Hijab Novel By Amina Khan – Episode 34

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 34

–**–**–

“اماں یہ کون لوگ تھے آپ جانتی ہیں اِن کو ؟ “
عبدالرحمن صاحب کے جاتے ہی ابراہیم صاحب اندر آئے تھے ۔۔۔اُن کے دل میں یہ بات اٹک گی تھی۔ ۔۔۔۔وہ لڑکا ہزارہ یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے ۔۔۔۔تو ایسے کیسے ممکن ہے اُس نے زرمینہ سے بات نہ کی ہو۔ ۔۔
۔
میں تو پہلی دفعہ ملی ہوں ابراہیم ۔۔۔۔خدا جانے کون تھے ۔۔۔۔۔اور وہ لڑکا زرمینہ کی یونیورسٹی میں ہوتا ہے ۔۔۔۔رقیہ تمھیں زرمینہ نے کھبی کچھ بتایا ہے اُس کا۔
۔
اماں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رقیہ بیگم کو دیکھا ۔۔۔۔۔جو کب سے بوکھلائے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔
“نہیں نہیں اماں میں تو نہیں جانتی اور نہ ہی زرمینہ نے کھبی اُس کا ذکر کیا ہے مجھ سے “
اپنے اندر کی گھبراہٹ پہ قابو پاتے ہوئے انہوں نے نورمل ہونے والے انداز میں کہا ۔۔۔۔مگر سامنے بیٹھا شخص اُن کے اندر کی کیفیت سمجھ چکا تھا ۔۔۔۔
۔
“رقیہ بیگم اگر ایسی کوئی بات ہے تو مجھ سے کھبی مت چھپانا ۔۔۔۔ایسا کیسے ممکن ہے کوئی زرمینہ کی مرضی کے بغیر یہاں پہ رشتہِ لے آئے “
انہوں نے اِس انداز میں کہا کہ رقیہ بیگم کی ٹانگیں کانپنے لگیں ۔۔اُن کے ماتھے پہ پسینے آنے لگے ۔۔
۔
” ابراہیم تم بھی بات کا بتنگڑ بنا لیتے ہو ۔۔۔۔انھوں نے کہا جو ہے اُن کی بیٹی کو اچھی لگ گئی تھی زرمینہ ۔اور جہاں بیٹی ہوتی ہے وہاں رشتے تو آتے ہی ہیں۔ اِس میں اتنا سوچنے والی کون سی بات ہے ؟ “
۔
بہو کی طرف دیکھتے ہوئے اماں نے بات کو سنبھالنا چاہا ۔۔۔۔انھوں نے بھی اپنے بال دُھوپ میں تو سفید کیے نہیں تھے ۔۔۔۔سمجھ تو وہ بھی سب کچھ رہیں تھیں۔ مگر بیٹے کے سامنے اپنی پوتی کا دفاع کر رہیں تھیں ۔۔۔۔۔
۔
“اماں میں وہ بات نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔بس اتنا کہے رہا ہوں کہ یہ اچھے سے سمجھا دے زرمینہ گل کو اُس کو میں نے صرف پڑھنے کے لیے بجھا ہے۔ اگر میں نے کوئی ایسی ویسی بات سنی تو اُسی وقت اُس کا یونیورسٹی میں اور اِس گھر میں آخری دن ہو گا۔ ۔۔۔۔اُسی دن رخصت کروں گا میں اُس کو اِس گھر سے “
انہوں نے اِس انداز میں کہا کہ باہر کھڑی لڑکی سے پسینوں کے سیلاب گرنے لگے۔ اُس کو لگا اگر وہ کچھ دیر اور وہاں کھڑی رہی تو وہیں پہ مر جائے گی ۔۔۔۔اُس کا سانس خلق میں ہی اٹکنے لگا ۔۔۔۔ہونٹوں پہ موت کی سی سفیدی ہونے لگی ۔۔۔۔جیسے کچھ ہی پل ہیں اُس کے پاس زندگی کے زندہ رہنے کے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھا ۔۔۔ہاتھ میں سیگریٹ پکڑے اپنی خوشیوں کے مرنے کا ماتم منا رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس کو اندازہ تھا وہ لوگ اتنی آسانی سے تو کھبی نہیں مانیں گے مگر ایسے منہ پہ انکار کرنا ۔۔۔۔۔۔
۔
“یا اللہ میرے لیے کچھ تو راستہ نکال “
اُس نے کانپتے ہونٹوں کے ساتھ سگریٹ لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
۔
اُس نے موبائل اٹھایا اور نمبر ملانے لگا جو کب سے اور کتنے وقتوں سے بند تھا ۔۔۔ایسی کوئی رات نہیں ہوتی تھی جب تک اُس کی آنکھیں کھلی ہوں اور وہ اُس کا نمبر نا ملاتا ہو ۔۔۔۔
۔
“سنو ملکہ وجدان کو ضرورت ہے تمہاری ۔۔۔۔سنا دو مجھے اپنی آواز کہ میرے دل کو سکون مل جائے ۔۔۔میرا اجڑا جہاں پھر سے آباد ہو جائے۔ میرے دل کی ویرانی ختم ہو جائے ۔۔۔۔ملکہ بس ایک بار بات کر لو فقط ایک بار کہ وجدان کی روکتی سانس پھر سے چلنے لگے “
وہ بالکنی میں کھڑا ۔۔ہاتھ میں سگریٹ پکڑے چاند کو دیکھ کے اُس سے باتیں کر رہا تھا ۔۔اُس کو اپنا حال دل بتا رہا تھا
۔
۔۔۔وہ جو سگریٹ اُس کے ہاتھ میں پکڑا تھا وہیں جھلسنے لگا ۔۔۔۔۔اُس نے وعدہ کیا تھا وہ اُس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کھبی سگریٹ نہیں پیے گا۔ وہ اپنا وعدہ وفا کر رہا تھا ۔۔۔سگریٹ کو ہاتھ میں پکڑے اپنی اُنگلیاں جلا رہا تھا ۔۔۔۔
۔
کیا ایسے بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔کیا خوشیاں اتنے تھوڑے وقت کی ہوتی ہیں؟ کچھ وقت پہلے میں دنیا کا خوش نصیب انسان تھا ۔۔۔اور ابھی جو کھڑا ہے وہ دنیا کا بد نصیب ترین انسان ہے ۔جو اپنی ہار کا ماتم اکیلے ہی منا رہا ہے ۔۔۔۔۔
۔
“کاش تم مجھے نا ملی ہوتی ، کاش میں نے تمہیں نا دیکھا ہوتا “
اُس نے بالکنی کی گرلیوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑا ۔۔اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔گلے کی رگیں باہر آنے لگیں۔ ۔۔۔جیسے اندر درد کا ایک طوفان بہرپا ہو ۔۔۔ضبط کی اب آخری حد ہو ۔۔۔۔۔
۔
“وجی”
“وجی “
اپنے نام کی آواز سنتے ہی گريل سے اُس کے ہاتھوں کی گرفت کم ہوئی۔ اُس نے ایک گہرا سانس لیا اور پیچھے مڑا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کانپتے جسم کے ساتھ اپنے کمرے میں آئی ۔۔۔۔۔زور سے دروازہ بند کیا ۔۔۔۔کانپتے ہاتھوں کے ساتھ جلدی جلدی کنڈی چڑھائی ۔۔۔۔۔اور وہیں دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔جیسے اگلا قدم اُس کے لیے چلنا مشکل ہو ۔۔۔۔
۔
اُس کی آنکھوں میں آج آنسوں نہیں تھے ۔۔۔۔دل میں درد نہیں تھا ۔۔۔۔۔شاید درد سے بڑا ڈر ہوتا ہے ۔۔۔۔شاید ڈر کی ازیت درد سے زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں میں ایک موت کی سی وہشت طاری ہونے لگی ۔۔۔۔سانسوں کی رفتار کم ہونے لگی۔ دھڑکن آہستہ آہستہ روکنے لگی ۔۔۔۔۔آنکھیں بند ہونی لگیں ۔۔۔دماغ اپنا کام چھوڑنے لگا ۔۔ ۔اور جسم وہیں زمین پہ ڈھیر ہونے لگا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپی وہ میری کھبی نہیں ہو سکتی “
وہ زمین پہ بہن کی گود میں سر رکھے بہن کو آج وہ حقیقت بتا رہا تھا جو اُس نے کھبی سوچی ہی نہیں تھی۔ جس کو سوچ کے ہی اُس کو تکلیف ہوتی تھی ۔۔۔۔آج وہ بات اپنے منہ سے بیان کر رہا تھا جو وہ خیال میں بھی نہیں لاتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“ایسے نہیں کہو وجی “
وہ بہن تھی ، بھائی کا دُکھ محسوس کر سکتی تھی ۔۔۔۔۔
۔
آپی میں نے اُس کے علاوہ کچھ نہیں مانگا تھا ۔۔۔۔۔۔میں نے کب کوئی خواہش اپنے لیے کی تھی ۔۔۔۔کب میں نے بولا تھا مجھے کچھ ملے ۔۔۔۔۔میں نے اُسی کو مانگا تھا بس صرف اُس کو ۔آپی وہ بھی نہ ملے تو ؟ تو پھر میری کیا زندگی ہے ؟
۔
“وجی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا تم دیکھنا ۔۔۔۔۔وجی کون ایک ہی دفعہ میں اپنی بیٹی دیتا ہے ۔۔۔۔۔کون ایک بار میں ہاں کرتا ہے “
وہ اُس کے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے اُس کو سمجھا رہی تھی اُس کو دلاسہ دے رہی تھی ۔۔۔۔
۔
آپی بات اُس کے ماں باپ کی نہیں ہے ۔۔بات ہماری ہے ۔بات اُس کی ہے اور بات میری ہے ۔۔۔۔آپ کو کیا لگتا ہے کیا ہمارا نکاح جائز ہے؟ کیا ہمارا نکاح عام لوگوں کے نکاح کی طرح ہو سکتا ہے ؟ آپی کچھ بھی تو ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے اپنے دل پے ہاتھ رکھتے ہوئے دانتوں کو میچ کے کہا۔ جیسے اُس کا درد اب غصے میں بدلتا ہو ۔۔۔۔۔
۔
کیوں نہیں ہے جائز وجی کافر اور مسلمان کی بھی شادی ہوئی ہے۔ فرعون کی بھی شادی تو ایک مسلمان عورت سے ہوئی تھی ۔۔۔۔ ۔ تم تو پھر بھی مسلمان ہو ۔۔۔۔۔ہم ایک کلمہ پڑھتے ہیں۔ اور جو کلمہ طیبہ پڑھ لے جو اپنی زبان سے خدا کی وحدانیت کا اقرار کر لے اُس کے محبوب کو آخری مان لے وہ مسلمان ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
۔
اور پھر قرآن پاک میں تم نے نہیں پڑھا ۔۔۔۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلۡيَوۡمَ اُحِلَّ لَـكُمُ الطَّيِّبٰتُ‌ ؕ وَطَعَامُ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا الۡكِتٰبَ حِلٌّ لَّـکُمۡ ۖ وَطَعَامُكُمۡ حِلٌّ لَّهُمۡ‌ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ مُحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ وَلَا مُتَّخِذِىۡۤ اَخۡدَانٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُهٗ وَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
ترجمہ:
آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا اُن کے لیے اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، بشر طیکہ تم اُن کے مہر ادا کر کے نکاح میں اُن کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامہ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا
القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة – آیت نمبر 5
۔
دیکھو وجی یہاں صاف صاف اللہ پاک نے لکھا ہے کہ ایک مرد ایک یہودی لڑکی سے بھی شادی کر سکتا ہے۔ بس شرط یہ ہوتی ہے وہ صرف شادی کرے اپنا ایمان اُس کے حوالے نہ کرے ۔۔۔۔۔۔اور جو بچے ہوں گے وہ اپنے باپ کے مذہب پہ چلیں۔۔۔۔۔وہ اپنی بیوی کی کسی بھی مذہبی تقریب میں نا جائے ۔۔۔۔اور بیوی یہودی ہے تو وہ بیوی کے ساتھ مندر نہ جائے ۔۔۔۔اگر بیوی عیسائی ہے تو وہ چرچ نہ جائے ۔اپنی بیوی کو جانے سے منع بھی نہ کرے ۔۔۔۔۔اور خود بھی نہ جائے اور نہ ہی اپنی اولاد کو چھوڑے ۔۔۔۔۔
۔
آپی یہاں بات یہودی اور مسلمان کی نہیں ہو رہی ۔۔۔۔۔نا وہ یہودی ہے اور نا عیسائی ہے ۔۔۔وہ مسلمان ہے ۔۔۔۔۔اور جو میں ہُوں ہمارا معاشرہ کھبی ہمارے رشتے کو قبول کرے گا ؟
آج کل کے لوگ تو ہمیں مسلمان بھی نہیں سمجھتے ۔۔۔ہمارا معاشرہ کھبی بھی ہمیں دونوں کو ساتھ قبول نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔
آپی اللہ پاک نے یہ آیت تب ہی تو نازل کی ہے نا کہ ہم لوگ سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ ایک ایک فرقہ تو نہیں لکھ سکتے کہ یہ لوگ سمجھ جائیں۔کہ ہندو ، عیسائی ، بریلوی ، دیوبندی سب سے شادی جائز ہے۔ ۔۔۔۔لوگ اُسی کی سمجھتے ہیں جو وہ پڑھتے ہیں ۔
۔
آپی سب کچھ لکھا ہے مگر یہ کہاں لکھا ہے ایک شیعہ سُنی کا نکاح جائز ہے ؟
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زری “
“زری دروازہ کھولو کب سے تمھیں آوازیں دے رہی ہُوں میں “
“زری “
“کیا ہوا ہے اماں “
دیکھو نا شہاب کب سے دروازہ کھٹکھٹا رہی ہوں مگر زری دروازہ ہی نہیں کھول رہی ۔۔۔۔اور نہ ہی کچھ جواب دے رہی ہے ۔۔۔۔
۔
انھوں نے اپنی ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
“اماں نا پریشان ہوں آپ سوئی ہو گی وہ تب ہی نہیں بول رہی “
“اتنی بھی کیا گہری نیند ۔۔۔۔میرے تو دل کو کچھ ہو رہا ہے خدا خیر کرے ۔۔۔اللہ سب ٹھیک کرے بس “.
۔
“زری “.
وہ دروازہ زور زور سے کھٹکھٹانے لگا جیسے اُس کے بھی دل نے ایک بری خبر کا الہام دیا ہو ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے اتنا زور زور سے کیوں چلا رہے ھو تم ماں بیٹا ” .
اب کی بار اُن کی آوازوں پہ ابراہیم صاحب اپنے کمرے سے باہر آئے تھے ۔۔اور وہیں کھڑے ہو گے جہاں پہلے سے وہ دونوں کھڑے تھے ۔۔۔
۔
“زرمینہ دروازہ نہیں کھول رہی ہے نا ہی کچھ بول رہی ہے “
اماں کا ضبط ایک دم جواب دے گیا اور وُہ روتے روتے اُن کو بتانے لگیں
۔
“سلطان “
“ج۔۔۔ج۔۔۔جی بابا جان “
وہ جو باہر سے ابھی ہی اندر آیا تھا باپ کی آواز پہ دوڑتا دوڑتا اُن کے پاس آیا۔ ۔۔
۔
“بھائی کے ساتھ مل کے دونوں دروازہ توڑو “
نا جانے اُن کے دل میں کیا اٹکا تھا ۔۔۔جو بغیر سنے اور بغیر کچھ بولے انھوں نے دروازہ توڑنے کا حکم صادر کر دیا تھا ۔۔۔۔
۔
“بابا جان میرے کمرے میں دوسری چابی ہے اِس کی میں لاتا ہوں “
وہ بھاگتا بھاگتا اپنے کمرے میں گیا اور چابی کے ساتھ واپس آیا ۔۔۔۔
۔
“جلدی کھولو سلطان جلدی کرو “
“جی جی اماں آپ پریشان نہیں ہوں میں کھولتا ہوں “
اُس نے ماں کی طرف دیکھا اور زور سے دروازہ پیچھے کیا ۔۔۔
۔
“زرمینہ میری بچی “
وہ جلدی جلدی اُس کے پاس گیں جو دروازے کے ساتھ بے جان لیٹی تھی ۔۔۔۔آنکھیں بند تھیں۔ ۔۔۔۔منہ سے سفید جھاگ نکل رہی تھی۔ ۔۔۔جسم نے حرکت کرنا چھوڑ ہوا تھا ۔۔۔۔
۔
“زرمینہ “
اُس کو ایسے پڑا دیکھ کے سب اُس کے پاس زمین پہ بیٹھے ۔۔۔۔آج پہلی دفعہ ابراہیم صاحب کے ہاتھ کانپے ۔۔۔اگر اُن کا بیٹا ایسے اُن کے سامنے پڑا ہوتا تو وہ صبر کر لیتے مگر یہ اُن کی بیٹی تھی جو اُن کے سامنے زمین پہ پڑی تھی۔ ایک مرد اپنی بیٹی سے زیادہ اِس دنیا میں کسی عورت سے محبت نہیں کرتا۔ ۔۔۔۔۔بیٹی کے لیے اُس کے دل میں ایک خاص محبت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔وہ اُس کے پاس زمین پہ بیٹھے ۔۔۔۔
بغیر بولے ۔۔۔۔بغیر کچھ سنے آج ایک باپ اپنی بیٹی کو دیکھ رہا تھا۔ اُس کی بند آنکھیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔اُس کے منہ سے نکلتی سفیدی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“شہاب اٹھاؤ بہن کو ، سلطان گاڑی نکالو “
وہ اُس وقت انِ دو جملوں سے آگے کچھ نا بول سکے ۔۔۔۔۔۔وہ جو ایک سخت انسان تھا جس کے سامنے بولتے ہوئے سو بار سوچنا پڑتا تھا ۔۔۔اِس وقت وہ صرف ایک باپ تھا ایک بیٹی کا باپ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وجی تم نے اُس کو کیوں نہیں بتایا پہلے کے ہمارا کیا مسلک ہے کیا سوچ ہے “
فاطمہ نے اُس کو طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔جو زمین پہ پڑے آنکھیں بند کئے لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔
۔
“آپی میں نے صرف محبت کی تھی اُس سے اُس کے آگے مجھے کچھ نظر نہیں آیا۔ ۔۔۔مجھے پتا ہی نہیں چلا میں کون ہوں”
اُس نے اپنا ہاتھ اپنے سر پہ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“وجی کیا وہ لڑکی بھی تم سے اتنا ہی کرتی ہے ؟ “
۔
“پتا نہیں آپی وُہ مجھ سے محبت کرتی بھی ہے یا نہیں “
۔
اُس نے ایک بار پھر آنکھوں کو بند کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
۔
کیا مطلب ہے پتا نہیں ؟ جتنی محبت تم اُس سے کرتے ہو اُس کے بھی دل میں اللہ نے کچھ نا کچھ تو ڈالا ہو گا نا ۔۔۔۔۔۔اور پھر اُس کا کال پہ بات کرنا ۔۔۔۔۔جتنا تم اُس سے کرتے ہو وہ بھی تو تمہاری طرف کھیچتی ہو گی نا ۔۔۔۔۔کوئی محبت سے منہ نہیں موڑ سکتا ہے وجی ۔۔۔تم نے اپنے بارے میں نا بتا کے اُس پہ ظلم کیا ہے ۔۔۔۔۔اب تم پیچھے ہو رہے ہو تو اُس کا فائدہ بھی کیا ہے ؟
۔
“آپی آپ کو کس نے کہا ہے میں پیچھے ہو رہا ہوں ؟”
اُس نے اُن کی گود سے سر کو اوپر کرتے ہوئے کہا ۔
۔
تمھارا اگلا قدم اٹھانے کا کوئی جواز بھی نہیں بنتا اب ۔مجھے تو پتا ہی نہیں تھا تم نے اُس کو نہیں بتایا ہوا اپنا ۔۔۔اپنے خاندان کا ۔۔۔۔۔اپنی سوچ کا ۔۔۔
۔
“آپی میں کیا کروں گا اب “
اُس نے اُس کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے وہ پوچھ رہا ہو ۔۔۔۔بچوں کی طرح رائے لے رہا ہو ۔۔۔۔
۔
جتنا تم نے کر لیا ہے نا وجی اتنا ہی بہت ہے ….ایک عورت کسی مرد کی طرف تب تک ماہل نہیں ہوتی جب کے کہ وہ مرد ایسی صورت حال نہ بنا لے ۔۔۔۔عورت مرد کی دی جانے والی عزت کو بھی محبت سمجھ لیتی ہے ۔۔۔۔اور پھر تم نے تو اُس سے محبت کی ہے وجی شدید محبت ۔۔۔۔اب تمھیں اپنا ہی نہیں اُس کا بھی سوچنا ہے ۔ایک عورت کھبی محبت نہیں کرتی کھبی مرد ذات کو منہ نہیں لگاتی۔ ۔مگر جب اُس کو محبت ہو جاتی ہے نا وہ کھبی پیچھے نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔کھبی اُس محبت کو بھول نہیں پاتی ۔۔تمھیں پتا ہے وجی ۔۔۔اُس کی زندگی کے وہ پل کیسے ہوں گے جب تم دونوں نے بات کی ۔۔۔۔۔۔وہ مر تو جائے گی مگر وہ ایک ایک بات ایک ایک لمحہ کھبی بھی نہیں بھُولے گی ۔۔۔۔۔پہلے تو تمہیں خود پتا تھا تم کیا ہو۔ تم ایسی صورت حال ہی نا پیدا کرتے کہ وہ تمہاری محبت کو اپنے دل میں قبول کرتی۔ اب جب کہ اُس نے اعتراف کیا ہے خدا کے حضور تم سے محبت کا اقرار کیا ہے ۔۔۔۔اب تم کہتے ہو یہ سب ممکن نہیں ۔ممکن تو اج سے ایک سال پہلے بھی کچھ نہیں تھا۔ ۔۔۔پھر تم نے ایسی چیزیں کیوں کی کہ ایک لڑکی جو کھبی نا محرم کو منہ بھی نہیں لگاتی تھی۔ ۔۔۔۔وہ تمہارے لیے سوچنے لگی۔ ۔۔۔کیا تمہیں یہ سب اُس وقت نہیں پتا تھا ۔۔۔۔
۔
“آپی میں نے کوئی وعدہ نہیں کیا اُس سے”
اُس نے ایک درد ایک قرب سے بہن کو کہا ۔۔۔
۔
وعدہ نہیں کیا؟ کیا جب ہم وعدے ہی کرتے ہیں تو رشتہِ تب ہی بنتا ہے ۔کیا وعدے کے بغیر تم اُس لڑکی کے گناہگار نہیں ہو ۔۔۔۔۔جو تمہارے سامنے اپنی محبت ہاری ہے ۔۔۔۔۔جس نے تمہارے لیے دنیا کی ہر چیز داؤ پہ لگا دی ۔۔۔۔جس نے اپنے باپ کی عزت سے آگے تمھیں رکھا ۔۔۔۔۔جو خدا کی گناہگار ہوئی راتوں کو جاگ جاگ کے تم سے بات کی ۔۔۔۔۔کیا تم اُس کے گناہگار نہیں ہو ؟ جس نے خدا کی محبت میں تمھیں بھی اپنے دل میں مقام دیا ۔۔۔۔۔اب تم کیا کر رہے ہو ، اُسکے جذبوں کی تذلیل ۔۔۔۔۔؟
بیشک ہر محبت کرنے والے کا انجام شادی نہیں ہوتا ۔۔۔۔مگر اُس کی عزت کرو وجی ۔۔۔۔۔اُس کی تم سے کی جانے والی ایک دن کی محبت کی بھی عزت کرو۔۔۔۔۔ایک لڑکی اپنی محبت کو کھبی بھی نہیں بھولتی ۔۔۔۔۔اُس کے بس میں نہیں ہوتا ۔۔۔۔
ہاں اُس کی محبت خاموش ضرور ہو جاتی ہے۔ وہ چپ ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔مگر اُس کا دل ۔۔۔۔پتا ہے وجی وہ دن رات مرتی ہے ایک ایک پل میں ہزار بار مرتی ہے ۔۔۔۔۔ مگر مرد کھبی نہیں سمجھتا ۔۔کتنا آسان ہوتا ہے نا اُن کے لیے محبت بھی کرنا اور پھر چھوڑ بھی دینا۔ ۔۔۔۔قریب بھی ہونا اور پھر دستبردار بھی ہو جانا ۔۔۔۔۔
۔
نہیں آپی ایسا کچھ نہیں ہے میں اُن مردوں میں سے نہیں ہوں جو چھوڑ دوں گا دستبردار ہو جاؤں گا ۔۔۔میں مر کے بھی اپنی آخری سانس تک اُس کو نہ چھوڑوں ۔۔۔۔۔یہ تو میری ایک زندگی ہے اگر مجھے ہزار زندگیاں بھی مل جائیں نا پھر بھی یہ دل اُس کے نام پہ دھڑکے گا ۔۔۔۔
۔
“وجدان اُسی کا ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔۔۔..زندگی کی آخری سانس تک ، قبر میں رسائی تک “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر صاحب کیا ہوا ہے میری بیٹی کو ؟”
ہسپتال کے بیڈ پہ پڑی بےہوش بیٹی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پوچھا ۔۔۔۔۔ پچھلے دو گھنٹوں سے وہ اب تک ہوش میں نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔
۔
سواتی صاحب آپ کی بیٹی نے بہت زیادہ اسٹریس لیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔یہ تو آپ وقت پہ لے ائے
ہیں ورنہ اُنکو بریں ہیمرج کا خطرہ تھا ۔۔۔۔۔اب ایسا ہے کہ آپ کل تک انِ کو یہیں رکھیں ۔۔۔۔۔۔
ابھی ہم انِ کو انڈر اوبسرویشن ہی رکھیں گے۔۔۔۔۔آج کی رات آپکو زحمت ہو گئی یہاں ۔۔۔۔
۔
نہیں نہیں ڈاکٹر صاحب زحمت کیسی میں خود یہاں رہوں گو۔ ۔آپ بتائیں مسئلے والی تو کوئی بات نہیں نا؟
۔
میں آپ کو ابھی کچھ بھی نہیں کہے سکوں گا۔ آپ کوشش کیجے گا انِ کو خوش خوش رکھنے کی۔ ورنہ انِ کے لیے بہت مشکل ہو جاۓ گا۔ اور جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
۔
جی جی ڈاکٹر صاحب بہت خیال رکھوں گا میں اس کا ۔۔۔۔
انہوں نے بیٹی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو ابھی بھی آنکھیں بند کیے ایک الگ دنیا کا سفر طے کر رہی تھی۔
۔
“زرمینہ تم ٹھیک ہو جاؤ بس باقی سب میں خود ٹھیک کر دوں گا “
انہوں نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے دل میں کہا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: