Hijab Novel By Amina Khan – Episode 2

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 2

–**–**–

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب سے شروع ہونے والی محبت کی ایک عجیب داستان
ایسی داستان جو کہیں سنی نا هو
ایک لڑکا جو سید خاندان سے ہے
اور ایک لڑکی جو پٹھان ہے
حقیقت پر منبی کم عمر محبت کی خوبصورت داستان
آمنہ خان کے قلم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ گھر آئی تو بلکل خاموش تھی ۔ ایسے بھی وہ اتنا بولا نہیں کرتی مگر ایک رونق ضرور رہتی تھی گھر پہ ۔۔۔وہ بہت شرارتیں کرنے والی بہت خوش مزاج سی تھی مگر پچھلے کچھ مہینوں سے وہ گم گم سی رہنے لگی اور ابھی تک کسی کو اس بات کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی اچانک کیا ہو گیا وہ کیوں ایسے گم سم سی رہتی ہے ۔وہ اپنے ہر راز بس اللہ جی کو بتاتی ۔اُن سے باتیں کرتی تھی اور تو اور اُن سے خفا بھی ہو جایا کرتی ۔
“اللہ جی آج میں خفا ہُوں آپ سے بس “
پھر چپ ہوتی ، جیسے کوئی سن رہا ہے ، کوئی اُس کی بات کا جواب دے رہا ہے ۔۔۔
“کیوں میں آپ سے خفا نہیں ہو سکتی ؟ “
“میرا دل ہوا خفا ہونے کا تو میں بس خفا ہو گئی آپ سے “
“اب آپ مجھے کسی کے ہاتھوں چاکلیٹ کھلوا کے بھی راضی نہیں کر سکتے میں بس خفا ہوں آپ سے آج “
“سن لیں مجھے چاکلیٹ نہیں کھانی اچھا “
پھر مسکرا دیتی !!!
اُس کا خوبصورت پڑتا ڈمپل اور گہرا ہو جاتا ۔آنکھوں میں عجیب سی چمک ہوتی جب بھی وہ مُسکراتی ۔
اور پھر وہ بے صبری سے چاکلیٹ کا انتظار کر رہی ہوتی۔اُس کو پتا ہوتا اللہ پاک کسی نہ کسی کے ہاتھوں چاکلیٹ اُس تک پہنچا ہی دیں گے ۔ کوئی نہ کوئی وسیلہ بن ہی جائے گا ۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا وہ کبھی کچھ مانگے اور اسکو نہ ملے ۔
وہ اپنی چھوٹی سی چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز اللہ سے مانگا کرتی تھی۔ اور ہمیشہ اُس کو مل بھی جاتی تھی ۔۔۔۔
اُس کو اللہ کے علاوہ کسی سے کچھ مانگنا اچھا بھی نہیں لگتا تھا چاہے وہ چاکلیٹ ہی کیوں نہ ہو !!!!!!!
۔وہ عام لوگوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی سوچا کرتی تھی ۔
زری ؟
” کیا ہوا ہے بچے “
عموماً وہ کالج سے واپس آ کے خود دادی اماں کے پاس جایا کرتی تھی ۔
مگر آج وہ مانو کو کھانا کھلانے کے بعد سیدھا اپنے کمرے میں آئی تھی ۔
“ارے اماں جی آپ ، میں آ ہی رہی تھی نا آپ کے پاس “
دادو اُس کے پاس اُس کے بیڈ پہ ہی اُس کے قریب ہو کے بیٹھیں ۔
وہ ہمیشہ سر پہ دوپٹہ رکھتی تھی ، گھر میں بھی بڑی سی چادر اوڑھے رکھتی .اگر دوپٹہ لیتی تو زیادہ تر حجاب کی صورت میں ڈبل کر کے لیتی تھی ۔
دادی اماں ہمیشہ کی طرح تسبی پر کچھ پڑھ رہی تھیں ۔
اُس کو معلوم تھا وہ کیا کر رہی ہیں ۔
انھوں نے اپنا ورد پورا کیا
اُس کو پیار سے دیکھا اور اس کے منہ پہ پھونک ماری ۔
“آج میرا بچہ میرے پاس نہیں آ یا میں نے سوچا میں خود چلی جاؤں”
“دادی اماں سوری میں نہیں آ پائی آپ کے پاس وُہ اج تھکی تھی تھوڑا “
وہ شرمندہ ہو رہی تھی
“کوئی بات نہیں مڑا ” دھکو میں خود آ گی تم کو دیکھنے “
اُنکا لہجہ پشتو والا تھا ۔اردو بول تو لیتیں تھیں مگر پشتو کا ٹچ اُس میں لازمی ہوتا تھا ۔
“آج تم نے اپنی بلی سے بتائیں بھی نہیں کی طبیعت ویت تو ٹھیک ہے نا تمھارا “
دادی اماں !!!!
” مانو نام ہے اُس کا “
وہ ذرا خفا ہو کے بولی ، اسکو اچھا نہیں لگتا تھا کوئی اُس کی مانو کو بلی کہے !!!
“مانو نام ہے یا شانو ہے تو وہ بلی ہی نا “
اب بلی کو بلی نا بولے بندہ تو کتا بولے ؟ تم بھی کمال کرتی ہے زرمینہ ۔
زری کو اپنے ہر رشتے سے بہت محبت تھی وہ زیادہ سے زیادہ وقت اپنی دادو کے ساتھ گزرا کرتی تھی ، ہمیشہ اُن سے اُن کی جوانی کے قصے سنا کرتی ۔
آج وہ پریشان تھی اُس نے دادو کو راضی کرنا تھا جو کے بہت مشکل کام تھا ۔
مگر اس نے سوچ لیا تھا ہار تو وہ بھی نہیں مانے گی ، خون تو اس کی رگوں میں بھی سواتیوں کا ہی تھا ۔
آج میں بات نہیں کروں گی یونی کے سلسلے میں ۔ایک دفعہ پیپر ہو جائیں پھر بات کروں گی ۔۔۔اُس نے دل میں سوچتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آج تو لوگ پڑھ رہے ہیں “
وہ اُس کے پاس بیٹھا اُس کی ایک کتاب اٹھائی اور صفحے اِدھر اُدھر کرتے ہوئے اُس کو تنگ کرنے لگا !!!!!
سلطان اُس کے دوسرے نمبر کا بھائی تھا ، زرمینہ اُس سے ایک سال بڑھی تھی مگر اسکو کبھی بھی نہیں لگا کے وہ اُس کی بڑی بہن ہے ۔
بھائی چھوٹے بھی ہوں وہ ہمیشہ بہنوں کے معاملے میں بڑے ہی ہوتے ہیں ۔
زری کو کبھی نہیں لگا کہ وہ اُس سے بڑھی ہے ۔
وہ اُس کو جان جی کہے کر بلاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں آپس میں ہمیشہ گپ شپ لگایا کرتے تھے !!!!!!
“خیر سے کتنے پیپر رہے گے میری بہن کے “
“کیوں میں آپ کو کو کیوں بتاؤں ؟”
“جیسے تو مجھے پاس ہونے پہ بڑے گفٹ دے دیتے ہیں نا آپ “
اُس نے منہ بنا کے جواب دیا !!!!
“اچھا تو میری طوطا مینا کا موڈ خراب ہے آج “
اُس نے شرارتی سے انداز میں بولا
“اماں”
“اماں”
“سن بھی لیں نا “
کیا ہوا ہے زری ؟
“کیوں شور کر رہی ہو ؟ پتا بھی ہے بابا جان گھر پہ موجود ہیں “
“اچھی بیٹیوں کے ساتھ اتنا اونچا اونچا بولنا اچھا نہیں لگتا “
“ہاں تو اچھے بیٹوں کے ساتھ یہ اچھا لگتا ہے نا کے صبح بہن کا پیپر ہے اور وہ اُس کو تنگ کریں”
“کیا کہے دیا ہے اب بھائی نے ؟ جو اتنا موڈ بنا رہی ہو “
“نہیں آپ کا بیٹا تو کچھ بھی نہیں کہتا جو کہتی ہوں میں ہی کہتی ہُوں”
“کل بھی جان جی نے مانو کو ڈانٹا ہے”
“وہ جو کب سے چپ بیٹھا مسکراتا ہوا سن رہا تھا فوراََ سے بول پڑا “
“اُف اُس بلی کا نام نہ لینا میرے سامنے نہیں تو میرے ہاتھ سے وہ آج ہی مر جائے گی”
“بلی نہیں ہے وہ مانو ہے”
وہ پھر زور سے غصے میں بولی تھی!!!!!!
“جی ہاں اسی مانو نے کل میرا کبوتر مار دیا ہوتا اگر میں وقت پہ نہ پہنچ جاتا تو”
“بہت اچھا ہوتا مار دیتی تو “
“اللہ کرے وہ مار ہی دے سب کو تو بہت اچھا ہو ، خود بولوں گی میں اُس کو مارے “
“اُس دِن وُہ زرمینہ صاحبہ آپ کا اور آپکی مانو کا آخری دن ہو گا اس گھر میں”
میں لالا گل کو بولوں گی آپ کا آنے دیں آج آپ اُنکو”
شہاب اس لڑائی میں ہمیشہ بہن کی سائڈ ہی ہوتا تھا !!!!
“اور اماں آپ ہمیشہ اپنے بیٹے کی ہی سائڈ لیا کریں”
وہ غصّے میں اپنی کتابیں لے کے اپنے کمرے میں چلی گئی
“بندہ سکون سے پڑھ بھی نہیں سکتا اس گھر میں تو “
اور زور سے دروازہ بند کیا!!!!!
“کتنی بار کہا ہے نہ کیا کرو اسکو تنگ “
امی نے خفا ہو کے سلطان کو کہا !!!!!
“میں کدھر کرتا ہوں تنگ ، وہ خود ہی تنگ ہوتی ہے تو “
“ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ غصّہ ہوتی ہے “
“اماں ضرور اس کو کوئی پریشانی ہے “
“ورنہ تو یہ بہت خوش مزاج سی ہوتی تھی”
“اس کا ایسا موڈ تب ہی ہوتا ہے جب یہ پریشان ہو”
وہ بے حد فکر مندی سے ماں کو کہے رہا تھا !!!!
” نہ پریشان ہو تم پیپر ہیں نا اُس کے تو تب ہی پریشان ہے”
انہوں نے بیٹے کو ٹالنے کے لیے یہ بات کہی تھی !!!!! پریشان تو وہ خود بھی تھیں ۔
پیپر تو پہلے بھی ہوتے تھے وہ اس قدر پریشان تو کبھی نہیں ہوئی تھی ۔۔
“یا اللہ میری بچی پہ رحم کرنا”
انہوں نے دل ہی دل میں دعا کی اور آٹھ کے کچن کی طرف چلی گئیں!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرمینہ کے پیپر ختم ہو چکے تھے ۔ آج گھر پہ سب ایک ساتھ موجود تھے بابا جان نے سب کو دادی اماں کے کمرے میں بلویا تھا سوائے زرمینہ کے ،،،،،،
اُس کا دل بیچیں ہونے لگا عجیب سی کیفیت ہونے لگی ۔ جانے کیا بات ہو رہی ہے اندر کیوں سب اکٹھے ہیں !!!!
وہ دروازے کے باہر آ کے کھڑی ہو گئی ۔ وہ کبھی اس طرح کی غلط حرکت نہیں کرتی ہوتی مگر آج معاملہ کچھ الگ تھا ۔اُس کے ماتھے پہ پسینے آنے لگے کیوں کے اندر بات اُس کی ہی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
“اماں جی”
“آج بھائی صاحب میری دکان پے آئے تھے “
ابراہیم نے نرم سے انداز میں ماں کو مخاطب کیا ۔۔۔
ابراہیم صاحب کا پردوں کا کاروبار تھا ۔ پورے مانسہرہ ، بافہ ، بجنہ، شنکیاری ، اور ایبٹ آباد میں پردے اُن کی دکان سے آگے دوسری دکانوں تک پہنچاۓ جاتے تھے۔اُن کا بڑا بیٹا شہاب اُن کے ساتھ ہوتا تھا ۔جب کہ سلطان الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈپلوما کر رہا تھا ۔ اور آگے Css کرنے کاسوچ رہا تھا ۔۔۔
اچھا !!!!
“کیوں آیا تھا فیروز “
دادی اماں نے خیرت سے پوچھا !!!!
عموماً وہ گھر پہ آ کے بات کرتا تھا ۔ اور آج اس طرح سب کو اکٹھا کرنا ، سب کو تجسّس میں ڈال رہا تھا ۔۔۔
“اماں جی وہ اپنے بیٹے رجب خان کے لیے زری کا ہاتھ مانگ رہے تھے “
رجب کی اور شہاب کی آپس میں بہت گہری دوستی تھی وہ تو بہت خوش تھا مگر بابا جان کے سامنے بولنے کی ہمت نہیں تھی !!!!!!
“میں تو بہت خوش ہوں ابراہیم رجب ہے بھی بہت نیک بچہ اور دوسرا میرا پوتا ہے ، زری اور رجب مجھے بڑا عزیز ہے دونوں ہی”
“اس سے اچھا اور کیا بات ہو گا گھر کی بچی گھر میں ہی جائے”
“تم کیا کہتی ہو روقیہ “
ابراہیم صاحب نے بیوی کو محاطب کیا ، جو کافی دیر سے خاموشی سے اُن دونوں کی باتیں سن رہے تھیں !!!
وہ کبھی بھی ابراہیم صاحب کے فیصلے میں نہیں بولیں تھیں جو وہ کہتے وہی پتھر پہ لکیر ہوتا تھا ۔ تو بولنے کا فائدہ بھی کوئی نہیں ہوتا تھا !!!!!!
” جو آپ کو اور اماں جی کو مناسب لگے ، میری بھی وہی مرضی ہو گی “
اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا
پھر ابراہیم صاحب بڑے بیٹے کی طرف مڑے. جو کب سے انتظار کر رہا تھا کہ بابا جان اُس سے پوچھیں اور وہ بولے ۔
اُن کے گھر میں ہر ایک کی بات کو اہمیت دی جاتی تھی ، ہر ایک سے مشورہ کیا جاتا تھا
بس فیصلے وہی ہوتے تھے جو بابا جان اور دادی اماں بولیں ۔اور کسی کے ہمت بھی نہیں ہوتی ہے کے اُن کے فیصلوں کے کوئی خلاف جائے ۔۔۔۔۔
“بابا جان میں تو بہت خوش ہوں “
“رجب بہت اچھا لڑکا ہے”
“اور دوسرا ہمارے اپنے خاندان کا ہے اور سواتی ہے تو ہمیں اور کیا چائیے”
اب سلطان کی باری تھی جو وہاں موجود ہوتے ہوئے بھی وہاں نہیں تھا وہ کچھ سوچ رہا تھا !!!!!
“سلطان”
” سلطان”
ابراہیم صاحب نے دو دفعہ اُس کو پکارا !!!!
“جی جی بابا جان جی”
اُس نے جلدی جلدی جواب دیا
“کدھر گم ہو تم”
“سن رہے ہو نا ہم کیا کہے رہے ہیں “
انھوں نے غصے سے اُس کو کہا
غصّہ تو سواتیوں کی ناک پہ ہوتا ہے ہمیشہ !!!!!
“جی بابا جان میں سوچ رہا ہوں ایک دفعہ اگر زری سے بھی……”
اُس نے بات کو آدھا چھوڑا اور گردن جھکا لی !!!!!!
جیسے اُس نے بہت زیادہ غلط بات کر دی ہو ۔۔۔۔۔
“اُس سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے جب بابا جان نے فیصلہ کر دیا ہے تو …..شہاب نے آرام سے بھائی کو بولا “اور آنکھوں ہی آنکھوں میں چپ ہونے کا کہا ۔۔۔۔
“نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا لالا گل”
جو بھی تھا اب چپ اماں نے بات کو سنبھالتے ہوئے کہا !!!!
“میں زری کو بتاتا دوں گی اُس کے بابا جان نے کیا فیصلہ کیا ہے “
“ویسے بھی اُس کے امتحان ختم ہو گئے ہیں آج “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی ۔۔۔اُس کو لگا وُہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے ۔۔ایسا کچھ نہیں ہوا اُس نے ایسا کچھ نہیں سنا جس سے اُس کے پیروں کے نیچے سے زمین ہی نکل جائے ۔
وہ گم سم سی بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی ۔۔۔
امی نے دروازہ کھولا اور اندر آئی !!!!
“زری”
“کیا ہوا ہے بچے”
انھوں نے اُس کی آنکھوں کو غور سے دیکھا جن میں گہرائی کی حدیں تھی !!!!!
“زری”
اُنھوں نے اُس کو بازوں سے پکڑ کے پیار سے ہلایا ۔۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے بچے “
وہ جو بات اُس کو بتانے آئیں تھیں سب بھول گئی تھیں !!!!
“اماں میں یونیورسٹی پڑھنا چاہتی ہوں”
اُس نے چہرے پہ بغیر کچھ تاثر دیئے بولا
‘کیا؟”
اُنھوں نے حیرت سے پوچھا !!!
کیا ، کیا کہنا چاہ رہی ہو تم ؟تم ہوش میں تو ہو نا زرمینہ ؟
اُنھوں نے پریشان ہوتے ہوئے اُس سے پوچھا !!!!
وہ جو بلکل مگن سی بیٹھی تھی جیسے کوئی بڑا فیصلہ کرنا چاہا رہی ہو ،
“ہاں میں ہوش میں ہوں اماں میں پڑھنا چاہتی ہُوں آگے “
“زری ہوش میں نہیں ہو تم بلکل بھی “
اُنھوں نے سختی سے اُس کو دیکھا اور بولیں !!!
“تمہارے بابا جان نے رجب خان سے تمہاری شادی کا فیصلہ کر لیا ہے اور تمہیں آگے یونیورسٹی پڑھنا ہے “
وہ تھوڑی آگے ہوئی اُس نے ماں کا ہاتھ پکڑا اُن کے کندھے پر سر رکھا اور کپکپاتے ہونٹوں سے بولی !!!!
“ماں” مجھے نہیں کرنی ابھی شادی “
“رجب بھائی کو تو میں اپنا بھائی سمجھتی ہُوں بلکل لالا گل کی طرح”
اُس نے بچوں کی طرح روتے ہوئے کہا !!!
ماں کا دل پیگھا !!!
اُس نے اُس کا سر کاندھے سے ہٹا کے گودی میں رکھا
“زری میرا بچہ ایسے نہیں روتے “
“رجب بہت اچھا لڑکا ہے ، خوش شکل ہے ، عزت کرنے والا ہے اپنا کاروبار ہے اُن کا۔ہے ہی کون اُن کے گھر میں وہ، پلوشہ اور اُس کے ماں باپ بس ۔۔۔۔تم بہت خوش رہو گی وہاں “
اُنھوں نے بیٹی کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اور نرمی سے اُس کا ماتھا چُوما!!!!!!
“ماں آپ چاہتی ہیں نا میں رجب بھائی سے شادی کر لوں میں کر لوں گی بس مجھے یونیورسٹی جانے کی اجازت دلوا دیں”
اُس نے بچوں کی طرح روتے ہوئے کہا !!!!!
“زری فضول کی ضد نہ کرو تمہیں اچھے سے پتا ہے تمہارے بابا جان کے فیصلے کے آگے میں نہیں بول سکتی”
اُنھوں نے بے بسی سے بیٹی کو سمجھایا !!!!
“لیکن بیٹی میں بھی اُن ہی کا خون تھا وہ کدھر اتنی آسانی سے ہار مان جاتی اُس نے سوچ لیا تھا اُس نے آگے کیا کرنا ہے “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: