Hijab Novel By Amina Khan – Episode 27

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 27

–**–**–

وہ سب لڑکیوں سے الگ لڑکی
معصوم فطرت رکھتی تھی
سادہ سا تھا کلام اسکا
بہت بلند تھا مقام اس کا
انجان سی بغاوتوں سے
بے نیاز تھی عداوتوں سے
کوئی دھوکہ نہ تھا سینے میں
جسے اخیتار تھا خود پہ،جینے پہ
خوشیوں پہ ، ہر تعلق پہ
چہکتی تھی طرز قمر فلک پہ
اترا کے اپنے آنگن میں
وہ سب لڑکیوں سے الگ لڑکی
چند سر سبز خوابوں میں
دو ہی میٹھے جملوں میں
اپنا دائرہ کھو بیٹھی
ناز وہ اپنا دھو بیٹھی
عبادت اپنی میں رو بیٹھی
وہ عشق خدا سے کجھ آگے
فی الاعشق مجازی کھو بیٹھی
وہ سب لڑکیوں سے الگ لڑکی
ہائے وہی کملی سی لڑکی
اپنا آپ ہی کھوبیٹھی ۔۔۔۔
۔
۔
“آپ سے ایک بات پوچھوں؟”
اُس نے موبائل کو دوسرے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کان کے ساتھ لگایا ۔۔۔۔۔
۔
“جی پوچھیں نا “
اُس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے وہ کب سے انتظار کر رہا ہو وہ اُس سے بات کرے کچھ پوچھے ، اور وہ اُس کو ہر بات بتائے
۔
“آپ نے کھبی کسی سے ۔۔۔۔۔وہ میں پوچھ رہی آپ نے کھبی کسی سے محبت کی ؟”
۔
اُس نے اٹک اٹک کے پوچھا ۔۔۔اور آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیا ۔۔جیسے اپنے ہی کیے ہوئے سوال پہ شرمندہ ہوئی ہو ۔۔۔
۔
وہ جو آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔اُس نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔آسمان کو دیکھا آسمان پہ چمکتے چاند کو دیکھا ۔۔۔۔۔یا اللہ میں کیا کہوں ملکہ کو ۔۔۔۔کیا بتاؤں اُس کو ۔۔۔۔مجھے تو اُس کے علاوہ کچھ یاد ہی نہیں ۔۔مجھے لگتا ہے میں نے اُس کے علاوہ کھبی کچھ دیکھا ہی نہیں ۔۔۔۔
۔
“مجھے نہیں یاد میں نے کسی سے محبت کی ہے یا نہیں مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں ۔اِس وقت میں دنیا کی ایک پاکیزہ لڑکی سے بات کر رہا ہوں”
۔
“پاکیزہ ؟ اب بھی پاکیزہ؟ “
وہ لیٹے ہوئے اٹھی ۔۔۔۔موبائل کو کان کے ساتھ لگایا ۔۔۔۔۔دل میں ایک درد اُٹھا ۔۔۔۔سانس بند ہونے لگی ۔۔۔۔۔وہ کھڑکی کے پاس
گئی ۔۔۔۔آسمان کو دیکھا ۔۔۔۔
۔
“اللہ جی میں اب بھی پاکیزہ ہوں؟”
موبائل کان کے ساتھ ہی رکھے اُس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھا جس میں مسلسل کچھ چوب رہا تھا۔ ایک درد سا ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ بے آواز اللہ سے باتیں کرنے لگی ۔۔
۔
کیا میں اب بھی پاکیزہ ہوں؟ وہ لڑکی پاکیزہ ہوتی ہے جو رات کے ایک بجے تک کسی نا محرم سے بات کرے ؟ وہ کیسے رہے سکتی ہے پاکیزہ؟ رات میں جو آسمان کے نیچے بیٹھے چاند کو گواہ بنا کے ایک نامحرم کے سامنے روئے، کیا وہ پاکیزہ ہوتی ہے ؟
۔
“سن رہی ہیں “
دوسری طرف ایک مکمل خاموشی کے بعد اُس نے ایک بار پھر اُس کو مخاطب کیا جو ایک گہری کھائی میں گر رہی تھی۔۔
۔
“کیا ایک لڑکی کسی نا محرم سے بات کرے تو وہ پاکیزہ ہوتی ہے ؟”
اُس نے خالی سے ذہن کے ساتھ بغیر کچھ سوچے اپنے منہ سے وہ الفاظ نکالے جس سے سننے والے کی روح کانپ گئی ۔۔۔۔
۔
اُس کے پاس ہر سوال کا جواب تھا ۔۔۔۔وہ ہر بات پہ دلیل دیتا تھا ۔۔۔۔اگلے بندے کو قائل کر کے چھوڑتا تھا ۔۔۔مگر آج اُس کے پاس اسکی اِس بات کا کوئی جواب نہیں تھا ۔۔۔۔۔جس کے سوال پہ اُس کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی ۔سر پر سے آسمان ہٹ گیا تھا۔ ۔۔۔۔وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
“سنیں سو جائیں اب آپ “
سوال کے جواب پہ اُس نے اُس کو سونے کا کہا ۔۔۔۔۔۔وہ اب کچھ بول نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔اُس میں اب اور ہمت نہیں تھی ۔وہ گناہ کا بھوج مزید اٹھائے ۔۔۔۔۔خود تو وہ گناہگار تھا اُس نے اُس لڑکی کو بھی کر دیا تھا جس نے آج تک کسی نا محرم سے رات کے اس وقت بات نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔اُس کا دل اُس کو ملامت کرنے لگا ۔۔۔۔۔اب وہ مزید اُس عزتوں والی سے بات نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“آپ نے نہیں سونا؟”
اُس نے اُسی معصومیت سے پوچھا ۔۔۔۔۔
۔
“میں بھی سوتا ہوں آپ سو جائیں “
اُس نے ایک درد کے ساتھ اُس کو کہا ۔۔۔۔جو جانتا تھا آج وہ آخری بار ایسے اُس کی آواز سن رہا ہے ۔۔۔۔۔
۔
“کچھ مانگوں میں آپ سے ؟”
آنکھوں میں آنسوؤں لیے وہ اُس سے کہے رہا تھا اُس سے مانگ رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“جی “
اُس کے دل کو ایک عجیب سی بےچینی ہونے لگی ایک عجیب سی اُلجھن اُس کو چاروں طرف سے گھیرنے لگی ۔۔۔۔۔جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہو۔ ۔جیسے یہ آواز وہ کھبی نہیں سن سکتی پھر ۔۔۔۔۔جیسے یہ آخری رات ہے اُس سے بات کی ۔۔۔۔
۔
“آپ سو جائیں مگر کال نہ بند کریں”.
اُس نے لرزتی آواز کے ساتھ اُس سے ایک خواہش کی تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا اب وہ مزید اُس سے بات کرے وہ پاکیزہ لڑکی مزید گناہگار ہو ۔۔۔مگر اُس کا دل اُس کو سننا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“مطلب”
“اُس کی اِس بات پہ وہ بہت حیران ہوئی ۔۔۔۔میں سو جاؤں اور کال نا بند کروں؟”
۔
“جی آپ ہندفری لگا کے سو جائیں اور کال نہیں بند کریں”.
اب کی بار اُس کا اپنے اشکوں پہ کوئی اختیار نہیں رہا تھا ۔وہ ایک روانی سے بہنے لگے تھے ۔۔۔۔
۔
“جی ٹھیک ہے “
وہ اُس کو کیسے انکار کر سکتی تھی ۔۔۔۔۔وہ کہتا زری مر جاؤ ۔۔۔۔تو زری یہ بھی نہیں پوچھے گی ۔۔کیوں ، وہ خاموشی سے مر جائے گی۔ ۔۔۔یہ تو اُس نے کچھ مانگا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے موبائل کو اپنے پاس رکھا ۔۔۔۔۔ہنڈفری کانوں میں لگائے ۔۔۔۔۔آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔۔نیند نے اُس پہ غلبہ کیا ۔۔۔۔اور وہ نیندوں کی وادیوں میں جانے لگی ۔۔۔
۔
وہ اپنے بیڈ پہ آیا ۔۔۔۔۔موبائل کو اپنے دل پہ رکھا ۔۔۔کانوں میں ہندفري لگائے ۔۔۔۔۔آنکھیں بند کیں۔۔۔۔۔۔اور اُس کی مسلسل آتی ہوئی میٹھی میٹھی سانسوں کی آواز سننے لگا ۔۔۔۔۔اُس نے آج سے پہلے اتنی خوبصورت آواز نہیں سنی تھی۔ ۔۔۔جو اُس کو سرور میں مبتلا کرے ۔۔۔۔۔وہ ایک گیت سن رہا تھا جس کی دھنیں اُس کو اپنے وش میں کر رہی تھیں۔ ۔۔۔۔وہ آنکھیں بند کئے اُس کو سنتا رہا ۔۔۔۔۔کہ صبح کی اذان نے اُس کو اِس وش سے باہر نکالا۔ ۔۔۔۔۔اُس نے بغیر کال بند کیے ۔۔موبائل کو سائڈ پہ چھوڑا ۔۔۔۔اور وضو کرنے واشروم چلا گیا ۔۔۔۔۔
۔
نماز کے بعد اُس نے پھر سے ہنڈفري لگائے۔ ابھی بھی ویسی ہی میٹھی میٹھی آواز اُس کو اپنے اھوش میں لے رہی تھی ۔۔۔۔
نماز کے بعد وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔اُس کے دل میں ایک خوف آیا اج وہ قرآن پاک نہیں پڑھ رہا ۔۔
۔
اُس نے موبائل ہاتھ میں لیا ۔۔۔سکرین کو اپنے لبوں کے پاس لایا ۔۔۔آنکھیں بند کیں۔ اور اُس کو چُوما ۔۔۔۔۔جس کی سانسیں اب کھبی اُس کو نہیں بھولیں گی ۔۔۔۔۔جو اب کھبی اُس کے سحر سے باہر نہیں نکل پائے گا ۔۔۔۔
۔
اُس نے لبوں سے موبائل ہٹایا اور سُرخ نشان کو دبایا ۔اور کال بند ہوئی ۔۔۔۔
۔
قرآن پاک کھولتے ہی اُس نے اللہ سے معافی مانگی۔۔۔۔۔۔اُس نے ایک پاکیزہ لڑکی کو اپنی وجہ سے گناہگار کر دیا ۔۔۔۔۔
“اے اللہ مجھے معاف فرما ۔۔۔۔میں بہت گناہگار ہوں۔۔۔۔۔میں اج تم سے پھر اُس کو مانگتا ہوں ۔۔۔۔۔جس کے بغیر میں مر جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔اُس کو میرا مقدر بنا دے میرے مالک ۔۔۔۔۔۔اُس کو میرے نصیب میں لکھ لے ۔۔۔۔۔” ۔۔
۔
وہ بھیگتے چہرے کے ساتھ ہاتھ اٹھائے آج پھر اُس لڑکی کو مانگ رہا تھا ۔۔۔۔
۔
اُس نے قرآن پاک پھر سے کھولا ۔۔۔۔۔اُس کے سامنے ایک آیت آئی ۔اور وہ وہیں پہ روک گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
وَمَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ ۗ
اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا
جب تک اللّه نہ چاہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج اپنے معمول سے لیٹ اٹھی ۔۔۔۔وہ ہمیشہ تہجد کے لیے اٹھا کرتی تھی ۔۔مگر آج وہ نماز کے لیے بھی دیر سے جاگی ۔۔۔۔
۔
“کتنی میٹھی نیند سوئی ہوں میں “
اپنے خوبصورت بالوں کو وہ جوڑے میں بھاندتے ہوئے خود سے کہے رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ آج ایک عرصے بعد اتنی میٹھی اور پر سکون نیند سوئی تھی ۔۔۔جیسے کوئی مسلسل اُس پہ پڑھ کے پھونک رہا ہو ۔۔۔۔اور وہ سکون سے سو رہی ہو۔
۔
بالوں کو سمیٹنے کے بعد اُس نے سائڈ پہ پڑا موبائل اٹھایا ۔۔۔۔۔موبائل دیکھتے ہی وہ پلکیں چھپکنا بھول گئی۔ ۔۔
۔
“پوری رات انھوں نے کال نہیں بند کی “
۔
“اتنی دیر کال چلتی رہی ۔ کال تو ابھی پندرہ منٹ پہلے بند ہوئی ۔۔۔۔ایسا کیسے ؟ وہ پوری رات جاگتے رہے ہیں ؟مگر کیوں؟ “
۔
اُس نے موبائل ہاتھ میں لیا ۔۔۔بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائی ۔۔۔۔آنکھیں بند کیں ۔اور سوچنے لگی ۔۔۔۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔پوری رات کوئی بنا آواز کے کال پہ کیسے رہ سکتا ہے ؟ “
۔
وہ ایسے ہی لیٹتے سوچتی رہی ۔۔۔۔۔
۔
“زری اٹھ جاؤ یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہو جاؤ گی “
امی نے باہر سے آواز دی ، اُس آواز پہ اُس نے بیڈ کے ساتھ سے ٹیک ہٹائی ۔۔۔۔اور جلدی جلدی اٹھنے لگی ۔۔۔۔اُس نے نماز نہیں پڑھی تھی ۔۔۔۔۔اُٹھتے ہی اُس کو احساس ہوا باہر تو روشنی ہے ۔۔۔نماز کا وقت تو کب کا گزر چکا ہے ۔۔۔۔۔وہ وہیں زمین پہ بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ آج اُس کی پہلی نماز تھی جو ہوش سنبھالنے کے بعد اُس نے چھوڑی تھی ۔۔۔۔۔وہ زمین پہ بیٹھے بیٹھے وہیں لیٹی ۔۔۔۔جیسے آج اُس سے اُس کی سب سے قیمتی چیز چھوٹ گئی ہو ۔۔۔۔۔جیسے اُس کا سب کچھ برباد ہو گیا ہو ۔
برباد تو وہ پہلے سے ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔آج اُس کی نماز بھی اُس سے رہ گی تھی ۔۔۔۔۔
۔
لیٹے لیٹے اُس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے۔۔۔۔۔۔
وہ ندامت کے آنسوؤں سے زیادہ دُکھ کے آنسوں تھے ۔۔۔۔۔
اللہ جی اُس سے ناراض ہو گے تھے ۔۔۔۔وہ رب اپنی ناراضگی ایسے ہی تو بتاتا ہے ۔۔۔۔۔وہ رزق نہیں چھینتا ۔۔وہ کوئی چیز نہیں لیتا ۔۔۔بس وہ سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے ۔۔۔۔۔انسان چاہ کے بھی اُس کے روبرو حاضری نہیں لگوا سکتا ۔۔۔۔۔
۔
آج بھی وہ ناراض ہوا تھا ، وہ اپنی زرمینہ گل سے ناراض ہوا تھا ۔جو اُس کی دوست تھی ، اُس کی لاڑلی تھی ۔۔۔۔۔آج وہ اُس سے خفا ہوا تھا ۔۔۔۔
۔
اُس نے اپنے آنسوں صاف کیے ۔۔۔۔جلدی جلدی اٹھی ۔وضو کیا ۔۔۔۔اور قضاء نماز کی نیت کر کے نماز پڑھنا شروع کی ۔۔۔۔
۔
آپ کیا سوچتے ہیں آپ مجھے خود سے دور کر لیں گے ؟ ۔آپ مجھ سے خفا ہو جائیں گے ۔۔مجھے چھوڑ دیں گے ؟ میں جان بھوج کے تو نہیں کرتی نا اُس سے بات ۔۔۔۔میں کیا کروں میرا دل میرے اختیار میں نہیں ہے نا ۔۔۔۔آپ تو سب کر سکتے ہیں نا نکال لیں نا اُس کو میرے دل سے ۔۔۔۔۔۔دور کر لیں نا مجھے اُس سے۔۔۔۔۔۔میں نے کب کہا تھا ۔۔۔میں نے کب کہا تھا میری اُن سے بات ہو ۔میں تو اُن کو ایک سال سے بھول جانے کی دعا مانگتی ہُوں نا ۔پھر وہ مجھے کیوں نہیں بھولتے ۔؟
۔
وہ نماز کے بعد سسکیاں لیتے ہوئے رونے لگی ۔اللہ جی سے باتیں کرنے لگی اُن سے شکایت کرنے لگی۔ ۔۔۔۔۔
۔
“میں نے بولا تھا اُن کی مجھ سے بات ہو ؟ جو آپ مجھ سے ایسے خفا ہوتے ہیں۔۔۔؟ اللہ جی میں جان بھوج کے تو نہیں کرتی ۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔”
۔
اب کی بار سسکیوں نے ہچکیوں کا رخ لیا تھا ۔۔۔۔۔رونے میں اور روانی آئی تھی۔ ۔۔
۔
“اللہ جی جب ایک ایک سانس ہمیں درد دے تو کوئی کیا کرے.”
۔
..
..آپ کی زرمینہ گل کو اُس کی لیتی ہوئی سانسیں بھی درد دے رہی ہیں ۔۔۔۔اُس کو وجدان شاہ بھی درد دیتا ہے ۔۔۔۔اور پھر بھی آپ مجھ سے ناراض ہوتے ہیں؟ “
“مجھ سے ناراض نہیں ہونا اللہ جی ۔۔۔۔میں تو ایسے بھی زندہ نہیں ہوں ۔۔۔۔۔میں تو ایسے بھی مر گئی ہوں ۔۔۔۔۔بس آپ مجھ سے ناراض نہیں ہونا “
۔
“زری “
کسی نے اُس کا نام لیا ۔۔۔۔۔اُس کی سسکیاں ایک دم روکی ۔۔۔۔آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ وحشت آئی ۔۔۔۔۔دل نے اپنا کام کرنا بند کیا۔۔۔دماغ نے سوچتا چھوڑا ۔۔۔زبان کو تالا لگا ۔۔۔۔۔پیلے ہوتے چہرے کے ساتھ وہ پیچھے مڑی۔
۔
“آپ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔”زری کیوں نہیں آئی آج یونی..ایسا تو کھبی نہیں ہوتا وہ نہ آئے اور مجھے نا بتائے ۔۔۔۔۔پھر آج اُس نے مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔اور اِس لڑکی نے موبائل کیوں بند کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ “
۔
فضہ ہاتھ میں موبائل پکڑے پچھلے ایک گھنٹے سے اُس کو کوئی سو دفعہ کال کر چکی تھی ۔۔۔مگر اُس کا مسلسل بند نمبر اُس کو اور پریشانی میں مبتلا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“فضہ آج زرمینہ کیوں نہیں آئی ۔۔۔اُس کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟”
۔
ماہ نور فضہ کے پاس آئی ، اور اُس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گئی جہاں ہمیشہ زرمینہ بیٹھا کرتی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“پتا نہیں موبائل بھی اُس کا بند ہے بس دعا کرو سب خیر ہو “
۔
اُس نے ایک بار پھر پریشانی میں اُس کا نمبر ملایا ۔۔۔۔۔اور پھر اُس کو وہی آواز سننے کو ملی ۔۔
” ۔معظزذ صارف آپ کا ملایا ہوا نمبر اِس وقت بند ہے”
۔
“ارے تم اتنا کیوں پریشان ہو رہی ہو طبیعت ٹھیک نہیں ہو گی اُس کی تو چھٹی کر لی”
ماہ نور نے اُس کو تسلی دیتے ہوئے کہا جس کو ایک پل کے لیے بھی سکون نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں آپ “
اُس نے خشک ہوتے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ ماں کا نام لیا ۔۔۔۔جو ایک سکتے میں نا جانے کب سے کھڑی بیٹی کو سن رہی تھی ۔
۔
“زری تم میری ہی بیٹی ہو نا؟”
وہ اُس کے پاس آئیں ۔۔۔۔اور جائے نماز کے پاس اُس کے ساتھ بیٹھیں ۔۔۔۔۔
۔
“جی اماں میں آپکی بیٹی ہوں”
اُس نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں زرمینہ گل تم میری بیٹی ہو ہی نہیں سکتیں ۔۔۔۔۔میں نے کب اپنی بیٹی تو تربیت دی ہے کے وہ خدا ہے حضور بیٹھ کے ایک نامحرم کا نام لے …..نا نا تم میری بیٹی نہیں ہو سکتی “
۔
انہوں نے سکتے کے عالم میں ہاتھوں کے اشارے سے اُس کو کہا ۔۔۔
۔
“نہیں اماں ۔۔۔۔زرمینہ آپ کی بیٹی ہے “
اُس نے ماں کے دونوں ہاتھ پکڑے اور بے اختیار چومنے لگی ۔۔۔
۔
“پیچھے ہو جو تم”
اب کی بار سکتہ ٹوٹا تھا ، اُن کی آنکھوں میں سُرخی کی جگہ پانی نے لے لی تھی ۔۔۔۔روتے روتے انھوں نے اپنے ماتھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
“زری یہ تم نے کیا کیِا ۔۔۔اپنے باپ کا غرور اپنی ماں کا مان مٹی میں ملا دیا “
۔۔
“نہیں اماں ایسا نہیں بولیں ۔۔۔ایسا نہیں بولیں اماں ۔۔۔میں نے بابا جان کا غرور مٹی میں نہیں ملایا”
۔
اُس نے اپنے دونوں ہاتھ پورے چہرے پہ رکھے اور زارو قطار رونے لگی ۔۔۔۔۔
۔
“زری چپ ہو جاؤ تمہارے باپ نے سن لیا نا ، تمھارا تو جو ہو گا تو ہو گا کھڑے کھڑے مجھے طلاق دے گا “
انھوں نے اُسے بازوں سے پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“اماں “
اُس نے منہ سے ہاتھ ہٹاتے ہی ماں کو دیکھا ۔۔۔۔جو کھڑی ہو رہی تھی ۔۔۔اور دروازہ اندر سے بند کر رہی تھیں۔۔۔۔۔
۔
“نا کہو مجھے اماں”
انھوں نے اُس کی طرف دیکھا اور روتے ہوئے سرگوشی والے انداز میں کہا !!
۔
“کون ہے یہ وجدان “
اب کی بار انھوں نے تھوڑا نرمی سے پوچھا ۔۔۔۔
۔
“اماں وہ میرے سر ہیں “
اُس نے نظریں جھکائے ہوئے ماں کو کہا ۔
۔
“زری تم وہاں پڑھنے گی تھی یا۔۔۔۔۔ایک استاد تو روحانی باپ ہوتا ہے وہی اگر اپنی شاگرد کے ساتھ ایسے کرے تو دنیا کس پہ یقین کرے گی پھر ۔۔۔۔اور تم؟ تمھیں اپنے خاندان کا نہیں پتا ؟
“زری آج میں تمھیں صاف الفاظ میں کہتی ہُوں تمہارے منہ سے آئندہ میں اُس کا نام نا سنوں “
۔
“زری اپنے باپ کو جانتی ہو نا تم …..انھوں نے تمہیں اِس لیے یونیورسٹی کی اجازت دی تھی کے تم وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تو کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے “
۔
ایک بار پھر اُن کی آنکھوں سے آنسوں نکلنے لگے۔ آج اُن کا مان ٹوٹا تھا ۔اور اُن کی اپنی اولاد نے توڑا تھا ۔اُن کی بیٹی نے اُن کی عزت نے توڑا تھا ۔۔۔۔
۔
“اماں مجھے معاف کر دیں “
وہ نظریں جھکائے معافی مانگنے لگی اور آنسوں رخسار سے نیچے گرنے لگے ۔۔۔۔۔وہ پیلے ہوتے چہرے کے ساتھ ماں کے سامنے بے حال بیٹھی تھی۔ ۔۔۔۔
۔
وہ ماں تھی پگھل رہی تھی ۔بیٹی کے آنسوں اُس کے دل پہ لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔وہ سمجھ رہی تھیں اُن کی بیٹی کے لیے اب پیچھے ہونا نا ممکن تھا ۔۔۔۔اُس کی رگوں میں سواتی باپ کا خون تھا ۔۔۔۔۔وہ تو جس سے نفرت کرتے تھے تو مرتے دم تک نہیں بھولتے تھے۔ یہاں تو اُن کی بیٹی محبت کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“سواتی ہے وہ ؟ “
اب کی بار وہ بلکل موم ہو چکی تھیں ۔اُس کی پیلی ہوتی رنگت اُن کو اندر سر جھنجوڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں….. امی “
“سواتی نہیں ہیں وہ “
اُس نے اپنا ہاتھ دل پہ رکھا ۔۔۔۔۔اور سسک سسک کے رونے لگی ۔۔۔۔۔
۔
ماں کی اُمید ایک دم ختم ہوئی ۔۔۔۔۔۔وہ جو اُن کو کچھ آس تھی کہ شاید بیٹی کی خوشی پوری ہو جائے ۔۔۔۔۔ ایک دم ٹوٹی ۔۔۔۔۔۔اُس کا باپ مر تو سکتا ہے ۔۔۔۔۔اپنی بیٹی کو مرتا ہوا دیکھ تو سکتا ہے ۔۔۔۔اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے مار تو سکتا ہے ۔۔۔۔۔مگر سواتیوں سے باہر کھبی رشتہِ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔
۔
“زری اگر تم چاہتی ہو تم آگے پڑھو ۔۔۔۔ تم زندہ رہو ۔۔۔۔تمھاری ماں اِس گھر میں اِس خاندان میں عزت سے باقی کی زندگی گزارے تو آئندہ اُس کا نام بھی اپنے منہ سے نہیں لینا ۔۔۔۔۔تمھارا باپ اُس کو بھی مار دے گا اور تمہیں بھی “
۔
انہوں نے بیٹی کو گلے سے لگایا ۔۔۔۔ اُس کو دلاسہ کیا ۔۔۔۔اُس کو سمجھانے لگیں ۔۔۔۔
۔
“نہیں نہیں اماں اُن کو تو پتا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔وہ تو مجھ سے نہیں کرتے ۔۔۔۔اماں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔آپ غلط سمجھ رہی ہیں ۔۔۔۔۔اُن کو تو کچھ پتا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔وہ مجھے بہت یاد آتے ہیں اماں میں اللہ جی سے کہے رہی تھی وہ مجھے یاد نہیں آیا کریں “
۔
اُس نے روتے ہوئے ایک معصومیت سے کہا ۔۔۔۔جس کو اب بھی محبت سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔
ماں نے بیٹی کے چہرے کی معصومیت دیکھی ۔۔۔۔اُن کو اُس پہ ترس آیا ۔۔۔مگر شوہر کی عزت سے زیادہ اُن کو بیٹی کی جان بھی عزیز نہیں ۔۔۔۔۔یہاں تو بات صرف ایک خوشی کی تھی۔ ۔۔۔
۔
“موبائل کدھر ہے تمھارا ؟ “
اب اُن کے چہرے کی نرمی اُس سختی میں بدلی تھی جو آج سے پہلے اُس نے کھبی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔
۔
وہ اُس کے جواب کے بغیر وہاں سے اٹھیں ۔۔۔۔اور بیڈ پہ پڑا موبائل اٹھا لیا ۔۔۔۔
۔
“ہم نے تمہیں یہ اِس لیے نہیں دیا تھا۔ ۔۔کہ تم ہماری نرمی کا ہمارے اعتبار کا ناجائز فائدہ اٹھاؤ ۔۔۔۔”
۔
وہ اُس کے پاس آئیں اور موبائل کو بند کرنے لگیں !!
۔
“نہیں اماں مجھ سے موبائل نہیں لیں”
اُس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے ماں کو کہا ۔۔۔۔
۔
بند کرو اپنا منہ ۔۔۔یہ تو صرف موبائل ہے زرمینہ گل اگر تم نے آئندہ اُس سے بات بھی کی تو یونیورسٹی کے بجائے گھر میں بیٹھو گی “
۔
“نہیں کریں اماں نا کریں مجھ پے ظلم”
یہ ظلم تم پہ میں نے نہیں کیا یہ تم نے ہم پہ کیا ہے ہمارا اعتبار توڑ کے ۔۔۔۔۔اور اب جاؤ اور منہ دھو کے باہر نکلو۔ تمہارے بابا جان کو تمہاری اِس خرکت کی بھنک بھی پڑی نا زری تو سمجھ جانا ۔۔وہ اُس لڑکے کی زندگی کا آخری دن ہو گا جس نے ہماری عزت پہ وار کیا ہے ۔۔۔۔
۔
یہ کہتے ہوئے موبائل ہاتھ میں لیے ۔۔وہ کمرے سے باہر نکلیں ۔۔۔۔۔
۔
وہ جو بے حال بیٹھی تھی ۔۔۔۔وہیں گر گئی ۔۔۔۔۔
” اللہ جی میری زندگی بھی اُس کو لگانا جس کے بغیر میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں جی سکتی “
۔
اللہ مجھ پے رحم کرنا ۔۔۔۔مجھ پہ اپنا کرم کرنا ۔۔۔۔۔میں بہت گناہگار ہوں میرے گناہ کو نہیں دیکھنا میرے مالک ۔۔۔۔۔مجھ پہ رحم کرنا ۔۔۔۔
“وجدان کو میری عمر بھی لگ جائے خدایا “
۔
وہ جائے نماز پے لیٹے اُس کو اپنی زندگی عنایت کر رہی تھی ۔۔۔۔جو اُس کی زندگی تھا۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: