Hijab Novel By Amina Khan – Episode 24

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 24

–**–**–

“سر زرمینہ نہیں جا پائے گی ہمارے ساتھ چائے پہ “
فضہ نے اُس کے آفس میں آتے ہوئے کہا ۔۔۔ جو کمپیوٹر پہ کچھ ٹائپ کر رہا تھا ۔
۔
“کیوں نہیں جا پائیں گی وہ “
اُس کی چلتی انگلیوں نے ایک دم حرکت روک دی ۔۔
۔۔
اُس کو اِس بات کا اندازہ پہلے سے ہی تھا کہ وہ یونی سے باہر ایسے نہیں جا پائے گی۔ ۔۔۔
۔
وہ اپنی کُرسی پہ بیٹھا سارے کام چھوڑ کے فضہ سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
“می آئی کم ان سر “
ہانیہ نے اُس کے آفس کا دروازہ نوک کرتے ہوئے کہا۔ ۔۔۔۔اُس کو بہت تجسّس تھا کہ فضہ اُس سے کیا بات کر رہی ہے ۔۔۔۔۔وہ کیسے رہ سکتی تھی اُس کے آفس میں نا آتے ہوئے جس کو اُس نے اپنی ملکیت سمجھ کے رکھ دیا تھا ۔جب دل ہوا تو منہ اُٹھا کے اندر آ گئی ۔۔۔۔۔
۔
“جی آ جائیں”
اُس نے اُس کو بیزاری سے اندر آنے کا کہا ۔۔ ۔۔۔۔
۔
“فضہ آپ کھڑی کیوں ہیں بیٹھیں نا “
اُس نے بغیر ہانیہ سے پوچھے کہ وہ کیوں تشریف لائیں ہیں ۔فضہ کو دیکھا اور اُس کو بیٹھنے کا کہا ۔۔۔۔۔وہ فضہ کی بہت عزت کرتا تھا ۔۔۔۔اُس کو پتا تھا وہ اُس کی واحد دوست ہے جس پہ وہ جان دیتی ہے۔ ۔۔۔ہمیشہ بس اُسی کے ساتھ رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ ہر ایک سے فضہ کو الگ مقام دیتا تھا۔ ۔۔۔ایک ٹیچر سے زیادہ وہ اُس کا بھائی بن جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔اُس کے ساتھ بات کرتے ہوئے مسکرا دیتا تھا ۔۔۔۔۔اُس کو عزت دیتا تھا ۔۔ وہ اُس کی نسبت سے فضہ کو ایک الگ حثیت دیتا تھا ۔۔۔
۔
وہ ایسا ہی تھا ۔۔۔وہ جس کو بھی اپنی زندگی میں چاہتا اُس سے جُڑے ہر شخص ہر رشتے کو ایک الگ مقام دیتا ۔۔۔۔
وہ دوست ہے دوست کو اپنا دوست سمجھتا تھا اور دوست کے دشمن کو دشمن ۔۔۔۔
۔۔۔اور یہ بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہوتی تھی وہ فضہ کو ایسا مقام کیوں دیتا ہے۔ اُس کی اتنی عزت کیوں کرتا ہے ۔۔
۔
“مجھے تو کھبی بیٹھنے کا نہیں کہا”
ہانیہ نے جلتے دل کے ساتھ اُس کو دیکھا جو ابھی بھی کھڑی ہی تھی۔
۔
“نہیں سر میں ٹھیک ہوں “
فضہ نے اُس کو مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔وہ اپنے اُستاد کے سامنے کیسے بیٹھ سکتی ہے اُس نے اپنے دل میں سوچا ۔۔۔۔وہ تو آفس میں بھی زرمینہ کے کہنے پہ آئی تھی ۔۔۔۔ورنہ اُس کو کھبی نہیں اچھا لگا سر کے آفس میں فضول جانا اور اُن کو ڈسٹرب کرنا ۔۔۔۔۔۔
۔
“ہانیہ آپ ایسا کریں سب کو بتا دیں کہ نیکسٹ لسن میں سب کینٹین پہ آئیں ۔۔۔ہم وہیں چائے پیں گے “
۔
اُس نے اب کی بار ہانیہ کو دیکھا جو جلتے دل کے ساتھ اُس کو دیکھے جا رہی تھی ۔جیسے موقع ملا تو وہ بھوکی شیرنی کی طرح اُس پہ حملہ کر دے گی جس کو اُس سے کہی گناہ زیادہ عزت مل رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“لیکن سر ہم سب تو ریڈی تھے باہر جانے کے لیے”
اُس نے بغیر فضہ کو دیکھے اُس کی طرف مڑ کے کہا جو ہر بات فضہ سے کر رہا تھا ۔۔۔۔۔بار بار فضہ کو دیکھ کے بات کر رہا تھا
۔
“سب ؟ سب نہیں ہیں ریڈی ہانیہ….اور اگر وہ نہیں جا رہے تو ہم بھی نہیں جا رہے تو بہتر ہے یونی کی کینٹین پہ ہی کچھ وقت بیٹھ کے چائے پی لیتے ہیں”
۔
اُس نے بغیر زرمینہ کا نام لیے اُس کو کہا ۔جو بہت اچھی طرح سمجھ گی تھی ۔کہ وہ اُس کی بات کر رہا ہے
۔
۔۔۔۔۔وہ خود بھی نہیں چاہتا تھا وہ یونی سے باہر ایسے جائے۔ کوئی اُس کو دیکھے ۔کسی کی نظر بھی اُس کی پاکیزگی پہ پڑے۔۔۔۔
۔
“اوکے سر میں کہے دوں گی “
اُس کا بس نہیں چل رہا تھا میز اٹھائے اور فضہ کے سر پہ مارے۔۔۔۔۔جو اُس کو زرمینہ کا بتانے آئی تھی
۔
“فضہ اب تو کوئی عتراض نہیں ہو گا نا لوگوں کو “..
۔
اُس نے اُس کا نام لینے کے بجائے اُس کو لوگوں کہے کر مخاطب کیا تھا ۔۔۔ اور وہ سمجھ بھی گئی تھی اُس نے کس کو لوگوں کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
۔
“نہیں سر اب کوئی عتراض نہیں ہو گا ہم ضرور آئیں گے “
اُس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اجازت لینے لگی۔ ۔۔۔۔
۔
اور وہ جو جل جل کے کوئلہ ہوئے جا رہی تھی ، اُس کے پیچھے پیچھے اُس کے آفس سے باہر نکلی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تُجھے پتا ہے سر نے کیا کہا “
وہ کلاس میں آئی اور زری کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا خفا تو نہیں ہوئے نا وہ ؟”
اُس نے پریشان ہوتے ہوئے کہا جو کب سے پریشانی کے جھولے میں جھول رہی تھی۔۔۔
۔
“ایسے تو نہیں بتاؤں گی میں آپ کو۔۔۔۔”
۔
اُس نے شرارتی سے انداز میں کہا !!
۔
“فضہ کیا کر رہی ہے تو “
اُس نے اُس کو کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا تو اُس کا بازوں پکڑنے لگی ۔۔۔۔جیسے اُس کو کھینچ رہی ہو نیچے بیٹھ جاؤ ۔۔۔۔
۔
” حوصلا بےبی ،۔۔۔۔وہی کر رہی ہُوں جو یہ سب تمہارے ساتھ کرتے ہیں ۔۔۔۔آج تمہاری باری ہے ۔مگر آپ تو بولیں گی نہیں تو مجھے ہی بولنا پڑے گا آپکی جگہ “
۔
وہ کھڑے کھڑے ہی تھوڑا سے نیچے جُھکی اور اُس کے کان میں کہنے لگی ۔۔۔
۔
“ہانیہ صاحبہ کا انتظار کر رہی تھی وہ آئیں تو میں انکی طرح اعلان کروں ۔۔۔اُن کو بتاؤں کہ اعلان ایسے کرتے ہیں”
۔
“⁦فضہ لے میرے جُڑے ہاتھ دیکھ “
اُس نے وہاں پہ ہی بیٹھے بیٹھے اُس کے سامنے ہاتھ جوڑے ۔۔۔جس نے بڑے پیار سے وہ ہاتھ چومے ۔۔۔
۔
اُن دونوں کی دوستی ہی ایسی تھی ۔۔۔۔ہر کوئی اُن کی دوستی سے جھلتا تھا ۔اُن کو الگ کرنے کی کوشش کرتا تھا ۔۔۔۔وہ لیلیٰ مجنوں کی جوڑی ہر ایک کو چبتی تھی ۔۔۔۔اور کچھ کم نسل جن کو کھبی دوستی جیسے پاک رشتے کا پتہ ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔جن کی زندگی میں دوستی جیسا رشتہ کھبی آیا ہی نہیں تھا ۔ہمیشہ اُن پہ بات کرتے ۔۔۔اُن دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف کرنے کی کوشش کرتے ۔۔۔۔مگر اُن کا رشتہ تو جسم اور روح کا تھا ، آنکھ اور زبان کا تھا ، محبت اور عقیدت کا تھا ۔۔۔۔۔وہ دونوں کیسے الگ ہو سکتے تھے ۔۔۔۔
۔
جہاں کوئی زرمینہ پہ بات کرتا تو فضہ بولتی اور جب کوئی فضہ پہ بات کرتا تو زرمینہ جواب دیتی ۔۔۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کی ڈھال بن جاتی تھیں ۔۔۔۔۔اور کم نسل بس جلتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔
۔
سر وجدان نے ایک پیغام بھیجا ہے اُن لوگوں کے لیے جہنوں نے چائے پہ جانا تھا اُن کے ساتھ۔۔۔چوںکہ زرمینہ یونی سے باہر نہیں جا سکتی ایسے تو سر نے بولا ہے ہم اُس کی خاطر باہر نہیں جائیں گے بلکہ کینٹین پہ ہی چائے پییں گے ۔۔۔۔
۔
اُس نے اپنی آنکھوں میں ایک چمک لاتے ہوئے ، اونچی آواز میں سب کو بتایا اور ہانیہ کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔جو اپنی کُرسی پہ سر کو جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
۔
“ارے واہ زری یہ تو کمال ہو گیا۔۔۔۔سر نے آپ کے لیے پلان چینج کر لیا “
۔
اُدھر بیٹھا ہر شخص اُس کو رشک کی نظر سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جس کی خاطر وجدان جیسے بندے نے اپنا پلان چینج کیا ۔۔۔۔۔
۔
“ہانیہ ٹھیک تو ہیں نا آپ؟”
مدثر نے اُس کو دیکھتے ہوئے دور سے پوچھا ۔۔۔جیسے اُس کو بتا رہا ہو بڑی شوخی بنتی تھی ۔۔۔۔۔۔دیکھو اُس نے تو پوچھا بھی نہ تمہیں اور زری کے لیے پلان بدل دیا ۔۔۔۔
۔
“آپ اپنی بکواس بند کریں گے “
اُس نے دور سے اُس کو ایسے کہا جیسے اب اُس کو پنجے مار دی گئی ۔اور اُس کا منہ لہو لوھان کر دے گی ۔۔۔
۔
“لگتا ہے آج محترمہ کچھ زیادہ ہی غصے میں ہیں”
اُس نے زبان کو دانتوں کے نیچے دیا اور پاس بیٹھے خاور کے کان میں کہنے لگا ۔۔۔
۔
“وجدان سر نے منہ جو نہیں لگایا اِن کو “
اُس نے ہستے ہوئے کہا اور اُس کی طرف دیکھنے لگا جو بیگ اٹھائے کلاس سے باہر جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“سر سے کہے دینا مجھے نہیں پینی کوئی چائے “
۔
اُس نے جاتے ہوئے فضہ کو کہا ۔
۔
“ایسے تو سر کے آفس میں جانے کے سو بہانے ڈھونڈتی ہیں ۔۔۔اور اب مجھے پیغام دے رہی ہیں بہت اچھے ہانیہ صاحبہ “
۔
“تمھیں کیا ضرورت تھی ایسے سب کے سامنے اعلان کرنے کی “
۔
اُس نے اُس کا بازو زور سے پکڑا اور نیچے بٹھایا ۔۔۔۔جو کب سے کھڑی ہانیہ کے بدلتے رنگ کے مزے لے رہی تھی ۔۔۔
۔
“کچھ لوگوں کو اُن کی اوقات یار دلانا بہت ضروری ہوتا ہے زرمینہ ۔۔۔۔۔لوگ اگر اوقات میں ہی رہیں تو بہتر ہوتا ہے ہمارے لیے بھی اور اُن کے لیے بھی ..
اب جلدی اٹھو نا کینٹین جاتے جاتے بھی پندرہ منٹ لگ ہی جائیں گے ۔۔۔۔۔”
۔
اُس نے اپنی کتابیں بیگ میں ڈالی اور اٹھنے لگی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔وہ فضہ کے آفس سے نکلنے کے بعد ہی فوراً کینٹین پہ آیا ۔۔۔۔وہ اُس سے پہلے وہاں پہنچنا چاہتا تھا ۔۔۔۔وہ اُس کا خود استقبال کرنا چاہتا تھا جو آج اُس کے لیے آ رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ پچھلے ایک گھنٹے سے کینٹین کے باہر کھڑا ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہیں سے وہ اُس کو نظر آ جائے ۔۔۔۔۔
۔
ہر سٹوڈنٹ اُس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔وہ ویسے بھی ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنا ہوتا تھا ۔۔۔۔اور پھر جب وہ کینٹین آئے اور ایسے شدت سے کسی کا انتظار کرے ۔۔۔۔یہ سب اُن کے لیے بہت حیرت کی بات تھی ۔۔۔۔۔
۔
ہر آتا جاتا سٹوڈنٹ اُس کو سلام کرتا اور وُہ بغیر مسکرائے گھڑی کو دیکھتا اور جواب دیتا ۔۔۔۔
اُس نے اُس ایک گھنٹے میں ایک ایک پل ہاتھ پہ بندھی گھڑی پہ وقت دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“سر آپ کو کچھ چائیے “
کینٹین پہ موجود لڑکے نے اُس کو اتنے وقت سے ایسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
وہ لڑکا اُس کو اچھی طرح جانتا تھا ۔۔۔۔وہ جانتا تھا یہ وہ فرشتہ ہے جو اُس جیسے نا جانے کتنے بچوں کی فیس دیتا ہے۔ اُن کو خود پڑھتا ہے ۔۔۔۔۔اور پھر اُن سے پرائیویٹ امتحان دلواتا ہے ۔۔۔۔جو اپنے گھر کا خرچ چلانے کے لیے ایسے کام کرتے ہیں ۔
۔
“نہیں بیٹا کچھ نہیں چائیے .آپ ایسا کرو کے اوپر کسی جگہ کمرے میں پردے اگے کر لو تا کہ باہر والوں کی نظر نہ پڑے وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں پے ۔۔۔۔۔۔
۔
اُس نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے آرام سے کہا ۔۔۔
۔
“جی جی سر میں کرتا ہوں آپ بےگم رہیں “
وہ لڑکا دوڑتا ہوا گیا اور اُس چھوٹے سے کمرے میں پردے اگے کیے ۔۔۔۔اُس میں اکثر سٹوڈنٹس بیٹھ کے لنچ کرتے تھے ۔۔۔۔۔
۔
وہ نہیں چاہتا تھا وہ جب آئے تو سب کے سامنے بیٹھے ۔۔۔۔۔کسی کی نظر اُس پہ پڑے ۔۔۔۔۔
۔
اب کی بار اُس نے پھر گھڑی دیکھی ۔۔۔۔اُس کو لگ رہا تھا جیسے ایک سیکنڈ گھنٹوں کی رفتار سے چل رہا ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فضہ چھوڑو نا ہم بھی نہیں جاتے نا “
اُس نے راستے سے فضہ کا پکڑا ہوا ہاتھ چھوڑا اور اُس کو کہنے لگی ۔۔۔۔
۔
کیوں نہیں جاتے ہم ؟ سر کیا سوچیں گے؟ کن نخروں میں ہیں ہم؟
۔
اُس نے غصّہ ہوتے ہوئے اُس کو کہا جو اپنے ہی اندر کی کیفیت سے ڈر رہی تھی ۔۔۔۔۔جو خود کو وہاں جانے سے روک بھی نہیں سکتی تھی اور جانا بھی نہیں چاہتی تھی!!!
۔
“ٹھیک ہے پھر مسجد سے ہوتے ہوئے جائیں گے “
۔
“زری اب یہ کیا بات ہے ؟ اب تمہیں اُدھر کیوں جانا ہے ؟سب لڑکیاں جا چکی ہوں گی کینٹین پہلے ہی ۔۔۔”
۔
٫اگر تم چاہتی ہو کہ میں بھی جاؤں تمہارے ساتھ تو پہلے ہم مسجد میں جائیں گے اور پھر کینٹین ۔”
۔
“زری یار یہ کیا طریقہ ہے اب ۔سر نے تمہاری خاطر پلان چینج کیا اور اب تم ایسے نخرے دیکھا رہی ہو ۔۔۔۔۔”
۔
“تم نے میرے ساتھ مسجد جانا ہے کے نہیں ؟ دیکھو وہ سامنے ہی تو ہے نا بس پلیز پانچ منٹ “
۔
“اگر پانچ منٹ سے ایک منٹ بھی اوپر ہوا نا تو دکھنا تم “
۔
“نہیں ہو گا پکا وعدہ ” ۔
۔
وہ یونی کی مسجد کے اندر داخل ہوئی جدھر جاتے ہی اُس کو ہمیشہ ایک عجیب سا سکونِ ملتا تھا ۔۔۔۔۔ وہ لڑکیوں والے پورشن میں گئی ۔جہاں لڑکیوں کے لیے مخصوص جگہ بنائی گئی تھی ۔۔۔
۔
“میری چادر پکڑو”
اُس نے اپنے کندھے پہ پڑی چادر اُس کو دی اور خود وہاں بیٹھ گئی جہاں وضو بناتے ہیں ۔۔۔۔۔
۔
وہ پہلی بار اُس سے ایسے ملنے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ وضو کرکے جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔وہ اُس کے سامنے وضو میں رہنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
اُس نے وضو بنایا ۔۔۔۔ آنکھیں بند کیں ، وہیں بیٹھ گی ۔۔اور دل میں دعا مانگنے لگی ۔۔۔
۔
“اے اللہ آج میں خود کو ایک بار پھر تمہارے حوالے کرتی ہوں ، آج میں آپ سے کچھ نہیں مانگتی ۔۔۔۔میں بس اتنا مانگتی ہُوں جو میرے حق میں بہتر ہے وہ مجھے عطا کر ، تُو تو سارے جہانوں کا رب ہے نا ۔۔۔۔تو نے مجھے پیدا کیا ۔۔۔۔اے اللہ جو میرے حق میں بہتر ہے مجھے بس اُس سے نواز دے”
۔
۔
اُس نے آج خود کو اللہ کے سپرد کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔جو خود سے لڑ لڑ کے تھک چُکی تھی ۔۔۔۔
۔
“زری صاحبہ آپ کا وضو ختم ہو گیا ہو تو اٹھ جائیں”
۔
فضہ نے اُس کو ہلاتے ہوئے کہا جو جیسے جائے نماز پے تہجد کی سی کیفیت میں بیٹھی ہو!!!
۔
وہ کھڑی ہوئی اپنا حجاب ٹھیک کیا جو وضو کے دوران پیچھے ہوا تھا ۔۔۔پھر سے نقاب کیا ۔۔گیلے ہاتھوں کو۔۔۔۔۔ منہ کو ایسے ہی چھوڑا اور باہر نکلنے لگی ۔۔۔۔۔۔
۔
“بھئی اب یہ کیا تھا “
۔
فضہ سے مسجد سے باہر آتے ہوئے اُس کو دیکھ کے کہا ۔۔
۔
“کچھ نہیں تھا وضو تھا “
اُس نے مختصر سا جواب دیا اور آگے چلنے لگی۔۔۔۔۔
۔
وہ کینٹین تک پہنچے ہی تھے کہ وہ کینٹین کی دوسری منزل پہ کھڑا نظر آیا ۔جو کھڑی دیکھ رہا تھا
۔
۔۔۔اُس نے اُن کو دیکھتے ہی اوپر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔اور خود سیڑھیوں کے سامنے رکھے صوفے پہ بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
۔
وہ کندھے پہ چادر ڈالے ،عبایا اوپر کیے ایک ایک قدم چلتے ہوئے آ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
وہ جیسے ہی اوپر آئی اُس کی جھکی نظریں اوپر ہوئی اوپر ہوئی ، وہ صوفے سے اٹھا۔۔۔۔۔ کھڑا ہوا اور چہرے پہ ایک خوبصورت مسکراہٹ سجائی ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے آج سے پہلے کسی کے چہرے پہ ایسی مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔
۔
اُس کے چہرے کی معصومیت نے ۔۔۔لبوں پہ سجی مسکراہٹ نے اُس کی چمکتی آنکھوں نے اُس کو خوش آمدید کہا جو آج صرف اُس کی خاطر وہاں آئی تھی ۔۔۔۔۔
۔
وہاں پہ سب پہلے سے ہی موجود تھے سوائے ہانیہ کے ۔۔۔
۔
وہ اندر گیا اور اُس کُرسی پہ بیٹھا جدھر گھر کا سربراہ بیٹھتا ہے ۔۔۔۔باقی سب پہلے سے ہی بیٹھی ہوئی تھیں ۔ ۔۔۔۔
فضہ آگے تھی اُس نے کُرسی کھینچی اور بیٹھ گی ۔۔
۔
۔۔۔۔بس ایک ہی کُرسی وہاں خالی بچی تھی جو وجدان کے بلکل ساتھ پڑی تھی۔ ۔۔۔وہ اُس کُرسی پہ نہیں بیٹھنا چاہتی تھی۔ ۔۔۔۔۔مگر اُس کے سواء کوئی حل نہیں تھا ۔۔۔۔اُس نے کرسی کو اپنی طرف کیا ۔۔۔۔کندھے پہ پڑی چادر کو ٹھیک کیا اور وہاں بیٹھ گی جدھر اُس کی جگہ خدا نے خالی چھوڑ رکھی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“بیٹا اِدھر آئیں”
اُس نے وہاں پہ کام کرتے ہوئے اُس لڑکے کو بلایا جو پردہ ٹھیک کر رہا تھا ۔۔۔
۔
“جی سر جی کیا لاوں “
وہ اُس کی آواز پہ بھاگتا ہوا اُس کے پاس آیا ۔۔۔۔
۔
“کیا لیں گے آپ سب؟”
اُس نے اُن سب کی طرف دیکھا اور پوچھنے لگا ۔۔
۔
“سر چائے ہی منگوا لیں نا”
زرمینہ کے ساتھ والی کُرسی پہ بیٹھی فضہ نے کہا !!
۔
“ٹھیک ہے ایسا کرو پانچ کپ چائے اور ساتھ پکڑے، کباب وغیرہ لے آؤ “
اُس نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہ انگلیوں پہ گِنتا ہوا جانے لگا ۔۔۔پانچ کپ چائے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچ کپ چائے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
“آپ سب کا بہت شکریہ آپ سب نے میری اتنی مدد کی “
اُس نے زرمینہ کو دیکھے بغیر سب کو بولا ۔۔۔جو اُس کی طرف ہی دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
۔
اُس کو لگا وہ اُس کی دل کی دھڑکن سن لے گا۔ ۔۔۔اُس کا بے قابو ہوتا دل اب باہر آ جائے گا ۔۔۔۔۔۔اُس کے دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو رہی تھی جیسے پاس بیٹھا ہر شخص سن سکتا ہو ۔۔۔۔۔اُس نے اپنی چادر کو اپنے آگے کیا ۔۔۔۔جیسے وہ اپنے دل کی دھڑکن پہ پردہ ڈالنا چاہتی ہو۔۔۔
۔
وہ آج ٹیچر سے زیادہ ایک دوست لگ رہا تھا جیسے کوئی دوستوں کی محفل میں بیٹھا ہو ۔۔۔۔۔وہ دوستوں کی طرح اُن کو اپنی سٹوڈنٹ لائف بتا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اُنکو زندگی کی حقیقت سمجھا رہا تھا ۔۔۔۔
۔
اُس نے ایک بار بھی اپنے پاس بیٹھی لڑکی کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔وہ اپنی عادت سے ہٹ کے آج بات کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ جب بھی بات کرتا ہمیشہ ہستا تھا ۔۔۔۔۔اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ تو اج بھی تھی مگر آج اُس مسکراہٹ کے ساتھ پسینہ بھی تھا ۔۔۔۔۔وہ بار بار ٹشو پیپر اٹھاتا اور اپنا پسینہ صاف کرتا ۔۔۔۔۔جیسے کنفیوزڈ ہو رہا ہو ۔اُس بات بات نہ کی جا رہی ہو۔۔۔
۔
“یہ لیں سر جی چاۓ “
اُس لڑکے نے چائے کا ٹرے اُن کے سامنے رکھا ۔۔۔۔۔اور ساتھ پلٹیں رکھی جس میں پکوڑے اور اور کباب پڑے تھے۔۔۔۔۔
۔
سب نے ایک ایک پيالی اٹھائی اور اپنے سامنے رکھی۔۔۔۔۔اُس نے بھی پیالي اٹھائی جس نے کھبی چائے چکھی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔وہ کھبی چائے نہیں پیتی تھی ۔۔۔۔اُن کے گھر چائے بنتی ہی بہت کم تھی ۔۔۔۔وہ قہوہ پینے والے لوگ تھے۔ اُن کو کہاں چائے کا ذائقہ بہاتا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
اُس نے پھر بھی چائے سے بھرا وہ کپ اٹھایا ۔۔۔۔اور اُس کو غور سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔یہ اُس کی زندگی کی پہلی چیز ہے جو اُس کے نام کی پیے گی ۔۔۔یہ تو فقط چائے ہے اگر زہر بھی ہوتا تو بھی میں مسکراتے چہرے کے ساتھ پی لیتی ۔۔۔۔اُس نے دل میں اُس شخص کو دیکھ کے مسکراتے ہوئے کہا جو اُس کے پاس اُس کے بلکل قریب بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔
۔
وہ چائے پیتے ہوئے سب کو دیکھ کے باتیں کر رہا تھا اُن کو کچھ سمجھا رہا تھا کھبی ٹشو پیپر کا ڈبہ اٹھاتا کھبی وہاں پہ پڑے گلاس کو اٹھاتا اور کھبی وہاں پہ پڑا گلدان ہاتھ میں لیتا اور اُن کو مثالیں دے کے سمجھاتا ۔۔۔۔۔۔سب اُس کو غور سے دیکھتے رہے جیسے اُس کے سحر میں جکڑے گے ہوں ۔۔۔۔جیسے اُس نے کچھ پڑھ کے اُن پہ پھونک دیا ہو کہ کوئی اُس سے نظریں نا ہٹا سکے ۔۔۔۔۔
۔
“آپ کو نہیں پسند چائے”
اُس نے اُس کے آگے پڑے ہوئے چائے کے کپ کو دیکھا جس میں سے ابھی تک ایک گھونٹ نہیں لیا گیا تھا ۔۔۔۔۔جیسے اُس کے دل کو الہام ہوا ہو کہ وہ چائے نہیں پیتی ہے۔ ۔۔۔۔
۔
“سر یہ قہوہ پینے والے لوگ ہیں چائے نہیں پیتے “
۔
اُس کے سوال پے فضہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا جو چائے کی دیوانی تھی ۔۔۔۔
۔
“آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟ میں قہوہ منگوا دیتا ہوں “
۔
اُس نے کھڑے ہوتے ہوئے اُس لڑکے کو اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں نہیں میں پی لوں گی “
اُس نے اسے کھڑا ہوتے ۔۔۔۔دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی اُس کے پیسے فضول میں ضائع ہوں ۔۔۔۔۔۔اب ایک قہوے کی پیالی کون سا لاکھوں میں ہوتی ہے ۔مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھی اُس کا ایک روپیہ بھی ضائع جائے ۔۔۔۔۔۔۔
۔
وہ نیچے بیٹھا ۔۔۔۔۔اُس کے سامنے پڑی چائے کی پیالی کو اٹھایا اور اپنے آگے رکھا ۔۔۔۔۔
۔
“آپ کی چائے میں میں پی لوں گا “
۔
اُس کو لگا جیسے وہ مسکرانا بھول رہی ہے ۔۔۔اُس کا دل اب باہر آ جائے گا ۔۔۔اُس کی آنکھوں سے اشک رواں ہوں جائیں گے ۔جو صرف اُس کے نام کے اُس نے ضبط کر رکھے ہیں ۔
۔
“یہ لیں قہوہ “
اس لڑکے نے قہوہ وہاں رکھا اور چلا گیا ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے قہوہ دیکھتے ہی سوچا وہ اپنا نقاب کیسے اترے گی ۔۔؟۔اُس نے تو اج تک کسی نا محرم کے سامنے اپنا نقاب نہیں اُتارا تھا پھر آج کیسے اُتار سکتی ہے ۔۔۔۔وہ کھبی نہیں چاہتی تھی وہ اُس کو دیکھے .جو اُس کو ہر دو سیکنڈ بعد دیکھتی تھی
۔
اُس کے لیے جذبات اپنی جگہ تھے ۔مگر کسی نا محرم کے سامنے بغیر نقاب کے بیٹھنا اُس کو گوارا نہیں تھا ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے اپنا حجاب سائڈ سے منہ کی اُس طرف کیا جہاں وہ بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔اُس کو پتا تھا وہ بغیر نقاب کے اُس کے سامنے بھی بیٹھے وہ پھر بھی اُس کو ایک نظر اٹھا کے نہیں دیکھے گا ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے نقاب نیچے کیا ۔جس سے صرف ہونٹ باہر ہوں ۔۔۔۔۔سائڈ سے حجاب کو اور زیادہ آگے کیا ۔تاںکہ وہ اُس کو دیکھ نا سکے اُس کا چہرہ نظر نہ آئے۔
۔
اور جلدی جلدی قہوہ پینے لگی۔۔۔۔۔اس دوران اُس کی نظروں نے اتنی دفعہ اُس کو دیکھا تھا جو اُس کو بغیر دیکھے سب سے باتیں کر رہا تھا ۔
۔
اُس نے اُس کو ایک نظر بھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔وہ بغیر نقاب کے تھی۔ اُس کی نظروں نے ایک بار بھی اُس کو دیکھنے کی گستاخی نہیں کی تھی جس کے لیے وہ نمازوں میں دعا مانگتا ہے ۔۔
۔
۔۔۔۔۔اُس نے یہ بات بہت پہلے نوٹ تھی وہ اُس کی طرف نہیں دیکھتا ۔۔۔۔وہ نظریں جُھکا لیتا ہے ۔۔۔۔۔مگر آج اُس نے اُس کو بے نقاب بیٹھے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ اُس کی نظروں نے لمحے بھر کے لیے بھی اُس کے چہرے کا طواف نہیں کیا تھا جو مسلسل اُس کو دیکھ رہی تھی جیسے اُس کو قید کرنا چاہتی ہو اپنی آنکھوں میں ۔۔۔۔۔۔ پھر آنکھوں کے راستے اُس کو اپنی روح میں اتارنا چاہتی ہو ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: