا۔۔۔ تارز نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوۓ منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا۔۔۔
تاری۔۔۔۔ تو اٹھتا ہے کہ۔۔۔ حبان ایک دم سے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھ کر لب کو دانتوں میں دبا کر اٹھا تھا۔۔۔۔
آ جاٸیں ۔۔۔آ جاٸیں ۔۔۔تارز ایک دم سے ہوا میں مکے چلانے لگا تھا۔۔۔۔وہ آج پوری طرح شرارت کے موڈ میں تھا۔۔۔
مما۔۔۔۔مما۔۔۔۔۔ یہ دیکھیں آ کر تارز کو۔۔۔۔ حبان نے کمرے کے دروازے سے ہی ہانک لگاٸ۔۔۔
کیا یار شادی ہونے جارہی ابھی بھی بچوں جیسا بی ہیو کر رہے میرے ساتھ۔۔۔ تارز نے خفا سے لہجے میں کہا ۔۔۔
دفعہ ہو جا میرے کمرے سے۔۔۔ حبان نے غصے سے گھورا اور ہاتھ کا اشارہ کمرے کے دروازے کی طرف کیا۔۔۔
اچھا اچھا۔۔۔ جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ تارز مسکراہٹ دباتا ہوا کمرے سے نکلا تھا۔۔۔
یار کوٸ اہمیت ہی نہیں میری اس گھر میں۔۔۔ ادھر میرے سسرال میں سب میری اتنی عزت کرتے۔۔۔ وہ بڑ بڑاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ تھی۔۔۔
*************
اے جگر۔۔۔ کیسا ہے تو۔۔۔ طلحہ پر جوش انداز میں آگے بڑھا تھا اور خوشی کے لہجے میں کہتا ہوا وہ تارز کے گلے لگا تھا۔۔۔۔
ٹھیک یار ۔۔۔ تو سنا ۔۔۔ڈاکٹر بن گیا مزاج ہی نہیں ملتے جناب کے۔۔۔ تارز نے اس سے الگ ہو کر شرارتی انداز میں کہا۔۔۔
ابے۔۔۔ چل جھوٹے۔۔۔ بدل خود گیا ۔۔۔ لاہور کبھی اسلام آباد ۔۔۔ ہم جیسے چھوٹے شہر کے لوگوں کو کیا جانے تو۔۔۔ طلحہ نے مصنوعی خفگی دکھاٸ۔۔۔
ایسی کوٸ بات نہیں۔۔ سنا کیسی جا رہی تیری ڈاکٹری۔۔۔ تارز نے کرسی پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔
سہی جناب ۔۔۔ تو نے سہی اپنی پسند کی فیلڈ پکڑی۔۔۔ کیسی جا رہی جاب کمپنی تو بہت اچھی ہے سنا ہے۔۔۔ ۔طلحہ نے بھی ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔
طلحہ تارز کا سکول فیلو تھا۔۔ دونوں کی گہری دوستی تھی اور ڈاکٹر بھی دونوں ہی بننا نہیں چاہتے تھے۔۔۔ لیکن طلحہ اپنی مرضی کرنے سے ڈرتا تھا۔۔۔
فٹ جا رہی ۔۔۔ بس وہ کچھ کام تھا چھٹی لے کر آیا تھا۔۔۔ تارز نے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔۔۔
اچھا۔۔۔ طلحہ نے غور سے سنتے ہوۓ سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
تیری ۔۔۔ کچھ مدد چاہیے ۔۔۔۔ تارز نے کچھ جھجکتے ہوۓ کہا۔۔
ہاں۔۔۔ حاضر جناب ۔۔۔ آپ حکم تو کریں۔۔۔ طلحہ نے مسکرا کر پر جوش انداز میں کہا۔۔۔
بس یار ۔۔۔ تو اگر تعاون کر دے نا چار زندگیاں سنور جاٸیں گی۔۔۔ تارز نے پرسوچ انداز میں کہا۔۔۔
کر دوں گا۔۔۔۔ جان بھی حاضر۔۔۔ پہلی دفعہ تو کچھ مانگ رہا ہے۔۔۔طلحہ نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔
تارز نے اسے اپنا سارا منصوبہ سمجھایا تھا۔۔وہ سر تاٸید میں ہلاتا رہا تھا۔۔۔
تو بس پھر ۔۔۔ نومبر کی پندرہ تاریخ کو ۔۔تارز نے ایک دم سیدھے ہوتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔۔
کوٸ نہیں یار ۔۔۔ پورا ہاسپٹل ۔۔۔ اپنا ہے۔۔۔ فکر ہی نہ کر۔۔۔ طلحہ نے مسکرا کر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔
اس دن میری شادی بھی ہے تو سب کچھ سنبھالنا تو نے ہے بس۔۔۔ تارز نے تھوڑا شرماتے ہوۓ کہا۔۔۔اور مسکراہٹ دباٸ۔۔۔
اوۓ۔۔۔ بیغیرت۔۔۔ اصل بات سب سے آخر میں بتا رہا۔۔۔۔ طلحہ ایک دم سے پرجوش ہوا تھا۔۔
دونوں کے قہقے کمرے میں گونج رہے تھے۔۔۔
نہیں نہیں بتانے والا تھا۔۔۔ انفیکٹ۔۔۔ ولیمے پر انواٸیٹ بھی کروں گا۔۔۔ تارز نے چہرے کی خوشی کو چھپاتے ہوۓ کہا۔۔۔
بڑی بات ہے۔۔۔ کون ہے۔۔۔ طلحہ نے شرارت سے آنکھ دباتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
ماموں کی بیٹی ہے۔۔۔ تارز نے لب بھینچتے ہوۓ مسکرا کر کہا۔۔۔۔
آۓ۔۔۔ چہرہ دیکھ اپنا۔۔۔ ۔۔ طلحہ نے قہقہ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔
تارز بھی قہقہ لگا گیا تھا۔۔۔۔
*************
ابھی آپ کو یہ کرنا ہے۔۔۔ کہ آپکو حبان سے ملنا ہے۔۔۔۔ اور کہنا ہے کہ۔۔۔ آپ اس پورے دو ماہ میں اس کے ساتھ پوری زندگی جینا چاہتی ہیں۔۔۔ تارز نے بڑے سنجیدہ انداز میں کہتے ہوۓ ۔۔۔ چور نظر سے چھت کے دروازےکی طرف دیکھا۔۔۔
اسے ہر وقت اپنے ہونے کا احساس دلاٸیں ۔۔۔ مسجز کریں۔۔۔فون کالزکریں لمبی لمبی۔۔۔ تارز ۔۔فون پر تانیہ سے بات کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ چھت پر ٹہل رہا تھا۔۔۔
اسے کہیں ۔۔۔ میں اور کچھ نہیں چاہتی تم سے بس۔۔۔ یہ دو ماہ مجھے دے دو۔۔۔ تارز نے بڑے انداز میں کہا۔۔
اوکے۔۔۔ تانیہ اس کی ہر بات کا جواب بس مختصر ہی دے رہی تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ یہ دیکھ لیں اسے شک نہ ہو۔۔۔۔ اور رونا دھونا بلکل ختم کریں ۔۔ اسے سے اپنے پچھلے قصے ڈسکس کریں۔۔۔ تارز نےبڑے سنجیدہ انداز میں کہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ تانیہ کی بے یقینی جیسی آواز ابھری تھی۔۔۔
مجھ پر بھروسہ رکھیں۔۔ تارز نے لب بھیینچ کر کہا۔۔۔
جی۔۔۔۔ تانیہ نے گہری سانس لیتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
تو جیسا میں کہہ رہا ہوں ویسا کریں۔۔۔ تارز نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
اوکے۔۔۔۔ تانیہ کی بھی پرسکون آواز آٸ تھی۔۔۔
گڈ۔۔ لک ۔۔۔ بھابھی۔۔۔ تارز نے ہلکا سا قہقہ لگا کر کہا تھا۔۔۔
تھنکیو۔۔۔۔ تانیہ کی بھی ہلکے سے قہقے والی آواز ابھری تھی۔۔۔
**************
کیا ہو رہا موٹی۔۔۔تارز نے اپنے مخصوص انداز میں حدفہ کے سر پر چپت لگاٸ تھی۔۔۔
وہ ایک ہفتے کے لیے گیا تگا لیکن تین دن میں ہی واپس آ گیا تھا آج صبح سوتے رہنے کے بعد دوپہر کو وپ نیچے آیا تھا جب سارے دوپہر کا کھانا ابھی ختم کرنے کے بعد بیٹھے ہی تھے۔۔۔
ندوہ نے چونک کر اس کے شرارتی انداز کو کن اکھیوں اے دیکھا تھا۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ اتنا بھاری ہاتھ آپ کا ۔ ۔۔۔ حدفہ نے منہ پھلا کر اپنا سر سہلایا تھا۔۔۔۔
کیسے تھے سب گھر میں۔۔۔ سلمی نے تارز کو صوفے پر بیٹھتے دیکھ کر مسکرا کرپوچھا۔۔۔
ایک دم فرسٹ کلاس ممانی ۔۔ سلام کہہ رہی تھیں مما آپکو۔ بڑے خوشگوار موڈ میں تارز نے کہا اور مسکراتے ہوۓ ندوہ پر بھرپور نظر ڈالی۔۔۔
ہلکے سے گلابی رنگ کے جوڑے میں اونچٕی پونی میں گھنے بال سمیٹے وہ سنجیدہ سے چہرے کے ساتھ بیٹھی ہوٸ تھی۔۔۔۔۔۔
اور ۔۔۔ حبان نے سلام بھیجا کسی کو سپیشل۔ ۔۔۔ تارز کی شرارت کی رگ پھر سے بڑھکی تھی شریر آنکھوں کے ساتھ ندوہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔ جبکہ لب بری طرح مسکراہٹ دبانے کی کوشش میں لگے تھے۔۔۔
ندوہ کے ماتھے پر ایک دم سے بل پڑے تھے ۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر جانے لگی تھی جب تارز نے بازو تھاما تھا۔۔۔
ارے کہاں جا رہی ہیں۔۔۔ ابھی اور بھی کچھ ہے۔۔۔ تارز نے شرارتی لہجے میں کہا۔۔۔
ندوہ مے حیران ہو کر تارز کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ وہ اتنا خوش تھا ۔۔۔ لب مسکرا رہے تھے آنکھیں چمک رہی تھیں۔۔۔۔
ندوہ غصہ کیوں کر رہی ہو۔۔۔چھیڑ ہی رہا تمہیں۔۔۔ سلمی نے خفگی سے ندوہ کی طرف دیکھ کر ڈانٹنے کے سے انداز میں جھاڑا۔۔۔
ممانی حبان نے ۔۔ کچھ پیسے دیے ہیں۔۔ کہہ رہا تھا شاپنگ کروا دینا ندوہ کو ساتھ لے جا کر سپیشل میری طرف سے۔۔ تارز نے بڑی معصوم سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
ندوہ نے حیرانی اور پریشانی کے ملے جلے تاثر سے دیکھا۔۔تارز کی دماغی حالت پر شک گزرا وہ کیسے اتنا خوش ہو سکتا اس کی اور حبان کی شادی پر۔۔
اچھا۔۔۔ واہ۔۔۔ سلمی نے خوش ہوتے ہوۓ کہا اور پیار بھری نظروں سے ندوہ کی طرف دیکھا۔۔
8
مجھے نہیں کرنی کوٸ شاپنگ۔۔۔ ندوہ نے ناک پھلا کر کہا۔۔۔ اور کھا جانے والی نظر تارز پر ڈالی جو دانت نکال رہا تھا۔۔۔
پاگل لڑکی ایسے کیوں کہہ رہی۔۔۔ سلمی نے ماتھے پر بل ڈال کر ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔۔
تارز جاۓ گی یہ۔۔۔ سلمی نے انگلی کا اشارہ ندوہ کی طرف کیا۔۔۔
شام کو پھر تیار ہو جانا۔۔ تارز نے مسکراہٹ دبا کر پاس سے گزرتی ندوہ کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
میں بھی جاٶں گی ساتھ۔۔۔ حدفہ نے پر جوش انداز میں کہا۔۔۔
وہ گاڑی خراب ہے ۔۔۔ باٸیک پر جانا ہے۔۔۔ تارز نے گردن کھجاتے ہوۓ ایک اور جھوٹ بولا۔۔
حدفہ نے رونے جیسی شکل بناٸ۔۔۔
تم آرام سے بیٹھو گھر تم نے جا کر کیا کرنا۔۔۔ سلمی نے گھورتے ہوۓ حدفہ کو دیکھا جو منہ بسور کر رہ گٸ تھی۔۔۔
تارز اٹھ کر اپنے کمرے میں آیاہی تھا جب ندوہ غصے میں بھری وہاں آٸ تھی۔۔۔
کیا ہے یہ سب اب۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا ۔۔اور سینے پر ہاتھ باندھے۔۔۔۔
مطلب۔۔۔۔ تارز نے کندھے اچکا کر دیکھا۔۔۔
جو بھی یہ نیچے کہہ رہے تھے۔۔۔ ندوہ نے سختی سے کہا۔۔۔
شادی ہے ۔۔۔ دلہا اپنی مرضی سے اپنی دلہن کو کچھ دلانہ چاہتا ہے اور بس۔۔۔ مسکراہٹ دبا کر شرارتی آنکھوں کے ساتھ کہا۔۔
جسٹ شٹ اپ۔۔۔ تم کیوں کر رہے یہ سب۔۔۔ ندوہ نے نہ سمجھ آنے والے انداز میں چڑ کر کہا۔۔۔
کیوں حبان میرا بھاٸ ہے میں نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا۔۔۔ تارز نے مصنوعی معصومیت چہرے پر سجاٸ۔۔
مجھے کوٸ شاپنگ نہیں کرنی۔۔۔ ندوہ نے کھا جانے والی نظر ڈالی اور سختی سے کہا۔۔۔
مطلب تم خوش نہیں اس شادی سے ۔۔۔ تارز نے آنکھ دبا کر قہقہ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔ ندوہ نے غصے سے دیکھا۔۔۔
تو پھر خوشی خوشی چلو شام کو۔۔ تارز نے محبت بھری نظروں سے شرارتی انداز میں کہا۔۔
ندوہ پیر پٹختے ہوۓ بڑابڑاتی کمرے سے نکلی تھی۔۔۔
جا رہی ہو پھر نہ۔۔۔ تارز نے پیچھے سے اونچی آواز میں کہا۔۔۔
اور سیڑھیاں اترتے ہوۓ وہ اندر تک جل گٸ تھی۔۔۔
*********
گاڑی کو کیا مسٸلہ ہے اب ۔۔۔ندوہ نے اسے باٸیک سٹارٹ کرتے دیکھ کر ناگواری سے کہا تھا۔۔۔
خراب ہے۔۔۔ مختصر جواب دے کر وہ باٸیک سٹارٹ کر چکا تھا۔۔۔
جھوٹ بول رہے تم ۔۔۔ ندوہ نے کن اکھیوں سے اس کے چہرے کا جاٸزہ لیتے ہوۓ کہا۔۔۔
سلمی نے زبردستی اسے تارز کے ساتھ بھیجا تھا۔۔۔ وہ بار بار نا جانے کی ضد کرتی رہی تھی لیکن سلمی نے اس کی ایک نہیں سنی تھی۔۔۔
سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔چلو بیٹھو۔۔۔ تارز نے باٸیک پر بیٹھ کر مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
جانا کہاں ہے۔۔۔ وہ اب بھی شک میں مبتلہ غصے سے بھری سوالات پر سوالات کر رہی تھی۔۔۔
جیولر کے پاس۔۔۔ سیٹ دلوانا ہے۔۔۔ حبان نے کہا تھا۔۔ تارز نے معصوم سی شکل بنا کر کہا ۔۔۔
تو میں آٹو میں چلی جاتی ہوں ۔۔۔ ندوہ نے پھر سے جواز گھڑا۔۔۔
باٸیک ہےنہ ۔۔۔ اور میرے پاس پیسے نہیں کریڈٹ کارڈ ہے صرف ۔۔ زبردستی چہرے پر سنجیدگی تاری کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
آگے ہو تھوڑا سا۔۔۔ ندوہ نے غصے سے کہا۔۔۔
اب ہینڈل پر چڑھ جاٶں تو باٸیک کیسے چلاٶں گا ۔۔۔ تارز نے مصنوعی خفگی بھری شکل بنا کر کہا اور پیچھے مڑ کر ندوہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ جو برا سا منہ بناۓ کھڑی تھی۔۔۔
ندوہ شکن آلودہ ماتھے لیے اس کے پیچھے بیٹھی تھی۔۔۔تارز کے لب ایک دم مسکرا دیے تھے۔۔۔ آنکھوں میں شرارت بھری تھی۔۔۔
ندوہ اس سے کچھ فاصلہ دے کر بیٹھی تھی اور باٸیک کو پیچھے سے پکڑا تھا۔۔۔
تارز بار بار چہرے کا رخ موڑ رہا تھا۔۔۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب تھی تو لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی۔۔۔ تو ندوہ حدید قدرت بھی ہم دونوں کو ملانا چاہتی ہے۔۔ میرا حبان کے آفس جانا اور اسی وقت تانیہ کو دیکھنا۔۔۔ اب پندرہ نومبر کو تم حبان کی نہیں تارز ابتہاج کی دلہن بنو گی ۔۔۔ اور آج کی یہ ساری شاپنگ اسی خوشی میں میری جان ۔۔۔ تارز اپنے پیچھے بیٹھے نفوس کی نفرت سے یکسر بے نیاز خواب سجا رہا تھا۔۔۔ جولیر کے شاپ پر ایک جھٹکے سے باٸیک رکا تھا۔۔۔ ندوہ نے گرنے سے بچنے کے لیے ایک دم سے تارز کے کندھے کو تھاما تھا۔۔۔
ہمم۔ممممم اترو۔۔۔ تارز نے بھیگی سی آواز میں کہا تھا۔۔۔ اس کے ہاتھ کا لمس پشت سے سراٸت کرتا ہوا دل کے پمپ ہونے کی رفتار کو بڑھا چکا تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے اتر کر اس کے ساتھ جولیر شاپ میں داخل ہوٸ تھی۔۔۔
کوٸ اور۔۔۔ دکھاٸیں۔۔۔ تارز مصروف انداز میں مختلف سیٹ نکلوا رہا تھا ۔۔۔
ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ اسے دیکھا تھا۔۔۔ایسے پسند کر رہا جیسے یہ لے کر دے رہا ہو۔۔
میرا خیال ہے میں پسند کر لوں۔۔۔ حبان نے میرے لیے بھیجے ہیں پیسے۔۔۔ ندوہ نے طنز بھرے انداز میں دانت پیستے ہوۓ تارز کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔
اوہ۔۔۔ ہاں ۔۔۔کیوں نہیں۔۔۔ تارز ایک دم سے خجل سا ہوا تھا۔۔
یہ والا دکھاٸیں گے پلیز۔۔۔ ندوہ نے ایک نازک سے سیٹ کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
میڈم پہن کر چک کر لیں ۔۔۔ سامنے کھڑے آدمی نے تارز کے پاس پڑے آٸینے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
ندوہ نے نکلیس کو جیسے ہی گلے میں پہن کر نظر اوپر اٹھاٸ تو تارز اس کے سامنے آٸینہ لے کر کھڑا تھا۔۔
بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ تارز بے اختیار کہہ گیا تھا۔۔۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اس کی معصوم سی شکل پر وہ نکلیس جچ گیا تھا۔۔۔۔۔
ندوہ نے گھور کر تارز کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
یہ کر دیں۔۔۔ مسکرا کر شاپ کیپر کو نکلیس پکڑایا تھا۔۔۔
جوس پیو گی۔۔۔۔ واپسی پر باٸیک چلاتے اچانک تارز نے تھوڑا پیچھے ہو کر ندوہ سے کہا تھا۔۔۔
اس نے ندوہ کو ایک بہت خوبصورت ڈریس لے کر دیا تھا اور کچھ اور چیزیں اس نے اپنی پسند سے لی تھیں وہ اتنی پر سکون ہو کر شاپنگ کر رہی تھی۔۔۔ تارز کا دل کر رہا تھا اپنا سارا بنک بیلنس اس پر لٹا دے۔۔۔وہ بار بار پوچھ رہی تھی اور کتنے رہتے پیسے ۔۔
نہیں دیر ہو رہی جانا چاہیے اب ۔۔۔ ندوہ نے جوس پینے سے صاف انکار کیا تھا۔۔۔
ارے چلتے ہیں ۔۔۔تارز نے پر سوچ انداز میں کہا۔۔
کھانا کھانے کا تارز نے کہا وہ بھی اس نے منع کر دیا پھر اب جوس کارنر کو دیکھ کر تارز سے رہا نہیں گیا تھا۔۔۔
ایک منٹ اترو میں ابھی لایا۔۔۔ تارز نے اس کی بات ان سنی کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
وہ روٹھے سے انداز میں اتری تھی۔۔۔ اور ایک طرف لگی کرسی پر بیٹھ گٸ تھی۔۔۔
ہم م۔م۔م لو۔۔۔ تارز نے مسکراتے ہوۓ اس کی طرف گلاس بڑھایا تھا۔
ندوہ نے کچھ سوچتے ہوۓ گلاس اس کے ہاتھ سے لے لیا۔۔۔ ۔
ندوہ اب جو رشتہ بننے جا رہا ہے۔۔۔ میرا خیال ہے ہمیں سب بھلا کر اس کو نۓ سرے سے شروع کرنا چاہیے۔۔۔ تارز نے بڑے مدھم سے لہجے میں بات شروع کی تھی۔۔۔
ندوہ نے چونک کر اسے دیکھا اور اس کے الفاظ پر غور کیا تھا۔۔۔
میں تیار ہوں۔۔۔ندوہ نے پر سوچ انداز میں لیکن سپاٹ لہجے کے ساتھ کہا۔۔۔
لیکن تم وعدہ کرو دوبارہ کبھی مجھے اس حوالے سے تنگ نہیں کرو گے۔۔۔ ندوہ ناک چڑھا کر ناگواری سے کہا۔۔۔
تارز نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
تنگ تو بہت کروں گا ساری زندگی ۔۔۔ ہاں لیکن اب کسی اور حوالے سے کیا کروں گا۔۔۔ اب خوش۔۔۔
ندوہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا اور دھیرے سے سر اثبات میں ہلا دیا۔۔۔
تارز میں نہ کہتی تھی یہ سب تمھاری بیو قوفی ہے صرف ۔۔۔ جسے تم محبت محبت کہتے تھے۔۔۔اب ہمارا رشتہ کیا بدلہ چار دن میں تمھارا نشہ بھی اتر گیا ۔۔۔ ندوہ کے ہونٹ مسکرا دۓ تھے۔۔۔
اچھا پھر سلیبریٹ کرتے ہیں نہ چلو اب تو کھانا کھانے چلیں نہ۔۔تارز نے بچوں کی طرح ضد کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
ندوہ نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سر ہاں ہلا دیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: