Hijab Novel By Amina Khan – Episode 29

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 29

–**–**–

!ان آنکھوں کے اشارے سے مری توثیق ہو جائے!
پلک جھپکوں ، مقدر کی خرابی ٹھیک ہو جائے
سمیٹو حاشیہ میرا اگر پوری توجّہ سے
مجھ ایسا بد چلن بندہ بھی نستعلیق ہو جائے
بہاو وقت کا ہے وصل میں مانع ، بھلے جتنا
کنارے سے کنارے کا بدن نزدیک ہو جائے
ترا احساس کھو دوں تو جواز اپنا نہیں رہتا
ترا چہرہ جو بھولوں روشنی تاریک ہو جائے
مجھے اک عشق بونا ہے تری زرخیز مٹّی میں
زمیں زندہ ہے پہلے یہ مجھے تصدیق ہو جائے
تری تصویر کے نعم البدل کی ایک صورت ہے
تری ہم شکل کوئی نظم اگر تخلیق ہو جائے
پڑھو لوحِ ازل اس پر بھی یہ لکھّا نہیں ہو گا
مرا ہونا تمہاری یاد سے تفریق ہو جائے
حسیں عورت کے سب معنی مکمل کھولے جائیں گے
محبت اور ہوس پر ٹھیک سے تحقیق ہو جائے
ہم اپنی ذات کو بھی جسم سے تفریق کر دیں گے
ہمھارے وصل کی تم کو اگر توفیق ہو جائے!!
وہ پوری رات ایک کونے میں بیٹھا کانپتے ہاتھوں کے ساتھ سگریٹ پتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔وہ اتنے سگریٹ پینے لگا تھا کہ اُس کو لگا اُس کے اندر بس دُھواں ہی دُھواں ہے ۔۔۔۔۔۔وہ خود کو ختم کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔اُسے معلوم تھا خودکشی حرام ہے۔ وہ خود کو گولی سے نہیں مار سکتا تھا۔اپنی نصب نہیں کاٹ سکتا تھا ۔۔۔بہت ساری گولیاں کھا کے خود کو ملامت نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔ وہ خود کو سگریٹ سے مارنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ سگریٹ کو ایک زہر سمجھ کے پیتا تھا ۔۔۔۔جو اہستہ آہستہ اُس کو بِستر مرض تک لے جائے ۔۔۔۔۔ اور وہ اِس ازیت اِس تکلیف سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پا لے جو اُس کو ایک ایک پل میں موت دیتی تھی ۔۔۔۔۔
۔
محبت کرنے والوں کے لیے موت ایک نعمت بن کے آتی ہے ۔۔۔۔۔جو اُن کو ہمیشہ کے لیے سکون کی نیند دے دیتی ہے ۔ایسی سکون کی نیند جو دن رات وہ مانگتے ہیں ۔۔۔۔
۔
اُس کے پاس اب مانگنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا ۔۔۔۔۔کل تک جو زرمینہ گل کو مانگتا رہا اج وہ نیند مانگ رہا تھا ۔۔۔۔ایسی نیند جس کے بعد وہ کھبی اٹھ نا سکے ۔۔۔۔کھبی اِس دُنیا میں دوبارہ واپس نہ آ سکے جس دنیا نے اُس کو تکلیف ازیت درد قرب کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔۔۔۔۔۔
۔
“سنو ملکہ ! مجھے بھول تو نہیں جاؤ گی نا ؟”
۔
اُس نے آسمان میں چمکتے چاند کو دیکھا اور کانپتے ہونٹوں کے ساتھ کہا ۔۔۔۔ سگریٹ پینے سے اُس کے ہونٹ کالے ہو گے تھے ۔۔۔۔اُس کے دانت خراب ہو رہے تھے۔ ۔۔اُس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اُس کی بڑھی ہوئی داڑھی ۔۔۔۔۔۔اُس کو قابل رحم بنا رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو اِس حال میں کوئی بھی دیکھے تو یہی کہے ۔۔
” ہائے کسی ماں کا جوان بیٹا ، اِس کی حالت پہ ماں کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی “
۔
عشق انسان کو مار دیتا ہے ۔۔۔۔۔زمین میں اُتار دیتا ہے ۔۔۔۔
۔
کسی میں سے اگر غرور ختم کرنا ہو تو اُس کو مرضِ محبت کا مزا چکاؤ ۔۔۔۔۔اور پھر دیکھو ۔۔۔۔۔اُس کی موت کا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھو ۔۔۔۔۔دنیا کی کوئی چیز ایک انسان کو نہیں ہارا سکتی ۔۔۔۔بس یہ کم بخت محبت ، تباہ کر دیتی ہے۔ برباد کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔دنیا کے سامنے ذلیل ، رُسوا کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔ایک اچھے بھلے انسان کو قابلِ رحم بنا دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ مرض جس کو لگتا ہے بس وہی اِسکا درد جانتا ہے …..
۔
“یہ وہ درد ہے جس کا علاج بڑے سے بڑا ڈاکٹر کرے تو ہار مان جائے ۔۔۔ اور اگر محبوب کا ایک دیدار فقط ایک دیدار نصیب ہو جائے تو مرتا ہوا عاشق دوبارہ جی اٹھے “
۔
سنو ملکہ ! اِس جہاں میں نہیں تو اگلے جہاں میں میرا انتظار کرنا ۔۔۔میں نے تمہیں خدا سے مانگا ہے۔ کیسے ممکن ہے کوئی اُس سے مانگے تو وہ عطا نا کرے ۔۔۔۔۔یہاں ظلم ہے ، یہ دنیا بہت ظالم ہے ملکہ ۔۔۔۔۔تمھیں میرا کھبی نہیں ہونے دے گی ۔۔۔۔میں تمہیں اُس جہاں میں مانگوں گا۔ ۔
۔
” روزِ محشر لوگ مغفرت مانگیں گے مگر وجدان تمھیں مانگے گا ۔۔۔۔اپنی ملکہ کو مانگے گا “
اُس دِن میری ہو جانا ۔۔۔اُس دن چھوڑ دینا سب کچھ ۔۔۔۔اُس دِن دعا کرنا اللہ میری دعا قبول کرے۔۔۔میں نے تمہیں پانے کے لیے جو دعائیں مانگی ہیں دعا کرنا اللہ سے بولنا وہ اُن پہ کن بولے۔۔
۔
کاش ملکہ میں تمہیں بتا دیتا ، میں کہے دیتا تم سے وجدان تمہارے عشق میں دیوانہ بن کے گھومتا ہے۔ ۔۔۔ملکہ تمھیں وجدان کی اِس دیوانگی کی قسم اُس جہاں میں وجدان کی ہو جانا “
۔
اُس کو لگا جیسے وہ اُس کو دیکھ رہی ہے وہ چاند پہ ہے اور اُس کی دیکھ رہی ہے۔ وہ آنکھوں میں آنسوں لیے اُس سے باتیں کرتا رہا ۔۔۔۔اُس نے اِس دوران ایک بار بھی سگریٹ نہیں پیا ۔۔۔۔اُس کا نام لیتے ہی اُس کے ہاتھ سے سگریٹ نیچے گر جاتا ۔۔۔۔آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب بہتا چلا جاتا ۔۔۔۔۔اور وہ کسی اور ہی جہاں میں ہوتا ۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” زرمینہ جلدی تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔لیٹ ہو رہا ہوں میں”
سلطان نے چائے کا کپ منہ کے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“زرمینہ کی تو طبیعت ہی بہت خراب ہے وہ نہیں جائے گی “
اماں نے اُس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“نہیں نہیں اماں میں جاؤں گی میں ٹھیک ہوں”
وہ عبایا پہنے ماں کو دیکھے بغیر کُرسی پہ آ کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔
۔
“لیکن زرمینہ “.
رقیہ بیگم نے آنکھیں نکالتے ہوئے ۔۔۔۔الفاظ پہ زور دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔جیسے اُس کو یاد دلا رہی ہوں ۔۔۔۔۔کہ اُس نے اب یونیورسٹی نہیں جانا ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں اماں آپ پریشان نا ہوں میں ٹھیک ہوں”
اُس نے اس قدر ڈیتھ بن کے کہا ماں آگلی بات نہ کر سکی ۔وہ جانتی تھی اُس کی ماں کھبی بھی اُس کے باپ اور بھائیوں کو نہیں بتائیں گی ۔۔۔۔وہ خود اُس کو جانتا مرضی بے عزت کر لیں مگر وہ کسی اور کے سامنے اُس کی تذلیل کھبی نہیں کر سکتیں ۔۔۔۔۔۔
۔
“ٹھیک ہے زرمینہ گل جاؤ مگر خیال رکھنا”
انہوں نے اِس انداز میں کہا جیسے سب کو لگے وہ اُس کی طبیعت کے سلسلے میں خیال رکھنے کا کہے رہی ہیں ۔۔۔۔۔مگر زرمینہ گل اُن کی آنکھوں کے اشارے سے سمجھ گئی تھی ۔۔وہ اُس کو کس چیز کا خیال رکھنے کا کہے رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔
“جی اماں میں بہت خیال رکھوں گی آپ پریشان نہ ہوں”
یہ کہتے ہوئے اُس کو اندر سے ایک تکلیف ہوئی ۔۔۔۔وہ کیسی بیٹی ہے ۔۔۔۔کیا ایسی ہوتی ہیں بیٹیاں ؟
۔
“اچھا اب چلو بھی لیٹ ہو رہا ہوں میں”
سلطان نے گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہا اور اٹھنے لگا ۔۔۔۔۔وہ بھی بھائی کے پیچھے ایک دم اٹھی ۔۔۔۔وہ اِس وقت ماں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔وہ اُن سے بچ کے جلد از جلد گیٹ سے باہر جانا چاہتی تھی
۔
۔
وہ جلدی جلدی اٹھی ۔۔۔۔چادر لی ۔۔۔۔۔بیگ پہنا ۔۔۔۔۔جیسے ہی وہ جا رہی تھی ماں نے اسے آواز دی ۔۔۔۔۔اُس کے آگے جاتے قدم ایک دم روکے۔ ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ یہ چادر مجھے دو “
انھوں نے اُس کے کندھے سے چادر اُتارتے ہوئے کہا ۔
“مگر اماں “
اُس کو لگا ،ماں اُس کے کندھے سے چادر نہیں اُتار رہی بلکہ اُس کو زمین میں اُتار رہی ہے ۔۔۔۔
۔
“اب تمھیں اِس کی ضرورت نہیں رہی زرمینہ “
انھوں نے آنکھوں میں آنسوں لیے کہا ۔جیسے بیٹی کو بتا رہی ہوں ۔۔۔۔۔اُس نے کیا کیا ہے۔ اُس نے اپنے باپ کا غرور کیسے توڑا ہے ۔۔۔۔۔۔یہ چادر جب اوہنوں نے اُس کو اوڑاھی تھی ۔تو اُس کو کہا تھا اِس چادر کو چادر نہیں سمجھنا ۔۔۔اپنے بابا جان کی عزت سمجھنا ۔۔۔۔اُس نے ان کی دی ہوئی چادر کا بھرم نہیں رکھا ۔۔۔۔۔اُس چادر کا مان اُس نے توڑ دیا ۔۔۔اب اُس کا اِس چادر پہ کوئی حق نہیں تھا ۔۔۔۔۔
۔
“اماں نہیں کریں ایسا “
اُس نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے اُس سے ماں آج سب سے قیمتی چیز لے رہی ہو ۔۔۔۔ایسی چیز جس کو پہن کے اُس کو ایک تحفظ ملتا ہے
۔
“میں نے نہیں زرمینہ گل یہ تم نے خود کیا ہے ۔۔۔۔تم نے کیا ہے یہ “
ماں نے ہاتھ میں چادر لیے روتے ہوئے کہا اور وہاں سے پلٹنے لگی ۔۔۔۔
۔
وہ وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی ۔۔۔۔۔اُس کو بہت اچھے سے احساس ہوا ۔اُس نے اِس محبت کی خاطر کیا کھو دیا ہے ۔۔۔۔۔اُس نے اپنی عزت کھو دی۔ ۔۔ایک لڑکی کے پاس عزت ہی تو ہوتی ہے۔ وہی عزت اُس کا غرور ہوتا ہے ۔۔۔۔وہ عزت اُس کی چادر ہوتی ہے ۔۔۔۔۔آج اُس کی ماں نے اُس کو بہت اچھے سے سمجھا دیا تھا ۔۔۔۔ عزت اور ذلت کا فرق آج اُس کی بہت اچھے سے سمجھ آ گیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
اُس کا دل چاہ زمین پھٹے اور وہ اُس کے اندر اترے ۔۔۔۔۔اُس سے کیسی غلطی ہو گئی ہے۔ ۔۔۔۔جو آج اُس کے کندھے کی چادر بھی چھین لی گی ہے ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ اب چلو بھی “
سلطان نے گاڑی کا ہورن بھجاتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
وہ چونکی۔ ۔۔۔پیچھے مڑی ۔۔۔۔۔گیٹ کھولا اور باہر نکلی ۔۔۔۔آج پہلی بار وہ بغیر چادر کے گھر سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔۔
وہ عزتوں والی بغیر عزت لیے نکلی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا تکلیف ہے تمھیں ۔کیوں نہیں آئی کل ؟ اگر نہیں مرنا ہوتا یونی تو بتا دیا کر نا ۔۔۔۔۔اور اوپر سے محترمہ کا موبائل بھی بند ہے جیسے بڑا کوئی یہ مصروف ہوں ۔۔۔۔۔”
فضہ نے گیٹ سے اُس کو آتا دیکھا اور جلدی جلدی اُس کے پاس گئی اور وہیں شروع ہو گئی ۔۔۔جیسے اب وہ اُس کا قتل ہی کر دے گی ۔۔۔۔
۔
“بکواس کر رہی ہوں میں کچھ …آگے سے اب کوئی بکواس کرو گی؟ “
اُس نے اُکتا جانے والے انداز میں اُس کو دیکھا جو اُس کو نظریں جھکائے بس سن رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“سن رہی ہُوں”
جیسے ہی اُس نے سر اوپر کیا ، وہ جو کچھ وقت پہلے بول رہی تھی وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی ۔۔۔۔۔اُس کی موٹی موٹی آنکھیں آج بلکل چھوٹی ہوئی وی تھیں ۔۔۔۔۔اُس کے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اُس کو صدیوں کا بیمار ٹھرا رہے تھے۔۔۔۔۔جیسے وہ ایک لمبی بیماری سے آٹھ کے اج آئی ہو ۔۔۔۔۔
۔
“زری کیا ہوا ہے تمھیں؟”
اُس نے اُس کی آنکھوں کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
۔
“کچھ نہیں “
“کچھ تو ہوا ہے ….یہ ایک دِن میں کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی ۔۔۔۔۔؟”
“کچھ نہیں ہوا فضہ پریشان نہیں ہو میں ٹھیک ہوں “
“زری بتاؤ نا یار کیا ہوا ہے ۔۔۔ایسا لگتا ہے بہت روئی ہو تم…..جیسے اتنے عرصے سے سوئی نہیں ہو ۔ “
۔
“کچھ نہیں ہوا فضہ بس میں بیمار تھی۔ ۔۔۔تو تب ہی “
اُس نے جھکے سر کے ساتھ اُس کے سوالوں کے جواب دیئے جو کسی صورت مطمئن نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔اُس کو پتا تھا کچھ تو ہے کچھ تو بہت غلط ہوا ہے۔ ۔۔۔۔مگر وہ حیران تھی اُس لڑکی پہ جو اُس کو اپنی سانسوں کی تعداد بھی بتایا کرتی تھی ۔آج وہ اُس سے چھپا رہی ہے ۔۔۔۔مگر کیا ؟ اور کیوں؟
۔
وہ ایسی ہی تھی ۔۔۔۔محبت کو چھپا کے رکھنے والی ۔۔۔۔۔وہ چھپی محبت کرتی تھی ۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کوئی اُس کا نام بھی لے جس کو دیکھنے کے لیے وہ باوضو ہوتی ہے ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی کوئی اُس کی محبت کی بات بھی کرے ۔۔۔۔وہ اُس کو اپنے دل میں چھپا کے رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔اپنی آنکھوں میں قید کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔
۔
“ایک دن میں اتنی بیمار ہو گئی کہ ایسی حالت ہو گئی؟ “
۔
“ارے پگلی نہیں پریشان ہو نا میں ٹھیک ہوں ۔چلو اب یہاں سے “
اُس نے ہستے ہوئے بات ٹالی اور آگے آگے چلنے لگی ۔۔۔۔۔تاکہ وہ مزید سوالوں سے بچ سکے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔وہ آج اتنے دنوں کے بعد لائبریری آئی تھی ۔۔ ہر کوئی اُس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں کے بگڑے زاویے پہ ہر کوئی بات کر⁦ رہا تھا ۔۔۔۔۔اور اُس کے زیر بحث ہونے کی آج سب سے بڑی وجہ اُس کا آج بغیر چادر کے ہونا تھا۔ ۔۔۔۔وہ پچھلے دو گھنٹوں سے لائبریری میں چھپ کے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کوئی اُس کو دیکھے۔ ۔۔۔۔اُس سے پوچھے زرمینہ گل آج چادر کدھر ہے۔۔۔۔۔۔
۔
آج وہ بہت ازیت میں بہت درد میں تھی۔ ۔۔۔۔اُس کی ماں نے آج اُس کو عزت اور ذلت میں فرق سمجھایا تھا ۔۔۔۔اُس کو بتایا تھا عزت کے ساتھ اور عزت کے بغیر ایک لڑکی کا کیا مقام ہوتا ہے۔۔۔۔۔انھوں نے جب اُس کو چادر اوڑھای تھی تو بولا تھا اس عزت کی حفاظت کرنا ۔۔۔۔۔۔مگر وہ ناکام رہی۔ ۔اُس نے عزت کی حفاظت نہیں کی ۔۔۔۔۔تو اُس سے چادر چھین لی گئی۔۔۔۔۔۔
۔ ۔
۔
وہ اپنے سامنے فاروق اعظم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کی کتاب کھولے سوچوں میں غرق ہوئے بیٹھی تھی ۔۔۔۔اچانک اُس کو ایک آواز آئی ۔۔۔۔۔اُس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا اور وہ پیچھے مڑی ۔۔۔۔
۔
“اسلام علیکم زرمینہ گل”
“کیسی ہیں آپ ؟ “
اُس نے اپنے سامنے کھڑی اُس لڑکی کو دیکھا جو کالا عبایا پہنے اور اُس کے اوپر کالا ہی حجاب لیے ہوئے تھی ۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں کی چمک سے واضع اندازہ ہو رہا تھا وہ مُسکرا رہی ہے ۔۔۔۔
۔
“وعلیکم السلام ۔۔۔میں ٹھیک ہوں عائشہ ۔۔۔۔ “
اُس نے اُس کے سلام کے جواب دیا اور نیچے دیکھنے لگ گئی۔ جیسے وہ نہ چاہتی ہو کہ وہ اُس کے پاس بیٹھے ۔۔۔۔۔اُس سے اُسکی آنکھوں کا حال پوچھے ۔۔۔۔اُس سے اُسکی چادر کا پوچھے ۔۔۔۔۔
۔
ارے آپ آج فاروق اعظم حضرت عمر فاروق کو پڑھ رہی ہیں۔۔۔۔۔اُس نے اُس کی کتاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔اُس نے تو دیکھا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔وہ کون سی کتاب لیے بیٹھی ہے۔ ۔۔۔۔۔
۔
وہ اُس کے پاس کُرسی پہ بیٹھی ۔۔۔۔ اور اپنے مخصوص انداز میں بولنے لگی۔ ۔۔جس کو سن کے ہر کوئی اُس کے سحر میں کھو جائے۔ ۔۔
۔
پتا ہے زرمینہ مجھے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت کے بعد اگر کسی سے عشق ہے تو وہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق سے ہے ۔۔۔۔۔۔مجھے کچھ الگ طرح کی ہی محبت ہے اُن سے ۔۔۔۔
۔
وہ آنکھوں کو کتاب پہ رکھے ۔۔۔ایک مسکراہٹ کے ساتھ بولے چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو سن کے وہ اپنے کچھ وقت پہلے کا درد بھول چکی تھی ۔۔۔۔۔اور اُس کی باتوں میں کھونے لگی ۔۔۔۔
۔
“کیوں آپ کو اُن سے اتنی محبت کیوں ہے ؟”.
اُس نے اُس کی اس قدر شدید محبت دیکھ کے اُس سے ایک بچگانہ سا سوال پوچھا ۔۔۔۔۔اور خود ہی محفوظ ہوئی اُس نے کیسا سوال پوچھ لیا ۔۔۔۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ سے محبت تو اُس کو بھی بہت ہے ۔۔۔۔پھر اُس نے ایسا سوال کیوں پوچھا ۔۔۔۔۔؟
۔
وہ اُس کے سوال پے مسکرائی ۔۔۔۔۔اور اُس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
۔
زرمینہ تمھیں پتا ہے عمر کون ہے؟ وہ میرے نبی کریم کی مانگی ہوئی دعا ہے ۔۔۔۔۔وہ نبی جو محبوب ہے خدا کا ۔۔۔۔۔اُس نے عمر کے مسلمان ہونے کے لیے دعا مانگی ۔۔۔۔۔اور جب فاروق اعظم حضرت عمر فاروق مسلمان ہوئے تو اسلام پوری دنیا میں پھیلا۔۔۔۔۔تم نے وہ واقع نہیں سنا زرمینہ ۔۔۔جب فاروق اعظم مسلمان ہوئے تو اُن کی وجہ سے سرے عام ازان ہوئی ۔۔۔۔۔
وہ محبت اور عقیدت سے بولتی چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔اور سامنے بیٹھی ہوئی لڑکی اُس کو محبت سے سنے جا رہی تھی ۔۔۔
۔
پتا ہے زرمینہ مجھے عشق ہے اُس دِن سے جب حضرت عمر مسلمان ہوئے۔۔۔۔۔پتا ہے جب
حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمان ہوۓ نماز کا وقت ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا صحابہ تیاری کرو نماز کی، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا.. حضور نماز کہاں پڑھیں گے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کسی کونے میں چھپ کے پڑھتے ہیں، عمر فاروق نے کہا حضور آپ کے قدموں پہ میرے ماں باپ قربان، آگر اب بھی چھپ کے نماز پڑھیں تو عمر کے مسلمان ہونے کا کیا فائدہ ؟ عمر فاروق نے کہا حضور آج نماز کعبتہ اللہ میں پڑھیں گے. حضور ﷺنے فرمایا عمر کفار کا بڑا غلبہ ہے ۔
واہ..! میرے خدا، عمر فاروق گھوڑے پے سوار ہوۓ مکہ کے چوکوں پے جا کر.. گلیوں میں جا کر.. اپنے گھوڑے پے سوار ہو کر.. چلتے ہوۓ یہ اعلان کیا کہ مکے والو..! آجاؤ.. آج میں کلمہ پڑھ کے محمّد مصطفیٰ ﷺ کا غلام بن کر آیا ہوں، آج ہم کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے جارہے ہیں، اگر کسی نے اپنی بیویاں بیواہ کروانی ہوں اگر کسی نے اپنے بچے یتیم کروانے ہوں تو آجاۓ عمر کے راستے کو روک کر دکھا دے۔
خدا کی قسم جب عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمان ہوۓ تو مکے کے کافروں نے گلیوں میں نکل کر ماتم کیا کے ہاۓ آج آدھا مکہ ہم سے چھینا گیا ۔ عمر فاروق واپس آئے حضور ﷺ سے کہا اے میرے حضور..!! آپ آگے چلیں میں آپ کے پیچھے چلتا ہوں بیت اللہ میں نماز پڑھیں گے، میں دیکھتا ہوں کس کافر کی جرات ہوتی ہے جو ہمارا راستہ روکے. با سلامت بیت اللہ کے دروازے پر پہنچے جب بیت اللہ کا دروازہ کھلا تو میرے نبی ﷺ نے خوشی میں نعرہ تکبیر خود بلند کیا،، اللہ اکبر کی صدا مکے میں پہلی بار یوں گونجی کے کفر کے کوٹ بھی گر پڑے بیت اللہ کو بتوں سے پاک کیا اور مسلمانوں نے کھلے عام عبادت کی، اسلام کو طاقت ملی ۔ اور جب میرے نبی نے مکہ سے ہجرت کی اس وقت بھی عمر فاروق نے انوکھی ہجرت کی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا پھر گھوڑے پے سوار ہوۓ اور مکے کی گلیوں میں اعلان کیا کے آج میں ہجرت کر کے جارہا ہوں مدینہ اپنے محبوب محمّد مصطفیٰ ﷺ کے پاس اگر کسی کافر میں جرات ہے تو عمر کے راستے کو روکے ۔
۔
ہائے یہ عمر ۔۔۔۔۔زرمینہ ہم تو عاشق ہیں ہی نہیں عشق تو میرے آقا کے صحابہ کرام نے اُن سے کیا ہے ۔۔۔۔ایسا عشق کیا کے دنیا میں یاد رکھئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
اور فاروق اعظم کی شان تو دیکھو ۔۔۔۔۔آج بھی وہ آقا جان کے مبارک قدموں میں سوئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ قیامت تک جو بھی کوئی حضورِ اقدس کے پاس حاضری دینے جائے گا۔ ۔۔۔ابو بکر اور عمر کو سلام کرے گا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔اور فاروق اعظم کی شان کو دیکھو ۔۔۔شہادت بھی پائی تو اسلامی مہینے کے پہلے ہی دن۔ یعنی یکم محرم الحرام کو ۔۔۔۔۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر فاروق اعظم کے بارے میں خود فرمایا “اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وُہ عمر ہوتا “
۔۔
وہ ایک سرور میں بولتی چلی جا رہی تھی اور وہ اُسی سرور میں اُس کو سن رہی تھی ۔۔۔
۔
وہ جو ایک نامحرم کی محبت میں رو رہی تھی ۔۔۔۔۔اِس وقت وہ اُس کو بھول گئی تھی ۔۔۔۔اِس وقت وہ عمر کے سحر میں تھی ۔۔۔۔جس کے زبان پہ خدا نے حق جاری کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
پتا ہے زرمینہ جہاں سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ گزرتے نا وہاں شیطان اپنا راستہ چھوڑ دیتا ۔۔۔۔۔وہ ہٹ جاتا ۔۔۔۔۔یہ وہ انسان ہے جس نے ۲۲ لکھ مربع میل پے اسلام کا پرچم لہرایا ۔۔۔۔۔پتا ہے کفار اتنا خوفزدہ تھے کے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ نے اسلام کیوں قبول کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔
کفار نے تو یہاں تک کہا ۔۔۔۔۔کے اگر عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ دس برس اور حکومت کرتے تو پوری دنیا میں آقا جان علیہ السلام کا حکم صادر کر دیتے ۔۔۔۔۔
۔
اور پتا ہے زرمینہ اُن کو اتنی عزت یہ مقام کس سے ملا اقا جان علیہ السّلام سے ۔۔۔۔۔بہت سے لوگ فاروق اعظم سے بغض رکھتے ہیں۔۔۔۔مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے مسلمان ہوتے ہوئے بھی وہ عمر کو نہیں مانتے ۔۔۔۔آخر کیوں کیوں نہیں مانتے وہ عمر کو ۔۔۔۔وہ کیوں نہیں سوچتے کے عمر آقا کی مانگی ہوئی دعا ہیں ۔۔۔۔۔وہ کیوں نہیں سوچتے عمر کی وجہ سے اسلام کھول کے سامنے آیا ۔۔۔۔وہ کیوں اپنی ہی بات کرتے ہیں ۔کیوں وہ اپنی ہی انا کی مستی میں جھول رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔کیوں وہ عمر کو اہلِ بیت کا دشمن مانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ تو وہ امیر المومنین ہے جو شہزادوں کے آنے پہ کھڑا ہو جاتا تھا ۔۔۔۔جو علی کو اپنا مولا کہتا ۔۔۔۔۔پھر کیوں عمر سے حسد رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔
وہ بولتے بولتے نیچے ہوئی ۔جیسے بہت تھک گی ہو ۔۔۔۔۔جیسے اب اُس کے بولنے کی سکت نے جواب دے دیا ہو ۔۔۔۔۔وہ اپنی محبت کا اظہار ایک جلال میں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“اللہ جی میں اِن لوگوں کی طرح محبت کا اظہار کیوں نہیں کر سکتی ؟”
علی والے اُن کی محبت کا اظہار نعرہ لگا لگا کے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آج یہ فاروق اعظم کے لیے جب بول رہی تھی تو آج جلال میں بولے چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ تو آقا جان علیہ السلام کی محبت کو بھی اپنے سینے میں رکھتی ہے ۔۔وہ کسی کو نہیں بتاتی اُن سے کیسی محبت ہے اسکو ۔۔۔وہ اپنی محبت کا اظہار بس آقا سے کرتی ہے۔ ہر وقت اُن پہ درود پاک کا نذرانہ عقیدت محبت سے بجھتی ۔۔۔۔۔۔مگر وہ ان لوگوں کی طرح کیوں نہیں بتاتی سب کو شاید اُس کی محبت ہی ایسی تھی ۔۔۔بس جس سے محبت ہو تو محبوب کو ہی پتا ہو ۔۔۔۔۔۔محبوب کو رو رو کے بتاؤ ہاں مجھے محبت ہے آپ سے ۔۔۔۔ایسے بتاؤ کے محبوب کو آپ کے اشکوں سے محبت کا اندازہ ہو ۔۔۔۔آپ کے عمل سے محبت کا اندازہ ہو ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ کیا سوچ رہی ہیں آپ ؟ “
اُس نے اُس کو گہری سوچ میں پڑتا ہوا دیکھا ۔۔۔۔
۔
“کیا محبت میں اظہار بہت ضروری ہوتا ہے؟ “
اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو کب سے محبت میں بولے جا رہی تھی۔۔۔۔۔عمر سے اظہارِ عشق کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ ہر ایک کا محبت کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔کوئی محبت میں بولتے ہیں اور کوئی محبت میں خاموش ہو جاتے ہیں “
ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے محبت کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔جو لوگ محبت میں بولتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں جو خاموش ہیں تو وہ محبت نہیں کرتے۔ ۔۔۔۔۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔محبت کے تو بہت سارے رنگ ہیں اور ہر رنگ کا اپنا ہی ایک الگ رنگ ہے ۔۔۔۔
لیکن زرمینہ محبت میں اظہار بھی بہت ضروری ہوتا ہے محبوب کو پتا بھی تو چلے نا ہم اُس سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ضروری نہیں ہم وہ محبت دنیا کو بتائیں ۔۔۔۔مگر محبوب کو تو پتا ہو نا۔ ۔۔۔۔
۔
“اگر ہمیں کسی نا محرم سے محبت ہو جائے تو۔۔۔۔۔۔”.
اُس نے دبھی آواز میں بس اتنا ہی پوچھا۔۔۔۔ سر کو جھکا کے پھر خاموش ہو گئی۔ ۔۔۔
۔
زرمینہ محبت کوئی گناہ نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔بس محبت کی شرط نکاح ہے ۔۔۔۔۔۔محبت اماں خدیجہ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کو بھی آقا جان سے ہوئی تھی ۔۔۔اور انہوں نے فوراً نکاح کا پیغام بھیجا ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ ایک نامحرم سے کتنی بھی پاک محبت کیوں نہ ہو اگر آپ کی منزل نکاح نہیں تو وہ رشتہ حرام ہے ۔۔۔۔۔۔وہ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے ۔۔۔۔محبت تو ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔لیکن جب محبت ہو تو نکاح کرو۔ ۔۔۔اگر وہ محبت نکاح تک نہیں جا سکتی تو خاموش ہو جاؤ ۔۔۔اور معجزے کا انتظار کرو ۔۔۔۔۔اگر وہ آپ کے نصیب میں ہے تو آپ کو ضرور ملے گا ۔۔۔۔۔۔سالوں بعد ہی کیوں نہ ملے وہ آپکو مل کے رہے گا ۔۔۔۔۔”
۔
“اگر اُس سے نکاح کسی طرح ممکن نہ ہو تو پھر؟”
زرمینہ پھر دعا کرو اللہ آپ کو اُس کے نصیب میں لکھ لے ۔یہ جو دعا ہوتی ہے نا نصیب بس یہی بدلتی ہے ۔۔۔۔۔اور دعا کے باوجود وہ آپکو نا ملے نا تو سمجھ جاؤ وہ آپ کا ہے ہی نہیں جو آپ کو نہیں ملا ….
۔
وہ پیار سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہی تھی ۔۔۔اور وہ سنے جا رہی تھی ۔۔۔جس نے محبت کو اپنے سینے میں دفن کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: