Hijab Novel By Amina Khan – Episode 14

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 14

–**–**–

حجاب سے شروع ہونے والی محبت کی ایک عجیب داستان
ایسی داستان جو کہیں سنی نا هو
ایک لڑکا جو سید خاندان سے ہے
اور ایک لڑکی جو پٹھان ہے
حقیقت پر منبی کم عمر محبت کی خوبصورت داستان
آمنہ خان کے قلم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ “
فضہ زرمینہ کو اسٹیڈیم کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے دیکھ کے اونچا سا چلائی !!!
۔
“کیا کر رہی ہو تم یہاں”
۔
فضہ نے اُسی لیجئے میں اُس سے پوچھا !!!!
۔
وہ جو اپنے ہاتھ میں کتاب لیے بیٹھی تھی چونک سے اُس کی طرف پلٹی !!!!!
۔
“کیا ہوا ہے فضہ “
اُس نے فضہ کو پہلی دفعہ اتنے غصے میں دیکھا تھا !!!
۔
“مجھ سے پوچھ رہی ہو کیا ہوا ہے ؟ کیا کر رہی ہو تم یہاں ؟ یہاں پہ مرنے آنا تھا تو مجھے بتا کے آتی نا “
فضہ کے لیجئے میں غصّہ فقر پریشانی سب ہے تاثر جھلک رہے تھے!!!!
۔
“میں لائبریری میں تھی ، پھر یہاں دیکھا کوئی نہیں ہے تو سوچا کچھ دیر یہاں پہ بیٹھ کے کتاب پڑھ لوں , مگر تمہیں کیا ہوا ہے ؟”
۔
وہ اب بھی حیرت سے فضہ کو دیکھتی رہی وہ ایسا کیوں کر رہی ہے آخر ہوا کیا ہے فضہ؟
۔
“بکواس بند کرو اپنی ٹائم دیکھا ہے تم نے ؟ وجدان سر کی کلاس کا ٹائم بھی ختم ہو گیا ہے “
۔
“اوہ یارا جی مجھے تو ہوش ہی نہیں رہا مجھے پتہ ہی نہیں چلا”
اُس نے ہاتھ پہ بندھی گھڑی کو ایک نظر دیکھا اور پھر فضہ کو دیکھنے لگی ، اُس کا غصّہ بلکل جائز تھا ۔وہ کیسے کتاب میں گم ہو گئی کہ اُس کو خبر ہی نہیں ہوئی ۔اور سر انکی کلاس؟!!!!!
۔
“چلو اب ادھر سے وجدان سر تمھیں کب سے ڈھونڈ رہے ہیں”
فضہ نے اُس کا ہاتھ پکڑے ہوئے اُس کو لے کے جانے لگی !!!!
۔
“وجدان سر”
وہ چلتے چلتے ایک دم روکی جیسے اُس کو لگا ہو اُس کو سننے میں غلطی ہوئی۔ وجدان سر اُس کو ڈھونڈ رہے ہیں ؟!!!!
۔
“جی ہاں وجدان سر وہ کب سے تمہیں ہر جگہ ڈھونڈ رہے ہیں”
۔
“لیکن وہ مجھے کیوں ڈھونڈ رہے ہیں”
۔
اُس نے ایک بار پھر حیرت سے اُس سے پوچھا !!!!
۔
“زری اپنی بکواس بند کرو اور چلو۔ سر کب سے پاگلوں کی طرح تمھیں ڈھونڈ رہے ہیں “
.
اُس نے غصے میں زرمینہ کا ہاتھ پکڑا اور پھر سے اُس کو گسیٹنے لگی !!!!!
۔
“ہاں وہی تو میں بھی پوچھ رہی ہوں نا سر مجھے کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ، کلاس میں اتنے لوگ بنک بھی کرتے ہیں سر نے تو کھبی نہیں ڈھونڈا اُنکو پھر مجھے کیوں؟”
۔
اُس نے ایک بار پھر اُس سے پوچھا جو غصے میں چلی جا رہی تھی اور اُس کو ہاتھ پکڑے گیسیٹی جا رہی تھی!!!!
۔
“زری یہ بکواس جو تم مجھ سے پوچھ رہی ہو نا تم سر سے پوچھنا وہ پاگلوں کی طرح تمھیں کیوں ڈھونڈ رہے ہیں”
۔
اب کی بار اُس کا لہجہ اور انداز ایسا تھا کہ وہ بغیر کچھ پوچھے اُس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی !!!!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے تو لگتا ہے وجدان سر کچھ زیادہ ہی انٹریسٹ لے رہے ہیں اُس میں”
۔
ارم نے کلاس میں بیٹھے ہانیہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو اُس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھی تھی!!!!
۔
“انٹرسٹ ؟ وہ کیوں لیں گے اُس زرمینہ میں انٹرسٹ ۔
۔
ہانیہ نے سُرخ ہوتے ہوئے چہرے کے ساتھ ارم کو دیکھا ۔جب کے اُس کو خود بھی کچھ ایسا ہی وہم ہوا تھا۔ آج جس وجدان کو وہ دیکھ رہے تھے اُس سے تو سب کو پتا چل رہا تھا کہ وجدان کے لیے زرمینہ کیا اہمیت رکھتی ہے !!!!
۔
“تم نے دیکھا نہیں ہے ہانیہ وہ کیسے کلاس سے باہر گے ہیں اور کیسے ادھر سے اُدھر پھر رہے ہیں صرف اُس کو ڈھونڈنے کے لیے۔ جیسے وہ بچی ہے کوئی جو کھو گی ہے”
۔
ارم ایسا کچھ نہیں ہے وہ اپنے ہر سٹوڈنٹ کو لے کے ایسے ہی پوسیسیو ہوتے ہیں اور زرمینہ میں ایسا کچھ بھی خاص نہیں ہے جو سر وجدان جیسا بندہ اُس کے پیچھے پڑھے “
۔
اُس نے نظریں جھکائے ہوئے پر سوچ سے انداز میں ارم کو کہا ، اُس کے دل میں ایک آگ لگی ہوئی تھی ۔کیسے وہ اُنکے آفس گی اور کیسے انھوں سے اُس کو دود کار دیا۔اور آج اُس زرمینہ کے لیے کیسے مارے مارے پھیر رہے ہیں !!!!
۔
“زرمینہ تم ہانیہ کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتی کھبی نہیں ، وجدان کو ہانیہ نے چاہا ہے وہ صرف اُس کا ہے۔ اور اب تو میری چاہت میری ضد بن گئی ہے۔میں اُس کو حاصل کر کے رہوں گی ۔کوئی کچھ بھی کر لے وجدان صرف ہانیہ کا ہی ہے، صرف ہانیہ کا”
۔
اُس نے آنکھوں میں آنسوں لیے جلتے دل کے ساتھ دل ہی دل میں کہا !!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیڑھیوں کے پاس ایسے ہی کھڑا تھا ، جیسے اُس نے آج بہت کام کیا ہو وُہ بہت تھک گیا ہو۔اب اُس کی ایک قدم بھی چلنے کی ہمت نہیں رہی تھی ۔وہ گھنٹوں پہ ہاتھ رکھے جُھک کے کھڑا رہا تھا۔۔۔۔
۔
“آج پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ایک لڑکی کے لیے یوں دیواناور پھر رہا ہے۔ اُس کو اج اُس لڑکی کے علاوہ کسی کی کوئی ہوش نہیں تھی۔ آج اُس کی ایک ہی تمنا تھی بس ایک بار صرف ایک بار وہ اُس کو اپنے سامنے دیکھ لے “
۔
اُس نے آنکھیں بند کیں اور آنکھوں کا کونا صاف کرنے لگا جس سے مسلسل آنسوں نکلے جا رہے تھے !!!
۔
کیا محبت اتنی ہی بے بس ہوتی ہے؟ کیا ہر کوئی محبت میں اتنا ہی بے بس ہوتا ہے یا وہی ہوا تھا؟۔ کیوں وہ اُس ایک لڑکی کو دیکھنے کے لیے دیوانہ بنا ہوا ہے آخر کیوں؟ ۔
۔
وہ آنکھوں کو مسلتا ہوا جیسے ہی اوپر ہوا اُس کو سامنے سے آتی ہوئی حجاب میں وہ لڑکی نظر آئی ۔جو آج بھی پہلے دن کی طرح حجاب کے ساتھ کندھوں پہ چادر لیے دوسری لڑکی کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اُس کے پیچھے پیچھے آ رہی تھی !!!!!
۔
اُس نے اُس کو ایک بار دیکھا اور گردن جھکا لی۔
۔
“اے میرے مولا تو مجھ گناہگار کی بھی سنتا ہے ۔بیشک تو بہت رحیم ہے”
۔
وہ جو کچھ وقت پہلے ادھر اُدھر دیوانہ وار پھر رہا تھا ایک دم پر سکون ہوا جیسے اُس کو اُس کی دنیا مل گی ہو ۔اُس نے خدا سے بس آج اُس کے ایک دیدار کی دعا کی تھی ۔ یا اللہ بس ایک دفعہ صرف ایک دفعہ وہ مجھے نظر آ جائے ۔۔۔۔۔
۔
اُس کے نظر آتے ہی اُس کا دل چاہا وہ وہیں سجدے میں گر جائے۔ خدا کا رو رو کے شکریہ ادا کرے۔ سجدے میں گرے اور پھر کھبی بھی نہ اٹھے اُس کو مانگتا رہے ۔اُس نے ابھی تک خدا سے اُس لڑکی کو نہیں مانگا تھا ۔وہ خود کو اُس پاکیزگی کے قابل نہیں سمجھتا تھا ۔وہ نہیں چاہتا تھا وہ اُس کو مانگے ، وہ لڑکی اُس کو ملے۔ وہ تو بس اُس کی محبت میں مر جانا مانگتا تھا !!!!! ۔
۔
جیسے جیسے وہ حجاب میں ملبوس سفید چادر کندھوں پہ کیے نزدیک آ رہی تھی اُس کے دل کی دھڑکن اور تیز ہو رہی تھی ۔ اُس کے سارے اعضاء جواب دے رہے تھے۔ اُس کو لگا اُس کی ٹانگیں میں سے رفتہ رفۃ سانس نکل رہا ہے۔ وہ ابھی گر جائے گا ۔
اُس کی آنکھیں ابھی چھلک جائیں گی ۔۔۔اُس کے ہونٹ کپکپانے لگیں گے ۔وہ خود پہ قابو نہیں پا سکے گا۔ وہ اُس کے سامنے گر جائے گا ۔
۔
وہ جیسے جیسے قریب ہوتی گی اُس کی جھکی نظریں اُس کے کے قریب آتے قدموں کا تعاقب کرنے لگے ۔۔۔
۔
وہ اُس کے پاس آئی ہی تھی کہ اُس نے خود کو سنبھالا اور اپنے مخصوص انداز میں اُس کو ایک نظر بھی دیکھے بغیر وہاں سے دوڑتا ہوا چلا گیا ۔۔۔۔
۔
اُس کے وہاں سے جانے پہ فضہ نے زرمینہ کی طرف دیکھا ۔
“ابھی تو اتنا پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہے تھے اور ابھی دیکھ کے بات بھی نہیں کی “
فضہ زرمینہ کو دیکھتے ہوئے حیرت سے کہنے لگی !!!!۔
۔
“وہ سید وجدان حسین شاہ ہے زرمینہ کو کیوں ڈھونڈے گا “
۔
زرمینہ نے نظریں جھکائے ہوئے فضہ سے کہا !!!!!
۔
“مگر زری ابھی تو اتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
‘اچھا چھوڑو نا چھٹی ہو گئی ہے جان جی میرا انتظار کر رہے ہوں گے “
۔
فضہ بول ہی رہی تھی کہ زرمینہ نے اُس کی بات کو کاٹ دیا اور چلنے لگی ۔
۔
“سر نے اُس سے ایک دفعہ بھی نہیں پوچھا اور یہ کہے رہی ہے کے مجھے ڈھونڈ رہے تھے “
۔
زرمینہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی اُس کو عجیب سا دُکھ ہوا تھا وجدان کے ایسے جانے پہ !!!!
۔
“خیر مجھے کیا نہیں پوچھا تو نہ پوچھیں”
اُس نے دل میں سوچتے ہوئے کہا !!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔جان جی کھدر ہیں آپ ؟
۔
“یا اللہ کیا ہو گا اب میں اکیلے کیسے یونیورسٹی میں بیٹھوں ۔اب تو سب جا رہے ہیں میں کیا کروں گی کیسے جاؤں گی۔ میں تو پہلے کھبی لوکل گاڑی پہ نہیں گی میں کیا کروں گی خدایا میں کیسے جاؤں گی “
۔
“جان جی کدھر ہیں آپ ، آئے کیوں نہیں ابھی تک مجھے لینے ؟”
۔
وہ یونیورسٹی کے دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی بھائی کا انتظار کر رہی تھی اور بار بار چوکی دار سے پوچھ رہی تھی چچا میری گاڑی تو نہیں آ رہی نا نظر” ۔
“نہیں بیٹا میں پیچانتا ہوں تمھارا گاڑی کو آئے گی تو آپ کو بتا دوں گا “
۔
وہ بار بار اٹھتی اور پھر بیٹھ جاتی !!!!!
۔
“یا اللہ میں کیا کروں گی اب “
۔
“بیٹا آپ پریشان نا ہوں آپ کی گاڑی آ جائے گی “
“چچا پوری یونی خالی ہو گی ہے , میں کیسے بیٹھوں گی اتنا ایسے “
۔
“نہیں نہیں بیٹا سب ٹیچرز اندر ہی ہیں اُنکا کوئی میٹنگ سیٹنگ چل رہا ہے “
۔
رضوان خان نے اُس کو پریشان ہوتا دیکھ کے کہا !!!!
۔
“چچا آپ پلیز ایک بار پھر دیکھیں نا “
۔
“ہاں ہاں میں دیکھتا ہوں تم پریشان نہ ہو “
۔
وہ دروازے سے باہر جا کے دیکھنے لگا!!!!!!
۔
ٹائم گزرتا گیا اور وہ ایسے ہی بیٹھی رہی ،اُس کی ہمت اب جواب دینے لگی ۔وہ اٹھی اور یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر گی !!!! ۔
۔
“کدھر جا رہا ہے تم”
۔
رضوان خان نے اُس کو گیٹ سے باہر جاتے دیکھ کے پوچھا !!!! ۔
۔
“گھر جا رہی ہوں میں”
۔
“چلا جائے گا اکیلا ؟”
جی چچا میں چلی جاؤں گی آپ پریشان نا ہوں!!!!!
۔
وہ یونیورسٹی کے گیٹ سے ہوتے ہوئے روڈ تک آئی۔ ۔۔۔وہ پہلی دفعہ ایسے روڈ پہ کھڑی ہوئی تھی۔
۔
“یا اللہ میری عزت کی حفاظت کرنا “
۔
وہ آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنے لگی اور دل ہی دل میں خوفزدہ سی دعا مانگتی رہی ۔
۔
“اللہ پاک آپ کو پتا ہے نا مجھے ڈر لگتا ہے پلیز میری مدد کریں “
۔
وہ آنکھیں بند کیے بس اللہ سے اپنی عزت کی حفاظت مانگتی رہی ۔۔!!!!
۔
اُس کے کھڑے ہونے پہ ہر ٹیکسی والا روکتا اور اُس سے پوچھتا ۔
کہاں جانا ہے بی بی مگر وہ کسی کو بھی جواب دیے بغیر نیچے دیکھنے لگ جاتی ۔۔۔اور ٹیکسی والے بھی ایک منٹ روک کے وہاں سے چلے جاتے ۔۔۔
۔
کتنی ہی گاڑیاں اُس کے پاس روکی تھیں مگر وہ کسی ایک پہ بھی نہیں بیٹھی
۔
“اللہ جی میری مدد کریں “
وہ نظریں جھکائے دعا کر رہی تھی کہ اچانک اُس کو ایک آواز آئی ۔
۔
“آپ “
اُس نے اپنی جھکی نظریں اٹھائیں اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی جس نے اُس کے نظریں اُٹھتے ہی اپنی نظریں جُھکا لیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بھائی اور کتنا ٹائم لگے گا؟”
سلطان نے شدید پریشانی سے مکینک سے پوچھا جو پچھلے ایک گھنٹے سے اُس کی گاڑی کے نیچے لیٹا پُرزے نکال اور ڈال رہا تھا !!!!!
۔
“بھائی بس پندرہ منٹ اور لگیں گے پھر آپ کی گاڑی بلکل ٹھیک ہو جائے گی”
۔
اُس میکنک نے گاڑی کے نیچے سے ہی سلطان کو بتایا !!!!
۔
“پندرہ منٹ مزید “
اُس نے گھڑی پہ ٹائم دیکھا جو چار بج کے پانچ منٹ بجا رہی تھی ۔
“زری کو تو ڈھائی بجے چھٹی ہو جاتی ہے وہ کیا کر رہی ہو گی۔ “
۔
“اب یہاں کوئی گاڑیاں بھی نہیں ہیں جو میں لوکل جاؤں ، اور بابا جان اور لالا گل بھی دور ہیں یا میرے مالک میں کیا کروں اب”
۔
وہ سوچتا ہوا کبھی اِدھر ٹہلتا کھبی اُدھر کبھی گاڑی کے پاس آ کے کھڑا ہو جاتا!!!!
۔
“یار تم سے ایک گھنٹے میں ایک گاڑی نہیں ٹھیک ہوئی”
۔
“خان جی اب گاڑی میں کام ہی اتنا تھا کے میں کیا کرتا “
۔
اُس نے برا مناتے ہوئے کہا اور پھر پُرزے جوڑنا شروع ہو گیا !!!!!
۔
“کاش میں زری کو موبائل لے دیتا۔ مجھے اُس کی خریت کا پتا چل جاتا “
اُس نے وہاں کھڑے کھڑے سوچا !!!! ۔
۔
اور پھر میکنک کے پاس گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“رقیہ سلطان کو پھر سے فون لگاؤ ابھی تک وہ کیوں نہیں لایا اُس کو “
۔۔
دادی اماں اپنے کمرے سے باہر آئی تھیں اور رقیہ بیگم سے تیسری بار فون کروا چکی تھیں!!!!!
۔
٫اماں سلطان کہے رہا ہے بس تھوڑا سا کام رہے گیا ہے بس پندرہ منٹ میں چلا جائے گا”
۔
“ایسا بھی کیا کام جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔۔زرمینہ گل کیا کر رہا ہو گا وہاں اکلیے “
۔
اب کی بار اُن کی پریشانی میں اور اضافہ ہوا تھا !!!!
۔
“اماں میں نے کہا بھی تھا زری کو ایک موبائل لے دیں ۔۔۔۔اُسے کون سا شوق تھا موبائل کا ۔مگر میں نے اسی دن کے لیے کہا تھا ۔آج اُس کے پاس موبائل ہوتا تو ہمیں اتنی پریشانی نا ہوتی نا ۔ہمیں اُس کی کوئی خبر تو مل جاتی ۔۔اب پتا نہیں کدھر ہو گی وہ۔ ۔۔۔اتنا وقت ہو گیا ہے”
۔
رقیہ بیگم دادی اماں سے زیادہ پریشان تھیں ۔بار بار دعا کر رہی تھیں یا اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا اُس کو اپنے امان میں رکھنا ۔اُس کو تو راستوں کا بھی نہیں پتا ۔کیا کر رہی ہو گی وہ ۔اور یونیورسٹی کا ماحول ۔۔۔۔
اُنکو یونیورسٹی کے ماحول پہ ہمیشہ پریشانی ہوتی تھی آج تو وقت بھی اتنا ہو گیا تھا !!!!
۔
“نہیں نہیں میری بچی بہت سمجھدار ہے خود کی حفاظت کرنا جانتی ہے “
۔
اماں نے خود کو تسلی دی اور وضو کرنے لگی انھوں نے زرمینہ کے خیریت سے واپس آنے کے لیے نوافل پڑھنے تھے!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ویسے ہی اُس کے پاس نظریں جھکائے کھڑا تھا !!!
۔
“وہ سر میری گاڑی نہیں آئی “
۔
اُس نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا۔ یہ پہلی بار تھی وہ اُس کے اتنے قریب کھڑی تھی۔ اُس کو لگا جیسے وہ آج کسی اور ہی دنیا میں ہے۔وہ اُس کے اتنے پاس تھی کہ درمیان سے کوئی تیسرا بندہ نہیں گزر سکتا تھا ۔۔۔
۔
“یہ کیسی محبت ہے میرے مولا میری محبوبہ میرے سامنے کھڑی ہے اور مجھ میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ میں اُس کو نظر اٹھا کے دیکھ سکوں”
۔
اُس نے زرمینہ کے اتنے پاس کھڑے ہوتے ہوئے سوچا !!!!!
۔
“بابو جی کچھ دے دو صبح سے کچھ نہیں کھایا میں نے کچھ دے دو “
۔
وہ دونوں وہاں روڈ پہ کھڑے ہی تھے کے اتنے میں ایک لڑکی آئی جی مسلسل اُس سے مانگ رہی تھی۔
۔
وہ مانگنے والوں کے ہاتھ ہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ بھرا کرتا تھا ،مگر اُس کو سخت نفرت تھی اُن لوگوں سے جو پشوارانا مانگتے تھے۔ جہنوں نے مانگ کے پیٹ پالنا ایک پیشہ بنا رکھا تھا ۔ وہ اُن لوگوں کو دھودکارتا بھی نہیں تھا مگر اُن کے خالی ہاتھ کھبی بھرتا بھی نہیں تھا !!! ۔
۔
“وہ لڑکی مانگتی رہی اور اُس نے اُس کو بس یہی کہا بیٹا چلے جائیں یہاں سے آپ”
۔
اُس لڑکی کو پتا چل گیا تھا اُس سے اُسے کچھ بھی نہیں ملنا !!!!
۔
وہ جلدی جلدی وہاں سے گی اور کسی اور کے پاس کھڑی ہو گئی !!!
اور وہی مخصوص جملے دھرانے لگی ۔
۔
۔
“آپ کہیں تو میں آپ کو چھوڑ دوں؟”
۔
وہ اب بھی نظریں جھکائے اُس کی طرف مڑتے ہوئے پوچھنے لگا!!!!!!۔
۔
“نہیں سر میں چلی جاؤں گی “
اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔
۔
“آئیں میں آپ کو گاڑی میں بیٹھا دوں”
وہ تھوڑا سا آگے ہوا ہی تھا کہ پھر وہی لڑکی آ گئی !!!!
۔
“بابو کچھ دے دو نا ، کچھ تو دے دو “
“آپی آپ ہی کچھ دے دو “
وہ اب کی بار زرمینہ کی طرف مڑی تھی اُس کے سامنے ہاتھ پھیلانے لگی تھی !!!!
۔
“بیٹا میں نے آپ کو کہا ہے نا جائیں یہاں سے “
۔
زرمینہ کی طرف اُس کو جاتا دیکھ کے اب اُس نے سختی سے اُس لڑکی کو بولا تھا !!!!!!
۔
مگر وہ لڑکی وہاں سے ہلنے کا نام نہیں لے رہی تھی !!!!!
۔
“بابو کچھ تو دے دو نا ، اِس کی پیاری آنکھوں کا صدقہ ہی دے دو “
۔
اُس نے زرمینہ کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے شوق سے وجدان کو کہا ۔۔۔!!!!
۔
وجدان کو لگا اب کی بار وہ وہاں سے ہل نہیں پائے گا ، وہ اُس سے ان آنکھوں کا صدقہ مانگ رہی تھی جس پہ اُس نے اپنا آپ ہار دیا تھا ۔ جن آنکھوں کو دیکھ کے وہ دنیا کو بھول گیا تھا وہ بھول گیا تھا کہ وہ سید وجدان حسین شاہ ہے جس پہ خوبصورت سے خوبصورت لڑکی مرتی ہیں ۔ آج وہ لڑکی اُس کی آنکھوں کا صدقہ مانگ رہی ہے جو اُس کو اپنی آنکھوں سے مرنے کی سکت رکھتی تھی!!!!
۔
اُس نے ایک لمحے کو اپنی آنکھیں بند کی اور دل میں بولا اس کی آنکھوں کے صدقے میں میری جان لے لو ۔میری ساری زندگی لے لو ۔کیا اس سے بڑا بھی کوئی صدیقہ ہو سکتا ہے جو کسی کو کوئی دے “
۔
وہ اُس لڑکی کے پاس گیا اپنا وولٹ نکالا ، اور اُس لڑکی کو پانچ ہزار کا نوٹ دیا ۔اُس کے پاس اُس کی آنکھوں کا صدقہ دینے کے لیے اُس کے وولٹ میں اِس سے بڑا کوئی نوٹ نہیں تھا !!!
۔
اُس لڑکی نے پیسے لیے اور اُلٹ پلٹ کر کے دیکھنے لگی۔ اُس نے کھبی پانچ ہزار کا نوٹ دیکھا ہی نہیں تھا اُس کو پتا ہی نہیں تھا اُس کے پاس کتنے کا نوٹ ہے ۔!!!
۔
اُس کے ہاتھ میں کچھ تو آیا تھا وہ خوش تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی یہ دونوں میاں بیوی ہیں ، اُس نے اُن کو دعا دی تھی خدا تم دونوں کی جوڑی کو سلامت رکھے !!!!!
۔
اُس کی اس بات پہ وجدان کے دل میں سکون اُترا چہرے پہ ہلکی سی مسکان آئی جو صرف وہی محسوس کر سکتا تھا۔اور اُس کے دل نے آمین کہا ۔!!!!!!!!
۔
زرمینہ نے یہ سارا منظر دیکھا تھا اُس نے پانچ ہزار کا وہ نوٹ بھی دیکھا تھا جو اُس نے اُس لڑکی کو دیا تھا جس کو وہ ۱۰ روپے دینے کا بھی روادار نہیں تھا !!!!!
۔
وہ اُس کی طرف دیکھتی رہی اور وہ نظریں جھکائے کھڑا رہا !!!!
۔
“آئیں میں آپ کو گاڑی میں بیٹھا لوں”
اُس نے زرمینہ کی طرف مڑتے ہوئے کہا جو اُس کو دیکھے جا رہی تھی اور وہ نظریں جھکائے اُس کے پاس تھا ۔۔وہ اُس سے پوچھنا چاہتی تھی اُس نے کیوں اُس لڑکی کو پانچ ہزار دیے۔ اُس لڑکی نے تو اُس سے آنکھوں کا صدقہ مانگا تھا۔ اُس نے تو کھبی اُس کی آنکھیں دیکھی ہی نہیں ہیں پھر اُس نے کیوں اُس کی آنکھوں کا صدقہ پانچ ہزار دیا ہے!!!!!!!
۔
“زرمینہ “
۔وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھی اُس نے ایک آواز سنی اور ایک دم پیچھے مڑی!!
” جان جی آپ” ……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Bloody Love Novel by Falak Kazmi – Episode 4

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: