Hijab Novel By Amina Khan – Episode 20

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 20

–**–**–

“وجدان “
۔
“جی ابو “
باپ کے نام پکارنے پہ اُس نے سر اُٹھا کے دیکھا جو کب سے نظریں جھکائے صرف سب کو سن رہا تھا …..
۔
“اتنے چپ چپ کیوں رہنے لگے ہو تم وجدان ، نا کسی سے بات کرتے ہو ، نہ اپنے کمرے سے باہر آتے ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری ۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے ۔۔۔کوئی پریشانی ہے تمھیں؟ “
۔
“نہیں ابو کوئی پریشانی نہیں ہے “
وہ اُسی طرح گردن جھکائے بیٹھا تھا۔
۔
“وجدان تمہارے چچا چاہتے ہیں تم دونوں کا نکاح ایسی ہفتے ہو جائے وہ بھی مانسہرہ آئے ہوئے ہیں اور بھابی بھی آ جائیں گی ، تو وہ چاہتی ہیں امامہ اور تمہارا نکاح بھی فاطمہ اور دانیال کے ساتھ ہی ہو “
۔
امی اُس کی جھکی نظریں کب سے دیکھ رہی تھیں ، ایک ماں کیسے نہیں سمجھ سکتی کہ اُس کی اولاد خوش ہے یہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور اسکی حالت کو دیکھ کے ہر کوئی اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ کتنا ٹھیک ہے اور کتنا خوش ….
۔
“وجدان تمھیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا اس رشتے پہ ؟ “
۔
اب کی بار ابا نے اُس کو مسلسل چپ بیٹھا دیکھتے ہوئے پوچھا۔ جو کب سے اُس کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
۔
“نہیں ابو ۔۔۔۔۔کوئی اعتراض نہیں”
۔
اُس نے نظریں جھکائے آنکھوں میں نمی لیے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔۔اس سے زیادہ وہ کچھ اور کہے بھی نہیں سکتا تھا۔
۔۔
بھائی کی یہ حالت دیکھ کے
پاس بیٹھی فاطمہ کے دل پہ ایک دم جیسے خنجر چلا ۔۔۔۔۔اُس کا بھائی آج اپنی بہن کی خوشیوں کے لیے اپنی خوشیوں کی قربانی دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔جو بہن کی زندگی بنانے کے لیے خود کی زندگی برباد کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں میں ایک دم آنسوں آئے جو حلق میں اٹکنے لگے ۔۔۔۔۔ایک بہن کدھر بّھائی کی اتنی بڑی قربانی قبول کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔بہنیں تو بھائیوں کے لیے قربانی دیا کرتی ہیں وہ لے کیسے سکتی ہے ۔۔۔۔۔
۔
“ابو مجھے یہ شادی نہیں کرنی “
وہ جو کب سے اتنے دنوں سے ضبط کیے بیٹھی تھی ایک دم بول پڑی۔۔۔۔۔۔۔
۔
اُس کے ایک دم سے ایسا بولنے پہ سب نے اُس کو دیکھا جو آنکھوں میں آنسوں لیے بولی تھی۔۔۔۔۔۔۔
۔
“جی ابو مجھے یہ شادی نہیں کرنی ، اور اگر میری شادی دانیال سے کر رہے ہیں تو پھر وجدان کی نہ کریں ….اگر چچا جان ایسے راضی ہوتے ہیں تو ٹھیک ہے نہیں ہوتے تو دونوں رشتوں کا انکار کر دیں”
۔
وہ آنکھوں میں آنسوں لیے بس بولے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔اور پاس بیٹھا بھائی اُس کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔خدا نے بہنوں کا کیسا دل بنایا ہے جو بھائیوں کے لیے قربان ہونے پہ ایک منٹ نہیں لگاتیں ۔۔۔۔۔وہ بیٹی جو آج تک ابو کے سامنے نہیں بولی تھی اج اپنے بھائی کے لیے لڑ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
۔
“فاطمہ یہ کیا کہے رہی ہو تم ، انھوں نے تب ہی تمھارا رشتہِ مانگا ہے تاکہ ہم امامہ اور وجدان کے رشتے سے انکار نہ کر سکیں ۔۔۔۔۔۔۔اور تم کہے رہی ہو تمہیں یہ رشتہ نہیں منظور “
۔
اب کی بار امی غصے سے بولی تھیں ، اُن کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی وہ کیا کہیں ۔۔۔۔انھوں نے جس اولاد کے رشتے کے لیے اتنی منتیں مانگی ہیں اج جب اُن کی دعائیں سن لی گئی ہیں تو بیٹی ہی انکار کر رہی ہے۔ ۔۔۔
۔
“امی میں نے آپ کو کہے دیا ہے یا تو میری شادی ہو گئی اُدھر یا پھر وجدان کی “
یہ کہے کر وہ کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔۔اُس کو پتا تھا اگر اُس کا رشتہ اُدھر نہ ہوا تو امی کھبی بھی وجدان کا رشتہ امامہ سے نہیں ہونے دیں گی ۔۔۔۔۔
۔
“میں فون کرتا ہوں لاہور ، کہتا ہوں ہم وجدان کے رشتے کے حق میں نہیں ہیں ۔۔۔۔اگر فاطمہ اور دانیال کا کرتے ہیں تو صحیح ہے ۔۔۔میں پہلے بھی ان وٹے ستے کے رشتوں کے خلاف تھا “
۔
والد صاحب نے جیب سے فون نکلا اور بات کرنے لگے اور وجدان دھڑکتے دل کے ساتھ سُننے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج پوری رات نہیں سو سکی تھی ۔۔۔۔۔وہ صبح کیسے اُس کو دیکھے گی ۔۔۔اتنے عرصے کے بعد وہ اُس کو دیکھے گی۔۔۔۔۔۔اُس کو چند مہینوں کی چھٹیاں ایک بہت لمبا عرصہ لگ رہی تھیں۔ ۔۔۔جیسے سالوں بعد وہ اُس کو دیکھے گی ۔۔۔سالوں بعد وہ اُس کو نظر آئے گا ۔۔۔۔۔
۔
وہ کیا کرے گی ؟ کیا اُس کو پھر سے ایک نئی تکلیف سے گزرنا ہو گا؟ اُس نے تو وجدان حسین کو اپنے دل کے ایک کونے میں دوبا کے رکھ لیا ہے۔۔۔۔۔اب تو وہ اُس کی یادوں میں آنسوں بھی نہیں بہاتی وہ تو راتوں کو اب سو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اُس کو دیکھنے کے بعد کیا ہو گا ۔۔۔۔میں کیسے برداشت کروں گی وہ درد جو میں نے دل کے ایک کونے میں چھپا رکھا ہے۔۔۔۔۔”
۔
وہ بیڈ پہ لیٹے پچھلے کئی گھنٹوں سے بس یہی سوچتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔رات کے دو بج رہے تھے اور وہ بازوں کو ماتھے پہ رکھ کے سوچ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
وہ اٹھی اور موبائل اٹھایا …..
۔
وجدان کا نمبر اُس نے اپنے پاس سویڈ کر رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اُس کو بھول جانے کی دعا بھی مانگتی تھی اور اُس کو دیکھے بنا رہے بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔۔وہ جب بھی موبائل لیتی تو اُس کا لاسٹ سین ہمیشہ دیکھتی ۔۔۔۔۔۔اُس کا لاسٹ سین بہت کم ہی شو ہوتا تھا کیوں کہ وہ ہر وقت ہی آنلائن ہوتا تھا۔ ۔۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔وہ رات کو تہجّد کے وقت بھی اٹھتی تو اُس کا لاسٹ سین دیکھتی جو ہمیشہ آنلائن ہی شو ہوتا۔ ۔۔۔
۔
۔اُس نے ابھی بھی وجدان کا لاسٹ سین دیکھنے کے لیے موبائل کھولا ۔۔۔رات کے دو بجے بھی وہ اُس کو آنلائن ہی نظر آیا ۔۔۔۔۔۔
اُس کا دھڑکتا دل ایک دم سے بیچین ہو جاتا۔۔۔۔۔۔۔اور اُس کے بعد وہ پوری پوری رات جاگتی رہتی جب تک آنلائن کی جگہ لاسٹ سین نا آ جاتا۔۔۔۔۔۔۔
۔
“سر کی زندگی میں کوئی لڑکی ہے؟”
اُس نے بیڈ پہ بیٹھے موبائل ہاتھ میں پکڑے ہوئے ایک درد سے کہا ۔۔۔۔۔۔
۔
۔
اگر ہے بھی تو کیوں سوچتی ہُوں میں ۔۔۔۔مجھے کیا ہے وہ رات کے دو دو بجے آنلائن ہوں کسی لڑکی سے بات کریں ۔۔۔۔مجھے اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔۔مجھے کیوں اُن کے اس طرح آنلائن رہنے سے تکلیف ہوتی ہے اللہ جی ۔۔۔۔۔
۔
وہ خود سے باتیں کرتی کرتی ایک دم سر اوپر کر کے اللہ جی سے مخاطب ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔اور اُن سے پوچھنے لگتی ۔۔۔۔۔۔
۔
میں کیوں دیکھتی ہُوں اُنکا لاسٹ سین ۔۔۔میں کیوں اُن کے جاگنے تک جاگتی ہوں ۔۔۔۔۔بیشک وہ ہزار لڑکیوں سے باتیں کریں مجھے کیا ہے ۔۔۔۔۔۔مگر اللہ جی مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔میں ایک ازیت سے گزرتی ہوں ۔۔۔۔۔مجھے درد ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
۔
غصے سے خود کو کہنے کے بعد اللہ جی کے نام پہ ایک دم اُس کی آنکھوں میں آنسوں آتے ۔۔۔وہ جو ضبط کیے رکھتی تھی ایک دم موم بن کے پھگل جاتی تھی۔۔۔
۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔”آپی آپ نے ایسا کیوں کیا کیوں کہا؟ “
۔
وہ آنکھوں میں آنسوں لیے بہن کے پاس اُس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
۔
“کیا کیِا ہے میں نے ؟”
اُس نے مُسکراتے چہرے کے ساتھ بھائی سے پوچھا جو اُس کے سامنے شرمندہ ہوا سا بیٹھا تھا ۔۔۔
۔
“آپی میں کروں گا امامہ سے شادی “
۔
وہ اپنے آنسوں کو اندر اتارتا ہوا ، اٹکتے اٹکتے بول رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“کر لو گے اُس سے شادی ؟”
۔
اُس نے اُس کا آنسوؤں سے بھرا ہوا چہرہ اوپر کیا اور ایک بار پھر سے پوچھا ۔۔
۔
“جی آپی “
بچوں کی طرح روتے ہوئے آنکھیں نیچے کیے وُہ بہن کو کہے رہا تھا ۔۔۔۔
۔
وجدان تم میرے لیے بھائی ہی نہیں میرا سب کچھ ہو ۔۔۔۔۔میری زندگی تم پہ تمہاری ایک مسکراہٹ پہ قربان جائے۔ ۔۔۔تم نے یہ کیسے سوچ لیا تمہاری آپی اپنی خوشیوں کے لیے تمہاری خوشی کو بھول جائے گی ۔۔۔۔۔میں نے تمہاری آنکھوں میں اُس لڑکی کے لیے محبت دیکھی ہے۔ ۔۔۔۔وہ محبت جو بہت کم لوگ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔اور تم پاگل میرے لیے اُس محبت کو داؤ پہ لگانے جا رہے تھے ؟ ۔
۔
اُس نے اُس کا سر اپنی گھود میں رکھا ، اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود بھی بھیگی آنکھوں سے بولے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“وجی تمہاری آپی تمہاری خوشیوں کے بیچ میں کھبی بھی نہیں آئے گی “
۔تمہاری محبت تمہیں ضرور ملے گی وجی …..
۔
بہن نے اُس کا ماتھا چُوما جو اُس کی گود میں آنکھیں بند کئے بس سن رہا تھا ۔۔ آنکھوں کے کونوں سے آنسوں مسلسل گر رہے تھے ۔
۔
“آپی اُس کو تو پتا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
اُس نے بس اتنا ہی کہا اور اپنا منہ بچوں کی طرح بہن کی گودی میں چھپا لیا !
۔
ایسے نہیں روتے وجی ۔۔۔۔۔وہ تمہیں ضرور ملے گی ۔۔۔۔۔بہت شوق ہے مجھے اُس کو دیکھنے کا جس کے لیے میرا بھائی اتنا روتا ہے ۔۔۔۔جس کے لیے میرا بھائی خود کو بھول جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔وہ کیسی ہے وجی ؟
۔
اُس نے بہت حسرت سے بھائی سے پوچھا ۔۔۔۔۔
۔
آپی بہت پیاری ہے وُہ ۔۔۔۔بہت معصوم ہے وہ ۔۔۔۔۔چھوٹی سی لگتی ہے ۔۔۔۔۔حجاب کرتی ہے ۔۔۔ عبایا کرتی ہے اُس کے اوپر چادر بھی لیتی ہے۔ ۔۔۔۔۔شرارتیں بھی بہت کرتی ہے۔۔۔۔۔۔اپنی دوست کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔پتا ہے آپی اپنی دوست کے کندھے پے سر رکھے بیٹھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔غصے والی بھی ہے ۔۔۔۔۔کوئی اُس سے بات نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔جب مسکراتی ہے نا آنکھیں چمکتی ہیں اُس کی ۔۔۔۔۔بولتی ہے تو اتنا میٹھا بولتی ہے ۔۔۔نخرے بھی کرتی ہے ۔۔۔۔۔
۔
وہ مسکراتا ہوا بہن کو گودی میں لیٹا آنکھیں بند کیے سب کچھ بتا رہا تھا ۔۔۔اُس کا ایک ایک لمحہ بتا رہا تھا ۔۔
۔
آپی آپکو پتا ہے اُس کی پریزنٹیشن تھی نا اتنا ڈری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔مجھے کہتی ہے میں نہیں دیتی ۔۔۔مجھے نہیں تیار ۔۔۔میں پھر نے ڈانٹا اُس کو ۔ ۔۔۔۔
۔
اُس نے ہستے ہوئے بہن کو بتایا ۔۔۔
۔
“بدتمیز وجی تم نے اُس کو ڈانٹا بھی ہے ؟”
۔
اب کی بار اُس نے بھائی کے سر پہ مارا اور مصنوئی سا خفا ہوئی ۔۔۔۔۔
۔
کون سا دل سے ڈانٹا میں نے وہ تو سب کلاس والوں کو بتانے کے لیے ڈانٹا۔ ۔۔۔۔پتا ہے میں ڈانٹ رہا تھا نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔اتنا پیار آتا ہے مجھے اُس کی اس معصومیت پہ آپی ۔۔۔۔آپی کوئی لڑکی اُس جیسی نہیں ہے ۔۔۔۔۔کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔
۔
وہ مسکراتے ہوئے بولتے چلے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“ہاں ہاں بلکل کوئی اُس جیسی نہیں تب ہی تو آپ نے اُس کی شان میں اتنا کچھ لکھا ہے “۔
۔
بہن نے خفا ہونے والے انداز میں کہا ۔۔۔۔
۔
“آپی آپ نے کدھر دیکھا کدھر پڑھا ؟ “
وہ بوکھلائے ہوئے انداز میں بہن کی گودی سے اوپر ہوا اور اُس کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔
۔
بیٹا آپ کی ڈائری پڑی تھی اُس دِن باہر تو بس وہی پڑھی ۔۔۔۔
کیا کچھ نہیں لکھا آپ نے اُس کے لیے یہ نہیں کہ بہن کے لیے بھی کچھ لکھ لوں …..
۔
وہ ہلکا سا خفا ہوئی اور منہ دوسری طرف کر دیا ۔۔۔۔
۔
اے میری پیاری بہن ایسا کیسے ہو سکتا ہے میں ملکہ کے لیے لکھوں اور اپنی بہن کے لیے نہ لکھوں ۔۔۔۔۔میں نے آپ کے لیے بھی لکھا ہے ۔۔۔۔۔صبر آپ کو بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔
۔
وہ اٹھا بھاگتا بھاگتا گیا اور الماری سے ڈائری لائی۔
۔
یہ دیکھیں آپی میں نے آپ کے لیے بھی لکھا ہے۔ یا مجھے دیں میں آپ کو پڑھ کے خود سنتا ہوں۔ ۔۔
۔
وہ ڈائری کھولے بہن کو سننے لگا اور بہن مسکراتے ہوئے بہت شوق سے سننے لگی
۔
۔جی تو جانب سنیے پھر۔۔۔۔
“میں اسکا آئنہ تھا!
وہ میرا ہی خد و خال رکھتی تھی
ٹوٹ کے بکھر جاؤں گر میں
وہ چن کے مجھ کو سمبھال رکھتی تھی
.
حوروں کی اس مشقت کو کروں کیسے بیان
ہٹایا بادلوں کو جس مشقت سے کے دیکھیں یہ سماں
زمین زاد ہے کے کوئی اپنے رب سے ہم کلام
پرری زادوں کو بھی جس پے رشک آے
ایسا کامل وہ ایمان با کمال رکھتی تھی
جو گر بھائی کے رقیبوں کا لہجہ گستاخانہ دیکھا
یا کسی محترمہ کو فریفتہ عاشقانہ دیکھا
پھر نہ پوچھیۓ کہ کیا قیامت ہوتی
اب کی بار تو بھائی کی بھی شامت ہوتی
۔
آنکھیں شعلہ طبیعت برہم گرجتے بادل خراب موسم
یقین مانیں کہ ایسا لگتا قتل کے سارے اوزار رکھتی تھی
معصومیت کا خود کو غسل دے کے
چہرے کے ڈمپل کو تھوڑا گہرا کر کے
دل مچل کے گویا باہر نکلا , ہوئی مجھ پہ سکتہ طاری
سوال زدہ تھی “بھائی ہوں نا پیاری؟”
اسے ندامتیں میری کب گوارہ تھیں
اسی لئے تو ہمیشہ آسان سا سوال رکھتی تھی
میں اداس ہوا نہیں کہ مصلّے کی پُشت پہ اس کے ہاتھ اٹھے
میرے چار سو دعاووں کی وہ ڈھال رکھتی تھی
میں اسکا آئنہ تھا ,
وہ میرا ہی خد و خال رکھتی تھی
ٹوٹ کے بکھر جاؤں گر میں
میری بہن چن کے مجھ کو سمبھال رکھتی تھی !!!!
۔
۔
۔
دیکھیں میں نے کیسا لکھا اپنی بہن کے لیے؟….اُس نے ڈائری سے نظر اوپر اٹھائی بہن کو دیکھا جس کا منہ آنسوؤں میں بھگ رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ وُہ اُس کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
۔
آپ رو رہی ہیں ؟ میں نے نہیں اچھا لکھا؟ ملکہ کے لیے بھی ایسا ہی لکھتا ہُوں آپی۔ ۔۔اِس سے اچھا نہیں لکھتا ۔آپ کو نہیں لگا اچھا آپی؟ خفا ہو گئی ہیں آپی؟ ۔۔
۔
وہ بھوکھلاۓ ہوئے بہن کی آنکھوں سے آنسوں صاف کرتا ہوا بولتا جا رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“تم میری جان ہو وجی “
اُس نے روتے ہوئے اُس کو اپنے دل سے لگایا اور ماتھا چومنے لگی ۔۔۔۔
بہت خوش قسمت ہُوں میں جس کے تم بھائی ہو۔ اور بہت خوش نصیب کے ملکہ جس کا تم نصیب ہو ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی چھٹیوں کے بعد آج پھر سے یونیورسٹی اوپن ہوئی تھی ۔۔۔وہ پورے راستے سے بس ایک ہی شخص کو سوچ رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ کیسے دیکھے گی اُنکو ۔۔۔۔۔کیا وہ جو اُس کے دل میں احساسات دفن ہیں وہ دوبارہ زندہ ہو جائیں گے ؟ وہ دوبارہ سے ایک ازیت اٹھائے گی ۔۔۔کیا کروں گی میں اللہ جی ۔۔۔۔وہ گاڑی کی سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھی بس اُسی کو سوچ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“زری صاحبہ اگر آپ نے کشمیر کو آزاد کروانے کا منصوبہ بنا دیا ہو تو اتر جائیں آپ کی یونی آ گئی ہے ۔۔۔”
۔
سلطان نے اُس کو ہلاتے ہوئے کہا جو پورے راستے سے آنکھیں بند کیے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔۔
۔
“جی ۔۔۔۔۔یونی آ گئی “
۔
اُس نے چونک کے آنکھیں کھولتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھا ۔۔۔۔۔
۔
“جی آ گی آپ کی یونیورسٹی “
۔
اُس نے یونی کے گیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“ٹھیک ہے جا رہی ہوں “
وہ خفا سی ہوتے ہوئے اُتری اور گیٹ کی طرف جانے لگی ۔۔۔۔
۔
جیسے ہی وہ گیٹ تک پہنچی اُس کے قدم روکے ۔۔۔۔وہی کھڑے ہو کے اُس نے دعا مانگی۔۔۔۔۔۔۔
“اللہ جی میں نے ایک نامحرم کا بھول جانا مانگا ہے آپ سے ۔۔۔آپ نے میرے دل میں نور ڈالا ۔۔اپنا آپ مجھے سونپا ۔۔۔۔اللہ جی اج میں اس راستے پہ کھڑی ہوں جدھر سے وجدان حسین گزرے گا ۔۔۔
۔
یا اللہ میں اُن کی راہ گزر پہ کھڑے ہو کے آپ سے دعا مانگتی ہُوں ۔۔میرے دل میں جو جذبات دفن ہیں وہ اُن پہ یا کسی پہ بھی ظاہر نہ ہوں ۔۔اُس کو نہ پتا چلے ایک زرمینہ گل بھی ہے جو رات رات بھر اُن کے لیے روئی ہے۔۔۔۔جو اُن کو ایک نظر دیکھنے کے لیے پل پل مری ہے۔ ۔۔
یا اللہ مجھے صبر دینا ۔۔۔مجھے صبر دینا میرے مالک “
۔
وہ آنکھیں بند کیے دعا مانگتی رہی اور پاس سے سٹوڈنٹس گزرتے گے .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے جیسے یونیورسٹی میں قدم رکھنے لگی اُس کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی ۔۔۔۔اُس کو وہ راستے آج بہت خوبصورت لگنے لگے۔ ۔۔ان راستوں سے وجدان گزرا ہو گا۔ وہ نیچے دیکھ کے بس یہی سوچتی رہی۔۔۔۔۔وہ تو اُس کا بھول جانا مانگ کے آئی تھی مگر اُس کا دل ۔۔۔۔۔۔وہ تو اُن راستوں کا چوم جانا مانگتا تھا ۔۔۔۔جدھر سے وجدان گزرا تھا ۔۔۔۔۔وہ چلتی جا رہی تھی ہر گزرتا اور آنے والا راستہ اُس کو ایک الگ ہی سُرور دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ سیڑھیوں سے بھاگتے بھاگتے چڑھتا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اُن سیڑھیوں سے گزرنے لگی ۔۔۔۔۔۔اُس کا دل چاہا وہ وہیں بیٹھ جائے اُس کو یہاں پہ محسوس کرے ۔۔۔اُس کی راہ گزر کو اپنے ہاتھوں سے چومے ۔۔۔
۔
وہ آہستہ آہستہ اُن سے گزرنے لگی ۔۔۔۔۔سیڑھیوں کے ساتھ لگی گریل پہ ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔۔۔اِدھر وجدان نے ہاتھ رکھا ہو گا ۔۔۔۔۔۔وہ اُس کے ہاتھ کا لمس محسوس کرنے لگی ۔۔۔۔۔
وہ اپنی ہی دنیا میں مگن اوپر جا رہی تھی کہ پیچھے سے آواز آئی ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ “
۔
وہ آواز فضہ کی تھی ۔۔۔۔۔اُس نے کافی دور سے اُس کو آواز دی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ ہزاروں میں ایک الگ پہچانی جاتی تھی ۔۔۔۔اُس کے کندھے پے پڑی چادر اُس کو ہزاروں میں منفرد کرتی تھی ۔۔۔۔
۔
فضہ کی آواز پہ وہ وہی روک گی ۔۔۔۔۔مگر پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا ۔۔۔۔وہ تو آگے جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔وہ تو اُس کو دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔جس کو دیکھے ایک عرصہ گزرا تھا ۔۔۔۔۔اُس عرصے میں نا جانے کتنے سالوں کا اُس نے ہجر کاٹا تھا ۔۔۔۔۔نا جانے کتنے آنسوں بہائے تھے۔۔۔۔۔۔نا جانے کتنی دفعہ اُس کو بُھول جانے کی دعا کی تھی۔ ۔۔۔۔۔
۔
اُس کے ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں سے اوپر جاتے ہی اُس کا آفس آتا تھا ۔۔۔۔۔وہ کیسی طرح وہاں تک پنچنا چاہتی تھی۔ ۔۔۔۔۔اُس کو ایک نظر دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی۔ اُس کو نہیں یاد تھا وہ کون ہے کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔اُس کو اپنی مانگی ہوئی کوئی دعا بھی نہیں یاد تھی ۔۔۔۔۔۔محبوب کے ہونے کا احساس ہی کچھ عجیب ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ کا محبوب آپ کے سامنے ہو تو کون کمبخت کچھ اور سوچے گا۔۔۔۔۔۔۔ہمارا ہر چیز پہ اختیار ہوتا ہے سوائے دل کے ۔۔۔۔۔۔ اور جب دل اپنا اختیار لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔تو بس انسان اُس کے سحر میں جکڑ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
فضہ نے اوپر آتے ہی اُس کو گلے سے لگایا ۔۔۔۔۔جس کی آنکھیں اُس آفس کے بند دروازے سے نکلنے والے ایک شخص کو دیکھنے کے لیے منتظر تھیں ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: