Hijab Novel By Amina Khan – Episode 10

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 10

–**–**–

سر کلاس میں ایک CR اور ایک GR کی بہت ضرورت ہے ۔
مدثر نے سر قمر کی کلاس میں کھڑے ہوتے ہوئے ہانیہ کی طرف دیکھ کے کہا۔ ۔۔و ہمیشہ اُس کو تنگ کرتا تھا۔ اور وہ تنگ ہوا بھی کرتی تھی لیکن ہار نہیں مانتی تھی۔
۔
“تو آپ مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں مسٹر مدثر خان “
ہانیہ نے اُس کو اپنی طرف بات کرتا دیکھ کے ایک دم بولی۔
“ہانیہ جی میں آپ سے تو بات نہیں کر رہا نا “
“ہانیہ جی؟”
میرا نام ہانیہ ہے صرف ہانیہ آپ جی کا اضافہ نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ اُس نے مدثر کو ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا اور آگے موڑ گی ۔۔
“مدثر آپ نے جو کہنا ہے کہیں اور بیٹھ جائیں پلیز “
سر نے اُن دونوں کو چپ کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کر ہی دیا تھا ۔وہ چالیس کی عمر کے ہوں گے ۔۔۔۔اُن کی کلاس میں سٹوڈنٹس کو کھلی چھٹی ہوتی تھی وہ جو بھی بولیں ۔۔۔
سر میں کہے رہا تھا اگر GR ہانیہ جی ۔۔۔۔اوہ سوری سوری GR ہانیہ صاحبہ بن جائیں اور CR میری علاوہ کوئی اور بنا تو قتل ہو جائے گا وہ مجھ سے ۔
اُس نے پہلی بات پہ ہانیہ کو دیکھا اور دوسری بات پہ کلاس میں بیٹھے لڑکوں کو شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“بھائی تو ہی بن جا ، ہمیں کوئی شوق نہیں “
اُس کے پاس بیٹھے خاور نے ہاتھ جوڑتے ہوئے اُس کو کہا ۔۔۔
“تو سر ٹھیک ہے نا GR ہانیہ اور CR میں ۔۔۔۔۔”
اُس نے ہانیہ کو دیکھے بغیر فوراً سے بول لیا !!!!!!
ہانیہ کو یہ موقع بہت سہنری لگا تھا اُس کو لگا اُسے وہ وجدان سر کی نظروں میں آئے گی ۔۔۔وہ ایک خوبصورت اور پر اتماد لڑکی تھی ۔۔۔اُس کے لمبے کھلے بال اُس کی شخصیت کو اور نکھارتے تھے ۔۔۔۔وُہ ہمیشہ جینز اور اوپر لونگ شرٹ پہننا کرتی تھے ۔کھلے بال اور گلے میں پڑا ڈوبتا ۔ہر کوئی اُس کو ایک دفعہ موڑ کے ضرور دیکھتا تھا ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے مسٹر مدثر آپ سوچ لیں آپ کو ہانیہ کا ساتھ بہت مہنگا نہ پڑھ جائے “
اُس نے اوپر اوپر سے ایسے بات کی جیسے اُس کو تو فرق ہی نہ پڑھا ہو GR بننے سے !!!!!
“ہائے آپ کا ساتھ چائیے بس جتنا بھی مہنگا پڑھے “
مدثر نے اُس کو دیکھتے ہوئے شوخی سے مسکرا کے کہا ۔۔۔۔
“ساتھ نا my foot “
اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے آرام سے کہا ۔
“تو سر ٹھیک ہے میں HOD کو ایپلیکیشن لکھ لوں ؟
مدثر نے سر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔اُس کو پتا تھا سر قمر کو بوتل میں اتارنا بہت آسان ہے ۔۔۔اُن کی جگہ سر وجدان ہوتے تو سو طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے۔ پہلے اُنکو کسی طرح ایمپریس کیا جاتا اور پھر جا کے کہیں یہ بات کی جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فضو مجھے کیا لگتا ہے “
یہ مدثر اور ہانیہ کی کوئی کہانی چلنے والی ہے!!!!
زری نے فضہ کے کندھے پہ سر رکھتے ہوئے کہا۔ وہ جب بھی بیٹھتی تھیں ہمیشہ فضہ کے کندھے پہ سر رکھ کے بیٹھا کرتی تھی۔ اُس کو کچھ عجیب سا سکون ملتا تھا۔ایسا لگتا تھا یہ فضہ کا کندھا نہیں اُس کی ماں کی گود ہے۔۔۔۔جو اُس کو ایسے سکون ملتا ہے!!!
وہ دونوں دوستوں سے کہیں زیادہ تھی
۔
ایک ندی تھی تو دوسری کنارہ!
ایک پھول تھی تو دوسری خوشبو !
ایک جان تھی تو دوسری جہان!!
ایک دھوپ تھی تو دوسری چھاؤں!
ایک جسم تھی تو دوسری روح !
ایک دل تھی تو دوسری دھڑکن!
۔
۔اُن کی بے مثال دوستی ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ۔۔۔۔وُہ دونوں کبھی ایک دوسرے کے بغیر نظر نا آتی تھیں ۔۔ ہمیشہ ایک ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نظر آتی تھیں۔ زرمینہ نے اپنے بیگ کے ساتھ کیچین بھی فضہ کے نام کی لگائی ہوئی تھی۔ ۔۔
زرمینہ بہت کم لوگوں سے اس قدر محبت کرتی تھی ۔۔۔اور فضہ ، فضہ پہ وُہ جان چھڑکتی تھی۔ اُس کی دنیا اپنے گھر والوں سے لے کے فضہ تک ختم ہو جاتی تھی۔ ۔۔
“مدثر ایسے ہی نکما ہانیہ کے پیچھے پڑا ہوا ہے , ہانیہ صاحبہ کی نظر تو کہیں اور ہے ہے”
فضہ نے زری کو دیکھتے ہوئے کہا !!!!
“کدھر ہے ہانیہ کی نظر “
اُس نے اُس کے کندھے پہ ایسے ہی سر رکھ کے مختصر سا پوچھا!!!!!
“اُس کی نظر اپنے خان صاحب پہ ہے”
زرمینہ کو لگا جیسے اُس کے اندر کسی نے کرنٹک لگایا ہو۔ اُس نے بے اختیار اپنی آنکھیں بند کر لی !!!
تم نے دیکھا نہیں سر اُس کو منہ بھی نہیں لگاتے اور وہ اُن کے پیچھے پیچھے ہوتی ہے ۔۔۔۔جدھر سر جائیں گے اُدھر ہی ہانیہ صاحبہ دکھائی دیں گی۔ ۔آج تو وہ سر کے آفس بھی گی تھی ۔۔۔
اتنی کوئی بری لگتی ہے مجھے یہ لڑکی نا ۔۔اوپر سے GR بھی بن گئی ہیں اب ان کو زمین پہ کون لائے گا!!!!!
فضہ بولتی رہی اور وہ چپ چاپ سی اُس کے کندھے پہ سر رکھے سنتی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ اٹھیں آئیں اور پریزنٹیشن دیں “
اُس نے زرمینہ کا نام لینے کے بجائے ہاتھ سے اِشارہ کیا اور سخت انداز سے اُس کو بلایا !!!!
سر ۔۔۔م۔۔۔میں ؟
اُس کو بلکل بھی اس بات کی امید نہیں تھی وہ اُس کو بلائے گا !!!
“جی آپ محترمہ”
وہی لہجہ وہی انداز!!!! بس نظریں اِدھر اُدھر کلاس پہ تھیں وہ اُس کی طرف دیکھ نہیں رہا تھا !!!!
“لیکن سر…….”
“کیا لیکن”
“سر مجھے نہیں پتا تھا آج میری پریزنٹیشن ہے “
نظریں جھکائے ہوئے!!!!!
“میں آپکو گھر آ کے بتاتا آج آپ کی پریزنٹیشن ہے “
دل کو چوبنے والا انداز!!!!
“سر پلیز میں کل تیار کر لوں گی “
“امپاسبل , آپ کے زیرو نمبر مارک کروں گا میں “
وہی انداز!!!!
“کس لیے آتی ہیں آپ یہاں ؟ اگر پڑھنا نہیں ہے تو، اگر پڑھنا نہیں ہے تو کلاس کے بجائے گھر پے بیٹھیں آپ “
دل کو چیر دینے والا انداز !!!!
زرمینہ پہ آج قیامت ٹوٹ رہی تھی اور وہ بولتا چلا جا رہا تھا !!!!
وہ نظریں جھکائے بس سنتی جا رہی تھی !!
۔
۔
سب حیران ہو کے بس اُس ایک شخص کو دیکھے جا رہے تھے جو بس بولتا چلا جا رہا تھا ۔۔
وہ اُس کا آج ایک اور روپ دیکھ رہے تھے۔
“آج کے بعد میں ایسے بہانے ہر گز نہ سنوں جس نے پڑھنا ہے وہ پڑھے جس نے نہیں پڑھنا وہ میری کلاس سے دُور رہے “
۔
۔
وہ بول رہا تھا سب ایک نظر اُس پے ڈالتے اور ایک نظر زرمینہ پہ !!
زرمینہ نظریں جھکائے بس ایک ہی دعا مانگ رہی تھی یا اللہ مجھے صبر دے ، مگر صبر اتنا چھوٹا بھی تو نہیں ہے جو اسے آ جاتا ۔اُس کی آنکھوں سے آنسوں جانے لگے ۔مگر اُس نے سر اوپر نہیں کیا وہ کسی کو اپنے آنسوں نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔اُس کی غیرت کیسے گوارا کرتی کوئی اُس کو روتے ہوئے دیکھ لے ۔۔وہ سنے گی بہت سنے گی مگر اپنی آنکھ سے نکلنے والا ایک آنسوں بھی کسی کو نہیں دیکھاے گی ۔
وجدان سر اُس کے فورٹ ٹیچر ہیں وہ اُس کو کچھ بھی کہے سکتے ہیں اُس نے خود کو تسلی دیتے ہوئے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔
وہ اُس کو از آ ٹیچر ہمیشہ ہی اچھے لگتے تھے۔ اُس کو تو کیا وہ تو ہر ایک کو اچھے لگتے تھے۔ ۔۔۔مگر وہ اُن کی دل سے قدر کرتی تھی۔ وہ ایک انا پرست قبیلے کی ہوتے ہوئے بھی سنتی رہی۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
آج سب وجدان سر کا یہ روپ دیکھ کے بہت دُکھی ہوئے تھے ۔۔۔سر کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔وُہ زرمینہ کو کل کا ٹائم دے دیتے مگر انھوں نے اُس کا ذرا لخاظ نہیں رکھا ۔۔۔۔انھوں نے اُس کو بتایا بھی نہیں تھا کل تم پریزنٹیشن کے لیے ریڈی ہو کے آنا ۔۔۔
وجدان کی کلاس ختم ہونے کے بعد سب آپس میں باتیں کرنے لگے ۔۔ کوئی زرمینہ کے پاس نہیں آیا تھا سب کو لگ رہا تھا ابھی جانا مناسب نہیں ہے ۔وُہ نظریں جھکائے آنکھوں میں آنسوں چھپاۓ بیٹھی رہی اور فضہ اُس کے پاس بغیر کچھ بولے بیٹھی رہی ۔۔۔
۔
۔
“بہت اچھا ہوا اج سر نے جو اس کو اس کی جگہ بتائی “
آج کوئی خوش تھا تو وہ ہانیہ تھی !!!!!
“میں تو بہت خوش ہوں”
اُس نے ارم کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اپنے چہرے کی خوشی چھپاتے ہوئے کہا۔ ۔اور آٹھ کے ہانیہ کے پاس چلی گئی۔۔۔۔۔۔
” ہانیہ بہت برا ہوا آج تمارے ساتھ”
اُس نے اُس کو ایسے انداز میں کہا جیسے کہے رہی ہو بہت اچھا ہوا ہے تمارے ساتھ اب سر کی کلاس میں نا بیٹھنا !!!
“کیوں ہانیہ کیا برا ہوا میرے ساتھ”
اُس میں بھی سواتیوں والا خون تھا کدھر کسی کے سامنے جھک سکتی تھی ۔اُس نے چہرے پہ بغیر کسی تاثر کے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی ایک ہاتھ کی انگیلیں کو دوسری ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا اور چہرے پہ مسکراہٹ لیے حیرت سے اُس سے پوچھنے لگی !!!!!
کیا ہوا ہانیہ؟
ہانیہ کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گے وہ تو زرمینہ کا روتا ہوا چہرہ دیکھنے آئی تھے یہاں تو کو کوئی اور ہی منظر دیکھ رہی ہے ۔
“نہیں میں بس ایسے ہی کہا کہ تم خفا ہو گی نا سر نے آج سب کے سامنے تھماری انسلٹ کی”
ہانیہ نے مصنوئی سی مسکراہٹ چہرے پہ لائی !!!!!
” ہیں مجھے تو نہیں فیل ہوئی کوئی انسلٹ ، سر وجدان میرے فورٹ ٹیچر ہیں وہ کچھ بھی کہے سکتے ہیں۔ اور ویسے بھی آج غلطی میری تھی جو انھوں نے مجھے ڈانٹا ۔۔۔اور اس کو ڈانٹنا کہتے ہیں نا کے انسلٹ “
اُس نے اسی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا !!!!!
اور ہانیہ وہاں سے چلتی بنی !!!!
۔
۔
“زری “
فضہ نے زری کی طرف دیکھا اُس کی آنکھوں میں غور سے دیکھنے لگی کیا اُس کو واقعی میں فرق نہیں پڑا !!!!
“فضہ اٹھو جائیں نا”
اُس کو لگا وہ کچھ دیر اور بیٹھی تو اونچا اونچا رونے لگ پڑے گی !!!!
فضہ نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں سمجھایا خیر ہے کچھ نہیں ہوتا ؛؛
“اُس نے بھی فضہ کو آنکھوں میں ہی بتایا میں ٹھیک ہوں تم پریشان نہ ہو “
وہ دونوں اکثر ایک دوسری کو آنکھوں ہی آنکھوں میں بات سمجھا دیا کرتی تھیں ۔وہ تو زری کو اندر سے پتا تھا وہ کتنا ٹھیک ہے !!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں عجیب سی وحشت لیے وہ بار بار اُس بیگ کو ہی دیکھ رہا تھا جو اُس نے اپنے پاس بیڈ پہ چھوڑا تھا ۔۔
بہنوں کو اُس نے کمرے میں آنے سے منع کر لیا تھا ۔میں دو دن سے سویا نہیں ہوں مجھے بہت سخت نیند آ رہی ہے میرے کمرے میں کوئی نا آئے پلیز ۔وہ کھانے کی میز سے بغیر کسی سے نظریں میلالے یہ کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف آیا۔ اور ساتھ یہ بھی کہا چائے نہیں پیوں گا میں ۔سب اُس کے اس بات پہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا وہ رات کو سونے سے پہلے چائے نہ پیئے تو سوتا نہیں تھا ۔بعض اوقات تو وہ ۲,۳ کپ بھی پی لیتا تھا اور باقیدہ زینب کو چاکلیٹ کے پیسے دیا کرتا تھا۔
ٹھیک ہے میں آپ کے لیے چائے بناؤں گی پہلے میری چاکلیٹ ۔
چاکلیٹ اگر نا ہو وہ اُس نے پورے پورے پیسے لیا کرتی تھی۔ وہ دونوں ہی بہن بھائی رات کو دیر تک جھگا کرتے تھے ۔زینب ناول پڑھتی تھی اور اپنا کام کیا کرتا تھا !!!!!!!!
۔
۔
سب اُس کو حیران ہوتے ہوئے دیکھنے لگے۔ ایک فاطمہ ہی تھی جس کو اندازہ تھا اُس کو مسئلہ کیا ہے …..
۔
۔
وہ جلدی جلدی اٹھا اور اپنے دروازے کو کنڑھی لگائی ۔۔
پھر آ کے بیڈ پہ بیٹھ گیا ۔اور اُس بیگ کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔اُس نے کانپتے ہاتھوں سے بیگ کھولا ۔اُس کی آنکھوں میں عجیب سی سُرخی تھی ۔۔۔ اُس نے بیگ کھولتے ہی وہ ڈبی دیکھی اور پھر سے کمپنے لگا ۔اُس کو کہا جیسے اُس کو شدید ٹھنڈ لگ رہی ہے ۔اُس کی ٹانگیں ہاتھ پاؤں کانپنے لگے ۔اُس کے دانت ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرانے لگے ۔ اُس کو لگا وہ پاگل ہو گیا ہے ۔اُس نے بیگ کو فوراً سے بند کیا اور بیڈ سے نیچے پھینک دیا ۔اور خود پہ ایسے رضائی اوڑھی کے اُس کی سانسیں بھی باہر نا جائیں ۔۔۔۔وہ رضائی میں لیٹے مسلسل کانپ رہا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر آتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں گی۔ پورے راستے سے خود کو جو سنبھالے ہوئے تھی ۔اپنے کمرے میں آتے ہی ایسے رونے لگی جیسے کسی نے بچے کو مارا ہو اور وہ حجکیایاں لے لے کے رو رہا ہو ۔اُس نے عبایا بھی نہیں اُتارا تھا ۔ دروازہ بند کر کے وہ سیدھا واشروم میں گی ۔اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔ اُس نے پانی کا نل کھول دیا ، تا کے اُس کے رونے کی آواز باہر نہ جائے !!!!
“سر ایسا کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ “
اُس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پہ رکھے اور اونچا اونچا روتی رہی۔۔۔۔ اُس کا کمرہ تھوڑا سا ہٹ کے تھا تو آواز باہر نہیں جاتی تھی ۔دوسرا اُس نے پانی کا نل کھول دیا تھا ۔۔۔۔
۔
وہ عبایا پہنے زمین پہ بیٹھ کے کتنا وقت روتی رہی اُس کو خود بھی نہیں پیتا لگا ۔۔۔۔
۔
۔
وہ جب اُدھر سے اٹھی تو باہر اندھیرا ہو رہا تھا۔ اُس کو پتا ہے نہیں چلا وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے عبایا پہنے واشروم کے فرش پہ بیٹھی ہے !!!!
۔۔۔اُس کے کمرے میں ایسے بھی بھائی نہیں آتے تھے۔ اور اماں کو پتا ہوتا تھا وہ دن میں سوتی ہے۔ تو وہ اُس کے کمرے میں نہیں آئی تھیں۔
۔
۔
وہ اٹھی عبایا اُتارا اور شاور لیا۔ اُس کے بعد وضو بنانے لگی ۔۔۔جیسے ہی اُس نے اپنا چہرہ شیشے میں دیکھا اُس کو لگا یہ وہ ہے ہی نہیں۔ اُس کی آنکھیں اتنی لال ہوئی وی تھیں اُس کو لگا جیسے کسی نے مرچیں کوٹ کے ڈالی ہوئی ہوں۔وُہ جیسے ہی پانی منہ پہ ڈالتی تو درد کی ایک آہ لے کے پیچھے ہو جاتی۔ اُس کی آنکھیں اتنی جل رہی تھیں کے وہ پانی کو بھی برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔
وہ آج بری طرح سے ٹوٹی تھی اُس انسان کے ہاتھوں جو اُس کا آئیڈیل ٹیچر تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کانپتا ہوا اٹھا اور زمین پہ جا کے بیٹھ گیا ، اور پھر سے اُس بیگ کو اٹھا لیا ۔۔۔۔۔۔ اُس کو کھولتے ہی اُس میں سے اُس نے وہ دونوں ڈبیاں اٹھا لیں ۔۔۔آنکھوں میں وہی وحشت لیے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ ، وُہ باری باری دونوں کو کچھ وقت ایسے ہی دیکھتا رہا ۔۔
پھر اُس نے فیصلہ کر لیا اُس کے مسئلے کا بس ایک ہی حل ہے ۔اُس کو نہیں ڈرنا ۔۔۔۔
اُس نے ایک ڈبی میں سے تیلی نکلی اور دوسری سے سگریٹ نکلا ۔۔۔
وہی زمین پہ بیٹھے اُس نے تیلی جلائی اور سگریٹ کو اُس کے ساتھ لگایا ۔۔۔اُس کے ہاتھ اب پہلے سے زیادہ کانپنے لگے تھے آنکھوں کی وحشت میں اضافہ ہونے لگا تھا ۔
اُس نے سگریٹ کو اپنے منہ کے ساتھ لگایا اور ایک کش لگایا !!! ۔جیسے ہی سگریٹ کا دھواں اُس کے اندر گیا اُس کو ایک دم سے کھانسی شروع ہو گئی ۔۔۔اُس کا دم گھٹنے لگا ۔۔۔
اُس نے پھر ایک دفعہ سگریٹ اپنے منہ کے ساتھ لگایا اور منہ پہ ہاتھ رکھ لیا اب کھانسی پہلے سے زیادہ ہو رہی تھی پہلے سے زیادہ دل پہ بوجھ آیا تھا ۔۔مگر اُس نے سگریٹ چھوڑا نہیں تھا اور پیتا رہا ۔۔۔۔
ایک سگریٹ ختم ہوا اُس نے دوسرا لگا لیا ۔ دوسرا لگاتے ہی اُس کو لگا جیسے اب سب ٹھیک ہو رہا ہے اب کھانسی ہونا بند ہو گی تھی ۔ اُس کا ذہن پر سکون ہونے لگا ۔جو اُس کے اندر وحشت تھی وہ ختم ہونے لگی۔ ۔۔۔وُہ زمین پہ بیٹھے سگریٹ پہ سگریٹ پیے جا رہا تھا ۔۔۔
اُس نے بیڈ کے ساتھ اپنا سر رکھا آنکھیں بند کی اور سگریٹ کو ہاتھ سے نیچے چھوڑا۔
جیسے ہی اُس نے آنکھیں بند کیں آج دن کا سارا منظر اُس کے سامنے گھومنے لگا ۔
آج اُس نے اُس لڑکی کو پوری کلاس کے سامنے بے عزت کیا تھا ۔۔اُس کی آنکھوں نمی اُس نے دیکھی تھی پھر بھی وہ چپ نہیں ہوا تھا بولتا رہا تھا۔
۔
اُس کے اندر کچھ درد ہوا ۔وُہ اٹھ کے بیٹھا آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سیلاب نکل رہا تھا۔ اُس نے پھر سے سگریٹ لیا پھِر سے جلانے لگا ۔۔
۔
میں نے تمہیں بے عزت نہیں کیا ملکہ !!!
“میں نے تو خود کو تم سے دور کرنا چاہا ہے دیکھو نا میں خود کو تم سے دور کرنے کے لیے آج خود ہی کو برباد کر رہا ہوں “
۔
اُس نے سگریٹ کو اپنے کانپتے ہوٹوں کے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔۔
پورا کمرہ دھوئیں سے بھر رہا تھا اور وہ سگریٹ پہ سگریٹ پیے جا رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اللہ جی سر ایسا کیسے کر سکتے ہیں “
آپ کو پتا ہے آج انھوں نے مجھے پوری کلاس کے سامنے اتنا ذلیل کیا ہے ۔ آپ کو پتا ہے میرا کیا دل کر رہا تھا کہ میں مر جاؤں آج۔۔۔۔۔ میری غلطی تھی ٹھیک ہے میری غلطی تھی میں پہلے ہی کام کر لیتی اپنا ۔۔۔مگر انھوں نے مجھے بتایا ہی کب تھا کے کل آپ کی پریزنٹیشن ہے ۔ وُہ اتنا غلط کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ۔
۔
وہ جائے نماز پے بیٹھی بچوں کی طرح روتی رہی اور ساتھ اللہ جی کو شکایتں لگتی رہی۔
اُس سے پہلے اُس کو کبھی کسی نے ایسے نہیں ڈانٹا تھا ۔۔۔کسی نے اُس کو ایسے بے عزت نہیں کیا تھا۔ کسی نے اُس کی ایسے
تذلیل نہیں کی تھی آج پہلی بار تھی۔ وہ سہے نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔
اُس نے دن سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔اور اماں کو یہ کہے کر ٹال لیا تھا وہ بعد میں کھا لے گی۔
۔
زری یہ تھماری آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہوئی ہوئی ہیں ، روئی ہو تم؟ کیا ہوا ہے؟
اماں نے اُس کی آنکھوں کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے کہا !!!!!
نہیں نہیں اماں میں کیوں رونے لگی بھلا وہ میری آنکھیں دُکھ رہی ہیں اُس نے آنکھوں کو مسلتے ہوئے نیچے دیکھ کے کہا !!!!
اُس کو پتا تھا ماں تھوڑی دیر اور اُس کو دیکھتی تو وہ اُن کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے روتی۔
“اماں میں کہنا کہا لوں گی آپ بابا جان کو کھانا دے دیں “
“اچھا ٹھیک ہے کھانا کھا کے سونا بچے”
“جی ماں “
۔
۔
اللہ جی آپ خود پوچھنا سر کو !!!
یہ کہے کر پھر وہ رونے لگی ۔
روتے روتے وہ اچانک چپ ہوئی !!!
خیر ہے زرمینہ خان سواتی صاحبہ ٹیچرز تو اپنے سٹوڈنٹس کو ڈانٹے ہی ہوتے ہیں ۔اس میں اتنا رونے کی کیا بات ہے ۔ یاد نہیں ہے سکول میں تمہیں مس ہنا نے ڈانٹا تھا تب تو آپ اتنا نہیں روئی تھیں تو آج کیا ہو گیا ۔۔
وہ خود سے ہی باتیں کرنے لگی !!!!
بیشک انہوں نے ڈانٹا تھا اُن کی بات اور تھی مگر سر کی بات اور ہے۔ ۔
کیوں سر کی بات اور کیوں ہے؟
۔
۔اچانک سے اُس کے اندر سے آواز آئی ۔ وہ کچھ دیر ایسے ہی بیٹھی رہی جیسے اُس کے پاس اس بات کا کوئی جواب ہی نا ہو ۔کیوں سر کی ڈانٹ اُس کے دل کو زخمی کر رہی تھی آخر کیوں ؟ ٹیچرز تو ڈانٹتے ہی ہیں اپنے سٹوڈنٹس کو پھر اُس کو اتنا کیوں برا لگ رہا تھا !!!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زمین پہ بیٹھے ویسے ہی بیٹھا تھا ۔۔ویسے ہی سگریٹ پیے جا رہا تھا۔ جیسے وہ خود کو ختم کرنا چاہتا ہو۔
اُس کی آنکھوں کے آگے بار بار اُس کی بیگھی پلکیں آ رہی تھی بار بار اُس کو عجیب سا درد ہو رہا تھا ۔
۔
“اُس نے کیوں کیا ہے ایسا ، اس میں اُس کی کیا غلطی تھی ؟ اُس کو تو پتا بھی نہیں ہے سید وجدان حسین شاہ اُس کے سحر میں جکڑا گیا ہے ۔وجدان اتنا خود غرض کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے “
۔
اُس نے ایک ہاتھ میں جلتا سگریٹ لیا اور دوسرے ہاتھ کی ہتھلی پہ لگایا ، درد کی ایک شدت اُس کے اندر پھوٹی ۔اُس نے زور سے ایک آہ لی ۔اُس کا لگا جیسے اُس کا پورا وجود جل گیا ہو ۔اندر سے تو وہ پہلے ہی جل رہا تھا آج اُس نے خود کو باہر سے بھی جلایا تھا ۔۔
وہ پیچھے ہوا ایک گھٹنا اوپر کر کے بیٹھا اور بازو گھٹنے پہ رکھا ۔۔۔اور اپنا جلا ہوا ہاتھ دیکھنے لگا ۔۔۔
۔
کیا اس کو کہتے ہیں محبت ؟ کیا یہ ہوتی ہے محبت؟ جو آپ کو تباہ کر لے ۔ آپ کو ایک شخص کے بغیر کوئی اور نہ دیکھائی دے ۔ آپ پوری دنیا میں بس اُس ایک شخص کو دیکھو اُس کے لیے روتے رہو ۔اُس کو ایک نظر دیکھنے کے لیے تڑپ جاؤ اور جب وہ سامنے ہو اُس کو نظر اٹھا کے بھی نہ دیکھ سکو ۔
“اگر یہ ہوتی ہے محبت تو ہاں ہو گی ہے سید وجدان حسین شاہ کو اُس حجاب والی سے محبت “
“سنو میرے دل کی ملکہ ! وجدان کو تم سے محبت ہو گی ہے “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: