Hijab Novel By Amina Khan – Episode 12

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 12

–**–**–

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب سے شروع ہونے والی محبت کی ایک عجیب داستان
ایسی داستان جو کہیں سنی نا هو
ایک لڑکا جو سید خاندان سے ہے
اور ایک لڑکی جو پٹھان ہے
حقیقت پر منبی کم عمر محبت کی خوبصورت داستان
آمنہ خان کے قلم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں اتنا خودغرض کیسے ہو سکتا ہوں , میں اتنا خودغرض تو نہیں تھا۔ میں نے تو اپنے سے پہلے ہمیشہ اپنی بہنوں کا سوچا ہے تو آج میں یہ کیسے کر سکتا ہُوں ۔پانچ بہنوں کے ہوتے ہوئے میں مولوی صاحب سے اپنی ہی شادی کے حوالے سے کیوں پوچھ رہا تھا۔ میں کیسے بھول سکتا ہُوں میری پانچ جوان بہنے گھر پہ ہیں۔ اُن کے کتنے ارمان ہوں گے کتنا کچھ سوچا ہو گا انہوں نے اپنے بارے میں ۔اور میں ۔۔۔۔
میں نے اُنکا ایک بار بھی نہیں سوچا “
۔
یا اللہ وجدان کو اتنا خودغرض نا بنا ۔ کیا ایک لڑکی کی محبت آج اتنی زیادہ ہو گی کہ میں اپنی بہنوں کو ہی بھول گیا۔ مجھے اپنی بہنوں کا پہلے سوچنا ہے۔ اب تو اُن کے دل سے شادی کا ارمان بھی ختم ہو گیا ہو گا۔ کیا اُن کا یہ مقام اُنکا قصور بن گیا ہے کہ وہ سید گھر میں پیدا ہوئی ہیں؟
۔
کیا یہ مقام اُن کے لیے ساری زندگی کا روگ بن جائے گا۔ اگر سید گھر کا رشتہ نا آیا تو میری بہنے اس ارمان کو ہی دل میں لیے مر جائیں گی ؟ میں کیا کروں اللہ ۔۔۔
وہ اپنے بیڈ پہ بیٹھے ، سر کو اپنے ہاتھوں میں لیے خود سے ہی باتیں کرنے لگا ۔۔۔کبھی اپنے بالوں کو نوچنے لگتا اور کبھی درد کی شدت سے اپنی کنپٹیوں کو دوباتا!!!!!!
۔
اُس کو لگا اب کی بار درد اُس کی برداشت سے باہر ہے۔۔وہ اٹھا بیگ کھولا اور پھر سگریٹ نکالا ، جیسے ہی اُس نے سگریٹ نکلا دروازے پہ دستک ہوئی اور اُس نے فوراً سگریٹ اپنے سرہانے کے نیچے رکھ لیا اور سیدھا ہو کے بیٹھ گیا ۔۔۔
“جی آ جائیں”
“وجی کیا کر رہے ہو ؟”
“کچھ نہیں آپی بس لیٹا تھا”.
“وہ تو مجھے بھی پتا ہے میرا بھائی آج کل کچھ زیادہ ہی لیٹنے لگا ہے۔ نا باہر آتے ہو تم نا اب ہستے ہو نا کسی سے بات کرتے ہو۔ وجی کیا ہوا ہے؟”
۔
فاطمہ اُس کے پاس اُس کے سامنے آ کر بیٹھی مسلسل اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولتی رہی جیسے وہ کچھ تلاش کر رہی ہو۔ اور وہ بار بار نظریں جُھکا لیتا!!!!!!.
۔
آپی آپ سے ایک بات پوچھوں؟ آپ خفا تو نہیں ہوں گی نا؟
۔
اُس نے بہن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !!!!!
نا وجی میں پہلے تھماری کسی بات پہ خفا ہوئی ہوں جو اب ہوں گی ؟ بولو کیا پوچھنا ہے”
۔
“آپی آپ کا دل نہیں چاہتا آپ کی شادی ہو ؟”
اُس نے بہن کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے ، نظریں جُھکا کے پوچھا !!!!!! ۔
۔
بہن جو اُس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی اُس کو دیکھتی ہی رہے گی۔۔
۔
اُس نے نظریں اٹھائی اور بہن کو دیکھنے لگا جو ابھی بھی خالی سی آنکھوں کے ساتھ اُس کو ہی دیکھ رہی تھی۔ اُس کو یقین ہی نہیں آیا اُس کا بھائی اُس سے وہ بات پوچھے گا ، جس کو سوچ کے اُس کو برداشت سے باہر کی تکلیف ہوتی ہے۔ وہ اُس تکلیف سے بچنے کے لیے اُس بات کو بھول جانا چاہتی تھی ۔اور بھول بھی گی تھی مگر آج پھر سے اُس کو اُسی قرب سے گزرنا پڑے گا اُس نے سوچا بھی نہیں تھا !!!! ۔
۔
“آپی میرا بہت دل چاہتا ہے آپ کی شادی ہو آپ کو میں لینے کے
لیے جایا کروں ، عید پہ آپ کے لیے گفٹ بجوایا کروں ۔ آپ کے بچے مجھے ماموں کہیں۔آپی آپ کا دل نہیں چاہتا آپی آپ کا دل نہیں چاہتا یہ سب ہو؟
۔
وہ بچوں کی طرح بولتا چلا جا رہا تھا ۔ اور وہ ضبط کے آنسوں لیے اُس کو سنتی جا رہی تھی!!!!!!!
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے ٹیچرز ڈانٹتے ہوتے ہیں ، ٹھیک ہے سر نے مجھے ڈانٹا ، تو اِس میں اتنا دُکھی ہونے کی کیا بات ہے “
کیوں میں ہر چیز کو اپنے دل پہ لیے جا رہی ہوں کیوں ہانیہ کی باتیں مجھے اتنا دُکھ دیتی ہیں۔
کیوں مجھے سوچ سوچ کے
دُکھ ہوتا ہے کیوں میرے دل سے اُن کا وہ رویہ نہیں نکلتا ۔۔۔۔
۔
“اللہ جی مجھے صبر دیں نا پلیز”
۔
وہ نماز کے بعد بیٹھ کے ہمیشہ کی طرح اللہ جی سے باتیں کر رہی تھی اُن کو اپنی باتیں بتا رہی تھی۔ اُن کو شکایتیں لگا رہی تھی!!!!!
۔
وہ وہی پہ گھنٹوں کے بل بیٹھی تھی کے اچانک اُسے یاد آیا “
“اف اللہ جی میں تو بھول ہی گی مانو بیمار ہے اُس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا “۔
۔
“مانو میرا بچہ”
وہ باگتی ہوئی مانو کے پاس گی اور اُس کو اپنی گود میں لیا۔ وہ بھی شاید اُسی کا انتظار کر رہی تھی اُس کے آتے ہی اٹھ کے کھڑی ہو گئی اور میاؤ میاؤ کرنے لگی ۔۔۔
۔
“مانو سوری میں تمہیں ٹائم ہی نہیں دے پاتی نا “
“مجھ سے خفا نا ہونا مانو مجھے تو پتا ہی نہیں ہے میں اج کل کیا سوچتی ہوں اور کیوں سوچتی ہُوں”
۔
وہ مانو کے ماتھے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اُس سے باتیں کرتی رہی اور وہ اُس کی گود میں آنکھیں بند کیے سنتی رہی !!!!!
۔
وہ رات کو سونے سے پہلے اپنی مانو پے درود شریف پڑھ کے پھونک کے سویا کرتی تھی ۔
۔
“اللہ پاک میری مانو آپ کے حوالے ہے اُس کا بہت خیال رکھیے گا رات میں”
۔
یہ اُس کے روز کی دعا ہوتی تھی ۔ جو روز وہ کیا کرتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپی بولیں نا “
بہن کو چپ بیٹھا دیکھ کے وہ پھر سے بولا !!!!
۔
“کیا بولوں میں وجی”
۔
بھائی کے سوال پہ وہ سوچوں سے باہر نکلی جیسے وہ سوچ رہی ہو کتنے سالوں سے اب اُس نے اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا تھا ۔کتنے عرصے سے اُس نے نہیں سوچا تھا کے وہ بھی ایک لڑکی ہے باقی لڑکیوں کی طرح اُس کے بھی کچھ ارمان ہیں اُس کی بھی کچھ خواہشیں ہیں “
۔
“آپی آپ کا دل نہیں چاہتا آپ کی شادی ہو۔ آپ کا اپنا بھی ایک گھر ہو ایک زندگی ہو “
۔
“میرے دل کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے وجی”
۔
اُس نے بہن کی لرزتی آواز سنی ۔۔جس نے ایک خواہش اپنے اندر ایسے دوبا دی تھی کہ اب اُس کو اُس خواہش کی اب خواہش بھی نہیں رہی تھی ۔
۔
“آپی کیا سید زادی ہونے کا یہ مطلب ہے آپ ساری زندگی گھر پہ بیٹھی رہیں ۔ اپنے ارمانوں کو اپنے سینے میں دفن کر لیں۔ ۔۔آپی نبی پاک نے تو کہا تھا آپ کے بچے جوان ہو جائیں تو انکی شادیاں کروا دی جائیں۔ تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
۔
“آپی کیا یہ مقام ہماری آزمائش ہے؟ میں جب بھی آپ کو اور زینب کو دیکھتا ہُوں تو بہت دُکھ ہوتا ہے مجھے.۔۔شادی کی ایک عمر ہوتی ہے آپی۔ ایک وقت ہوتا ہے ہر چیز ہر بات ایک وقت پہ ہی اچھی لگتی ہے۔ آپ کے لیے کتنے اچھے گھروں کے رشتے آئے ہیں لیکن ابو نے یہ کہے کر انکار کر دیا کہ وہ سید نہیں ہیں “
۔
“ایسے نہیں بولتے وجی ہم تو دنیا کے وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو نبی پاک کے خاندان سے ہیں ۔۔ہمارا مقام ہر چیز سے افضل ہے۔ ہماری یہ خوش نصیبی کم ہے کہ ہم اہلِ بیت سے ہیں۔ ہم نبی پاک کی اولاد سے ہیں ۔تو کیا ہوا ہماری شادیاں نا ہوں ۔۔ تو کیا ہوا ہماری خواہشیں ہمارے دل کے اندر دفن ہو جائیں ۔۔ تو کیا ہوا ہم دوسری لڑکیوں کی طرح نہیں سوچ سکتے۔ دوسری لڑکیوں کی طرح خواب نہیں دیکھ سکتے ۔دوسری لڑکیوں کی طرح ہمیں کسی سید زادے کے علاوہ محبت نہیں ہو سکتی ۔
ہمیں بس یہ پتا ہے کہ ہماری نسبت اہل بیت سے ہے اور ہمیں بس لاج رکھنی ہے اس مقام کی “
۔
وہ آنکھوں میں ایک درد لیے بس بولتی رہی ۔ وہ اپنی بہن کا دُکھ سمجھ سکتا تھا ۔اُس نے سوچ لیا تھا صبح ہوتے ہی وہ مولوی صاحب کے پاس جائے گا۔ اُن سے پوچھے گا کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے اگر سید گھر کا رشتہ نہ آئے تو لڑکی ساری زندگی گھر پہ بیٹھی رہے . کیا نبی پاک نے ایسا کہا ہے ؟ کیا قرآن ایسا کہتا ہے کدھر لکھا ہے آپ اپنی بہن بیٹی کو گھر میں بیٹھا دو۔ صرف اس وجہ سے کہ اُس کا رشتہ سید گھر سے نہیں آیا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مولوی صاحب میں پوری رات نہیں سو سکا ۔۔۔میں بہت عرصہ پہلے آپ کے ساتھ یہ بات کرنا چاہتا تھا مگر مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ مولوی صاحب میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں “
۔
وہ فجر کی ازان سے پہلے مسجد آیا تھا تا کہ وہ بغیر کسی کی موجودگی میں مولوی صاحب سے آرام سے بات کر سکے !!!!
۔
“بولو نا وجدان”
،”یقیناً تم کل والے مسئلہ پہ ہی بات کرنا چاہتے ہو گے.
۔
۔مولوی صاحب اُس کی بات کو سمجھ گے تھے وہ ممبر کے پاس آرام سے ٹیک لگائے ہوئے پیچھے ہوئے اور بولے !!!
۔
مولوی صاحب میں بات گھوما پھرا کے نہیں کرنا چاہتا۔ میں آپ سے ڈائریکٹ بات کروں گا”
“مولوی صاحب میں سید زادہ ہوں ، میں اہلِ بیت سے ہوں کیا سید کی شادی سیدوں میں ہی ہو سکتی ہے باہر نہیں ہو سکتی .”
۔
دیکھو وجی سید ذات کی دوسری قوموں کے ساتھ کوئی برابری نہیں ہے ۔سید جو ہیں وہ ہمارے نبی کریم کی اولاد سے ہیں ۔وہ نبی جن کو خدا نے اپنا محبوب بنا کر بھیجا ہے، وہ نبی جس کے لیے پوری دنیا بنی ہے۔ وہ نبی جس کا نام خدا کے نام کے بعد لیا جاتا ہے ۔جس کو خدا نے اپنا محبوب کہا ہے۔ اُس کی نسبت سے سید ایک افضل ذات ہے ۔اُن کی نسبت سے سید ذات کا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں کسی سے کوئی برابری نہیں۔”
۔
نبی پاک نے فرمایا تھا لوگوں کی نسل بیٹوں سے آگے بڑھتی ہے جب کے میری نسل میری بیٹی فاطمہ سے آگے بڑھے گی۔
۔
تم خود سوچو وجی اُس کملی والے کی ذات کے ساتھ کسی کا کوئی مقابلہ ہے کسی کی کوئی برابری ہے اور رشتہِ تو ہمیشہ برابری میں ہوتا ہے نا اگر رشتہِ برابری میں نا ہو وہ کدھر کامیاب ہے؟ “
۔
“مولوی صاحب میں بات مقابلے کی نہیں کر رہا ۔۔میں بس یہ کہے رہا ہوں کہ کیا سید کی شادی سیدوں کے علاوہ کسی سے نہیں ہو سکتی “
وہ آج اپنی اور زرمینہ کی بات نہیں کر رہا تھا۔ آج وہ اپنی بہنوں کے لیے بات کر رہا تھا ۔وہ بہنیں جو ایک سید گھرانے کے رشتے کا انتظار کر رہی تھیں!!!!
۔
“دیکھو وجی بہت سارے علماء دین بہت کچھ لکھتے ہیں .
اب یہاں پہ تم بات سید لڑکی یا لڑکے کی نہیں کر رہے۔ یہاں پہ بات تم سید کی کر رہے ھو “
۔
“اب میں تمہیں دونوں کا الگ الگ سمجھاتا ہُوں . میں تمہیں پہلے لڑکے کا بتاتا ہُوں ۔”
اگر ایک لڑکا سید ہے اور وہ سیدوں سے باہر شادی کرنا چاہتا ہے تو وہ جائز ہے وہ کر سکتا ہے ۔اس کی مثال ہم اہلِ بیت سے ہی اگر لیں تو !!!
امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کی ہی بات کریں تو ۔
امام حسن نے دو شادیاں کی تھیں اور امام حسین نے تین ۔
۔
امام حسن علیہ السّلام کی ایک بیوی حضرت ام فروہ علیہ السلام تھیں اور دوسری جودھا۔ جس نے امام کو زہر دیا تھا ۔
۔
امام حسین علیہ السّلام کی تین زوجہ محترمہ تھیں ۔
ام رباب علیہ السلام ، ام لیلی علیہ السلام اور شیربانو علیہ السلام ۔
۔
امام حسن اور امام حسین اہل بیت ہیں اور اُن کی بیویاں ساری بیویاں سید گھر سے نہیں تھیں ۔تو یہاں سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک سید گھرانے کا لڑکا باہر سے شادی کر سکتا ہے ۔
۔
اور اگر ہم ایک سیدہ لڑکی کی بات کریں ۔تو اہلِ بیت سے کسی لڑکی کی شادی سیدوں سے باہر نہیں ہوئی۔ اب وہ اہلِ بیت تھیں تو وہ تو ایک الگ درجہ رکھتی تھیں تو اُن کی شادی کیسے باہر کسی سے ہو سکتی ہے ۔
۔
اب اگر ہم ایک سید لڑکی کی بات کریں تو بہت سے علماء دین اُس پہ بہت کچھ لکھتے ہیں ۔
۔
اب بہت سے علماء کہتے ہیں ایک سید لڑکی ماں کا درجہ رکھتی ہے ،سیدوں سے باہر۔ ۔مگر قرآن میں ماں صرف نبی کی بیویوں کو کہا گیا ہے ۔جو نبی کی بیوی ہو گی وہ اُمت کی ماں ہو گی ۔۔
۔
“وجدان میری بات سمجھ رہے ہو نا”
انھوں نے سوچوں میں گم وجدان کی طرف دیکھا اور کہا !!!
۔
“جی جی مولوی صاحب میں سمجھ رہا ہوں آپ بولیں “
۔
اب چونکہ ایک سید لڑکی کا درجہ افضل ہو گا تو اگر اُس کی سیدوں سے باہر شادی ہو جاتی ہے تو اُس کے شوہر پہ اُس کا احترام فرض ہے ۔جو آجکل لوگ اس چیز کو نہیں سمجھتے ہیں۔
۔ تو ہم ایک سید لڑکی کی شادی باہر نہیں کر سکتے ۔
۔
مولوی صاحب اگر لڑکا اچھا ہو اچھا خاندان ہو ہمیں پتا ہو کے یہ سید ذات کی عزت کرے گا تو بھی ہم ایک سید گھرانے کی لڑکی کی شادی باہر نہیں کر سکتے؟
۔
مولوی صاحب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک لڑکی اپنے گھر پہ اپنے سر کے بال سفید کر لے صرف اس انتظار میں کہ سید لڑکے کا رشتہ آئے گا ، اور اُس کے بال سفید ہونے پہ بھی کوئی رشتہ نا آئے تو پھر وہ اپنے ارمان اپنی قبر میں ہی لے کے جائے۔
۔
“۔
“آپ کو اقا علیہ السلام کا آخری خطبہ تو یاد ہو گا نا جس پے انھوں نے واضع کہا ہے کسی عربی کو کسی اجنی پہ کوئی برتری حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے. تو مولوی صاحب کیا ایک سید زادی کی شادی اُس سے نہیں ہو سکتی جو خدا اور اُس کے رسول کا ماننے والا ہو پرہیز گار ہو سید زادی کا احترام کرنے والا ہو “
۔
۔
بیٹا وجدان میں پھر سے وہی بات کروں گا ایک سید گھرانے کی لڑکی دوسری لڑکیوں سے افضل ہوتی ہے ۔ اور اُس کے افضل ہونے کی بس ایک ہی دلیل ہے وہ میرے رسول کے خاندان کی ہے۔
۔
رہی بات شادی کی تو بہت سے علماء دین یہ بھی لکھتے ہیں اگر لڑکی کی عمر نکلی جا رہی ہے اور کوئی سید گھر کا رشتہ نہیں آ رہا تو وہ اپنے باپ کی رضا مندی سے باہر شادی کر سکتی ہے ۔اگر اُس کا باپ رضا مند ہے تو “
اب واللہ عالم اس بات میں کتنی حقیقت ہے ۔۔۔۔
۔
وجدان کو بہت ساری باتیں سمجھ آ گئیں تھیں۔ اور بہت ساری باتوں میں وہ الجھ کر رہے گیا تھا۔ جس کو اُس نے خود پڑھنا تھا۔ خود سوچنا تھا ۔
۔
“آپ کا بہت بہت شکریہ مولوی صاحب آپ نے مجھے اپنا اتنا قیمتی وقت دیا ۔”
۔
اُس نے مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور اُنکا شکریہ ادا کر کے وضو بنانے کے لیئے اٹھنے لگا ۔
۔
اُس نے سوچ لیا تھا اب وہ اس مسئلے پہ خود تحقیق کرے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: