Hijab Novel By Amina Khan – Episode 23

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 23

–**–**–

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زری موبائل بج رہا ہے تمھارا شاید کوئی میسیج آیا ہے “
۔
امی نے کچن کے دروازے پہ کھڑے ہو کے اُس کو آواز دی ۔۔۔
۔
“اماں میں روٹی بنا لوں دیکھتی ہوں “
اُس نے ہاتھ پہ پکڑی روٹی کو توے پہ ڈالتے ہوئے کہا ۔۔اور دوبارہ سے اٹا اٹھانے لگی ۔
۔
“دیکھ لو کہیں کوئی بھائی نا ہو ، شہاب کہے رہا تھا آنے میں دیر ہو جائے گی۔ کہیں اُسی نے نا میسیج کیا ہو “
۔
“جی میری جانِ جاناں دیکھتی ہوں نا “
۔
اُس نے اونچا سا مسکراتے ہوئے کہا تاکہ باہر کھڑی ماں کو آواز جائے ۔۔۔۔
۔
“زری مسکے لگنا کوئی تم سے سیکھے “
اماں مسکراتی ہوئی موبائل لے کے اندر آئیں اور اُس کے سر پہ پیار سے مارا ۔۔
۔
“لو جی یہ مسکے ہیں یہ تو میری محبت آپ کے لیے “
اُس نے مصنوئی سا خفا ہوتے ہوئے ماں کے ہاتھ سے موبائل لیا اور دیکھنے لگی ۔۔۔
۔
اُن کے نینهال میں لڑکیوں کو گھروں سے باہر جانے کی اجازت بیس سال پہلے بھی نہیں تھی اور آج بھی ۔۔۔لڑکیاں گھروں کے اندر ہی رہتی تھیں ۔۔۔۔اور تعلیم کا تو کوئی روہجان ہی نہیں تھا ۔بیٹا جتنی مرضی پڑھے ۔مگر بیٹی گھر کے اندر چاردیواری میں رہے ۔۔۔اور جو لڑکیاں شادی کر کے اُنکے گھر آتیں اُن کا منہ چار پانچ سال تک کوئی خاندان والا نہیں دیکھتا تھا ۔۔۔۔وہ گھر سے نکلتے ہوئے باقاعدہ ٹوپی والا برقع لیا کرتی تھیں۔۔۔۔۔
اُس کی بھی والدہ تب ہی پڑھ نہیں سکی تھیں ۔۔۔۔تب ہی جس کا موبائل بجتا تو بچوں کو لا کے دیتیں ۔۔۔۔کوئی ضروری میسیج نا ہو ۔۔۔
۔
اُس نے جیسے ہی موبائل کھولا ۔۔۔۔what’s app پہ میسیج تھا ۔۔۔۔۔۔۔میسیج دیکھتے ہی اُس کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گی ۔۔۔۔اُس کو لگا جیسے اُس کا دل دھڑکنا بھول گیا ہے ۔۔۔۔اُس کی سانسیں روک گئیں ہیں ۔۔۔۔آنکھیں پلکیں چھپکنا بھول گئی ہیں ۔۔۔۔۔ہاتھوں نے حرکت روک دی ہے۔۔۔پاؤں اب کھبی اگلا قدم نہیں اٹھا سکیں گے ۔۔۔زبان اب بول نہیں پائے گی ۔۔۔۔۔
۔
“زری ۔۔۔۔۔۔روٹی جلا دی تم نے “
اماں جلدی جلدی روٹی کو پلٹنے لگی ۔۔۔۔۔۔اور وہ بے جان سی چولے کے سامنے کھڑی اُس میسیج کو دیکھتی رہی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞
ترجمہ:
اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیتِ نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے
۔
وہ مسجد میں بیٹھا سورۃ الاحزاب کی تلاوت کر رہا تھا۔۔۔۔۔اہلِ بیت سے اُس کو دنیا کی ہر چیز سے ہر شخص سے زیادہ محبت تھی ۔۔۔۔اُس کو لگتا تھا جو اُس کے سینے میں دل دھڑک رہا ہے تو وہ اہلِ بیت کی محبت میں دھڑکتا ہے ۔۔۔۔۔اُس کی ہر سانس علی کہتی ہے حسن کہتی ہے حسین کہتی ہے ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے با آواز بلند سورت الاحزاب کی تلاوت کی ۔۔۔۔اور اس سورت پہ آ کے روک گیا ۔۔۔جیسے اب اسکو سوچنا ہو ۔۔۔۔وہ ہمیشہ اہلِ بیت کے ذکر پہ روک جایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔اُس پہ سوچا کرتا تھا ۔۔۔۔۔
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی سے محبت کرتا تھا تو وہ اہلِ بیت تھے ۔۔۔جن سے اُس کو محبت سے زیادہ عشق تھا ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ اہلِ بیت کی بات کرتا تھا ۔۔۔۔اُس کو اچھا لگتا تھا وہ بولے اہلِ بیت پہ اور لوگ سنئیں ۔۔۔ یا لوگ اہلِ بیت کی محبت میں بولیں اور وہ سنے ۔۔۔۔۔
۔
وہ علی والوں کی محفل میں بیٹھ کے علی کا نعرہ بلند کرتا تھا ۔۔۔۔جہاں دیکھا کوئی علی رضی اللہ تعالیٰ کی شان میں بول رہا ہے قصیدہ پڑھ رہا ہے تو وہ جُھوم جاتا ۔۔۔۔۔اور مسلسل جھومتا رہتا ۔۔۔۔اُس کا دل اُس کا دماغ اُس کی زبان بس علی علی کرتے ۔۔
۔۔۔
۔۔وہ اہلِ بیت کا عاشق تھا اور دنیا کو بتاتا بھی تھا ۔اُس کی محبت کرنے کا انداز ہی کچھ ایسا تھا ۔۔۔۔۔وہ محبت کو دیکھنا جانتا تھا ۔۔۔۔۔وہ محفل میں بیٹھ کے نعرہ بلند کرنا جانتا تھا ۔وہ ہاتھ اٹھا کے دات دینا جانتا تھا ۔اُس کو علی کے نام پہ جھومنا آتا تھا ۔۔۔۔۔
وہ چاہتا تھا جتنی محبت وہ اہلِ بیت سے کرے اُتنی ہی سب کریں ۔جیسے وہ محبت کا اظہار کرتا ہے ویسے سب کریں ۔۔۔۔۔جیسے وہ اہلِ بیت کے ذکر پہ جُھوم جاتا ہے سب اُس کے ساتھ جھومیں ۔۔۔۔۔وہ کوئی ملنگ نہیں تھا وہ عاشق تھا ۔۔۔۔۔جب وہ جھومتا تو لوگ اُس کو دیوانہ کہتے ۔۔۔۔کچھ لوگ اُس کی اِس دیوانگی پہ رشک کرتے اور کچھ باتیں ۔۔۔۔۔
۔
۔
“مولوی صاحب یہ جو لوگ اہلِ بیت سے محبت نہیں کرتے کیا یہ جنت میں جائیں گے ؟ “
وہ قرآن پاک بند کر کے مولوی صاحب کے پاس گیا جو میمبر کے پاس بیٹھے آنکھیں بند کیے تسبی کے دانے ہاتھوں سے ادھر اُدھر کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
۔
“وجدان دنیا میں ایسا کون سا شخص ہو گا ۔۔جو محبوب کی اولاد سے محبت نہیں کرے گا
۔۔۔۔اگر جس نے نبی کریم سے محبت کی اُن کی اولاد سے نہ کی ۔اُن کے لیے بغض رکھا تو کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے خوش ہوں گے ۔۔۔۔۔اگر تمہارے والد صاحب سے کوئی محبت کرے گا اور تم سے بغض رکھے گا ۔۔۔تو کیا اُنکا دل اُس شخص سے خوش ہو گا؟ کیا وُہ اس شخص کو عزت دے پائیں گے جو اُنکی اولاد سے محبت نہیں کرتا ؟
۔
ایسا نہیں ہوتا وجدان ۔۔۔۔ایک باپ ہمیشہ یہی چاہتا ہے لوگ اُس سے زیادہ اُس کے بیٹے کو اُس کی بیٹی کو عزت دیں ۔۔۔۔۔جب ایسا ہوتا ہے تو وہ بھی خوش ہوتا ہے ۔۔۔۔
۔
جو لوگ نبی کریم سے محبت کرتے ہیں اُنکی اولاد سے نہ کریں تو کیا وہ خوش ہوتے ہیں؟
۔
وجی !
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” جس نے اِن دونوں یعنی حسن اور حسین علیہ السّلام سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی ، جس نے اِن سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا “
۔
اب وجی جب نبی پاک خود کہے گیں ۔۔۔۔۔ جس نے دونوں شہزادوں سے محبت کی تو اُس نے مجھ سے محبت کی ۔اگر ہم نبی کریم سے محبت کریں اور اہلِ بیت سے نا کریں تو کیا ہم مسلمان ہیں ۔۔؟ کیا ہم سچے مسلمان ہیں؟۔۔۔
۔
وہ چپ بیٹھا اُنکو سنتا رہا ۔۔۔۔۔جو ایک پیار اور ایک عقیدت سے بولتے چلے جا رہے تھے ۔۔۔
۔
ایسی طرح نبی پاک نے ہر جگہ پہ حضرت علی اور اہلِ بیت کا ذکر کیا ۔۔۔۔ان سے محبت کا ذکر کیا ۔۔
۔
مولوی صاحب علی رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کو مولا کہنا چائیے یا نہیں؟
۔
وجی جسکو اُس حبیب نے مولا کہا ہم کون ہوتے ہیں اُنکو مولا نا کہنے والے ۔
۔
۔۔۔کیا انھوں نے یہ نہیں پڑھا کہ حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا دونوں جہاں کے سردار نے محبوب نے خود کہا ۔
“جس کا میں مولا اُس کا علی مولا”
تو اُس بات کے علاوہ ہمیں کس ثبوت کی ضرورت پڑتی ہے ۔۔۔۔
۔
۔۔
سرکار نے خود کہا ہے “لوگوں کی نسل اُن کے بیٹوں سے چلتی ہے اور میری نسل میری بیٹی فاطمہ سے چلے گی “
۔
وجی وہ جو خدا کا محبوب ہے اُس کی اپنے نواسوں سے محبت کا عالم تو دیکھو ۔۔۔۔آپ نے اُن کے خود نام مبارک رکھے۔ ۔۔مولا علی نے حضرت امام حسن کا نام حمزہ رکھا تھا اور امام حسین کا نام جعفر رکھا تھا ۔۔۔۔۔مگر سرکار نے نام مبارک بدل کے حسن اور حسین رکھے ۔۔۔۔۔اُن دونوں شہزادوں کو تو نام بھی آقا نے خود دیے ہیں ۔۔
۔
وہ بولتے بولتے ایک آہ بھرتے اور پھر سے محبت میں بولنا شروع ہو جاتے ۔۔۔۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضور نے امام حسن کو اپنے کندھے مبارک پہ اٹھایا ہوا تھا ۔۔۔۔اور آپ فرما رہے تھے ۔”اے اللہ میں اِس سے محبت کرتا ، پس تو بھی اس سے محبت کر “
۔
اور امام حسین کے بارے میں تو حضور پر نور علیہ السلام نے فرمایا ۔۔۔۔” حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہُوں”
۔
اب جو ذات خود اُن سے دیوانوار محبت کرتی ہے ۔۔۔۔یہ لوگ کون ہوتے ہیں محبت نہ کرنے والے ۔۔۔۔۔
۔
بس وجدان ہمارے معاشرے کا دستور ہی کچھ ایسا ہے ۔۔۔۔ اگر کوئی علی علی کرے گا اور حسین کہے گا تو شیعہ کہلایا جائے گا ۔۔۔۔۔
کچھ لوگ بس اس ڈر سے اپنی محبت کو اندر رکھ دیتے ہیں ۔۔۔چھپی محبت کرتے ہیں ۔۔۔یہ کوئی نہیں کہے سکتا کے وہ محبت نہیں کرتے ۔اُنکو آقا جان کی اولاد سے عشق نہیں ہے۔ ۔
جس کو سرکار سے محبت ہے اُس کو اُنکی اولاد سے محبت ہے۔ ہوتی ہی ہے ۔۔۔۔۔
۔
۔
وہ گٹھنوں پہ بازوں رکھے بغیر پلكوں کو حرکت دیئے بس سنتا جا رہا تھا ۔۔۔
۔
اب وجی ہم میں سے ایک قبیلہ ایسا ہے جو کھلے عام محبت کا اظہار کرتا ہے ۔ وہ خود کو شیعہ کہتا ہے ۔۔۔اب اُن لوگوں میں بھی محبت کے بہت سارے طریقے ہیں ۔۔۔۔۔ہر کوئی امام سے اور مولا علی سے اپنی اپنی طرح محبت کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔
بس وجی میں ایک ہی بات کہوں گا جو مولا علی رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ نے خود فرمائی ہے ۔۔۔
“میرے بارے میں دو (قسم کے) شخص ہلاک ہو جائیں گے:
(۱): غالی (اوپر محبت میں ناجائز ) افراط کرنے والا، اور (۲): بغض کرنے والا حجت باز“
(فضائل الصحابۃ للامام احمد ۵۷۱/۲ ح۹۶۴ إسنادہ حسن الحدیث: ۴ص۱۵)
۔
اب ایک اور جگہ آپ رضی اللہ عنہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ
“ایک قوم (لوگوں کی جماعت) میرے ساتھ (اندھا دھند) محبت کرے گی حتیٰ کہ وہ میری (افراط والی) محبت کی وجہ سے (جہنم کی) آگ میں داخل ہوگی اور ایک قوم میرے ساتھ بغض رکھے گی حتیٰ کہ وہ میرے بغض کی وجہ سے (جہنم کی) آگ میں داخل ہو گی“
(فضائل الصحابۃ ۵۶۵/۲ وإسنادہ صحیح، و کتاب السنۃ لابن ابی عاصم: ۹۸
۔
وجی قصہ مختصر یہ ہے جس نے نبی کریم کی اولاد سے محبت نا کی ۔۔۔۔وہ مسلمان تو ہے مگر مومن نہیں ۔۔
بس میں دعا گو ہوں خدا ہمیں آقا جان علیہ السلام ،اہلِ بیت ، خلفاء راشدین اور انکے صحابہ سے بے لوث محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی اتنے گھنٹوں سے وہ میسیج دیکھتی رہی جو اُس کی سکرین پہ چمک رہا تھا ۔۔۔اُس کو لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔۔
۔
اسلام علیکم
Thank you so much ⁦♥️
۔
یہ دو مصروں پہ میسیج اُس کی دنیا ہلانے کو کافی تھا ۔۔۔۔۔
وہ بار بار اس میسیج کو دیکھتی اور پھر اُس نام کو ۔۔۔۔۔۔۔
۔
اُس نے اُس کا نمبر “سر جی” کے نام سے اپنے موبائل میں سیو کیا ہوا تھا ۔۔۔وہ بار بار اُس میسیج کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
بار بار اُس کو جواب لکھ کر ڈیلیٹ کر دیتی ۔۔۔۔مگر دل پہ کب کس کا اختیار ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اُس نے اب کی بار میسیج لکھا ۔۔۔انگوٹھے نے خود بخود حرکت کی ۔۔۔۔اور سینڈ کا بٹن دب گیا ۔۔۔۔۔۔۔
“زری “
“جی جان جی “
سلطان کے بلانے پہ وہ بوکھلائے ہوئے باہر گی اور موبائل کو وہیں چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔اُس کو اندازہ بھی نہیں تھا اُس نے میسیج ریمو کرنے کے بجائے سینڈ کر دیا ہے ۔۔۔
۔
“یار مجھے روٹی بنا دو “
بھائی نے اُس کے باہر آتے ہی اُس کو روٹی کا کہا جس کے اوپر سے پسینے گر رہے تھے ۔۔۔اُس نے اپنی گھبراہٹ چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اور بار بار اپنے سر کے دوپٹے کو ٹھیک کرنے لگی ۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے تمھیں زری “
سلطان نے اُس کے چہرے کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
۔
“کچھ نہیں ۔۔۔۔مجھے کیا ہونا ہے “
وہ کہتے ہوئے تیز تیز کچن میں جانے لگی ۔۔۔۔۔کہ اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ ایک دم روک گی ۔
۔۔
“سنو اماں کو نہ بتانا تم میرے لیے تازی روٹی بنا رہی ہو ۔۔۔۔میرے حصے کی دوپہر کی روٹی بنی ہوئی پڑی ہے “
۔
اُس نے اُس کو پاس کیا اور کان میں سرگوشی سے کہنے لگا ۔۔۔
۔
اُنکے گھر کا اصول تھا ایک بار اگر روٹی بن گی کسی کے لیے تو وہ اُسی کے حصے کی ہو گی ۔۔۔جس کو نہیں کھانا ہوتا کھانا وہ پہلے ہی بتا دیتا ہے۔۔۔میرے لیے روٹی نہیں بنانی ۔۔۔۔۔اگر کوئی دوپہر میں اپنے حصے کی روٹی نہیں کھاۓ گا تو اُس کو رات میں دِن والی ہی روٹی ملے گی ۔۔۔۔رزق کی بیہورمتی کرنا وہ رزق کی توہین سمجھتے تھے ۔۔۔۔آج تک اُنکو نہیں یاد تھا اُن کی ماں نے کبھی بچا ہوا سالن پھینکا ہو ۔۔۔۔۔وہ پورے ہفتے کا بچا ہوا تھوڑا تھوڑا سالن ایک دن اکھٹا کر کے کھاتے تھے ۔۔۔۔اُس دِن اُنکے اور گھر کچھ بھی نہیں بنتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“میں اماں کو بتاتی ہوں آپ ہمیشہ یہی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔آپکی ٹھندی روٹی ہمیشہ مجھے کھانی پڑتی ہے۔ ۔۔آپ اماں کو بول دیا کریں نا آپ نے جب کھانا نہیں ہوتا گھر تو “
۔
وہ اپنا کچھ وقت پہلے کا ڈر ایک دم بھول گی ۔۔۔۔اور دوبارہ نورمل ہو گئی ۔
۔
“میری شہزادی نہیں ہو ؟”
اُس نے معصومیت سے اُس کو دیکھا ۔۔۔۔۔جو اُس کی ساری چالاکیاں سمجھتی تھی۔ ۔۔
۔
“نا میں کوئی نہیں ہوں بس میں نہیں بنا رہی روٹی “
۔
“اچھا میری ماں چاکلیٹ لا کے دوں گا کل اب تو بنا لو “
اُس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“پکا چاکلیٹ دیں گے نا؟”
اُس نے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیا جیسے وعدہ لے رہی ہو اُس کی بات کا ۔۔۔
۔
“ایک سواتی کی زبان اُس کے کیے ہوئے وعدے سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ جب زبان سے کہے دیا لا کے دوں گا تو مطلب لا کے دوں گا ۔اب جاؤ بھی بھوک لگی ہے مجھے اتنی ۔۔۔۔”
۔
وہ مسکرائی چہرے کا ڈمپل اور گہرا ہوا اور جلدی جلدی کچن میں جانے لگی۔ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے موبائل کی ٹیون بجی ۔۔۔۔۔اُس نے موبائل نکالا ۔۔۔۔آنکھوں میں حیرت اُبھری۔۔۔۔۔ہونٹوں پہ مسکراہٹ آئی اور دل نے بے اختیار الحمدللہ کہا ۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے وجی بڑا مسکرا رہا ہے ؟”
وہ نماز کے بعد دوستوں کے پاس آیا تھا ۔۔وہ شام کو ایک چکر دوستوں کے پاس ہمیشہ لگایا کرتا تھا ۔۔۔۔مگر کچھ دنوں سے وہ خود میں ہی گُم تھا ۔۔۔
آج اتنے عرصے بعد وہ دوستوں کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“کچھ نہیں “
اُس نے جیسے ہی دوست کی وہ بات سنی اُس کے چہرے کا رنگ ایک دم بدل گیا ۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا اگر وہ ملکہ کے لیے مسکرائے تو کوئی اُس کی مسکراہٹ کو دیکھے ۔۔۔۔۔اگر اُس کی آنکھیں اُس کے لیے چمکیں تو کوئی غیر مرد اُن آنکھوں میں بھی دیکھے ۔۔۔۔۔وہ ایک دم اٹھا اور جانے لگا ۔۔۔
۔
“کدھر جا رہا ہے تو “
دوست نے اُس کا بازو پکڑا اور روکنے لگا ۔۔۔۔۔جو وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا وہ دوستوں کے سامنے اُس کو ریپلائے کرے ، وہ تو اُس کو ہر ایک سے چھپا کے رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔اُس کی پاکیزگی کو ہمیشہ اپنے دل میں رکھنا چاہتا تھا ۔پھر ایسا کیسے ممکن تھا وہ دوستوں کی محفل میں بیٹھ کے اُس کی بات کرے یا اُس سے بات بھی کرے ۔۔۔۔
۔
وہ اُن مردوں کی طرح ہرگز نہیں تھا ۔۔۔جو دوستوں کی محفل میں بیٹھ کے عورت ذات کی تذلیل کرے ۔۔۔۔۔اپنے دوستوں کو بتائے بچی سیٹ ہو گئی ہے تیرے بھائی کے ساتھ۔۔ اور پھر اُس لڑکی کے میسیج سب کو پڑھ پڑھ کے سنائے.. اور سب اپنا اپنا مشورہ دیں آگے یہ ریپلائے کر یہ بول بھابھی کو ۔
۔
…اُس کو شدید نفرت تھی اُن مردوں سے جو اپنی ماں بہن گھر پہ رکھ کے کسی کی بہن کو دوستوں میں ذلیل کریں اُس کی محبت کو رُسوا کریں ۔۔۔۔۔
۔
محبت یہ دیکھ کے تو نہیں ہوتی جو اچھا ہے اُسی سے ہو گی ۔۔۔۔محبت تو دنیا کے غلط ترین بندے سے بھی ہو سکتی ہے ۔اگر ایک لڑکی اُس کے سامنے ہار جاتی ہے تو اُس کو چاہیے محبت کی قدر کرے اُس کی دنیا میں تذلیل نہ کرے …..
۔
“بس یار مجھے کچھ کام ہے میں جا رہا ہوں”
اُس نے اپنی بائک سٹارٹ کرتے ہوئے کہا ….وہ جلد از جلد اُس میسیج کا ریپلائے دینا چاہتا تھا جو کچھ وقت پہلے اُس کو ملا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“یار تھوڑا تو بیٹھ جاتا “
وہ دوستوں کی محفل میں محفل کی جان تھا اور اتنے عرصے سے اُنکی محفل بے رنگ تھی۔۔۔۔۔۔وہ اُس کو روکنا چاہتے تھے جو اڑ کے جانا چاہتا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر آیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔
۔
اُس نے اُس میسیج کو بار بار دیکھا جو بس دو لفظوں پہ مشتمل تھا !!!
۔
“شکریہ کیوں؟”
۔
اُس نے وہ میسیج پھر کھولا اور
کانپتے ہاتھوں کے ساتھ لکھنے لگا۔۔۔۔۔
۔
۔
“وہ لکھنا چاہتا تھا ملکہ میری دنیا میں آنے کا شکریہ “
۔
مگر اُس نے خود پہ قابو پایا اور بس اتنا ہی لکھا ۔۔۔۔
۔
“میری مدد کا شکریہ جو آپ نے فنکشن میں کی “
۔
کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اُس نے بس اتنا ہی لکھا اور موبائل کو دیکھنے لگا جس پہ اُس نے بس وُہ دو حرف لکھے تھے۔ ۔۔۔اُس نے نا جانے کتنی بار اپنی موبائل کی سکرین کو اپنے دل سے لگایا تھا ۔۔۔۔ہر دو منٹ بعد اُس میسیج کو وہ اپنے دل پہ رکھتا اور پھر دیکھتا ۔۔۔۔۔دل پہ وُہ میسیج رکھنے سے اُس کے دل کو ایک الگ ہی قرار آتا ۔۔۔۔۔
۔
وہ بار بار موبائل کو دیکھتا کہ اب اُس کا میسیج آئے گا ۔۔۔۔۔مگر گھنٹوں گزر گئے کوئی میسیج نا آیا ۔۔۔۔۔۔اُس نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا ,۔۔۔
۔
یہ نہ ہو اُس وقت اُس کا جواب آ جائے ۔۔وہ نہ تو کھا سکے اور نہ اُدھر سے اٹھ سکے۔ ۔۔۔
۔
شاید انتظار کی گھڑیاں اُن گھڑیوں سے زیادہ تکلیف دے ہوتی ہیں جب ہم بولتے نہیں ہیں اور اگلے کی بات کا انتظار نہیں کرتے ۔۔۔۔۔یہ اُس چپ سے زیادہ درد دیتی ہیں جب ہم چپ توڑ کے اگلے بندے کے بھی بولنے کا انتظار کرتے ہیں “
۔
اُس نے اس انتظار میں کمرے سے بالکنی اور بالکنی سے کمرے تک سو کے حساب سے چکر لگائے ۔۔۔۔۔اُس کو لگ رہا تھا جیسے اب پیروں میں چھالے پڑ گے ہیں ۔۔۔۔۔۔اب وہ ایک قدم بھی اگے نہیں چل سکے گا۔۔۔۔۔وہ کسی ہارے ہوئے سپاہی کی طرح وہیں زمین پہ بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔آنکھوں سے اشک رواں ہونے لگے ۔۔۔۔ہونٹ کانپنے لگے کہ موبائل بجا ۔۔۔۔اُس نے جلدی جلدی موبائل اٹھایا اور میسیج دیکھا ۔۔۔
آنسوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ میسیج نظر نہیں آ رہا تھا اُس نے آنسوں صاف کیے ۔۔۔۔۔پھر سے موبائل دیکھا ۔۔۔اور مسکرانے لگا ۔۔۔۔
” یا اللہ ایک وقت تھا جب لڑکیاں مجھ سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتی تھی ۔۔۔۔اور آج ایک وقت ہے جو میں اُس کے ایک ریپلائے کے لیے ٹریپ رہا ہوں ۔۔۔”
۔
اُس نے اُس کے بجے جانے والی “😊” ایموجی کو اتنی دفعہ دیکھا ۔۔۔۔اور مسکراتا رہا ۔۔۔۔۔اُس کی بات کے جواب میں اُس نے بس ایک سمائل بھجی تھی ۔۔۔۔
۔
ملکہ تم اُن لڑکیوں جیسی نہیں ہو جو مجھ سے بات کا بہانا ڈھونڈتی ہیں ۔تم الگ ہو ملکہ پوری دنیا سے ۔۔۔۔تم اُن لڑکیوں جیسی ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔
۔
“ملکہ میں انتظار کروں گا اُس دِن کا جب تم میرے مقدر میں لکھی جاؤ گی “
۔
اُس نے آنسوں صاف کیے اور واشروم میں وضو بنانے گیا ۔اُس کو اُس کے جواب کے بدلے میں خدا کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کرنے تھے ۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اللہ جی میں ایسا نہیں کر سکتی میں ایسا نہیں کر سکتی “
وہ ڈائری لکھتے ہوئے اللہ جی سے باتیں کر رہی تھی ۔ایسا کوئی دِن نہیں ہوتا تھا جب وہ اُن سے باتیں نا کرے ۔۔۔۔اُن کو سب کچھ سچ سچ نا بتائے ۔۔۔وہ اُنکو ہر بات بتاتی تھی جو اُس نے کی تھی چاہے وہ غلط ہوتی یا صحیح اللہ جی کو اُس کی زبانی ضرور پتا ہوتی تھی ۔
۔
“اللہ جی میں اُن کی زندگی میں اُن لڑکیوں کی لسٹ میں کھبی بھی نہیں آنا چاہتی جو اُن سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتی ہیں”
۔
“اللہ جی میرا بہت دل کرتا ہے میں اُنکو جواب دوں مگر میں آپ کو خفا نہیں کر سکتی ۔۔۔۔میں اُن سے بات نہیں کر سکتی “
۔
وہ سامنے پڑی ڈائری کے صفے اپنی آنکھوں سے نکلنے والے پانی سے بگھو رھی تھی ۔۔۔ اور لکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“اللہ جی میرا بہت دل کرتا ہے میں اُن سے بات کروں”
۔
اُس نے ایک بار پھر کہا ۔۔اب کی بار چپ بہنے والے آنسوں نے حجکیوں کی صورت اختیار کر لی تھی۔۔۔۔
۔
اُس نے پین کو ہاتھوں سے چھوڑا اور ڈائری پہ سر رکھے حجکیان لے لے کے رونے لگی ۔۔۔۔۔خوبصورت سلکی بال اُس کے منہ پہ آنے لگے ۔۔۔۔اُس نے منہ پہ ہاتھ رکھا اور اپنا منہ اُس طرف کیا جہاں کھڑکی تھی جدھر سے چاند نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ اُس کھڑکی کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔اُس چاند کو دیکھنے لگی جس کو وہ وجدان سمجھتی تھی ۔۔۔۔۔
۔
اُس کو لگ رہا تھا اُس کی لینے والی سانسیں اُس کو درد دے رہی ہیں ۔۔۔۔اُس کو اپنی سانسوں سے بھی تکلیف ہونے لگی ۔۔۔
۔
وہ اٹھی کھڑکی کھولی ، پردے پیچھے کیے ۔ اور وہاں کھڑی ہو گئی ۔
ٹھندی ہوا کے ساتھ بارش بھی اندر آنے لگی ۔۔۔۔ اُس کے منہ پہ لگنے لگی اور وہ آنکھیں بند کیے اُدھر ہی کھڑی رہی جیسے وہ بارش کے قطرے اپنے اندر سمو رہی ہو ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر وجدان نے کہا ہے ، جن جن لوگوں نے اُنکی ہیلپ کی ہے آج وہ چائے پہ اُنکو لے جائیں گے ۔۔۔۔تو سب نے چھٹی کے بعد یہیں روکنا ہے ۔۔۔۔
۔
ہمیشہ کی طرح وہ کلاس میں کھڑے ہو کے بتانے لگی ۔۔
۔
اتنے تو لوگ نہیں تھے ہانی بس گنے چنے ہوئے ہم پانچ چھ لوگ تھے۔۔۔۔۔۔۔ میں ،تم، ملائکہ، ماہ نور فضہ اور زرمینہ ہی تو تھے ۔۔۔۔۔ہم سب چلے جائیں گے نا سر کے ساتھ چائے پہ ۔۔۔۔۔
۔
ارم نے اُس کی بات کو اگے بڑھایا اور سب کے نام گن گن کے بتانے لگی جہنوں نے سر کی ہیلپ کی تھی ۔۔۔۔
۔
“سب چلے تو جائیں گے اگر کچھ سو کلڈ پٹھانوں کو ایشو نہ ہوں باہر چائے پہ جانے کے لیے تو “
۔
ہانیہ نے ایک ایک لفظ پہ زور دے کے زرمینہ کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔۔
۔
وہ جان بھوج کے ایسا کر رہی تھی تاکہ وہ خود ہی جانے سے انکار کر دے ۔۔۔۔۔اُس کو پتا تھا سر اُس کو کتنی اہمیت دیتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ وجدان کے ساتھ اُس کو برداشت بھی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔
۔
“بھئی ان لوگوں کی عزت کا معاملہ جو ہوتا ہے باہر اگر کسی ہوٹل پہ بیٹھ جائیں تو “
۔
اُس نے چپ بیٹھی زرمینہ کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اور ہسنے لگی جیسے اُس کا مذاق اڑا رہی ہو ۔۔
۔
اُس کے ساتھ ساتھ ارم بھی اُس کے ساتھ ہسنے لگی ۔۔۔
۔
وہ جو چپ بیٹھی تھی وہ ایک خانزادی تھی ۔۔۔۔اُس کی رگوں میں ایک سواتی باپ کا خون تھا ۔۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا تھا کوئی اُس کی تذلیل کرے تو وہ چُپ رہے ۔۔۔۔۔مگر جہاں اُس کی عزت پہ بات آئے وہ چپ ہو جاتی تھی ۔۔۔۔۔وہ سمجھتی تھی ایک لڑکی کی عزت سے زیادہ اُس کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔جب وہ اپنی عزت کے معاملے میں صفائی دیتی ہے تو اُس کی عزت اور اچھالی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔اور جب سامنے کم نسل ہوں تو خاموشی اختیار کر لینی چاہیے ۔۔۔۔۔۔گُم ہو جانا چاہیے رو پوش ہو جانا چاہیے ۔۔۔۔۔
۔
“ہانیہ آپ کو آخر مسئلہ کیا ہے”
اُس کی آنکھوں میں آنسوں دیکھتے ہوئے سامنے بیٹھے ہوئے فضہ ایک دم بولی ۔۔۔۔۔
۔
“مجھے کسی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں بس حقیقت بیان کر رہی ۔۔۔۔۔یہ پارسا کیسے جائیں گی ہمارے ساتھ”
۔
اُس نے ایک بار پھر سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو سر اٹھائے اور نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔
۔
“فضہ ٹھیک کہے رہی ہے ہانیہ آپ ہوتی کون ہیں اس کے بارے میں بات کرنی والی ۔ اب دور سے ماہ نور بولی تھی ۔۔
۔
بلکل آپ نے ٹھیک کہا۔۔۔ ماہ نور ، ٹھیک ہے آپ کو بہت اختلاف ہیں آپس میں مگر یہ کون سا طریقہ ہے بات کا ۔۔۔
۔
“ہانیہ آپ اپنا بہبیور ٹھیک کریں۔۔۔۔”
۔
“زرمینہ آپ پلیز اُداس مت ہوں “
۔ بلکل زرمینہ آپ بلکل بھی اُداس نہ ہونا ان جیسوں کو تو بیماری ہوتی ہے کسی کی عزت سے جھلنا ۔۔۔
۔
“آپ کا تو مقام ہمارے دل میں ہے زری “
۔
“عزت والے ہے عزت کو سمجھتے ہیں اِن میں خود عزت نہیں ہے تو یہ آپ کی کیا کریں گی “
۔۔
۔۔
ہر طرف سے اُس کے حق میں آوازیں آ رہی تھیں جو خاموش بیٹھی سن رہی تھی ۔۔۔۔ہر کوئی اُس کے حق میں بول رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ہر کوئی اُس کا حوصلا بن رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس کی خاموشی کا جواب اپنے الفاظ میں دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اُس کے کی جانے والی تذلیل کا بدلہ لے رہا تھا ۔۔۔۔۔آج لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی اُس کے حق میں بول رہے تھے ۔جو حجاب کیے کندھے پہ چادر ڈالے اُن کو سن رہی تھی ۔۔۔۔
۔
وہ سب اُس کا غرور بنے تھے ۔۔۔۔۔اُس کی جھکی نظروں کو اُن سب نے اوپر کیا تھا ۔۔۔۔۔وہ اب بھی رو رہی تھی مگر اب وہ خوشی کے آنسوں رو رہی تھی ۔۔۔۔۔اُن لوگوں کی کہی ہوئی ہر بات کو اپنے اندر اُتار رہی تھی۔ ۔۔۔جن کو وہ جانتی بھی نہیں تھی
۔
یہ کیسے لوگ تھے جو بغیر اُس کو جانے اُس کی آواز بن رہے تھے ۔۔۔۔اُس کا غرور بن رہے تھے ۔۔۔اُس کو عزت کہے کر بولا رہے تھے ۔
اُس نے تو اللہ سے تھوڑی سی عزت مانگی تھی ۔۔۔مگر آج اُس کو عزتوں کا سمندر مل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ اُس کو عزت دینے والے اُس کے خون کے رشتےدار نہیں تھے ۔۔۔۔۔وہ تو اُس کو جانتے بھی نہیں تھے ۔۔۔۔۔اُن کو تو پتا بھی نہیں تھا جن کے لیے وہ بول رہے ہیں وہ کون ہے۔ ۔۔۔
۔
اُس کو لگا یہ جو اُس کے حق میں بول رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے بجھے جانے والے فرشتے ہیں جو اُس کی لڑائی لڑنے آسمان سے آئیں ہیں ۔
۔
وہاں بیٹھے اُس کا دل چاہا
وہ ہر لڑکی کو اپنے دل سے لگائے جس کو انھوں نے ایک بہن جیسی عزت دی ۔ جو اُس کے لیے بولیں۔۔۔۔۔
وہ ہر لڑکے کے پاس جائے ، وہ لڑکے اپنا ہاتھ اُس کے سر پہ رکھیں ۔۔۔اور وہ اپنا سر نیچے کر لے ۔۔ان کی عزت میں وہ نیچے ہو جائے ۔جہنوں نے بھائی بن کے بہن کے خلاف کہنے والوں کو اپنی آنکھیں دکھائیں ۔۔۔۔۔
۔
اُس کے خلاف بولنے والے بس دو لوگ تھے اور اُس کے حق میں بولنے والے دو سو لوگ ۔۔
۔
۔
“وہ سب خود عزتوں والے تھے جو اُس کی عزت کر رہے تھے “
اُس کا سہارا بن رہے تھے ۔۔۔۔۔اُس کے رقیبوں کا منہ بند کر رہے تھے ۔۔۔۔۔اپنے لفظوں سے اُس کے ریقبوں کو اُس کا مقام بتا رہے تھے جو مقام اُس کو خدا نے دیا تھا ۔۔۔۔
۔
اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں ہاتھ اگے کیے ۔۔۔اور دل میں اُن لوگوں کے لیے دعا مانگی جو اُس کا غرور بنے تھے۔۔اُس کا حوصلا اُسکی زبان بنے تھے ۔۔۔۔۔
۔
“رقیبوں کی محفل میں کچھ فرشتے بھی ہوتے ہیں “
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری پیراگراف آپ سب کے نام ⁦♥️

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: