Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 9

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 9

–**–**–

جی تو کیسی پروگریس ہے۔۔۔تارز نے فون کان کو لگاۓ ہوۓ کال کی دوسری طرف موجود تانیہ سے سوال کیا۔۔۔
وہ اپنے کمرے سے معلق چھوٹے سے ٹیرس پر کھڑا تھا ایک ہاتھ میں سگریٹ سلگ رہا تھا اور دوسرا ہاتھ فون کان کو لگاۓ ہوۓ تھا۔۔۔
شروع میں تو بلکل بات نہیں کر رہے تھے لیکن اب کرنے لگے ہیں۔۔۔ تانیہ کی پریشان سی آواز ابھری تھی۔۔۔
گڈ ۔۔۔اور آپ کیسی ہیں۔۔۔۔ تارز نے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہا اور نیچے گلی کی طرف دیکھا۔۔۔۔
بس ابھی تک نا امید سی ہے ۔۔۔ تانیہ نے مدھم سی مایوس آواز میں کہا۔۔۔
مجھ پر بھرسہ کریں گی آپ۔۔دیکھیں آپ یوں پریشان ہوں گی تو ۔۔ میرا حوصلہ بھی پست ہو گا۔۔۔۔ تارز نے تانیہ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے مٹھاس بھری آواز میں کہا اور کمرے کی طرف رخ کیا۔۔۔
ندوہ اس کے بلکل پیچھے ساکن کھڑی تھی۔۔۔۔ تارز ایک دم سے گڑ بڑا گیا تھا۔۔۔
ایک ۔۔ منٹ۔۔۔ میں بعد میں بات کرتا ہوں آپ سے۔۔۔ تارز نے آہستہ سی آواز میں کہتے ہوۓ فورا فون بند کر دیا تھا۔۔۔۔
تمہیں ۔۔۔۔ دادا جی ۔۔۔ نیچے بولا رہے ہیں۔۔۔۔ ندوہ نے ماتھے پر بل ڈال کر ناگوار سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
آتا ہوں۔۔۔ تارز نے کان کھجاتے ہوۓ کہا۔۔۔
ندوہ نے کن اکھیوں سے تارز کا اوپر سے نیچے تک جاٸزہ لیا تھا۔۔۔اور بے زار سی شکل بناٸ۔۔۔ ٹھرکی کہیں کہ۔۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ سوچا۔۔۔ اس نے جتنی بھی بات سنی تھی اس سے اس بات کا اندازہ تو باخوبی ہو گیا تھا تارز کسی لڑکی سی بات کر رہا تھا۔۔۔ کتنا عجیب ہے یہ۔۔۔ کل تک تو مجھ پر مرا جا رہا تھا اور اب اتنی جلدی وہی سب کسی اور لڑکی کے لیے کر رہا ہے۔۔۔۔ندوہ نے ایک دم سے جھر جھری لی تھی۔۔۔
وہ تارز کے ساتھ اب نارمل بے ہیو کرتی تھی ۔۔۔ لیکن دل سے ایک دفعہ جو اس کا معیار گر چکا تھا اسے بحال کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔۔
**************
چاۓ بنا دو گی۔۔۔ تارز نے تھکی سی آواز میں کہا اور صوفے پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھا۔۔۔
شادی کو بس اب کچھ دن ہی باقی تھے۔۔ تارز آفس سے آتا تو سلمی اور ندوہ تیار ہوا کرتی تھیں۔۔ ۔۔ ان کو لے کر بازار نکل جاتا ۔۔۔ اور رات گۓ تھک کر واپس آتا۔۔۔ عجیب ہی دلہا ہوں اپنی دلہن کی شاپنگ میں خوار ہو رہا ہوں۔۔۔ ڈھیروں شاپنگ بیگز ندوہ اور سلمی کے ساتھ پکڑ پکڑ کر ان کے پیچھے چلتے وہ اکثر یہی سوچتا۔۔۔ شاباش بیٹا ۔۔۔ محبت کرنا آسان ہے۔۔۔پانا بہت مشکل ۔۔۔ آج بھی وہ رات گیارہ بجے شاپنگ سے واپس آۓ تھے جب اس نے ندوہ کو چاۓ کے لیے کہا اس کے سر میں درد ہونے لگا تھا عورتیں عجیب ہوتی ہیں ۔۔۔ ایک دوکان میں بار بار چار چکر لگاتی ہیں۔۔۔۔ وہ پاگل سا ہو جاتا تھا ان کے ساتھ ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ بنا دیتی ہوں۔۔۔ ندوہ نے مصروف سے انداز میں کہا وہ شاپنگ بیگز کو سمیٹ کر ایک طرف رکھ رہی تھی۔۔۔
تھک گٸ ہو۔۔۔ چلو رہنے دو۔۔۔ تارز نے محبت بھری نظر اس پر ڈالی وہ تھکی سی لگ رہی تھی۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ بنا دیتی ہوں۔۔۔ ندوہ نے ایک دم سے بیگ کو چھوڑ کر کہا۔۔۔
تھنکیو۔۔۔۔۔ تارز نے صوفے کی پشت سے سر ٹکایا۔۔۔چاۓ کی واقعی میں شدید طلب ہو رہی تھی اور ندوہ کے ہاتھ کی چاۓ کا تو وہ ویسے بھی دیوانہ تھا۔۔۔
وہ کچن کی کھڑکی میں سے نظر آتی وہ مصروف سے انداز میں چاۓ بناتی ہوٸ اس کی پیاسی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔۔۔ جس دن سے وہ اس کے ساتھ نارمل ہوٸ تھی تارز نے آنکھ بھر کر اسے دیکھا نہیں تھا۔۔۔
لو۔۔۔۔ چاۓ کا کپ ہاتھ میں تھامے وہ پاس آٸ تھی۔۔۔۔
بیٹھو۔۔۔ وہ چاۓ پکڑا کر ابھی پلٹی ہی تھی جب تارز نے دھیرے سے اس کےہاتھ کو تھاما تھا ۔۔۔
وہ ایک دم سے چونک کر رکی تھی۔۔۔ تارز نے فورا اس کا ہاتھ چھوڑا تھا۔۔۔
مجھے۔۔۔۔ معاف کر دو گی۔۔ ۔۔۔ تارز نے مدھم سی بھاری آواز میں کہا تھا۔۔۔
کر تو دیا۔۔۔۔ کوٸ بات نہیں انسان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں اکثر زندگی میں جو ان کو سدھار لے اسےمعاف کر دینا چاہیے۔۔۔ ندوہ نے پر سکون لہجے میں کہا تھا …
وہ بیٹھی نہیں تھی ہنوز اسی انداز میں کھڑی تھی۔۔۔
لیکن میں ہمیشہ غلطیاں نہیں کرتا۔۔۔ کچھ کام جان بوجھ کر بھی کرتا ہوں۔۔۔ بولو معاف کرو گی۔۔۔۔ تارز نے چہرہ اوپر اٹھا کر جزب کے عالم میں کہا تھا۔۔۔
کر دوں گی ۔۔۔ عجیب سی باتیں کیوں کر رہے ہو۔۔۔ ندوہ نے تھوڑا چڑ کر کہا تھا۔۔۔۔
عجیب ہی تو ہوں۔۔۔ تارز نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
شرمندہ مت ہو۔۔۔ میں دل سے سب باتیں بھلا چکی ہوں۔۔۔ ندوہ کو اس کا اسطرح دیکھنا عجیب سی کوفت میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔
شرمندہ ۔۔۔۔ نہیں وہ نہیں ہوتا میں ۔۔۔ تارز نے ہلکا ساقہقہ لگایا تھا۔۔۔
میری سمجھ سے تو یکسر باہر ہے کیا کہہ رہے ہو۔۔۔ مجھے سونا اب کپ کچن میں رکھ دینا۔۔۔ ندوہ نے بے زار سی شکل بنا کر کہا تھا۔۔۔
بلکل جناب ۔۔۔ اور کوٸ حکم۔۔۔۔ تارز نے گہری سانس لیتے ہوۓ کہا۔۔۔
تو تارز ابتہاج۔۔۔ محترمہ دو ہفتے بعد طوفان برپا کرنے والی ہیں تیاری پکڑ لو۔۔۔ تارز نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ بھر پور نظر اس پر ڈالی تھی۔۔۔ جو اپنے مخصوص سادہ سے حلیے میں بھی اس کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی۔۔۔
میں کیوں حکم چلانے لگی تم پر ۔۔۔ ندوہ نے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔۔
اللہ میں جتنا اس سے جان چھڑاتی ہوں یہ اتنا ہی مسلط ہو رہا ۔۔ اچھا ہے اس کی جاب یہاں ہے ۔۔۔ وہاں گھر میں یہ کم ہی ہوا کرے گا۔۔۔ وہ تیزی سے شاپنگ بیگ اٹھانے کے لیے جھکی تھی۔۔۔
اب حکم ہی تو چلانے ہیں ساری عمر۔۔۔۔ تارز نے مدھم سی آواز میں سرگوشی کی تھی۔۔۔
کیا کچھ کہا۔۔۔ ندوہ ایک دم سے پلٹی تھی اور نہ سمجھ آنے والے انداز میں کہا تھا۔۔۔
نہ۔۔۔نہیں۔۔۔ تو۔۔۔ تارز نے چاۓ کا کپ منہ کو لگاتے ہوۓ ۔۔۔ مسکراہٹ دبا کر کہا۔۔۔
**************
کیا حال ہے موٹی۔۔۔ تارز نے مخصوص چہکتی سی آواز میں حدفہ کے فون اٹھاتے ہی اسے کہا تھا۔۔
ٹھیک بھاٸ۔۔ حدفہ نے بہت شور سے بچنے کے لیے آواز اونچی رکھ کر کہا۔۔۔
کیسا جا رہا ہے فنکشن۔۔۔۔ تارز نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
آج مہندی کی تقریب تھی۔۔ ۔۔۔ سب لوگ تیاریوں میں لگے تھے۔۔۔ وہ بھی کپڑے بدلنے کے بعد خاموشی سے چھت پر آیا تھا۔۔ دل نے اچانک ایک عجیب سی خواہش کی تھی کہ وہ دیکھے کہ ندوہ آج مہندی کے جوڑے میں کیسی لگ رہی ہے۔۔۔۔اسی خواہش کے زیر اثر اس نے حدفہ کو فون کیا تھا۔۔۔
بہت اچھا۔۔۔۔ آپ کی طرف کیسا جا رہا ہے۔۔ ۔۔ حدفہ نے چہکتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
زبردست۔۔۔ ایک کام تو کرو۔۔۔ کان کو اپنے مخصوص انداز میں کھجاتے ہوۓ تارز نے کہا تھا۔۔۔
جی بولیں ۔۔ حدفہ نے توجہ سے سننے والے انداز میں کہا تھا۔۔۔
ندوہ کی ایک دو تصاویر بھیجو۔۔۔۔ بڑی روانی سے اس نے اپنے اندر کے جزبات کو قابو میں رکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
اووووو ۔۔۔ ہو۔۔و۔وو۔و۔و۔ ۔۔ حبان بھاٸ مانگ رہے ہوں گے۔۔۔۔ حدفہ نے شریر سے لہجے میں کہا۔۔۔
نہ۔۔ہاں۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ وہی مانگ رہا۔۔ دیکھنا ہے وہ کیسی لگ رہی ہے۔۔۔۔ تارز نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا جبکہ لب بھر پور انداز میں مسکرا رہے تھے اور دل دھڑک رہا تھا۔۔۔
میں بھیجتی ہوں۔۔۔ آپ کے نمبر پر یا حبان بھاٸ کے۔۔۔ حدفہ نے تیزی سے کہتے ہوۓ ایک دم رک کر تصدیق چاہی۔۔۔
میرے نمبر پر۔۔۔ اس کو دکھا دوں گا میں خود۔۔۔ تارز نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔
ٹھیک ہے ابھی بھیجتی ہوں ۔۔۔ آپ ایسا کریں آپ حبان بھاٸ کی بنا کر بھیجنا میں ندوہ کو دکھاتی ہوں۔۔ حدفہ نے پھر سے شوخ لہجے میں کہا۔۔۔
تارز کا دل کیا فون سے ہی ہاتھ نکال کر ایک تھپڑ جڑ دے اسے۔۔
اچھا مجھے مشورے دینے بند کرو پہلے جو کام میں نے کہا وہ تو کر دو۔۔۔ تارز نے چڑ کر کہا تھا۔۔۔۔
اچھا غصہ کیوں کر رہے ۔۔۔ بند کریں سنڈ کرتی ہوں۔۔۔ حدفہ نے خفگی بھری آواز میں کہا تھا۔۔۔
ہاں کرو۔۔۔ تارز نے جلدی سے کہہ کر فون بند کیا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی حدفہ کا مسیج دیکھ کر اس کے لب مسکرا دۓ تھے۔۔۔ مسیج کھولتے ہی وہ ظالم حسینہ اس کے فون کی سکرین سے اس کے دل پر محو رقص تھی۔۔۔سبز اور پیلے رنگ کے خوبصورت جوڑے میں وہ سادہ سے دھلے ہوۓ چہرے اور پھولوں کا زیور پہنے اسے اپسرا لگ رہی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر اس کی تصاویر کو دیکھتے رہنے کے بعد اچانک کسی خیال کے زیر اثر وہ چونک کر رکا تھا ۔۔۔ پھر جلدی سے فون سے نمبر ملایا تھا۔۔۔
ہاں ہیلو۔۔۔ بھابھی ٹھیک رات بارہ بجے۔۔۔۔ تارز نے تیزی سے تانیہ کو پھر سے آگاہی دی تھی۔۔
جو وہ ہر دو گھنٹے بعد اسے دے رہا تھا۔۔۔
بس اسے ڈر تھا کہ تانیہ پیچھے نہ ہو جاۓ کیونکہ اگر تانیہ پیچھے ہو جاتی ہے تو سب ختم ہو سکتا تھا۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا تارز۔۔۔ تانیہ کی گھٹی سی آواز ابھری تھی۔۔۔
اوہ بھابھی ۔۔۔ طلحہ سب سنبھال لے گا ۔۔۔۔ آپ بس ہاسپٹل وقت پر پہنچ جاۓ گا۔۔۔۔۔ تارز نے گھبراٸ سی آواز میں اسے تسلی دی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔ سنو۔۔۔۔ حبان آٸیں گے نہ۔۔۔۔ تانیہ نے پھر سے بے یقینی سے کہا تھا۔۔۔
میں جانتا ہوں ان کو ۔۔۔۔ وہ آٸیں گے۔۔۔ تارز نے لب کچلتے ہوۓ اس سے زیادہ اپنے دل کو تسلی دی ۔۔۔
اچھا میں فون رکھتا ہوں ۔۔۔ بسٹ آف لک۔۔۔۔ تارز نے پر سوچ انداز میں کہتے ہوۓ کال کاٹ دی تھی۔۔۔
****************
مما مجھے جانا ہے ۔۔۔حبان کے حواس اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔۔ وہ مہندی کی تقریب کے لیے پہنی ہوٸ ویسٹ کوٹ اتار رہا تھا۔۔
جا کہاں رہے ہو یوں فنکشن چھوڑ کر۔ سیما پریشان حال اس کے پاس کھڑی ماتھے پر بل ڈالے پوچھ رہی تھیں۔۔۔
حبان ابھی سٹیج پر آکر بیٹھا ہی تھی جب ااپنے فون پر اس نے تانیہ کی قریبی دوست ثمرہ کا مسیج دیکھا ۔۔۔ تانیہ نے سو ساٸیڈ اٹمپٹ کی تھی۔۔۔ اور اب وہ ایمر جنسی میں تھی۔۔۔ حبان کے پیروں کے نیچے سے زمین کسھک گٸ تھی۔۔۔ دل خوف اور تانیہ کی محبت میں لرز اٹھا تھا۔۔۔وہ تیزی سے سٹیج سے نیچے اترا تھا اور کمرے کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔ سیما جو
9
اس کے بلکل پاس کھڑی تھی اسے یوں پریشان حال اٹھتا ہوا دیکھ کر اس کے پیچھے آٸیں تھیں۔۔۔
میں آ کر بتاتا ہوں پلیز۔۔۔ مما بابا کو سمجھا دینا۔۔۔ حبان نے تیزی سے گاڑی کی چابی بیڈ کے دراز میں سے نکال کر کرتے کی جیب میں ڈالی تھی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ بھاٸ۔۔۔ تارز نے مصنوعی تجسس چہرے پر سجاتے ہوۓ حبان سے پوچھا تھا ۔۔۔
وہ ابھی حبان کے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔
حبان نے ایک پریشان سی نظر تارز پر ڈالی پر کوٸ جواب دینا مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔۔
مما کیا ہوا۔۔ تارز نے اب سیما کی طرف رخ پھیر کر کہا۔۔۔ انداز ہنوز ویسا ہی تھا۔۔۔
پتا نہیں کہہ رہا کوٸ کام ہے میں جا رہا ہوں ۔۔۔ بتا بھی نہیں رہا کچھ۔ سیما نے پریشان سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
حبان پریشان سی شکل بنا کر کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں میں جاتا ہوں ان کے ساتھ۔۔۔۔تارز نے تیزی سے کہا اور فورا حبان کے پیچھے لپکا تھا۔۔۔۔
حبان اپنی گاڑی میں سوار ہوا تھا اور تارز تسلی سے باٸیک پر ہاسپٹل اس کے پیچھے ہی پہنچا تھا۔۔۔ وہ ابھی کوریڈور میں پہنچا تھا جب تارز وہاں آ گیا تھا۔۔۔
بھاٸ ۔۔۔ بھاٸ۔۔۔ تارز نے آوازیں دے کر حبان کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔۔۔
تارز کو دیکھ کر ایک دم سے حبان کا چہرہ سفید پڑا تھا۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہے۔۔۔ حبان نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔۔
مما نے بھیجا آپ کے پیچھے۔۔۔ تارز نے مصنوعی پریشانی چہرے پر سجاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
تم جاٶ۔۔۔ میرا ایک دوست ہے ادھر ایمرجنسی میں میں آتا ہوں ابھی ۔۔۔ حبان نے نظریں چرا کر کہا۔۔۔
نہیں میں ساتھ رہتا ہوں آپکے ۔۔۔۔ تارز نے ڈھیٹ انداز اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں کہہ رہا ہوں نہ تم جاٶ۔۔۔۔ جاٶ تم ۔۔۔۔ حبان غصے سے چیخا تھا اس پر ۔۔۔ اس کا چہرہ پریشانی سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
تارز خاموشی سے واپس پلٹا تھا۔۔
اور حبان تیز تیز قدم اٹھاتا ایمرجنسی روم تک پہنچا تھا۔۔۔ کمرے کے دروازے پر لگی چھوٹی سی کھڑکی سے اسے سامنے بری حالت میں لیٹی تانیہ نظر آ رہی تھی۔۔۔جو بہت ساری نالیوں میں جکڑی ہوٸ تھی حبان کا دل ایک دم سے بند ہوا تھا پچھلے پانچ سالوں میں تانیہ کے ساتھ گزارے سارے لمحے اس کی آنکھوں کے آگے سے گزر گۓ تھے۔۔۔
وہ بے ساختہ دروازہ کھول کر اندر جانے کو تھا جب طلحہ نے اسے دیکھا۔۔۔
دیکھیں ۔۔۔۔دیکھیں۔۔۔ پیشنٹ کی حالت بہت کریٹیکل ہے ۔۔۔ آپ اندر نہیں جا سکتے ابھی ۔۔۔ طلحہ نے سخت لہجہ اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
ثمرہ جو وہاں کھڑی تھی بھاگ کر حبان کے قریب آٸ تھی۔۔۔
ڈاکٹر۔۔۔ پلیز۔۔۔ حبان نے روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
آپ ویٹ کریں۔۔۔ طلحہ سختی سے کہتا ہوا اندر چلا گیا تھا۔۔۔
میرے گھر پر تھی جب اس نے یہ کیا۔۔۔ مجھے کہتی مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔۔ اور جب میں نے دیکھا تو اس کے منہ سے جھاگ نکل۔۔۔ ثمرہ رونے لگی تھی۔۔۔
کون ہے یہ بھاٸ۔۔۔ تارز نے مصنوعی تجسس بھری آواز میں کہا تو حبان جو پریشان حال کھڑا تھا ایک دم سے پلٹا تھا۔۔
اور چہرہ زرد پڑ گیا تھا۔۔۔
تم ۔۔۔ تم ۔۔۔ گۓ نہیں۔۔۔ حبان ایک دم سے گڑبڑا گیا تھا۔۔۔
بھاٸ ۔۔۔ میں پوچھ رہا ہوں کون ہے یہ جو اندر لیٹی لڑکی۔۔۔ تارز نے سخت لہجا اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
یہ کیا بتاٸیں گے میں بتاتی ہوں آپکو۔۔۔ ثمرہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا اور ساری روداد بیان کی۔۔۔
آپ اتنے بزدل ہو سکتے ہیں ۔۔۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔ تارز نے ناگواری سے حبان کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
آپ جیسے لڑکے اگر وعدے نبھا نہیں سکتے تو ان جیسی معصوم لڑکیوں کو خواب دکھاتے کیوں ہو۔۔۔ آپ نے بات کیوں نہیں کی گھر۔۔۔ تارز نے ماتھے پر بل سجا کر حبان کو بری طرح لتاڑا تھا۔۔۔
حبان کا سر مزید جھک گیا تھا۔۔۔
تاری۔۔۔ تم مجھے اور پریشان کر رہے ہو۔۔۔ پلیز گھر جاٶ ۔۔۔ اور وہاں ہینڈل کرو سب۔۔۔ حبان نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔۔۔
آپ کو اگر اس سے اتنی ہی محبت تھی ۔۔ تو سٹینڈ کیوں نہیں لیا اس کے لیے۔۔۔ تارز تو فل ایکٹنگ میں تھا۔۔۔
نہیں لے سکتا میں۔۔ ۔۔ حبان نے گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
آپ بزدل ہیں۔۔۔ جو صرف محبت کرنا جانتے ہیں ۔۔۔ لڑکیوں کو معصوم خواب دکھانا جانتے ہیں لیکن ان کو پورا کرنے کا وقت آتا تو خود غرضی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اور پھر اسے فرمابرداری کا نام دے کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔۔۔ اگر اتنے فرمابردار تھے آپ تو محبت کیوں کی۔۔۔تارز نے غصے سے سخت لہجہ اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ حبان کے اندر کی غیرت کو جوش دلانہ چاہتا تھا۔۔۔
دعا کرو ۔۔۔ یہ بچ جاۓ۔۔۔ اگر اسے آج کچھ ہو گیا میں خود کو معاف نہیں کر سکوں گا۔۔۔ حبان نے نظریں چراتے ہوۓ کہا۔۔۔
پیشنٹ اب خطرے سے باہر ہے ۔۔…۔۔۔طلحہ نے باہر آکر کہا تھا۔۔۔
حبان ایک دم سے گہری سانس لیتا ہوا پاس پڑی کرسی پر ڈھے سا گیا تھا۔۔۔ کچھ دیر یونہی گزر گی تھی جب ثمرہ نے باہر آ کر بتایا کہ تانیہ کو ہوش آ گیا ہے۔۔۔ حبان بھاگتا ہوا اندر گیا تھا۔۔۔ اور بے ساختہ جاتے ہی وہ تانیہ کا ہاتھ تھام چکا تھا۔۔۔
بھاٸ۔۔۔ آپ نکاح کریں ان سے ۔۔۔ تارز نے بڑے بارعب انداز میں کہا تھا۔۔۔
تم پاگل ہو گۓ ہو کیا۔۔ ۔۔ گھر میں سارے ۔۔۔ حبان ایک دم سے چونک کر اٹھا تھا۔۔۔
میں سنبھال لوں گا ۔۔۔ تارز نے حبان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
ندوہ۔۔۔۔ کل شادی ہے۔۔ حبان نے پریشانی کے عالم میں سر کے بالوں کو ہاتھ میں جکڑا تھا۔۔۔
تانیہ مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
میں ۔۔۔۔ کروں گا اس سے شادی۔۔۔ آپ کی جگہ۔۔۔ تارز نے معصوم سا چہرہ بنا کر کہا تھا۔۔۔
آپ کا نام ۔۔۔تارز نے ثمرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
ثمرہ۔۔۔ تانیہ کی دوست نے فورا جواب دیا تھا۔۔۔
آپ اور ۔۔۔ یہ باقی سب لوگ ۔۔ آپ یہیں رہیں میں ابھی نکاح خواں کا انتظام کرتا ہوں ۔۔۔۔ تارز نے ثمرہ اور ان کےکچھ کلاس فیلو جن کو ثمرہ منصوبے کے مطابق وہاں بلا چکی تھی ان کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔
تارز ۔۔۔ حبان نے بےچارگی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
بھاٸ ڈرنا بند کریں۔۔۔ اپنی محبت کے بارے میں سوچیں۔۔۔ تارز نےحبان کو دنوں کندھوں سے تھام کر جھٹکا دینے کے انداز میں کہا تھا۔۔۔
سنو ۔۔۔ میں نکاح نہیں کروں گا۔۔۔ ایسے۔۔۔ حبان ابھی بھی لب کچلتا ہوا تھوڑا سا گھبرایا سا لگ رہا تھا۔۔۔
آپ کریں گے۔۔۔ میں ایک لڑکی کی زندگی برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتا ہوں۔۔۔تارز نے سختی اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
اور پھر وہ تیزی سے باہر نکلا تھا۔۔۔
***************
آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔۔۔ بارات جاۓ گی صبح۔۔۔ ندوہ سے میں کروں گا شادی۔۔۔ تارز نے معصوم سی شکل بنا کر کہا تھا۔۔۔
ابتہاج اور سیما نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
کیا۔۔۔ اول فول بکے جا رہے ہو۔۔۔ تم بس مجھے بتاٶ ۔۔ کہاں ہے حبان۔۔۔ ابتہاج کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پھر سے غصے اور جوش میں بولے تھے۔۔۔
مجھے نہیں پتا وہ کہاں ہیں۔۔۔ وہ نکاح کر چکے ہیں میں آپکو تصاویر دکھا چکا ہوں۔۔۔ تارز نے سر جھکاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔
ہاۓ۔۔۔۔ اس لڑکے نہ کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔۔ سیما سینے پر ہاتھ رکھے آنسو بہاتے ایک طرف کو ڈھے سی گٸ تھیں ۔۔۔
مہک نے جلدی سے سیما کو کندھوں سے تھاما تھا۔۔۔
مما اس رونے دھونے سے بہتر یہ ہے ۔۔۔ کہ ابھی اسی وقت فلاٸیٹ پکڑیں۔۔۔ لاہور چلیں۔۔۔ کل رات ہے نہ بارات تو جا کر ماموں سے بات کریں۔۔۔ شادی روکنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ تارز نے سیما کے پاس بیٹھتے ہوۓ اس کا ہاتھ پکڑ کر بڑے سمجھدار انداز میں کہا تھا۔۔۔
ابتہاج بھی سر جھکاۓ بیٹھے تھے۔۔۔۔کچھ لمحے یوں ہی گزر گۓ تھے۔۔۔
وہ نکاح کر چکا ہے اب کیا کیا جا سکتا ہے۔۔۔ ابتہاج کی پریشان سی آواز نے کمرے کا سکوت توڑا تھا۔۔۔
بھاٸ کی جگہ میں تیار ہوں ندوہ کو اپنانے کے لیے۔۔۔ تارز نے پھر سے اپنا موقف سامنے رکھا تھا۔۔۔
ابتہاج اور سیما نے ایک نظر تارز پر اور پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
مما۔۔۔ تارز ٹھیک کہہ رہا اسی میں سب کی عزت ہے۔۔۔۔ مہک نے گہری سانس لیتے ہوۓ کہا۔۔۔
اور پھر وہ سب کو قاٸل کر چکا تھا ۔۔۔ چند ایک سمجھدار رشتہ داروں کے ساتھ وہ لوگ اسی وقت لاہور جانے کے لیے تیار ہو گۓ تھے۔۔۔
**************
تارز ۔۔۔ ادھر آپکے پاس ہی آپکا بیٹا بن کر رہے گا۔۔۔ ابتہاج نے حدید کے ہاتھ تھامتے ہوۓ شرمندہ سے لہجے میں کہا تھا۔۔۔
بھاٸ میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ حبان نے مجھے سر اٹھانے کے لاٸک نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔ ابتہاج نے روہانسی سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
میری بات سنو۔۔۔ تارز کے ساتھ کرو صبح نکاح پھر۔۔۔ وہ ہماری عزت رکھنے کو راضی ہے ۔۔۔۔۔ داٶد جو کب سے خاموش بیٹھے تھے ایک دم سے بولے تھے۔۔۔
تارز ادھر آٶ۔۔۔ داٶد نے تارز کو اپنے پاس بلایا تھا۔۔
جی نانا ابو۔۔۔ تارز بڑے معدب انداز میں کہتا ہوا ان کے پاس آیا تھا۔۔۔
داٶد نے تارز کو اپنے سینے سے لگا کر بھینچا تھا اور ماتھا چوما تھا۔۔۔
ابتہاج نے شرمندہ سی شکل بنا کر حدید کے آگے ہاتھ جوڑے تھے۔۔۔
بھاٸ آپ ۔۔۔ ہاتھ مت جوڑیں۔۔۔ اس میں آپ کا بھی کوٸ قصور نہیں ہے۔۔۔ میری بچی کی قسمت ہی۔۔۔۔ حدید نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ایک طرف بیٹھ کر کہا تھا ۔۔
نصیبوں ۔۔ ماری ۔۔۔۔ ہے۔۔۔ سلمی مسلسل روۓ چلی جا رہی تھی۔۔۔
اچھا۔۔۔۔چلو۔۔۔۔ اب یہ رونا دھونا بند کرو۔۔۔۔ سب۔۔۔۔ مہمان ہیں گھر میں۔۔۔۔ داٶد نے سلمی کے مسلسل رونے پر ڈانٹنے کے سے انداز میں کہا تھا۔۔۔
ندوہ کو بھیجو میرے پاس۔۔۔۔ تم سب جاٶ۔۔۔۔ داٶد نے نقاہت بھری آواز میں کہا تھا۔۔۔
سب لوگ داٶد کے کمرے سے نکل آۓ تھے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: