Hijab Novel By Amina Khan – Episode 1

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 1

–**–**–

سفید چادر
نقاب چہرہ
حیا کی مورت
کی اُجلی صورت
چھپی ہوئی تو پیار آئے
کسی کی دنیا خزاں بھی
ہو گر اسے جو دیکھے تو پیار ائے
زری اٹھ جاؤ ، زری جلدی کرو اٹھو کب تک سوئی رہو گی کالج کے لیے گاڑی آنے والی ہے ۔اللہ میں کیا کروں اپنی گندی اولاد کا ۔گاڑی آئے گی تو پھر یہ ادھر سے اُدھر بھاگے گی۔
زری کی ہپپی گڈ مورنینگ روز صبح صبح یہ قوالی سن کے ہوتی ۔۔۔
اُسکی عادت تھی نماز کے بعد سونا ۔۔
اب اماں کمرے تک پہنچ آئی تھیں
“زری” ؟
” کیا ہے بئ ماں تھوڑا تو سونے دیا کریں نا “
وہ کمبل کے اندر منہ کر کے بھڑبھڑائ
“اچھا ہو جو آج تمھارا گاڑی والا تمھیں چھوڑ کے جاۓ”
اس نے کمبل منہ سے ہٹایا ، آٹھ کے بیٹھی اور الفاظ کو زور دے کے بولی
“کسی کی اتنی ہمت کہ وہ زرمینہ بنت ابراہیم خان سواتی کو چھوڑ کے جائے”
” زری میں اور کچھ نہ سنوں اٹھ جاؤ اس سے پہلے کہ میں جوتی لوں”
“اوکے میرے ابا جی کی ملکہ جو حکم آپکا”
“زری” ۔۔۔اماں ایسے شرما کے باہر گئی تھی جیسے شادی کو ابھی ایک مہینہ بھی نہ ہوا ہو
“اٹھ جائیں اب زرمینہ صاحبہ نیند تو آپکی ما شاء اللہ خراب ہو ہی گی ہے “
گاڑی آنے میں ٹھیک 15 منٹ رہتے تھے ۔
وہ جلدی جلدی اٹھی اور بھاگتی بھاگتی اپنی بلی کے پاس گی جو اُس کے ہاتھ کے بغیر کچھ کھانا گناہ سمجھتی تھی ۔
“میری پیاری مانو جلدی جلدی کھانا آج اچھا یہ نہ ہو گاڑی آج سچی میں چھوڑ جائے”
لوگوں کو بلیوں سے محبت ہوتی ہو گی اسکو اپنی بلی سے عشق تھا۔
وہ ہمشہ اپنی مانو کو معصومہ کہے کر بلاتی ۔اُس کو دنیا میں اپنی مانو سے زیادہ معصوم کوئی نہیں لگتا تھا۔
“جلدی کھاؤ نا مانو دیکھو میں کتنا لیٹ ہو گئی بس 10 منٹ رہے گے “
مانو کو کھانا کھلانے کے بعد وہ بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی ابھی بھی مزید 7 منٹ رہتے ہیں گاڑی آنے میں ۔۔۔۔
بال وہ رات کو برش کر کے کھول کے سوتی تھی وہ ایک پرکشش اور پر اعتماد شحصیت کی مالک تھی ۔ اس کی خوبصورت آنکھیں ، گال پہ تِل اور اُس کے نیچے پڑتا خوبصورت ڈیمپل اُسکی خوبصورتی کو اور نکھارتا ۔اُس کی دوستیں اُس کو ڈمپل کوین کہے کر بلایا کرتی ، اُس کے چہرے پہ ڈمپل جیجّتا ہی اتنا تھا ۔اس کا رنگ اتنا سفید نہیں تھا مگر اُس میں اتنی کشش تھی کہ ہر کوئی کھچا چلا آتا ۔
۔دوستوں کی محفل میں وہ محفل کی جان ہوتی ۔۔۔
اُس کے بات کرنے کا انداز ایسا ہوتا کہ سو لوگوں میں وہ ایک الگ سے پہچانی جاتی ۔ہمیشہ میٹھا میٹھا بولتی ۔وہ ایک باہمت لڑکی تھی جو سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے میں کبھی نہیں ڈرتی ۔چاہے آگے کوئی بھی ہو وہ ہمشہ سچ کو سچ بولتی۔ کچھ اُس کے خون میں تھا کے ڈرنا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں تھا۔
بس 3 منٹ مزید ۔ “اللہ جی پلیز پلیز پلیز آج گاڑی تھوڑی سی لیٹ آ جائے ” تیار تو وہ تقریباً ہو ہی چکی تھی ۔
وہ ہمیشہ سادگی میں رہتی اور نا جانے کیسے وہ اس سادگی میں بھی ہمشہ بہت پرکشش ، پر اعتماد لگتی تھی۔
گاڑی دروازے پہ تھی اس نے ابھی جوتے بھی پہننے تھے دانت بھی برش کرنے تھے اور ناشتہ ، (خیر وہ تو کیا ہوتا ہے ) سنڈے کے علاوہ اس کو کبھی نصیب ہی نہیں ہوا ۔
زری ؟”آواز آ رہی ہے نا گاڑی کی”
نہیں اماں مجھے تو نہیں آ رہی برش کو دانتوں میں رکھتے ہوئے وہ آرام سے بولی جو اماں نے بہت اچھے سے سن لیا۔
“تم یہ زبان لے کے جانا سسرال “
“جی جی میری پیاری ماں یہ ہی والی لے کے جاؤں گی جو آپکا حکم” وہ ہلکا سا مسکرائی اور بڑی سی چادر لی ، وہ ہمشہ بڑی سی چادر لے کے گھر سے باہر جاتی تھی اور منہ ایسے لپٹتی کہ آنکھوں کے علاوہ کچھ بھی نظر نہ آۓ۔
“اچھا اماں خدا پامان “
حسب معمول وہ آج بھی پورے 5 منٹ لیٹ تھی ۔
مگر گاڑی والوں کو اب اُس کے لیٹ آنے کی عادت ہو گئی تھی۔ وہ ہمیشہ بیٹھ کے پوچھتی
“آج زیادہ تو لیٹ نہیں ہو گی نا” اور خود ہی مسکرا دیتی
“نہیں آپی کدھر لیٹ ہوتی ہیں”
گاڑی میں بیٹھے حامد نے کہا وہ اس کے ساتھ گاڑی میں جایا کرتا تھا اس کو بچے اتنے پسند نہیں تھے مگر حامد اُس کو بہت پیارا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کالج کا آخری دن تھا ہر کوئی اُداس آنکھیں لیے ایک دوسری کو دیکھ رہا تھا ۔ اگر کوئی ایک دوسرے سے نظریں چرا رہا تھا تو وہ لیلیٰ مجنوں کی جوڑی تھی ۔
” زرمینہ اور اُسکی دوست فضہ “
زرمینہ ایک ایسی لڑکی تھی جس کے گرد لوگوں کا ہجوم ہوتا ۔وہ ہر ایک کی مدد کے لیے حاضر رہتی ۔ ہر ایک سے ایسے بات کرتی جیسے وہ اس کو صدیوں سے جانتی ہو۔
اس کی زندگی میں بہت لوگ تھے ۔ جو اُس کے دوست تھے ۔زرمینہ پورے کالج میں واحد ایسی لڑکی تھی جسکو ہر ایک کے راز کا پتا ہوتا ، ہر کوئی اس سے آ کے ڈسکس کرتا ۔وہ سب کو مشورہ دیا کرتی ، سب کو یہ یقین ہوتا اُن کا راز اُس کے پاس بلکل محفوظ ہے۔ وہ فضہ سے ہر بات شیئر کرتی تھی مگر اپنی ذات سے جڑی۔
۔سب لڑکیاں خود کو زرمینہ کا دوست کہے کر فخر محسوس کرتے ۔
مگر زرمینہ کی زندگی میں بہت کم لوگ خاص تھے ، یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو خاص نہیں سمجھتی تھی ۔ اُس کے لیے ہر کوئی خاص ہوتا اپنی اپنی جگہ۔
مگر کچھ ایسے لوگ تھے جن کے بغیر وہ زندگی کو تصور ہی نہیں کرتی تھی ۔ اُن چند لوگوں میں ایک فضہ تھی ۔
اس کا مقام اُس کی زندگی میں ایسا تھا کہ پوری دنیا ایک طرف اور فضہ دوسری طرف ۔
وہ اسکو پیار سے فضو کہتی تھی
آج کالج کا آخری دن تھا وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا رہی تھی ، اُنکو پتا تھا اگر کوئی ایک بار کمزور پڑ گئی تو سمبلنا مشکل ہو جائے گا ۔
فضہ کا تو آگے یونیورسٹی کا کنفرم تھا مگر زرمینہ !!!!!!
اُن دونوں کی دوستی پورے کالج میں مشہور تھی ۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کے بغیر ایک سیکنڈ بھی الگ نظر نہ آتی ۔۔
ہمشہ دونوں ٹیل پونی کرتی تھیں ۔
دونوں کے ہاتھ پہ ایک جیسی واچ ہوتی تھی۔
کبھی بھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ دونوں ایک ساتھ چل رہی ہوں اور اُن کے ہاتھ میں ایک دوسرے کا ہاتھ نہ ہو ۔۔۔
زرمینہ ہمیشہ فضہ کے کندھے پہ سر رکھ کے بیٹھا کرتی تھی۔
آج سب الگ ہو رہے تھے۔ سب نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ یونیورسٹی میں ساتھ ایڈمیشن لیں گے ۔
بس زری کا ہی کنفرم نہیں تھا ۔اُس کے بابا جاناور بھائی ہزارہ یونیورسٹی کے سخت خلاف تھے ۔مگر مانسہرہ میں دوسری کوئی یونیورسٹی بھی نہیں تھی ۔
زرمینہ کے گھر کا ماحول کافی اسٹرک تھا ۔ اُنکو اجازت نہیں ملتی یونیورسٹی کی۔ اُس سے پہلے اس کے خاندان میں کسی نے کالج بھی نہیں پڑھا تھا ۔اُس نے رونا دھونا ڈال کے کالج کی اجازت لے لی تھی ۔ وہ ایک پٹھان فیملی سے تعلق رکھتی تھی ۔ جن کے گھروں سے لڑکیاں کبھی بھی باہر نہیں جاتی تھی ۔دوسری لڑکیوں کے مقابلے میں اُن پہ زیادہ پابندیاں ہوتی ہیں ۔ اُن کو زیادہ سمبل کے چلنا پڑتا ہے ۔ زرمینہ ایسی ہی تھی ۔وہ ہمیشہ ضرورت سے زیادہ سوچتی ۔
آج دِن بھر سب یہی بات کر تے رہے رزلٹ آنے کے بعد سب یونیورسٹی میں ملیں گے ان شاء اللہ ۔
آخر کار چپ کا سلسلہ ٹوٹا
زری !
“میں کہے رہی ہوں تمہیں آگے یونیورسٹی میں ساتھ ایڈمیشن لیں گے “
“اگر میری مینہ نہیں لے گی ایڈمیشن تو فضہ بھی نہیں لے گی” وہ اسکو اکثر پیار سے مینہ کہتی تھی ۔
“اور تمہیں اچھے سے پتا ہے میرے سسرال والوں کو پڑھی لکھی بہو چائیے “
ہیں کون سے سسرال والے؟ زرمینہ نے چونک کے اسکو دیکھا
“ارے ہونے والے سسرال والے”
“ظاہر سی بات ہے بھئی جو بھی ہوں گے اُنکو پڑھی لکھی ہی بہو چائیے ہو گی نا “
تو میں نے آگے یونی جانا ہے اور آپ کے ساتھ جانا ہے آپکو سمجھ آ رہی ہے نا بات میری ؟
اُس کے اُداس لبوں پہ ایک دم مسکراہٹ آئی ، ڈمپل اور گہرا ہوا ۔وہ ہمیشہ فضہ کو ماتھے پہ پیار کیا کرتی تھی۔آج بھی اس نے ایسا ہی کیا ۔
“زری میری بات مان لو نا پلیز “
اُس نے بےبسی سے کہا !!
زرمینہ کی خاموشی سے جھنجھلا کے اُس نے چیخ کے بولا
“سمجھ آ رہی ہے نا میری بات ؟”
جی مجھے تو سمجھ آ رہی ہے آپکی بات مگر میرے گھر والوں اور بھائیوں کو کون سمجھائے گا؟
“دو بھائیوں کی اکلوتی اور چھوٹی بہن ہونا بھی عذاب سے کم نہیں ہوتا بعض اوقات”
“میں کچھ نہیں سمجھ رہی بس وعدہ کرو کے تم آگے ایڈمیشن لو گی “
“اچھا ٹھیک ہے میرے ہونے والے بچوں کی خالہ میں لوں گی ان شاء اللہ بس تم دعا کرنا کہ اجازت مل جائے مجھے “
“آپکو اجازت ملنا کون سا مشکل کام ہے آپ کا تو ڈائریکٹ رابطہ ہے اوپر والے سے “
“جو چاہتی ہو مل جاتا ہے “
بیشک !!!
“میں اپنے اللہ جی کی لاڈلی ہوں “
اس بات سے اُس کے دل میں ایسا سکون اُترتا تھا اس کی ساری پریشانیاں غائب ہو جاتی تھیں۔ کچھ وقت پہلے کی اُداسی کیسے ختم ہوئی اُسکو پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔
فضہ نے اُس کو ایک دم گلے سے لگا لیا اُس کی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو تو اب بھی تھے مگر اب وہ آنسوں اُداسی کے نہیں تھے۔ اُس کو پتا تھا زرمینہ سواتی جو کہتی ہے وہ کرتی بھی ہے ۔
آج سب گلے مل رہے تھے جانے کون اب کب کہاں ملے کسی کو کچھ پتا نہیں تھا۔
سب کہے رہے تھے یونی میں ساتھ جائیں گے۔ مگر اُن میں سے کچھ کی شادی ہو جانی تھی۔جنکو زرمینہ کی طرح یونی میں جانے کی اجازت نہیں ملنی تھی انھوں نے
پرائیویٹ گھر میں بیٹھ کے پڑھنا تھا۔
اب زرمینہ کے لیے سب سے مشکل مرحلہ تھا یونی کے لیے گھر والوں کو راضی کرنا۔
کچھ تو اس نے سوچ لیا تھا کہ کیسے یہ کام ممکن ہے۔
مگر پھر سوچ کے اُداس ہو جاتی اگر نہ اجازت ملی تو۔
آج واپسی پہ گاڑی میں اُس نے ذیشان روکھڑی کے گانے نہیں سنے تھے ۔ وہ اگر پانچ منٹ کا بھی سفر کرتی تو ذیشان کے گانے سنتی۔
مگر آج وہ کچھ اور ہی سوچ رہی تھی۔
، ابو امی ، لالا گل ، جی گل کو قائل کرنا تو نا ممکن سی بات تھی البتہ دادی اماں کو وہ منا سکتی تھی ۔
دادی اماں اُس کی ہر بات مان جایا کرتی تھی ، کالج جانے میں بھی اُن کا ہی ہاتھ تھا ورنہ وہ میٹرک کے بعد گھر پہ بیٹھ جاتی۔دو سال جو اس نے کالج میں لگے تھے اُس کو ہی پتا تھا۔ ایک بھی دن ایسا نہیں تھا کہ وہ لوکل گاڑی پہ آئی ہو ۔اُس کے لیے ایک الگ گاڑی لگائی گئی تھی ۔اور ڈرائیور بھی مکمل اتماد کا بندہ تھا۔۔
اُس نے سوچا کہ وہ دادی اماں کو منا لے گی ۔دادی اماں ابو کو ، اور ایک دفعہ ابو راضی ہو گے تو بھائیوں کی تو ہمت بھی نہیں ہو گی اُن کے سامنے کچھ بولیں۔
۔
لیکن !!!!
اسکو اجازت ملنا نا ممکن سی بات تھی اُدھر جدھر لڑکے لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہوں ۔
اُس نے تو آج تک کسی لڑکے سے بات بھی نہیں کی تھی نہ ہی اپنے خاندان میں اور نہ خاندان سے باہر۔
وہ روایتی پٹھان تو نہیں تھے جن کے گھروں میں لڑکیاں ٹوپی والا برقع لیں ۔
مگر خون تو پٹھانوں کا ہی ہے نا!!!!!
اسکو اگر ہلکی سی اُمید تھی تو وہ دادی اماں سے تھی ۔ “
سوچوں کے سلسے ٹوٹے وہ حقیقت کی دنیا میں آئی ۔
اُداسی پھر سے اُس کی آنکھوں میں چھا گی ۔
وہ جب بھی اُداس ہوتی اُس کی آنکھیں ساری اُداسی اپنے اندر سمیٹ لتیں اور سب کو پتا چل جاتا اج زرمینہ خان سواتی صاحبہ اُداس ہیں ۔
سوچتے سوچتے اُس کا دماغ گھومنے لگا ۔ اُس نے آنکھیں بند کی سر کو گاڑی کی سیٹ سے لگایا دماغ کو بلکل پر سکون کیا ۔۔۔۔
“آپ کو اجازت ملنا کون سا مشکل کام ہے ، آپکا تو ڈائریکٹ رابطہ ہے اوپر والے سے “
فضہ کی بات کانوں میں گونجی اور پھر سے اُس کے دل میں سکون اُترا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: