Hijab Novel By Amina Khan – Episode 15

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 15

–**–**–

“کون تھا یہ زری ؟”
سلطان نے گاڑی چلاتے ہوئے کچھ وقت بعد اُس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا !!!!
۔
“میرے ٹیچر ہیں یہ۔۔۔۔ وجدان سر “
اُس نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے کہا !!!!
۔
“تم باہر کیوں آئی تھی ؟”
تو کدھر جاتی میں؟
اُس نے تقیباًً روتے ہوئے کہا ۔وہ پہلی دفعہ ایسے سڑک پہ کھڑی ہوئی تھی اتنا انتظار کیا تھا !!!!
۔
“زری یہ لو موبائل “
۔
سلطان نے اپنے جیب سے موبائل نکالا اور زری کی طرف کیا !!!!
۔
“مجھے نہیں چاہیے “
وہ جو کب سے منہ بنائے باہر دیکھ رہی تھی ، موبائل کو دیکھتے ہوئے صاف انکار کر دیا !!!!
۔
“لیکن اس کی ضرورت ہے زری آج اگر موبائل ہوتا تمھارے پاس تو اتنی پریشانی نا ہوتی تم اس طرح روڈوں پہ کسی غیر مرد کے ساتھ نا کھڑی ہوتی “
۔
اُس نے آخری جملہ اُس کو دیکھتے ہوئے کہا!!!!!!
۔
زری کو ایک دم كرنٹ لگا اُس کا دل ایک دم سے دھڑکنے لگا !!
” غیر مرد”
۔
اُس نے اپنے دل میں وہ جملہ دوبارہ دہرایا اور موبائل لیتے ہوئے شیشے سے باہر دیکھنے لگی !!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وجدان “
۔
“مجھے بات کرنی ہے تم سے “
فاطمہ کا لہجہ اتنا سخت تھا کہ اُس کو ایک منٹ کے لیے یقین ہی نہیں ہوا یہ اُسی کی بہن ہے جو اُس سے بات کر رہی ہے !!!!!
۔
“جی آپی “
کھانے کا آخری نوالہ اُس نے پلیٹ میں ہی چھوڑتے ہوئے کہا اگر وہ آخری نوالہ ڈال بھی لیتا تو بہن کا یہ رویہ دیکھ کے شاید نیچے نا کر پاتا !!!!
۔
“آپی خریت تو ہے نا”
۔
بہن کی طرف دیکھتے ہوئے اُس نے پوچھا !!!!
۔
“جی خریت ہے رات کو تمارے کمرے میں آ کے بات کرتے ہیں”
۔
اب کی بار لہجے کے ساتھ ساتھ نظروں میں بھی سختی آئی تھی !!!!!
۔
“مگر آپی “
“کہا نا رات میں کریں گے بات “
وہ اٹھی اور برتن اٹھا کے لے جانے لگی ، جو کھبی اُس سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرتی تھی آج وہ اُس کا ایک الگ ہی روپ دیکھ رہا تھا !!!
۔
“ضرور کوئی بڑی بات ہے ورنہ آپی تو کھبی ایسا نہیں کرتیں “
۔
وہ وہی کرسی پہ بیٹھا ہوا سوچنے لگا!!!!
۔
“اوہ کہیں آپی نے میری ڈائری تو نہیں دیکھ لی”
اچانک سے اُس کے دماغ میں وہ ڈائری آئی جس میں وہ اپنی ملکہ کے لیے شعر لکھتا تھا کھبی اُس کی آنکھوں پہ تو کھبی اُس کی معصومیت پہ !!!!!
۔
وہ بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں گیا اور جلدی جلدی الماری کا دروزه کھولنے لگا !!!!!
۔
“یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے آپی نے ڈائری نہیں دیکھی میری “
اُس نے ڈائری کو وہی دیکھ کے سکون کا سانس لیا اور پھر سے ڈائری وہاں رکھ دی جہاں وہ پڑی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سے ہر چھوٹی چھوٹی بات سوچتی تھی۔ اُس کو لوگوں کی باتیں بہت کم سمجھ آتی تھی۔ ہمیشہ سیدھی سیدھی باتیں کرنے والی بہت کم دوسروں کی باتوں کو سمجھتی تھی۔ ۔۔۔
اور آج تو اُس کے پاس سوچوں کا ایک وسیع سمندر تھا ۔اُس نے بہت کچھ سوچنا تھا بہت ساری باتوں کا مطلب نکالنا تھا ۔وہ ہمیشہ آنکھیں بند کیے بازوں کو اپنی آنکھوں پہ رکھ کے سوچا کرتی تھی۔۔۔۔۔
۔
“زری “
وہ آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ڈرائنگ روم کے ایک صوفے پہ لیٹی تھی
۔
آج وہ بلکل چپ تھی !!!!
۔
“زری “
اب کی بار رقیہ بیگم اُس کے پاس آئیں تھی اور اُس کو بازوں سے پکڑ کر ہلایا ؛!!!
۔
“جی اماں”
وہ جو سوچوں میں گُم تھی ایک دم سے اٹھی اور صوفے پہ ہی بیٹھ گئی !!!!!
۔
“کیا ہوا ہے زری ، کوئی پریشانی ہے ؟”
“نہیں اماں کوئی پریشانی نہیں ہے “
“تو پھر ایسے کیوں لیٹی ہو ؟”
“ایسے ہی اماں”
“زری اگر کوئی پریشانی ہے تو اپنی ماں سے نا چھپانا “
۔
وہ ہمیشہ اُس کے یونیورسٹی جانے کے بعد بہت فکر مند رہتی تھیں ہر چھوٹی چھوٹی بات کو دل پہ لیتی تھیں۔ اُن کے دل کو ہر وقت عجیب سا ڈر رہتا تھا !!!!!
۔
“اماں آپ پریشان نا ہوں کوئی پریشانی نہیں ہے آج جان جی کا انتظار کرتی رہی نا تو بہت تھک گی ہوں”
۔
اُس نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا!!!!!
۔
“موبائل دیا ہے نا سلطان نے تمہیں”
۔
“جی اماں دیا ہے “
” اب بس یونیورسٹی کو موبائل لے کے جانا تاکہ آئندہ ایسا کوئی مسئلہ ہو تو تھماری خیریت کا پتہ ہو ہمیں”
۔
“اچھا زری اب جاؤ سو جاؤ صبح سحری بھی کرنی ہے “
تراوی پڑھ کے سو جانا بس، پھر تم سے اٹھا نہیں جاتا !!!!
۔
انہوں نے وہاں سے اُٹھتے ہوئے اُس کو کہا !!!!!
۔
آج رمضان المبارک کی پہلی رات تھی ۔
زری کو اندازہ بھی نہیں تھا یہ رمضان المبارک کا مہینہ اُس پہ قیامت کی طرح برسے گا!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپی کیا ہوا ہے کیوں کر رہی ہیں آپ ایسے بات “
۔
اُس نے بہن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اُس کے پاس اُس کے بیڈ پہ بیٹھی تھی !!!
۔
“وجدان یہ تم مجھ سے نہ پوچھو یہ تم خود سے پوچھو کہ کیوں کر رہی ہوں میں ایسے بات “
۔
اُس نے اُسی سخت لہجے میں اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !!!!
۔
“آپی اب مجھے پریشانی ہو رہی ہے بتائیں نا کیا ہوا ہے “
۔
“وجی یہ کیا ہے ؟ “
وہ کھڑی ہوئی اور اُس کے سرہانے کے نیچے سے وہ ڈبي نکلی اور اُس کے سامنے رکھی !!!!!
۔
“آپی….. یہ آپ کو …..کیسے؟”
اُس کا سانس حلق میں اٹکنے لگا ۔اُس کو یقین ہی نہیں ہوا اُس کی بہن کو کیسے …..پتا چل سکتا ہے ……اُس کو یہ سگریٹ کی ڈبی کیسے مل سکتی ہے۔
۔
“وجدان اب بولو گے کچھ کیا ہے یہ”
۔
اُس نے سگریٹ کی پڑی ہوئے ڈبی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا !!!!!
۔
وہ جو اُس کے سامنے نظریں جھکائے بیٹھا تھا بولنے کے لیے اُس کے پاس کوئی الفاظ نہیں تھے اور بہن کو وہ جھوٹ کہنا نہیں چاہتا تھا !!!!!!
۔
“اسموکنگ کرنے لگے ہو تم وجی “
اب کی بار اُس کا لہجہ بلکل نرم تھا اُس نے اُس سے بہت نرمی سے پوچھا ، اُس کا چہرہ اوپر کیا !!!!
۔
“وہ آپی”
اُس کی جھکی نظریں اوپر اٹھیں ، بہن کی انجان ہوتی آنکھوں میں اُس نے ایک پل کو دیکھا اور پھر نظریں جُھکا لیں!!!!!
۔
“وجی کون ہے وہ لڑکی “
اُس نے اُس کی جھکی نظروں کو دیکھتے ہوئے پوچھا !!!!!
۔
“میری سٹوڈنٹ ہے آپی “
۔
اُس نے بغیر جھوٹ بولے اپنی محبت کو قبول کر لیا تھا۔ جس محبت کو اُس نے خود قبول کر لیا تو اُس کو چھپانے کا کیا فائدہ تھا۔۔۔
وہ عام لڑکوں کی طرح نہیں تھا جو چھپی محبت کرتا۔لڑکیوں کو محبت کے جانسے میں لاتا اور مجبوری کا بہانا بنا کے اُس کو چھوڑ دیتا ، اُس نے محبت کی تھی اور آج وہ اُس محبت کو قبول بھی کر رہا تھا۔ خدا کے سامنے اُس نے بہت پہلے قبول کر لی تھی آج وہ اپنی بہن کے سامنے بھی قبول کر رہا تھا !!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یا اللہ میں کیوں سوچ رہی ہوں اتنا میرا تعلق ہی کیا ہے اُن سے جو میں سوچے جا رہی ہوں “
۔
“مگر انھوں نے کیوں کیا ہے ایسا ، کیوں انھوں نے اُس لڑکی کو پانچ ہزار دیے جس کو وہ ۱۰ روپے بھی نہیں دے رہے تھے۔ ۔انھوں نے کب دیکھی ہیں میری آنکھیں ۔مجھے تو انھوں نے کھبی دیکھا ہی نہیں ہمیشہ مجھے اگنور کیا ۔کلاس میں سب کو دیکھتے ہیں سوائے میرے ، سب کا نام بھی لیتے ہیں میرا تو نام لیتے اُن کو گناہ ہوتا ہے ۔۔۔۔جب اتنا اگنور کرتے ہیں تو پانچ ہزار ایک مانگنے والی کو کیوں………؟
۔
وہ ہمیشہ کی طرح اپنی ڈائری پہ لکھتے ہوئے اللہ سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“میں کیوں سوچ رہی ہیں اُنکو کیوں میں اپنی ڈائری پہ اُنکو لکھ رہی ہوں”
۔
اُس نے اپنی ڈائری کو پڑھنا شروع کیا ۔جو اُس نے کہی دنوں سے لکھی تھی اور ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا تھا وہ کیا لکھ رہی ہے ۔۔۔۔
۔
جیسے ہی وہ پڑھنے لگی اُس کو بہت حیرت ہوئی اُس نے پچھلے کئی صفحوں میں بس ایک ہی شخص کا ذکر کیا تھا بغیر اُس کا نام لیے ۔!!!!!!!!
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کہاں کی ہے وہ لڑکی ؟”
۔
“مانسہرہ کی ہے آپی “
اُس نے ویسے ہی نظریں جھکائی رکھیں اور بہن سوال پہ سوال پوچھنے لگی اور وہ ہر سوال کا جواب دیتا رہا !!!!!!
۔
“کون سی کلاس میں ہے وہ ؟ “
۔
“فرسٹ سمسٹر ذولوجی کر رہی ہے “
۔
“کب سے تمھیں اُس سے محبت ہوئی ؟”
بہن اُس کا چہرہ دیکھتے بس پوچھتی گی !!!!!
۔
“اس سوال کا جواب تو مجھے بھی نہیں پتا آپی میں نے بس اُس کو ایک نظر دیکھا تھا اور پھر پتا نہیں مجھے کب اُس سے محبت ہو گی ۔ “
۔
اب کی بار اُس نے بہن کو دیکھتے ہوئے کہا !!!!
۔
“پیاری ہے ؟”
۔
بہن نے بڑے تجسّس سے پوچھا اُس کو پتا تھا اُس کا بھائی جس لڑکی کو پسند کرے گا وہ دنیا کی حسین ترین لڑکی ہو گی !!!!!
۔
بہن کی اس سوال پہ اُس نے آنکھیں بند کر لیں ، وہ سوچ رہا تھا کیا اُس نے اُس سے زیادہ پیاری لڑکی کوئی دیکھی ہے ، کیا اُس سے پیارا کوئی ہے اس دنیا میں جو اُس نے دیکھا ہو۔ وہ آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا کے اُس حجاب والی کا سراپا پھر سے اُس کی نظروں کے سامنے سے گزرا اور اُس کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ آئی !!!! ۔
۔
“وجی کیا وہ بہت پیاری ہے؟”
بہن نے اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھ کے ایک بار پھر سے پوچھا ، آج سے پہلے اُس نے اُس کے چہرے کسی لڑکی کی ذکر پہ ایسی مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی ۔وہ سمجھ سکتی تھی وہ لڑکی اُس کے لیے کیا بن گی ہے !!!!!!
۔
“آپی میں نے اُس کو بس حجاب میں دیکھا ہے میں نے بس اُس کی آنکھیں دیکھی ہیں ، اور میں دعوے کے ساتھ کہے سکتا ہُوں میں نے آج سے پہلے اتنی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی”
۔
وہ مسکراتا ہوا بس بولتا چلا جا رہا تھا!!!!!
۔
“کیا مطلب ؟ بس حجاب میں دیکھا ہے؟ اگر وہ لڑکی پیاری نا ہوئی تو ؟”
۔
اُس نے بھائی کی اس بات پہ بہت حیرت سے اُس کو دیکھا!!!!!
۔
“آپی کیا محبت خوبصورتی سے ہی ہوتی ہے؟ ۔کیا ایک لڑکی خوبصورت نا ہو تو اُس سے محبت کا کوئی حق نہیں ہوتا مرد کو؟ مجھے اُس کی خوبصورتی سے کوئی مطلب نہیں ہے آپی میں نے اُس کو قبول کیا ہے خدا کے سامنے اور آج آپ کے سامنے بھی کر رہا ہوں اور ایک دن پوری دنیا کے سامنے بھی کروں گا ان شاء اللہ “
۔
“وہ چہرے پہ محبت کی معصومیت لیے نظریں جھکائے روانی سے بولتا جا رہا تھا اور بہن اُس کو دیکھتی جا رہی تھی”
۔
“وہ بھی تم سے ایسی ہی محبت کرتی ہے جیسی تم کرتے ہو؟ “
۔
“وہ ؟”
اُس نے بہن کی اس بات پے اپنا سر اٹھایا ، آنکھوں میں حیرت اُتری اور ایک بار پھر مسکراہٹ آئی !!!!
۔
“آپی ضروری تو نہیں جس سے ہم محبت کریں بدلے میں ہم اُس سے محبت ہی طلب کریں “
۔
اُس نے اُسی مسکراہٹ سے بہن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !!!!!
۔
“مطلب کیا ہے وجی”.. ۔۔۔۔وہ تم سے محبت نہیں کرتی “
۔
“آپی اُس کو تو پتا بھی نہیں ہے کہ میں اُس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
یہ کہے کر وُہ اگے کچھ بول نا سکا !!!!!
۔
“مطلب اُس لڑکی کو پتا ہی نہیں جس کے لیے آپ برباد ہوئے جا رہے ہیں ، اُس کو پتا ہی نہیں پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی اُس کی محبت میں اپنی بہنوں سے بات کرنا بھول گیا ہے ۔۔۔۔۔۔اُس کو پتا ہی نہیں ماں باپ کا اکلوتا بیٹا اُس کی محبت میں اب اُن کے پاس بیٹھنے کے بجائے اپنے کمرے میں بیٹھتا ہے ، اُس کو اس بات کا بھی نہیں پتا کے اُس کی محبت میں وجدان شاہ نے خود کی بربادی کا پہلا قدم اٹھا لیا ہے وہ سگریٹ پینے لگا ہے “
۔
بہن اُس کو غور سے دیکھتے ہوئے بس بولتی چلی گی ۔اُس کو ایک رنج تھا ، اُس کا بھائی ایک لڑکی کی محبت میں سب کچھ کیسے بھول سکتا ہے ۔ٹھیک ہے وہ ماں باپ کو بھول گیا ، ٹھیک ہے وہ بہنوں کو بھول گیا مگر وہ اپنا آپ کیسے بھول سکتا ہے !!!!!!!
۔
بہن کی ان باتوں نے اُس کو اندر سے جھنجھوڑا ۔۔۔۔۔۔ اُس کے اندر درد کی ایک لہر اٹھی ۔۔۔۔ وہ جیسے بیٹھا تھا ویسے ہی پیچھے ہوا اُس کا سر بیڈ کے ساتھ لگا اور ایک زوردار آواز ہوئی .پیچھے ہوتے ہی اُس کی آنکھیں بند ہوئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ایسا خودغرض کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ایک لڑکی کی محبت میں وہ دوسرے رشتے کیسے چھوڑ سکتا ہے ؟……
۔
“وجی “
۔
وہ جلدی سے اُدھر سے اٹھی ، اُس کو اپنے دل سے لگایا جو بلکل بے حال سا پیچھے ہوا تھا !!
۔
“آپی میں اب شاید جی نا سکوں اُس کے بغیر “
۔
بہن کے دل کے ساتھ لگے ہوئے اُس نے ایک درد سے کہا ، وہ درد جو بہن کے اندر تک اُترا ۔
۔
“وجی تم نہ پریشان ہو ، میں بس اتنا کہے رہی ہوں اُس لڑکی کو بھی پتا ہونا چاہیے نا کہ تم اُس سے اِس قدر محبت کرتے ہو “
۔
بھائی کا ماتھا چومتے ہوئے وہ ایک بار پھر بولی!!!!!
۔
ضروری نہیں ہے آپی اُس کو پتا ہو ۔۔۔میں نے اُس سے پاک محبت کی ہے۔ اور محبت کی پاکیزگی میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے جس سے آپ محبت کرو اُس کو پتا ہو ۔۔۔۔اگر اللہ نے میرے دل میں اُس کے لیے ایسے جذبات ڈالے ہیں تو اُس کے دل میں بھی میرے لیے کچھ تو ڈالیں گے ۔۔۔۔۔۔وہ بھی کچھ تو سوچے گی۔ ۔۔۔اُس کو بھی تو محسوس ہو گا کسی کونے میں ایک لڑکا اُس کو دِن رات دعاؤں میں مانگتا ہے ۔۔۔۔۔ اُس کو بھی تو میری تڑپ محسوس ہو گی ۔۔۔۔۔میں انتظار کروں گا آپی میں اُس کی محبت کا اُس کو بتائے بغیر انتظار کروں گا ۔۔۔۔۔۔اگر مجھے پوری زندگی بھی انتظار کرنا پڑا تو کروں گا ……اُس کے بعد اب یہ دل کسی کے لیے نہیں دھڑک سکتا ۔۔۔۔۔یہ آنکھیں کسی کے لیے اشک بہا سکتی ۔۔۔۔۔یہ ہاتھ اب کسی اور لڑکی کو مانگنے کے لیے نہیں اٹھ سکتے ۔۔۔۔۔۔۔وجدان انتظار کرے گا اپنی ملکہ کی محبت کا “
۔
“میں دعا کروں گی وجی وہ تمھیں مل جائے ، خدا اُس کو تمارے نصیب میں لکھ لے”
فاطمہ نے ایک بار پھر اُس کا ماتھا چُوما اور وہاں سے اٹھنے لگی آج پھر سے وہ کسی الگ وجدان کو دیکھ رہی تھی !!!!!!
۔
“آمین”
اُس کے لبوں پہ آمین آیا اور پھر سے وہ ٹیک لگائے پیچھے ہو گیا ۔اب وہ اُس کی یاد پہ سگریٹ نہیں پیتا تھا بلکہ مسکرا دیا کرتا تھا اور اب وہ اکثر مسکراتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔آج وہ پوری رات سو نہیں سکی۔ اس بات کا اُس کو بھی نہیں پتا تھا وہ سو کیوں نہیں رہی اُس کو نیند کیوں نہیں آ رہی ۔وہ کیوں سوچ رہی ہے اُس شخص کو اتنا ۔۔۔۔وہ کیوں اُس کے ذہن سے نہیں ہٹ رہا ۔۔۔آخر کیوں؟
۔
“اللہ جی پلیز مجھ سے خفا نا ہویے گا میں جان بھوج کے نہیں سوچ رہی اُنکو بس پتا نہیں کیوں وہ خود ہی آ رہے ہیں میرے ذہن میں ۔میں نہیں چاہتی اُن کو سوچنا پھر بھی پتا نہیں کیوں وہ میرے خیالوں میں سوار ہوتے ہیں ، اللہ جی پلیز آپ مجھ سے خفا نا ہونا “
۔
اب کی بار وہ اٹھ کے بیٹھی تھی اور کھڑکی سے باہر دیکھ کے دعا مانگنے لگی۔ اُس کو لگتا تھا کھلے آسمان کے نیچے اللہ پاک جلدی دعا سنتے ہیں ۔
۔
“میں کیوں سوچ رہی ہوں ایک نامحرم کو اتنا آخر کیوں”
۔
اُس نے وہیں کھڑکی کے پاس کھڑے آنکھیں بند کی اور خود کو ملامت کر کے کہنے لگی!!!!!!
۔
یا اللہ میں نہیں سوچنا چاتی ایک نا محرم کو جس سے تو نے سوچنے سے منا فرمایا ہے۔ میں ایسے کیسے کر سکتی ہوں ، میں آپ کو ناراض کیسے کر سکتی ہوں۔ میں اپنے ذہن میں ایک نا محرم کو کیسے لا سکتی ہوں ۔۔۔۔میں ایسی نہیں ہوں خدایا جو تمہارے حکم کی پاسداری نا کر سکوں ۔۔۔مجھے معاف کر میرے مالک ۔۔۔۔میں آئندہ کچھ نہیں سوچوں گی۔ میں آئندہ ڈائری بھی نہیں لکھوں گی۔ بس آپ مجھ سے خفا نا ہونا۔ ۔۔۔
۔
اُس نے کھڑکی پہ ہاتھ رکھا اور بے جان سی اُس کا سہارا لیئے اگے چلتی گی۔۔۔۔
اُس نے تہجّد کے لیے وضو بنایا اور اتنے میں مسجدوں سے آوازیں بلند ہونے لگیں۔۔۔۔ سحری کرنے والو اٹھو ۔۔سحری کا وقت ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: