Hijab Novel By Amina Khan – Episode 33

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 33

–**–**–

وہ اپنے بیڈ پہ بیٹھی کب سے اُس چادر کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جو وجدان نے اُس کو تحفے میں دی تھی۔ ۔۔۔۔
۔
“کوئی کسی کو چادر بھی دے سکتا ہے اور وہ بھی تحفہ ؟”
اُس نے اُس سفید چادر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
یہ چادر نہیں تھی یہ تو عزت تھی جو سید وجدان حسین شاہ نے اُس کے سر پہ رکھی تھی ۔۔۔۔۔
۔
آج سے پہلے اُس نے کھبی ایسا تحفہ نہیں لیا تھا ۔۔۔۔۔نا جانے یہ تحفہ کیسے لے لیا۔ ۔۔۔۔۔اگر یہ تحفہ ہوتا تو وہ انکار بھی کر لیتی مگر یہ تو عزت تھی ۔۔۔۔۔جو وجدان نے اُس کو دی تھی ۔۔۔وہ کیسے انکار کرتی ۔۔۔کیسے اُس کو واپس کرتی ۔
۔
اُس نے اُس چادر پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔جس پہ وجدان نے رکھا تھا ۔۔۔۔۔اُس چادر سے اُس کو خشبو آنے لگی ۔۔۔اُس نے چادر اٹھائی۔ ۔۔اپنے منہ کے ساتھ لگائی اور آنکھیں بند کیں ۔۔۔
۔
نہیں نہیں یہ خوشبو نہیں ہے ۔۔۔۔یہ تو مہک ہے جو انسان کی روح کو شاداب کر دیتی ہے۔ ۔۔۔۔خوشبو تو پھر بھی وقت کے ساتھ اڑ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔مگر مہک ، مہک تو جاتے نہیں جاتی ۔۔۔۔۔
“اِس چادر سے تمہاری مہک آتی ہے مجھے وجدان شاہ “
اُس نے چادر کو اپنے ہونٹوں کے ساتھ لگاتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔ جیسے وہ خوشبو وہ مہک اپنے اندر اُتار رہی ہو۔۔۔۔۔۔آج سے پہلے اُس نے کھبی ایسی مہک محسوس نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو پرفیوم کا زیادہ شوق نہیں تھا ۔۔۔اُس کو پرفیوم لگانے سے ہمیشہ ڈر لگتا تھا ۔۔۔۔اللہ نے جب عورت کو منع فرمایا ہے تو وہ کیوں خوشبو لگائے ۔۔۔ایک مرد میں عورت کے لیے ایک خاص کشش رکھی گی ہے۔ ۔اور جب وہ عورت خوشبو لگاتی ہے تو مرد نا چاہتے ہوئے بھی اُس کو طرف کھچا چلا جاتا ہے ۔۔۔وہ کھبی نہیں چاہتی تھی کوئی غیر مرد اُس کی طرف متوجہ ہو ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ یہ سوچتی تھی مکھیاں ہمیشہ گندگی پہ ہی آتی ہیں ۔۔۔۔وہ خود کو گندا نہیں کرنا چاہتی تھی کہ مکھیاں اُس کی طرف آئیں ۔۔۔۔۔وہ تو پاکیزہ تھی اور خود کو پاک ہی رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔
۔
آج جو مہک اُس نے محسوس کی تھی ۔۔دنیا کی کسی پرفیوم کی مہک ایسی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔۔جو کسی کو مدھوش کر لے ۔۔۔۔۔مگر آج زرمینہ خان مدھوش ہو رہی تھی ، وجدان شاہ کی مہک سے
۔
“زری “
وہ چادر کو کھولے ، اپنے منہ پہ ڈالے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں بند کر کے لیٹی تھی۔۔۔۔۔
۔
“زری مجھے میرا گلابی سوٹ والا دوپٹہ نہیں مل رہا تم نے کہیں دیکھا ہے “
اماں نے بغیر اُس پہ نظر ڈالے اُس کی الماری کھولی ۔۔۔۔۔اور دوپٹا ڈھونڈنے لگی ۔۔۔
۔
“زری تم سے کہے رہی ہوں نا میں”
رقیہ بیگم نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا جو اُس مہک کے سحر سے ابھی تک باہر نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو تو پتا بھی نہیں تھا وہ کدھر ہے ۔۔۔۔۔کہاں ہے ۔۔وہ کون ہے ۔۔۔
وہ تو محبوب کے وجد میں جھکڑی ہوئی تھی۔ ۔۔۔محبوب کی مہک انسان کو دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے پہ مجبور کر دیتی ہے ۔۔۔تب انسان محبوب کے علاوہ کچھ نہیں سوچتا کچھ نہیں سمجھتا
۔
“زری یہ کس کی چادر ہے “
وہ اُس کے پاس آئیں ۔۔۔۔۔ اُس پہ پڑی چادر کو بہت غور سے دیکھنے لگیں ۔۔۔۔۔یہ اُس کی چادر تو نہیں تھی ۔۔۔۔۔چادر کو دیکھنے کے بعد انہوں نے پاس پڑی پیکنگ دیکھی جس میں سے چادر نکالی گئی تھی ۔۔۔۔۔اُن کے دل کو ایک دم سے کھٹکا لگا ۔۔۔۔۔
“زری “
انہوں نے وہ چادر اُس کے منہ سے پیچھے کی ۔۔۔۔وہ سو رہی تھی ۔۔ایک عرصے بعد اُس کو ایسا سکون ملا تھا ۔ایسی نیند آئی تھی ۔۔۔۔۔۔
۔
“جی اماں “
اُس نے آرام سے آنکھیں کھولتے ہوئے ماں کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔اُس کے تو ذہن میں بھی نہیں تھا ماں نے اُس کی چادر دیکھ لی ہے ۔۔۔۔
۔
“یہ چادر کدھر سے آئی ہے “
انہوں نے اُس چادر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔جو اُس کے اوپر پڑی تھی ۔۔۔اُن کو ایک عزاز حاصل تھا اُن کی اولاد کھبی بھی اُن سے جھوٹ نہیں بولتی تھی ۔۔۔۔اور جب وہ پوچھ رہی ہوں کچھ تو کھبی بھی غلط بیانی نہیں کرتی ۔۔۔۔۔وہ ماں تھیں اُن کے دل نے بیٹی پہ پڑی اُس چادر کی گواہی دے دی تھی ۔۔۔۔مگر وہ اپنے دل کی گواہی کی تصدیق چاہتی تھیں ۔۔۔اپنی بیٹی کے منہ سے سننا چاہتی تھیں ۔۔۔۔۔
۔
“چادر …..”
اُس نے ماں کا چہرہ دیکھا اور پھر اُس چادر کی طرف جو اُس نے اب تک اپنے وجود سے الگ نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔۔
۔
“میں پوچھ رہی ہُوں کدھر سے آئی ہے یہ چادر کس نے دی ہے تمھیں یہ ؟”
۔
“اماں سر ۔۔۔۔۔۔”
اُس نے ٹوٹتے لہجے سے بس اتنا ہی کہا تھا کہ سامنے بیٹھی ماں ایک دم جلال میں آئی ۔۔
۔
“میں نے تمہیں کہا تھا نا دُور رہنا اُس سے تم ۔۔۔۔۔اور تم نے اُس کو یہ بھی بتا دیا میری ماں نے مجھ سے چادر لے لی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ماں نے لے لی تو تمھیں دینے والے نے دے بھی دی ۔۔۔۔۔۔تمھیں میری کہی ہوئی بات سمجھ نہیں آئی تھی جو اب گھر کی باتیں بھی اُس کو بتانے لگی ہو “
۔
وہ بغیر اُس کو سنے بس بولی چلی جا رہیں تھیں۔ جیسے اُن کو بہت دُکھ ہو بیٹی نے ایک غیر مرد کے سامنے اپنی ماں کو بے عزت کیا ہے ۔۔۔۔۔انھوں نے اپنی بیٹی سے چادر لی تو اُس کے بدلے میں اُس نے اُس پہ چادر ڈال دی ۔۔۔۔
۔
“اماں میں نے اُن کو کچھ نہیں بتایا ہے ۔۔۔مجھے نہیں پتا انہوں نے کیوں دی ہے مجھے یہ چادر “
اُس نے آنکھوں میں نمی لیے ماں کو کہا۔ اپنے بےگناہ ہونے کی گواہی دی۔
۔
“زری تم نے بہت دُکھ دیا ہے آج مجھے “
“نہیں اماں میں آپ کو کھبی دُکھی نہیں کرنا چاہتی۔ مجھے آپ کی قسم اماں میں نے اُن کو کچھ نہیں بتایا “
اُس نے ماں کے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بھیگی پلکوں سے کہا ۔۔۔۔
۔
“میں کچھ نہیں سننا چاہتی زری ۔کل یہ چادر اُس کو واپس کر دینا “
انہوں نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے پیچھے کیا ۔۔۔ اُس کو حکم صادر کر کے وہاں سے اٹھنے لگیں ۔۔۔۔
۔
“اماں میں مر گی تو میرے کفن پہ یہ چادر ڈالنا ۔۔۔۔یہ چادر میری قبر میں میرے ساتھ اتارنا”
اُس نے خشک آنکھوں سے اُس چادر کی طرف نظریں جمائے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
وہ جو دروازے کے پاس پہنچی تھیں ۔۔۔وہیں روک گئیں ۔۔۔۔اگلا قدم اٹھانا اُن کے اختیار میں نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔بیٹی کی اِس بات نے اُن کا سينہ زخمی کیا ۔۔۔اُن کے خون نے حرکت کرنا چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔اُن کی اکلوتی بیٹی ماں کو وصیت کر رہی تھی ۔۔۔۔۔اُن کو اُس چادر کی اہمیت بتا رہی تھی۔ اپنی موت کا منظر کھینچ رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وجی آج امی ابو زرمینہ کے گھر جائیں گے تمہارے رشتے کی بات کرنے “
۔
وہ لیپٹوپ سامنے کھولے ، مُسلسل اُنگلیاں چلا رہا تھا ۔۔۔۔فاطمہ کے آنے کا اُس کو پتا ہی نہیں چلا وہ کب آئی کب اُس کے پاس بیٹھی ۔۔۔۔۔اُس نے اُس کی آواز اپنے کانوں میں گونجتی سنی ۔۔۔۔۔۔اُس نے ایک دم انگلیوں کی حرکت روک لی ۔۔۔۔۔نظروں کو سکرین سے ہٹا کے بہن کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ۔۔۔ک۔۔۔۔کیا کہا آپ نے ؟”
اُس نے پر جوش سا ہوتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔جیسے کائنات کے سارے رنگ اُس کی جھولی میں بھر دیئے ہوں ۔۔۔۔اور اُس نے اُن رنگوں کو ہوا میں اچھالنا ہو ۔۔۔۔۔۔
۔
“ہاں ہاں بلکل ٹھیک کہے رہی ہُوں میں “
اُس نے اُس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور خوشی سے کہنے لگی۔ ۔۔۔۔
۔
“آپی بہت خوش ہوں میں آج “
بہن کے دونوں ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے اُس نے معصومیت سے کہا ۔۔۔۔
۔
“وہ تو مجھے پتا ہے میرا بھائی کتنا خوش ہے آج ۔۔۔۔اللہ تمہاری خوشیوں کو کسی کی نظر نا لگائے وجی “
۔
“آپی بہت دعا کرنی ہے آپ نے “
میں تو بہت دعا کرتی ہوں…. وجی۔ ۔تمھیں کیا لگتا ہے وہ مان جائیں گے ؟ پٹھان اپنی روایتوں کے بہت پکے ہوتے ہیں اور جب وہ سواتی ہوں پھر تو بات ہی اُن کی انا کی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔میں نے سنا ہے سواتی اپنی قوم سے باہر کھبی بھی نہیں کرتے چاہے کچھ بھی ہو جائے “
۔
آپی آپ دعا کریں نا سب ٹھیک ہو جائے اگر اللہ پاک نے چاہا نا تو کوئی کچھ نہیں کر سکے گا ۔۔۔۔۔یہ سارے معاملات تو اللہ کے ہوتے ہیں نا ۔۔۔۔۔جب وہ کن کہے دے تو فیکون لازم ہوتا ہے ۔۔۔۔
۔
“اور میں نے تو اپنی محبت کو فقط اللہ سے مانگا ہے اور وہی مجھے عطا بھی کرے گا “
۔
“مجھے یقین ہے آپی اللہ میری دعاؤں پہ کن ضرور فرمائیں گے ۔۔۔۔وہ مجھے مایوس نہیں کریں گے ۔۔۔۔وہ مجھے اُس لڑکی کا ساتھ ضرور دیں گے جس کو میں نے دِن رات اپنی دعائوں میں مانگا ہے ۔”
۔
وہ بول رہا تھا اور بہن اُس کو سن رہی تھی ۔۔۔جس کے لفظوں میں اور لہجے میں کچھ عجیب سا یقین تھا ۔۔۔۔۔
۔
وجی کیا اُس لڑکی کو پتا ہے کون ہو تم ؟ کیا مسلک ہے تمہارا ؟
اُس نے اُس کا چہرہ بہت غور سے دیکھا۔۔۔۔جیسے وہ اُس کو بتانا چاہتی ہو یاد کروانا چاہتی ہو جو جانے کب سے بھول چکا تھا۔ ۔۔۔یا اُس لڑکی کے آنے سے خود کو بھُلا دیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
بہن کے اِس سوال پہ اُس کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔۔۔۔۔سر سے آسمان ہٹ گیا ۔۔۔۔وہ جو اُس کو تھوڑی سی بھی اُمید تھی وہ بھی کہیں دُھواں بن کے اڑ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سلطان تمہارے ابو نے پلوشہ سے تمہاری شادی کا فیصلہ کیا ہے “
وہ سب بہن بھائی ماں کے پاس اُن کے کمرے میں بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔جب بھی ابراہیم صاحب گھر پہ نہ ہوں وہ اُن کے کمرے میں بیٹھا کرتے تھے ۔۔۔۔۔
۔
” اماں پہلے بھائی اور زرمینہ کی کریں ۔۔۔۔یہ آپ نے دسویں جگہ مجھے کدھر سے پکڑ لیا ہے “
۔
سلطان نے زمینہ اور شہاب کی طرف دیکھتے ہوئے منہ بنا کے کہا۔ ۔۔۔
۔
“اُن دونوں کی بھی سوچ رہے ہیں ، پلوشہ شہاب سے بہت چھوٹی ہے تو تمہارے بابا جان نے تمھارا کہا ہے “
۔
“اماں یہ زیاتی ہے ویسے بڑا بھائی بیٹھا ہے اور چھوٹے کے لیے آپ لوگ رشتے ڈھونڈ رہے ہیں”
سلطان نے بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو مسکراتا ہوا سن رہا تھا ۔۔۔
۔
“نہیں نہیں بیٹا کوئی بھی زیاتی نہیں ہے ۔۔۔۔چپ کر کے ہاں کر ۔۔۔۔”
شہاب نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“اچھا تو اب میں سمجھا ۔۔بابا جان نے لالا گل کا کہا ہو گا اور انہوں نے اپنی بلا میرے متھے ڈال دی ۔۔واہ جی بہت اچھے “
۔
بلا ۔۔۔۔؟ پلوشہ بلا ہے ؟
وہ جو کب سے خاموش بیٹھی سب کو سن رہی تھی ۔۔۔۔ایک دم سے بول پڑی ۔۔۔
۔
“بلا نہیں ہے تو کیا ہے ؟ “
سلطان نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“بلا نہیں ہے آپ کی ہونے والی بیگم ہے “
۔
“کوئی بیگم نہیں ہے ۔۔۔اماں بابا جان کو بول لیں میں بلکل اُس پٹاخے سے شادی نہیں کروں گا ۔۔۔”
“سلطان تمیز سے بات کرو اپنی ہونے والی بیگم کے بارے میں اب ایسا بولو گے؟”
شہاب نے اُس کو مصنوئی سا ڈانٹتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“کوئی بیگم نہیں ہے میری وہ ۔۔۔۔بابا جان نے زرمینہ کے رشتے کا انکار کیا اور میری شادی اُدھر کر رہے ہیں”
۔
“تب ہی وہ تمہاری شادی اُدھر کر رہے ہیں سلطان جو تعلقات زرمینہ کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں وہ تمہاری شادی سے ٹھیک ہو جائیں “
اماں نے اُس کو سمجھانے والے انداز میں کہا ۔۔۔جو چہرے پہ سُرخی لیے بول رہا تھا
۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے اماں مجھے قربانی کا بکرا بنانے کی ۔۔میں ہر گز اُس لڑکی سے شادی نہیں کروں گا۔ ۔۔۔جس کی قد سے بڑی زبان ہے “
۔
“تو کس سے کرو گے تم شادی وہ بھی بتا دو “
“کسی سے بھی کر لوں گا مگر اُس سے نہیں کروں گا آپ بابا جان کو بتا دیں۔ ۔۔”
۔
“مجھے تو بے عزت ہونے کا کوئی شوق نہیں ہے اُن سے۔ تم خود ہی اُن کو بتانا ۔۔۔جس لڑکی سے تم نے کرنی ہے وہ بھی بتانا “
۔
“اماں اب ایسا تو نہ کریں نا میرے ساتھ آپ ۔میں بابا جان کو کیسے بتا سکتا ہُوں”
“جیسے میں بتاؤں گی نا بیٹا ویسے ہی آپ بھی بتانا “
انہوں نے اُس کو طنزیہ سے اندا میں کہا ۔۔۔۔
۔
“اماں تعلق ہی بہتر کرنے ہیں نا تو آپ زرمینہ اور رجب بھائی کی شادی کروا دیں نا ۔۔ایسے بھی اس کی کوئی اعتراض نہیں تھا اُن سے شادی پہ “
اُس نے زرمینہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو بغیر پلک جھپکتے اُس کو دیکھ رہی تھی ۔
۔
“اِس کی بھی بہت جلد میں کرواتی ہُوں شادی بہت پڑھ لیا ہے میری بیٹی نے یونیورسٹی میں اب “
بظاہر تو انہوں نے اُس کو دیکھ کے بڑے پیار سے کہا مگر اُن کے لہجے اور نظروں کا طنز وہ خوب سمجھتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یا اللہ میں بہت گناہگار ہُوں ۔۔۔۔میرے گناہ سمندر کے پانی سے بھی زیادہ ہوں گے مگر تو بہت رحیم ہے میرے مالک ۔۔۔میرے گناہوں کو نہ دیکھنا ۔۔۔۔۔تو سُننے والا ہے مجھے یقین ہے تو ضرور سنے گا ۔۔۔۔۔میرے گناہوں کو میری دعا کے سامنے رکاوٹ نہیں بنانا میرے مالک “
۔
بہن کے جاتے ہی اُس نے وضو کیا اور جائے نماز پے بیٹھ گیا ۔۔۔۔اُس نے تو اِس پہلو کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔وہ کیسے بھول سکتا ہے وہ کون ہے ؟وُہ کیا ہے ۔۔۔۔۔
۔
“اللہ تعالیٰ مجھے کیوں ملوایا ہے آپ نے اُس سے”
وہ سجدے میں تھا ۔ایک ازیت میں تھا ۔۔۔۔آج پہلی بار تھی ۔۔۔جب اُس کو اپنی محبت پہ افسوس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔رنج ہوا تھا ۔۔۔۔
۔
اُس نے تو صرف اپنی محبت دیکھی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو تو فقط محبت ہوئی تھی اُس نے کہاں سوچا تھا محبت ہونا ہی اہم نہیں ہوتا۔ اپنے جیسوں سے محبت ہونا اہم ہوتا ہے ۔۔۔۔۔وہ تو اُس جیسی تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔وہ تو اُس کے خلاف تھی۔ ۔۔اتنے خلاف جب اُس پہ اُسکی حقیقت عیاں ہو جائے گی تو وہ اُس کی طرف دیکھے گی بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔
۔
“یا اللہ مجھ پہ رحم کر مجھ پہ اپنا کرم کر میرے مالک “
وہ سجدے میں سر رکھے نا جانے کب سے دعائیں مانگ رہا تھا ۔۔۔اُس کے ماں باپ اُس کی منزل تک رسائی حاصل کرنے نکلے تھے۔۔ اور وہ ان کے کامیاب لوٹنے کی دعا مانگ رہا تھا ۔۔۔اُمید کی ساری کرنیں بھج چکی تھیں ۔۔۔۔۔اُس کو بھروسہ تھا تو اُس ذات پہ جس نے اُس کے دل میں محبت ڈالی تھی ۔۔۔۔۔جس نے اُس کے دل میں محبت ڈالی ہے وہی اُس کو کامیاب بھی کرے گا ۔۔۔۔
۔
یا اللہ مجھے پتا ہے جو میں چاہتا ہوں وہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔میں انتظار کر رہا ہوں تیرے معجزے کا ۔۔۔۔۔بیشک تو ہر چیز پہ قادر ہے ۔۔۔۔۔
۔
“یا اللہ مجھے میری منزل کی پہلی سیڑھی سے ہی ناکام واپس نہیں لوٹانا “
۔
“اگر وہ نہ مانے تو ؟ “
اُس نے سر ایک دم اوپر کیا ۔۔۔۔اب وہ دونوں پہلو سوچ رہا تھا ۔۔۔۔پہلے تو قوم کا بڑا مسئلہ تھا ۔۔۔دوسرا مسئلہ تو اُس نے سوچا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔اُس کے تو ذہن میں بھی نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا میں محبت کی خاطر سب کچھ چھوڑ سکتا ہوں؟ نہیں ایسا ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔تو کیا میں اپنی محبت کو چھوڑ سکتا ہوں؟ یہ میرے اختیار میں نہیں “
وہ جائے نماز پے ہی بیٹھے اُن سوالوں کے جواب ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔۔جو اُس کو اگلے کچھ دنوں میں دینے تھے ۔۔۔۔
۔
اُس کو ایک بڑا فیصلہ کرنا تھا ۔۔۔۔کسی ایک کو چننا تھا۔۔۔۔۔ایک طرف اُس کی محبت تھی اور دوسری طرف اُس کا عقیدہ ۔۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ابراہیم صاحب گھر پہ موجود تھے ۔۔۔۔وہ سب گیسٹ روم میں بیٹھے تھے ۔۔۔دادی اماں بھی وہیں آئیں تھیں ۔۔۔۔ویسے تو اُن کی عورتیں کھبی ایسے گیسٹ روم میں نہیں بیٹھی تھیں ۔۔۔۔مگر آج چوںکہ وجدان کی امی بھی تھیں ساتھ تو سب ایک ساتھ بیٹھے تھے ۔۔۔۔
۔
“آپ کدھر کے ہیں ؟”
دعا سلام کے بعد ابراہیم صاحب نے اُن سے پوچھا۔ وہ بہت مہمان نواز تھے ۔۔۔۔گھر آئے مہمان کو فرشتے سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ ۔۔۔اُن کے گھر جو بھی پہلی دفعہ اتا اُنکو بلکل بھی محسوس نہ ہوتا وہ پہلی دفعہ یہاں آیا ہے ۔۔۔۔۔
۔
وہ دونوں بھی بہت خوش تھے ۔۔۔۔اُن کے رکھ رکھاؤ سے اُن کے دل میں اُمید کی ایک کرن روشن ہوئی تھی ۔۔۔۔۔جیسے وہ کھبی بھی انکار نہیں کریں گے۔ ۔۔۔۔
۔
“ہم لاہور کے ہیں ۔پچھلے کچھ سالوں سے مانسہرہ میں رہائش پذیر ہیں “
عبدالرحمن صاحب نے بہت ہی نرم انداز میں کہا ۔۔۔۔کے سامنے بیٹھا پٹھان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔۔۔۔انھوں نے اب بھی نہیں پوچھا تھا۔ وہ کس مقصد سے اور کیوں اُن کے گھر آئے تھے۔ ۔۔۔۔
۔
“دراصل ہم آپ کے گھر ایک عرض لے کے آئیں ہیں “
اب کی بار عبدالرحمن صاحب باقاعدہ موضوع پے آئے تھے ۔۔۔۔
۔
“جی جی فرمائیے کیا خدمت کر سکتے ہیں ہم آپکی “
ابراہیم صاحب نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ۔۔۔۔ادب سے پوچھا ۔۔۔۔
۔
“میرا بیٹا یونیورسٹی میں لیکچرر ہے ۔۔۔۔سید وجدان حسین شاہ “
وجدان کے نام پہ رقیہ بیگم کی ٹانگیں کانپنے لگیں ۔۔۔۔اُن کو لگا جیسے آج اُن کا اِس گھر میں اج آخری دن ہے ۔۔۔۔اُن کے دل میں عجیب سی بے چینی ہونے لگی ۔۔۔۔۔زرمینہ ایسا کیسے کر سکتی ہے ۔اپنے ہی پیروں پہ کھلاڑی کیسے مار سکتی ہے ۔اب کون اُس کو یونیورسٹی جانے دے گا ۔۔۔۔۔۔
ان کے دل میں ہزار طرح کی وسوسے آنے لگے ۔۔۔۔۔
۔
وجدان کا نام سنتے ہی وہ وہیں کھڑی ہو گئی ۔۔۔”
یہ کون ہیں ؟ اور وجدان ؟ کون سا وجدان ؟ “
کچن کی طرف جاتے ہوئے اُس نے مہمانوں کو دیکھا تو حال کے پردوں سے جھانکنے لگی ۔۔وہ وہاں سے ہٹنے ہی لگی تھی۔ ۔کہ اُس کے کانوں میں سید وجدان حسین شاہ گھنجا ۔۔۔۔اُس کا آگے جاتا قدم وہیں پہ روکا ۔۔۔۔۔وہ پیچھے مڑی اور وہیں روک گی ۔۔۔۔۔
۔
“ہم وجدان کا رشتہ آپ کی بیٹی کے لیے لے کے آئیں ہیں “
اب کی بار عبدالرحمن صاحب نے وہ بات کی جس کو سن کے اندر بیٹھی ماں اور باہر کھڑی بیٹی کے پیروں میں سے زمین نکل گئی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“کون سی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے آپ کا بیٹا؟”
ابراہیم صاحب کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہوئی ۔۔۔۔دل میں ایک عجیب سی بےچینی ہوئی ۔۔۔۔۔صوفے سے آگے ہو کے بیٹھے ۔۔۔۔۔اور سنجیدہ سے چہرے کے ساتھ پوچھنے لگے۔ ۔۔۔۔
۔
“جی ہزارہ یونیورسٹی میں “
عبدالرحمن صاحب نے اُن کے چہرے کے رنگ بدلتے دیکھ لیے تھے ۔۔۔۔ایک باپ ہونے ہی حثیت سے وہ سمجھ چکے تھے سامنے بیٹھے بیٹی کے باپ کے دل میں کیا ہے۔ وہ کس قرب سے گزر رہا ہے ۔۔۔۔۔
۔
“مطلب زرمینہ گل جانتی ہے آپ کے بیٹے کو ؟”
اب کی بار ماتھے پہ سنجدگی کے ساتھ ساتھ بل بھی پڑے تھے ۔۔۔۔
۔
“میری بیٹی فاطمہ یونیورسٹی گی تھی تو اُس کو آپکی بیٹی بہت پسند آئی تھی ۔۔۔۔اُس نے ہمیں یہاں بھجا ہے “
سامنے بیٹھی ماں معاملے کی سنجیدگی کو سمجھ گئی تھیں ۔۔۔۔۔وہ اگر کہتی اُن کا بیٹا پسند کرتا ہے زرمینہ کو تو معاملہ کسی اور ہی طرف چلا جاتا ۔۔۔۔ویسے بھی وہ پٹھانوں کی انا اور اُن کی غیرت کو بہت اچھی طرح سمجھتی تھیں ۔۔۔۔۔
۔
باہر کھڑی لڑکی نے زور سے ایک سانس لیا ۔۔۔جس کا سانس کب سے خلق سے باہر نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔وہ کانپتی ٹانگوں کے ساتھ کب سے وہاں کھڑی سن رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“آپ نے سید وجدان کہا ہے ۔۔۔اِس کا مطلب ہے آپ سید ہیں ۔۔۔۔۔مگر آپ شاید نہیں جانتے ہم سواتی ہیں “
اُن کی اُس بات پہ ابراہیم صاحب نے نظریں جُھکا لیں۔ وہ ویسے بھی عورتوں کو نظر اٹھا کے نہیں دیکھتے تھے۔ اور سامنے بیٹھی سیدزادی ہو پھر تو اُن کا احترام میں اور اضافہ ہوتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“آپ ہمارے گھر آئیں ہیں یہ ہمارے لیے عزاز کی بات ہے ۔۔۔۔مگر ہم آپ سے معذرت چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آپ کے ساتھ بی
بی صاحبہ بھی آئیں ہیں ۔۔۔۔ہم کھبی سید زدي کو ایسے خالی ہاتھ نہیں بجتے ۔۔۔۔۔اگر آپ ہم سے دنیا کی اور کوئی بھی چیز مانگیں ہم کھبی انکار نہیں کریں گے۔۔آپ ہم سے ہماری جان بھی مانگیں تو وہ بھی ہم سید ذات پہ قربان کر دیں۔۔ ۔۔مگر ہم رشتہ قوم سے باہر نہیں کرتے “
اب کی بار اُن کے لہجے میں نرمی آئی تھی۔ ۔۔اور نگاہوں میں پہلے سے زیادہ احترام ۔۔۔۔۔
۔
“جی ابراہیم صاحب ہم سمجھ سکتے ہیں ہر خاندان کی اپنی روایات ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔مگر آپ ہماری عرض پہ ایک بار غور ضرور کیجیے گا “
عبدالرحمن صاحب نے اُن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔اور اٹھنے لگے ۔۔۔۔
۔
“میں بہت شرمندہ ہوں آپ سے ۔۔۔مگر میرا فیصلہ نہیں بدلے گا ۔۔۔۔ہم سیدوں کی بہت عزت کرتے ہیں ۔اُن کا احترام ہم پہ واجب ہے ۔۔۔۔۔مگر میں آپ سے پھر کہوں گا ہم اپنی قوم سے باہر رشتے نہیں کرتے ۔۔۔۔۔”
۔
اب کی بار اُن کا لہجہ اِس قدر ختمی تھا کے سامنے کھڑا شخص کچھ بول نا سکا ۔۔۔۔۔
۔
‘اچھا ابراہیم صاحب اب ہمیں اجازت دیں ۔۔۔۔جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں ۔۔۔۔مگر آپ کی مہمان نوازی نے ہمیں بے حد متاثر کیا ہے “
عبدالرحمن صاحب نے اُن کو گلے لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“یہ آپ کا اپنا گھر کے جب بھی آپ آئیں ہمارے دروازے آپ کے لیے ہمیشہ کھولے ہیں “
رقیہ بیگم نے سامنے کھڑی ماں کو گلے لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔آج کوئی دُکھی تھا تو وہ دونوں مائیں ۔۔۔۔۔۔دونوں کو اپنی اولاد کی تکلیف سے دوچار ہونا تھا ۔۔۔۔دونوں ہی یہ چاہتی تھیں کے اُن کے بچے مل جائیں ۔اُن کی محبت کی منزل نکاح ہو جدائی نہ ہو ۔۔۔
۔
“بھائی صاحب آپ ایک دفعہ پھر سوچیے گا “
انہوں نے ابراہیم صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
۔
“جی بی بی صاحبہ “
اُن کے سامنے ایک سید زادِی درخواست کر رہی تھی ۔۔۔وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ بول نہیں سکتے تھے ۔۔۔۔۔
۔
سب کو ملنے کے بعد وہ دروازے سے باہر نکل رہے تھے کہ اُن کی نظر سامنے کھڑی اُس لڑکی پہ پڑی ۔۔۔۔جو سر پہ دوپٹہ لیے ڈری سہمی سی کھڑی تھی ۔۔۔۔
۔
“آپ زرمینہ ہو “.
وہ اُس کو دیکھتے ہی پہچان گی تھیں۔۔۔۔۔وہ اس کے قریب گیں اُس کو غور سے دیکھا ۔۔۔وہ نظریں جھکائے اُن کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔اُن کو اپنے بیٹے کی پسند پہ فخر ہوا ۔۔۔۔۔انھوں نے اُس کو اپنے پاس کیا ۔۔اُس کا ماتھا چُوما ۔۔۔
“بہت پیاری ہے میرے وجدان کی زرمینہ”
انہوں نے اُس کا ماتھا چومتے ہوئے بہت آرام سے کہا ۔۔۔۔۔زرمینہ کی علاوہ وہاں موجود کوئی شخص نہ سن سکا ۔۔۔۔
۔
“چلتے ہیں ہم خدا حافظ “
اُن کا رواج تھا مہمان کو دروازے تک چھوڑنے سب جاتے تھے ۔۔۔۔
عبدالرحمن صاحب نے ایک بار پھر پیچھے موڑے۔۔۔۔۔اور اُس لڑکی کو دیکھنے لگے۔ ۔۔جس کو اُن کے بیٹے نے پسند کیا تھا ۔۔۔
سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھتے ہی اُن کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔۔اُن کے دل نے اُس کو اپنے بیٹے کے حق میں قبول کیا ۔۔۔۔اور رخصت ہونے لگے ..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: