Hijab Novel By Amina Khan – Episode 32

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 32

–**–**–

“تمہاری چادر کدھر ہے ؟”
پھلوں کے پاس گھاس پہ بیٹھے فضہ نے اُس کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔جو نظریں جھکائے سر کو گھٹنوں پہ رکھے گم گم سی بیٹھی تھی ۔۔۔۔جیسے اُس کو اِس دُنیا سے کوئی مطلب ہی نا ہو ۔۔۔۔
۔
“چادر “
اُس نے اُس کے اس سوال پہ نظریں جُھکا لیں ۔۔درد کی ایک لہر اُس کے وجود میں اُتری۔۔۔
۔
“زری کیا ہوا ہے ؟ چادر کدھر ہے تمہاری؟”
۔
“امی نے لے لی “
اُس نے آنسوؤں کو چھپانے کی نا کام کوشش کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“مگر کیوں تو زری “
اُس نے اُس کا چہرہ اوپر کیا جو آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“ایسے ہی فضہ امی کہتی ہیں میں اُس چادر کی حقدار نہیں رہی اب “
“یہ کیا بات ہوئی؟ تم نے کون سا کوئی جرم کر لیا بہت ؟ “
۔
“جرم ہی تو بے نا فضہ امی کہتی ہیں تم نے بابا جان کا غرور تھوڑا ہے “
۔” کیسے توڑا ہے تم نے غرور ؟”
“پتا نہیں “
اُس نے ہاتھوں کو گاس پہ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“زری وہ سامنے دیکھو ۔تمھیں کوئی لڑکی ایسی نہیں نظر آئے گی جو کسی لڑکے کے ساتھ نا بیٹھی ہو ۔۔۔۔نا گھوم رہی ہو …تم نے تو صرف فون پہ بات کی ۔۔۔۔۔اور تمھارا جرم اتنا بڑا ہو گیا کہ تم سے چادر ہی لے لی گئی “
۔
“چھوڑو نا فضہ اُن کی مرضی ہے “
“لیکن انٹی نے بہت غلط کیا ہے زری …اُن کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔تمھیں اُس جرم کی سزا نہیں دینی چاہیے تھی ۔۔۔جو تم نے کیا ہی نہیں ہے “
۔
“اُن کو یہی بہتر لگا ہو گا نا فضہ اور ایک نا محرم سے رات کی تاریکی میں بات کرنا جرم نہیں ہوتا گناہ ہوا کرتا ہے “
اُس نے اب کی بار اُس کی طرف دیکھا اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں ۔۔۔۔اور اپنی بات کر کے فوراً نظریں جُھکا لیں!
۔
“زری کوئی تمہاری طرح بھی ہو سکتا ہے ؟ “
اُس نے اپنی آنکھوں کے کونے سے نکلتے ہوئے پانی کو صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“اللہ میری طرح کسی کو کرے بھی نا فضہ جو اپنی ماں کی دی ہوئی چادر بھی نا سنبھال سکیں “
اُس نے اپنے چہرے کا رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔جیسے وہ نہ چاہتی ہو کوئی اُس کی آنکھوں کا درد دیکھے ۔۔۔۔۔آنکھوں سے گرتے آنسوؤں دیکھے۔ ۔۔۔
۔
مگر جس کو اللہ نے دیکھانا ہو وُہ فاصلوں سے بھی دیکھ لیتے ہیں!
۔
وہ دُور سے کھڑا اُس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جو زمین پہ بیٹھی ۔۔۔۔۔آنکھوں کو بار بار رگڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں سے بہتے آنسوں دُور کھڑے وجدان کے دل پہ لگ رہے تھے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وہ کیوں روتی ہے اتنا ؟ آخر کیا ہوا ہے کیا پریشانی ہے اُس کو ۔کیوں روتی ہے وہ ایسے “
۔
وہ اپنے آفس میں اِدھر اُدھر ٹھل رہا تھا ۔۔۔۔۔جیسے ایک بے سکونی کی سی کیفیت اُس پہ طاری ہو ۔۔۔۔
۔
وہ تو بہت خوش تھا آج ۔۔۔۔اتنا خوش کہ ساری کائنات کی خوشیاں اُس کے سامنے کم پڑ رہی تھیں۔ ۔۔۔۔۔
۔
وہ اپنی اِس خوشی میں ملکہ کو بھی شریک کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔اُس نے اپنی منزل تک پہنچنے کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا تھا ۔۔۔۔۔وہ اِس پہلے قدم پہ اُس کو تحفہ دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
وہ یونیورسٹی آنے سے پہلے مارکیٹ گیا ۔۔۔۔۔۔۔اُس نے آج یونی لیٹ جانا تھا ۔۔۔۔۔وہ مارکیٹ میں کھڑا اِدھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔اُس کو اپنی ملکہ کی شایانِ شان تحفہ لینا تھا ۔۔۔۔۔
“اِس دُنیا میں تو ایسی کوئی چیز نہیں جو میری ملکہ کی شایانِ شان ہو “
وہ ہر چیز دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔مگر ایسا کچھ نہیں تھا جو اُس کو پسند آتا ۔۔۔۔اُس نے پہلے کب کسی کے لیے تحفے لیے تھے ۔۔۔۔اُس کو تو پتا بھی نہیں تھا کیا لینا ہے ۔۔۔۔۔۔وہ اپنی زندگی کا پہلا تحفہ لے رہا تھا ۔۔۔۔پہلا تحفہ تھا جو وہ کسی کو دے رہا تھا ۔۔۔۔
۔
وہ بغیر کچھ سوچے بغیر کچھ دیکھے بس چلتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ ایک دکان کے پاس روکا ۔۔۔اُس کی نظر اوپر پڑی ۔۔۔۔۔سامنے ایک خوبصورت سفید چادر لہرا رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ وہیں روکا ۔۔۔ اُس چادر کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔اُس نے اُس چادر کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔۔وہ خوبصورت سفید چادر ۔۔۔۔۔۔اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔۔اُس کا عکس اُس کی آنکھوں کے سامنے گھوما ۔۔۔۔۔وہ یہی سفید چادر پہنے کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔اِس چادر کا رنگ بلکل اُس کے کردار جیسا ہے “پاکیزہ” ۔۔۔۔۔جس طرح اِس چادر کا رنگ پاک ہے اُس طرح میری ملکہ کا کردار پاک کے ۔۔۔۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔اُس نے وہ چادر اُتاری اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑی۔۔۔۔۔۔۔۔اُس کو نظر بھر کے دیکھا۔۔۔۔۔
“یہ چادر نہیں ملکہ یہ عزت ہے جو میں تمھیں دے رہا ہوں”
اُس نے چادر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“یہ پیک کر لیں بھائی “
۔
وہ بہت خوش تھا ۔۔۔۔۔اُس نے ملکہ کے لیے تحفہ لیا تھا ۔۔۔۔۔وہ بار بار اُس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔اُس کو محسوس کر⁦ رہا تھا ۔۔۔۔جب وہ پہنے گی تو اِس چادر کی قیمت لاکھوں میں ہو گی ۔۔۔۔۔۔اُس سے زیادہ یہ چادر کسی کے کندھے پہ نہیں اچھی لگ سکتی۔۔۔۔۔یہ صرف میری ملکہ کے لیے بنائی گئی ہے ۔۔۔۔۔یہ پاکیزگی میری ملکہ کے سامنے پھیکی ہے ۔میری ملکہ اس سے زیادہ پاکیزہ ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
وہ اپنی کُرسی پہ بیٹھا ۔۔۔ایک بار پھر اُس چادر کو دیکھا ۔۔۔۔۔لبوں پہ مسکراہٹ آئی ۔۔آنکھوں میں چمک اُتری۔ ۔
۔
“کیا ملکہ میرا تحفہ قبول کرے گی ؟”
اُس نے چادر کو دیکھتے ہوئے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔
۔
“سنو ملکہ میں نے بہت محبت سے لیا ہے اِس کو قبول کرنا “
اُس نے چادر کو پیار سے بیگ میں رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زری آپ کو پتا ہے مجھے آپ کی سب سے اچھی بات کیا لگتی ہے ؟ “
ماہ نور نے اُس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“جی کون سی”
۔
“آپ کا پردہ ۔۔۔۔مجھے بہت اچھا لگتا ہے آپ کا ایسے پردہ کرنا ۔۔۔۔۔حجاب تو سب ہی کرتے ہیں مگر آپ کا انداز ۔۔۔آپ کا پورا باپردہ ہونا ۔۔۔۔۔مجھے بہت اچھا لگتا ہے
۔
.”..زرمینہ آپ نے کسی سے ایمپریس ہو کے پردہ کرنا شروع کیا ہے ؟ “
۔
جی ماہ نور میں نے بلکل کسی سے ایمپریس ہو کے پردہ کیا ہے ۔۔۔۔اور جانتی ہو میں کس سے ایمپریس ہوئی خاتونِ جنت بی بی جان علیہ السلام سے ۔۔۔۔۔
۔
پتا ہے ماہ نور میں نے جب سورۃ
النور پڑھی نا تو مجھے بہت ڈر لگا ۔۔۔۔۔جب قرآن پاک میں پردے کا حکم اللہ جی نے دیا ہے تو ہم کیوں نہ کریں پردہ ۔۔۔۔۔۔
۔
آج کل کی لڑکیاں پردے کی اہمیت سمجھتی ہی نہیں ہیں ۔۔۔۔اُن کو پتا ہی نہیں پردہ کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔ایک بار بی بی جان کے دو بال نظر آئے فقط دو بال تو اللہ پاک نے وقت روک دیا ۔۔۔۔۔وقت وہیں پہ روک گیا۔۔۔۔اور ہمارے پردے کا یہ عالم ہوتا ہے کے سارے بال ماتھے پہ ہوتے ہیں اور ہم حجاب لیے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
۔
پتا ہے ماہ نور اللہ پاک نے سورۃ النور میں واضع پردے کا حکم دیا ہے ۔۔۔۔
۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَقُلْ لِّـلۡمُؤۡمِنٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَا‌ وَلۡيَـضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوۡبِهِنَّ‌ۖ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اٰبَآئِهِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوۡ نِسَآئِهِنَّ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيۡنَ غَيۡرِ اُولِى الۡاِرۡبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يَظۡهَرُوۡا عَلٰى عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ‌ۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِهِنَّ لِيُـعۡلَمَ مَا يُخۡفِيۡنَ مِنۡ زِيۡنَتِهِنَّ‌ ؕ وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيۡعًا اَيُّهَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
ترجمہ:
اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے
القرآن – سورۃ نمبر 24 النور – آیت نمبر 31
۔
پتا ہے ماہ نور اِس آیت میں ہمارے لیے بہت ساری باتیں ہیں ۔۔۔۔جو ہر مسلمان عورت کو سمجھنی بہت ضروری ہیں ۔۔۔۔۔جو عورت یہ باتیں سمجھ جائے گی نا تو معاشرے میں سے عورت کے نام کا شر ہی ختم ہو جائے گا ۔۔۔۔
۔
وہ ہمیشہ پردے کی بات کرتی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو بہت عجیب لگتا تھا اُن لڑکیوں کو دیکھنا جو بغیر پردہ لیے ایک غیر مرد کی آنکھوں کی زینت بنتی ہیں ۔۔۔۔
ہمارا معاشرہ تو بھرا پڑا ہے انِ مرد نما بھیڑیوں سے ۔۔۔۔۔اُن کو تو موقع ملنا چاہیے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کو عورت کے جسم سے مٹانے کی۔۔۔۔۔۔۔۔بد بخت ہوتی ہے وہ عورت جو اپنا آپ ظاہر کرتی ہے ایسے مردوں پہ جن کو پتا ہی نہیں ہوتا اُن کی ماں بھی ایک عورت ہے۔ ۔۔۔اُن کی بہن بھی ایک عورت ہے ، اُنکی بیوی اُن کی بیٹی بھی ایک عورت ہے۔ ۔۔
۔
“ماہ نور آپ کو سمجھ آ رہی ہے نا میری بات ؟”
۔
“جی زرمینہ میں سن رہی ہُوں”
اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
۔
پتا ہے ماہ نور اِس آیت میں سب سے پہلی بات جو کی گئی ہے وہ یہ ہے
وَقُلْ لِّـلۡمُؤۡمِنٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ
اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
۔
آیت کے اِس حصے میں مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچے رکھیں ، کسی غیر مرد کو نہ دیکھیں۔۔۔۔
اِس پہ میں آپ کو ایک واقعہ سناتی ہوں ماہ نور ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ فرماتی ہیں ایک مرتبہ میں اور حضرت میمونہ بنت رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ حضورِ اقدس کے پاس بیٹھیں تھیں اُسی وقت حضرت ابن ام مکتوم تشریف لائے ۔۔۔۔تو حضورِ اقدس نے ہمیں پردے کا حکم دیا ۔۔۔۔۔میں نے اُن کے حکم پر کہا اے اللہ کے محبوب یہ تو نابینا ہیں یہ تو ہمیں نہیں دیکھ سکتے ۔۔۔۔۔تو حضور پر نور نے ارشاد فرمایا
” کیا تم دونوں بھی نابینا ہو کیا تم انِ کو نہیں دیکھتیں”
اس سے ہمیں یہ پتا چلا مرد کو ہی نظریں نیچیں کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ عورت کو بھی یہ حکم ہے وہ کی غیر مرد کو نہ دیکھیں ۔۔۔۔۔
۔
اب اگلی بات جو اس آیت میں۔ کی گئی ہے وہ ہے
۔
وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ
، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں
۔
اب اس بات کا مطلب ہے کے عورت اپنی زینت کی حفاظت کرے
ابو لبر کات عبداللہ بن احمد نسفی فرماتے ہیں زینت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے عورت سجتی سنورتی ہے ۔۔جیسے زیور اور سُرمہ وغیرہ اور چونکہ زینت کے سامان کو دکھانا مباح ہے اس لیے آیت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے بدن کے اُن اعضاء کو ظاہر نہ کریں جہاں زینت کرتی ہیں جیسے سر ، کان ، سینہ ، گردن ، بازوں وغیرہ ۔۔۔۔ البتہ ہاتھ اور پاؤں کو چھپانے میں مشقت ہوتی ہے تو وہ ظاہر ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایسی طرح چہرہ بھی چھپانا چاہیے ۔۔۔۔۔
۔
“سمجھ آ رہی ہے نا آپ کو ماہ نور ؟”
اُس نے کچھ لمحے روک کے پاس بیٹھی اُس لڑکی کو کہا جو کب سے اُس کو سن رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“جی جی مجھے سمجھ آ رہی ہے آپ بولیں نا “
۔
ٹھیک ۔۔۔اب یہ تو ہو گئیں ہیں دو باتیں اب ہم اگلی بات کی طرف آتے ہیں ۔۔۔۔
وَلۡيَـضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوۡبِهِنَّ‌ۖ
اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پہ ڈالے رکھیں۔
۔
اب اس بات سے یہ مطلب ہوا مسلمان عورتیں اپنے دوپٹوں سے اپنے بال اپنے پہنے ہوئے زیور اور سینے وغیرہ ڈھانپ کے رکھیں ۔۔۔۔۔
پتا ہے ماہ نور جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس حکم پے عمل کرنے میں صحابیات رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کا جذبہ قابل دید ہے ۔۔۔۔۔
اِس پہ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ نے فرمایا :
“اللہ تعالیٰ اُن عورتوں پہ رحم فرمائے جہنوں نے سب سے پہلے ہجرت کی تھی کہ جب اللہ پاک نے یہ حکم صادر فرمایا “اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پہ ڈالے رکھیں ” تو انہوں نے اپنی اونی چادروں کو پھار کے اوڑھنیاں بنا لیا تھا ۔۔۔۔ ۔
۔
پتا ہے ماہ نور پردے کے متعلق تین عظیم واقعات ہمارے سامنے ہیں ۔۔۔
۔
پہلا یہ ہے ، المومنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں پردے کا حکم صادر ہونے کے بعد میرے رضاعی چچا
افلح تشریف لائے تو میں نے اُن سے ملاقات سے انکار کر دیا ۔۔۔۔چونکہ وہ میرے رضائی چچا تھے تو میرے لیے نا محرم تھے۔۔۔تو میں نے اُن سے ملاقات نہیں کی ۔۔۔
جب حضورِ اقدس کو پتا چلا تو آپ نے فرمایا: “
“اے عائشہ افلح کو اجازت دے دو وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں “
حضور اقدس کی اجازت سے وہ اپنے چچا سے ملیں ۔۔۔۔
۔
ایک اور خوبصورت واقعہ ہمیں تاریخ سے ملتا ہے ۔۔۔۔ خاتون جنت بی بی جان اپنے وصال سے پہلے بہت پریشان تھیں ۔۔
۔
آپ فرماتی ہیں :کہ مجھے بہت تشویش تھی کہ عمر بھر تو میں نے غیر مردوں کی نظروں سے خود کو بچائے رکھا اب وصال کے بعد میری کفن پوش لاش ہی پر لوگوں کی نظر نہ پڑ جائے۔۔۔
ایک موقع پر حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی :
“میں نے جبشہ میں دیکھا ہے کہ جنازے پر درخت کی شاخیں باندھ کر اور ایک ڈالی کی سی صورت بنا کر اُس پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور پر انھوں نے کھجور کی شاخیں منگوا کر انہیں جوڑا اور اِس پر کپڑا تان کر خاتونِ جنت فاطمہ بنت محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھایا ۔۔۔اُسے دیکھ کے آپ بہت خوش ہوئیں اور لبوں پہ مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔۔بس آپ کی یہی ایک مسکراہٹ تھی جو سرکار مدینہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے وصال کے بعد دیکھی گئی ۔۔۔۔۔۔
۔
اور تیسرا قصہ یہ ہے کہ :
حضرت ام خلاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا جنگ میں شہید ہو گیا ۔۔۔۔آپ رضی اللہ تعالیٰ اُن کے بارے میں معلومات کرنے چہرے پہ نقاب ڈالے با پردہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم میں حاضر ہوئیں ۔ جب وہ وہاں گئیں تو اُس پہ کسی نے حیرت سے پوچھا “اس وقت بھی آپ نے چہرے پے نقاب ڈال رکھا ہے “
تو جانتی ہیں انہوں نے کتنا خوبصورت جواب دیا ۔۔۔
“میں نے اپنا بیٹا کھویا ہے حیا نہیں کھوئی”
۔
اور ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے جب کوئی غم اتا ہے تو اُس سے پہلے عورتوں کے دوپٹے پیروں میں گرتے ہیں ۔۔۔۔۔یہ کہاں لکھا ہے آپ سر کو ننگا کر کے اپنے سینے پیٹو ۔۔۔۔کیا یہی ایک دُکھ کا اظہار ہوتا ہے ۔۔۔۔اور کوئی عورت ایسا نہیں کرے گی تو اِس کا مطلب وہ دُکھی نہیں ہے ؟ اُس کو کوئی دُکھ نہیں ہوا ؟
۔
ان واقعات میں اُن عورتوں کے لیے بڑی نصحیت ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود اللہ رب العزت کے دیے ہوئے حکم پہ عمل نہیں کرتیں۔ ۔۔۔دنیا اور اُس کی رونقوں میں لگ جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔بے ہودہ فیشن کر کے سرے بازار نکلتی ہیں ۔۔۔۔۔ اور کہتی پھیرتی ہیں فیشن تو آیا ہی لڑکیوں کے لئے ہیں ۔۔۔۔
۔
“بیشک فیشن لڑکیوں کے لئے ہی آیا ہے ، اُس کے ساتھ ساتھ چادر بھی لڑکیوں کے لیے ہی آئی ہے “
۔
مجھے حیرت ہوتی ہے اُن لڑکیوں پہ بلکہ مجھے دُکھ ہوتا ہے اُن لڑکیوں پہ جو خود کو ہر کتے بلّے کو دیکھاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہر کوئی اُن کو دیکھتا ہے پھر بات کرتا ہے۔ ایک عورت کی تذلیل مطلب پورے معاشرے کی عورتوں کی تذلیل ہے
۔
ماہ نور اب میں آپ کو اِس آیت کا اگلا حصہ بتاتی ہُوں ۔۔۔۔۔بہت سی لڑکیاں پوچھ رہیں ہوتی ہیں ۔۔۔۔ہمارے محرم رشتے کون سے ہیں ۔۔۔۔۔اور وہ کون سے ہیں جن سے ہمیں پردہ کرنا چاہئے ۔۔۔۔
۔وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اٰبَآئِهِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوۡ نِسَآئِهِنَّ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيۡنَ غَيۡرِ اُولِى الۡاِرۡبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يَظۡهَرُوۡا عَلٰى عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ‌ۖ
۔
وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں
۔
اب اِس آیت کو پڑھنے کے بعد کسی بھی قسم کسی کے شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔۔۔۔۔۔۔یہاں بلکل واضع لکھا ہے اُن کا محرم رشتہ کون سا ہے۔۔۔
۔
یہاں آپ کو بہت ساری باتیں سمجھ آ گئی ہو گی ماہ نور ۔۔۔مجھے اِس بات سے ایک قصہ یاد آیا ۔۔۔۔
فاروق اعظم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دفعہ خط لکھا اور اُس میں آپ نے فرمایا اہلِ کتاب کی عورتوں کو مسلمان عورتوں کے ساتھ حمام میں داخل ہونے سے منع کریں ۔۔۔۔۔اب اِس بات سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ مسلمان عورتیں کو کافرہ عورت کے سامنے اپنا بدن کھولنا جائز نہیں ۔۔۔۔۔
اب جب ایک کافرہ عورت سے بھی مسلمان عورت کو پردہ ہے تو آپ خود سوچیں ۔پردے کی نوعیت کیا ہو گی ہمارے دین اسلام میں ۔۔۔۔۔
۔
اب مردوں کے معاملے میں ایک جگہ فرمایا گیا وہ نوکر جو شہوت والے نہ ہوں مثلاً ایسے بوڑھے ہوں جنھیں اصلا شہوت باقی نہیں رہی ہو اور وہ نیک ہوں ۔۔۔۔اُن کے سامنے پردہ کرنے کے معاملے میں کچھ نرمی ہے ۔۔۔۔۔
۔
مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ برے افعال کرنے والے ہیجڑوں سے بھی پردہ کرنے کا حکم ہے ۔۔۔۔
۔
اب اگر آیت کا اگلا حصہ ہم دیکھیں تو اُس میں لکھا ہے
۔وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِهِنَّ
اور زمین پر اپنے پاؤں زور دے نہ ماریں
۔
اب ماہ نور اِس بات سے مطلب ہے کے عورتیں زمین پہ اِس قدر آہستہ اور نرمی سے چلیں ۔۔۔جو زیور انہوں نے پہن رکھا ہو اُس زیور کی جھنکار نہ سنائی دے اِس لیے اِس بات سے منع کیا گیا ہے کے عورتیں بجنے والی جھانجھن نہ پہنیں
۔
ایک حدیث شریف میں ہے ۔
” اللہ اُس قوم کی دعا قبول نہیں فرماتا جن کی عورتیں جھانجھن پہنتی ہوں “
اب ماہ نور اِس بات سے ہمیں سمجھ جانا چاہیے جب زیور کی آواز دعا نہ قبول ہونے کا سبب ہے تو خاص عورت کی آواز اور اُس کی بے پردگی کیسے اللہ پاک کے غضب کو لازم کرتی ہو گی۔۔۔۔۔۔پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے ۔۔۔۔۔۔۔
۔
اگر کوئی سمجھے تو پردے کے دینی ہی نہیں دنیاوی فوائد بھی بہت ہیں
۔
پردہ اللہ اور اس کے محبوب کو خوشنودی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔۔
پردہ ایمان کی علامت ،اسلام کا شعار اور مسلمان خواتین کی پہچان ہے ۔۔۔
پردہ شرم و حیا کی علامت ہے اور حیا اللہ جی کو بہت پسند ہے ۔
پردہ عورت کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہے
با پردہ اور با حیا عورت کو معاشرے میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔۔
پردہ عورت کے وقار میں اضافہ کرتا ہے اور اُس کی خوبصورتی کی حفاظت کرتا ہے۔
۔
“ماہ نور میں آپ کو پردے کے متعلق ایک مثال دیتی ہُوں “
وہ ایک خوبصورتی سے بولتی چلی جا رہی تھی۔۔
۔
“اگر ایک پلیٹ میں مٹھائی رکھ دی جائے اور اُسے کسی چیز سے ڈھانپ دیا جائے تو وہ مکھیوں کے بیٹھنے سے محفوظ ہو جاتی ہے اور اگر اِس پلیٹ کو جس میں مٹھائی رکھی ہے ڈھانپا نہ جائے اُس پہ مکھیاں بیٹھ جائیں تو یہ شکایت کرنا کہ اِس پہ مکھیاں کیوں بیٹھ گیں تو بہت بڑی بےوقوفی ہے کیوں کہ مٹھائی ایک ایسی چیز ہے جیسے مکھیوں کے تصرف سے بچانے کے لیے اُس کو ڈھانپ کے رکھنا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔اسی طرح ایک عورت بھی چھپانے کی چیز ہے ۔۔۔۔۔اگر وہ پردہ کرتی ہے تو معاشرے میں بہت ساری برائیوں سے بیچ سکتی ہے ، عزت و ناموس کے لٹیروں سے اپنی حفاظت کر سکتی ہے ۔۔۔اور یہی عورت جب پردے کے بغیر پھرے اور پھر یہ شکایت کرے کے مرد اُس کو دیکھتا ہے اُس کو چھیڑتا ہے تو یہ کہاں کی عقلمندی ہے ۔۔۔۔۔ایک مرد کے لیے عورت میں ایک خاص کشش رکھی گی ہے ۔۔۔۔فطری طور پہ مردوں کے لیے عورت میں رغبت رکھی گئی ہے ۔۔۔۔اور جب وہ بے پردہ عورت کا جسم دیکھتا ھے تو وہ اپنی شہوت اور رغبت کو پورا کرنے کے لیے اُس کی طرف لپکتا ہے ۔۔۔۔ایسی عورتیں مسجد کے امام کو گناہگار کر دیتی ہیں تو عام مرد کا تو عالم ہی نہ پوچھیے۔۔۔۔۔۔
۔
اگر ہم آیت کا آخری حصہ دیکھیں جس میں اللہ پاک نے توبہ کا ذکر فرمایا ہے
وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيۡعًا اَيُّهَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے
۔
اب یہاں ہمارے اللہ رب العالمین کا رحم تو دیکھیں ۔۔۔۔۔اللہ جی یہاں کہتے ہیں اگر تم سے میرا حکم ماننے میں کوئی تقصیر واقع ہو گئی ہے تو تم اللہ سے معافی مانگو ۔۔۔۔۔بے شک وہ معاف کرنے والا بڑا مہربان ہے ۔۔۔۔
“مجھے توبہ کے ذکر پہ ایک حدیث یاد آئی ہے ماہ نور “
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے حضور پر نور نے ارشاد فرمایا
” اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اُس سے بھی زیادہ راضی ہوتا ہے جیسے تم میں سے کسی کا اونٹ جنگل میں گم ہونے کے بعد دوبارہ مل جائے “
۔
یہ جو لوگ کہتے ہیں اللہ ہمیں کھبی معاف نہیں کرے گا تو مجھے بہت حیرت ہوتی ہے۔کیا انھوں نے قرآن پاک نہیں پڑھا ؟ اگر ایک طرف اللہ پاک اپنا غصّہ بتاتے ہیں تو اُسی بات کے فوراً بعد اپنے رحم کا بھی تو ذکر کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اللہ رب العزت ہمیشہ معاف کرتا ہے ۔۔۔۔بس ہم مانگتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔۔۔
۔
اب دیکھیں ماہ نور پچھلے دونوں یہ بات ہمارے میڈیا پہ بہت عام تھی۔ ۔۔جو عورتیں یہ کہے رہی تھیں ہمارا جسم ہماری مرضی ۔(۔استغفار ) میں سمجھتی ہوں عورت کے بے پردہ ہونے میں جتنا کردار ہمارے میڈیا کا ہے اتنا کسی کا نہیں ۔۔۔۔۔آج کل کی عورت خود کو ماڈرن سمجھتی ہے ۔۔۔۔۔۔پردے کو خود پہ جبر سمجھتی ہے۔ ۔۔۔۔اُن کو یہ نہیں سمجھ آتی۔ ۔اُن کی عزت اور وقار پردے میں ہی ہے ۔۔۔۔۔۔جو عورت پردہ نہیں کرتی تو اُس کی کیا عزت ہے ؟ حیا تو عورت کا زیور ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔”
۔
“جس عورت میں حیا نہیں اُس میں ایمان نہیں اور جس میں ایمان نہیں وہ مسلمان نہیں “
۔
مجھے حیرت ہوتی ہے اُن مردوں پہ جو ماڈرن ہونے کے نام پہ اپنی بہن بیٹیوں کو بے پردہ کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ہمارے اسلام میں بے شک عورت کا ایک خاص مقام ہے ۔وہ ماں ہے جس کے پیروں کے نیچے جنت ہے ۔۔
لیکن آج کل کی عورتیں خود کو ماڈرن سمجھ کے جو مقام بنا رہی ہیں تو میں سمجھتی ہوں وہ مقام نہیں بلکہ شر ہے ایک فتنہ ہے جو وُہ پھیلا رہی ہیں۔۔۔۔۔عورت ایک عزت ہے اور اُس کی چاردیواری میں ہی ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔وہ مرد سے ایک قدم پیچھے ہی اچھی لگتی ہے۔ ۔۔آج کل کی عورتیں برابری کرتی ہیں ہم مرد کے شانا بشانہ چلیں گی ۔۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا جب ایک عورت کو میرے رب نے ہی مرد سے کمزور بنایا ہے تو وہ کیسے مقابلہ کر سکتی ہیں ۔۔۔۔۔
ایک عورت کو عکس ہے نبی کی بیٹی کا۔ ۔۔۔وہ بیٹی جس کے لیے مدینہ کا والی خود اپنی کالی کملی بچھاتا تھا ۔۔۔اُنکو یہ احساس کیوں نہیں ہوتا جب روزِ محشر ساری عورتیں جمع ہوں گی تو اُن میں سے باپردہ عورت ہی خاتونِ جنت کے پاس بیٹھے گی ۔۔۔پتا ہے ماہ نور میں پردہ کیوں کرتی ہُوں ، مگر مجھے بی بی جان کے پاس نہ بھی بیٹھنے کہا موقع ملا میں آخری لائن میں ہی سہی مگر اُن کے پاس تو ہوں گی نا ۔۔۔۔مجھے دُور سے ہی سہی اُن کا دیدار تو نصیب ہو گا نا ۔۔۔۔۔
۔
بس ماہ نور میں ایک ہی بات کہوں گی ۔۔
جس طرح ایک مرد کے چہرے پہ داڑھی سجتی ہے ایسی طرح ایک عورت پہ پردہ ججتا ہے ۔۔۔۔۔
داڑھی اور پردے کے لیے اتنی دلیل کافی ہے کہ کائنات کے سب سے حسین چہرے پر داڑھی تھی اور کائنات کی پاکیزہ عورتوں نے بھی پردہ کیا⁦۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔” فضہ میں آپ کو ایک امانت دینا چاہتا ہوں اگر آپ پہونچا دیں تو “
اُس نے بیگ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
۔
“جی سر ضرور “
اُس نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں پوچھا،جیسے اُس کو سمجھ نہ آئی ہو سر کس امانت کا کہے رہے ہیں ۔۔۔۔
۔
“آپ کی دوست کو کچھ دینا چاہتا ہوں اگر آپ اُن کو پہنچا دیں تو “.
اُس کو پتا تھا وہ اُس کے سامنے کھبی بات نہیں کر سکے گا ۔۔۔۔اُس کا منہ پہ انکار اُسے کھبی برداشت نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔اُس نے فضہ کو بلایا ۔۔۔اور اُس کو دینے کا فیصلہ کیا۔ اُس کو پتا تھا فضہ یہ بات تیسرے بندے سے کھبی نہیں کرے گی۔ ۔۔۔وہ زرمینہ سے محبت ہی نہیں اُس کی عزت بھی دل جان سے کرتی ہے۔ ۔۔
۔
“جی سر میں دے دوں گی “
اُس نے بظاھر تو سنجیدہ سے انداز میں کہا۔ ۔۔مگر دل میں اُس کے لڈو پھوٹنے لگے۔
” ہائے ہائے زرمینہ تیرے مزے”
اُس نے اپنی خوشی چھپاتے ہوئے دل میں کہا۔۔۔۔۔
۔
“یہ لیں آپ اُن کو دے دیجیے گا “
اُس نے بیگ سے شاپر نکالتے ہوئے کہا جس میں چادر پڑی تھی..
.
“جی سر میں دے دوں گی اُس کو “
اُس نے اُس کے ہاتھ سے وہ شاپر لیتے ہوئے کہا!
۔
“بہت شکریہ آپکا “
اُس نے مسکراتے ہوئے اُس کا شکریہ ادا کیا اور بدلے میں اُس نے مسکراتے ہوئے “کوئی بات نہیں سر ” کہا اور آفس سے باہر چلی گئی۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بیٹا چلیں ذرا کینٹین “
فضہ نے اُس کو بازو سے پکڑتے ہوئے کہا۔
۔
“لیکن کیوں فضہ ؟”
“کیوں کے آپ ہمیں ٹریٹ دے رہی ہیں”
“ٹریٹ؟ کس خوشی میں ؟”
“بھئی اب ہم آپکو کیا بتائیں خان صاحب نے آپ کے لیے کیا پیغام بھیجا ہے “
٫”کیا مطلب انھوں نے ؟ کیا کہا ہے انھوں نے ؟ فضہ انہوں نے تمہیں بلایا تھا نا کیا کہے رہے تھے ؟”
“حوصلا رکھیں حوصلا “
فضہ نے مسکراتے ہوئے اُس کو کہا جو پریشانیوں کی وادی میں گرنے ہی والی تھی ۔۔۔
۔
“بتاؤ نا فضہ کیا کہا ہے انھوں نے “
“پہلے آپ وعدہ کریں ٹریٹ دیں گی “
“ہاں میری ماں دوں گی اب بتاؤ “
“وہ دیکھیں انھوں نے آپ کے لیے کیا بجھوایا ہے “
اُس نے شاپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“کیا مطلب”
“مطلب یہ کے خان صاحب نے آپ کے لیے کچھ بجھوايا ہے “
“لیکن کیوں ؟ “
اُس سے حیران ہوتے ہوئے کہا ۔۔
۔
“وہ تو آپ انہی سے پوچھ لیں “
“لیکن اِس میں ہے کیا فضہ”
۔
“کھولو جلدی کرو زری مجھے تو بہت تجسّس ہو رہا ہے آخر اِس میں ہے کیا “
۔
اُس نے اُس شاپر کو بہت غور سے دیکھا ۔۔۔اور آرام سے کھولا ۔۔۔۔
۔
کھولتے ہی اُس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں جیسے اج سے پہلے اُس نے اتنی خوبصورت چیز کوئی نہیں دیکھی ۔۔۔۔وہ ایک پلاسٹک کے کور میں لپٹی سفید چادر تھی ۔۔۔۔۔۔جس پہ گھوٹے کا کام بہت ہی نفاست سے کیا گیا تھا۔ ۔۔۔۔
۔
اُس نے آج تک کسی مرد سے تحفہ نہیں لیا تھا ۔۔۔۔یہ اُس کی زندگی کا پہلا تحفہ تھا جو اُس کو کسی مرد نے دیا تھا اور اُس نے قبول بھی کیا تھا۔ ۔۔
اُس نے اُس تحفے کو چادر نہیں سمجھا بلکہ ایک وقار سمجھا تھا ۔۔۔۔
اُس نے اُس کو چادر نہیں دی تھی عزت دی تھی ۔۔۔اور عزتوں سے کوئی کیسے انکار کر سکتا ہے کیسے منہ موڑ سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: