Hijab Novel By Amina Khan – Episode 26

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 26

–**–**–

“کیا سوچ رہی ہو تم”
فضہ نے اُس کو مسلسل چپ بیٹھے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔۔اُس کو اتنا تو اندازہ ہو ہی گیا تھا ۔کچھ تو ہے جو اُس کی زندگی میں بدلا ہے ۔۔۔۔۔وہ پچھلے کچھ دنوں سے بہت ضدی ہو گئی تھی ۔چھوٹی چھوٹی بات پہ غصّہ ہو جاتی۔ ۔۔۔۔۔جیسے اندر کوئی گہری ضرب لگی ہے۔۔۔۔۔۔جسکو وہ دیکھانا نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔اور خود ہی برداشت کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
“زری کیا ہوا ہے “
اُس نے اُس کا منہ اپنی طرف کیا اور ایک بار پھر اُس سے پوچھا جو اپنی ہی سوچوں میں بے نیاز گم تھی۔ ۔۔۔
۔
“کچھ نہیں ہوا فضہ “
اُس نے اُس کی طرف دیکھا اور آرام سے کہا۔ ۔۔۔۔جیسے بہت دُکھ ہو اُس کو کہ وہ اُس کی دوستی کا حق ادا نہ کر سکی ۔۔۔۔۔وہ تو پچھلے کچھ دنوں سے کسی بھی رشتے کا حق نہیں ادا کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔اُس کو تو اُس شخص کے سواء کچھ نظر ہی نہیں آتا جس کے ساتھ اُس کا کوئی رشتہ ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔
۔
“تم کس کی وجہ سے ڈسٹرب ہو “
فضہ نے بھی ہار نہیں مانی تھی اُس نے سوچ لیا تھا وہ اُس سے پوچھ کے رہے گی ۔۔۔۔شک تو اُس کو بہت پہلے سے تھا ۔۔۔۔۔مگر آج وہ اپنے شک کی تصدیق چاہتی تھی ۔۔۔
۔
“کسی کی وجہ سے نہیں ڈسٹرب میں “
اُس نے اب کی بار جھنجلاہٹ سے جواب دیا ۔۔۔جیسے تنگ ہو رہی ہو۔ ۔۔۔۔ چپ رہنا چاہتی ہو ۔۔۔۔
۔
“وجدان سر کی وجہ سے ڈسٹرب ہو نا تم؟”
اُس نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔۔جس کی آنکھوں کا رنگ ایک دم بدلا ۔۔۔۔چہرے کی رنگت ایک دم سے زرد ہوئی۔۔۔ہونٹوں پہ سفیدی آئی ۔۔۔۔۔
۔
اب وہ ہار گی تھی ۔۔۔۔اب وہ چاہ کے بھی کچھ چھپا نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔اُس نے وجدان کے نام پہ نظریں جُھکا لیں ۔۔۔۔۔اور گراؤنڈ میں پڑے بنچ کے ساتھ ٹیک لگا کے پیچھے ہو کے بیٹھ گی۔ اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔۔
آنکھوں کے بند ہوتے ہی اُس کے ہونٹ کانپنے لگے ۔۔۔آنکھوں کے کونوں سے قطرہ قطرہ آنسوں گرنے لگے۔ ۔۔۔۔
۔
فضہ یہ سب کچھ بہت غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو ایک درد سا ہوا ۔اُس نے پہلے کھبی اُس کو اِس حالت میں نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔اُس نے تو ایک انا پرست زرمینہ کو دیکھا تھا۔ ۔۔۔یہ ہاری ہوئی لڑکی کون تھی جو اُس کے سامنے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“بات ہوتی ہے سر سے “
اُس نے اُس کو بند آنکھوں کو کھولنے کا نہیں کہا تھا۔ اُس کو چپ ہونے کا بھی نہیں بولا تھا ۔۔۔۔وہ جانتی تھی وہ جب روتی ہے تو سب کچھ بتا دیتی ہے۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ درد میں ہی بولتی ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
“فضہ کے اس سوال پے اُس نے ایسے ہی آنکھیں بند رکھیں۔اور سر کو ہلا کے کہا ۔۔۔۔ ہاں ہوتی ہے “
۔
وہ جانتی تھی اُس کو اتنے سالوں سے جانتی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو پتا تھا اگر وہ اُس سے بات کر رہی ہے تو وُہ خود سے ہاری ہے ۔وہ وجدان حسین شاہ سے ہاری ہے ۔ورنہ زرمینہ جیسی لڑکی کسی نا محرم سے بات کرے ۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔وہ تو کالج میں مشہور تھی کہ اِس کی زندگی میں کوئی لڑکا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔پھر وہ کیسے ہار گی ۔۔۔۔۔اُس کو پتا تھا وہ اگر ہار گی ہے تو اب اُس کے لیے پلٹنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اب وہ چاہتے ہوئے بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتی ۔۔۔۔
۔
“فضہ میں کیا کروں اب “
اُس نے اب کی بار اپنی چپ توڑی اور ایسی توڑی کے جیسے آسمان بھی اُس کو سننے لگا۔۔۔۔
۔
وہ فضہ کے گود میں سر رکھ کے اونچا اونچا رونے لگی ۔۔۔۔۔
۔
“زری ایسے نہیں روتے۔ ۔۔۔۔کچھ نہیں ہو گا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔تم دیکھنا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا “
۔
“سب ٹھیک نہیں ہو گا فضہ ۔”۔سب ٹھیک نہیں ہو سکتا اب۔۔۔۔۔۔میں نے اپنے اللہ کو ناراض کر دیا ہے۔ ۔۔۔ایک نا محرم سے بات کی ہے ۔۔۔۔۔مگر میں کیا کروں میرا دل میرے اختیار میں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔میں چاہتے ہوئے بھی خود کو نہیں روک سکتی۔۔۔۔۔۔۔میں اُن سے بات نہیں کرنا چاہتی مگر میرے بس میں کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔میں اُن کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی مگر جب تک میں اُن کو دیکھوں نا۔ ۔۔مجھے ایک لمحے کو چین نہیں آتا ۔۔جیسے میرا دل کٹ رہا ہو ۔۔۔۔۔
۔
وہ اُس کی گودی میں لیٹے ہوئے اونچا اونچا رونے لگی ۔۔۔۔۔جیسے آج اعتراف کر رہی ہو اُس بات کا جو اُس نے خود کے سامنے بھی نہیں کہی ۔۔۔۔
۔
“زری مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟”
فضہ نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اگر وہ اُس کو پہلے بتا دیتی تو اج ایسے نا رو رہی ہوتی۔ ۔۔۔۔۔جب بندہ کسی مخلص دوست کے ساتھ بات کر لے تو دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے آدھی پریشانی تو ایسے ہی ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔
۔
اور وہ جو آج رو رہی تھی اُس کے اندر تو ایک سمندر تھا ۔۔۔۔جس کو وہ آج اُس کی گود میں بہا رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کانفرنس ہے یونی میں سر وجدان کی ، سر نے ہمیں بھی انوائیٹ کیا ہے ۔۔۔۔۔سر کہے رہے تھے ہم بھی ہوں اُدھر ۔۔۔۔۔
۔
مدثر نے کلاس میں آ کے سر کا پیغام دیا !!!
۔
“یار ضرور چلیں گے “
۔
“ہم کیا کریں گے اُدھر ایسے ہی بور ہونا ہے ہمارا کیا کام ہو گا اُدھر “
۔
“میرے خیال سے تو چلتے ہیں”
۔
ہر کوئی اپنی اپنی بات کر رہا تھا ۔اپنا اپنا پوائنٹ بتا رہا تھا ۔۔۔آدھے لوگ جانے کے لیے تیار تھے اور کُچھ نہیں جانا چاہیے تھے ۔
۔
“زرمینہ ہم جائیں گے ؟ “
فضہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اُس کے کھندے پہ سر رکھے آنکھیں بند کیے دنیا سے بےنیاز بیٹھی تھی ۔
۔
“نہیں فضہ ہم نہیں جا رہے “
اُس کی زبان نے اُس کے دل کا ساتھ نہیں دیا اور اُس نے انکار کر دیا۔
۔
“پکا نہیں جا رہے نا”
فضہ اُس سے ایک بار پھر تصدیق چاہتی تھی ۔۔۔۔کہ اُس کا موبائل بجھا۔۔۔۔اُس نے موبائل کھولا اور میسیج دیکھا ۔۔۔
۔
“آپ نے آنا ہے “
موبائل کی سکرین پہ اُس کا نام چمکنے لگا ۔
میسیج دیکھتے ہی اُس کا اب خود پر سے اختار ختم ہو گیا ۔۔۔۔۔وہ اُس کو کیسے انکار کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔کیسے کہے سکتی ہے اُس نے نہیں آنا ۔۔۔۔۔اُس نے تو ایک حکم صادر کیا تھا وہ اُس سے کیسے انکار کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔؟
۔
“ہم چلیں گے فضہ “
اُس نے موبائل کو اپنے بیگ میں رکھا ۔۔۔اپنا سر اوپر کیا اور چلنے کی تیاری کرنے لگی !!
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بلیک جینز ، سفید شرٹ اور بلیک کوٹ پہنے ۔۔ حال کے باہر کھڑا اُن کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ جب بھی اُن کو بلاتا تھا اُن کا استقبال کرنے کے لیے خود باہر کھڑا ہوتا تھا!!
۔
“وہ دیکھو سر خود باہر کھڑے ہیں”
ماہ نور نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔سب نے نظر اٹھا کے اُس کو دیکھا ۔جس نے شاید اُنکو دیکھ لیا تھا۔ اور دوسرے فلور سے نیچے اپنے مخصوص انداز میں بھاگتا بھاگتا آ رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“بہت دیر کر دی آپ نے ، جلدی آئیں اب “
وہ اُن کے پاس آ کے کھڑا ہوا ۔۔۔۔اُس کو بغیر دیکھے مسکراتا ہوا سب کو کہے رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“چلیں چلیں جلدی چلیں”
۔
وہ دوڑتا دوڑتا آگے جا رہا تھا جیسے بہت لیٹ ہو رہا ہو ۔۔۔۔اپنے ہاتھ پہ بندھی سفید گھڑی وہ بار بار دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور چلتا جا رہا تھا
۔
اُس کو بھاگنے کی عادت تھی اور وہ آہستہ چلا کرتی تھی !
۔
“زری جلدی چل خان صاحب نے غائب ہی ہو جانا ہے ہم سے “
فضہ نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور جلدی جلدی چلنے لگی ۔۔۔۔
۔
“ایسے ہی شودے ہیں”
اُس نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا جو اُن کو پیچھے چھوڑے بس دوڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ہیں؟”
فضہ اُس کی اِس بات پہ روکی جیسے اُس کو اسکا مطلب نہ آتا ہو ۔۔۔
۔
“شودے ہیں”
اب کی بار وہ مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔جیسے اُس کو اپنے ہی دیے ہوئے نام پہ ہسی آئی ہو ۔۔۔۔
۔
“شودے ہندکو میں شوخے کو کہتے ہیں”
اُس نے مسکراتے ہوئے فضہ کو بتایا اور اُس سے ساتھ ساتھ چلنے لگی ۔
۔
کانفرنس روم میں جاتے ہی اُس نے اُن سب کو اِشارہ کیا ادھر بیٹھ جائیں ۔۔۔۔۔۔وہ سب اُس کی وجہ ہے بس اُس کی خاطر وہاں آئے تھے۔ ۔۔۔۔
۔
“ہائے سر کتنے پیارے لگ رہے ہیں نا”
وہاں پہ بیٹھتے ہی ملائکہ نے اُس کو دیکھ کے کہا ۔۔۔۔جو اِدھر اُدھر سب سے باری باری مل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
اُس کی عادت تھی جہاں زمداری اُس کے سر ہوتی تھی ۔وہ چین سے بیٹھتا نہیں تھا ۔۔۔۔۔ہر چیز کو خود دیکھتا تھا چاہے وہ چھوٹی سے چھوٹی ہو یا پھر بڑے سے بڑی ۔۔۔۔
۔
“تمھیں تو کچھ زیادہ ہی اچھے نہیں لگنے لگے سر”
اُس کی اِس بات نے ارم نے اُس کو بہت غور سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔
۔
اس نوک جوک میں بس ایک ہی انسان چپ تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اندر سے جل رہی تھی ۔۔۔۔۔جیسے کوئی اُس کے اندر آگ لگا رہا ہو اور اُس کا سارا وجود جل رہا ہو ۔۔۔۔
اُس کو نفرت ہونے لگی تھی اُن لڑکیوں سے جو اُس کا نام بھی لیتی تھیں۔۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کوئی اُس کا نام بھی لے ۔۔ کوئی اُس کو دیکھے بھی ۔۔۔۔۔
وہ آج اُن لڑکیوں سے جیلس ہو رہی تھی ۔جن کو وہ منہ بھی نہیں لگاتی تھی ۔۔۔۔۔جن کے پاس بیٹھنا بھی اُس کو توہین لگتی تھی ۔۔۔۔۔آج وہ اُن سے حسد کر رہی تھی ۔اپنے ہی اندر لگائی ہوئے آگ میں خود کو جلا رہی تھی ۔۔۔۔
۔
وہ کھبی ایک طرف جاتا کھبی دوسری طرف ۔۔۔۔۔اور وہ اُس کو ہی دیکھئے جا رہی تھی ۔۔۔بس اُسی کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔اُس کو ہوش نہیں تھی دنیا کی ۔اُس کو نہیں پتا تھا وہاں کیا ہو رہا ہے۔ کون بول رہا ہے۔۔۔۔۔
۔
جیسے جیسے وہ اِدھر سے اُدھر جا رہا تھا اُس کی نظریں اُس کے ساتھ ساتھ اُس کے پیچھے پیچھے جا رہی تھیں ۔۔۔۔اُس کا دو چیزوں پہ کوئی اختیار نہیں تھا ۔۔۔۔اُس کے دل پہ اور اُس کی آنکھوں پہ ۔۔۔۔۔اُس کا دل اُس کی خاطر دھڑکتا تھا ۔اور اُس کی آنکھیں بس اُسی کو ڈھونڈتی تھیں اُسی کو دیکھتی تھیں ۔۔۔۔۔۔
۔
اب بولنے کی باری آرگنائزر کی تھی۔ جس نے یہ ساری کانفرنس آرگنائز کی تھی ۔۔۔۔۔ایک لڑکی مائک میں بول رہی تھی ۔۔۔۔۔آرگنائزر کی تعریف کر رہی تھی ۔۔۔۔اب اُس نے ایک بھرپور انداز میں سید وجدان حسین شاہ کہا اور تالیوں کی گونج نے اُس کا استقبال کیا ۔۔۔۔۔
۔
اُس کے نام پہ اُسکی آنکھیں بند ہوئیں ۔۔۔۔۔وہ بار بار اُس کا نام سننا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔وہ بار بار سید وجدان حسین شاہ سننا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
۔
وہ سامنے آیا ۔۔۔مائک ہاتھ میں لیا ۔۔۔۔۔۔سب کو سلام کیا اور بولنے لگا ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ سب کی توجہ کا مرکز بنتا تھا ۔۔۔مگر جب وہ بولتا تھا تو ہر کوئی بس اُسی کو دیکھتا تھا ۔۔۔۔اُسی کو سنتا تھا ۔۔۔
۔
وہ اُس کے سامنے بیٹھی اُس کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ رہی تھی ۔اُس کی آواز سن رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
وہ تقریاً پانچ منٹ بولا اور مائک رکھ لیا ۔۔۔۔سب نے ایک بار پھر تالیاں بجھائیں ۔۔۔۔۔اُس کو دات دی ۔۔۔۔۔
۔
“وہ اُن کے پاس آیا جہاں وہ سب بیٹھی تھیں ۔۔۔چلیں؟ چائے پی لیتے ہیں ساتھ۔۔۔۔”
۔
سب بس اُس کو سننے کے لیے وہاں بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔اُس کے بولنے کے بعد ویسے بھی سب نے اٹھ جانا تھا ۔۔۔۔۔
۔
وہ اور فضہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اُس کے ساتھ ساتھ اُس کے پیچھے جانے لگی ۔۔۔۔وہ یونی کی کینٹین میں گے اور اُسی جگہ بیٹھ گئے جہاں وہ پہلے بیٹھے تھے۔
اب کی بار ماحول میں فرق تھا ۔۔۔۔پہلی دفعہ وُہ پانچ چھ لڑکیاں ہی تھیں ۔آج آدھی کلاس وہاں موجود تھی ۔
۔
آج وہ اُس کے قریب نہیں بیٹھی تھی۔ اُس کے بہت دور تھی ۔۔۔
۔
“چھوٹے سب کے لیے چائے لے ائو اور ایک کپ گرین ٹی کا لے آنا “
۔
اُس نے اُسی بچے کو آواز دی اور چائے کا کہا ۔۔۔۔۔وہاں پہ بیٹھے چند لوگوں کو بخوبی علم تھا یہ جو گرین ٹی منگوائی ہے یہ کس کے لیے ہے ۔۔
۔
وہ سب اُس سے کانگریس کے بارے میں پوچھنے لگے۔ اُس سے باتیں کرنے لگے۔ وہ سب کو مسکرا کے جواب دیتا ۔۔۔
۔
آج اُس کی یہ مسکراہٹ اُس کو دُکھ دے رہی تھی ۔اُس کو تکلیف دے رہی تھی ۔۔۔۔”
“کیوں مسکراتے ہو تم وجدان لوگوں کے لیے ۔۔۔۔دیکھو درد ہوتا ہے مجھے “
۔
اُس کے دل میں درد کی کہی لہریں ٹکرانے لگیں ۔۔۔۔۔اُس کا ہانیہ سے ہس ہس کے بات کرنا ۔ارم سے مخاطب ہونا ۔اُس کو پل پل میں ازیت سے دو چار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی ۔۔۔وہ کسی لڑکی سے بات بھی کرے کوئی لڑکی اُس کو دیکھے۔۔۔۔۔
وہ جانتی تھی ایسا کچھ ممکن نہیں ہے مگر پھر بھی وہ ایک اُمید لیے بیٹھی تھی۔ کاش وجدان کسی سے بات نا کرے ۔۔۔۔۔کاش یہ لڑکیاں اُس کے آفس میں جانے سے پہلے سو بار سوچیں ۔۔۔۔۔مگر اُس کی طبیعت میں ہی خوش مزاجی تھی ۔۔۔۔وہ ہر ایک سے بات کرتا تھا ۔اور کلاس کے باہر جب وہ سٹوڈنٹس کے ساتھ ہوتا تو یاروں سے کم نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔
۔
“شاید محبت ہوتی ہی کچھ ایسی ہے۔۔۔۔۔
‘”محبت میں شراکت تو خدا نہیں برداشت کرتا تو زرمینہ گل تو ایک عام سی لڑکی ہے ۔وہ کیسے برداشت کرے؟ “
۔
اُس کی آنکھوں میں آنسوں آنے لگے ۔۔۔اُس کا سانس اُس کے حلق تک اٹکنے لگا۔۔۔۔۔اُس کے جسم میں چوبن لگنے لگی ۔۔۔۔دل کو ضرب لگنے لگی ۔۔۔۔ جیسے اُس کا دل کوئی اندر سے چھوٹا چھوٹا کر کے کاٹ رہا ہو۔۔۔۔۔
۔
وہ جو دنیا کو جوتی کی نوک پہ رکھتی تھی ۔آج اُن لوگوں کی قربت سے جل رہی تھی ۔جن کی اوقات اُس کے ساتھ بیٹھنے کی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔
۔
“فضہ چلو جائیں نا یار”
اُس نے فضہ کی طرف دیکھا اور اُس کو سرگوشی میں کہا ۔۔۔
۔
“لیکن زری سر کیا سوچیں گے”
اُس نے آرام سے اُس کے پاس ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“جو بھی سوچتے ہیں سوچیں ۔۔۔۔تم نے جانا ہے یا میں خود ہی جاؤں؟”
اُس نے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے کہا ۔
۔
“روکو میں بھی چلتی ہوں”
۔
اُس نے اُن دونوں کو اُٹھتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔۔وہ سمجھ گیا تھا کچھ تو یہاں غلط ہوا ہے جس سے وہ ایسے یہاں سے اٹھ کے جا رہی ہے “
۔
“سر ہم چلتے ہیں اب “
فضہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔جو ایک پریشانی میں مبتلا ہوا تھا ۔۔۔۔
۔
“مگر چائے …….”
“شکریہ سر پھر کھبی پی لیں گے “
فضہ نے معذرت کرنے والے انداز میں کہا ۔اور پیچھے مڑ کے اُس کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔جو بغیر اُس کا انتظار کیے سر کو بغیر بتائے۔ وہاں سے چلی گی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکون تو اُس کو اُس دِن کے بعد ایک پل کے لیے بھی نہیں آیا تھا ۔۔۔جس دن اُس نے اُس سے بات کی تھی۔۔۔۔اُس کو لگتا تھا جیسے اُس نے اپنا وقار کھو دیا ہے ۔۔۔۔ وہ بس ایک ہی سحر میں ہے ۔۔وہ وجدان کے سحر میں ہے ۔جیسے ایک جوگی کو کو روگ لگا ہو ۔۔۔۔۔جیسے اب اُس کے پاس گھر جانے کا کوئی راستہ نہ بچہ ہو ۔۔۔۔۔
۔
“اللہ جی آپ مجھ سے ناراض ہو گے ہیں نا”
اُس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے کہا ۔۔۔۔جیسے وہ اپنے دل میں اللہ جی کو کھوج رہی ہو ۔۔۔۔۔جو کہیں کھو گے ہیں ۔جو اب اُس سے بہت ناراض ہو کے بات کرتے ہیں ۔۔۔۔۔جیسے وہ اُس سے خفا ہوتے ہوں۔۔۔۔
۔
وہ اب اللہ جی سے اپنی باتیں چھپانے لگی تھی ۔۔۔۔اُن کو ساری باتیں نہیں بتاتی تھی ۔۔۔۔۔ اُن کو بس کچھ کچھ باتیں بتا دیتی تھی ۔۔۔۔وجدان کے لیے وہ جو محسوس کرتی تھی ۔وہ سب کچھ اب چھپاتی تھی ۔۔۔۔
۔
“اللہ جی میں آپ سے اس وجہ سے نہیں چھپاتی کہ میں آپ کو کچھ بتانا نہیں چاہتی ۔۔میں آپ سے اِس وجہ سے چھپاتی ہوں کہ مجھے شرم آتی ہے آپ سے “
۔
اُس نے روتے ہوئے آسمان کو دیکھا ۔۔۔۔اور اللہ جی کو کہنے لگی ۔آج بھی آسمان میں چاند چمک رہا تھا ۔۔۔مگر آج اُس کی چاندنی مدہم تھی ۔۔۔۔۔آج بھی وسی ہی رات تھی ۔مگر آج کی رات میں کچھ غصّہ تھا ۔۔۔۔۔۔جیسے کائنات کا ذرہ ذرہ اُس سے ناراض ہو ۔۔۔۔۔اُس سے مایوس ہو ۔۔۔۔۔جیسے اُس کو کہے رہا ہو
۔
“زرمینہ گل تم بھی ہار گئیں؟ “
۔
اُس کو خود پہ افسوس تھا ۔وہ ایک دلدل میں تھی۔ ۔۔۔۔وہ اُس دلدل میں پھستی چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ کالی رات میں روشنی کی تلاش میں گھاٹیوں میں جا رہی تھی ۔اُس کو واپسی کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔وہ واپس ہونا چاہتی تھی ۔مگر وہ کیسے واپس ہو ۔۔۔۔کس راستے پہ جائے۔ ۔۔۔۔کون ہے جو اب اُس کو سہارا دے گا ۔وہ اللہ ؟ جس کو میں نے ناراض کر دیا ہے ۔۔۔۔میں اب کیا کروں گی “
۔
وہ روتے روتے اپنے بیڈ پہ آئی ۔اپنے اوپر کمبل کیا ۔۔۔۔ایسے کہ باہر کی ہوا بھی اندر نہ لگے ۔۔۔۔۔وہ ڈرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔وہ اب اللہ جی سے ڈرتی تھی ۔۔۔۔۔وہ تو ہمیشہ کہتی تھی لوگ اللہ جی سے کیوں ڈرتے ہیں ؟ وہ تو کسی کو کچھ نہیں کہتے ۔۔۔۔۔
۔
مگر آج وہ خود ڈر رہی تھی ۔اللہ جی سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو غلطی کرتے ہیں گناہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ لوگ تو اللہ جی کے دوست ہوتے ہیں جو اُن کا کہا مانتے ہیں ۔۔۔۔۔جو اُن سے محبت کرتے ہیں ۔محبت تو وہ بھی کرتی تھی ۔۔مگر اب وہ محبت کسی اور سے بھی کرتی تھی ۔۔۔۔۔جس سے محبت سے اللہ نے منا کیا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کو چھپا رہی تھی ۔خود سے دنیا سے اور تو اور اللہ جی سے بھی ۔۔۔۔وہ اُن کو بھی نہیں بتانا چاہتی تھی ۔۔۔۔وہ ایسی ہی تھی ۔محبت کو چھپا کے رکھنے والی ۔۔۔۔۔وہ اُس کو اپنی آنکھوں میں اپنے دل میں قید کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
۔
وہ آج بہت بے چین تھی اُس کو قرار چائیے تھا ۔۔۔۔۔۔وہ بیڈ پہ آئی ۔۔۔۔آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔بازوں کو آنکھوں پر رکھا ۔۔۔۔۔اُس کا سراپا اُس کو نگھاؤں میں گھومنے لگا ۔۔۔۔۔۔اُس کا مسکراتا چہرہ اُس کے دل کو سکون دینے لگا ۔۔۔۔۔۔
۔
الٹی ہی چال چلتے ہیں دیوانگان عشق !
آنکھوں کو بند کرتے ہیں دیدار کے لیے !
۔
اُس کے دل کو سکون ہونے ہی لگا تھا کہ اُس کا موبائل بجھنے لگا ۔۔۔۔۔سکرین پہ اُس کا نمبر چمکنے لگا …..اُس کا نام اُس کو صاف صاف دکھائی دینے لگا……..
۔
“میں اُن سے بات نہیں کر سکتی “
آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو اُس نے صاف کیا اور موبائل کو سائڈ پہ رکھ دیا ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں اللہ جی آپ مجھ سے خفا نہیں ہونا میں نہیں بات کروں گی آج “
اُس نے موبائل کو پھر اٹھایا جس کی سکرین پہ ابھی بھی اُس کا نام چمک رہا تھا ۔۔۔۔۔
“کوئی محبت سے انکار کرے تو کیسے کرے کوئی محبوب سے منہ موڑے تو کیسے موڑے؟”
۔
محبت سے تو انکار پھر بھی ہو سکتا ہے۔ ۔۔۔محبوب سے کوئی منہ کیسے موڑ سکتا ہے ؟
۔
محبت تو اللہ کی صفت ہے ۔ اُس نے بھی تو محبت کی ہے ۔اُس نے اپنے محبوب کے دیدار کے لیے اُس کو اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔اُس کو آسمانوں کی سیر کروائی ۔۔۔۔۔۔اُس محبوب کے لیے دنیا بنائی ۔۔۔۔۔اُس کو محمّد کہا اُس کو احمد کہے کر بلایا ۔۔۔۔۔۔اپنے نام کے ساتھ محبوب کا نام لگایا۔۔۔۔
۔
خدا کو عرش پے محبوب کو بلانا تھا !
طلب تھی دید کی معراج کا بہانا تھا!
۔
محبت کرنا کہاں جرم ہے ۔۔۔۔جب اُس خدا کو محبت ہو سکتی ہے ۔تو محبت تو کسی کو بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔محبت کے لیے کچھ دل چن لیے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔زرمینہ گل کا بھی چن لیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ محبوب سے کیسے منہ موڑ لے ۔کس کے اختیار میں ہوتا ہے محبوب سے منہ موڑنا ۔۔۔۔۔
۔
موبائل کی سکرین پہ ایک بار پھر اُس کا نام چمکنے لگا ۔اب اُس بار اُس نے موبائل کو اٹھایا اور کان سے لگا لیا ۔۔۔۔۔
۔
اُس کی آواز سنتے ہی اُس کے دل میں ایک عجیب سی تڑپ اٹھی ۔۔۔۔۔
اُس کی آواز سنتے ہی اُس کا خود پر سے اختیار ختم ہوا ۔۔۔۔وہ جو اللہ کے سامنے اُس کے لیے روتی تھی۔ آج وہ اُس کے سامنے رونے لگی ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے اُس کے سلام کا جواب سسکیوں سے دیا ۔۔۔۔۔۔وہ جو اُس کی سسکیاں سن رہا تھا ۔اُس کے دل پہ درد کے پہاڑ گر گرنے لگے ۔۔۔۔۔۔وہ اُس سے پوچھنے کی ہمت کھو بیٹھا ۔۔۔۔وہ سن رہا تھا وہ اُس کی سسکیاں سن رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں روئیں زرمینہ “
اُس نے اپنے آنسوں کو ضبط کیا ۔۔۔۔اپنی لڑکھڑاتی آواز سے اُس کا نام لیا ۔۔۔۔۔۔
۔
اپنا نام سنتے ہی اُس کی سسکیوں میں کمی آئی۔ اُس نے آج پہلی دفعہ اُس کا نام لیا تھا ۔۔۔۔آج سے پہلے اُس کو اپنا نام اس قدر پیارا نہیں لگا تھا ۔۔۔۔۔
اُس نے اپنا نام سنتے ہی آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔۔وہ اُس کی خاموشی سننے لگی ۔۔۔۔اُس کی سانسیں سننے لگی ۔۔۔۔وہ گہری گہری سانسیں لے رہا تھا ۔جیسے کوئی سگریٹ پیتے ہوئے لیتا ہو ۔۔۔۔
۔
وہ اُس سے بات کرتے ہوئے کھبی سگریٹ نہیں پیتا تھا ۔۔۔مگر آج وہ خود پہ قابو پانا چاہتا تھا ۔وہ اُس کو نہیں بتا سکتا تھا ۔۔وہ مر جائے گا تمہارے بغیر ۔۔۔۔۔۔ اُس کو نہیں بتا سکتا تھا اُس کے آنسوں گرم دہکتے ہوئے پانی کی طرح اُس کے دل پہ لگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
۔
“سگریٹ پی رہے ہیں آپ “
اُس نے لیٹے ہوئے آنکھیں بند کیں اور اُس سے پوچھا ۔۔۔۔
۔
“جی ۔۔۔۔وہ “
اُس کی بات حلق میں ہی اٹکی ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں پیا کریں سگریٹ مجھ سے بات کرتے وقت”
وہ جب بھی اُس سے بات کرتی ایک بچی بن جاتی۔ اُس سے ضد کرتی ۔۔۔۔غصّہ بھی ہو جاتی ۔۔۔۔
۔
“آئندہ نہیں پیوں گا “
اُس کے ہاتھ سے بے اختیار سگریٹ نیچے گرا ۔۔۔۔آنکھوں سے آنسوں نکلے ۔۔۔۔۔
۔
“رو کیوں رہی ہیں آپ”
اپنے آنسوں پہ قابو پاتے ہوئے اُس نے اُس سے پوچھا ۔۔۔۔۔جس کی آنکھوں میں ایک بار پھر سے آنسوں کا سیلاب گرنے لگا ۔۔۔۔
۔
“آپ کیوں لڑکیوں سے باتیں کرتے ہیں ہس ہس کے “
اب کی بار اندر کا ضبط باہر نکلا تھا۔ ۔۔۔۔
۔
یہ سنتے ہی اُس کا دل موم بنا جیسے پگھل رہا ہو ۔۔۔۔۔
۔
“آئندہ نہیں کروں گا میں کسی سے بات ۔آپ رویا نہیں کریں “
اُس نے اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے آرام سے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔
۔
“ملکہ تمہاری خاطر ہی تو سب سے بات کرتا ہوں میں ۔۔۔۔۔فقط تمھیں دیکھنے کے لیے میں اتنے لوگوں کو برداشت کرتا ہوں ۔کب سمجھو گی تم ۔۔۔۔کب سمجھو گی تم وجدان تمہاری خاطر جیتا ہے ۔تم نہ ہوئی تو وہ مر جائے گا ۔۔۔۔”
اُس نے آنکھیں بند کیں اپنے دل پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔اُس کی سسکیاں سنتے ہوئے خود سے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: