Hijab Novel By Amina Khan – Episode 25

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 25

–**–**–

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وجدان تمھارے چچا جان نے فاطمہ کے رشتے سے انکار کر دیا ہے”
۔
کھانا کھانے کے دوران ماں نے اُس کو بہت افسوس سے کہا ۔جیسے اُن دل ٹوٹا ہو ۔۔۔۔۔
۔
“مگر امی …..”
اُس نے منہ میں جانے والا نوالہ اپنے ہاتھ سے پلیٹ میں رکھا ۔جیسے وہ اب کھبی کچھ کھا نہیں پائے گا ۔۔۔۔۔اب کچھ بول نہیں پائے گا ۔۔۔۔
۔
اُس نے کھانا وہیں چھوڑا ماں سے بات کیے بغیر فاطمہ کے کمرے میں گیا ۔۔جو مشین پہ کچھ بنا رہی تھی ۔اور مسلسل مشین چلا رہی تھی
۔
“آپی ۔۔۔۔۔”
وہ آیا ۔۔۔۔۔۔ اُس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔اور سر کو جھکا لیا ۔۔۔جیسے کوئی بچہ ایسے بیٹھا ہو کہ اُس کا چہرہ اور اُس کی آنکھیں کوئی نہ دیکھ پائے ۔۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں کا درد کوئی محسوس نا کر سکے ۔۔۔۔۔وہ اونچا اونچا روئے اور اُس کی بہن کے سواء کوئی اُس کو نا سنے کوئی اُس کو نہ دیکھے ۔۔۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے وجی “
اُس نے مشین کو سائڈ پہ کیا ۔۔۔اور اس کے قریب بیٹھی ۔۔۔۔
۔
“وجی “
اب کی بار اُس کی برداشت کی حد نے جواب دے دی تھی۔۔اُس نے اپنا سر بہن کی گود میں رکھا ۔۔۔۔اور بچوں کی طرح سسکیاں لے لے کر رونے لگا ۔۔۔۔خود کو بہن کی بربادی کا ذمےدار سمجھنے لگا ۔۔۔۔۔
۔
“آپی میں جینا نہیں چاہتا “
اُس نے روتے روتے بہن کو کہا ۔۔۔۔اور نا جانے اُس نے کتنی سسکیوں سے اج اپنے لیے موت مانگی تھی ۔۔۔۔
۔
وہ جو بہن کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا ۔۔۔۔بہن نے فوراً اُس کو اوپر کیا ۔۔۔۔اور آنکھوں میں وحشت لیے زور سے اُس کے منہ پہ دپھڑ مارا ۔۔۔۔۔جو یہ کہے رہا تھا میں جینا نہیں چاہتا ۔۔۔۔
۔
“آپی ماریں مجھے اور ماریں”
اُس نے بہن کے دونوں ہاتھ پکڑے اور زور زور سے اپنے منہ پہ مارنے لگا ۔۔۔۔
۔
“آپی میں ذمےدار ہوں آپکی بربادی کا “
اُس نے بہن کی طرف دیکھا جو بلکل نڈھال بیٹھی تھی ۔۔۔۔اُس نے تو اج تک اُسے ڈانٹا تک نہیں تھا وہ اُس کو مار کیسے سکتی ہے ۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں سے آنسوں کا سیلاب بہنے لگا ۔۔۔۔۔جیسے اُس کے اندر کچھ ٹوٹا ہو اور اُس ٹوٹنے سے آنکھوں سے ایک ایک کر کے کرچیاں باہر آ رہی ہوں ۔۔۔۔۔
۔
“وجی تم جینا نہیں چاہتے؟ “
اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا جینا نہیں چاہتا؟ ہم پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی جینا نہیں چاہتا؟ “
۔
وہ بغیر اُس کی طرف دیکھے بولتی رہی۔ جیسے اُس کی اس بات نے اسکو اندر سے توڑ دیا ہو ۔۔۔۔
۔
“وجی ابو کے بعد کون ہے ہم بہنوں کا سہارا ؟ کوئی ہے ؟ “
۔
“ہمارا اکلوتا سہارا آج یہ کہے رہا ہے کہ وہ جینا نہیں چاہتا ۔۔۔۔وجی ہم تو تمہیں دیکھ کے جیتے ہیں ۔۔۔ہماری زندگی کی واحد خوشی ہو تم ۔۔۔۔اور تم کہتے ہو میں جینا نہیں چاہتا ” ۔
۔
اُس نے روتے ہوئے کہا جیسے روتے روتے اُس کے دل میں درد اتا ہو ۔۔۔۔۔وہ بار بار کھانستی اور روتے ہوئے بولتی ۔
۔
“نہیں آپی مجھے معاف کر دیں پلیز “
بہن کو گلے سے لگاتے ہوئے وہ اُس کے آنسوں صاف کرنے لگا جس کی اپنی آنکھوں میں آنسوں کا ایک سمندر تھا ۔۔۔۔۔وہ بہن کو چومنے لگا جو بلکل بے حال بیٹھی تھی ۔۔۔۔
۔
“آپی مجھے معاف کر دیں ۔میں آئندہ ایسا کھبی نہیں کہوں گا ۔۔۔بس مجھے آج معاف کر دیں”
۔
بہن کی گود میں پھر سے سر رکھتے ہوئے وہ معافی مانگنے لگا ۔۔۔۔۔اُس کے سامنے گھڑگھڑانے لگا ۔۔۔۔۔۔
۔
“وجی …..جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں ۔۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں کہ چچا جان کے گھر میرا رشتہِ نہیں ہوا ۔۔۔۔وہ رشتہِ نہیں کر رہے تھے وجی وہ تو سودا کر رہے تھے ۔۔۔۔۔ہماری بیٹی لو اور اپنی دو ۔۔۔۔۔
جہاں سودے ہوتے ہیں نا وجی وہاں رشتے نہیں ہوتے ۔۔۔ اور ایسے نہیں رویا کرو ۔۔۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں اپنی زندگی سے ۔۔۔۔شادی کر کے جاتی تو تمہارے بغیر میں کیسے رہتی ؟
۔
وہ اُس کے بالوں میں اپنی اُنگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔۔
۔
وہ جو کچھ وقت پہلے ایک آگ میں جل رہا تھا۔ اُس کو لگا کسی نے اُس پہ ٹھنڈا پانی پھینکا ہو ۔۔۔اُس کو سکون میں لیے لیا ہو ۔۔۔اُس کی آنکھیں بند ہونے لگی۔ اور سکون سے بھری ننید اُس پہ غلبہ کرنے لگی۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹی تھی ۔۔۔۔اُس نے جو چہرہ اپنی آنکھوں میں قید کیا تھا ۔۔۔وہ اُس کی آنکھیں بند ہوتے ہی اُس کے سامنے آنے لگتا ۔۔۔۔وہ اب کھبی آنکھیں نہیں کھولنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ اُس کو دیکھنا چاہتی تھی اُس کا مسکراتا چہرہ ، اُس کو چھوٹی آنکھیں ۔۔۔۔۔اُس کے منہ پہ سجتی داڑھی ۔۔۔اُس نے اُس کی ایک ایک چیز کو قید کیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں بند کرتی تو وہ مسکراتا ہوا اُس کے سامنے ہوتا ۔۔۔۔اور اُس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ سج جاتی ۔۔۔
۔
آج وہ اُس کا بھول جانا نہیں مانگ رہی تھی ۔۔۔۔آج وہ اُس کو بس اپنی روح میں سومو رہی تھی ۔۔۔اُس کو اپنے دل میں ، اپنی دھڑکن میں اپنے لہو میں محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
۔
اُس کے نام کے قہوے کی خوشبو اور ذائقہ اپنے منہ میں لا رہی تھی ۔۔۔۔
۔
اُس نے اُس قہوے کے بعد کچھ بھی نہیں کھایا تھا کھانا تو دُور کی بات ہے اُس نے تو کچھ پیا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی اُس کا وہ ذائقہ اور خوبشو اُس کے منہ سے جائے ۔۔۔۔
۔
“اللہ جی یہ کیسا احساس ہے….مجھے کیوں لگتا ہے وہ میرے اندر ہے ۔۔۔میری روح کی جگہ وہ ہے ۔۔۔۔میری آنکھوں میں کیوں اُس کا چہرہ اتا ہے “
وہ آنکھیں بند کیے اللہ سے باتیں کرنے لگی ۔۔۔اُس کا چہرہ اپنی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔
۔
“اُس نے خود کو اللہ کے حوالے کیا تھا ۔۔۔۔۔اور جو اللہ کرتا ہے وہی بہتر ہے ، وہی حق ہے ، وہی سچ ہے “
۔
وہ لیٹی تھی کہ اُس کا موبائل بجھا ….موبائل کھولتے ہی ، اُس کی نظر اُس میسیج پہ پڑی ۔۔۔۔اُس نام پہ پڑی ۔۔۔۔اُس کے دل کو ایک سکون ملا ۔۔۔لبوں پہ مسکراہٹ ائی ۔۔۔۔اُس نے موبائل اٹھایا اپنے دل سے لگایا ۔۔۔۔اور آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔۔۔اُس کا چہرہ اُس کے سامنے آیا ۔۔۔۔۔لبوں کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی۔ آنکھوں میں چمک اُتری
۔
“اسلام علیکم “
“بہت شکریہ چائے پہ آنے کے لیے “
۔
اُس نے آج بھی بس دو مصرعوں کا میسیج کیا تھا ۔۔۔
۔
۔
“وعلیکم السلام “
۔آج اُس کے اختیار میں نہیں تھا وہ اُس جواب نا دے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اُس کے ہاتھوں نے خود بخود حرکت کی۔۔۔۔۔۔ اور جواب اُس کو ملا ۔۔جو کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اُس کے ایک جواب کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
۔
۔
وہ ہاتھ میں موبائل لیے کھڑکی کے پاس گئی جدھر سے چاند نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔اُس کالی رات میں بھی چاند اپنے سرور میں چمک رہا تھا ۔۔۔اُس کو لگا آج سے پہلے چاند اِس قدر روشن نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔اس قدر پر نور نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔ اس قدر نہیں چمکا تھا
۔
“آج چاند بھی خوش ہے کیوں کہ میں خوش ہُوں”
اُس نے موبائل ہاتھ میں پکڑا ۔اور اُس کے اگلے میسیج کا انتظار کرنے لگی۔ ۔۔
۔
۔
وہ چھت پہ بیٹھا ، چاند کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جیسے وہ اُس پہ مسکرا رہا ہو ۔۔وہ اس ٹھنڈ میں بھی چھت پہ بیٹھا تھا ۔ ہاتھ میں سگریٹ پکڑے ۔۔۔اُس کو محسوس کر رہا تھا جس نے اُس کو جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“مجھے بہت خوشی ہوئی آپ میری خاطر آئیں اُدھر “
۔
اگلا میسیج دیکھتے ہی اُس کی آنکھوں میں چمک آئی ۔۔۔۔اُس نے کھڑکی کھولی اور بارش کی ہلکی ہلکی بوندوں کو اپنے اندر اُتارنے لگی ۔۔۔۔۔۔
۔
“شکریہ😊
۔
وہ ہاتھ میں سگریٹ پکڑے اُس سردی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو اُس کو ضرورت سے زیادہ ہی آج لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس نے اُس کا میسیج دیکھا اور مسکرانے لگا ۔۔۔۔
۔
“Can i call you? “
ایک بار پھر اُس کو میسیج آیا ۔۔۔۔ اُس کو لگا جیسے اب وہ یہیں کھڑے گر جائے گی ۔۔۔ ۔اُس نے آنکھیں بند کیں اُس کا مسکراتا چہرہ اُس کے سامنے آیا ۔۔
۔
۔اُس کے دل نے ایک دم اُس کو قبول کیا جس کو وہ بھول جانا مانگتی تھی ۔۔۔۔۔”
۔
اُس نے آسمان پہ دیکھا ۔۔۔اُس کے دل میں ڈر کی ایک لہر اٹھی ۔۔۔۔۔جیسے اللہ کو وہ ناراض کر رہی ہے ۔۔۔۔ جیسے اللہ جی اُس سے ناراض ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں نہیں میں آپکو نہیں خفا کر سکتی ۔۔۔میں نہیں کروں گی اُن سے بات بس آپ دُور نا ہونا مجھ سے میرے خدا “
۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ کہ اچانک سے اُس کا موبائل پھر سے بجنے لگا اب کی بار ٹیون میسیج کے بجائے کال کی تھی ۔۔۔
۔
اُس کا دل زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔آنکھوں میں بے چینی آنے لگی ۔۔۔۔۔جیسے وہ ڈر رہی ہو ۔۔۔۔کال مسلسل آنے لگی ۔۔۔۔۔اُس نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ کال ریسیو کی اور موبائل کان سے لگا لیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔”اماں آپ جاگ رہی ہیں ابھی تک “
ابراہیم صاحب جب بھی گھر اتے تو سب سے پہلے اماں کے کمرے میں آتے تھے۔ اُن کے سر کی مالش کرتے اُن کی ٹانگیں دباتے ۔۔۔دِن بھر کی ساری باتیں ایک بچے کی طرح اپنی اماں کو بتاتے ۔۔۔۔یہ اُن کے بچپن کا ممہول تھا ۔۔۔۔
۔
جیسے وہ اپنی ماں کے ساتھ کرتے ویسے ہی اُن کی اولاد اُن کے ساتھ کرتی ۔۔۔۔۔باپ سے وہ بہت ڈرتے تھے تو اُن کے اتنے قریب نہیں آتے تھے ۔۔۔۔مگر ماں تو اُن کے لیے ایک سہیلی تھی ۔۔۔۔جن کے ساتھ وہ اپنی ہر بات کرتے تھے ۔۔۔۔
۔
“تمھارا ہی انتظار کر رہی تھی میں ابراہیم۔۔۔تمھیں تو پتا ہے جب تک تم گھر پہ نہیں آتے تو مجھے کھدر آتی ہے نیند “
۔
“اماں میں نے شہاب کو بتایا تھا نا آج میں تھوڑا لیٹ ہو جاؤں گا ۔۔۔اُس نے آپ کو نہیں بتایا؟ “
۔
“اُس نے تو مجھے بتایا ہے مگر ماں کا دل ہے نا جب تک اولاد گھر نا آ جائے کیسے سکون سے سو سکتی ہے ماں “
۔
“اماں سو جائیں کریں آپ ۔۔۔مجھے نہیں اچھا لگتا میری ماں یوں میرے لیے اتنی دیر تک جاگے “
۔
انھوں نے ماں کے پیروں کو دوباتے ہوئے کہا !!!!
۔
“ابراہیم مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے “
انھوں نے کمر کے پیچھے پڑے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائی اور تھوڑا اوپر ہو کے بیٹھیں !
۔
“جی اماں بولیں نا “
۔
“ابراہیم میں چاہتی ہوں تم اور فیروز آپس میں صلح کر لو”
۔
اماں میں تو بھائی صاحب سے نہیں خفا ۔۔۔۔میں تو اُن کو ویسے ہی دعا سلام کرتا ہوں ۔۔۔۔میں نے تو ایک دن بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا ۔اور نہ ہی بھابھی صاحبہ کی کہی ہوئی کوئی بات اُن کو بتائی “
۔
“بیشک تم اُس سے نہیں خفا ہو ابراہیم مگر اُس کی اولاد سے تو ہو نا ۔۔۔۔۔جب ایک انسان کی اولاد سے آپ خفا ہو اور ماں باپ سے راضی رہو تو ایسا بھی تو نہیں ہوتا نا “
۔
اماں رجب اگر میرے بیٹے کے بارے میں بات کرتا تو میں کب کا اُسے معاف کر دیتا ۔۔۔۔۔کیوں کے مردوں کی باتیں اور ہوتی ہیں ۔۔۔۔میرے بیٹے کسی بھی موقع پہ اُس کو اُسکی کہی ہوئی بات کا جواب دیتے ۔۔۔۔مگر اُس نے بات میری بیٹی پہ کہی ہے ۔۔۔میری حياؤں والی بیٹی پہ ۔۔۔۔۔۔۔اپنی بیٹی پہ کہی ہوئی وہ بات تو میں قبر میں جانے تک یاد رکھوں گا ۔۔۔۔اُس کو کیا لگا تھا میری بیٹی یونیورسٹی جائے گی تو اُس کے لیے اچھا رشتہ نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔وہ انکار کرے گا تو میری بیٹی کو کوئی شادی کر کے نہیں لے جائے گا ۔۔۔۔اماں میں تو بس زرمینہ گل کی تعلیم تک روکا ہوں ۔ورنہ مانسہرہ کے ایسے خاندان میں اُس کی شادی کرواؤں کے دنیا دیکھے “
۔
اماں کل بھی مجھے واجد خان نے زری کے رشتے کا کہا آپکو پتا ہے اُس کا ایک نام ہے مانسہرہ میں ۔۔۔۔۔۔اور بیٹا بھی لندن سے پڑھ کے آیا ہے ۔وہ تو میں زری کی تعلیم تک روکا ہوں”
۔
وہ دھیمے لیجئے میں اور روانی سے بولتے رہے ۔۔۔۔اور ماں چپ کر کے سنتی رہیں ۔اُن کو پتا تھا ابراہیم کو رجب کی کہی کوئی ہوئی بات کا بہت صدمہ ہے۔ ۔۔۔۔
۔
ابراہیم فیروز آیا تھا آج ۔۔۔۔وہ پھر سے زری کا ہاتھ مانگ رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“اماں آپ نے آج یہ بات کہی ہے دوبارہ نا کیجیے گا ۔۔۔۔۔یہ تو میری بیٹی ہے رجب کو تو میں اپنے گھر کا کتے کا بچہ نا دوں ۔۔”
۔
اُس نے سُرخ ہوتے چہرے کے ساتھ ماں کو بہت آرام سے کہا ۔اور وہ سمجھ بھی گئیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اسلام علیکم “
اُس نے موبائل اپنے کان کے ساتھ لگایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔اُس کو آواز پہ اُس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی ۔۔۔۔اُس کو پہلے تو یقین ہی نہیں آیا وہ وجدان حسین شاہ کی آواز سن رہی ہے ۔۔۔۔اُس نے دوبارہ اُس کو سلام کیا ۔۔۔۔جو موبائل کان کے ساتھ لگائے خاموش کھڑی تھی۔ ۔۔۔۔
۔
۔
“وعلیکم۔۔۔۔۔وعلیکم سلام “
اُس نے جلدی جلدی سے سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔
۔
اُس کی آواز سن کے اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔لبوں نے الحمدللہ کہا۔۔۔اور ہاتھ کی انگلیوں سے سگریٹ نیچے گرا ۔
۔
“سوئی نہیں ہیں آپ “
اُس کو لگا آج وہ ہوا میں ہے جیسے وہ اڑ رہی ہے ۔وہ آسمان میں اُس چاند کے پاس بلکل پاس پہنچ گئی ہے ۔۔۔۔
۔
“وہ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔تو جاگ رہی تھی”
دھڑکتے دل کے ساتھ وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔ ۔۔
۔
“کتنے بجے سوتی ہیں آپ”
وہ بات سے بات نکال رہا تھا ۔۔۔۔جیسے دونوں طرف سے کوئی چپ نہ ہو ۔کال بند نہ ہو
۔
“جلدی سو جاتی ہوں میں”
وہ اُس کے سحر میں اُس کی باتوں کے آهوش میں لپٹی جا رہی تھی ۔۔۔۔وہ بھول گئی تھی وہ کون ہے کیا ہے ۔۔۔اور کیوں ایسے ایک نامحرم سے بات کر رہی ہے ؟
۔
اُس کو تو محبت کا الف ب بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔۔پھر یہ کیا ہو رہا ہے اُس کے ساتھ ۔اُس نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا ۔۔۔۔
۔
اب وہ اُس کی باتوں میں جھکڑی گی تھی ۔۔۔۔اب وہ خود کو آزاد نہیں کرونا چاہتی تھی ۔۔۔۔وہ مزید اُس کی باتوں میں خود کو قید کرنا چاہتی تھی ۔
۔
۔
“ملکہ کیا تم سے بھی کسی کی آواز میٹھی اور خوبصورت ہے۔۔۔۔۔؟”
اُس نے اُسکی بات کے جواب میں ۔۔۔۔ اپنے دل میں سوچا ۔۔۔۔جس کا دل چاہتا تھا یہ لمہیں کھبی ختم نہ ہوں ۔جن لمحوں میں اُس کی ملکہ اُس سے بات کر رہی ہے ۔
۔
“ایک بات پوچھوں میں آپ سے “
اب اُس کو لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی کسی سہیلی سے بات کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔اب اُس کو ڈر نہیں لگ رہا تھا اُس سے ۔۔۔۔
۔
“جی پوچھیں نا “
اُس نے اتنے پیار سے کہا ۔۔۔۔۔کہ دوسری طرف یک دم خاموش ہوئی ۔۔۔۔جیسے کوئی اُس کے اِس پیار کو محسوس کر رہا ہو ۔۔۔۔
۔
“آپ مجھے اگنور کیوں کرتے ہیں”
۔
اُس نے بچوں کی طرح معصومیت سے اُس سے گِلہ کیا ۔ ۔
۔
دوسری طرف سے ایک لمبی خاموشی ہوئی ۔۔۔
۔
“آپ کو کیوں لگتا ہے میں آپ کو اگنور کرتا ہوں؟ “
اُس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اُس سے پوچھا ۔۔۔۔جیسے اُس کی اِس بات سے اُس کے دل میں درد ہوا ہو ۔اُس کا دل دُکھا ہو ۔۔۔۔میں تمہیں اگنور کروں گا ملکہ ؟ وجدان اپنی ملکہ کو اگنور کرے گا ؟ اُس کی آنکھوں میں آنسوں آئے ۔اور وہ صبری سے اُس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
۔
“مجھے ایسے ہی لگا آپ مجھے اگنور کرتے ہیں ۔آپ نے سب سے زیادہ ڈانٹا بھی مجھے تھا کلاس میں”
وہ بچوں کی طرح روتے ہوئے اُس سے شکایتیں کرنے لگی ۔
۔
“آپ کو ڈانٹ کے خود بھی تو بہت بےچین رہا نا میں ۔آپ کو رولا کے خود بھی تو رویا ہوں میں”
۔
وہ اُس سے ایسے بات کرنے لگا جیسے بچوں سے کوئی لاڈ کر رہا ہو۔ اُن کو پیار سے سمجھا رہا ہو ۔۔۔۔۔اور خود بھی اُس کی اِن چھوٹی چھوٹی شکایتوں پہ مسکرا رہا ہو ۔
۔
“آپ نے مجھے ڈانٹا تو ڈانٹا بھی کیوں؟”
وہ بچوں کی طرح روتے ہوئے اُس سے ضد کرنے لگی ۔۔۔۔
۔
“اچھا نا دیکھیں میں کان پکڑتا ہوں نہ آئندہ نہیں ڈانٹوں گا میں کھبی آپکو “
۔
اُس نے ہستے ہوئے ایک ہاتھ سے اپنا کان پکڑا
۔
“کوئی نہیں معاف کرتی میں آپ کو “
آنکھوں سے آنسوں صاف کرتے ہوئے وہ اُسی انداز میں اُس سے لڑ رہی تھی ۔۔۔اُس سے گلے کر رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“اچھا روئیں تو نہیں نا “
۔
وہ جس کی اپنی آنکھیں بھیگ رہی تھیں اُس کو چپ کروا رہا تھا!
۔
وہ اب اُس سے بات کرتے ہوئے اِدھر سے اُدھر ٹہلنے لگی ۔۔۔کھبی اُس سے شکوے کرتی ۔۔۔کھبی مسکرا دیتی اور کھبی شرما جاتی ۔۔۔۔
۔
اُس نے باتیں کرتے ہوئے اپنی گھڑی دیکھی جس پہ ایک بج رہا تھا ۔۔۔۔اُس کو بے اختیار اُس لڑکی پہ ترس آیا جو اُس کی خاطر جاگ رہی تھی ۔۔۔۔سوئی نہیں تھی ۔
۔
“سو جائیں آپ اب “.
اُس نے اُسی پیاری سے اُس کو کہا ۔۔۔۔۔جو اب کھبی سونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔اُس نے گھڑی پہ ٹائم دیکھا ۔۔۔۔۔اتنی دیر باتیں کر رہی تھی میں ۔۔۔۔۔دل میں سوچتے ہوئے اُس نے کہا۔
۔
“جی ٹھیک ہے آپ بھی سو جائیں “
“خدا حافظ “
۔
“سونا تو اب دونوں نے نصیبوں سے ہی تھا۔۔مگر خدا حافظ کہنا بھی تو ضروری تھا”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: