Hijab Novel By Amina Khan – Episode 13

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 13

–**–**–

حجاب سے شروع ہونے والی محبت کی ایک عجیب داستان
ایسی داستان جو کہیں سنی نا هو
ایک لڑکا جو سید خاندان سے ہے
اور ایک لڑکی جو پٹھان ہے
حقیقت پر منبی کم عمر محبت کی خوبصورت داستان
آمنہ خان کے قلم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فضہ ائو نا تھوڑی دیر لائبریری
میں جاتے ہیں۔ ابھی تو کلاس کو بہت ٹائم ہے “
“زری پتا نہیں کیا شوق ہے تمہیں لائبریری کا۔ پتا نہیں کیسے پڑھ لیتی ہو تم یہ اتنے موٹے موٹے ناول اور کتابیں۔”
۔
“آپ نے کبھی پڑھے ہوں تو آپ کو پتا ہو نا”
“مجھے کوئی ضرورت بھی نہیں اوور ایکٹنگ پڑھنے کی “.
وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ لیے چل رہی تھیں فضہ کو پھول بہت پسند تھے وہ ہر پھول کو بہت غور سے دیکھتی تھی جیسے اُن کی خوشبو اپنے اندر اتار رہی ہو !!!!
۔
“خبردار جو میرے ناولز کو کچھ کہا تم نے تو “
زری نے فضہ کے کندھے پہ آرام سے مارا اور منہ بنا کے کہنے لگی !!!
۔
“وہ اُس کی زلفوں کے اهوش میں بےہوش ہو گیا “
“اب بتاؤ وہ کیسے اُس کی زلفوں کی اہوش میں بے ہوش ہوا؟ مطلب اُس کی زلفوں سے اس قدر بدبو آ رہی تھی کے وہ بےہوش ہی ہو گیا”
“اب بندہ ناول نہ پڑھے بلکہ اوور ایکٹنگ پڑھے”
۔
فضہ نے اُس کے ایک ناول پہ تبصرo کرتے ہوئے کہا!!!!!
۔
“تم نے پڑھا ہے جنت کے پتے , پیر کامل ، نمل ، عشق کا شین ؟
زری اُس کو ایک ایک ناول گن گن کے بتانے لگی “
۔
“بہن ناول کوئی نورمل لوگ تو پڑھتے نہیں ہیں یہ آپ جیسے ابنارمل لوگ ہی پڑھتے ہیں آپ نے جانا ہے لائبریری تو جائیں میں نہیں جا رہی “
فضہ نے ایک خوبصورت سفید گلاب کو زمین پہ بیٹھ کے چوتھے ہوئے کہا!!!!
۔
“مر جاؤ تم فضہ”
“میں اب اکیلی جاؤں لائبریری؟”
۔
“نہیں بیٹا صبر میں پوری یونیورسٹی کو بولتی ہُوں آپ کے ساتھ جائیں”
اُسی نے اُسی طرح پھولوں کو چھوتے ہوئے کہا!!!!
۔
“زری نہیں اندر تمہارے وہ بیٹھے ہوئے جو تمہیں اندر جاتے ڈر لگ رہا ہے میں ابھی پھُولوں کو دیکھوں گی “
۔
“دفاع ہو جاؤ تم فضہ “
“بتاؤ کدھر دفاع ہو جاؤں؟”
اُس نے مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے پوچھا
۔
“جہنم میں دفاع ہو جاؤ اور ان پھُولوں کو بھی اپنے ساتھ لے کے جانا “
۔
فضہ کو غصے سے کہتے ہوئے وہ لائبریری کی طرف چلی گی اور فضہ اُس کو جاتا دیکھ کر مسکرانے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“Sir can I enter”
ہانیہ وجدان کے آفس میں آئی جو اپنی کرسی پہ بیٹھا کمپیوٹر پہ کچھ کام کر رہا تھا ۔
“Yes”
اُس نے کمپیوٹر سے نظر ہٹاتے ہوئے اُس کو دیکھا اور پھر کام کرنے لگ لگیا !!!!
۔
ہانیہ کو لگا اُس کی ساری تیاری دھری کی دھری رہے گئی وہ جو اتنا تیار ہو کے آئی تھی اُس کو ایک نظر بھی نہیں دیکھا اُس نے !!!!
۔
“جی مس ہانیہ آپ کو کوئی کام تھا”
وہ ویسے ہی کمپیوٹر پہ نظریں جمائے بیٹھا تھا اُس کو کھڑا دیکھ کے اُس نے خود ہی پوچھا !!!!!
۔
“سر وہ آکچلّی مجھے یہ کہنا تھا کہ”
۔
وہ مسلسل ایک ہاتھ کو دوسری ہاتھ میں دبانے لگی تھی ۔جیسے اُس کو کہنے میں مشکل ہو رہی ہو !!!!! ۔
۔
“جی کہیے میں سن رہا ہوں “
اب کی بار اُس نے کمپیوٹر سے نظریں ہٹائیں اور اُس کی طرف دیکھنے لگا ، جو بلیک جینز کے اوپر سرخ شورٹ فروق پہنے بال کھولے کھڑی تھی!!!!
۔
“سر مجھے آپ کا پرسنل نمبر مل سکتا ہے”
اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے مکمل اعتماد سے پوچھا اُس کو لگا وہ اُس کی خوبصوتی سے آخر متاثر ہو ہی گیا ہے !!!!
۔
“کیوں چائیے آپ کو میرا نمبر”
اُس نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا ۔ اس کو ہانیہ کی اس بات سے بلکل بھی حیرت نہیں ہوئی تھی ۔اُس کا نمبر لینا تو ہر لڑکی کی خواہش تھی ۔۔ اکثر لڑکیاں ہانیہ کی طرح اُس سے خود نمبر مانگتی تھیں !!!!!!
۔
ہانیہ کو لگا وُہ اب کچھ بول نہیں سکے گی اُس کا اس طرح سے بات کرنا اُس کو بلکل اس کو بلکل اس لیجئے کی توقع نہیں تھی , وہ ایک خوبصورت اور پر اعتماد لڑکی تھی جس کا نمبر ہر لڑکا مانگتا تھا اور آج وہ مانگ رہی ہے ۔تو وجدان کو تو خوش ہو کے دے دینا چائیے ۔۔ مگر اُس کا اس طرح سیریز ہو کے پوچھنا ……!!!!
۔
“سر وُہ اسٹڈیز سے ریلیٹڈ آپ سے ٹاپکس وغیرہ ڈسکس کرنے تھے تب ہی میں کہے رہی تھی اگر آپ کا نمبر میل جاتا تو “
۔
اب کی بار وُہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے نہیں کہے رہی تھی ۔ بلکہ نظریں جھکائے شرمندگی سے بولے جا رہی تھی اُس کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے اُس نے تو سوچا ہی نہیں تھا اُس کے مانگنے پہ اُس کے جواب “کیوں” میں بھی ہو سکتا ہے ,, اُس وقت جو بھی اُس کے منہ میں آیا اُس نے کہے دیا !!!!!!!
۔
“ہانیہ آپ کو جو بھی ڈسکس کرنا ہے آپ کلاس میں کیا کریں۔ میں نے کلاس میں کسی کو اسٹڈیز سے ریلیٹڈ بات کرنے سے منع نہیں کیا ۔۔ اگر آپ کو کلاس میں نہیں پوچھنا تو مجھ سے آفس میں پوچھ لیا کریں۔ بٹ سوری میں اپنا پرسنل نمبر نہیں دیتا کسی کو ۔اي ہوپ آپ میری بات کو سمجھیں گی “
۔
وہ اُسی طرح کرسی کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا اُس کو کہتا چلا گیا اور وہ ساکت سی اُس کو دیکھتی رہی!!!!!
۔
“آپ کو اور کوئی کام ہے مس ہانیہ؟”
اُس نے اب کمپیوٹر کو دیکھتے ہوئے کہا جیسے کہنا چاہتا ہو اب آپ یہاں سے تشریف لے جا سکتی ہیں!!!!!!!!
۔
“نو سر”
اُس کی آنکھوں میں ایک دم سے نمی اُتر آئی , جو وجدان نے نہیں دیکھی تھی۔
اُس کو لگا جیسے اُس نے سب کچھ غلط سنا ہو وہ کیسے اُس کو انکار کر سکتا ہے ۔کیسے اُس کو ٹھکرا سکتا ہے !!!!! ۔
۔
ٹھیک ہے مسٹر وجدان نمبر تو میں آپ کا کہیں سے بھی لے لوں گی اور اپنی اس ہے عزتی کو بھی یاد رکھوں گی۔ کچھ وقت پہلے تک میری خواہش تھے تم اب ضد ہو ” ۔
۔
وہ آنکھوں میں آنسوں لیے اُس شخص کو دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگی جو مسلسل کمپیوٹر پہ لگا کام کر رہا تھا !!!!!!!!
۔۔۔۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔
وہ آج پہلی دفعہ فضہ کے بغیر کہیں گی تھی ۔ لائبریری میں اندر جاتے ہی اُس کو ایک عجیب سا سکون ملا تھا۔ اُس کو ویسے بھی خاموشی بہت پسند تھی۔ خاموشی میں بیٹھ کے پڑھنا اُسے ہمیشہ سے اچھا لگتا تھا ۔اور ایک کتابوں کی عاشق کے لیے اُس سے زیادہ پر سُرور اور کون سی جگہ ہو گی جہاں ہر قسم کی کتاب اتنے سکون والے ماحول میں میسر ہو !!!!!
۔
وہ مگن سی اِدھر اُدھر گھومتی رہی ہر کتاب کو دیکھتی رہی۔ اُس نے زندگی میں پہلی دفعہ اتنی کتابیں دیکھی تھی۔
وہ آج پہلی دفعہ لائبریری آئی تھی ، کاش میں پہلے آ جاتی یہاں ۔۔۔
اُس نے الماریوں کے شیشوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے دل میں کہا ۔
۔
اُس نے شیشہ کھولا اور ایک کتاب نکالی جس پہ “عاشق رسول” “اویس قرنی ” لکھا تھا ۔
اُس کو ہمیشہ سے شوق تھا کہ وہ اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھے ۔۔۔۔آقا جان علیہ السلام کے عاشقوں میں بڑے مقام پہ فائز اُس شخص کو پڑھے جس نے بغیر دیکھے اقا جان سے اس قدر محبت کی کہ اُن کا چرچا اقا جان کے سامنے بھی ہونے لگا۔
اور آج بھی محبوب کے عاشقوں میں اُنکا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے ۔
۔
وہ بہت شوق سے کتاب لیے ایک کرسی پہ آئی اور کتاب میز پہ رکھ کے بیٹھ گی۔
۔
اُس کو یاد تھا اُس نے گھر سے نکلنے سے پہلے وضو بنایا تھا۔ وہ کبھی بھی آقا جان کو بغیر وضو کیے نہیں پڑھتی تھی تو اُن کے عاشق کو کیسے پڑھتی ۔۔۔
۔
اُس نے کتاب کھولی اور پیار سے اُس پہ ہاتھ پھیرنے لگی ۔
“راہ عشق کے شناور”
۔
اُس نے جیسے ہی پہلا لفظ پڑھا اُس کا دل کانپنے لگا ، وہ نبی کے عاشقوں میں کہاں کس جگہ کھڑی ہے ؟ کیا اُس کا نام بھی خدا کے حضور آقا جان کے عاشقوں میں لکھا جائے گا؟ کیا وہ بھی اقا جان سے اویس قرنی رحمۃ اللّٰہ جیسی ہی محبت کرتی ہے؟ وہ آقا جان پہ درود پڑھنے کے علاوہ اور کرتی ہی کیا ہے؟ اُس کے دل میں ایک دُکھ کی چنگاری اٹھی۔اللہ رحمت العالمین نے تو کہا ہے میرے محبوب سے ہر چیز سے بڑھ کے محبت کرو تو کیا وہ اتنی محبت کرتی ہے؟ بار چیز سے بڑھ کے ؟
۔
۔
عشق دم جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰ
عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلام
عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک
عشق ہے صہباۓ خام ، عشق ہے کاس الکرام
عشق فقیہہ حرم، عشق امیر جنود
عشق ہے ابنِ السبیل، اُس کے ہزاروں مقام !!!! ۔
۔
وہ جیسے جیسے پڑھتی گی اُس کی آنکھوں سے اشک رواں ہونے لگے ۔وہ رو رہی تھی کسی لڑکے کی محبت میں نہیں دو جہانوں کے سردار کی محبت میں ۔
۔
اگر کسی عاشق کی نظر سے دیکھیں تو سارا عالم جہانِ حسن و عشق کی صورت میں نظر آتا ہے ۔ کائنات کے سارے رنگ حُسن و عاشق سے عبارت ہیں اور اس عالمِ آب و گل کی ساری داستانیں حُسن و عشق ہی کے گرد گھومتی ہیں!!!!!
۔
“سنیں”
وہ سامنے پڑی میز پہ سر رکھے آنکھوں میں آنسوؤں لیے اُس ذات اقدس کو سوچ رہی تھی کہ ایک نسوانی آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی ۔اُس آواز میں کچھ عجیب سا سحر تھا۔ وہ ایک دم اوپر ہوئی اور اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھنے لگی۔
۔
جو سر سے پاؤں تک سراپا نور تھی ۔ اُس نے کالا عبایا لیا ہوا تھا اور کالے ہی رنگ کا سکارف لیا تھا جیسے مدرسوں میں پڑھنے والی عموماً لڑکیاں لیا کرتی ہیں ۔ ہاتھوں پہ کالے ہی رنگ کے دستانے پہن رکھے تھے ۔آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش تھی جیسے اُس کی آنکھوں سے نور باہر کو آ رہا ہو ۔
۔
اُس نے اُس کو ایک نظر دیکھا اور بس دیکھتی رہے گی ۔
۔
“میں یہاں پہ بیٹھ جاؤں؟ “
اُس نے اس قدر نرم لہجے میں اُس سے پوچھا وہ حیران ہوئی کوئی ایسا بھی میٹھا بول سکتا ہے ۔اُس کو دل چاہ رہا تھا وہ لڑکی یوں ہی کھڑی رہے اور وہ بس اُس کو دیکھتی رہے !!!!
۔
“جی بیٹھیں نا “
مسکراتے ہوئے اُس نے اُس لڑکی کو بیٹھنے کا کہا !!!!!
۔
“اویس قرنی کو پڑھ رہی ہیں آپ؟”
اسی محبت والے انداز میں اُس نے اس سے پوچھا اور سامنے پڑی کتاب کو محبت سے دیکھنے لگی !!!!!!
۔
“جی مجھے محبت ہے ہر عاشق رسول سے “
نظریں جھکائے اُس نے اُس لڑکی کو کہا ۔
۔
“پھر تو مجھے بھی آپ سے محبت کرنی چاہیے “
اُس لڑکی نے اُس کی طرف بہت غور سے دیکھتے ہوئے آنکھوں میں۔ وہی چمک لیے کہا جو زرمینہ کے دل پہ لگ رہی تھی !!!!!
۔
“جی میں سمجھی نہیں آپ کی بات “
زرمینہ کو اُس کی اس بات سے حیرت ہوئی اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے پھر پوچھا آپ کو مجھ سے محبت ……..؟”
۔
“آپ نے کہا نا آپ کو ہر عاشق رسول سے محبت ہے تو ایسی طرح مجھے بھی ہر عاشق رسول سے محبت ہے”.
۔
وہ لڑکی اُس کو دیکھتے ہوئے بولتی رہی !!!!
۔
“نہیں میں اس قابل نہیں کہ میں آقا جان کے عاشقوں کا نام بھی بغیر وضو کیے لے سکوں, میں اقا جان سے کدھر ایسی محبت کر سکتی ہوں جیسی سب کرتے ہیں ۔بہت گناہگار ہوں میں”
۔
وہ لرزتی آواز کے ساتھ بولتی گی۔ اُس کو لگا وہ کسی ولی کی درگاہ میں بیٹھی ہے ۔اُس کی آنکھوں سے آنسوں گرتے اُس کے ہاتھوں سے ٹکڑا کے وہیں جذب ہو جاتے۔ اور وہ ایک سُرور میں بولتی گی ۔
۔
وہ لڑکی اُس کو دیکھے جا رہی تھی بغیر پلکیں چھپکاۓ ۔ وہ اُس کو سنتی رہی جب تک وہ خاموش نا ہوئی !!!!!
۔
“کیا نام ہے آپ کا؟”
۔
وہ اب ہوشوں کی دنیا میں آئی اُس نے ایک نظر اُس لڑکی کو دیکھا۔
۔
“زرمینہ خان سوتی “
دھیمے سے بولی زرمینہ خان سواتی نام ہے میرا !!!!
۔
“ما شاء اللہ بہت پیارا نام ہے آپ کا زرمینہ ۔ میرا نام عائشہ ہے “
اُس لڑکی نے مسکراتے ہوئے زرمینہ کو دیکھا جو مستقل اُس کو دیکھے جا رہی تھی !!!! ۔
۔
“۔عائشہ گل”
زرمینہ کے منہ سے بے اختیار عائشہ گل نکلا !!!!
۔
“نہیں نہیں عائشہ گل نہیں عائشہ صدیقہ نام ہے میرا”
اُس نے مسکراتے ہوئے اُس کو کہا!!!! ۔
۔
“مگر مجھے تو آپ عائشہ گل لگی ہیں بلکل جنت کے پتے کی عائشہ گل جیسی “
.
“زرمینہ نے اُس قدر معصومیت سے کہا کہ اُس نے بڑے پیار سے اُس کے چہرہ پہ ہاتھ رکھا آپ مجھے عائشہ گل کہے سکتی ہیں زرمینہ”
۔
“اچھا زرمینہ اب میری کلاس کا وقت ہے میں کلاس لینے جا رہی ہوں ۔ اللہ نے چاہا تو پھر ملیں گے “
“ایک بات یاد رکھیے گا زرمینہ نبی کریم صلی علیہ وسلم کے ذکر پہ جس کی آنکھوں سے آنسوں رواں ہوں وہی سچا عاشقِ رسول ہے “
۔
اُس نے اُٹھتے ہوئے زرمینہ کی طرف دیکھا اور اُسی دهمے سے لیجئے میں بولی اور خدا حافظ کہے کر وہاں سے چلی گی !!!!!
۔
دل کے آئینے میں ہے تصور یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے اُسی انداز میں بھاگتا ہوا ہاتھ میں موبائل اور چائے کا کپ لیے کلاس میں آیا !!!!
۔
کہتے ہیں جب آپ کو محبت ہو جائے تو آپ کو اُس محبت کو قبول کرنے پہ وقت لگتا ہے اور وہ جتنا وقت ہوتا ہے آپ کے لیے ایک ایک سیکنڈ کی اذیت کا سبب بنتا ہے ۔اور جب وہ محبت قبول ہو جائے آپ کو اندر سے ایک سکون ملتا ہے۔ آپ اپنے محبوب کی صورت سے پھر بھاگتے نہیں ہیں۔ محبوب کو سوچتے ہیں۔ اُس کے ایک دیدار کے لیے پوری دنیا کو داؤ پے لگا دیتے ہیں۔!!!!!!
۔
وجدان کو بھی اپنی محبت کے قبول کرنے پہ ایک سکون ملا تھا۔ اب وہ اُس محبت سے بھاگتا نہیں تھا اُس کو ہر طرح سے قبول کرتا تھا !!!!!
۔
سلام کے بعد اب وہ بغیر کچھ بولے اٹیندنس لیتا تھا ۔اور روانی سے بولتا چلا جاتا ،بغیر مسکرائے بغیر کسی سے بات کیے !!!!
۔
آج بھی وہ ایسا ہی کر رہا تھا کہ اُس کے دل کو عجیب سی گُھٹن ہونے لگی ۔
آج رول نمبر ۱۲ پہ کوئی نہیں بولا تھا۔ اُس نے ایک بار پھر رول نمبر ۱۲ کہا۔ پھر کوئی نہیں بولا ۔اُس کے ہاتھ کمپنے لگے دل کو زخمی کر دینے والا احساس اُس کے اندر ہوا ۔
۔
اُس نے نظریں اٹھائی ۔۔۔وہ جو کبھی رول نمبر ۱۲ پہ نظریں اٹھا کے نہیں دیکھتا تھا آج اُس کی نظریں پوری کلاس کا تعاقب کرنے لگیں ۔وہ بغیر کچھ بولے ایک ایک کرسی پہ نظریں گھومتا ہوا اُس ایک لڑکی کو دیکھنے لگا جس کے سامنے وہ ہار گیا تھا ۔۔۔۔
۔
Where is roll no 12 ?
اُس نے خود پہ قابو پاتے ہوئے ، بغیر کسی تاثر کے فضہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا …
۔
“سر وہ لائبریری گی تھی ۔میں اُس کو لینے گی بھی تھی مگر وہ وہاں نہیں تھی۔ میں اُس کو ہر جگہ دیکھا جہاں ہم ہوتے ہیں مگر وہ کہیں نہیں ملی “
۔
وہ رونے والے انداز میں بولتی گی اور سامنے کھڑے سید وجدان حسین شاہ کے دل پے چھریاں چلنے لگی۔ اُس کو لگا جیسے اُس کا دل کوئی چھوٹا چھوٹا کر کے کاٹ رہا ہے !!!!!
۔
“آپ ہر وقت تو اُن کے ساتھ ہوتی ہیں پھر اکیلا کیوں چھوڑ دیا ایسے؟”
اُس کو پتا تھا اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ شاید کلاس سے چپھی ہوتی ۔مگر یہ تو زرمینہ تھی جو کبھی اکیلی نظر ہی نہیں آئی تھی ۔جو ڈر سے کسی لڑکی سے بھی بات نہیں کرتی تھی ۔وہ کافی ٹائم سے نہیں مل رہی وہ کدھر ہے ۔۔۔
۔
۔
“سر میں نے بہت دنڈھا اُس کو اب فضہ باقاعدہ رونے لگی تھی “۔
“ڈھونڈا تو ملی کیوں نہیں ؟”
۔اُس نے ایسے انداز میں کہا کے سب حیران رہے گے!!!!!
۔
“آپ آئیں میرے ساتھ فضہ”
وہ سب کچھ وہاں چھوڑ کے فضہ کے ساتھ کلاس سے باہر چلا گیا !!!!
اُس کی اس انداز پہ سارے کلاس والے اُس کو غور سے دیکھنے لگے۔ اُس کی آنکھوں کی وحشت سب کو صاف صاف دکھائی دینے لگی آج وُہ اُن سب کو ایک ٹیچر سے زیادہ ایک دیوانہ لگ رہا تھا جو اپنی محبوبہ کی گمشدگی پہ مارا مارا پھر رہا ہو !!!!
۔
“آپ آخری دفعہ کہاں بیٹھے تھے؟ “
اُس نے منہ سے پسینہ صاف کرتے ہوئے فضہ سے پوچھا !!!
۔
“سر آخری دفعہ ہم یہاں گراؤنڈ میں بیٹھے تھے ۔وہ لائبریری جانے کی ضد کرنے لگی ۔ میں یہی پھُولوں کے پاس بیٹھی تھی وہ لائبریری چلی گئی۔ آپ کی کلاس سے ۱۰ منٹ پہلے میں اُس کو ڈھونڈنا شروع ہوئی مگر وہ کہیں نہیں ملی۔ وہ تو بہت ڈرتی ہے سب سے اُس کی تو کوئی دوست بھی نہیں میرے علاوہ یہاں وہ تو میرے علاوہ کہیں جاتی بھی نہیں تھی”
۔
فضہ روتے ہوئے اُس کو ایک ایک لفظ بتانے لگی ، اور وہ پاگلوں کی طرح ادھر اُدھر دکھنے لگا کہیں سے اُس کو وہ نظر آ جائے، کہیں سے اُس کو وہ حجاب والی صورت نظر آ جائے ۔۔۔۔مگر وہ کہیں نہیں تھی !!!!
۔
اُس کو لگا اُس کا دل پھٹنے لگا ہے اگر کچھ دیر اُس کو وہ نظر نا آئی تو شاید وہ مر جائے گا اُس نے اپنے جیب سے سگریٹ نکالے اور پینے لگا ۔
آج سید وجدان حسین شاہ کو سگریٹ پیتے ہر کوئی دیکھ تھا تھا۔ آج اُس دیوانے کی دیوانگی سارا جہاں دیکھ رہا تھا ۔ اور وہ مارا مارا پھیر رہا تھا۔بغیر کچھ سوچے بغیر کچھ سمجھے ۔اُس کو یاد ہی نہیں رہا وہ ایک ٹیچر ہے اور سب اُس کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ اِدھر سے اُدھر بھاگتا رہا ۔ایک سگریٹ ختم ہوتا تو دوسرا لگا لیتا۔
۔
آج وہ پوری دنیا کو اپنے اس رویے سے چینج چینج کے بتا رہا تھا ، ہاں مجھے محبت ہو گئی گی ۔وہ جو محبت سے کہیں اوپر ہوتا ہے مجھے اُس لڑکی سے عشق ہے “
۔
وہ لائبریری میں گیا ایک ایک بندے کو دیکھنے لگا مگر اُس کو وہ وہاں نظر نہیں آئی!!!! ۔
۔
“خریت وجدان سر”
۔ہر کوئی اُس کی یہ جنینیت دیکھ کے اُس سے ایک ہی بات پوچھتا اور وہ سگریٹ ہاتھ میں لیے بغیر جواب دیے بھاگتا چلا جاتا !!!! ۔
۔
“کیا ہوا ہے سر کو؟ “
باہر کھڑے ہونے والا ہر سٹوڈنٹ اُس کو دیکھ کے آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتا ۔۔۔اور وہ سب سے بینیاز اُس کو بس دیکھتا رہا۔۔۔
۔
“ملکہ کہاں ہو تم ؟”
وہ سیڑھیوں کے پاس⁦ روکا اُس کا سانس پھولنے لگا اُس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پے رکھے ۔اور لمبے لمبے سانس لینے لگا ۔
۔
“کہا ہو تم “
“سنو آ جاؤ میرے سامنے ملکہ اس سے پہلے کہ وجدان کا دل دھڑکنا بھول جائے اُس کی سانسیں روک جائیں “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: