Hijab Novel By Amina Khan – Episode 28

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 28

–**–**–

وہ ہمیشہ اُس کو کہیں نہ کہیں دیکھ ہی لیتا تھا ۔۔۔۔وہ اُس کو اپنی دوست کے ساتھ بیٹھی ہوئی ، چلتی ہوئی یہ لائبریری میں نظر آ ہی جاتی تھی ۔۔۔۔
۔
“یا اللہ میرا دل اتنا بے چین کیوں ہے ؟ جیسے کہیں کچھ بہت غلط ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ جیسے جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہو رہا ہو ۔۔۔۔مجھے کیوں لگتا ہے میری زندگی اب جیسے پلٹنے والی ہے جیسے سب کچھ اُلٹا ہو جاۓ گا ۔سب کچھ پلٹ جائے گا ۔۔۔میں چاہ کے بھی کچھ نہیں کر سکوں گا ۔۔۔۔۔مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے اللہ پاک ۔۔۔۔میری مدد کر میرے مالک ۔وجدان کی مدد کر ۔۔۔۔۔وہ بہت کمزور ہے کچھ نہیں برداشت کر سکتا اور۔۔۔۔۔بہت اکیلا ہے وہ ۔۔۔۔کوئی نہیں اُس کا تمہارے سواء ۔۔۔۔۔تو چھوڑ دے گا تو کدھر جاؤں گا میں ۔میری مدد کر مولا ۔۔۔۔۔”
۔
وہ کمپیوٹر کے سامنے آنکھیں بند کیے کُرسی کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا اللہ سے مدد مانگ رہا تھا ۔
۔
“وہ کیوں نظر نہیں آئی مجھے اج ؟ ملکہ کدھر ہو تم ؟ سنو آ جاؤ میرے سامنے۔ ۔۔۔۔اِس سے پہلے کے وجدان کی چلتی سانسیں روک جائیں “
۔
“سر میں اندر آ جاؤں؟”
اُس کے کانوں میں آواز گونجی ۔۔۔اُس نے اپنی بند آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔۔سوچوں کا تسلسل ٹوٹا ۔۔۔۔وہ کرسی پہ سیدھا ہو کے بیٹھا ۔۔۔۔۔
۔
“جی فضہ آئیں”
اُس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اُس کو اندر آنے کا کہا ۔۔۔۔۔۔اُس کا دل ایک بار پھر ڈوبا ۔۔۔۔۔آج دروازے سے باہر کھڑی وہ نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔
۔
جب بھی فضہ اُس کے آفس جاتی وہ ہمیشہ باہر کھڑی ہوتی ۔۔۔۔۔اُس کو کھبی نہیں اچھا لگا وہ اُس کے آفس جائے ۔۔۔۔۔فضہ بھی اُسی کے کہنے پہ چلی جاتی تھی ۔۔۔ورنہ اُن دونوں کو شدید نفرت تھی اُن لڑکیوں سے جو ہر دو منٹ بعد اُس کے آفس کا چکر لگاتی تھیں ۔۔۔۔۔۔
۔
وہ جب بھی اُس کے آفس کے باہر کھڑی ہوتی وہ ہلکا سا ہی سہی مگر اُس کو دیکھ لیتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“سر …میرا زرمینہ سے کانٹیکٹ نہیں ہو رہا ۔۔۔۔آج وہ آئی بھی نہیں ہے ۔ایسا کھبی نہیں ہوا وہ نہ آئے اور مجھے بتائے نا ۔۔۔۔۔وہ میں پوچھ رہی تھی آپ کی اُس سے بات ہوئی؟”
۔
فضہ نے نظریں جھکائے ہوئے ایک روانی سے اُس سے پوچھا ۔۔۔۔۔وہ جانتی تھی ۔اُن دونوں کی آپس میں بات ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
۔
یہ سنتے ہی اُس کے چہرے کا رنگ بدلا ۔۔۔۔۔اس کا دل پہلے سے ڈوب رہا تھا مگر اب تو وہ خود ایک گہرے سمندر میں ڈوب رہا تھا ۔۔۔۔ اُس کا دل زور زور سے چلا رہا تھا کوئی تو مدد کرو میری ۔۔۔۔مگر سمندر کی گہرائیوں میں اُس کو کون سنتا ۔۔۔۔۔۔
۔
اُس نے ایک مکمل خاموشی پہ اپنے سر کو ہلکا سے اوپر کیا ۔اور سامنے بیٹھے اُس شخص کو دیکھا ۔۔۔۔۔جو آنکھوں میں وحشت لیے زمین کو گھور رہا تھا ۔۔۔۔۔جیسے اب زور زور سے چلائے گا ۔۔۔۔۔۔زمین پہ بیٹھ کے اُس کو چیر دے گا اور خود اُس کے اندر چلا جائے گا ۔۔۔۔
۔
۔اُس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ اُس نے دیکھی تھی ۔۔۔۔آج اُس کے ماتھے پہ پہلی دفعہ اُس نے پسینہ دیکھا تھا ۔۔۔۔کچھ ہی لمحوں میں وہ پسینے میں نہا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
“اتنی چھوٹی سی بات پہ اس بندے کی یہ حالت؟”
فضہ نے اُس کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے اپنے دل میں کہا ۔۔۔۔۔
۔
“آپ کی آخری دفعہ بات کب ہوئی تھی اُن سے”
اُس نے سر کو اٹھایا اور سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا جو مسلسل اُس کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“سر میری بات اُس سے رات میں ہوئی تھی کچھ نو بجے کے قریب ۔۔۔اُس کے بعد نہیں ہوئی “
اُس نے جیسے یاد کرنے والے انداز میں بولا ۔۔۔۔
۔
“اِس کا مطلب آخری بات تو ملکہ کی مجھ سے ہوئی تھی ۔۔۔۔۔اُس کی خوشبو تو میری سانسوں میں اب تک بسی ہے ۔۔۔۔۔”
اُس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جو اُس کو لگ رہا تھا کچھ ہی پلوں میں اُس کے منہ کے ذریعے باہر آ جائے گا ۔۔۔۔
۔
“اُن کے گھر میں سے کسی کا نمبر نہیں آپ کے پاس؟”
۔
“سر اُس کے بھائی کا تھا ۔۔۔مگر وہ بھی کچھ عرصے سے بند ہے “
۔
“سر آپ پریشان نہ ہوں ۔۔۔۔میں اُس سے بات کروں گی آپ کو انفوم کروں گی “
۔
وہ تو یہاں خود تسلی لینے آئی تھی ۔۔۔مگر سامنے بیٹھا شخص اُس کو زیادہ قابلِ رحم لگا ۔۔۔۔۔۔وہ آج کسی اور ہی وجدان کو دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ وجدان تو کوئی اور تھا جو اُن کا ٹیچر تھا ۔۔۔۔۔یہ جو اُس کے سامنے سر جھکائے بیٹھا ہے یہ تو کوئی اور ہی وجدان ہے ۔۔۔۔۔۔
.
۔
اُس نے اُس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا جیسے اُس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ جیسے وہ کسی الگ ہی دنیا میں ہو ۔۔۔۔
۔
“یا اللہ رحم کر وجدان حسین شاہ پہ”
آنکھوں میں بہتے اشکوں کو اُس نے ضبط کرتے ہوئے اوپر دیکھا اور وجدان کے لیے رحم مانگا ۔۔۔۔اور اُس کے پوچھے بغیر وہاں سے نکل گئی۔
۔
“پوچھا تو اُن سے جاتا ہے جو زندہ ہوں۔ مرے ہوئوں سے کوئی کیسی اجذات مانگے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔”بہو آج زرمینہ گل کیوں کمرے سے باہر نہیں آیا ۔۔یونیورسٹی بھی نہیں گیا۔۔۔۔اُس کا طبیعت بہت خراب ہے کیا؟”
۔
وہ جو صبح سے بے جان سی بیٹی کا درد اپنے سینے میں لیے گھوم رہی تھی ۔۔۔۔۔ایک دم چونکی۔۔۔۔
۔
“جی اماں ٹھیک ہے میں نے دوائی دی تھی تو تب ہی اتنا سو رہی ہے ۔۔۔آپ پریشان نا ہوں”
۔
“اُس کا بہت خیال رکھنا رقیہ “
“جی اماں رکھتی ہوں میں”
۔
“صبر تو آئے گا نہیں مجھے اب ۔۔۔میں اُس کو خود ہی دیکھ آتی ہُوں”
اماں نے ایک پاؤں نیچے اُترا ہی تھا کے رقیہ بیگم جلدی جلدی اُن کے پاس آئیں۔ ۔۔
۔
“نہیں نہیں اماں آپ کیوں جائیں گی ؟ آپ بیٹھیں میں اُس کو خود بلاتی ہوں”
۔
وہ نہیں چاہتی تھیں کوئی اُس کے کمرے میں جائے اور اُس کی وہ حالت دیکھے جو کچھ وقت پہلے انھوں نے دیکھی تھی۔۔۔۔
۔
وہ نہیں چاہتی تھیں کوئی اُس کا پیلا ہوتا چہرہ دیکھے، آنکھوں کی سوجن دیکھے، ہونٹوں کی سفیدی دیکھے ۔۔۔۔اور بخار میں جلتا اُس کا وجود دیکھے۔ ۔۔۔ایک ہی دن میں اُن کی بیٹی کا ہولیہ بگڑ گیا تھا ۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے اُس کو مردہ تصور کرنے کے لیے کافی تھے ۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتی تھیں اُن کی بیٹی وقت سے پہلے مرے ۔۔اندر سے تو اُس نے خود کو مار دیا تھا ۔۔۔۔۔۔جو سانسیں چل رہی تھیں اُس کی ۔وہ نہیں چاہتی تھیں وہ سانسیں اُس سے اُس کا باپ چھینے ۔۔۔۔
۔
“نہیں ابھی نہیں بلانا اُس کو۔ اُس کا طبیعت ٹھیک ہوا وہ خود ہی باہر آ جائے گا “
“جی اماں ٹھیک ہے “
یہ کہتے ہوئے وہ کچن کی طرف گئیں ۔۔۔۔کچن کے دروازے پہ کھڑے ہو کے انھوں نے دونوں ہاتھ اوپر کیے۔ ۔۔اور دعا مانگی ۔۔۔۔
۔
“یا اللہ میری زرمینہ پہ رحم کرنا “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا مسلسل بند نمبر اُس کو ایک ایک سیکنڈ کی موت دے رہا تھا ۔۔۔۔پچھلے ایک گھنٹے سے وہ مسلسل اُس کا نمبر ملا رہا تھا ۔۔۔۔۔مگر ہر بار ملانے پہ ایک ہی جواب ملتا۔ ۔۔۔ ہاتھ میں موبائل پکڑے وہ سگریٹ پہ سگریٹ پھونک رہا تھا۔ ۔۔۔۔جیسے اُس نے اپنے لیے ایک زہر منتخب کیا ہو۔ ۔۔۔۔۔جیسے پی پی کے اُس نے اپنی جان دینی ہو۔۔۔۔۔۔
۔
وہ اٹھا اور بالکنی میں گیا ۔۔۔۔آج اُس کی آنکھوں میں آنسوں نہیں تھے۔۔۔۔۔ نہ ہی اُس نے ضبط کیے تھے ۔۔۔۔۔۔وہ اپنے اندر ایک فیصلہ کر رہا تھا ۔ایسا فیصلہ جو اُس کو زندگی دے گا یا پھر موت ۔۔۔۔۔وہ دونوں چیزیں اپنے لیے سوچ رہا تھا ۔۔۔۔
“ایک طرف زندگی اور دوسری طرف موت “
۔اُس نے ایک بار پھر موبائل اٹھایا ۔۔۔۔۔اُس کا نمبر پھر ملایا
اب کی بار بھی وہی جواب ملا ۔۔۔۔
۔
“سنو ملکہ اپنے وجدان کا انتظار کرنا ۔۔۔۔اِس جہاں میں نہیں تو اگلے جہاں میں کرنا”
۔
۔
اُس نے آسمان میں چمکتے چاند کو دیکھا ۔۔۔۔جس میں اُس کو اپنی ملکہ کا اقص نظر آتا تھا ۔۔۔۔اُس نے آنکھیں بند کیں ۔۔اُس کا سراپا اُسکی آنکھوں میں گھوما ۔۔۔۔۔آنکھوں سے ایک موتی گرا اور رخسار پہ ٹھرا ۔۔۔۔۔
۔
آنکھوں سے بہتا آنسوں اُس نے بازوں سے رگڑا۔ ۔۔۔۔اور واشروم گیا ۔۔۔۔وضو بناتے ہی باہر نکلا ۔جائے نماز بچھائی ۔۔۔۔۔دو رکعت نوافل حاجت پڑھے ۔۔۔۔دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔۔۔۔مگر بغیر دعا کے اٹھ گیا۔۔۔۔۔اُس نے سوچ لیا تھا اُس نے اب کیا کرنا ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں مجھے دے دیں پلیز “
اُس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے ماں کو کہا ۔۔۔۔۔اللہ کے بعد اج اُس نے پہلی دفعہ کسی کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے ۔۔۔۔وہ اُن کے پیروں میں گر رہی تھی ۔۔۔۔۔اُن سے بھیک مانگ رہی تھی ۔۔۔۔
۔
” کیوں چائیے تمھیں موبائل تاکہ پھر تم اُس لڑکے سے بات کرو ؟ “
۔
انھوں نے اُس کو خود سے پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جو مسلسل اُن کے پیروں کو ہاتھ لگا رہی تھی ۔۔۔
۔
“اماں مجھ پہ ظلم کر رہی ہیں آپ “
اُس نے پیچھے ہوتے ہوئے زمین پہ بیٹھ کے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“زرمینہ کیسی بیٹی ہو تم…جو اپنے باپ کی عزت کا جنازہ اپنے ہاتھوں سے نکالے گی”
۔
وہ جو کب سے سنگدل بنی کھڑی تھیں ۔۔۔۔عزت کے نام پہ ایک دم تیش میں آئیں ۔۔۔۔۔اور اُس کو بازوں سے پکڑ کے جھنجھوڑنے لگیں ۔۔۔۔۔۔
۔
“اماں درد ہو رہا ہے مجھے” ۔
اُس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔اور زور زور سے رونے لگی ۔۔۔۔۔پکڑا انہوں نے بازوں سے تھا مگر درد اُس کو دل میں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھے رو رہی تھی ۔۔۔اور ایک ہی بات کر رہی تھی ۔۔۔”اماں مجھے درد ہو رہا ہے “
۔
ماں کی رگوں میں بھی تو ایک سواتی باپ کا خون تھا ۔۔۔۔۔وہ کہاں عزت کے سامنے اپنی بیٹی کا درد دیکھتے ہیں ۔۔۔۔وہ تو عزت دیکھتے ہیں ۔۔۔۔اپنے سر کی ٹوپی کو دیکھتے ہیں اپنے کندھے پہ پڑی چادر کو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جہاں بات عزت کی آتی ہے نہیں دیکھتے سامنے جو مر رہا ہے ہمارا خون ہے ۔۔۔۔
” عزت کو خون سے افضل سمجھنے والی وہ ایک انا پرست باپ کی بیٹی تھی ۔۔اور انا پرست شوہر کی بیوی تھی “
۔
“وہ تو اپنی عزت پہ قربان ہو جاتے ہیں ۔۔۔ مگر ہار نہیں مانتے”
۔
“کیا قوم ہے اُس لڑکے کی ؟ “
وہ ماں تھی بیٹی کے درد پہ پگھل رہی تھی۔۔۔۔۔۔اُسی انداز میں انھوں نے اُس لڑکے کی قوم پوچھی ۔۔۔۔
۔
“اماں “
اُس نے ماں کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔وہ جانتی تھی اُس کی اگلِی بات ماں پہ بجلی بن کے گرے گی ۔اور اُس پہ غضب ۔۔۔۔۔
۔
“بتاؤ کیا قوم ہے اُس کی ؟”
۔
“سید”
اُس نے جھکے سر کے ساتھ بس اتنا ہی کہا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا سید؟”
ماں کو لگا جیسے انھوں نے غلط سن لیا ہو۔ ان کی بیٹی نے کچھ اور کہا ہو ۔۔۔۔۔
۔
“جی اماں سید ہیں وہ”
۔
سواتی مر گے ہیں سارے جو اب تم سیدوں میں جاؤ گی ؟ جانا تو بہت دور کی بات ہے ۔۔۔۔تم نے سوچا بھی کیسے ؟ شرم نہیں آئی تمھیں ۔۔۔۔۔باپ کی عزت کو ایسے نیلام کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔اور تم سید سے شادی کر بھی سکتی ہو ؟
اور اُس لڑکے کو شرم نہیں آئی ۔۔سید ہوتے ہوئے ایسی چھوٹی حرکت کی۔ کسی کی عزت میں ہاتھ مارا ؟ زری میں خود بتاؤں گی تمہارے باپ کو ۔۔۔۔۔تم جیسی گندی اولاد سے ہماری کوئی اولاد ہوتی ہی نا تو اچھا تھا ۔۔۔۔۔تم جیسی بیٹیاں ہی جو ہوتی ہیں نا باپ کا سر شرم سے نیچے کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔
کل سے تمھیں یونیورسٹی جانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔آرام سے گھر میں بیٹھو ۔۔۔۔۔میں بولتی ہُوں تمہارے باپ کو رشتہ کریں اس کا ۔۔۔۔اور رخصت کریں اس کو ۔اسی مہینے ۔۔۔۔۔
۔
“مر جاؤ تم زری ، تم جیسی گندی اولاد کو مر ہی جانا چاہیے “
۔
“اماں مجھے یونیورسٹی سے نہ منع کریں “
اب کی بار وہ بلکل ٹوٹ چکی تھی ۔۔۔۔۔جیسے کسی میں سانس کا ایک قطرہ بھی نہ بچا ہو ۔۔۔۔۔اُس کے آنسوں اب بلکل خشک ہو چکے تھے ۔۔۔۔اهنی خشک آنسوں سے اُس نے ماں کو دیکھا ۔۔۔۔۔
۔
“جتنا تم نے پڑھنا تھا ، پڑھ چکی ہو تم ۔۔۔۔اب گھر پہ بیٹھو ۔۔۔بہت سن لی ہم نے تمہاری “
۔
وہ اُس کو کہتی رہیں اور وہ سنتی رہی ۔۔۔۔جیسے اب اُس کے پاس کچھ نہیں بیچا ہو ۔وہ مکمل برباد ہوئی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ تم کیا کہے رہے ہو وجدان ؟ ہوش میں ہو تم ؟ “
۔
“مجھے لگتا ہے یہ ہوش میں نہیں ہے “
۔
“نہیں امی میں ہوش میں ہُوں “
اپنے ماں باپ کے سامنے وہ نظریں جھکائے بیٹھا اُن کو سن رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس نے جو بات کی تھی اُس کے بعد تو اُس کو سُنّی ہی تھیں۔ ۔۔۔۔اُس نے آج فیصلہ کر لیا تھا۔ ۔۔۔۔وہ ہر حد سے گزرے گا ۔۔۔۔۔وہ اُس کے لیے کچھ بھی کرے گا ۔۔۔۔مگر ابو کے اتنے زور سے چلانے پہ اور پھر امی کی اُسی بات پہ تائید کرنے پہ ۔وہ بلکل خاموش ہوا جیسے اب کچھ بول نہیں سکے گا ۔۔۔۔۔۔
۔
یہ پاگل ہو گیا ہے ؟ سواتیوں کے گھر سے شادی کرے گا ؟ وہ سواتی جن کے گھر میں اگر دو وقت کا کھانا بھی نہ ہو باہر وہ اپنی خانگیاں ضرور دیکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔سواتی تو اپنی قوم سے باہر کسی سے سلام کرتے ہوئے توہین سمجھتے ہیں اپنی۔ وہ ہمیں بیٹی دیں گے اپنی ۔۔۔۔۔سن رہی ہو اپنے بیٹے کو ۔۔۔۔
۔
وہ غصّہ میں بولے چلے جا رہے تھے جیسے آگ اُن کے منہ سے نکل رہی ہو ۔۔۔۔۔
۔
“آپ آرام سے بات کریں طبیعت خراب ہو جائے گی آپ کی “
۔
“بیگم اب طبیعت ٹھیک رھے بھی سکتی ہے میری ؟ میرے بھائی کی بیٹی بری تھی۔ مگر اُس سواتی کی بیٹی اچھی ہے۔ جس کے لیے یہ ہمارے پاس آیا ہے ۔۔۔۔میں اُدھر شادی کرنا چاہتا ہوں “
۔
انھوں نے بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔اور ساتھ اُس کو دیکھا جو نظریں جھکائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔
۔
آپی کون ہے وہ لڑکی ۔۔۔۔
اب کیا ہو گا ۔۔۔
ابا بھائی کو اتنا کیوں ڈانٹ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
آپی ابا کو بولیں نا بھائی کو نہیں ڈانٹیں……
۔
باپ کی آواز پہ پانچویں بہنیں اپنے کمرے سے باہر نکلیں تھیں ۔۔۔۔اور چھپ کے دروازے کے باہر کھڑی سن رہی تھیں۔ انہوں نے آج سے پہلے اپنے والد صاحب کو اِس قدر غصے میں نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
“اب بولو گے کچھ تم”
اب وہ بول بول کے تھک چکے تھے ۔۔۔اور سامنے بیٹھے بیٹے کو کہے رہے تھے جو نظریں زمین پہ جمائے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
۔”
۔
“وجدان تم سے کہے رہا ہوں میں ۔۔۔۔۔سر اوپر کرو “.
“سنا نہیں تم نے اوپر کرو اپنا سر “.
۔
اُس کا سر اوپر ہوتے ہی باپ کا غصّہ ایک دم درد میں بدلا ۔۔۔دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔اور پھر اپنے اکلوتے بیٹے کو۔ ۔۔۔۔
۔
جس کی آنکھوں سے آنسوں نیچے گر کے اُس کے ہاتھ پہ ٹھر رہے تھے۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں کو اوپر نیچے رکھے بیٹھا تھا۔ باپ کے حکم پے اُس نے نظریں جھکائے ہوئے سر کو اٹھایا ۔۔۔۔۔
۔
انہوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا اُس بیٹے کو جس نے کھبی کوئی خواہش نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔آج اُس کی پہلی خواہش تھی جو اُس نے اپنے باپ سے کی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“اُس نے اپنی ایک خواہش کے اظہار پہ فقط ایک خواہش پہ ، نظریں جھکائے کوئی ہزار باتیں سن لیں تھیں”
انہوں نے اُس کو بہت غور سے دیکھا ۔۔۔۔۔جو ایک لڑکی کے عشق میں اپنے باپ کے سامنے رو رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس کے ہونٹ ایسے کانپ رہے تھے ۔جیسے اب وہ ایک لفظ اور بولیں گے تو وہ بچوں طرح اونچا اونچا روئے گا ۔۔۔۔۔
۔
“جاؤ تم اپنے کمرے میں”
ایک باپ کے لیے اُس سے بڑی تکلیف اور ازیت اور کوئی نہیں ہوتی ۔۔۔جب اُس کی اولاد اُس سے کوئی خواہش کرے اور وہ پوری نہ کر سکے۔ ۔۔۔۔اِس سے بڑا درد ایک باپ کے لیے اور کیا ہو گا اُس کا جوان اور اکلوتا بیٹا کسی لڑکی کے لیے اُس کے سامنے روئے۔
۔
وہ جو بری طرح ہار گیا تھا ۔۔۔۔۔۔نظریں جھکائے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
۔
باہر کھڑی بہنوں کا اکلوتا بھائی آج اُن کے پاس سے ایسے چل کے گیا تھا ۔۔۔بہنوں کولگا جیسے اُن کا وجود جل گیا ہو۔۔۔۔۔اُن کے سینے میں کسی نے ضرب لگا لی ہو ۔۔۔۔یہ اُن کا بھائی تھا ؟ یہ اُن کا بھائی تھا ۔جو مسکراتے نہیں تھکتا تھا۔۔۔۔اور آج ؟
۔
وہ پانچوں بہنیں باپ کے پاس آئیں ۔۔۔۔۔
۔
ابو بھائی نے کھبی کوئی خواہش نہیں کی …..
ہمارا بھائی رو رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہمارا ایک ہی تو بھائی ہے اُس کی بھی خوشی نا پوری ہو۔ ۔۔۔۔
۔
فاطمہ کے علاوہ ہر کوئی نظریں جھکائے آج دبے الفاظ سے اپنے بھائی کے لیے باپ سے احتجاج کر رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ بہنیں جو اپنے لیے کھبی نہیں بولی تھیں ۔اج اپنے بھائی کے لیے بول رہی تھیں ۔۔۔۔۔
۔
“تم سب اتنے بڑے ہو گئے ہو جو اپنے باپ سے بحث کرو گے ؟ “
۔
“نہیں ابو ہم بحث نہیں کر رہے ۔۔۔۔۔وہ لڑکی وجی کی خوشی ہے ۔۔۔۔آپ کا بیٹا مر جائے گا اُس کے بغیر ابو ۔۔۔۔ابو آپ نے ہمارے لیے جو فیصلہ کیا ہم نے قبول کیا ۔۔۔۔ہم نے آپ کے آگے کھبی ماتھے پہ بل بھی نہیں ڈالا ۔۔۔۔۔۔ہم خود سہتے ہیں ۔۔۔۔ہم لوگوں کی باتیں بھی سنتے ہیں ۔۔۔۔۔ہم اپنی خواہشات کھبی ظاہر نہیں کرتے ۔۔۔۔کہ آپ دُکھی نہ ہوں ۔۔۔۔۔مگر آج بات ہماری نہیں ہے ابو۔ آج بات وجدان کی ہے۔ ۔۔۔۔۔آپ کو سوچنا ہو گا ۔اب آپ کو سوچنا پڑے گا ابو ۔۔۔۔۔ہم تو بیٹیاں ہیں اپنے لیے آپ کے سامنے بول بھی نہیں سکتیں ۔۔۔۔مگر وجدان۔۔۔۔۔۔ابو اُس کے لیے ہر حد سے گزر جاؤں گی میں ۔۔۔۔۔آپ کو سوچنا ہو گا ابو
۔
اب کی بار فاطمہ بولی اور ایسا بولی کہ ہر کوئی چپ رہا ۔۔۔۔اُس نے کسی کو بولنے کے لیے چھوڑا ہی نہیں۔ بولتے بولتے وہ اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔اُس کے باہر جاتے ہی ۔۔۔۔۔چاروں بہنیں کمرے سے باہر نکلیں۔ ۔۔۔اور ماں باپ آج اپنی ساری اولاد کو دیکھتے رہے ۔۔۔۔جو اُن کو اج کسی اور ہی روپ میں نظر آ رہی تھیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
۔وہ جب بھی بہت روتی تھی۔ ۔۔۔۔۔اللہ جی اُس پہ اپنی عنایت کرتے ۔۔۔۔۔ ایک خاص کرم کرتے ۔ ۔۔۔اُس پہ غنودگی طاری کرتے اور وہ سو جاتی ۔۔۔۔
۔
آج بھی وہ بہت روئی تھی اتنا کے بے ہوشی کی نیند سو رہی تھی۔ ۔
۔
“وہ سفید سوٹ پہ کلا کوٹ پہنے کمرے میں آیا ۔۔۔۔۔وہ لیٹی تھی ۔۔۔۔۔۔ دروازے کی آواز سے اُس کی آنکھ کھلی ۔۔۔۔۔
“آ گئے ہیں آپ”
وہ اٹھی ۔۔۔۔۔اُس کے پاس گئی ۔۔۔۔اُس کے پیچھے کھڑی ہوئی ۔۔۔۔پہلے اُس کے ایک بازو سے کوٹ نکلا پھر دوسرے سے ۔۔۔۔۔
“میری بہن کا نکاح ہے اج …..برات بھی آئے گی ۔۔۔۔۔کھانا سب کا یہی ہو گا ہماری طرف “
وہ بول رہا تھا ،۔۔۔۔۔اُس نے اُس کا کوٹ الماری کے سامنے ہینگر پے لگایا ۔۔۔۔۔۔وہ پیچھے مڑی ۔۔۔چونک کے اُس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔جو بیڈ پہ لیٹ رہا تھا ۔۔۔۔
“نکاح آج ہے ؟ “
۔
“ہاں آج ہے “
سر پہ بازو رکھے آنکھیں بند کیے اُس نے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔جیسے سونا چاہتا ہو ۔۔۔۔
۔
وہ اُس کے پاس آئی ۔۔۔۔۔اُس کے پاس بیٹھی ۔۔۔۔مسکراتے ہوئے اُس کا بازو ماتھے سے نیچے کیا ۔۔۔۔۔اُس کے قریب ہوئی ۔۔۔۔اتنا قریب کے اُس کی سانسیں اُس کے منہ میں جانے لگیں۔۔۔۔۔اُس نے اپنا ایک ہاتھ اُس کے چہرے کی ایک سائڈ پہ رکھا ۔۔۔۔۔اُس کی دھاڑی کا لمس اُس کو محسوس ہونے لگا۔ ۔۔۔۔
“خان صاحب نماز کا وقت ہے نماز پڑھ کے سوئیے گا”
اُس نے اُس کو مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔اور پیچھے ہو گئی ۔۔۔۔اُس کے پیچھے ہوتے ہی اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے قریب کیا ۔۔۔۔۔اتنا قریب کے اُس کے ہونٹ اُس کے ماتھے کو چھونے لگے۔ ۔۔ اُس نے اُس کے بال پیچھے کیے ۔اُس کا ماتھا چُوما
۔
“ملکہ آج دونوں نماز ساتھ پڑھیں گے”
۔
ماتھا چومتے ہوئے اُس نے اُس کو سرگوشی سے کہا ۔۔۔۔۔۔جو آنکھیں بند کیے اُس کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔
۔
وہ اٹھا ۔۔۔۔۔اپنا کوٹ پہنا ۔۔۔۔۔سر پہ ٹوپی لی ۔دروازہ کھولا ۔۔۔۔۔اور اُس کا ہاتھ پکڑے آگے چلنے لگا ۔۔۔۔جو مکمل چادر میں اُس سے ایک قدم پیچھے چل رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“خان صاحب آپکو پتا ہے میرا کتنا ارمان تھا ہم دونوں ایک ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ایسے ساحل پہ چلیں۔ آپ مجھ سے ایک قدم آگے ہوں اور میں آپ سے ایک قدم پیچھے چلوں”
۔
وہ مٹی جیسی زمین پہ ننگے پاؤں چل رہے تھے ۔۔۔۔۔وہ مٹی ساحل کی مٹی نہیں تھی۔ ۔۔۔۔وہ تو کیچڑ تھا ۔۔۔۔۔۔جو بارش کے بعد ہوتا ہے ۔۔۔۔۔مگر اُس کو اسکا ساتھ میسر تھا ۔۔۔۔۔کیچڑ بھی ساحل تھا۔ ۔۔۔۔وہ بولے جا رہی تھی ۔۔۔۔اور وہ خاموشی سے اُس کو سنتا سنتا آگے جا رہا تھا ۔۔۔۔
۔
۔وہ مسجد تک پہونچے ہی تھے ۔۔۔۔۔کہ اُس کی آنکھ کھلی ۔۔۔۔۔مسجد سے
اللهُ أَکبَر اللهُ أَکبَر
کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔۔۔۔۔اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ ۔۔۔۔وہ تو اپنے بیڈ پہ لیٹی ہے ۔۔۔۔۔کھدر ہے وہ جو ابھی اُس کے پاس تھا اُس کے ساتھ تھا ۔۔۔۔۔۔اُس نے لائٹ لگائی ۔۔۔۔۔۔وہ تو اپنے کمرے میں ہے۔ ۔۔۔۔۔
۔
“یہ خواب تھی؟”
اُس نے بیڈ پہ بیٹھتے ہی پھر سے ادھر اُدھر دیکھا۔ ۔۔۔۔۔
“کیا تعبیر ہے اِس کی ؟”
“ملن یا جُدائی”
۔
جو بھی ہے خواب میں ہی سہی وہ اُس کے پاس تھا اُس کے ساتھ تھا ۔۔۔۔اُس کا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں تھا ۔وہ اُس کو ملکہ کہے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اُس کے ساتھ نماز پڑھنے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
وہ ایک عرصے بعد مسکرائی ۔ ایک عرصے بعد خوش ہوئی ۔۔۔۔جیسے اُس کو پوری دنیا مل گی ہو۔ ۔۔۔اُس کے ہے قرار دل کو قرار آیا۔۔۔۔۔روح کو سکون ملا ۔۔۔۔وہ اٹھی ۔۔۔ وضو بنایا ۔۔۔جائے نماز پے بیٹھی ۔۔۔۔اور خدا کے رُوبرو شکرانے کے نوافل ادا کرنے لگی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: