Hijab Novel By Amina Khan – Episode 30

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 30

–**–**–

“عائشہ اگر ہم چاہتے ہوئے بھی کسی نا محرم کی محبت کو اپنے دل سے نہ نکال پائیں تو ؟ جب کے ہمیں پتا بھی ہو وہ ہمیں نہیں مل سکتا “
۔
وہ لائبریری میں نظریں جھکائے سامنے بیٹھی لڑکی سے پوچھ رہی تھی۔ ۔۔۔۔جو اُس کو ایک فرشتے سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ جس کی قُربت اُس کو ہمیشہ سکون دیتی تھی ۔۔۔۔
۔
زرمینہ کچھ رشتوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا ۔۔۔۔وہ صرف ہمارے لیے ایک آزمائش بن کے آتے ہیں ۔۔۔۔۔ایسی آزمائش جس میں ہم بے اختیار ہو جاتے ہیں ۔۔۔ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ہمارا دل دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔۔۔ہم سمندر کی لہروں کی طرح پانی کے بھاؤ کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔ہمیں پتا ہی نہیں چلتا ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔اور اِن کچھ رشتوں کی آزمائش تو پھر بھی قابلِ برداشت ہوتی ہے ۔۔۔۔مگر یہ جو نا محرم سے محبت کی آزمائش ہوتی ہے نا ۔۔۔۔۔یہ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ ۔۔۔۔ہم اپنے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ ۔۔۔۔ہمارا جو دل ہے نا یہ کم بخت دل اِس کو محبت چائیے ہی چائیے ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔کوئی کہے کے اُس کا دل محبت نہیں مانگتا ۔۔ اُس کے دل کو محبت کی طلب نہیں۔ تو میں اُس کو اس جہاں کا سمجھوں گی ہی نہیں ۔۔
پتا ہے زرمینہ ہر دل کو محبت کی طلب ہوتی ہے۔ ۔۔۔ہر دل کو محبت ہوتی ہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔اب محبت تو ہونی ہی ہے تو کیوں نا ہم اپنے دل کی لو اُس ہستی سے لگا لیں ۔۔۔جس کی محبت ہمیں فیض دیتی ہے۔ ۔۔۔ہمیں دنیا میں ایک عزت دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔جس کی محبت ہمیں کھبی ذلیل نہیں کرتی۔ کھبی رسواء نہیں کرتی ۔۔۔۔۔
۔
پتا ہے زرمینہ یہ جو دنیا کی محبت ہوتی ہے نا ایک نا محرم کی محبت یہ ہمیں ذلیل کرتی ہے ۔ہمارے ہاتھ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔اور یہی محبت ہمیں دنیا میں رُسوا کر کے خود پیچھے رہ جاتی ہے۔ ۔۔۔۔ہمیں دنیا کا سامنا کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتی ہے ۔۔۔۔۔پتا ہے زرمینہ محبت میں رُسوا ہوئے لوگوں کو تو اپنے سگے رشتے بھی قبول نہیں کرتے۔ ۔۔۔۔۔۔
۔
وہ بول رہی تھی ایک دھن میں ایک طرز میں ۔۔۔۔۔۔اور وہ جو بغیر چادر کے حجاب لیے اُس کے سامنے بیٹھی تھی۔ ۔۔۔۔اُس کو بہت اچھے سے ذلیل ہونا سمجھ آ گیا تھا ۔۔۔۔محبت کے ہاتھوں اپنے ہی رشتوں سے ٹھکرایا جانا سمجھ آ گیا تھا ۔۔۔اُس کو اس کی ماں نے عزت کی خاطر ٹھکرا دیا تھا۔ ۔۔۔۔جس نے اُس جو جنم دیا تھا ۔۔۔۔۔اُس کی پیدائش پہ دگیں چڑھائی تھیں۔ ۔۔۔۔آج اُس ماں نے اُس سے چادر لے لی تھی ۔۔۔۔اُس کو اُس گناہ کی سزا دی تھی ۔۔جس کا اُس نے اعتراف ہی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ گناہ جس کو اُس نے اپنی زبان سے قبول ہی نہیں لیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
پتا ہے زرمینہ یہ جو محبت والے ہوتے ہیں نا ۔۔۔۔جب اِن کو انکا محبوب میسر ہوتا ہے ۔۔۔۔یہ دنیا کو بھول جاتے ہیں ۔۔۔۔۔اِن کی دنیا بس اُس ایک شخص سے ہی شروع ہوتی ہے اور اُسی پہ ختم ہوتی ہے ۔۔۔۔۔محبوب کی قربت اُن کو ساتویں آسمان تک لے جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ زمین پہ رہ کے زمین والوں کو کچھ نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔۔محبوب کا نام بھی کسی سے سُن لیں تو اُسکا قتل خود پہ واجب سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔اُنکی انا کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔اُن کا غصّہ اُن کی کمزوری بن جاتا ہے۔۔۔۔۔۔وہ محبوب کا نام کسی اور کے منہ سے سن کے اپنی عقل کھو بیٹھتے ہیں ۔۔۔۔۔اپنے غصے کو خود پہ غالب کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ جو محبت والے ہوتے ہیں نا یہ بہت خر دماغ ہوتے ہیں ۔۔۔۔محبوب کے سواء کسی کو مانتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔۔۔
۔
اور پھر یہی لوگ جب محبت میں ہار جاتے ہیں نا تو سب سے پہلے ان کا غرور ٹوٹتا ہے ۔۔۔اِن کی انا کا قتل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔وہ جو دنیا میں سر اٹھا کے چلتے ہیں محبت میں ہار جانے کے بعد خود کو زمین دوش کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔کھبی دیکھا ہے تم نے محبت میں ہارنے والوں کو ؟ اُن سے زیادہ خوش اخلاق اور عاجز کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔وہ جو دنیا کو جوتی کی نوک پہ رکھ کے چلتے ہیں محبت میں ہارنے کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں۔۔۔۔پھر اُن کو غصّہ نہیں آتا ۔۔۔۔۔پھر وہ زمین والوں میں رہ کے خود کو زمین کے ایک کونے میں قید کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔خود کو تنہائی کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔اپنے ہی دل کی دنیا خود پہ تنگ کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔
“یہ عاشق بھی کچھ عجیب سی مٹی کی پیداوار ہے ۔جب محبت پاس ہے تو آسمانوں کی بلندیوں پے ہوتے ہیں ۔اور جب اُسی محبوب کے ہاتھوں ہارتے ہیں تو خود کو زمین کی گہرائیوں کے حوالے کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔”
۔
“کیا محبت کرنا اتنا بڑا جرم ہے ؟”
اُس نے کھوئے کھوئے ذہن کے ساتھ اُس کی آنکھوں میں دیکھ کے پوچھا ۔۔۔۔
کون کہتا ہے محبت کوئی جرم ہے ؟ محبت بلکل بھی جرم نہیں ہے۔ محبت بس آزمائش ہے۔ ۔۔۔میں نے آپکو بتایا نا زرمینہ کیسی آزمائش ہے یہ محبت۔ ۔۔۔۔بس اتنا کہوں گی اگر یہ آزمائش حد سے تجاوز کر جائے تو محبت سے دسبردار ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔اُس محبت سے کنارہ کشی ہی ہماری ذات اور ہماری ذات سے جڑے لوگوں کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔
۔
“یہ دل کب کس کو سنا ہے “
اُس نے اہستہ سے کہا ۔۔۔۔جو سامنے بیٹھی لڑکی کو وضع سنائی دیا ۔۔۔
۔
“زرمینہ ہم اسی دل کے ہاتھوں ، اپنا پورا وجود ذلیل کرواتے ہیں ۔۔۔۔یہ جو دل ہوتا ہے نا ہمیں یہی رُسوا کرواتا ہے ۔۔۔۔”
۔
“بس اللہ سے دعا کیا کریں ، اللہ ہمارے دل کی بنجر زمین میں اپنی محبت کی ہریالی کرے ۔۔۔۔ہمارے دل کو اپنا نور بخشے”
۔
“دیکھیں نا ہم حضرت عمر کی محبت میں بات کرتے کرتے کہاں سے کہاں نکل گے “
اُس نے مسکراتے ہوئے اُس کو دیکھا جو چہرے پہ بغیر کسی تاثر کے اُس کو بس سن رہی تھی۔۔۔۔۔
۔
“عائشہ آپ نے کہا کے مسلمان بھی حضرت عمر فاروق سے حسد رکھتے ہیں ۔۔۔۔کیا کوئی مسلمان صحابہ کرام سے حسد کر سکتا ہے اُن سے بُغض رکھ سکتا اور اُن صحابہ کرام سے جو خلفاء راشدین ہوں ۔۔۔۔۔اپنے وقت کے خلیفہ ہوں “
۔
حضرت عمر کے نام پہ اُس کو پھر سے اُس کی کہی ہوئی پہلی بات یاد آئی ۔۔۔۔۔۔
۔
زرمینہ یہ جو لوگ عمر کو نہیں مانتے نا مجھے بہت حیرت ہوتی ہے۔ یہ کیوں نہیں مانتے ۔۔۔۔کیا یہ اپنے ایمان کو سرکار پاک کے عاشقوں کو نہ مان کے تکمیل تک پہنچا سکیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔یہ کس عمر کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جو بات کرتا تھا تو اللہ رب العزت آسمان سے آیات اُترتا تھا ۔۔۔اُس کی کہی ہوئی بات آیت بن کے اُترتی تھی ۔۔۔
۔
جب آپ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ نے فرمایا : “اسلام کا پہلا معرکہ بدر ہے لہذا مدینہ سے باہر نکالا جائے”
آپ کی اِس بات پہ اللہ رب العالمین نے ایک دم سورۃ انفال کی آیت نمبر ۵ اُتاری
۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَمَاۤ اَخۡرَجَكَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَيۡتِكَ بِالۡحَـقِّۖ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ لَـكٰرِهُوۡنَۙ
ترجمہ:
(اِس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی ویسی ہی صورت پیش آ رہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا
۔
القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال – آیت نمبر 5
۔۔۔
اور جب فاروق اعظم نے فرمایا ۔۔
” ازواج مطہرات کو پردہ کرنا چاہئے “
۔
تو آسمانوں اور زمینوں کے مالک نے عمر کی بات پہ سورۃ الاحزاب کی آیات نمبر ۵۹ اُتاری
۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ ؕ ذٰ لِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا
ترجمہ:
اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔۔۔۔
۔القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب – آیت نمبر 59
“اتنا ہی نہیں زرمینہ ایسی لاتعداد باتیں ہیں جو عمر کے منہ سے نکلیں اور آیت بنا کے خدا پاک نے کتاب اقدس میں محفوظ کیں ۔۔۔۔ “
۔
ایک جگہ پہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : “منافقین کی نمازِ جنازہ نا پڑھی جائے”
تو آسمان سے آواز آئی (آیات اُتری)
۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ
ترجمہ:
اے نبیؐ، تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا
۔القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة – آیت نمبر 80
“مجھے نہیں سمجھ آتی زرمینہ عمر کے منہ سے بات نکلتی تھی اور خدا پاک اُس کو وحی بنا دیتا تھا ۔۔۔۔۔اور یہ لوگ اُس عمر سے بغض رکھتے ہیں؟ ۔”
۔
“یہ جو لوگ گھر والا اور در والا کہتے ہیں تو اِس کا مطلب یہی ہوا نا اہل بیت کے علاوہ کسی کو نہ مانا جائے۔۔۔؟ کیا ان لوگوں کو نہ مان کے ہم خود کو مسلمان کہے سکتے ہیں ۔کیا ہم خود کو مومن کہے سکتے ہیں؟ “
۔
اہلِ بیت کی محبت اپنی جگہ ہے ان کی محبت جتنی محبت ہم چاہ کے بھی کسی سے نہیں کر سکتے ۔۔۔۔تو کیا ہم اُنکی محبت میں اس قدر گم ہو جائیں کے اقا جان کے جان نشین ساتھیوں کو اُن کے دوستوں کو ہی در والا بنا دیں؟
۔
مجھے ان لوگوں کی ایسی باتوں سے مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک قول یاد اتا ہے۔ جو انھوں نے فرمایا تھا ۔۔۔۔۔
“میرے بارے میں دو (قسم کے) شخص ہلاک ہو جائیں گے:
(۱): غالی (اوپر محبت میں ناجائز ) افراط کرنے والا، اور (۲): بغض کرنے والا حجت باز“
(فضائل الصحابۃ للامام احمد ۵۷۱/۲ ح۹۶۴ إسنادہ حسن الحدیث: ۴ص۱۵)
۔
ایک اور جگہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا !
۔
“ایک قوم (لوگوں کی جماعت) میرے ساتھ (اندھا دھند) محبت کرے گی حتیٰ کہ وہ میری (افراط والی) محبت کی وجہ سے (جہنم کی) آگ میں داخل ہوگی اور ایک قوم میرے ساتھ بغض رکھے گی حتیٰ کہ وہ میرے بغض کی وجہ سے (جہنم کی) آگ میں داخل ہو گی“
(فضائل الصحابۃ ۵۶۵/۲ وإسنادہ صحیح، و کتاب السنۃ لابن ابی عاصم
۔
“بس یہیں سے ہمیں اندازہ ہو جانا چاہیے ۔۔۔جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نہیں مانتے اُن سے بغض رکھتے ہیں اُن کا مقام کیا ہے “
۔
“واللہ عالم “کون حق پہ ہے ۔۔۔۔کوئی صحیح ہے کون غلط ہے ۔۔۔۔”بس اتنا ہی کھوں گی اللہ پاک ہر ایک کو حق پہ چلنے کی توفیق دے ۔۔۔۔جو حق ہے وہ ہمیں مل جائے آمین ۔۔۔۔۔
۔
وہ ایک خوبصورت انداز میں بول رہی تھی ۔۔۔۔اُس کو ہمیشہ سے اُس کے بولنے کا انداز اچھا لگتا تھا۔ اُس کی باتیں ہمیشہ اُس کے دل میں اترتی تھیں ۔۔۔۔۔
۔
“عائشہ میرا ماننا یہ ہے کہ دین اتنا مشکل نہیں ہے ۔جتنا ہم لوگوں نے آگے سے بنا رکھا ہے ۔۔۔۔ہم کیوں پڑیں اِن فرقوں کے چکروں میں ۔۔۔۔۔جب کے قرآن پاک میں سب کچھ مجود ہے ۔۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آتی ہر کوئی قرآن پاک صرف اپنی بات ثابت کرنے کے لیے کیوں کھولتا ہے۔۔۔۔۔قرآن پاک کو صرف اپنے حق میں دلیلوں کے لیے کیوں دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔اور اپنے مطلب کی دلیلیں ڈھونڈ کے خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی کرتا ہے۔ ۔
۔
کس نے کہا ہے آپ صحابہ کرام کو نہ مانو؟ کیا آپ صحابہ کو نہیں مانو گے تو اہلِ بیت سے ایسے آپ کی محبت ثابت ہو جائے گی ؟ اہلِ بیت سے محبت تو ایمان کی بنیاد ہے ۔۔۔۔۔۔ایمان کا ستون اُن کی محبت سے پروان چڑھتا ہے ۔۔۔۔جن کے دل میں میرے آقا کریم کی اولاد کی محبت نہیں میں تو اُس کو مسلمان ہی نہیں مانتی ۔۔۔۔ میں تو اُن کو سرے عام کافر کہتی ھوں ۔۔۔۔۔میں اُن پہ سرے عام لعنت بجتی ہُوں ۔۔۔۔۔
۔
لیکن یہ جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو در والا کہتے ہیں تو یہ غلطی پہ ہیں ۔۔۔بہت بڑی غلطی پہ ہیں ۔۔۔۔
اگر وہ در والے ہوتے تو گھر والے کھبی نا بنتے ۔۔۔۔جن کو بیٹیاں دی جاتی ہیں ۔وہ گھر والے ہوتے ہیں ۔۔۔در والے نہیں “
۔
“بیشک زرمینہ آپ بلکل ٹھیک کہے رہی ہیں۔۔۔بس خدا پاک مجھ سمیت ہر ایک پہ اپنا کرم کرے اپنا رحم کرے امین “
۔
“آمین آمین ۔۔۔آپ سے بات کر کے ہمیشہ میری روح کو سکون ملتا ہے عائشہ ۔۔۔۔میرا اللہ آپکو بہت خوش رکھے امین “
۔
وہ مسکراتے ہوئے اُس کا شکریہ ادا کرنے لگی جس سے بات کر کے وہ اپنے ہر دُکھ ہر درد بھول گئی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
“فضہ خیر تو ہے آج آپ کی دوست سب سے چھپی ہوئی کہاں بیٹھی ہے؟ “
۔
ہانیہ نے اپنی کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے دور سے کہا ۔۔۔۔
۔
“اُس کو چھپ کے بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے ہانیہ صاحبہ ؟”
فضہ نے بھی اسی انداز میں پنسل کو منہ میں پکڑے کُرسی کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اُس سے بولا۔۔۔۔
۔
“آپ تو برا ہی منا گئیں ہیں ، میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی ۔۔۔کب سے وہ نظر نہیں آئیں ۔۔”
اُس نے کُرسی کے ساتھ ٹیک لگائے پاؤں سامنے والی کرسی پہ رکھے اُسی طنزیہ انداز میں کہا!!!
۔
“آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے محترمہ ۔۔۔۔آپ خود پہ اور اپنے کام پہ دھیان دیں”
اب کی بار اُس کا لہجہ اور انداز ایسا تھا کے ہانیہ کو بہت اچھی طرح سمجھ آ گئی وہ کیا کہنا چاہتی ہے ۔۔۔
۔
“میں خود پہ بھی بہت اچھے سے دھیان دیتی ہُوں اور اپنے کام پے بھی تمھیں مجھے بتانے کی کوئی ضرورت نہیں “
اب کی بار اُس کو تیش آیا اور اُس نے ٹیک ہٹائی اور آگے ہو کے بیٹھی ۔۔۔۔۔
۔
“اسی طرح آپ کو بھی زرمینہ کا پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں “
اُس نے اُسی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔ اور سامنے والی کی خاموش چیخیں نکلنے لگیں ۔۔۔
۔”ارے ہانیہ جی کھبی ہمارا بھی پوچھ لیا کریں “
۔دور بیٹھے مدثر نے شرارتی سے انداز میں اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“آپ کو لازمی ہوتا ہے اپنی بکواس کرنا “
“سنیں تو سہی آپ ہم تو آپ کے لیے پھول برساتے ہیں ۔۔۔مگر آپ سنتی ہی نہیں ہیں “
“یہ جو آپ میرے لیے پھول برسا رہے ہیں نا یہ کہیں اور جا کے برسائیں “
۔
“لیکن ہانیہ جی “
پتا نہیں کدھر پھس گی میں اِن جاہلوں میں ۔۔۔۔
اُس نے اپنے کندھے سے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“جدھر بھی پھسی ہو نا ہانیہ علاج ہے تمھارا “
فضہ نے اُس کو مدثر کے ساتھ اُلجھے دیکھ کے اپنے دل میں کہا ۔۔۔۔
۔
“تم دفاع ہوتے ہو اِدھر سے یا میں ہو جاؤں؟”
“ہائے ہانیہ جی ہم تو آپ کے دیدار کے لیے یہاں بیٹھے ہیں بس “
ٹھیک ہے میں ہی چلی جاتی ہیں یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔
۔
“ابھی نا جاؤ چھوڑ کے کہ دل ابھی بھرا نہیں “
اُس کو جاتا دیکھ کے مدثر نے اپنی بے سوری آواز میں گانا شروع کیا ۔۔۔۔۔اور کلاس میں اونچے اونچے قہقہے سنائی دینے لگے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کہاں ہو تم ملکہ ؟”
وہ گراؤنڈ میں کھڑا ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔جہاں پہ بھی و اُس کو ایک دفعہ بھی نظر آئی تھی ۔۔۔اُس نے ہر جگہ دیکھا ۔۔۔۔۔کہیں تو وہ اُس کو ایک بار نظر آ جائے ۔۔۔۔۔
۔
“سر وجدان “
“جی “
“آپکو لائبریری میں میم بولا رہی ہیں ۔۔”
“آپ سے ایک ٹاپک ڈسکس کرنا تھا اُنکو “.
وہ اُس کے ڈیپارٹمنٹ کے باہر کھڑا اُس کو اِدھر اُدھر ڈھونڈ رہا تھا کہ ایک لڑکی اُس کے پاس آئی۔۔۔۔اور مم فائزہ کا میسیج دیا ۔۔۔
“لائبریری میں ہیں وہ ؟ “
اُس نے بیزاری سے اُس سے پوچھا ۔۔۔۔جیسے وہ وہاں پہ نہ جانا چاہتا ہو۔ اُس نے تو ابھی اُس کو دیکھنا ہے۔ ۔۔۔۔ لائبریری میں تو بہت وقت لگ جائے گا۔ ۔۔
۔
“جی سر وہ لائبریری میں ہیں ۔۔۔۔۔انھوں نے ٹاپک ریلیٹڈ بوکس وہاں نکالی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔تو وہ کہے رہی تھیں وہیں پہ ڈسکس ہو جائے “.
اُس لڑکی نے اُس کو تفصیل سے بتایا!! ۔
۔
“ٹھیک ہے میں جاتا ہوں لائبریری “
وہ اُس لڑکی کو بجھ کے اپنے اُسی انداز میں دوڑتا ہوا جانے لگا ۔۔۔
۔
۔
“آپ سے بات کر کے ہمیشہ ہی اچھا لگتا ہے عائشہ”
وہ لائبریری میں بیٹھی اُس لڑکی سے باتیں کر رہی تھی!!!
۔
“مجھے بھی آپ سے بات کر کے بہت خوشی ہوتی ہے “
اچھا زرمینہ اب میں چلتی ہوں ….میری کلاس کا بھی وقت ہو گیا ۔۔۔۔۔آج ما شاء اللہ ہماری اچھی بات ہو گی ۔۔۔۔
“آپ یہیں پہ ہیں ابھی زرمینہ ؟”
۔
“نہیں نہیں میں بس آپ کی وجہ سے اتنا بیٹھ گی ۔۔۔میں چلتی ہوں ابھی “
اُس نے اپنا حجاب صحیح کیا اور وہاں سے اٹھنے لگی ۔۔۔۔۔
۔
“وجدان صاحب لیٹ ہو گے ہیں آپ “
مم فائزہ نے اُس کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔اور دور سے ہی دبی آواز میں مسکراتے ہوئے اُس کو بولا ۔۔۔۔۔
۔
وہ جو اٹھنے لگی تھی وہیں کی وہیں رہ گی ۔۔۔۔اُس کا نام سنتے ہی اُس کے اُٹھتے قدم وہیں روک گے ۔۔۔۔محبت کہاں اختیار میں ہوتی ہے ۔۔۔۔۔وہ جو کچھ پل پہلے محبت سے دسبرداری چاہتی تھی ۔۔۔۔اُس کو دیکھتے ہی سب بھول گئی ۔۔۔۔۔
۔
“سوری سوری لیٹ ہو گیا “
وہ وہیں سے معذرت کرتا کرتا آ رہا تھا جیسے ہی اُس کی نظر سامنے بیٹھی اُس لڑکی پہ پڑی۔۔۔۔۔وہ ہل نہ سکا ۔۔۔مزید کچھ بول نہ سکا ۔۔۔۔۔
۔
وہ وہیں کھڑا ہوا ۔۔۔۔آنکھیں بند کیں۔۔۔۔۔دل میں الحمدللّٰہ کی صدا گونجی ۔۔۔اُس کا دل چاہ وہ جو اگلا قدم اٹھائے وہ اُس لڑکی کی طرف ہو جو سامنے نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔۔
۔
“وجدان صاحب کیا سوچ رہیں ہیں جلدی آئیں”
مم فائزہ کی آواز پہ وہ چونکا اور اُنکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
“جی جی میں آ رہا ہوں”
مسکراتے ہوئے وہ اُن کے پاس گیا کُرسی اُس کی طرف کی جہاں سے وہ نظر آئے اور بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
۔
اِس دوران اُس کی نگاہوں نے بس اُسی کا طواف کیا ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتی تھی ۔۔۔۔وہ جو اُس کے سامنے نظریں جُھکا لیتا تھا۔۔۔۔۔وہ اُس کو غور غور سے دیکھا کرتی تھی ۔۔۔۔وہ اُس کو ایسے دیکھتی تھی ۔۔۔۔جیسے آج آخری بار اُس کا دیدار کر رہی ہے۔ اُس کے بعد یہ لمحے اُس کو کھبی میسر نہیں ھوں گے ۔۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ چلیں پھر “.
عائشہ نے کُرسی سے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے اُس کو کہا جو محبوب کی زیارت کیے بیٹھی تھی ۔۔۔۔اُس کو ایسے دیکھ رہی تھی ۔جیسے اب وہ کھبی اُس کو دیکھ نہیں پائے گی ۔۔۔۔ وہ اُس کو اپنی آنکھوں میں قید کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔آنکھوں سے دل میں اُتار رہی تھی۔
۔
“زرمینہ چل رہی ہیں آپ”
اُس نے اُس کو کھویا ہوا دیکھا اور ایک بار پھر پوچھا۔۔۔۔۔وہ جو کسی اور ہی جہاں میں تھی ۔۔فوراً اٹھی بیگ لیا اور جانے لگی۔ ۔۔۔۔
۔
وہ اُس کو جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ اُس کو روکنا چاہتا تھا ۔۔۔۔اُس سے پوچھنا چاہتا تھا وہ کدھر تھی۔ موبائل کیوں بند ہے ۔۔۔۔۔اُس کو اپنا حال دل سننا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔اُس کو بتانا چاہتا تھا۔ یہ ہجر کی راتیں اُس پہ کیسی گزرتی ہیں ۔۔۔۔وہ کہنا چاہتا تھا وہ مر جائے گا تمھیں بغیر ۔۔۔۔۔مگر اِس سب سے زیادہ اہم تھی اُس کی عزت ۔۔۔۔۔وہ تو اُس کا نام نہیں لیتا ۔اُس کو اتنے لوگوں میں کیسے روک لے ۔۔۔۔اُس کو لوگوں کی نظروں میں کیوں لے ائے۔۔۔۔۔وہ تو اُس کو اپنے آپ سے بھی چھپاتا تھا ۔۔۔دنیا کے سامنے اُس کو کیسے لے آئے؟ محبت کی پہلی شرط ہی عزت ہوتی ہے ۔۔۔۔عزت کے بغیر محبت کا کوئی وجود نہیں ہوتا ۔۔۔۔وہ محبت سے زیادہ اُس کی عزت کرتا تھا ۔۔۔۔اُس کی عزت کا مان رکھتا تھا۔۔۔۔۔
۔
وہ جا رہی تھی ۔۔۔اور وہ اسکو جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
..
قصہ ابھی حجاب سے ، آگے نہیں بڑھا میں آپ، وہ جناب سے ، آگے نہیں بڑھا
مدت ھوئی کتاب ِ محبت شروع کِیے
لیکن میں پہلے باب سے آگے نہیں بڑھا
لمبی مسافتیں ہیں ، مگر اس سوار کا
پاؤں ابھی رکاب سے ، آگے نہیں بڑھا
رخسار کاپتانہیں آنکھیں تو خواب ہیں دیدار ابھی نقاب سے ، آگے نہیں بڑھا
وہ لذت ِ گناہ سے ، محروم رہ گیا
جو خواہش ِ ثواب سے آگے نہیں بڑھا!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں آپ ابو کو منائیں ۔۔۔۔۔ابو کو بولیں وجی اُس لڑکی کے بغیر نہیں رہ سکتا “
فاطمہ ماں کے پاس بیٹھی اُن کو بتا رہی تھی ۔۔۔۔اُن کو بتا رہی تھی اُن کا بیٹا کیسے اُس لڑکی سے دیوانوں کی طرح محبت کرتا ہے۔ کیسے اُس کے عشق میں پاگل ہوا جاتا ہے ۔۔۔
۔
“فاطمہ ہم سید ہیں ۔۔۔۔ہمارا اپنا مقام ہے ہم باہر کسی قوم سے لڑکی کیسے لے آئیں؟”
۔
“اماں جب آپ یہ بات کرتی ہیں نا مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔آپ کی اور ابو کی اِن باتوں کی وجہ سے آج ہماری زندگی تباہ ہوئی ہے ۔۔۔۔آپ کو کیا لگتا ہے ہم انسان نہیں ہیں ہماری کوئی خواہشیں نہیں ہیں ؟”
ماں کی اِس بات پہ اُس کا وجود جلا تھا ۔۔۔۔وہ جو سالوں سے چپ تھی ۔۔آج بول رہی تھی ۔۔۔وہ بیٹی تھی۔ آج بھی اپنے حق میں نہیں بول رہی تھی ۔۔۔وہ بہن تھی۔ ۔۔۔۔۔اپنے بھائی کے لیے بول رہی تھی ۔
۔
“تو کیا کریں ہم ؟ تم لوگوں کو پکڑ کے باہر دے دیں؟”
اماں مجھے نہیں سمجھ آتی کب بدلے گی آپ لوگوں کی یہ سوچ ۔۔۔۔کب آپ لوگ اپنی اولاد کا بھی سوچیں گے ۔نا جانے کب آپ لوگوں کو سمجھ آئے گی ۔۔۔ہم بیٹیوں کے سینے میں بھی دل ہے ۔۔۔۔اماں ہر لڑکی کا ارمان ہوتا ہے ۔۔۔اُس کی شادی ہو ۔اُس کے ہاتھوں پہ بھی مہندی لگے ۔۔۔وہ بھی شادی کا سُرخ جوڑا پہنے ۔۔۔۔۔۔اُس کا شوہر ہو ۔۔۔۔جو اُس کا خیال رکھے ۔۔۔۔اُس کا اپنا گھر ہو ۔۔۔۔اُس کے بچے ہوں ۔اُس کو بھی ماں بننے کا شرف حاصل ہو ۔۔۔۔۔اُس کے پیروں کے نیچے بھی جنت ہو ۔۔۔۔۔
۔
وہ ایسے باتیں کر رہی تھی ۔جیسے کوئی خواب سنا رہی ہو ۔جیسے کوئی کہانی ہو ۔جو وہ بڑی چاہوں کے ساتھ ماں کو سنا رہی ہو ۔۔۔۔۔
۔
“فاطمہ بس کر جاؤ “
ماں نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔جیسے بیٹی کا دُکھ اب اور نہیں سن سکے گی ۔۔۔۔۔اور نہیں برداشت کر سکے گی ۔۔۔۔یہ تو ایک بیٹی بول رہی تھی ۔اب تو باقی چار رہتی تھیں ۔۔۔۔۔جن کے اپنے ارمان ہیں ۔۔۔۔۔اپنے خواب ہیں ۔۔۔۔اپنی خواہشات ہیں ۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: