Hijab Novel By Amina Khan – Episode 17

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 17

–**–**–

“زری سب کلاس والوں نے what’s app گروپ بنایا ہے ، تم نے اڑ ہونا ہے ؟”
۔
فضہ نے اُس کا موبائل ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا !!!!
۔
“کون کون ہے اُس گروپ میں؟ “
” لڑکے بھی ہیں؟ “
۔
“ہاں نا ساری کلاس کا ہے ، آج چھٹیاں جو ہو رہی ہیں ۔اب فائنل کے بعد ہی یونی اوپن ہو گی تو سب یہ چاہ رہے ہیں ایک دوسرے سے ان – کانٹیکٹ رہیں ۔۔۔۔ہانیہ نے گروپ بنایا ہے سارے ٹیچرز بھی ہیں اُس میں . کل مدثر نے ہانیہ کے کہنے پہ سر وجدان سے نمبر لیا تھا اور سر نے بھی دے دیا تھا “
۔
وہ جو کب سے سنے جا رہی تھی وجدان کے نام پہ ایک دم اُس کا دل دھڑکا ، دل نے ایک دم سے کہا ہاں کر دو مجھے اڑ ۔دل میں جیسے ہی یہ خیال آیا اُس نے فوراً آنکھیں بند کیں۔ اور استغفار پڑھنے لگی۔
۔
“نہیں فضہ مجھے نہیں کرنا اڑ “
۔
اُس نے ڈرتے دل کے ساتھ منہ دوسری طرف کیے اُس کو کہا ۔۔۔۔
۔
” آج تو آپ کی وجدان سر کی پریزنٹیشن بھی ہے نا محترمہ “
فضہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا شوخ سے انداز میں کہا!!!!!!
۔
“فضہ مجھے نہیں دینی “
اُس نے فوراً نظریں جُھکا لیں
۔
“کیا مطلب نہیں دینی . خان صاحب کو جانتی ہو نا تم ۔جو لوگ نہیں دیتے کیسے لحاظ رکھے بغیر ذلیل کرتے ہیں”
۔
فضہ میں ساری کلاس کے سامنے کھڑے ہو کے نہیں بول سکتی ۔ساری کلاس بیشک ہو مگر سر ۔۔۔۔۔اُن کے سامنے میں کھبی بھی نہیں بول سکتی میں کھبی کھڑی بھی نہیں ہو سکوں گی اُن کے سامنے ۔۔میں نہیں دوں گی۔ سر جو بھی کہتے ہیں کہے لیں مجھے۔ مگر مجھے نہیں دینی “
۔
اُس نے تقریبََ رونے والے انداز میں کہا !!!!!
۔
“لیکن زری …..”
۔
“چھوڑو نا آج ویسے بھی آخری دن ہے کیا کہے گئے مجھے وہ “
۔
“بس پھر دعا کرو سر کلاس ہی نہ لیں “
۔
فضہ کی اس بات پہ ایک دم اُس کا دل کٹا ۔ وہ جو اُن کی ایک جھلک کے لیے پوری پوری رات سوتی نہیں ہے اُس کے سامنے کوئی یہ دعا مانگیں خدا آج اسکو اُسکا دیدار نہ نصیب فرما تو اُس کے دل پہ کیا گزرے گی …… اُس نے آنکھوں سے بہنے والے آنسوں اپنے اندر ضبط کیے ۔اور فضہ کے کندھے پہ سر رکھ کے آنکھیں بند کر لیں !!!!!!
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اسلام علیکم زرمینہ خان “
۔
زرمینہ اُس دِن کے بعد روز لائبریری جایا کرتی۔ روز اُس لڑکی کو ڈھونڈتی ۔ مگر وُہ کہیں نظر نہیں آتی ۔۔۔وہ روز اُس لڑکی سے ملنے کی دعا مانگتی تھی۔ جس کے پاس بیٹھ کے اُس کو سکون ملتا تھا۔ عاشق رسول کی محفلوں میں تو ایسے ہی سکون ہوتا ہے۔ اُن سے محبت کرنے والوں سے ایک الگ ہے مہک آتی ہے ۔وہ مہک اُس کو اُس لڑکی سے آئی تھی ۔۔۔
۔
“وعلیکم سلام “
۔
اُس کی آنکھوں میں ایک دم چمک آئی اور وہ اٹھ کے کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔
۔
“کیسی ہیں آپ زرمینہ “
اُس نے اُسی محبت اور اپنائیت سے پوچھا ، جس سے اُس نے پہلی بار پوچھا تھا !!!!
۔
میں ٹھیک ہوں کرم ہے خدا کا آپ ٹھیک ہیں؟
وہ آج بہت خوش تھی اُس کا اتنے دونوں کا انتظار ختم ہوا تھا ۔آج وہ لڑکی اُس کے پاس تھی جس کو ڈھونڈنے وہ روز لائبریری آیا کرتی تھی ۔۔۔اُس کا دل چاہا وہ اُس کو گلے سے لگا لے ۔مگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی ۔وہ کیا سوچے گی ایک ہی دِن کی ملاقات سے کوئی اتنا فری ہو جاتا ہے ۔۔۔۔
۔
“میں ٹھیک ہوں اللہ پاک کا بہت بہت شکر ہے “
۔
اُس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اُس کے پاس بیٹھ گئی !!!!
۔
“کتنی سی کتاب پڑھ لی آپ نے زرمینہ ؟ “
۔
اُس نے محبت سے پوچھتے ہوئے کہا !!!!
۔
اُس کے اس سوال پہ زرمینہ کا سر جُھک گیا۔اُس نے تو اُس دِن کے بعد کچھ بھی نہیں پڑھا۔ وہ تو رات دِن بس ایک ہی انسان کو سوچتی ہے۔ ۔۔۔۔۔وہ ایک شخص اُس کی سوچوں پر قابض ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔وہ تو اب نماز میں بھی پہلے کی طرح دہیان نہیں رکھ پاتی ۔۔۔۔اُس کے دل میں ایک دم ندامت آئی۔ آنکھوں سے اشک رواں ہی ہونے والے تھے کہ زرمینہ نے ایک دم رحم کی دعا مانگی۔ اور اُس کو ابھی کچھ لحمے مانگے جانے والا رحم مل بھی گیا۔ ۔۔اُس کے آنسوں آنکھوں کے راستے سے نکلنے کے بجائے دل کے راستے سے بہنے لگے۔ ۔۔
۔
آنسوں جو آنکھ سے نکلیں کم تکلیف دیتے ہیں اور جب آنسوں دل کے راستے سے نکلیں ۔وہ تکلیف وہ ازیت بس وہی محسوس کر سکتا ہے جو اس درد میں ہو !!!
۔
“عائشہ مجھے آپ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں بہت ساری باتیں پوچھنی ہیں ۔”
۔
اُس نے نظریں جھکائے ہوئے کہا ۔ وہ نہیں چاہتی تھی اُس کی آنکھوں کی نمی کو کوئی دیکھے ۔ اُس کی راتوں کا حال کسی کے سامنے عیاں ہو۔
۔
“آپ ٹھیک تو ہیں نا زرمینہ “
۔اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بہت غور سے پوچھا۔ پہلی بار والی زرمینہ میں اور آج کی زرمینہ میں بہت فرق تھا ۔۔وہ زرمینہ اویس قرنی کی بات کر رہی تھی۔ عاشق رسول کی بات کر رہی تھی۔ اور آج جو زرمینہ اُس کے سامنے بیٹھی تھی۔ وہ سوچوں میں گم تھی۔ اپنی سوچیں چھپا رہی تھی۔ ۔
۔
“جی میں ٹھیک ہوں”
۔
اُس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اُس کو دیکھا اور آرام سے بولی !!!!!!
۔
عائشہ اگر ہماری نمازیں پہلے کے جیسے خالص نا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ ہم سے ناراض ہو گیا ہے ؟
۔
اُس نے آنسوں ضبط کیے جُھکی نظروں کے ساتھ اُس سے پوچھا جو اُس کو پیار سے دیکھے جا رہی تھی !!!!!
۔
نہیں زرمینہ اللہ اپنے بندوں سے کھبی ناراض نہیں ہوتا۔ جب وہ ناراض ہوتا ہے نا تو سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔ ہم اُس کے سامنے سجدہ کر ہی نہیں سکتے۔ پتا ہے زرمینہ یہ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے نا ، اور کہتے ہیں ہم نماز نہیں پڑھتے ۔۔۔۔مجھے بہت عجیب لگتا ہے۔ یہ لوگ نماز نہیں پڑھتے ؟ یہ ہوتے کون ہیں نا پڑھنے والے۔ ۔۔ان کی اتنی اوقات ہے کہ جس چیز کا حکم وہ رب العالمین دے اور یہ لوگ نا ادا کریں۔۔۔۔۔پتا ہے زرمینہ خدا ان کو اپنے سامنے بلاتا ہی نہیں ہے۔ وہ ان سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔ اور یہ بد نصیب بولتے ہیں ہم نماز نہیں پڑھتے ۔۔۔۔۔۔۔میں کہتی ہوں خدا کے رُوبرو کھڑے ہونا ہی بہت ہوتا ہے۔ کتنے ہی لوگ میں نے دیکھے ہیں جو یہ کہے کر نماز چھوڑ دیتے ہیں ہم جب نماز پڑھنے لگتے ہیں تو ہمارے دل میں خیالات آتے ہیں ہم نماز میں توجہ نہیں دے سکتے۔ ۔۔۔کتنے بد نصیب ہوتے ہیں نا ایسے لوگ ۔۔۔محبوب کب کہتا ہے تم لوگ میرے سامنے نا کھڑے ہو ۔۔صرف اس وجہ سے کہ تم لوگوں کی توجہ کہیں اور ہوتی ہے۔ ۔۔۔
۔
۔۔
دیکھو زرمینہ ہم یہاں اس یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں ۔۔۔۔ہم بلکل دل اور توجہ سے نہیں پڑھیں۔ مگر ہم ریگولر ہوں ۔۔۔۔ہم اپنے ٹیچرز کی نظر میں تو آ جاتے ہیں نا کہ ہم حاضر ہیں ۔اسی طرح ہم نماز میں کھڑے ہوتے ہیں محبوب کی نظروں میں ہماری حاضری تو لگ جاتی ہے نا کہ ہم محبوب کے سامنے کھڑے ہوئے تھے!!!!!!!
۔
وہ بولتی چلی جا رہی تھی اور زرمینہ کے دل میں ایک سکون اُترتا جا رہا تھا …..
۔
اور دیکھو نا زرمینہ یہ بات تو ہمارے آقا جان علیہ السلام نے خود کہی ہے کہ
“جو اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو اللہ کا ذکر نہیں کرتا انکی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے “
۔
“اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے یہ سوچ کے نہیں چھوڑنا چاہیے کہ ہم توجہ نہیں دے پاتے ۔۔۔۔جب ہم شروع کرتے ہیں نا دل خود بخود اُس ہستی کے ذکر میں جھومتا چلا جاتا ہے اور ہمیں سمجھ بھی نہیں آتی کیسے مل گیا ہے یہ سکون”
۔
وہ مسکراتے ہوئے بس بولی جا رہی تھی اور سننے والی بغیر پلکیں چپکے اُس کو سنتی جا رہی تھی !!!!!
۔
محبوب کب ناراض ہوتا ہے ؟ وہ تو بس پاس بلانا چاہتا ہے اپنے نزدیک کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔ہم اُس کے نزدیک اُس وقت تک نہیں ہو سکتے جب تک ہم کسی درد میں نا ہوں ۔جتنا درد ہوتا ہے اتنی ہی اُس کی قُربت میسر ہوتی ہے۔ جو سمجھ جاتے ہیں وہ اور نزدیک ہوتے ہیں اور جو بد بخت ہوتے ہیں وہ دُور ہوتے جاتے ہیں ۔اور پھر کہتے ہیں ہم نماز نہیں پڑھتے …..
۔
“عائشہ مجھے آپ کا کانٹیکٹ نمبر مل سکتا ہے ؟ وہ آج چھٹیاں ہو رہی ہیں نا تو میں چاہتی ہُوں میری آپ سے بات ہوتی رہے”
۔
اُس نے نم آنکھوں سے بغیر دیکھے اُس سے اُس کا نمبر مانگا !!!
۔
“جی جی کیوں نہیں آپ لے لیں میرا نمبر جب بھی آپ نے بات کرنی ہوئی تو ضرور کیجیے گا میں حاضر ہوں”
۔
وہی نرم انداز وہی احترام جو اُس کے اندر تھا وہ باہر بھی ظاہر کرتی تھی ۔وہ جنت کے پتے کی عائشہ گل تھی اور وہ ثابت بھی کرتی تھی…..
۔
“آپ کا بہت شکریہ عائشہ”
نمبر لیتے ہوئے اُس نے شکریہ ادا کیا اور وہاں سے اٹھنے لگی ہی تھی کے عائشہ نے اُس کو بیٹھے بیٹھے گلے سے لگا لیا ……اور وہ آنکھیں بند کئے اُس کی مہک کو اپنے اندر اُتارنے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
وہ کلاس میں آیا اور زرمینہ کا دل چاہ وہ بھاگ جائے یہاں سے کہیں دُور چلی جائے جہاں اسکو وجدان حسین شاہ کی ہوا بھی نہ لگے ۔۔۔۔۔جہاں اُس کا نام بھی کوئی اُس کے سامنے نہ لے ۔۔۔۔۔
۔
کیا یہ وہ شخص ہےجو مجھے پوری پوری رات جگانے کی سکت رکھتا ہے ، اس کو تو پتا بھی نہیں اس کی وجہ سے کسی گھر میں ایک زرمینہ گل بھی ہے جو پوری رات اُس کو ایک نظر دیکھنے کے لیے جاگتی ہے صبح ہونے کا انتظار کرتی ہے ۔۔۔۔۔اور جب وہ اُس کے سامنے آتا ہے اُس سے دور جانا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آتی وجدان کیوں سوار ہو یوں میرے اندر تم ۔نا میں کسی کو بتا سکتی ہوں نا میں اب برداشت کر سکتی ہوں ۔دور چلے جاؤ مجھ سے اتنا دور کے تمہاری ہوا بھی نا لگے سات پردوں میں رہنے والی کو تم برباد کر رہے ہو!!!!!!!
۔
وہ اُس کو دیکھتے ہوئے کرب سے یہ سب سوچتی رہی اور وہ مسکراتا ہوا کلاس میں باتیں کرنے لگا۔!!!!!
۔
“مجھے کیوں نہیں اچھا لگتا اُن کا کسی اور سے بات کرنا جیسے وہ میرے ٹیچر ہیں ویسے سب کے بھی تو ہیں تو پھر مجھے کیوں نہیں پسند کوئی اُن سے بات کرے، کوئی اُنکو دیکھے۔۔۔۔۔
یا اللہ یہ مجھے کیا ہو رہا ہے۔ کیوں کر رہی ہوں میں ایسا کیوں میں ہانیہ لوگوں کی لسٹ میں آ گئی ہوں ۔۔۔۔۔مجھے تو نفرت تھی اُن لڑکیوں سے جو سر کے پیچھے پیچھے پھیرتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔جو اُن کی وجہ سے آپس میں حسد رکھتی تھیں ۔۔۔آج میں ؟ میں اُن لڑکیوں میں؟ نہیں کھبی نہیں میں نہیں ہوں اُن لڑکیوں میں ۔یہ میں کیا سوچتی ہوں ۔میں کیوں سوچتی ہُوں ایسے ۔یہ مجھے کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔”
۔
“وہ جو کلاس میں سب کے سامنے ہس کے باتیں کر تھا تھا اُس کو کیا پتا تھا کسی کو درد ہو رہا ہے کوئی تکلیف سے دو چار ہو رہا ہے ۔اور جو اس درد سے گزر رہی تھی معلوم تو اُس کو بھی نہیں تھا اُس کو درد کس بات کا ہے اور کدھر ہے”
۔
۔
آج زرمینہ کی پریزنٹیشن تھی وہ اچھے سے جانتا تھا ، اُس نے زرمینہ کا نام لیے بغیر بولا آج جس کی پریزنٹیشن ہے وہ آ کے دے دیں !!!!
۔
“سر آج تو زرمینہ خان کی پریزنٹیشن ہے “
۔
سامنے بیٹھے مدثر نے زرمینہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اور سامنے کھڑے شخص کو اُس کا زرمینہ خان کہنا گولی لگا ۔کوئی اُس کا نام لے بھی کیوں اپنی زبان سے !!!!
۔
“مدثر میں نے آپ سے پوچھا ہے؟”
اُس کا انداز اور لہجہ اُس کا نام لینے پہ اُس کو پوری پوری سزا دے رہا تھا تا کہ آئندہ وہ بولنے کے قابل ہی نا رہے ۔۔۔۔۔
۔
“نو سر مگر آپ نے پوچھا تو میں نے بتا دیا”
۔
وہ شرمندہ سا نظریں جھکائے بول رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“آئندہ میں جتنا پوچھوں اتنا ہی بولنا نا اُس سے زیادہ نا اُس سے کم۔اور جس سے پوچھوں بس وہی بولے باقی اپنا منہ بند رکھا کریں “
۔
اُس نے چوبتی ہوئی نظروں سے مدثر کو دیکھا جو کب سے نظریں جھکائے چپ سا سن رہا تھا !!!!
۔
۔
“زری اب کیا ہو گا سر تو بہت غصے میں ہیں “
۔
فضہ نے سامنے پڑی کاپی پے لکھا اور زرمینہ کو بازو سے ہلا کے آنکھوں کے اشارے سے پڑھنے کا کہا !!!!!!
۔
“میں نے نہیں دینی پھر بھی پریزنٹیشن “
۔
اُس نے ویسے ہی کاپی پہ لکھا اور اُس کو دیکھنے لگی جس کو دیکھنے کے لیے وہ پوری پوری رات جاگتی ہے۔ ۔۔۔اب وہ ایک مہینہ اُس کو میسر نہیں ہو گا ۔وہ کیسے رہے گئی۔ ؟ کیا وہ اب ایک مہینہ یوں ہی جاگ کے گزرے گی ؟ کیا وہ زندہ رہے لے گی ؟!!!!!!!
۔۔
وہ اُس کو دیکھتے ہوئے دل پہ آنسوں لیے سوچنے لگی ۔۔۔۔
۔
“آپ آ کے اپنی پریزنٹیشن دے دیں “
اُس نے اُسی لہجے میں بغیر اُس کو دیکھے زرمینہ کو کہا اور خود موبائل کو دیکھنے لگ گیا !!!!!
۔
“سر مجھے پریزنٹیشن نہیں تیار “
اُس نے سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے ہوئے کہا جس نے اب بھی موبائل سے نظریں نہیں ہٹائیں تھیں ۔ اُس کا موبائل پہ کچھ ٹائپ کرتا ہاتھ روکا ۔اور اُس نے ایک لمحے کو اُس حجاب والی کو دیکھا جو اُس کو ہی دیکھ رہی تھی۔ ایک پل کے لیے دونوں کی نظریں ملیں ۔اور دونوں نے اُسی وقت ایک ساتھ نظریں جُھکا لیں ۔۔۔۔۔
۔
“کیوں نہیں تیار آپ کو؟”
اُس نے سخت لہجے کے ساتھ اُس سے پوچھا ۔۔۔۔اور ماتھے پہ بل ڈالے ۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کوئی یہ سمجھے کہ سر زرمینہ کو فیوریٹ اضم کر رہے ہیں ۔نا چاہتے ہوئے بھی اُس کو اپنا لہجہ سخت کرنا پڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
“سر سوری “
۔
اُس نے اُس کی طرف بغیر دیکھے موبائل اٹھایا اور “ایکیوز می” کہے کر کلاس سے باہر چلا گیا ۔جیسے اُس کو کسی ضروری کام سے جانا ہو !!!!!
۔
“سر کو کیا ہوا۔ پہلے تو کھبی ایسے کلاس چھوڑ کر نہیں گے پھِر آج ایسا کیا ہو گیا کے چلے گے “
۔
ہانیہ نے منہ بناتے ہوئے کلاس میں کہا !!!!!
۔
“کوئی ضروری کام ہو گا نا آ جائیں گے”
۔
وہ جو اُس کی ہر بات کا جواب دینا فرض سمجھتا تھا آج کھدر بولے بغیر رہے سکتا تھا !!!!!
۔
“خان صاحب نے آپ کو پریزنٹیشن دینے سے بچایا ہے “
۔
فضہ نے مسکراتے ہوئے زرمینہ کے کان میں کہا !!!!!
۔
“آپ کو کچھ زیادہ ہی نہیں الہام ہونے لگ پڑے “
۔
زرمینہ نے آنکھیں نکلتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا !!!!!
۔
“بھئی ہمیں تو اور بھی بہت سارے الہام ہو رہے ہیں”
۔فضہ نے شوخے سے انداز میں اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !!!!
۔
“کیا مطلب کیسے الہام؟”
اُس کا دل ایک دم دھڑکا ، اُس کو لگا اُس کی چوری پکڑی گی ہے۔ اُس نے سنجیدہ سے رویے میں اُس سے پوچھا !!!!!
۔
“ارے ارے آپ تو سیریز ہی ہو گئی ہیں مذاق کر رہی تھی میں”
فضہ نے اُس کی آنکھوں کے بدلتے رنگ کو دیکھ لیا تھا۔ مگر اُن کی دوستی کا اصول تھا جب تک ایک بتائے گا نہیں تو دوسرا پوچھے گا نہیں .!!
۔
“مر جاؤ تم فضہ “
اُنکی بات کا اکثر اختتام اسی جملے پہ ہوتا تھا !!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
محبت کون خور کرتا ہے ؟ کون کہتا ہے اُس کو دل کے زخم ملیں کون کہتا ہے اُس زخم اُس کے لیے ناسور بنیں؟ کون کہتا ہے وہ ایک رات میں ہزار بار مرے ۔۔۔کون بن مانگے موت مانگتا ہے؟ کون موت سے بڑی ازیت چاہتا ہے ۔۔۔۔ موت تو ایک بار آتی ہے اور محبت میں تو انسان پل پل مرتا ہے ۔۔۔۔
“اگر وہ محبت یکطرفہ ہو تو جناب پھر تو سلام کے بعد عاشق کا حال ہی نہ پوچھیے “
۔
۔
یہ محبت تو وہ الہام ہے جو ہو خود ہی ہو جاتا ہے ، محبت پہ کب کس کا اختیار ہے ؟ اگر یہ اختیار میں ہو تو کون کرتا ہے؟ کون اپنی انا کا قتل کرتا ہے ؟ کون بد نصیب ہو گا جو جان بھوج کے یہ مرض مانگے گا ۔
۔
“انا والے کہاں محبت کا ہو جانا مانگتے ہیں؟”
۔
زرمینہ نے کب محبت مانگی تھی ، اُس نے کب کہا تھا اُس کو بھی یہ مرض لگ جائے ۔۔۔اُس نے کب رمضان کی راتوں میں تہجد کے وقت اُس کو مانگا تھا؟ وہ تو اُس کا بھول جانا مانگتی تھی ، وہ کب اُس کو مانگتی تھی ؟ جب ایک چیز انسان کے اختیار میں ہی نہیں ہے وہ بے بس ہے اُس کے سامنے تو وہ کیا کرے۔ ۔۔کدھر جائے، کس کو بولے ۔۔۔۔۔کس کو بتائے کے وہ ہار گیا ہے وہ ایک شخص کے لیے ہار گیا ہے ؟
۔
وہ زمین پہ بیٹھے کانپ رہی تھی آنکھوں سے اشک ندی کی صورت بہتے جا رہے تھے۔ ۔۔۔
۔
وہ کیوں ایک نا محرم کے لیے ایسے رو رہی ہے۔ آخر کیوں ؟ کیا اب اُس کی سانسیں اُس کے ایک دیدار کی محتاج ہو گئی ہیں ؟ کیا اب وہ اُس کو نظر نہیں آئے گا تو سانس نہیں لے سکے گی ؟ میں ایسے کیسے ہار سکتی ہُوں؟ ۔
۔
“میں ہار گی ہوں ؟ مگر کس سے اور کیوں؟”
۔
اُس نے اپنی اندر کی سوچوں کو اپنے لبوں پہ لایا !!!
۔
“میں ہار گی ہوں, ہاں میں ہار گی ہوں”
۔
یہ کہتے ہوئے وہ اونچا اونچا رونے لگی۔ اُس کو تو پتا بھی نہیں تھا ہار جانا کیا ہوتا ہے ؟ اُس کو تو یہ بھی نہیں پتا تھا وہ کس چیز میں ہاری ہے ؟ کس سے ہاری ہے اور کیوں؟
۔
“زری “
وہ ویسے ہی زمین پہ بیٹھی تھی اُس کو آواز آئی ، وہ پیچھے مڑی ، یہ آواز تو اُس کی ماں کی تھی۔ جو بت بنے یہ سن رہی تھی ۔۔۔۔۔۔”میں ہار گی ہوں”…..
۔
“اماں آپ “
اُس نے آنسوں صاف کیے اور وہی پہ بیٹھے بیٹھے ماں کو دیکھنے لگی ، جو بے جان سی کھڑی تھی۔
۔
“میری بیٹی بھی ہار سکتی ہے کسی سے؟”
۔
وہ اُس کے پاس آئیں اُس کے پاس زمین پہ بیٹھیں ۔ اُس کی آنکھوں کی سُرخی اُنکا دل چیر رہی تھی !!!!!
۔
“اماں آپ کی بیٹی خود سے ہار گی ہے “
۔
ماں کی گود میں سر رکھتے ہی وہ اونچا اونچا رونے لگی۔ وہ وہ والے بھی آنسوں بہانے لگی جو اُس نے ضبط کر رکھے تھے ۔۔
۔
زرمینہ تمھیں پتا ہے مجھے بیٹی کا کتنا شوق تھا ۔میں نے تمہاری پیدائش سے پہلے کتنی مانتی مانگیں تھی ۔کتنا ارمان تھا مجھے میری بیٹی ہو۔
۔
وہ اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے آنکھوں میں آنسوں لیے بولے جا رہی تھیں!!!!
۔
پتا ہے زرمینہ میں نے کیا سوچا تھا۔
۔
میری بیٹی ہوئی
تو میں اسے سکھاؤں گی کہ محبت، احترام یا لحاظ کسی بھی بھرم میں اپنی توہین برداشت نہ کرے.
اسے بتاؤں گی کہ وہ شخص واجب القتل ہے جو تمہاری حرمت کا پاسدار نہیں.
اور اگر وہ کہے کہ خون حرام ہے؟
تو میں اسے بتاؤں گی کہ دوسرے مسلمان کی عزت بھی اتنی ہی حرام ہے.
وہ عزت محض جسم کو ان چھوا رکھنا نہیں ہے.
وہ عزت ان کے الفاظ اور نگاہوں میں نہ ہو تو بھی وہ واجب القتل ہیں.
میں اسے بتاؤں گی اس پر سب سے بڑھ کر اس کا حق ہے، اور حق جتانے والوں کو رد کرنا بھی اس کا حق ہے.
اسے بتاؤں گی کہ اس پر محبت تب تک جچتی ہے جب تک وہ اس کی قوت ہو، اور اگر وہ اس کی کمزوری بننے لگے تو اسے نذرِ آتش کر دے.
میں اسے بتاؤں گی کہ اگر کوئی تمہاری طرف ہاتھ بڑھائے، تو اس کا ہاتھ کاٹ دو!
کوئی میلی نگاہ سے دیکھے، تو آنکھیں نوچ لو!
کوئی اپنے الفاظ سے توہین کرے، تو زبان کھینچ لو!
کوئی برا خیال کرے، تو اسے اتنی ذلت دو کہ پاگل ہو جائے!
میں اسے سکھاؤ گی کہ اگر اسے اپنے کردار کی گواہی کو کوئی نہ ملے تو اسے گھبرانا نہیں ہے، بلکہ پھر معجزے کا انتظار کرنا ہے…. ویسے ہی جیسے اماں عائشہ صدیقہ ع نے کیا اور اللہ نے قرآن کے ذریعے گواہی دی.
اسے سکھاؤں گی کہ اس کا احترام پر کتنا حق ہے، اسے بتاؤں گی ایک لڑکی اپنے احترام پر کسی جذبے کو فوقیت نہیں دے سکتی.
میں اسے پرنسز نہیں شیرنی بناؤں گی کہ اس کے خلاف چالیں چلنے والے اور حاسدین بس بھیڑیے اور کمتر جانور ہیں، اور ایک شیرنی کو بھیڑیوں کا کوئی خوف نہیں ہوتا.
میں اسے سکھاؤں گی کہ اپنی پھول سی نزاکت کیسے قائم رکھنی ہے، اور یہ بھی سکھاؤں گی کہ جب کوئی اس پر لفظوں کے تیر چلائے تو اس پر اسے غرانا کیسے ہے.
میں اسے بتاؤں گی کہ وہ شیرنی ہے، اور یہ جنگل اس کا ہے…..
جو اسے رانی نہ مانے اسے بے دخل کر دیا جائے.
اور میری وہ بیٹی جس کو میں نے یہ سب سکھیا بھی ہے۔ آج زمین پہ بیٹھے بول رہی ہے میں ہار گی ہوں؟
۔
ماں کی آنکھوں سے آنسوں گرا اور اُس کی آنکھوں پہ روکا ، جو ماں کی گود میں سر رکھے پڑی تھی !!!!!!
۔
۔
“اماں مجھے معاف کر دیں “
اُس نے روتے ہوئے منہ ماں کی گود میں چھپا لیا اور معافی مانگنے لگی۔ اُس غلطی کی جو اُس نے کی ہی نہیں تھی ۔اُس غلطی کی جس کا اُس کو علم ہی نہیں تھا !!!!!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: