Hijab Novel By Amina Khan – Episode 22

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 22

–**–**–

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یار یونی میں کوئی فنکشن ہے سر وجدان آرگنائز کر رہے ہیں تو وہ چاہتے ہیں ہم اُن کے ساتھ ہیلپ کروائیں “
۔
ہانیہ نے کلاس میں کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔جیسے کوئی اعلان کر رہی ہو ۔۔
۔
“سر وجدان کچھ کہیں اور ہم اُنکی ہیلپ نا کریں ایسا ہو سکتا ہے کیا ؟”
سب کلاس والے پر جوش تھے کہ اُنکو سر وجدان کی ہیلپ کروانے کا موقع ملے گا ۔۔۔اُن کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملے گا ۔۔۔۔۔
۔
سب نے بہت خوشی سے حامی بھر لی ۔۔۔۔۔بس وہی چپ اپنی کُرسی پہ بیٹھی تھی ۔۔۔۔اسکو تو اُن کے سامنے بھی نہیں آنا تھا پھر اُن کے ساتھ کام کرنا ایک الگ بات تھی ۔۔۔۔وہ تو اُس سے دور بھاگنا چاہتی تھی۔ ۔۔۔پھر اُس کے قریب کیسے رہتی ۔۔۔
۔
“اسلام علیکم “
وہ سوچوں میں ہی گُم تھی کہ وُہ کلاس میں آیا اج اُس نے گرے جینز کے اوپر بلیک کوٹ پہن رکھا تھا ۔۔۔۔سردیاں اپنے عروج پہ تھیں اور اُس کو سردی لگتی بھی کچھ زیادہ ہی تھی ۔۔۔وہ ہر طرح سے خود کو کور رکھتا تھا تا کہ سردی اُس تک نہ پہنچ سکے ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے آتے ہی سب کو سلام کیا
۔
“وعلیکم السلام سر “
سب نے بہت پر جوش طریقے سے جواب دیا ۔۔۔۔
۔
“میں آپ سے ایک بات کرنے آیا ہوں ۔۔۔کل فنکشن ہے یونی میں ۔آپ کے ڈیپارٹمنٹ کا نہیں ہے ۔۔۔آپ لوگ میری موسٹ فیورٹ کلاس ہیں تو میں چاہتا ہوں میرے ساتھ آپ لوگ ہیلپ کروائیں ۔۔۔۔اور آپ لوگ بھی کل ہمیں جوائن کریں “
۔
اُس نے بغیر کسی تمہید کے اپنی بات کی ۔۔۔۔
۔
“اور جو جو میرے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں وہ آ جائیں میں اُنکو بتا دیتا ہوں ہم نے کیا کرنا ہے “
۔
سب خوشی خوشی اُس کے ساتھ جانے کو تیار ہو گے ۔۔سوائے اُس ایک کے ۔۔وہ وہیں پہ چپ بیٹھی رہی جیسے اُس نے کچھ سنا ہی نہیں اُس کو کوئی دلچسپی ہی نہیں ۔
۔
“سر آپ ہمیں یہیں بتا دیں ہم یہاں پہ ہی ڈیکوریشن کا کچھ کام کر لیتے ہیں “
۔
ارم نے اُس کے پاس آتے ہوئے کہا …..
۔
ٹھیک ہے میں یہاں ہی آپ کو میٹریل لا دیتا ہُوں آپ سب یہیں پہ کر لیں کام ۔۔۔۔۔پھر جب تیار ہو جاۓ سب تو ہم حال میں لگا دیں گے”
۔
یہ کہتا ہوا وہ وہاں سے گیا اور کچھ دیر بعد ہاتھ میں چاٹ اور باقی ساری چیزیں لے کے آیا جو اُس کو لگانی تھیں ۔۔۔۔۔
۔
۔
وہ سب کو ایک ایک چیز نکال کے بتاتا رہا یہاں سے ایسے کرنا ہے۔ ایسے کاٹنا ہے ۔۔۔۔۔۔
سب بہت غور سے اُس کو دیکھنے لگے جیسے سمجھ رہے ہوں اُس کی کہی ہوئی ایک ایک بات۔۔۔۔۔۔
۔
اُس کے وہاں سے جاتے ہی سب نے کام شروع کر دیا سوائے اُس کے ۔۔۔۔۔۔اُس نے تو دیکھا تک نہیں تھا کیا کرنا ہے ۔اُس نے تو سنا بھی نہیں تھا وہ کیا کہے کر گیا ہے۔۔۔۔۔۔وہ نظریں جھکائے بس بیٹھی رہی جیسے بس اُس کا وجود ہی وہاں پہ ہو اور وہ کہیں دور کسی اور ہی جگہ ہو۔۔۔۔
۔
سب کام کرنے لگے اور جلد ہی اُکتا بھی گے جو اُس کے سامنے کچھ دیر پہلے بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے ، بہانے بنا کے کلاس سے باہر جانے لگے ۔۔۔۔۔اب بس چار پانچ لوگ ہی تھے جو کلاس میں موجود تھے۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
وہ بار بار وہاں آتا اور کام کو ایک نظر دیکھتا ۔اُس کو اپنے ہر کام میں پرفیکشون چائیے ہوتی تھی ۔وہ ہر کام ایسے کرتا تھا جیسے کوئی غلطی کی گنجائش نہ رہے ۔۔۔۔۔
۔
اب وہ خود کلاس میں سٹوڈنٹس کے ساتھ بیٹھ کے کام کرنے لگا تھا ۔۔۔۔ کھبی ایک کے ساتھ کرتا اور کھبی دوسرے کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
۔
“فضہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں چلو یہاں سے “
۔
اُس نے فضہ کو ہاتھ سے پکڑتے ہوئے کہا جو چارٹ کاٹنے میں لگی ہوئی تھی ۔۔
۔
“زری پاگل ہو گی ہو ؟ آگے ہی سب بھاگ گے ہیں ہم گنے چنے ہوئے کوئی پانچ لوگ ہیں ۔وہ بھی چلے جائیں ۔سر کو کتنا برا لگے گا “
۔
فضہ نے بغیر اُس کی طرف دیکھے ایک ہاتھ میں کینچی پکڑی اور دوسرے میں چاٹ ۔۔۔۔اور کاٹتے ہوئے کہنے لگی ۔
۔
“لیکن فضہ میں تنگ ہو رہی ہوں یہاں”
اُس نے ہے بس سے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔وہ اپنے اندر کی بےچینی کو کسی پہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔وہ بار بار وہاں آتا اور بار بار اُس کو ایک نئی تکلیف سے گزرنا پڑتا ۔۔۔۔۔وہ اُس کرب سے دُور جانا چاہتی تھی
۔
“بیٹا آپ اگر کچھ کر لیں تو نہیں تنگ ہوں گی ۔۔۔۔۔یہ پکڑو چاٹ اور اس پہ لائنز لگاؤ “
۔
فضہ نے اُس کے ہاتھ میں چاٹ دیا اور خود پھر کام کرنے لگ گئی ۔۔۔۔۔
۔
“کس کے ساتھ لائنز لگاؤں میں؟”
اُس نے چاٹ پکڑے ہوئے بیزاری سے کہا ۔۔۔۔
۔
“صبر سر آتے ہیں تو کہتی ہُوں میں اُنکو پنسل دیں ۔۔۔۔ہمارے بیگ سے پن نکل جائیں تو بڑی بات ہے”
۔
وہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی کہ وہ دروازے سے اندر آیا ۔۔۔۔۔
۔
“سر پنسل چاہیئے ایک”
فضہ نے اُس کو وہیں سے کہا ۔
۔
“میں لاتا ہوں”
وہ مسکراتا ہوا وہیں سے واپس ہوا اور ایک پنسل کے ساتھ اندر آیا ۔۔۔۔
۔
“یہ لیں پنسل “
اُن کے پاس کھڑے ہوتے ہی اُس نے پنسل اگے کی ۔۔
۔
“زری سر کے ہاتھ سے پنسل لینا”
فضہ نے زرمینہ کو کہا اُس کے ہاتھ میں چاٹ اور کینچی پکڑی تھی تو وہ نہیں لے سکتی تھی۔ ۔۔
۔
وہ جو نظریں جھکائے ، بے قابو دھڑکنوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ ایک دم چونکی اور فضہ کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔جس نے آنکھوں کے اشارے سے ایک بار پھر پنسل لینے کا کہا۔۔۔۔۔۔۔
۔
وہ اُس کی طرف موڑی جو ہاتھ میں پنسل پکڑے نظریں فضہ کے چارٹ پہ رکھے کھڑا تھا
۔
اُس نے اُس کے ہاتھ سے پنسل لی اور اُس پنسل کو دیکھتی رہی جس پہ اُس کی انگلیوں کے نشان تھے ۔۔۔۔جس نے اس کو چھوا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اُس پنسل کو پاس رکھنا چاہتی تھی ہمیشہ کے لیے ۔جس کو اُس نے ہاتھ لگایا تھا ۔۔۔۔۔کتنی قیمتی ہے یہ پنسل جو اُس کے ہاتھ سے میرے ہاتھ میں آئی ہے ۔۔۔۔اُس نے بہت پیار سے وہ پنسل پکڑی اور اپنی آنکھوں پہ لگائی۔ ۔۔۔
۔
“شاید محبوب کی ہر شے ہی بے مول ہوتی ہے جو اُس کے ہاتھ سے ہو کے گزرے اُس کی قیمت کوئی نہیں لگا سکتا”
۔
“زری “
اُس نے اُس کو میز پہ بازو رکھے ، آنکھیں بند کیے ہاتھوں میں پکڑی پنسل کو آنکھوں کے ساتھ لگائے دیکھا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا سوچ رہی ہو زری”
“کچھ نہیں “
“تو اب تو پنسل مل گی نہ اب تو کر لو کام “
“ہاں کر رہی ہوں نا”
“نظر تو نہیں آ رہا مجھے”
“اب میں تھماری طرح دیکھا دیکھا کے کرنے سے رہی”
“مر جائیں آپ تو زرمینہ گل”
“آمین”
“دفاع ہو جاؤ مذاق میں کہا ، آمین کہنے کی ضرورت نہیں تھی آگے سے”
“اب میں کر لوں کام…پھر بولو گی کام نہیں کرتی “
“کر لیں جناب”
اُس نے اسکو مسکراتے ہوئے دیکھا جو پنسل ہاتھ میں لیے اب لائن لگا رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔”زرمینہ یونیورسٹی کیسا جا رہا ہے تمھارا ؟”
دادی اماں نے اُس کے سر پہ تیل لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“اچھی جا رہی ہے اماں جی “
اُس کو ہمیشہ سے اپنے سر میں تیل سے مالش کروانا بہت اچھا لگتا تھا ۔۔
۔
کوئی ہلکا سا بھی اُس کے بالوں میں ہاتھ پھرے وہ ایک دم سو جایا کرتی تھی ۔۔۔اُس کو ایک عجیب سا سکونِ ملتا تھا ۔۔۔
۔
“یہ تم نے اپنے بالوں کا کیا حال کر لیا ہے ؟..انکو تم دھوتا بھی ہے یا ایسے ہے باندھ دیتا ہے۔اور اوپر دوپٹہ لپیٹ لیتا ہے۔
۔
وہ اُس کا ایک ایک بال اوپر کرنے لگیں ۔۔۔اور ساتھ ساتھ تیل اُس کے بالوں میں ڈالنے لگیں
۔
“اماں جی دھوتی ہُوں”
اُس نے آنکھیں بند کیے اُنکے گٹھنوں کے ساتھ سر لگاتے ہوئے مسکرا کے کہا ۔۔۔
“یہ بالوں کا بہت خیال رکھا کرو اپنے ۔اتنے خوبصورت بالوں کو چڑیا کا گھونسلا بنا کے رکھ دیا ہے “
۔
“بس دادی اماں آپ روز ایسے ہی مالش کیا کریں تو ٹھیک ہو جائیں گے “
۔
“تم اپنے کمرے سے نکلے تو ہم مالش کرے نا۔۔۔۔۔۔کیا بات ہے تمہیں جب سے یونیورسٹی گیا ہے کمرے سے باہر بھی نہیں نکلتا “
۔
انہوں نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی حرکت روکی اور اُس سے پوچھنے لگیں ۔۔۔
۔
“کچھ نہیں دادی اماں کام ہی بہت ہوتا ہے یونی کا تب ہی کمرے میں ہوتی ہوں”
۔
اُس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے دُکھتے دل کے ساتھ کہا ۔۔۔۔میں اب آپکو کیا بتاؤں اماں جی ۔اُس نے دل ہی دل میں کہا !!
۔
“اپنا خیال رکھا کرو زرمینہ گل “
اماں قہوہ کی پیالی ہاتھ میں لیے ہوئے آئیں اور اُس کے پاس کرسی پہ بیٹھیں !
۔
“رکھتی ہُوں اماں”
۔” تب ہی شکل کا یہ حال بنا رکھا ہے تم نے نا”
“اچھی بھلی تو ہے اماں”
اُس نے خفا ہوتے ہوئے ماں کو کہا اور قہوہ پینے لگی ۔۔
۔
“اچھی بھلي ہوتی تو ہم نہ کہتے نا”
آئندہ رکھوں گی اماں آپ پریشان نا ہوا کریں !!
۔
“اب اجازت دیں تو میں کمرے میں چلی جاؤں ، کچھ پڑھنا ہے “
۔
وہ اُن کے سوالوں سے بچنا چاہتی تھی۔ ہاتھ میں کپ پکڑے وہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی اور کمرہ بند کر دیا ۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تہجّد کی نماز کے لیے اٹھی ، اُس کو ہمیشہ سے بہت ٹھنڈ لگتی تھی ۔اور سردیوں میں تو وہ آگ کے پاس سے اٹھتی نہیں تھی ۔۔۔۔
۔ ہر نماز کے لیے وہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرتی تھی۔۔۔ اُس وقت اُس کو ٹھنڈ کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ وہ ٹھنڈ میں یا برف میں وضو بنا رہی ہے۔
۔
مانسہرہ کا موسم ہی کچھ ایسا ہوتا ہے سردیوں میں شدید سردی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ہر طرف پہاڑوں پہ سفیدی ہی سفیدی ہوتی ہے ۔جیسے کسی نے پہاڑوں پے سفید روئی بلکل صاف ستھری لا کر رکھ دی ہو ۔۔۔جیسے نیلے آسمان پہ سفید بادلوں نے گھر کر لیا ہو ۔۔۔
۔۔
سردیوں میں مانسہرہ میں ٹھنڈ ہی کچھ شدید پڑتی ہے۔ ۔۔جیسے کوئی ٹھنڈے پانی سے ہاتھ لگائے گا تو لگانے سے پہلے اُس کے تصور سے ہی کانپ جائے گا ۔۔۔
۔
اُس کو لگتا تھا جب بھی وہ ٹھنڈے پانی سے وضو بنا کے تہجد پڑھتی ہے اللہ پاک بہت خوش ہوتے ہیں۔ ۔۔۔۔وہ اُس کے اور قریب آتے ہیں اُس سے باتیں کرتے ہیں ۔اُس پہ ہستے ہیں گرم پانی جب موجود ہے تو بھی یہ پاگل لڑکی ٹھنڈے پانی سے وضو کرتی ہے کہ میں خوش ہو جاؤں ۔۔۔
۔
وہ ہمیشہ اللہ جی سے دوستوں کی طرح بات کرتی تھی۔ اُس کو بہت حیرت ہوتی تھی یہ جو لوگ اللہ پاک کے عذاب کا ذکر کرتے ہیں وہ کیوں کرتے ہیں ۔۔۔۔؟۔
۔
“میں تو کھبی نہیں اللہ جی کے عذاب کا ذکر کروں ۔۔۔۔وہ تو کسی کو کچھ نہیں کہتے ہیں ۔۔۔وہ تو ہم سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔میں کتنی خوشنصیب ہوں اللہ پاک نے مجھے بھی چونا ہے ۔۔۔مجھے بھی بنایا ہے ۔۔۔۔۔اور میرے اندر خود روح پھونکی ہے ۔۔ اس سے بڑی بات اور کیا ہو گی ہمارے اندر جو روح پھونکی ہوئی ہے وہ اُس ذات نے خود پھونکی ہے
۔
۔۔۔یہ جو لوگ مر جانے کی دعائیں مانگتے ہیں نا جانے کیا سوچ کے مانگتے ہیں ۔۔۔اُن کو خود پہ رشک کیوں نہیں آتا کہ اللہ نے اُن کو انسان پیدا کیا ہے ۔۔۔ساری مخلوقات سے افضل پیدا کیا ہے ۔۔۔۔یہ جو لوگ خود کو کالا کہتے ہیں، خود کو بدصورت سمجھتے ہیں، اپنی ہر کمی پہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں دوسروں کو ہمیشہ خود سے اچھا سمجھتے ہیں ۔۔۔۔وہ یہ بات کیوں نہیں دیکھتے کیوں نہیں سوچتے کہ اللہ نے اُن میں کتنی کوئی اور چیزیں کتنی قابلیت رکھی ہوئی ہو گئی ۔۔۔۔ اگر وہ کالے ہیں تو اُن میں کتنی کشش ہو گی ۔۔۔۔نا جانے لوگ خود کو کیوں نہیں دیکھتے؟ ہمیشہ دوسروں کو ہی کیوں دکھتے ہیں؟ “
اللہ جی آپ کسی ایک کے تو نہیں ہیں نا آپ تو سب کے ہیں ۔جتنی محبت آپ مجھ سے کرتے ہیں اتنی ہی محبت آپ اُن لوگوں سے بھی تو کرتے ہیں جو ابھی سوئے ہوئے ہیں تہجّد کے لیے نہیں اٹھے ۔۔۔
۔
۔۔۔پھر کیسے ہو سکتا ہے آپ کسی میں کچھ ایک کمی چھوڑ دیں اور اُس کو کسی اور چیز سے نہ نوازیں ۔۔۔۔۔۔ہر انسان میں آپ نے کچھ نہ کچھ تو ایسا رکھا ہوتا ہے جو اُس کو دنیا سے الگ کرے ۔۔۔پھر ہم لوگ خود کی وہ چیز کیوں نہیں ڈھونڈتے ہم دوسروں کو کیوں حسد بھری نظر سے دیکھتے ہیں”
۔
وہ ہمیشہ تہجد پڑھنے کے بعد اللہ جی سے باتیں کرتی تھی۔ اُن کو ہر بات گن گن کے بتاتی تھی۔ ۔آج بھی ہمیشہ کی طرح سر کو گٹھنوں پہ رکھ کے اللہ پاک سے باتیں کر رہی تھی ۔۔جیسے وہ اُس کے سامنے بیٹھے ہوں اُس کو بہت غور سے سُن رہے ھوں ۔اُس کی باتوں پہ مسکرا رہے ہوں……
۔
اللہ جی ہم کتنے خوش نصیب ہیں نا ہم کس نبی کی اُمت ہیں ۔۔۔۔جو راتوں کو رو رو کے بس اُمتی اُمتی کرتا تھا ۔ہم یہ چیز کیوں نہیں دیکھتے اللہ جی ۔ہم کیوں نہیں سوچتے کے ہماری زبان پہ کلمہ حق ہوتا ہے ۔۔۔۔ہم کیوں اپنی یہ خوشنصبی کیوں نہیں دیکھتے۔۔۔۔ہم یہ ہی کیوں دیکھتے ہیں کسی کے پاس اچھا گھر ہے تو ہمارے پاس کیوں نہیں ہے ۔۔۔۔۔کوئی بہت خوبصورت ہے تو ہم کیوں نہیں ہیں ۔۔۔۔کوئی اچھا بولتا ہے تو ہم کیوں نہیں بولتے ۔۔۔۔۔
۔
کوئی یہ کیوں نہیں کہتا اللہ جی کہ وہ بندہ اللہ سے بہت محبت کرتا ہے کتنا بڑا عشقِ مصطفیٰ ہے ۔۔۔تو ہم کیوں نہیں ہیں؟ کوئی آپکی اور آقا جانی کی محبت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیوں نہیں کرتا ۔۔۔۔؟
۔
۔
یہ لوگ دولت اور شہرت میں ہی کیوں مقابلہ کرتے ہیں ۔۔۔یہ محبت میں بھی تو مقابلہ کریں نا ۔بولیں نا یہ بہت بڑا عاشق رسول ہے ہم اس سے بڑے عاشق بن کے بتائیں گے ۔یہ بد بخت ایسا کیوں نہیں کہتے۔۔۔۔۔۔؟
۔
وہ جب بھی ایسا سوچتی اُس کو ایک درد ہوتا ۔۔۔۔ایسا درد جس کا کوئی نام نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔اور اُس کی آنکھوں سے مسلسل آنسوں رواں ہوتے ۔۔۔۔
۔
اُس کو نبی پاک سے دیوانوں کی سی محبت تھی ۔جہاں بھی اُنکا نام لیا جاتا وہ اپنے اشکوں سے اُس محبت کا اظہار کرتی ۔۔۔۔اُس کا ہمیشہ دل چاہتا سرکار کی وارفتگی میں اُس پہ حال کا غلبہ طاری ہو جائے اور لوگ اُس کو نبی کا دیوانہ کہے کر پکاریں ۔۔۔
“ہر دل کی دوا درد عشق ہے، عشق کے بغیر کوئی مشکل حل نہیں ہوتی “
۔
اللہ جی آقا جان سے تو محبت آپ نے کی ہے ۔۔۔ہم ادنا سے لوگ اُن سے کیسے محبت کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ہم تو اُن سے محبت کا پیمانہ ناپ ہی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔وہ تو آپکے محبوب ہیں اللہ جی ۔۔۔۔۔ہم تو اس قابل بھی نہیں اپنی گناہگار زبان سے آپکے محبوب کا نام بھی لے سکیں ۔۔۔اللہ جی بس مجھے اُن کی محبت میں سرشار کر دیں ۔۔۔مجھے اُن کے علاوہ کوئی نظر نہ آئے ۔۔۔۔۔تیرے محبوب سے محبت ہو گی تو تب ہی تو توں خوش ہو گا نا میرے مالک ۔۔۔۔۔محبوب ملا تب ہی تو توں ملے گا ۔۔۔۔۔
۔
وہ ہر نماز کے بعد رسولِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی محبت مانگتی تھی۔۔۔۔۔۔اُن کا دیدار منگتی تھی ۔دنیا میں ہی جنت کی زیارت مانگتی تھی ۔۔۔ ۔
۔
کیا جانے کوئی عظمت و رفعت رسول کی!
اللہ جانتا ہے حقیقت رسول کی !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ تھوڑا لیٹ ہو گیا اُس کا دل بس آج کے فنکشن میں ہی تھا۔ ۔۔۔وہ کوئی کمی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہیں بھی کمی ہو اور اُس پہ کوئی بات کرے۔ ۔۔۔۔
۔
وہ لاکھ کوشش کے باوجود بھی جلدی نہیں پھونچ سک رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس نے ایک میسیج لکھا اور اُن سب کو بجھ دیا جو اُس کی ہیلپ کروا رہے تھے ۔۔۔۔۔اُس کو پتا تھا سب لوگ جلدی آ جاتے ہیں یونیورسٹی ۔۔۔۔۔اُس نے گروپ میں سے ہی نومبر نکالے اور ایک میسج لکھ کے سب کو فارورڈ کر دیا ۔۔۔۔جس میں ایک نمبر زرمینہ گل کا بھی تھا ۔۔۔
۔
۔
اُس کا موبائل ہاتھ میں ہی پکڑا تھا ۔۔اُس کا موبائل بجھا اُس نے what’s app کھولا اور وہیں پہ ہی ساکت ہو گئی۔ جیسے وہ وہاں سے ہل نہیں سکے گی ۔اُس کی نظر اُس نام پہ ہی اٹک کر رہے گی۔۔۔۔۔۔جس سے میسیج آیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
وہ کچھ وقت تک بس سکرین پہ لکھے اُس نام کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔پھر اُس کی نظر اُس میسیج پہ پڑی جو اُس نے بھیجا تھا ۔
” میں لیٹ ہو جاؤں گا آپ اسٹیج کو فائنل کر لیں سب ، کرسیاں بھی جگہ جگہ پہ صحیح کر کے رکھوا لیں” ۔
۔
اُس نے اُس کا لکھا ہوا میسیج وہیں کھڑے کوئی اٹھ بار پڑھا ۔۔۔۔۔وہ اب بھی بغیر پلکیں کو چھپکاۓ ہاتھ میں موبائل اٹھائے وہاں کھڑی بس اُس میسیج کو دیکھتی رہی “
۔
۔
“سر کا میسیج آیا ہے وہ کہے رہے ہیں وہ لیٹ ہو جائیں گے آنے میں “
ہانیہ نے موبائل کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے سب کو سر کا میسیج سنایا ۔۔اُس کو بھی بلکل وہی میسیج لکھا تھا جو اُس کو لکھا گیا تھا ۔۔۔
۔
اُس نے اپنے آنکھوں کی نمی کو چھپاتے ہوئے موبائل کو اپنے بیگ میں ڈال دیا ۔۔۔اُس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ خوش ہو کہ اُس کے محبوب نے اُس کو میسیج کیا ہے ۔یا پھر دُکھی ہو کہ اُس نے وہی میسیج باقی سب کو بھی کیا ہے ۔۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر کا میسیج تو مجھے بھی آیا ہوا ہے “
فضہ نے کلاس کے باہر پڑی کُرسی پہ بیٹھ کے کہا ۔۔۔۔اور اُس کو میسیج دکھانے لگی ۔جس نے اپنا موبائل بیگ میں ڈال رکھا تھا ۔وہ کسی کو اُس کا کیا ہوا میسیج نہیں دیکھانا چاہتی تھی۔ وہ اُس کو سب سے چھپا کے اپنے دل میں رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کوئی اُس کا کیا ہوا میسیج اُسکے موبائل میں پڑھے ۔بیشک اُس نے اُس کے علاوہ بہت سارے لوگوں کو میسیج کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ پھر بھی وہ اُس کو سب سے چھپانا چاہتی تھی ۔۔۔
۔
“مگر ہانیہ صاحبہ نے تو ایسے اعلان کیا جیسے سر نے بس اُس کو ہی میسیج کیا ہو “
فضہ نے منہ بناتے ہوئے اُس کو کہا جو اپنے بازوں باندھے پاؤں کُرسی پہ رکھے دیوار کے ساتھ سر سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔۔۔
۔
“دفاع کرو فضہ ، کہنے دو اسکو “
اُس نے دُکھی سے دل کے ساتھ اُس کو کہا اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے زری ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمھاری ؟”
اُس نے اُسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔جو بازوں باندھے بیٹھی تھی ۔۔۔
۔
“کچھ نہیں مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے فضہ”
۔
“اسلام علیکم سر “
فضہ نے اپنے پاس کھڑے وجدان کو دیکھا اور ایک دم کھڑے ہو کے اُس کو سلام کیا ۔۔۔۔
۔
“وعلیکم السلام “
اُس نے مسکرا کے سلام کا جواب دیا ۔اور ایک نظر اُس کو دیکھا جو ہاتھ باندھے ،پاؤں کُرسی پہ رکھے, آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی …..
۔
“فضہ آپ لوگ اندر ہی آ جائیں”
۔
۔۔۔اُس نے فضہ کو کہنے کے بہانے اُس کو کہا ۔۔۔۔جس کو اُس نے کہتے سن لیا تھا مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے ۔۔
۔
یہ کہے کر وہ اپنے آفس میں گیا ۔۔۔۔۔اور ہیٹر ہاتھ میں لیا ہوا دروازے سے باہر نکلا اور حال میں چلا گیا ۔۔۔
۔
“سر نے کہیں سن لیا تھا کہ تمھیں ٹھنڈ لگ رہی ہے؟ “
فضہ نے اُس کے ہاتھ میں ہیٹر دیکھتے ہوئے اُس سے پوچھا جو حیرت سے اُس کو جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
۔
“میرے لیے وہ ہیٹر کیوں لے کے جائیں گے “
اُس نے نظریں جھکائے ہوئے سوچنے والے انداز میں اُس کو کہا ۔۔۔۔جو اب بہت کچھ سمجھ چُکی تھی ۔۔۔۔
۔
“اچھا چلو اب چلتے ہیں اندر ۔فنکشن شروع ہو گیا ہے “
اُس نے اُسکا ہاتھ پکڑا اور حال میں گئی ۔۔۔۔وہاں پہ ساری جگہ بھری ہوئی تھی وہ دونوں اِدھر اُدھر دکھنے لگی۔
۔
“فضہ یہاں تو جگہ ہی نہیں چلو جاتے ہیں واپس”
۔
اُس نے جیسے ہی اسکو دروازے پہ کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ، اپنی جگہ سے ایک دم اٹھا اور اُنکو اُدھر جانے کا اِشارہ کیا جہاں ہیٹر رکھا تھا ۔
وہ سب سے سیٹ پہ گئیں اور وہاں بیٹھ گئیں ۔جو شاید اُس سے ان دونوں کے لیے ہی خالی چھوڑی ہوئی تھیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: