Hijab Novel By Amina Khan – Episode 3

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 3

–**–**–

حجاب سے شروع ہونے والی محبت کی ایک عجیب داستان
ایسی داستان جو کہیں سنی نا هو
ایک لڑکا جو سید خاندان سے ہے
اور ایک لڑکی جو پٹھان ہے
حقیقت پر منبی کم عمر محبت کی خوبصورت داستان
آمنہ خان کے قلم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں جی “
رقیہ بیگم پریشانی سے اماں کے پاس آئی !
اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ اُنکو کیسے بتائیں ۔۔۔
اپنے شوہر کو بتانا مطلب طوفان کو خود دعوت دینا ۔۔وہ ایسے بھی ابراہیم صاحب سے بہت ڈرتی تھیں ۔۔۔۔۔اپنے بچوں کے حوالے سے اُن سے اتنی بات نہیں کرتی تھی ، اُنکو پتا تھا اُنکو کچھ بتانا مطلب خود طوفان کو اپنی گھر کا راستہ بتانا ۔۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے بچے کچھ بولو تو “
رقیہ بیگم دادی اماں کے بھائی کی بیٹی تھیں وہ دونوں آپس میں ساس بہو والا رویہ بلکل بھی نہیں رکھتی تھیں !!!
وہ ماں بیٹی جیسی تھیں ، رقبہ اُن سے آسانی سے بات کر سکتی تھیں ۔۔۔
” اماں جی “
اُس نے بے حد پریشانی میں بات شروع کی !
“ارے بولو تو کیا بات ہے مڑا “
“ایک تو جب تم اتنا ڈر ڈر کے بات شروع کرتا ہے نا ، میرے بھائی کی اولاد تو لگتا ہی نہیں ہے تم “
“اماں جی وہ بات ہی ایسی ہے “
انہوں نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا ۔یہ پسینہ گرمی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اُس طوفان کی وجہ سے تھا جو اُن کے گھر آنے والا تھا ۔۔
“اماں جی وہ۔۔۔۔۔۔۔”زری نے رشتے سے انکار کر دیا ہے “
انھوں نے ماتھے پے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا !!!
“کیا ، یہ کیا کہے رہا ہے تم “
“پاگل وگل تو نہیں ہو گیا ہے زرمینہ “
“کیوں نہیں کرنا اسکو رجب سے شادی ؟”
اماں جی زری سے بہت محبت کرتی تھیں مگر اُس کی اس بات نے اُنکو بھی ہلا دیا تھا !!!
“تم پوچھو تو اُس سے وہ انکار کیوں کرتا ہے ؟”
“پوچھا ہے اماں جی “
“زری کہتی ہے اُس کو آگے یونیورسٹی میں پڑھنا ہے “
“یہ لڑکی نا پاگل ہو گیا ہے “
اماں جی قدرے غصے کی حالت میں چلائی تھیں !!!
“تم رکو میں خود بات کرتی ہے اُس سے “
“زری باہر آؤ “
دادی اماں غصے سے چلائی تھیں !!
دن کو گھر پہ کوئی نہیں ہوتا تھا سوائے دادی اماں اور رقیہ کے اب زری کے امتحان بھی ختم ہو گئے تھے تو وہ بھی گھر پہ ہوتی تھی ۔وہ آسانی سے اُس سے بات کر سکتی تھیں ۔۔۔۔
“جی اماں جی “
وہ جلدی سے آئی اور اُن کے پاس آ کے بیٹھی !!
“کیا ہوا ہے مڑا ؟”
“کس کو دادو “
وہ اتنے پر سکون انداز میں۔ پوچھ رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو !!
مگر اندر سے وہ ہی جانتی تھی کہ اگر اُس کا یہ پلان فلوپ ہو گیا تو اس کا کیا حال ہو گا ، کل کے بجائے آج ہی شادی ہو کے رخصت ہونا پڑے گا !!!!
دل ہی دل میں وہ دعا کر رہی تھی اللہ جی میرے ساتھ ہونا پلیز ۔مجھے اس مشکل سے نکلنا پلیز !!
دادی اماں نے اُس کو بہت غور سے دیکھا !!
تمہیں لگتا ہے تمارے نا کرنے سے کسی پہ کوئی فرق پڑھے گا؟ اور یونیورسٹی ؟ تم پاگل وگل ہو گیا ہے کیا؟
“نہیں دادی اماں بلکل بھی نہیں پاگل ہوئی میں “
اُس نے اسی پر سکون انداز میں کہا !!
“اپنے باپ کا نہیں پتا تمہیں ؟”
“زندہ زمین میں اتار دے گا “
دادی اماں نے بہت سخت انداز میں اُس کو کہا ، عموماً وہ اتنے سخت انداز میں بات نہیں کرتی ہوتیں ۔۔۔۔مگر آج اُن کو اُس کی اس بات نے بہت دُکھ دیا تھا کے اُس نے رشتے سے انکار کر دیا ہے
!!!!!!!!
“زری بتمیزی کی بھی حد ہوتی ہے “
اتنے وقت کی چپ اماں اب بولے بغیر نہ رہ سکیں !!
اماں میں بدتمیزی نہیں کر رہی اپنا حق استعمال کر رہی ہوں ۔
اگر آپ نے میری رجب بھائی سے شادی کروانی ہے تو مجھے یونیورسٹی کی اجازت دلوائیں !!!
اُس کی رگوں میں بھی اُن کا ہی خون تھا ۔اماں کی طرف سے وہ جہانگیری تھی اور بابا کی طرف سے سبدہنی تھی ۔۔ضد اُس کے خون میں تھی۔
“یہ کیسا ضد ہے زرمینہ ؟”
دادی اماں نے پریشانی سے بہو کو دیکھا
“بس دادی اماں آپ اس کو کچھ بھی کہیں بس بات یہ ہی ہے “
وہ یہ کہے کر آٹھ کے چلی گی !!
اس کو پتا تھا تیر بلکل نشانے پہ لگا ہے ۔۔۔۔
اماں اور دادی اماں اُس کو بابا جان کے سامنے کبھی ذلیل نہیں کریں گی؛
وہ بابا جان کے فیصلے کے خلاف اُس کو کبھی بھی نہیں جانے دیں گی ۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اب گہری سوچ میں پڑ گئی تھیں ان کو اپنے بیٹے کا بہت اچھے سے پتا تھا
اور اس کی اولاد کا بھی
ضد پہ تو وہ تینوں اپنے باپ پے گے تھے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج رات کو ہی فیروز صاحب اپنی بیگم اور بیٹی کے ہمراہ باقاعدہ رشتہ لے کے آئے تھے ۔۔
اُن کا رواج تھا جب بھی رشتے کے لیے جاؤ تو پھلوں کی ٹوکری ساتھ لے کے جاتے ۔۔۔۔۔
پلوشہ زرمینہ کے پاس آئی تھی ، وُہ رجب سے بہت چھوٹی تھی ۔
زرمینہ سے بھی دو تین مہینے چھوٹی ہی تھی وہ ۔۔۔۔
“زری تم خوش تو ہو نا “
اُس نے اُس کے چہرے کو دیکھ کے انتہائ تشویش ناک انداز میں پوچھا !!!!
“بابا جان خوش ہیں تو میں بھی خوش ہُوں “
اُس نے سرسری سا جواب دیا
جیسے وہ مزید اُس سے اور کوئی بات نہ کرنا چا رہی ہو ۔
مگر وہ ، وُہ بھی پلوشہ تھی کھدر چپ رہے سکتی تھی ۔۔
جب کے اُس کو ایسا لگے کے اُس کے بھائی کے لیے جو لڑکی مانگ رہے ہوں وہ خوش ہی نہیں ۔۔۔۔۔
زری تم کسی اور کو پسند کرتی ہو؟
اُس نے اُس کے چہرے کو مکمل دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
زری کو لگا جیسے اُس کے پیروں کے نیچے سے کسی نے زمین چھین لی ہو ۔۔۔۔
اُس کے سر سے کسی نے چادر اُتار لی ہو !!!!
اُس نے بہت حیرت سے اُس کو دیکھا !!
کیا ؟
کیا کہا ہے تم نے ؟ پھر سے کہنا ایک دفعہ ؟
اُس نے اس قدر غصے سے پوچھا تھا کہ پلوشہ کو خود ہی اپنے سوال پہ شرمندگی ہونے لگی ۔۔۔
“ارے میں تو مذاق کر رہے تھی “
وہ اپنی شرمندگی کو مٹانے کے لیے پھیکا سا مسکرائی اور وہاں سے اٹھ کے دادی اماں کے پاس گی جدھر سب بڑے بیٹھے تھے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں آپ کچھ بول نہیں رہی ہیں ۔
فیروز خان نے حیرت سے اُنکو دیکھا۔
اماں کے ذہن میں زری کی دن والی باتیں تھیں ۔۔۔۔
“مجھے آگے یونیورسٹی پڑھنا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں میں رجب بھائی سے شادی کروں تو مجھے یونیورسٹی جانے کی اجازت دلوائیں”
وہ لوگ اتنا اچانک آئے تھے کہ اماں کو ابراہیم صاحب سے بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔۔۔۔۔
وہ اب بھی کچھ گم سم تھیں انھوں نے ابھی بھی بیٹے کی بات نہیں سنی تھی ۔۔۔۔
“اماں آپ ٹھیک تو ہیں نا”
ابراہیم صاحب اماں کے پاس آئے ۔۔اور اُن کے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا!!
“ہاں ہاں مڑا ٹھیک ہوں میں مجھے کیا ہونا ہے بھلا “
“اماں آپ کے طبیعت مجھے بہتر نہیں لگ رہی ، میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں”
فیروز صاحب نے پریشان ہوتے ہوئے کہا !!!!
نہیں نہیں فیروز میں ٹھیک ہوں ۔ تم پریشان نہ ہو بچے ۔۔
فیروز اور ابراہیم ساتھ ہی رہتے تھے مگر جب سے بچے بڑھے ہوئے دونوں نے گھر الگ کر لیے ۔۔اور بچے آپس میں ایک دوسرے سے پردہ کرنے لگے ۔۔۔۔۔
ابراہیم صاحب چھوٹے اور فیروز صاحب بڑھے بھائی تھے ۔۔۔وُہ بس دو بھائی اور ایک بہن تھیں ۔۔
بہن کی شادی مردان میں ہوئی تھی ۔وہ وہی پہ رہتی تھی
اماں میں زری کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں ویسے تو میں نے ابراہیم سے سرسری سا ذکر کیا تھا کہ وہ آپ سے اور ب بھابھی سے مشورہ کر لے۔۔۔۔۔۔۔
فیروز صاحب ماں کے پاس بیٹھے اور اُنکو کہا!!!!!!!!
رقیہ بیگم اور فیروز صاحب کی زوجہ بّھی وہی پہ موجود تھیں مگر دونوں نے ایسے چادر لے رکھی تھی کے منہ سارا نظر نے آئے۔ ۔وہ لوگ پردہ کرتی تھیں ۔۔۔ایک دوسرے کے شوہروں سے۔ ۔۔۔وُہ شروع سے ہی پردہ لیا کرتی تھیں ۔۔۔۔۔جب ساتھ ایک گھر میں بھی رہتی تھیں ۔۔۔
“فیروز رجب میرا بیٹا ہے ، بچی بھی گھر کی ہے اور بچہ بھی گھر کا ہی ہے۔ اس سے اچھی اور کیا بات ہے کہ گھر کی بچی گھر میں ہی جائے۔ مگر میری ایک شرط ہے زرمینہ دو سال یونیورسٹی میں پڑھے گی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کسی کو پسند تو نہیں کرتی زری کو پلوشہ کی یہ بات گولی کی طرح لگی ، وہ کس لڑکی کو کہے رہی تھی ۔۔۔۔۔
اُس کو جس نے آج تک کسی نا محرم کو نہیں دیکھا ۔۔۔کسی نا محرم کی زبان سے اپنا نام نہیں سنا ۔۔۔ کسی نا محرم کا خیال بھی اپنے دل میں نہیں لایا ۔
وہ تو گہری چادر لیتی تھی تا کے اُس کا ایک بال بھی کسی کو نظر نہ آئے ۔۔۔۔ وُہ تو ایسے بات کرتی تھی کے اُس کی آواز بھی کوئی نہ سنے تا کے کسی نامحرم کو اُس کی آواز بھی نا ائے ۔۔۔۔
وہ تو اللہ پاک اور آقا جان کے بغیر کسی کی محبت کو تصور ہی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔
وہ کسی نا محرم کو پسند کرے گی وہ ؟
اُس نے یہ سوچتے ہی توبہ توبہ کہا کانوں کو ہاتھ لگایا ۔۔
” اے اللہ پاک میرے دل میں کبھی بھی کسی نا محرم کی محبت نہ ڈالنا۔ میرے دل سے اپنی اور اپنے محبوب کی محبّت کبھی بھی نہ نکالنا ۔۔۔۔میں خوش ہوں تیری محبت میں مجھے کسی انسان کی محبت کی کوئی طلب نہیں۔ ۔۔۔۔۔مجھے اپنی محبت سے کبھی بھی محروم نہ کرنا میرے مالک “
اُس نے ہاتھ اٹھا کے دعا کی تھی اور کچھ دیر ویسے ہی وہاں پہ خالی سا ذہن لیے بیٹھی رہی
یہ دعا کرتے ہوئے اُس نے کب سوچا تھا وہ مرے گئی بھی تو کسی نا محرم کی محبت میں __________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب لوگوں نے چونک کے دادی اماں کو دیکھا ۔۔۔
“تم لوگ اِس کو میری شرط سمجھو ، میرا فیصلہ یہ پھر میرا حکم میں چاتی ہوں زری دو سال یونیورسٹی میں رہے کے اپنی تعلیم کو مکمل کرے “
اماں کو پتا تھا زرمینہ اگر خود یہ بات کرے گی تو اُس کی کوئی بھی نہیں سنے گا ، وہ اُس کی دھمکی سے نہیں ڈری تھیں ۔۔بلکہ اُس کی خواہش کا مان رکھنا چاہتی تھیں ۔۔۔۔۔
زری بہت کم کوئی خواہش کرتی تھی ۔۔۔۔اور نہ جانے کیسے غبی مدد ہوتی اور اُس کی ہر خواہش پوری ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“اماں جی یہ آپ کیا کہے رہی ہیں ہمارے خاندان میں پہلے کس نے یونیوسٹی پڑهی ہے جو اب ہم انوکھا کام کریں ، میں تو اس کے کالج کے بھی خلاف تھا آپ نے ہی زبردستی اس کو داخلہ کروایا اور اب یونیورسٹی؟”
ماں کی اس بات سے اُس کا دماغ بلکل کنٹرول سے باہر ہو گیا تھا ، بیشک وہ اپنی ماں سے بہت محبت کرتا ہے مگر یہ بات ،،،، اسکو یقین ہی نہیں آ رہا تھا اُس کے گھر میں بھی کبھی یونیورسٹی کا ذکر ہو سکتا ہے وہ بھی اُس کی بیٹی کے لیے “
“اماں ابراہیم ٹھیک کہے رہا ہے اب ہماری بچیاں بھی باہر جائیں گی ؟ غیر مردوں کے ساتھ بیٹھ کے پڑھیں گی ۔۔۔جو بات ہمارے خاندان میں کسی نے سوچی ہی نہیں ہے اُس کی شروعات ہم کریں گے ؟ اماں بہت غلط بات ہے یہ۔ میں تو کم از کم اس بات کے حق میں بلکل بھی نہیں ہوں۔ “
فیروز صاحب بھی ماں کے اس فیصلے سے بہت حیران ہوئے تھے.
“وہ کیسے اتنی بڑی بات ایسے اس موقع پہ کر سکتی ہیں جب ہم رشتے کی بات کرنے آئے ہیں۔۔۔”
اماں جی آپ کو پتا بھی ہے ہزارہ یونیورسٹی کے کیا حالات بنے ہوئے ہیں ؟ لڑکے آپس میں ایک دوسرے کو مار رہے ہیں لڑکی کے لیے ۔۔۔۔آپ کو پتا بھی ہے کس کس طرح کے لوگ ہیں اُدھر ؟ شہاب نے بظاھر تو نرم لہجے میں دادی اماں کو بتایا مگر اندر سے اُس کا دل ہی جانتا تھا وہ کیا کر گزرے۔ ۔۔ہزارہ یونیورسٹی کے نام سے ہی اُس کو نفرت تھی ۔۔۔۔
“لالا گل بلکل ٹھیک کہے رہے ہیں بابا جان ۔۔۔۔اُدھر کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ ہم اپنی عزت کو اُدھر بھجیں ۔۔ اُدھر صرف لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی ہیں اور ہیں بھی ہر طرح کے گھروں کے ۔۔سلطان نے بھائی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا”
دادی اماں نے سب کی باتیں بہت آرام سے سنی ۔۔۔۔۔
مطلب اب تم سب اتنا بڑھا ہو گیا ہے کہ ہمارے فیصلے میں بولے ؟ اب ہم شاھد فیصلہ لینے کے قابل ہی نہیں رہا ۔۔۔۔ٹھیک ہے تم لوگ جانو اور تم لوگوں کی اولادیں جانیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
“نہیں اماں جی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پہ مگر یہ یونیورسٹی والی ضد پہ میں آپ کا ساتھ نہیں دوں گا۔ ۔۔زری مجھ سے زیادہ آپ کی بیٹی ہے مگر آپ کو یونیورسٹیوں کا نہیں پتا ۔۔۔۔
میری بیٹی کو آج تک کسی غیر مرد نے نہیں دیکھا ۔۔۔ اور آپ چاہتی ہیں وہ غیر مردوں میں بیٹھ کے پڑھے ۔۔یہ ممکن نہیں ہے “
ابراہیم صاحب نے نظریں نیچے کر کے ماں کو اپنا فیصلہ سنایا !!!
“ٹھیک ہے ابراہیم جیسے تم لوگ مناسب سمجھو”
وہ بہت دِل برداشتہ ہو کے بولیں !!!!!!
اماں جی آپ میری بات کو کیوں نہیں سمجھ رہی خدا کے لیے مجھ سے خفا نہ ہوں .آپ ایسا نہیں سوچ سکتی ہیں میں جانتا ہوں ۔۔۔۔یہ سب زری نے کہا ہو گا آپ سے “
انھوں نے پہلے دُکھ سے کہا اور زری کا نام لیتے ہی اُن کو عجیب سا جلال آیا تھا۔
وہ لوگ بیٹی کو کچھ کہنا توہین سمجھتے تھے اور وہ بھی کسی کے سامنے کچھ کہنا ۔۔۔۔آج انھوں نے اپنے اصول توڑ دیے تھے۔۔۔اور ایک زور دار آواز لگائی “زرمینہ گل “
میں ۔۔۔۔۔اُس سے بعد میں۔۔۔۔۔ بات کر لوں گی آپ اُس کو ایسے کیوں ……؟
رقیہ بیگم نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا !!!!!
“زرمینہ “
اُس سے پہلے دادی اماں کچھ کہتی وہ بھاگتی ہوئی اُدھر آئی ۔۔
اُس کو آج لگ رہا تھا جسے اج اُس کی زندگی کا آخری دن ہے ۔۔۔وُہ تینوں بہن بھائی ایسے بھی اپنے والد سے بہت ڈرتے تھے ۔ اُن کے سامنے بھی نہیں بیٹھتے تھے ۔اور زری اُس نے تو باپ کے سامنے کبھی سر اٹھا کے بات بھی نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔
باپ کے زرمینہ کہنے نے ہی اُس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھنچ لی تھی۔
وہ باہر کھڑی سب سن رہی تھی ، اُس کو پتا تھا کیا ہونے والا ہے ۔۔۔۔
ج۔۔۔۔ج۔۔۔۔۔جی ۔۔جی۔بابا جان
اُس نے کانپتے ہوئے کہا
اُس کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اُس کے جسم سے روح کسی نے نکال دی ہو ۔۔۔۔۔
“اماں جی کیا کہے رہی ہیں “
فیروز صاحب نے اُسی انداز میں پوچھا جس انداز میں اھنوں نے اُس کو بلایا تھا !!!!!!!
بس آواز میں پہلے کی بنسبت تھوڑی سی نرمی آئی تھی ۔۔
“ک۔۔۔۔۔ک۔۔۔۔۔ کیا بابا جان “
اُس نے نظریں نیچے کر کے لڑکھڑاتی ٹانگوں کے ساتھ پوچھا !!!!!!
تم آگے یونیورسٹی پڑھو گی؟
ابراہیم صاحب نے ایسے پوچھا ، اُس کو لگا جیسے آسمان اُس پہ گر گیا ہو ۔۔۔زمین پیروں کے نیچے سے کہیں نکل گی ہو ، جیسے وہ گہرائی کھائی میں گر رہی ہو !!!!
اُس نے سوچا بھی نہیں تھا اُس کی ایک خواہش کا صرف ایک خواہش کا ایسا ردِ عمل ہو گا۔۔۔۔۔
“تم سے پوچھا ہے میں نے ؟”
ابراہیم صاحب نے آواز کو اور اونچا کیا!!!!!!!
“نہ ۔۔۔۔نہ ۔۔۔نہ ۔۔۔۔نہیں بابا جان”
اُس نے پھوٹ پھوٹ کے روتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے کوئی مرتا ہو اور اچانک اطلاع پہ گھر والے روتے ہوں۔ ۔۔ وُہ کبھی بھی اپنے باپ سے بغاوت نہیں کر سکتی تھی۔ وہ کبھی بھی اُن کے سامنے نہیں بول سکتی تھی ۔”ہاں مجھے پڑھنا ہے ، اگر آپ اجازت نہیں دیں گے تو رجب خان سے میرے رشتے کو بھول جائیں “
وہ کبھی مر کے بھی ایسا نا بولے ۔وہ ایک فرمابردار ماں کی اولاد تھیں ۔۔۔۔وہ کیسے اپنے بابا جان کے سامنے بول سکتی تھی ۔بیٹی تو ہوتی ہی باپ کا مان رکھنے کے لیے ہے۔ آج وہ اتنے لوگوں میں اپنے باپ کے سامنے کیسے بول سکتی تھی ۔۔۔۔
“نہیں بابا جان مجھے نہیں پڑھنا ، آپ جو چاہئے گے بس وہی ہو گا ۔۔۔ “
اُس نے بچوں کی طرح روتے ہوئے کہا اور روتے روتے وہی پہ زمین پہ گر پڑی!!!!!!!!
اُس کے ماں کی اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ اپنے شوہر کے سامنے بیٹی کو اٹھا سکیں ۔۔۔۔۔
وہ اپنی بیٹی کی اس حالت پہ اندر سے مر رہی تھیں مگر پھر بھی ایک فرمابردار بیوی کی طرح وہاں سے ہیلی بھی نہیں تھیں ۔۔۔۔
………..,………………………
اماں پوتی کی یہ حالت دیکھ کے چپ نہ رہ سکیں ۔
“ابراہیم “
انھوں نے اتنے حکم مندانہ لہجے سے بیٹے کو مخاطب کیا تھا کے وہ اُس کے بعد کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔
اُن کے خاندان میں ایسا ہی ہوتا تھا ماں باپ چارپائی سے اٹھ بھی نا سکتے ہوں ، اور اولاد کتنی ہی بوڑھی کیوں نہ ہو جائے ، ماں باپ کے سامنے وہ نظریں بھی نہیں اٹھا سکتے تھے ۔۔۔
یہی حال ابراہیم صاحب کا تھا اور یہی حال اُن کی اولاد کا بھی تھا _________
” رقیہ زرمینہ کو اُس کے کمرے میں لے کے جاؤ “
انھوں نے رقیہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا جو دور کونے میں بے جان سے کھڑی اپنی بیٹی کی حالت دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی زرمینہ کے پاس آئی ۔ جو زمین پہ بے حال سی بیٹھی تھی ۔۔۔۔
“زری “
” زری میرے بچے “
انھوں نے اس کو روتے ہوئے ماتھے پے پیار کیا ۔۔۔۔
“اٹھ جاؤ میرے بچے “
اُس کو اُس کے دونوں کھنہوں سے پکڑ کے اوپر اٹھایا !!!!
اور کمرے سے باہر لے گئیں ۔۔۔
وہ بے جان سی اُن کے ساتھ چلتی رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سارا منظر فیروز صاحب اور اُن کی فیمیلی نے باخوبی دیکھا تھا ۔۔۔
“اماں اب ھمیں اجزات دیں ہم پھر آئیں گے “
فیروز صاحب نے ماں کو مخاطب کرتے ہوئے بولا !!!
اُنکو اب وہاں پہ روکنا مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
بھائی صاحب بہت شرمندہ ہُوں میں آپ سے !!!
ہم اِس ہی مہینے زرمینہ اور رجب خان کا نکاح پڑھوا دیں گے ۔رخصتی بیشک ہم بعد میں کروا دیں گے ۔۔۔۔
ابراہیم صاحب نے شدید غصے کی حالت میں بھائی کو کہا تھا ۔حالانکہ ان کا لہجہ پہلے سے بہت خد تک ٹھیک تھا ۔۔۔۔
دادی اماں خاموشی سے بس سنتی رہیں تھیں۔ ۔۔۔۔
“جیسے تمہیں بہتر لگے ابراہیم بیٹی بھی تمہاری ہے اور بیٹا بھی تمہارا ہے “
فیروز صاحب نے بھائی کو بڑے پیار سے جواب دیا ۔۔۔۔۔
البتہ اُن کی بیوی اُن کے اس فیصلے سے بلکل بھی خوش نہیں لگ رہی تھی ۔مگر وہ وہاں پہ بول نہیں سکتیں تھی ۔اُن کے خاندان کا اصول تھا جدھر مرد بولتے تھے وہاں پہ عورت خاموش رہتی تھی ۔۔
“اماں اس مہینے کی ۲۵ تاریخ مناسب رہے گی؟”
ابراہیم صاحب نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !!!!!، آج اهنوں نے پہلی بار ماں کے سامنے انکار کیا تھا ، پہلی بار ماں کے ہوتے ہوئے اپنا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔
کہتے ہیں سواتی غصے میں کچھ نہ سوچتے ہیں نہ کچھ سمجھتے ہیں بس فیصلہ کرتے ہیں ________
“آج بھی ایسا ہی ہوا تھا بغیر سوچے سمجھے حیا میں پلی بیٹی کا فیصلہ ہوا تھا”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: