Hijab Novel By Amina Khan – Episode 18

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 18

–**–**–

۔
“فضہ مجھے گروپ کا لنک دو “
اُس نے بے بسی سے اُس گروپ کا لنک مانگا جس میں وجدان تھا ….
“لیکن زری اُس میں تو سب ہیں”
دوسری طرف سے ایک حیرت سے بھری ہوئی آواز آئی ۔۔۔۔۔
۔
“میں نہیں بات کروں گی نہ اُدھر تم مجھے لینک بجھ دو بس “
۔
“کیا ہوا ہے زری “
فضہ نے کھبی اُس کا یہ لہجہ نہیں سنا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی آخر ہوا کیا ہے۔ کوئی ایک دم اپنے اندر اتنی بے بسی کیسے لا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
“کس کو “
اُس نے انجان بن کے اُس سے پوچھا ، جو دوسری طرف کال پہ کچھ اُلجی ہوئی تھی ۔۔
۔
“آپ کو زرمینہ صاحبہ”
۔
“مجھے کیا ہونا ہے بھلا کچھ بھی نہیں ہوا “.
“بدل گی ہو تم”
“میں بدل گی ؟ کیسے؟”
تم تو ہمیشہ اتنا ہس کے بات کرتی تھی آج ایک دفعہ بھی تم نہیں ہسی . کیا ہوا ہے زرمینہ ؟ اتنا چہکنے والی زرمینہ ایک دم سے کیسے چپ ہو سکتی ہے ۔۔۔کچھ تو ہوا ہے؟
۔
“کچھ نہیں ہوا فضہ پریشان نا ہو”
“زرمینہ تم کب سے مجھ سے باتیں چھپناے لگی ہو “
۔
“کیا چھپایا ہے میں نے؟”
۔
“کیا ہوا ہے تمھیں ؟ “
۔
“کچھ نہیں فضہ “
اب کی بار اُس کی آواز میں بے بسی کے ساتھ ساتھ جھنجلاہٹ بھی صاف نمایاں تھی ۔۔۔۔وہ جو اُس کو خود نہیں پتا وہ اوروں کو کیا بتائے !!
۔
“فضہ مجھے امی بولا رہی ہیں میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں ۔۔۔۔مجھے گروپ کا لنک ابھی ہی بھیجنا”
۔
“میں بھیجتی ہُوں زری اپنا خیال رکھنا “
خدا حافظ !!!
دونوں طرف سے فون بند ہوا ، وہ وہیں صوفے پہ بیٹھی سوچنے لگی ۔۔۔۔کیا اب اُس کے اندر کی کیفیت باہر بھی نظر آنے لگی ہے ۔۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ ۔۔۔دادی اماں بھی تو پوچھ رہی تھیں ، کیا ہو گیا ہے مجھے۔
۔
وہ کھڑی ہوئی اور شیشے کے سامنے آئی ، اُس نے خود کو دیکھا اپنی آنکھوں کی محرومی اُس کو صاف نظر آئی ۔ آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے اُس کے چہرے کی رونق ختم کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔اُس نے شیشے میں دیکھ کے مسکرانا چاہا ۔۔۔۔مگر اُس کے منہ پہ مسکراہٹ سج ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔۔آنکھوں کی محرومی کے بعد اُس نے اپنا گہرا پڑتا ہوا ڈمپل دیکھا۔ جو ہلکی سی مسکان پہ بھی پڑ جاتا تھا۔اب تو اُس ڈمپل کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ اُس نے پھر مسکرانے کی کوشش کی ، اُس کو اپنے پڑتے ڈمپل سے بہت محبت تھی۔ ۔۔۔مگر اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ نہ آ سکی۔ ۔۔۔اب وہ ہسنے کی کوشش کرنے لگی۔ وہ ہسی اونچا اونچا ہسی ۔۔۔دو تین منٹ وہ اونچی اونچی کھوکھلی ہسی ہستی رہی۔وہ اتنا ہسی کہ اُس کے کمرے کی دیواروں نے بھی سنا ۔۔۔۔۔پھر اُس نے شیشے کو دیکھا۔۔۔۔۔۔خود کو دیکھتے ہی وہ ایک قدم پیچھے ہوئی وہ تو ہس رہی تھی یہ آنسوں کیسے ہیں ؟ اُس کا چہرہ آنسوں سے کیسے بھیگ سکتا ہے۔
“۔ابھی تو ہس رہی تھی میں “۔
۔
اُس نے اپنا چہرہ دیکھتے ہوئے خود سے بولا اور جلدی جلدی آنسوں صاف کیے۔
۔
“نہیں نہیں مجھے نہیں رونا ۔۔میں کیوں رو رہی ہوں “
۔
اُس نے اب موبائل اٹھایا فضہ کا میسیج آیا تھا اور میسیج میں وہ لینک ……
۔
اُس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ میسیج کھولا۔ لینک اوپن کیا ۔۔۔۔اور گروپ جوائن ہوا …..
۔
اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔۔اُس نے گروپ کے سارے میمبر دیکھنا شروع کیے ۔۔۔۔وہ تو بس ایک نام کو دیکھنا چاہتی تھی وہ ایک نام جس نے اُس کی دنیا بدل کر رکھ دی تھی۔۔۔۔۔۔وہ ایک نام جو اُس سے خود بخود لکھا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
۔
اسکرول کرتے ہوئے اُس کی نظر اُس نام پہ پڑی ۔۔۔۔۔اُس کا ہاتھ وہیں روکا۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں چمک کے بجائے آنسوں نکلے ۔۔۔۔۔موبائل منہ کے پاس ہوا اور لبوں نے بے اختیار اُس نام کو چوما ۔۔۔۔ جو موبائل کی سکرین پہ چمک رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَهُوَ اللّٰهُ فِى السَّمٰوٰتِ وَفِى الۡاَرۡضِ‌ؕ يَعۡلَمُ سِرَّكُمۡ وَ جَهۡرَكُمۡ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُوۡنَ ۞
ترجمہ:
وہی ایک خدا آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمہارے کھلے اور چھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے
القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام
۔وہ روز ایک آیت قرآن پڑھ کے اُس کو سمجھا کرتا تھا کہ اُس میں اللہ پاک نے کیا کہا ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ جو بھی پڑھتا اُس کو لگتا اللہ پاک نے یہ اُسی کے لیے لکھا تھا اسی کے لیے یہ آیت اُتری ہے ۔
۔
اُس نے قرآن پاک کو بند کیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کے سر گٹھنوں پہ رکھ دیا ۔۔۔۔اللہ پاک آپ تو میرے دل کا حال جانتے ہیں ۔۔۔۔آپ تو رب العالمین ہیں ۔۔۔۔۔آپ کو تو سب پتا ہے ۔۔۔۔آپ کو تو میرا ماضی میرا ہال سب پتا ہے۔۔۔۔میں کیا تھا میں کیا ہُوں یہ بھی پتا ہے ۔۔۔۔۔میں اُس لڑکی کے قابل نہیں ہُوں اللہ ۔۔میں اُس پاکیزہ لڑکی کے قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔میرے دل میں اُس کی محبت کیسے آ سکتی ہے ۔۔۔۔۔میں گناہگار اُس سے کیسے محبت کر سکتا ہوں؟۔۔۔۔۔
۔
اے اللہ آج میں آپ گھر میں بیٹھ کے آپ سے دو چیزیں مانگتا ہوں ۔ جو بہتر لگے بس وہی کرنا ۔۔۔۔۔میں صبر کروں گا۔ یا اللہ میں تیرا ہر فیصلہ قبول کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔
۔
یا اللہ یا تو اُس لڑکی کو میرا نصیب بنا دے…… یا میرے دل سے اُس کی محبت کو بلکل نکال دے ۔۔۔۔مجھے اُس کا خیال تک نا آئے ۔۔۔۔
۔
ہاتھ اٹھائے ہوئے آنسوؤں کا ڈھیر لیے وہ بس مانگتا جا رہا تھا !!!!
۔
“کیسا مرد ہوں میں جو ایک عورت کے نام پہ آنسوں بہاتا ہوں ۔۔۔کتنا گناہگار ہوں میں خدا کے گھر میں بیٹھ کے ایک عورت کو مانگتا ہوں۔۔۔۔۔۔کتنا بد نصیب ہوں میں جس کے لیے میں دِن رات تڑپتا ہوں اُس کو خبر ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ “
۔
اُس نے اب اپنا منہ چھپا لیا سر کو پھر گھٹنوں پہ رکھ لیا اور پیچھے ہو کے ٹیک لگا لی۔۔۔۔۔۔
۔
“وجدان “
“جی مولوی صاحب “
اُس نے اپنا سر اٹھایا اور سامنے مولوی صاحب کو بیٹھا دیکھا۔۔۔۔۔
۔
“کوئی پریشانی ہے “
مولوی صاحب نے اُس کی آنکھوں کی سرخی کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔اس وقت اُس کو کوئی بھی دیکھتا تو وہ اندازہ لگا لیتا کہ وہ رویا ہے۔۔۔۔۔۔۔
۔
“نہیں مولوی صاحب کوئی پریشانی نہیں ہے “
اب کی بار اُس نے ٹیک ہٹائی اور سر کو جھکا لیا ۔۔۔۔۔
۔
“وجدان خود سے لڑ رہے ہو ؟”
مولوی صاحب نے ایک بار پھر پوچھا ……
۔
“جی ؟”
مولوی صاحب کو کیسے پتا میں خود سے لڑ رہا ہُوں۔۔۔۔۔اُس نے اُن سے پھر پوچھا ۔۔۔۔۔
۔
“وجدان پتا ہے دنیا کا سب سے مشکل جہاد جو ہوتا ہے نا وہ جہاد بن نفس کا ہوتا ہے .وہ دیکھتا ہے ہم کتنا خود پہ قابو پاتے ہیں ۔کتنا ہم خود کی ہی خواہشوں کے سامنے ہار مان جاتے ہیں۔
۔
پتا ہے اللہ کے نزدیک سب سے افضل جہاد ، جہاد بن نفس کا ہوتا ہے “
۔
“مولوی صاحب اگر انسان لڑتے لڑتے تھک جائے تو کیا کرے ؟”
اُس نے مولوی صاحب کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔۔
۔
“تھک جائے تو اُس ذات کی طرف رجوع کرے جس نے اُس کو پیدا کیا ہے ، جو ہر چیز پر قادر ہے ۔۔۔اُس سے مانگو وجدان وہ ضرور دے گا ، وہ کھبی کسی کے پھیلاۓ ہوئے ہاتھوں کو خالی نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔۔”
۔
“لیکن مولوی صاحب ہم جو چیز مانگ رہے ہوں ہم اُس کے قابل ہی نا ہوں تو پھر کیا کریں”
۔
اب کی بار اُس نے نظریں جُھکا لیں اور ندامت سے پوچھا !!!
۔
خدا یہ نہیں دیکھتا ہم لوگ کیا مانگ رہے ہیں بس وہ تو یہ دیکھتا ہے ہم کتنی شدت سے مانگ رہے ہیں ، ہماری دعا میں کتنی تڑپ ہے۔ پتا ہے وجدان سچے دل سے مانگی ہوئی دعا فرش سے عرش تک پہنچ کے رہتی ہے ۔۔۔۔۔بیشک وقت لگتا ہے مگر دعا کا قبول ہونا شرط ہے ۔۔۔۔۔
۔
“مولوی صاحب کیا محبت کرنا جائز ہے؟ “
۔
اُس نے آنکھوں میں آتی نمی کو اپنے اندر اُتارا اور سر کو مزید جُھکا لیا !!!
۔
محبت اور نا جائز؟ وجدان محبت کھبی نا جائز نہیں ہو سکتی۔ محبت ناجائز ہوتی تو خدا اپنے محبوب سے محبت نا کرتا۔۔۔۔۔۔اُس کی محبت میں یہ زمین آسمان نا بناتا ۔۔۔۔اُس کے دیدار کے لیے اُس کو اپنے پاس نا بلاتا ۔۔۔۔۔۔۔محبت کھبی ناجائز نہیں ہو سکتی۔ ۔۔ بس محبت کرنے کا طریقہ جائز اور نا جائز ہوتا ہے ۔۔۔۔۔محبت تو بہت اونچا جذبہ ہے ۔۔۔۔۔یہ ہر ایک کو نہیں ملتا ۔۔۔۔۔اس کے لیے بہت مخصوص دل چون لیے جاتے ہیں ۔۔۔۔پھر اُن کو محبت ایک الہام کی صورت میں ملتی ہے ۔۔۔۔۔۔آج کل کے جو لڑکے لڑکیاں محبت کے نام پہ خود کو اور اس پاک جذبے کو رسواء کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔یہ در حقیقت اُس محبت کو بد نام کرتے ہیں ۔ جو لوگوں کو الہام میں ملتی ہے ۔۔۔۔
۔
آج کی نسل کو تو اس موبائل نے تباہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔ہر لڑکی لڑکے کو روز ایک دوسرے سے محبت ہو جاتی ہے ۔۔۔ایک دن اُن کو محبت ہوتی ہے دوسرے دن تصویریں مانگتے ہیں پھر وہ ملتے ہیں ۔۔۔۔اُس لڑکے کے لیے لڑکی ماں باپ کی دہلیز پار کرتی ہے۔ ۔۔۔۔اور وہ لڑکا اُس کو ایسا کرنے پہ مجبور بھی کرتا ہے ۔۔۔اور پھر دل بھرنے پے ایک دوسرے کو چھوڑ بھی جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ محبت ہے؟ یہ جو محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں یہ لوگ ایک دوسرے کو اپناتے ہیں؟
۔
مجھے نہیں سمجھ آتی یہ بات اُن لڑکیوں کو کیوں سمجھ نہیں آتی جو ایسے مردوں کے پیچھے خود کو تباہ کر لیتی ہیں…..ایک مرد ہمیشہ اُس عورت کو ہی اپناتا ہے اپنے نکاح میں قبول کرتا ہے جس کا اُس نے ایک بال بھی نا دیکھا ہو ۔۔۔چاہے وہ مرد خود کتنا بد کردار کیوں نہ ہو۔ عورت اُس کو پاکیزہ ہی چائیے ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔لڑکیاں اُن لڑکوں کے کہنے پہ خود کی عزت تک کو گھوا دیتی ہیں اور بعد میں روتی پھرتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
وجدان میں یہاں پہ مرد ذات کو ہی برا نہیں کہوں گا ۔۔۔۔۔ایک عورت جب تک خود غلط نا ہو مرد اُس کو آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھتا ۔۔۔۔۔۔اگر ایک عورت اپنی کلائی پکڑنے کے لیے نہ دے تو کیا مجال ہے مرد اُس کا ہاتھ پکڑے ۔۔۔۔۔۔یہ جو لڑکیاں ہیں آج کل گلوں میں دوپٹے ڈالے گھوم رہی ہوتی ہیں۔نازیبہ لباس پہنے بازاروں میں جاتی ہیں ۔۔۔۔اور پھر جب مرد اُن کو دیکھ لے تو منہ پہ مارتی ہیں ، تمارے گھر میں ماں بہنیں نہیں ہیں ۔۔۔۔۔اب تم خود اُس مرد کو مجبور کرو گی تو وہ تمہیں دیکھے گا بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔
۔
ایسی لڑکیاں اُس گندگی کی مانند ہوتی ہیں جن پہ مکھیاں بنبنا رہی ہوں ۔۔۔۔۔
۔
وجدان میں نے آوارہ مردوں کو بھی باحجاب عورتوں کو راستہ دیتے اور احتراما” نگاہ نیچے کرتے دیکھا ھے۔۔۔۔۔۔عزت تو پردے میں ہی ہے ۔۔۔۔عورت جب اپنی عزت کھو بیٹھتی ہے نا اُس کے پاس پھر بچانے کے لیے کچھ نہیں بچتا ۔۔۔۔۔۔ایک عورت غرور ہوتی ہے اپنے باپ کا اپنے بھائی کا اپنے شوہر کا اپنے بیٹے کا ۔۔۔۔۔جب ایک عورت صرف ایک عورت غلط ہوتی ہے نا وجدان اُس سے جوڑے ان سب مردوں کہ غرور ٹوٹ جاتا ہے ۔۔۔۔وہ معاشرے میں نظر اٹھا کے بات نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آتی آج کل کی اولاد کیوں نہیں سوچتی۔ اُن کا ایک غلط قدم اُن کے ماں باپ کو جیتے جی زمین میں اُتار دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
۔
مولوی صاحب بولے جا رہے تھے اور وہ احترام سے نظریں جھکائے سنے جا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنا سر بھی ہلا دیتا کہ اُس کو اُن کی کہی ہوئی ہر بات سمجھ آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“یہ دیکھو بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں چلی گئی
“تو وجدان بات محبت کی ہو رہی تھی ۔۔۔”
مولوی صاحب اب اُس کی اصل بات پہ آئے تھے!!!!!!!
۔
وجدان محبت پہ انسان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اُس کی سب سے بڑی دلیل ہمارے سامنے ہے ۔۔۔
۔
“امیرامؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ نے ارشاد فرمایا کہ محبت پہ انسان کا کوئی اختیار نہیں ” جب انھوں نے کہا کہ کوئی اختیار نہیں تو پھر سمجھ جاؤ کوئی اختیار نہیں ۔۔۔۔۔
۔
وجدان محبت کے کچھ حقوق ہوتے ہیں ۔۔۔۔وہ جب ادا ہوتے ہیں تو محبت ہمیں وجدان کی صورت ملتی ہے ۔۔۔۔۔
۔
“محبت یہ تو قلندروں کا رقص ہے یہ بچوں کا کھیل نہیں “
۔
محبت کو جب تک اُس کے حق حقوق کے ساتھ نا ادا کیا جائے وہ محبت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔وہ سودا ہوتا ہے جسموں کا ، جذباتوں کا اور عزتوں کا ۔۔۔۔۔ جہاں سودا ہوتا ہے وہاں محبت نہیں رہتی ۔۔۔۔
محبت کو جب بھی کرو عبادت سمجھ کے کرو ۔۔۔یہ عبادت ہوتی ہے خدا تک لے جانے کا ذریعہ ہوتی ہے ۔۔۔۔
وجدان میری بات سمجھ رہے ہو نا؟
مولوی صاحب نے اُس کی جھکی گردن کو دیکھتے ہوئے پوچھا !!!!
۔
“جی مولوی صاحب میں سمجھ رہا ہوں آپ بولیں نا “
اُس نے نظریں اوپر کی اور پھر جھکا لیں۔۔۔۔۔
۔
“وجدان محبوب سے اپنے محبوب کو مانگو ، وہ کھبی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا “
بس شرط یہ ہے کہ محبت میں خود کو اندر سے مار دو اپنی انا کا قتل کر لو اُس ذات کے ہو جاؤ جو محبتوں کا وارث ہے ۔۔۔۔۔جب اُس کے ہو جاؤ گے نا وجدان تو وہ تمہیں وہ دے گا جو تم نے مانگا ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بیڈ پہ آنکھوں کے اوپر بازو رکھے لیٹی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھیں کے کونوں سے قطرہ قطرہ آنسوں گر رہے تھے ۔۔۔۔۔دل کو ایک عجیب سی بےچینی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ بنا آواز کے روئے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
ایک شخص مجھے اتنا بھی مجبور کر سکتا ہے کہ میں خود کو ہی بھول جاؤں؟
وہ اب کی بار اٹھ کے بیٹھی موبائل ہاتھ میں لیا اور پھر سے وہ گروپ اوپن کیا ۔۔۔۔۔اُس نے کوئی سو بار اُس کے نمبر پہ وجدان شاہ لکھا ہوا دیکھا ۔۔۔۔۔وہ بھی تو وجدان کا نام لکھتی ہے ڈائری میں ۔پھر یہاں پہ لکھا ہوا نام اُس کو کیوں اتنا بے چین کر رہا ہے ۔۔۔
“یہ نام اُس نے خود لکھا ہے اپنے ہاتھوں سے ۔۔”
اُس نے اپنے ہی سوال کا خود جواب دیا ۔۔۔۔
اُس کے نام پہ اُس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوں گرتے اور موبائل کی سکرین پہ موتیوں کی صورت جمع ہو جاتے ……
۔
۔
اُس نے پروفائل پہ اپنی فوٹو نہیں لگائی تھی اُس کا نام ہی زرمینہ گل کو بے حال کرنے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔۔۔۔
۔
اب کی بار اُس کی ہمت نے جواب دے دیا تھا ۔۔۔۔۔اُس نے اُس کا نمبر نکلا اور میسیج لکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
۔
کیوں یاد آتے ہیں آپ مجھے اتنا؟ کیوں آپ کی یادیں مجھے سونے نہیں دیتی ؟ کیوں میں اس قدر بے بس ہُوں؟ کیوں آپ میرے ذہن پہ سوار ہو گئے ہیں ؟ کیوں میں آپ کی آواز سننے کے لیے ترس رہی ہوں ۔کیوں میں آپ کو ایک نظر دیکھنے کے لیے ایک ایک منٹ مر رہی ہوں کیوں کیوں ؟
۔
اُس نے میسیج لکھا اور سینڈ کے بٹن پے ہاتھ رکھنے کے بجائے سارا میسیج ریمو کر دیا ۔۔۔۔اور اپنا منہ سرہانے میں چھپائے سسکنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
وہ تو کسی مرد کو کھبی منہ بھی نہیں لگاتی تھی پھر کیوں وہ اُس کے لیے پل پل مر رہی ہے ۔کیوں میں اُن کو میسیج کر رہی ہوں کیوں ؟
۔
اُس نے ایک بار پھر موبائل ہاتھ میں لیا اور پھر سے میسیج لکھا ۔۔۔اُس نے کوئی پندرہ بار اُس کو میسیج ٹائپ کیے اور پھر ریمو کر لیے ۔۔۔۔۔
بیشک یہ میسیج اُس کو نہ ملیں مجھے تو حوصلہ مل رہا ہے ۔۔۔۔اُس نے آنکھوں سے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا ….
۔
“کاش تمھیں خود ہی پتا چل جائے وجدان کوئی دن رات تمھیں بھولنے کی دعا مانگتا ہے”
اُس کے خشک ہوتے آنسوں ایک بار پھر بہنے لگے ۔۔۔۔۔۔
۔
وہ اٹھی وضو بنایا اور جائے نماز پے بیٹھی ۔۔۔۔دو رکعت نفل حاجت پڑھے۔۔۔۔۔۔اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے
۔
یا اللہ مجھے نہیں پتا مجھے کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔مجھے کچھ بھی نہیں پتا وہ مجھے کیوں یاد آ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔مجھے یہ بھی نہیں پتا میں اُن کے نام پہ روتی کیوں ہوں ۔۔مجھے نہیں پتا وہ کب میرے ذہن میں آتے ہیں ۔۔۔مجھے لگتا ہے وہ میرے اندر موجود ہیں ۔۔۔۔۔اُن کی یادیں مجھے تکلیف دیتی ہیں اُن کی باتیں اُن کا مسکرانا مجھے ازیت دیتا ہے ۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتا مجھے کیوں اتنا درد ہوتا ہے ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے وہ میرے دل میں ہوتے ہیں میرا دل جیسے اُن کی مٹھی میں ہو وہ جب چاہیں اُس کو دوبا دیں اور میں اُس درد سے تڑپ جاتی ہوں ۔۔۔۔۔
۔
یہ درد بہت برا ہے اللہ جی ۔۔۔۔میں تو آپ کی کی لاڑلی ہوں نا آپ تو میری دعا سنتے ہیں نا بس میری دعا آج بھی سن لیں وہ مجھے بھول جائیں۔ میں بہت بے بس ہوں اللہ جی ۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آتی میں کیا کروں۔ ۔۔۔میں کس کو بتاؤں ۔۔۔میں اُن کو بھی نہیں بتا سکتی ۔۔۔میں کیا بتاؤں اُنکو مجھے یاد آتے ہیں آپ ؟ میں کیا بتاؤں اُن کو میں ترس گی ہوں آپ کو دیکھنے کے لیے ۔۔۔۔۔میں یہ سب کیسے کہے سکتی ہوں ۔میں تو نا محرم کے نام سے بھی نفرت کرتی ہُوں ۔۔۔۔۔۔میں پھر کیسے اُنکو میسیج کر لوں ۔۔۔۔میں اپنے بابا جان کا غرور ہوں ۔۔۔۔میں اُن کا غرور کیسے توڑ دوں۔ میں اپنی سفید چادر کو کیسے اُس کے قدموں میں رکھ دوں ۔۔۔۔۔میں کیسے بھائیوں کا مان توڑ دوں ۔۔۔۔۔میں کھبی مر کے بھی اُن کو میسیج نہیں کر سکتی ۔۔۔۔میں اُن کو کچھ بھی نہیں بتا سکتی ۔۔۔۔۔۔۔میں اُن کے سامنے اپنے بابا جان کی عزت نہیں ہار سکتی ۔۔۔۔۔۔میں غرور ہوں اپنے باپ کا وہ غرور میرے ساتھ میری قبر میں جائے گا مگر میری وجہ سے کھبی ٹوٹے گا نہیں ۔۔۔۔۔۔
۔۔
اُس کا دل چاہ رہا تھا وہ اتنا روئے اتنا روئے کے وجدان حسین شاہ اُس کے آنسوؤں کے ساتھ اُس کے اندر سے نکل جائے
۔
۔
اللہ جی مگر یہ تکلیف بھی یہ درد بھی تو مجھ سے نہیں ہو رہا برداشت اللہ جی پلیز مجھ پہ رحم کریں ۔۔۔میں روز آپ سے یہ رحم مانگتی ہوں مگر اب مجھ سے کچھ بھی نہیں ہو رہا برداشت ۔۔۔۔۔۔
وہ بچوں کی طرح سسک سسک کے دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔
اللہ جی وہ میرے خیال میں بھی نہ آئیں ۔۔۔۔۔یا اللہ زرمینہ خان آپ سے وجدان حسین کو بھول جانا مانگتی ہے ۔۔۔۔۔۔اُس کی دعا کو اپنے حبیب کے صدقے قبول فرما “
۔۔۔اُس نے رمضان میں ستائیسویں شب کو اُس کے بھول جانے کی دعا مانگی تھی
۔
وہ دونوں ہاتھ آنکھوں پہ رکھے دعا مانگ رہی تھی ، اور جیسے جیسے وہ دعا مانگ رہی تھی اُس کے دل میں سکون اتر رہا تھا ۔ اُس کو لگ رہا تھا جیسے کوئی آہستہ آہستہ اُس کے دل میں نور ڈال رہا ہے ۔۔۔۔اور اُس کے بے قرار دل کو قرار آ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں زمین پہ بیٹھے مولوی صاحب کی باتیں یاد کر رہا تھا ۔۔۔۔
۔
مولوی صاحب ٹھیک کہتے ہیں اُن کی ہر بات بلکل درست ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھے پہلے اپنے محبوب کو راضی کرنا ہے۔ کتنا گنہگار ہوں میں ۔۔۔۔وہ تو بہت ناراض ہو گا مجھ سے ۔۔۔۔۔۔میں جب اُس سے اُس کو مانگوں گا وہ مجھے میری منزل عطا کرے گا ۔۔۔۔۔جو وہ خود ہی ناراض ہوا تو میں کیسے اُس سے مانگوں گا ۔۔۔۔ کس منہ سے مانگوں گا میں اپنے رب سے ۔۔۔۔۔۔مجھے پہلے محبوب سے محبوب ہی کو مانگنا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔جب میرا محبوب مجھے مل گیا پھر محبت خود بخود ہی مل جائے گی ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے سگریٹ نکلا اور پینے لگا۔۔۔۔۔۔سگریٹ اُس کی ضرورت سے زیادہ اُس کی عادت بن گی تھی ۔۔۔۔۔۔ ضرورتیں تو ختم ہو سکتی ہیں انسان کی مگر عادتیں وہ کب جاتی ہیں آسانی سے ۔۔۔۔۔۔ اب وہ اکثر سگریٹ پیتے دیکھائی دیتا تھا ۔۔۔۔
۔
“میں کیسے اُس پاکیزگی کی طلب کر سکتا ہوں”
۔
اُس نے وہاں بیٹھے بیٹھے سوچا اور سگریٹ کا کش پہ کش لگانے لگا ۔۔۔۔۔
۔
“میں کدھر ہوں تمہارے قبول ملکہ ؟”
اُس نے آنکھیں بند کی اور بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا لی ۔۔۔۔۔
۔
اُس کا سراپا اُس کو اب سکون دیتا تھا ۔وہ پوری پوری رات اُس کو سوچتا تھا۔۔۔۔۔کھبی اُس کی قُربت پے مسکراتا اور کھبی رونا شروع ہو جاتا۔۔۔۔۔
۔
۔اب رات کی تنہائی میں اُس کے پاس تین چیزیں ہوتی تھیں۔ ملکہ ، سگریٹ اور اُس کی ڈائری ۔۔۔۔۔۔
۔
وہ اٹھا اپنی ڈائری لائی اور وہیں زمین پہ بیٹھ گیا ۔۔۔
۔
ڈائری کھولتے ہی اُس کے پہلے صفحہ پہ اُس نے بڑا بڑا لکھا ہوا تھا
۔” میری ملکہ کے نام”
اُس نے ملکہ اتنی خوبصورتی سے لکھا تھا کہ دیکھنے والا دیکھے تو حیران رہے جائے …..
۔
” میری ملکہ کی ملکیت “
اُس کے اگلے صفے پہ اُسی خوبصورتی کے ساتھ میری ملکہ کی ملکیت لکھا تھا اور اُس کے نیچے مختصر سا نوٹ لکھا تھا
۔
“اگر ملکہ کے میری زندگی میں آنے سے پہلے میں اُس دنیا فانی سے کوچ کر گیا تو یہ ڈائری میری ملکہ کی ملکیت ہو گی “
۔
اور اُس کے بعد اُس نے ہر صفحے پے اُس کی آنکھوں کا تبصرہ کیا تھا ۔۔۔کسی نے شاید ہی اپنی محبوبہ کی آنکھوں پہ اس قدر خوبصورت لکھا ہو گا ۔۔۔۔۔ وہ اُس کی ہر ادا لکھتا تھا اُس کی معصومیت اُس کے مسکرانے پہ اُس کی آنکھوں میں چمک انا ۔۔۔۔وہ ایک ایک چیز لکھا کرتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے آج بھی قلم لیا اور اُس لکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
تُجھے دُور سے چاہنا منظور ہے مجھے !
میری اس عبادت پہ غرور ہے مجھے !
تُجھے اپنے لفظوں میں چھپا کے رکھوں گا !
اپنی شاعری میں بسا کے رکھوں گا !

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: