Hijab Novel By Amina Khan – Episode 11

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 11

–**–**–

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب سے شروع ہونے والی محبت کی ایک عجیب داستان
ایسی داستان جو کہیں سنی نا هو
ایک لڑکا جو سید خاندان سے ہے
اور ایک لڑکی جو پٹھان ہے
حقیقت پر منبی کم عمر محبت کی خوبصورت داستان
آمنہ خان کے قلم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللهُ أَکبَر اللهُ أَکبَر
اُس کے کانوں پہ ازان کی آواز پڑھی وہ زمین پہ لیٹے ہوئے تھوڑا ہلا ۔۔۔۔۔جیسے وہ آواز اُس کو ہلا رہی ہو ۔
أَشهَدُ أَن لا إِلهَ إِلَّا الله
أَشهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله
۔
ایک بات پھر اُس کے کان میں اذان کی آواز پڑی وہ ویسے ہی زمین پہ لیٹا رہا ۔۔اُس کو لگا وہ خواب میں ازان سن رہا ہے ۔
۔
حَیِّ عَلَی الصَّلاةِ
حَیِّ عَلَی الفَلاح
۔
اب کی بار آواز بلند ہوئی اُس کو لگا کوئی اُس کو جھنجوڑ رہا ہے ۔
۔
اللهُ أَکبَر
لا إِلهَ إِلَّا الله
۔
وہ ایک دم چونکا اور اوپر ہو کے بیٹھ گیا۔ کمرے میں اتنا اندھیرا تھا کے اُس کو خوف آنے لگا ۔عجیب سی اُلجھن اُس کا دل تنگ کرنے لگی ۔۔۔
اُس کو لگا جیسے وہ مر گیا ہے اور کسی قبر میں ہے ….. اُس نے جلدی جلدی کلمہ پڑھنا شروع کیا اور خود پہ پھونکنے لگا !!!! ۔
“یا اللہ مجھ پہ رحم کر”
اُس نے زمین پہ بیٹھے سر کو دونوں گھٹنوں پہ رکھا اور مسلسل رحم مانگنے لگا !!!
۔
۔
مسجدوں سے آزانوں کی آوازیں آتی ہوئی اُس کے دل میں سکون اُتارنے لگیں ۔۔۔اُس کو ہمیشہ سے فجر کے وقت ازان بہت اچھی لگتی تھی۔ وہ ہمیشہ ازان کے وقت اٹھ جایا کرتا تھا ۔۔مگر پچھلے کچھ دنوں سے اُس کو خود ہی ہوش نہیں تھی وہ کون ہے ۔کیا چاہتا ہے اُس کو کیا کرنا ہے۔ وہ پانچ وقت کا نمازی اب نماز کے وقت پہ بھی ہوش میں نہیں رہتا تھا۔….
۔
۔
وہ ویسے ہی گھٹنوں پے سر رکھے بیٹھا رہا۔
“میں نے سگریٹ پیے ہیں؟ “
“میں کیسے ایسا کر سکتا ہوں؟ “
۔
رات کا سارا منظر اُس کی آنکھوں کے آگے آنے لگا , اُس کی اُلجھن میں اضافہ ہونے لگا ۔۔۔یہ میں کیسے کر سکتا ہوں میں کیسے اتنے سگریٹ ۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھا اور جلدی جلدی کمرے کی لائٹ لگائی !!!!!
لائٹ لگاتے ہی اُس نے ایک نظر اپنے کمرے کو دیکھا ۔
“یا خدا یہ میں نے کیا کیا “
اُس کے کمرے میں جگہ جگہ سگریٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پڑے تھے ، جگہ جگہ سگریٹ کا گند پڑا تھا اُس کو لگا وہ آج اپنے کمرے میں ہے ہی نہیں۔وہ کسی نوشی کے ہوٹل پہ بیٹھا ہے۔۔
۔
۔
ڈریسنگ ٹیبل اُس کے بیڈ کے بلکل سامنے تھی اچانک اُس کی نظر شیشے پر پڑی ۔
“یہ میں ہوں”
اُس نے اپنے منہ پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا !!
وہ تھوڑا اور پاس گیا !!
آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے ، بڑھی ہوئی داڑھی ، ہونٹوں پہ سفید پھولی ، کانوں کے اوپر آتے ہوئے بال ۔اُس نے خود کو آج اتنے دونوں بعد شیشے میں دیکھا تھا!!!!
۔
“اُس نے جب سے اُس کو دیکھا تھا اُس کے بعد اپنا آپ نہیں دیکھا”
۔
“یہ تو ہے وجدان ؟ “
آنکھوں میں آنسوں لیے اُس نے شیشے کو دیکھتے ہوئے پوچھا !!!
اُس کی آنکھوں سے ایسے آنسوں بہنے لگے جیسے اُس کو خود پہ ترس آ رہا ہو ..
لوگوں کو لوگوں کی حالت پہ ترس آتا ہے مگر سید وجدان حسین شاہ کو اپنی حالت پہ ترس آیا ۔۔۔
۔
“دیکھو ملکہ ! کیا تھا میں اور کیا بن گیا ہوں”
۔
اُس نے نظریں جھکاتے ہوئے آنکھیں بند کی پھر سے اُس کی آنکھیں اُس کا حجاب میں چھپا چہرہ اُس کے سامنے آیا ۔۔.
۔
“ملکہ ! دیکھو وجدان نے تمہارے عشق میں خود کو برباد کیا ہے “
۔
وجدان نے اُس کو ملکہ کا خطاب دیا تھا وہ جب بھی اُس کو اپنے پاس تصور کرتا اُس کو ملکہ کہتا تھا!!!!
وہ اُس کے دل کی ملکہ تھی!!!!!!
اُس کو پتا ہی نہیں چلا وہ کب اُس کے دل کی ملکہ بن گی ۔اُس دل میں تو بیشمار لڑکیاں آئی تھیں مگر ملکہ کوئی نہیں بنی تھی۔یہ عزاز ایک پاکیزہ عورت کو ہی ملنا تھا سو اُس کو مل گیا!!!!!
۔
وہ اچانک چونکا اور وہاں سے ہٹا اُس نے پھر سے ایک دفعہ اپنے کمرے کو دیکھا ۔اُس نے اب اپنا کمرہ ایسے صاف کرنا تھا کے سگریٹ کا نام و نشان بھی وہاں نہ رہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔”زری اٹھ جاؤ نماز کا ٹائم جا رہا ہے “
ہمیشہ وہ تہجّد کے لیے خود ہی اٹھ جایا کرتی تھی۔ مگر آج وہ نماز کے لیے بھی نہیں اٹھی۔!!!!!
“زری “
“اٹھ جاؤ نا”
انہوں نے اُس کے قریب آتے ہوئے اسکو ہلایا جو آگ کی طرح تپ رہی تھی ۔۔۔
“زری “
ماتھے پے ہاتھ رکھتے ہوئے پریشانی سے اُس کے پاس بیٹھی !!!
“زری تمھیں تو بہت تیز بخار ہے “
“تم نے رات میں کھانا بھی نہیں کھایا زری، رات میں تو کیا تم نے تو دِن میں بھی نہیں کھایا تھا۔ ۔۔میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہا لینا “
وہ پریشانی میں خود سے ہی باتیں کرنے لگیں!!!!!
وہ جب سے یونیورسٹی سے آئی تھی اُس نے ایک لقمہ بھی نہیں لیا تھا۔ ۔۔
اُس کے ذہن سے وجدان کی کہی ہوئی ایک بھی بات نہیں نکل رہی تھی وہ پوری رات سوئی نہیں تھی۔ بار بار اُس کو اُس کا بات کا وہ انداز یاد اتا وہ ایسی طرح رونا شروع ہو جاتی ۔
۔
اُس کی باتوں سے زیادہ اُس کو وجدان کا بات کرنے کا انداز تکلیف دے رہا تھا !!!!
“زری میں بابا جان کو کہتی ہُوں تمارے ڈاکٹر کو بولا کے لائیں ۔”
اُن کے گھر کی لڑکیاں ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتی تھیں بلکہ ڈاکٹر خود گھر آتا تھا۔ ۔۔۔
۔
“نہیں اماں میں ٹھیک ہوں آپ بابا جان کو نہ بتائے میں آج آرام کروں گی تو بلکل ٹھیک ہو جاؤں گی”
اُس نے بیڈ پہ لیٹے لیٹے ماں کو کہا!!!!!!
“اچھا ٹھیک ہے میں تمارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں کل دن سے کچھ نہیں کھایا تم نے “
۔
“سو جاؤ زری آج یونیورسٹی نہیں جانا “
۔
نماز کے بعد سوتی ہوں اماں ، وہ تپتے جسم کے ساتھ اٹھی اور وضو بنانے لگی !!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وجدان بیٹا کیا ہوا ہے تمہیں”
مولوی صاحب اُس کے پاس آئے ، اُس کو دیکھتے رہے ۔جو ایک رانجھے کی طرح گردن جھکائے مسجد کے پلر کے ساتھ ٹیک لگے بیٹھا تھا !!!!!!
“ج۔۔۔۔جی “
مولوی صاحب کے اُس کو بلانے پہ اُس کو احساس ہوا کہ وہ اُس کے پاس بیٹھے ہیں!!!
۔
“میں نے پوچھا کیا ہوا ہے “
“کچھ نہیں مولوی صاحب”
“کچھ تو ہوا ہے وجدان تم مسجد میں بھی اب کم نظر آنے لگے ہو ۔صبح صبح جو قرہت تم کرتے تھے شاید وہ تو تم بھول ہی گے ہو “
“مولوی صاحب اللہ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے “
آنکھوں میں نمی لیے ، نظریں جھکائے وہ بس معصومیت سے جواب دیتا رہا!!!!
” اللہ بھی کبھی کسی سے ناراض ہوا ہے؟”..
مولوی صاحب نے اُس کی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔ آج وہ کسی اور وجدان کو اپنے پاس بیٹھا دیکھ رہے تھے !!!!!
۔
مولوی صاحب جب وُہ ناراض ہوتا ہے تو سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے ، وہ اپنی ناراضگی میں خود سے دور کر لیتا ہے انسان کو۔ میرا اللہ مجھ سے بہت ناراض ہو گیا ہے۔ دیکھیں نا مجھ سے تو سب کچھ ہی چھن گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے اُس نے اپنی ناراضگی دیکھائی ہے وجدان کو وجدان میں ہی مار دیا ہے “
۔
وہ آنکھوں میں آنسوں لیے بولتا رہا اور مولوی صاحب اسکو سنتے رہے ، جیسے وہ اُس کو سننا چاہتے ہوں ، وہ اُس وجدان کو کھوج رہے تھے جو واقعی کہیں مر گیا تھا ، بغیر لوگوں کے بغیر جنازے کے دفنایا گیا تھا۔
۔
“اللہ تم سے کیوں ناراض ہو گیا ہے وجدان؟”
۔
مولوی صاحب کے پوچھنے پے اُس نے اُن کی طرف دیکھا یہ پہلی دفعہ تھی جو اُس نے اُن کی نظروں میں نظریں ملائیں ۔اور پھر ایک دم نظریں جُھکا لی۔ وہ کسی کی نظروں میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا وہ کسی کو حق نہیں دینا چاہتا تھا کوئی اُس کی آنکھوں میں اُس لڑکی کو دیکھے۔۔۔۔
۔
“وجدان کیا کیا ہے تم نے کہ اللہ تم سے ناراض ہو گیا ہے ۔تم تو کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کرتے ہمیشہ اُس رحمان کے بندوں کی مدد کرتے ہو پھر وہ تم سے کیسے ناراض ہو سکتا ہے ؟”
۔
“وجدان وہ اپنے اچھے بندوں کو آزماتا ہے “
اُس کے کچھ نہ بولنے پہ مولوی صاحب سمجھ گے وہ نہیں بولنا چاہتا۔ بس وہ اُس کو پیار سے سناتے رہے۔ جو ایک ایک لفظ اُس کے دل میں اُتر رہا تھا۔ وہ نظریں جھکائے سنتا رہا !!!!!
۔
“اُس رب العزت نے تم پہ آزمائش ڈالی ہے تو اُس آزمائش کو اپنی طاقت بناؤ وجدان اُس کو اپنی کمزوری نا بناؤ”
مولوی صاحب اُس کو کہتے رہے ۔۔۔
۔
“مولوی صاحب کیا ایک سید گھرانے کے بچوں کے سیدوں سے باہر شادی ہو سکتی ہے”
۔
اُس نے مولوی صاحب کی بات کو آدھے میں ہی کاٹا۔ اور اُن کا چہرہ غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا !!!!
۔ وہ اُن کا جواب اُن کے منہ سے پہلے اُن کی آنکھوں سے سننا چاہتا تھا !!!!!!
۔
مولوی صاحب بغیر کسی تاثر کے اُس کی چہرے کے بدلتے رنگ دیکھتے رہے۔ اُن کو اُس کی ایک بات نے ہی سارا معاملہ سمجھا دیا تھا !!!!!
“دیکھو وجدان “
۔
“مولوی صاحب ۔۔۔۔۔مولوی صاحب میری مدد کریں۔ میرا بچہ پھر سے بیمار ہو گیا ہے۔ وہ اُس کے ساتھ جو جنّات ہیں وہ اُس کو بہت مار رہے ہیں خدا کے لیے میری مدد کریں چلیں میرے ساتھ “
وجدان مولوی صاحب کے جواب کا اتنی شدت سے انتظار کر رہا تھا جیسے اُس کا کلیجہ اُس کے منہ میں آ جائے گا ابھی ، اتنے میں مولا بخش آیا جس کے بیٹے کے ساتھ جنّات تھے اور وہ مولوی صاحب کو اپنے ساتھ لے جانے لگا!!!!!
“وجدان میں تم سے بعد میں بات کروں گا “
مولوی صاحب یہ کہتے ہوئے مولا بخش کے ساتھ چلے گے۔ !!!
اور وہ پھر سے پلر کے ساتھ سر لگائے آنکھیں بند کئے بیٹھا رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زری کیوں تیار ہو رہی ہو تم”
۔
“اماں مجھے جانا ہے ؟”
“کہاں جانا ہے؟”
“یونیورسٹی اماں آپ بھی نا اس ٹائم یونیورسٹی ہی جاؤں گی نا میں “
۔
اُس نے کندھے پہ ماں کی دی ہوئی چادر لیتے ہوئے کہا!!!!
۔
“تم نے اپنا حال دیکھا ہے , اس حالت میں جاؤ گی تم یونیورسٹی “
“اماں میں ٹھیک ہوں اب”
زری ہر بات پہ ضد نہ کیا کرو .ایک دن اگر تم نہیں جاؤ گی تو کون سا تمارے نا جانے سے یونیورسٹی بند ہو جائے گی”
“اماں پلیز مجھے جانے دیں”
“اُس نے ہے بسی سے ماں کو دیکھتے ہوئے کہا!!!!!
۔
“زری ضد نہیں کرتے بچے “
اماں فضہ اکیلی کیا کرے گی ۔میں نے اُس کو بتایا بھی نہیں کے میں نہیں آ رہی ابھی تو وہ یونیورسٹی کے لیے نکل بھی گئی ہو گی “
“مگر زری”
” اماں پلیز”
اُس کا انداز ایسا تھا کے ماں کچھ ہول ہی نہیں سکی ۔۔۔اُس کو خود بھی نہیں سمجھ آ رہی تھی ایسی کون سی طاقت ہے جو اُس کو اُس راستے پہ کھینچی چلی جا رہی ہے ۔کیوں وہ جانے کے لیے اس قدر تڑپ رہی ہے ۔ کیوں وہ اتنی بیمار ہوتے ہوئے بھی جانا چاہتی ہے۔ کیوں اُس کا دل اُدھر جانے کے لیے مچل رہا ہے !!!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اہ زرمینہ تم یونیورسٹی میں “
ہانیہ نے کلاس میں آتے ہی اُس کو دیکھتے ہوئے کہا !!!
“کیوں آج مجھے چھٹی تھی کیا؟”
“زرمینہ کو پتا تھا وہ کس بارے میں بات کر رہی ہے اُس کا اشارہ کس طرف ہے ،پھر بھی اُس نے اُس سے انجان بن کے پوچھا “
۔
“مجھے لگا تم کل والے واقعے کے بعد تو کچھ دن سنبھل بھی نہیں سکو گی۔ مگر میں کیا دیکھ رہی ہوں آپ تو تشریف لا چکی ہیں”
۔
وہ اور ارم زرمینہ کے پاس کھڑے ایک دوسرے کو مسکرا کے دیکھتے ہوئے زرمینہ کو mentally trocher کیے جا رہی تھیں ۔۔۔
۔
“ہانیہ آپ کو زرمینہ کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں ہے؟”
فضہ نے زرمینہ کو خاموش ہوتا دیکھ کے ایک دم سے اُن کو جواب دیا !!!
۔
زرمینہ کو لگا جیسے کل وجدان نے اُس کو ذلیل نہیں کیا اُس کی عزت نفس کا جنازہ نکلا ہے ۔آپ نے کیوں کیا ہے ایسا ۔کیوں ہر ایرے غیرے کو مجھ پہ بات کرنے کا موقع دیا ہے ؟
اُس کو اپنے اندر درد ہوتا محسوس ہوا ۔وہ سواتی تھی۔ ایک آنا پرست قبیلے کی لڑکی ۔آج اُس کی انا مٹی کا ڈھیر ہو رہی تھی ۔۔۔ضبط کی ایک حد ہوتی ہے وہ ضبط کی حد ختم ہو رہی تھی ۔وہ چینج چینج کے کہنا چاہتی تھی۔
“سنو سید وجدان حسین شاہ مجھے تم سے نفرت ہے شدید نفرت “
۔
وہ خاموش رہی اُس کے پاس آج بولنے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ البتہ سننے کو بہت کچھ تھا اور وہ ضبط کیے بس سنتی جا رہی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زرمینہ تم اتنا بیمار ہو ، نہیں آنا چاہئے تھا آج تمہیں یونی “
فضہ نے اُس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتے ہوئے کہا !!!!!
۔
بغیر بولے آج وُہ بس چل رہی تھی ۔۔۔
“زرمینہ تم نہ دُکھی ہو میں وجدان سر کے آفس جا کے ان کو بولوں گی انھوں نے بہت غلط کیا تھا کل۔ ٹھیک ہے بھئی تمہیں نہیں تیار تھی تو اور کس کو تیار تھی پریزنٹیشن ؟۔ مجھے تو لگتا ہے وہ جان بھوج کے تمہیں ہی سننا چاہتے تھے۔ پریزنٹیشن کا صرف انھوں نے بہانا رکھا ہے “
فضہ نے اُس کا ہاتھ چھوڑا اُس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے اُس کو کہنے لگی !!!!
۔
“زری کچھ تو بولو نا “
وہ نظریں جھکائے بس کھڑی رہی۔ جیسے وہ بولے گی تو پھوٹ پھوٹ کے روئے گی۔ اماں ٹھیک کہتی تھیں اُس کو اج نہیں آنا چائیے تھا ، اُس نے دل میں سوچتے ہوئے کہا!!!!!
۔
“زری تم مجھے پریشان کر رہی ہو تم اُس ہانیہ کی باتوں پہ سیریز ہو رہی ہو۔ جو سر کے پیچھے پیچھے پرتھی ہے اور سر اُس کو منہ بھی نہیں لگاتے “
۔
فضہ نے ویسے ہی اُس کے سامنے کھڑے کھڑے اُس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر کہا !!!!
“فضہ “
اُس نے جیسے ہی فضہ کا نام لیا آنکھوں میں عجیب سی سُرخی آئی۔ اُس کا ضبط ٹوٹنے کے آخری درجے پے تھا۔ اگر وہ اور فضہ اکیلے اُس جگہ پہ ہوتے تو شاید وہ اُس کے گلے لگ کے اونچا اونچا روتی۔ مگر وہ جس جگہ تھے وہاں ہر طرف سٹوڈنٹس تھے۔ وہ چاہ کے بھی اپنا ضبط نہیں توڑ سکتی تھی ۔۔۔۔
۔
“سر نے بہت غلط کیا فضہ “
وہ نظریں جھکائے بس با مشکل اتنا ہی بول پائی کے سامنے کونے میں کھڑا ہوا پیٹ پھیرے اُس کو وہ شخص نظر آیا جس نے کل اُس کے غرور کو ریزہ ریزہ کیا تھا۔۔۔۔۔
وہ ہاتھوں میں موبائل اور چائے کا ایک کپ پکڑے کھڑا کسی سے بات کر رہا تھا۔.۔
۔
“کیا سید وجدان حسین شاہ اُس کے ساتھ اتنا برا بھی کر سکتا ہے؟ “
اُس نے اُس کو دیکھتے ہوئے دل میں سوچا !!!!!!!
۔
وہ مسلسل اُس پیٹ پھیرے ہوئے شخص کو دیکھے جا رہی تھی !!
فضہ نے اُس کی نظروں کو تعقب کرتے ہوئے اُس کو دیکھا جو آج بھی پہلے دن کی طرح بلو پینٹ اور بلیک کوٹ پہنے تھا۔۔۔اور سب کو اپنا دیوانہ بنا رہا تھا۔۔۔۔۔
۔
“زری “
اُس نے زرمینہ کو مسلسل اُدھر دکھنے پہ بازو سے پکڑ کے آرام سے ہلایا !!!
“کیا سوچ رہی ہو تم؟”
وہ جو خالی ذہن لیے اس شخص کو دیکھے جا رہی تھی۔ ایک دم سے فضہ کی طرف ہوئی
۔جیسے ہی وہ فضہ کی طرف دیکھنے لگی ۔پیٹ کیا ہوا شخص اچانک پیچھے مڑا ۔۔
اُس کی نظر ایک دم اُس سراپا حُسن پر پڑی جو حجاب میں ، سفید چادر لیے خود کو لپیٹ رہی تھی۔
اُس کو لگا جیسے اُس کے اردگرد اُس کے علاوہ کوئی اور ہے ہی نہیں۔۔۔۔
اُس نے بس ایک نظر فقط ایک نظر اُس لڑکی پے ڈالی جس نے اپنے ایک بار کے دیدار نے اُس کو دیوانہ بنا رکھا تھا ۔۔
اُس کو لگا حجاب پہنے کوئی پری خدا نے آسمان سے بھیجی ہے۔ یہ لڑکی اس دنیا کی تو ہے ہی نہیں جس دنیا میں وہ کھڑا تھا ۔کون ہے یہ جس کے لیے میں رات بھر روتا ہُوں اور اُس کو ایک نظر بھی نہیں دیکھ سکتا”
۔
اُس کے کندھوں پہ پڑی چادر نے اُس کے حجاب نے اُس کو اپنا اسیر بنا دیا ہے ۔جیسے کوئی کسی کے سحر میں جکڑ جائے اور پھر کبھی نا نکل سکے۔ وہ اُس کے حجاب کے سحر میں جکڑا گیا تھا۔
۔
وہ کب اُس لڑکی کے سامنے ہارا اُس کو پتا ہی نہیں چلا وہ اُس کے ایک دفعہ کے دیدار پہ فقط ایک دیدار پہ اپنا سب کچھ ہار گیا تھا “
” وہ اُس کے ڈمپل پہ نہیں اُس کے حجاب پہ ہارا تھا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: