Hijab Novel By Amina Khan – Episode 16

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 16

–**–**–

حجاب سے شروع ہونے والی محبت کی ایک عجیب داستان
ایسی داستان جو کہیں سنی نا هو
ایک لڑکا جو سید خاندان سے ہے
اور ایک لڑکی جو پٹھان ہے
حقیقت پر منبی کم عمر محبت کی خوبصورت داستان
آمنہ خان کے قلم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پٹھانوں سے زیادہ پاگل بھی کوئی قوم ہو سکتی ہے؟
۔
ہانیہ نے مدثر کی طرف منہ بناتے ہوئے کہا , مدثر کے بہانے وہ زرمینہ پہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنا چاہتی تھی ۔ کب سے سر قمر کی کلاس میں بیٹھے ہوئے پٹھانوں کی شان میں اُس کے دل میں جو آ رہا تھا بولے جا رہی تھی ۔
۔
“ہانیہ جی آپ کو کیا پتا ہے ہم پٹھانوں کا ۔ہمارے بارے میں تو تاریخ لگی گی ہے “
چونکہ مدثر بھی پٹھان تھا تو وہ کدھر پیچھے رہے سکتا تھا وہ اُس کی ہر بات کا جواب دے رہا تھا ۔جب کے زرمینہ چُپ بیٹھی بس سنے جا رہی تھی ۔
۔
“جی جی میں جانتی ہوں پٹھانوں کو ، وہ فیس بوک پہ آپ پٹھانوں کی شان میں تعریف آپ نہیں سنتے ہوتے مسٹر مدثر؟ “
۔
ہانیہ نے ہستے ہوئے طنزیہ سے انداز میں کہا !!!!!
۔
محترمہ آپ نے پٹھانوں کے بارے میں سنا ہی کیا ہے ۔
آپ نے دنیا کے عظیم جنگجو مغل اکبر کا وہ قول نہیں سنا….
“ایک پٹھان کو دوستی کر کے تو ہرایا جا سکتا ہے مگر دشمنی کر کے کھبی نہیں ہرایا جا سکتا”
۔
یقیناََ اپ نے نہیں سنا ہو گا تب ہی تو آپ ہم پٹھانوں سے دشمنی کر بیٹھی ہیں . مدثر نے شرارتی سے انداز میں زرمینہ کی طرف دیکھتے ہوئے ہانیہ کو کہا ۔۔۔جو ایسے ظاہر کر رہی تھی جیسے اُس کو کوئی دلچسپی نہیں ہے پٹھانوں کے قصیدیے سننے میں!!!!!!!
۔
“ہانیہ صاحبہ یہ بہت ہے یا میں آپ کو محمود غزنوی ، سکندر اعظم اور انڈیا کے بہت سارے جرنیلوں کے بھی قول سناؤں جہنوں نے پٹھانوں کے بارے میں اپنے قلم سے خوبصورت اور قیمتی الفاظ لکھے”
۔
اب مدثر اُس کی طرف دیکھ کے طنزیہ سے انداز میں کہنے لگا !!!!
۔
“ہمیں کوئی شوق نہیں ہے آپ کے قصے سننے کا “
۔
اُس نے منہ بناتے ہوئے کہا اور آگے موڑ گی. ویسے بھی اُس کو صرف بولنا پسند تھا۔ سننے میں تو وہ اپنی توہین سمجھتی تھی۔ جب اگلا بندہ بولتا تو وہ منہ بنا کے دوسری طرف مڑ جاتی !!!!!!
۔
“بچاری کے پاس بولنے کو کچھ بچا ہی نہیں ہے “
۔
فضہ نے مسکراتے ہوئے زرمینہ کے کان میں کہا!!!!!
۔
“ویسے پٹھان تو آپ بھی ہیں نا ، آپ کو بولتے ہوئے موت پڑی ہے اُس ہانیہ کے سامنے “
۔
فضہ نے زرمینہ کی طرف دیکھا اور غصے سے بولی ۔جو ہانیہ کی کسی بات میں کوئی دلچسپی نہیں لیتی تھی !!!!!
۔
“بابا جان ہمیشہ ایک بات کرتے ہیں فضہ دوستی اور دشمنی ہمیشہ خاندانی بندے سے کرنا ۔۔۔دوستی تو وہ تم سے خاندانی طریقے سے کرے گا ایک خاندانی بندہ ۔اور اگر وہ تم سے دشمنی بھی کرے گا تو بھی خاندانی طریقے سے کرے گا۔ کم نسل سے نہ دوستی اچھی نا دشمنی ۔۔۔یہ نہیں کہ میں اس کی باتوں کو سمجھتی نہیں یا جواب نہیں دے سکتی ۔۔۔بس میں اُس کو اس قابل نہیں سمجھتی کہ میں اس کے ساتھ بولوں”
۔
“اُس نے اس قدر پر اعتماد طریقے سے جواب دیا کہ فضہ مسکراتے ہوئے رہ گئی۔ شکر ہے بھائی ہم آپ کے دوست ہیں “
۔
“جی آج شکرانے کے دو نفل پڑھیے گا “
زرمینہ نے شوخے سے انداز اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا!!!!!!
۔
“ہوں مر جاؤ تم زری “
۔فضہ نے منہ بنایا اور دوسری طرف مڑ گئی!!!
۔
“اگر میں مر گی تو میرے وہ کنوارے رہ جائیں گے نا “
۔
زرمینہ نے مصنوعی سی اُداسی کے ساتھ فضہ کو دیکھتے ہوئے کہا !!!!!
۔
“آپ کے وہ ؟ کون ہیں آپ کے وہ ؟ مجھے تو کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہے “
۔
فضہ نے اِدھر اُدھر کلاس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !!!!
۔
“کھبی تو ہوں گے نا “
۔
“ہوں جب ہوں گے تب ہم آپ کو جینے کی دعا دیں گے”
۔
“ہوں بہت احسان ہے آپ کا ، اب چپ کر کے سر کو سنو آج وہ بھی کچھ فرما رہے ہیں “
۔
۔
” عشق میں مرنے والوں کو کب جینے کی دعا لگتی ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج پھر اپنے اُسی انداز میں بھاگتا ہوا آیا تھا ، بلیک جینز کے اوپر اُس نے گرے رنگ کی جیکٹ پہن رکھی تھی ۔۔۔۔وہ زیادہ تر جیکٹ ہی میں نظر آتا تھا اُس کو اور لوگوں کی نسبت ٹھنڈ کچھ زیادہ ہی لگتی تھی۔ اس لیے وہ ہمیشہ جیکٹ پہنتا تھا جب تک گرمی اپنے عروج کو نا پھونچ جائے وہ جیکٹ نہیں اترتا تھا۔۔۔۔۔۔۔موبائل ہمیشہ اُس کے ہاتھ میں رہتا ۔اور چائے؟ چائے کا تو وہ دیوانہ تھا ۔۔۔۔ہر پانچ منٹ بعد اُس کو چائے کی طلب ہوتی تھی۔
چونکہ وہ سب کے ساتھ اتنا پیار کرتا تھا تو سب اُس کا خیال رکھا کرتے تھے۔ ایک لڑکا جو اُدھر کام کرتا تھا کلاس کے دوران بھی آتا اور اُس کا خالی ہوا کپ لے کے جاتا اور دوبارہ چائے کے ساتھ بھرا ہوا لے کے آتا ۔۔۔۔۔اور وہ مسکرا کے اُس کو شکریہ کہتا اور کپ لے لیتا۔۔۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ سب کی عزت کرتا تھا وہ لوگوں کی عزت اُن کا عہدہ دیکھ کے نہیں کرتا تھا بلکہ اُن کا اخلاق اُس کو ہمیشہ متاثر کرتا تھا ۔اُس کو اپنی طرح زندگی سے برپور لوگ بہت پسند تھے۔ ہمیشہ شاعری کی محفل میں بیٹھا ہوا سب کو وہی نظر آتا ۔۔۔۔وہ لوگوں میں خود کو منوانا جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔کھبی اپنے کلام سے اور کھبی دوسروں کو دات دے کے ۔۔۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سب کے ساتھ مسکرا کے بات کرتا اگلے کی بات پہ اونچا اونچا ہستا ، اُن کو پیار سے کمر پہ مار بھی دیتا ۔۔۔اور کھبی انگلی کے اشارے سے ہستے ہوئے اُن کو سہراتا !!!!
۔
آج وہ جس انداز میں کلاس میں آیا تھا سب کو وہ پہلے دن والا وجدان لگ رہا تھا ، اُس نے اپنی محبت کو اپنی کمزوری بنانے کے بجائے اُس کو اپنی طاقت بنا دیا تھا ۔۔۔۔
۔
“محبت اگر ہماری کمزوری بن جائے تو وہ اُس زہر سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے جو ہمیں آہستہ آہستہ اندر سے ختم کرتا ہے “
۔
۔
زرمینہ نے اُس کو دیکھتے ہی نظریں جُھکا لیں ۔وہ نہیں چاہتی تھی وہ اُس کو دیکھے اور وہ شخص اُس کے خیالوں میں آئے۔ اُس کی ڈائری میں اب اُس کا نام بھی نہیں آنا چائیے ۔اگر وہ اُس کو دیکھے گی نہیں تو وہ اُس کے خیالوں میں بھی نہیں آئے گا ۔۔۔۔
وہ اور فضہ آج سیکنڈ رو کی پہلی دو کرسیوں پہ بیٹھی تھیں ۔۔ساتھ والی رو کی ایک کرسی خالی تھی ۔۔۔
۔
اُس نے آتے ہی پریزنٹیشن لینی سٹارٹ کر لی۔ آج ہانیہ کے ساتھ اور بھی دو تین بچوں کی باری تھی ۔ وہ جب بھی پریزنٹیشن لیتا تو سامنے پڑی کسی بھی خالی کرسی پہ بیٹھ جاتا تھا ۔۔۔۔
۔
“ہانیہ آئے آپ سٹارٹ لیں “
اُس نے ہانیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا !!!!!
۔
ہانیہ کے تو جیسے وارے نیارے ہو گے ۔آج وہ دوسرے دونوں کی بنسبت زیادہ تیار ہو کے آئی تھی ۔۔۔۔اُس کو پتا تھا وہ پریزنٹیشن کے دوران سٹوڈنٹس کو ہی دیکھتا ہے ۔۔۔تو وہ کیسے یہ قیمتی موقع ضائع کر سکتی تھی ۔وجدان اُس کو اتنا وقت دیکھے اور وہ تیار بھی نا ہو کے آئے !!!!!
۔
جیسے ہی ہانیہ سامنے آئی وہ زرمینہ کے فاصلے پہ خالی پڑی کرسی پہ بیٹھ گیا !!!!!!!
۔
“آج اُس کے پاس بیٹھنا ضروری تھا “
ہانیہ نے جلتے ہوئے دل کے ساتھ اُس کو زرمینہ کے ساتھ والی کرسی پہ دیکھ کے خودکلامی کی!!!!!
۔
“ہانیہ آپ سٹارٹ لیں “
اُس نے ہانیہ کو چپ کھڑا دیکھتے ہوئے کہا !!!!
۔
“اب کیا خاک سٹارٹ لوں گی میں”
“دل میں جلنے والی ہانیہ نے اُس کو مسکراتے ہوئے دیکھا اور بس اتنا کہا اوکے سر اور اپنے ٹاپک پہ بولنا شروع ہوئی”
۔
وہ جو بظاھر اُس کو دیکھ رہا تھا ، مگر اُس کا دل ساتھ بیٹھے والی لڑکی کے لیے دھڑک رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“کتنی پاکیزہ ہے یہ ، کتنا سکون ہے اس کی قربت میں”
۔
اُس نے زرمینہ کا ساتھ محسوس کرتے ہوئے اپنے دل میں کہا !!!!!
۔
“یا اللہ اس لڑکی کو میرے نصیب میں لکھ لے ، جب یہ میرے نصیب میں آ گئی میں اُس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا ۔مجھے اس کے علاوہ دنیا کی کسی چیز کسی خوشی کی کوئی طلب نہیں ہے۔ میں تم سے بس اس ایک لڑکی کو مانگتا ہوں مولا”
۔
اُس نے وہاں بیٹھے بیٹھے خدا سے اُس لڑکی کو مانگا جس کی پاکیزگی اُس کو سکون بخش رہی تھی ۔۔۔۔
اور ہانیہ سامنے کھڑے بولے جا رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں آج ساری افطاری میں بناؤں گی آپ نے کچھ نہیں کرنا آج ۔آج میری اماں بس آرام کریں گی “
۔۔
اُس نے کچن میں کھڑے ہوتے ہوئے کہا!!!!!
۔
“نہیں زری اتنا کام ہوتا ہے تم کیسے اتنی افطاری بناؤ گی ۔میں تمارے ساتھ مل کے بنا لوں گی نا بچے”
۔
“نہیں نا اماں میں خود بناؤں گی نا”
اُس نے بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے ماں کو کہا جو اُس کے پاس کھڑی پیار کاٹ رہی تھیں!!!!!!!
۔
“لیکن زری اتنا سب کچھ بنے گا بابا جان کے لیے الگ بنے گا ۔تم کیسے بناؤ گی اتنا سب؟ “
انہوں نے فکرمند سے انداز میں پوچھا!!!!!!!!
۔
وہ زری کو اتنا کچن میں کام نہیں کرنے دیتی تھیں ۔زری اُن کی اکلوتی بیٹی تھی اور تھی بھی کمزور سی۔ مگر وہ بھی اپنے ایک اچھی بیٹی ہونے کا وقتاً فوقتاً ثبوت دیتی تھی ۔اُس کی یہی خواہش ہوتی تھی جو کام وہ کر سکتی ہے وہ کام اُس کی ماں کو نا کرنا پڑے ۔۔۔۔وہ خود گرم آگ کے پاس کھڑی ہو اُس کی ماں نا ہو۔ برتن دھوتے اُس کے ہاتھ خراب ہوں اُس کی ماں کے نا ہوں ۔وہ ہمیشہ سوچتی تھی کیسی ہوتی ہیں وہ لڑکیاں جو اپنی ماں کو کام کرتا دیکھتی رہتی ہیں ۔اور خود آرام سے صوفے پہ بیٹھی ہوتی ہیں ۔اُن بیٹیوں کو اپنی ماں پہ ترس بھی نہیں آتا ۔۔۔جو پورا دِن کھبی ایک کے آگے کھڑی ہوتی ہے کھبی دوسرے کی فرمائش پوری کرتی ہیں۔۔۔۔۔ایک ماں بیٹی کیوں مانگتی ہے ؟ کس دِن کے لیے مانگتی ہے کہ جب وہ بڑی ہو تو اپنی ماں کو یہ کہے کر برتن دھونے سے منع کر دے ۔نہیں اماں میرے ہاتھ خراب ہوتے ہیں ۔۔۔۔کیا ایسی ہوتی ہیں بیٹیاں ؟
۔
“زری بچے تھک گی نا مجھے بولا لینا اچھا اور یہ سب جو تم بناؤ گی میں کاٹ کے رکھ دیتی ہُوں پھر تم ساتھ ساتھ بنا لینا “
۔
انھوں نے پیار آلو اور باقی سبزی اٹھائی جو اُس نے بنانی تھی اور اُس کو کاٹنے کے لیئے دادو کے پاس بیٹھ گئیں!!!!!!
۔
اور وہ مسکراتے ہوئے ماں کو دیکھتی رہے گئی۔ ایسی ہوتی ہیں مائیں میری ماں جیسی ⁦♥️
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بھائی جان آج پکوڑے میں نے بنائے ہیں”
۔
خدیجہ نے بڑے فخر سے بھائی کو دستر خوان پہ بیٹھ کے کہا !!!!
۔
“ارے واہ آج تو پکوڑے میری گڑیا نے بنائے ہیں ۔ امی آج میں افطاری میں بس پکوڑے ہی کھاؤ گا “
۔
اُس نے مسکراتے ہوئے ماں کو دیکھ کے کہا ۔۔۔۔
۔
“لیکن بھائی جان میں نے پکوڑے بس آپ ہی کے لیے بنائے ہیں باقی سب کے لیے زینب آپی نے بنائے ہیں ۔آپ میرے والے ہی بنے ہوئے کھانا “
۔
اُس نے خوشی سے بھائی کو بتایا جو پلیٹ میں سے پکوڑے اٹھا کے دیکھ رہا تھا !!!!!
۔
“جی گڑیا آپ کے والے ہی بنے ہوئے کھاؤں گا ۔زینب آپی والے تو کھانے لائق کدھر ہوں گے ۔۔۔۔شکر ہے میری گڑیا نے میرے لیے بنا دیے تھے پکوڑے ورنہ آج افطاری بغیر پکوڑوں کے ہی کرنی پڑتی “
وہ مسکراتا ہوا زینب کی طرف دیکھ کے بول رہا تھا جو کب سے اُس کو گھورے جا رہی تھی !!!!
۔
خدیجہ اب سے آپ نے اپنے بھائی جان کے لیے روز پکوڑے بنانے ہیں کیوں کہ پکوڑے تو میں ہی بناؤں گی روز یہ نا ہو پھر ان کو بغیر پکوڑوں کے ہی افطاری کرنی پڑے !!!!!
۔
اُس نے منہ بنا کے خدیجہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
۔ پاس بیٹھا وجدان مسکراتے ہوئے سنتا رہا ۔۔۔وہ اپنی بہنوں کی رونق تھا ۔۔۔۔۔اُن کے پاس بیٹھتا تو وہ اپنے ہر دُکھ بھول جاتیں ، وہ مسکراتا تو اُس کے ساتھ مسکراتیں ۔۔۔۔۔
۔
“چپ چپ سائرن ہو رہا ہے “
خدیجہ نے خوشی سے کہا اور سب دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے لگے !!!!
۔
جیسے ہی اُس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے آنکھیں بند کی ، تو ایک دم اُس کی آنکھوں میں اُس لڑکی کا سراپا گھوما ۔اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔
“ملکہ میری زندگی پہ تو قبضہ کر لیا اب دعاؤں پہ بھی قابض ہونا چاہتی ہو “
۔
اُس نے مسکراتے ہوئے دل میں کہا ، اُس وقت سب آنکھیں بند کیے دعا مانگ رہے تھے کوئی اُس کی مسکراہٹ نہیں دیکھ رہا تھا ۔جو آنکھیں بند کیے مسلسل مسکرایا جا رہا تھا !!!!!!
۔
“یا اللہ میری ملکہ کو میرا نصیب بنا دے “
۔
“اُس نے کوئی دس دفعہ بس صرف ایک یہی دعا مانگی “
جب بھی وہ اُس کو دعا میں مانگتا تھا اُس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اُترتا تھا .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کب سے ادھر سے اُدھر ٹھلتی رہی ،تراوی کے بعد وہ ایک منٹ کے لیے بھی نہیں بیٹھی تھی
۔
۔
۔کیوں یاد آتے ہیں مجھے آپ اتنا۔ کیوں میرا دل چاہتا ہے آپ میرے سامنے ہوں ۔۔۔۔کیوں میں آپ کو ایسے ہر وقت یاد کرتی ہُوں ۔۔۔کیوں میرے خیالوں میں آ جاتے ہیں آپ ۔
۔
وہ ٹہلتی جا رہی تھی اور غصے میں بولے جا رہی تھی!!!!!
۔
۔میں اُن کو کب جان بھوج کے یاد کرتی ہوں وہ کیوں آتے ہیں میرے ذہن میں۔؟
۔
“اللہ جی پلیز میری مدد کریں نا۔ میں بھول جاؤں اُن کو مجھے نہ یاد آیا کریں وہ ۔۔۔یہ کیسا احساس ہے جو مجھے ایک منٹ کے لیے بھی سکون نہیں دے رہا ۔میں کیوں اُن کو ہی سوچتی ہُوں ۔وہ تو میرے ٹیچر ہیں جیسے سر قمر ۔۔سر قمر تو مجھے کھبی یاد نہیں آئے پھر سر وجدان ہی کیوں یاد آتے ہیں ۔۔۔۔کیوں میری آنکھیں اُنکو دیکھنے کے لیے پوری رات جاگتی ہیں ۔۔۔اور جب وہ کلاس میں ہوتے ہیں میرا دل کیوں ایسے دھڑکتا ہے ۔ جب وہ میرے پاس بیٹھے تھے تو کیوں میری نظریں بس اُن کو دیکھنا چاہتی تھی ۔کیوں آخر کیوں؟ ۔کیوں میں پوری پوری رات سو نہیں پاتی ۔یا اللہ مجھ پہ رحم کریں مجھے نہیں پتا یہ کیا ہو رہا ہے ۔مجھے کچھ بھی نہیں پتا ۔۔۔۔۔ “
۔
وہ یوں ہی ٹہلتے ہوئے سر پہ ہاتھ رکھے بولتی گی ۔۔۔۔میں اگر ایسے ہی سوچتی رہی تو میں پاگل ہو جاؤں گی۔میں بلکل پاگل ہو جاؤں گی۔ ۔۔۔۔۔ میں تو یہ بات فضہ کو بھی نہیں بتا سکتی کے سر مجھے بہت یاد آتے ہیں ۔وہ کیا سوچے گی ۔؟۔۔۔کسی عجیب بات ہے نا؟ ۔۔۔۔کہ مجھے وہ اس قدر یاد آتے ہیں کہ مجھے سکون نہیں آتا۔۔۔۔۔۔
۔
۔۔۔۔اُس نے ڈائری کھولی اور ایک بار پھر لکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔
۔
وہ اُس کو اکیلے میں ہمیشہ خان صاحب کہتی تھی۔
۔
“اللہ جی اج خان صاحب میرے پاس بیٹھے تھے بلکل ساتھ ۔پتا نہیں میں اتنا کیوں ڈر رہی تھی مجھے لگ رہا تھا جیسے میری سانسیں روک جائیں گی۔ ۔۔۔۔اللہ جی وہ تو مجھے ایک نظر بھی نہیں دیکھتے ، پھر میں کیوں اُن کو اتنا سوچتی ہُوں ۔۔۔۔مجھے کیوں برا لگ رہا تھا جب وہ ہانیہ کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔مجھے کیوں برا لگتا ہے جب وہ کسی لڑکی سے ہس کے بات کرتے ہیں ؟ کیوں۔۔۔۔۔ کیوں ۔ ۔۔کیوں ؟
یہ کیا ہے اللہ جی جو مجھے سکون نہیں دیتا ۔یہ کیسا احساس ہے جس کی مجھے سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔میں کیوں بس اُن کو ہی لکھتی ہُوں۔ میں کیوں اُن کو ہی سوچتی ہُوں ۔۔۔اللہ جی پلیز مجھے مت یاد دلایا کریں اُن کو ۔۔۔۔۔مجھ پہ رحم کریں۔۔۔۔
وہ اُسی لکھتی جا رہی تھی اور مسلسل اُسی کو بھولنے کی دعائیں مانگ رہی تھی
۔
۔
وہ کب اُس کو لکھتی تھی ، وہ تو وجدان تھا جو اُس کو نصیبوں سے ملا تھا اور وہ محبتوں سے انجان لڑکی اُس کو بھول جانا مانگتی ہے!!!!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: