Hijab Novel By Amina Khan – Episode 35

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 35

–**–**–

“سر پلیئر آج آپ ہماری ایک کلاس لیں ہمیں ایک ٹاپک کلیئر کر لیں ۔۔میم نے کیا تو ہے مگر ہم سب چاہتے ہیں آپ ہمیں ایک دفعہ کروا دیں “
مدثر نے اُس کو آفس سے باہر کھڑا دیکھ کہ کہا ۔۔۔
۔
“جی ٹھیک ہے بلا لیجے گا آپ مجھے پھر “
وہ ایسے بھی کھبی سٹوڈنٹس کو انکار نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔ہر ایک کی بات کا مان رکھتا تھا ۔۔۔۔۔ہر ایک کی بات کو تسلی سے سنتا تھا ۔۔۔۔وہ یونیورسٹی کا ہی ہیرو نہیں تھا ۔۔۔۔بلکہ ہر دل اُس کی قدر کرتا تھا اُس کا احترام کرتا تھا ۔۔۔۔۔وہ تھا ہی ایسا عزتوں کے قابل ۔۔۔۔
۔
“یا اللہ تیرا شکر ہے۔۔۔ “
مدثر کے جاتے ہی وہ اپنے آفس میں گیا ۔۔کُرسی پہ بیٹھا ۔۔۔ٹیک لگائی۔ ۔آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگا ۔وہ تو کب سے چاہتا تھا وہ اُس کی کلاس میں جائے ۔تین دنوں سے اُس نے اسکو دیکھا نہیں تھا ۔نا جانے کیا ہوا تھا وہ کیوں نہیں آتی تھی ۔۔۔اُس کو ایک لمحے کو سکون میسر نہیں تھا ۔۔۔۔اُس کی نگاہیں ہر وقت اُس کی ڈھونڈتی تھیں ۔۔۔۔۔۔مگر وہ ۔۔وہ کہیں بھی نہیں ملتی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سواتی تھا ایک پٹھان تھا ۔۔۔عزت سے آگے اُن کو کچھ بھی عزیز نہیں ہوتا۔ ۔کوئی رشتہ نہیں کوئی مقام نہیں کوئی نام نہیں ۔۔۔۔عزت کے نام پہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں کچھ بھی ۔۔۔۔مگر آج وہ ایک باپ تھا صرف ایک باپ ۔اُس بیٹی کا باپ جو پچھلے تین دن سے ہوش میں نہیں آئی تھی ۔۔۔۔
۔
“زرمینہ گل”
وہ جب بھی دیکھتا کوئی اُس کو نہیں دیکھ رہا ۔۔۔کوئی اُس کمرے میں موجود نہیں ہے ۔۔۔۔بس اُس کے سامنے آنکھیں بند کیے اُس کی بیٹی پڑی ہے ۔۔۔۔تو وہ اُس کے پاس بیٹھ جاتا ۔۔۔۔اُس کا وہ نورانی چہرہ دیکھتا جو اِس حالت میں بھی چمک رہا ہوتا ۔۔۔۔۔
وہ اُس کو دیکھتا رہتا بغیر کچھ بولے اُس کو ایسے دیکھتا جیسے آج وہ اپنی بیٹی کو آخری بار دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔
وہ ایک مرد تھا وہ رو نہیں سکتا تھا ۔۔۔مگر وہ ایک باپ تھا نم آنکھوں کے ساتھ اپنی بیٹی کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتا ۔۔۔۔اُس کے پاس ہوتا ۔۔۔۔اور آرام سے “زرمینہ گل ” کہتا اور پیچھے ہو جاتا ۔۔۔۔
پھر سامنے پڑی اُس لاش کو دیکھتا رہتا جو جانے کب اٹھے گی کب اپنے سر کا دوپٹا ٹھیک کرے گی اور بوکھلائے ہوئے جلدی جلدی جی ۔۔جی بابا جان بولے گی ۔۔۔۔
۔
ایک مرد دو ہی عورتوں سے ہارتا ہے ایک اپنی محبوبہ سے اور دوسرا اپنی بیٹی سے ۔۔۔۔محبوبہ کا نشہ پھر بھی ا اُتر جاتا ہے ایک وقت ہوتا ہے جب اُس کی محبت کا سحر اتر جاتا ہے ۔۔۔۔مگر بیٹی سے محبت ۔۔۔۔وہ مر کے بھی اپنے دل سے نہیں نکال سکتا ۔۔۔۔وہ دنیا کے ہر رشتے کو تکلیف میں دیکھ سکتا ہے ۔۔۔مگر بیٹی وہ واحد رشتہ ہوتا ہے جو مرد کو رونے پہ مجبور کر دیتا ہے ۔۔۔
تب ہی کہتے ہیں کوئی مرد کھبی کسی عورت کی بددعا نا لے۔ ۔۔کیوں کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے ۔ایک مرد کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک غلط لفظ اُس کی بیٹی کے آگے اتا ہے ۔چاہے وہ بیٹی کتنی ہی بیقصور کیوں نہ ہو ۔۔۔اُس کو اپنے باپ کی کہی ہوئی ایک ایک بات کا قرض چکانا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔
۔
آج تیسرا دِن تھا اور ابراہیم سواتی نے پلک بھی نہیں چپکھی تھی ۔۔۔۔۔اُن کی بیٹی بِستر مرض پہ تھی۔ اور وہ اُس کو جاتا دیکھ رہے تھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر میں اندر آ جاؤں ؟
۔
“يس کم انِ”
اُس نے دروازے کے پاس کھڑی لڑکی کو دیکھا ۔۔۔۔کمیوٹر سے سر اٹھایا اور پیچھے ہو کے بیٹھ گیا ۔۔۔
۔
“سر مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے “
“جی ہانیہ بولیے “
اُس نے ایک بار نظر اٹھا کے اُس کو دیکھا اور پھر آگے ہوا کمپیوٹر پہ کچھ ٹائپ کرنے لگا ۔۔۔۔
۔
“سر وہ ۔۔۔۔۔سر میں یہ کہنا چاہتی ہوں ۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔”
نظریں جھکائے ہاتھوں کو مسلتی وہ اُس کے بلکل سامنے کھڑی تھی ۔۔
۔
“کہیے ہانیہ میں سن رہا ہوں”
اُس نے لمحے بھر کو اُسے دیکھا اور پھر ہاتھوں کو چلانے لگا ۔۔۔۔
۔
“سر میں بہت پسند کرتی ہوں آپکو آپ سے شا۔۔۔۔۔۔۔”
وہ کہنے ہی لگی تھی کہ اُس نے اپنی نظریں کمپیوٹر سے اٹھائیں ۔۔۔۔اُس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اُس کے چہرے کا رنگ بدلا ۔۔۔۔۔آنکھوں میں عجیب سی ناگواری آئی ۔۔۔۔
“کیا کہے رہی ہیں آپ یہ ؟”
اُس نے اُسی ناگواری سے اُس کو دیکھا اور غصے سے بولا۔
“سر پلیز……”
اُس نے احتجاج کرنے والے انداز میں اُس کو کہا۔ ۔۔۔
۔
“آپ جا سکتی ہیں یہاں سے محترمہ “
اُس نے بغیر اُس کی بات سنے اُس کو ہاتھ سے باہر جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔
۔
“سر پلیز میری بات تو سنئیں “
“میں آپ کی کوئی بات نہیں سننا چاہتا ۔۔آپ اگر نہیں جا رہی یہاں سے تو میں ہی چلا جاتا ہوں”
اُس نے اپنی کُرسی پہ دونوں ہاتھ رکھے اور اوپر ہوا ۔۔۔۔وہ اٹھنے ہی لگا تھا کہ وہ روتے ہوئے آفس سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔۔
۔
اُس کے جاتے ہی وہ کُرسی پہ پیچھے ہو کے بیٹھا ۔۔۔۔۔وہ جانتا تھا محبت اور اُس کا درد ۔۔۔۔وہ اُس کے ساتھ ایسا کوئی رویہ نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔جس کی وجہ سے اُس کو تھوڑی سی بھی آس ہو ۔۔۔۔۔وہ جانتا تھا اُس کا نرم انداز بات کو کسی اور طرف ہی لے جائے گا۔ ۔۔۔وہ چاہتا تھا وہ اُس سے نفرت کرے صرف نفرت ۔۔۔۔کوئی لڑکی اُس سے محبت نہ کرے کسی لڑکی کو اُس کی وجہ سے کوئی دُکھ نہ ہو۔ کوئی تکلیف نا ہو ۔۔۔۔۔
وہ اپنا رویہ ایسا رکھتا تھا کوئی لڑکی چاہ کے بھی اُس سے اظہارِ محبت نہ کرے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“رقیہ کیا ہوا ہے زرمینہ کو ؟یوں اچانک کیا ہو گیا کہ وہ اب تک ہوش میں ہی نہیں آئی ہے “
۔
ابراہیم صاحب نے ہسپتال کے کمرے میں کھڑے ہوئے اُس سے پوچھا جس میں بات تک کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ اُس کی بیٹی اُس کے سامنے مردہ پڑی تھی ۔۔۔۔۔وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مری ہوئی تھی ۔۔۔۔
۔
“وہ لڑکا …..وجدان “
وہ اپنے شوہر کے سامنے کھڑی تھیں ۔ آج اُن کی ٹانگیں نہیں کانپ رہی تھیں ۔۔۔۔۔ڈر سے بڑا درد ہوتا ہے۔ آج اُن کو کسی چیز کا کوئی ڈر نہیں تھا آج اُن کو بس درد تھا ۔۔۔اپنی بیٹی کا درد ۔۔۔۔۔۔وجدان کا نام لیتے ہی وُہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگیں ۔۔۔۔بیٹی کی اِس ازیت میں کچھ تو ہاتھ اُن کا بھی تھا ۔۔۔۔اُن کو اُسی بات کا غم تھا ۔۔۔۔انھوں نے کیوں کیا تھا اُس کے ساتھ ایسا ۔۔۔۔۔وہ اُس کا موبائل اپنے ہاتھ میں پکڑے بیٹھتی رہتیں کہ اب اُن کی بیٹی کی آنکھ کھلے اور وہ اُس کو موبائل دیں ۔۔۔خود کہیں ہاں کرو تم اپنے وجدان سے بات۔۔۔۔۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔۔اُن کا تڑپنا مقدر میں لکھ دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ۔۔۔۔کیا مطلب ۔۔۔۔لڑکا ؟ وجدان ؟”
انہوں نے بات کو کاٹ کاٹ کے بیان کیا ۔۔۔۔جیسے وہ کچھ سمجھ نہ پا رہے ہوں ۔۔۔۔۔جیسے اُن کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہو ۔۔۔۔وہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گے ۔۔۔۔اُن کے ذہن میں اُس دن کا منظر چلنے لگا ۔۔۔
۔
“میرا بیٹا ہزارہ یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سید وجدان حسین شاہ “
بار بار اُن کے ذہن میں یہی دو جملے گھجنے لگے ۔۔۔۔جیسے کسی نے اُن کے سامنے tv لگایا ہو اور بار بار ایک ہی بات دہرائی جا رہی ہو ۔۔۔
۔
“ک۔۔۔ک ۔۔۔۔کیا ہوا ہے آپکو “
وہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ زمین پہ بیٹھیں ۔۔۔۔۔اُن کا پسینہ اپنے دوپٹے سے صاف کرنے لگیں ۔۔۔۔۔آج سے پہلے انھوں نے اپنے شوہر کو اِس حالت میں نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔وہ پہلی بار تھی جب ابراہیم خان سواتی ہارا تھا اپنی لخت جگر کے ہاتھوں ہارا تھا ۔۔۔۔
وہ آج کسی بیوی کا شوہر نہیں تھا ۔کسی کا بیٹا نہیں تھا ۔۔۔۔دنیا میں سر کو اٹھا کے چلنے والا مرد نہیں تھا ۔۔۔۔۔وہ آج صرف ایک باپ تھا ایک بیٹی کا باپ ۔۔۔جو زمین پہ بیٹھا تھا ۔۔۔۔جس کی گردن جُھکی تھی۔ آنکھوں میں سُرخی تھی۔ دل میں آنسوؤں کا سیلاب تھا ۔۔۔وہ یقیننا اِس وقت بھوٹ بُھوت کے روتا اگر اُس کو دیکھنے والی پاس اُس کی بیوی بیٹھی نا ہوتی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زری کہاں ہو تم “
وہ جو اُس کی کُرسی پہ آج بھی کسی کو نہیں بیٹھنے دیتی تھی ۔۔۔۔۔اُس کی خالی جگہ کو دیکھ کے اُس کو بلانے لگی ۔۔۔۔جیسے وہ کہیں گم ہوئی ہو جیسے وہ اُس سے بہت دور چلی گئی ہو ۔۔۔۔جیسے اب اُس کی واپسی نا ممکن ہو ۔ وہ اُس خالی کُرسی کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔جو اب شاید خالی ہی رہنی تھی
۔
“چپ چپ وجدان سر آ رہے ہیں “
کلاس کی رونقیں اپنے عروج پہ تھیں ہر کوئی ہسی مذاق کر رہا تھا ۔بچوں کی طرح لڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس کلاس میں اج صرف دو لوگ ہی خاموش تھے ۔۔دو لوگ ہی دُکھی تھے ۔۔۔۔
فضہ اور ہانیہ۔۔۔۔
فضہ کو دوست کی جُدائی کا گم تھا اور ہانیہ کو محبوب کی بیوفائی کا ۔۔۔۔
۔
اُس کو آتا دیکھ کے خرم نے اونچی آواز میں سب کو خاموش ہونے کا کہا ۔۔۔۔
وہ آج اپنے انداز میں بھاگتا ہوا نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔وہ آنکھوں میں ایک ہجر لیے ۔۔۔ہاتھ میں موبائل پکڑے ایسے چل کے آ رہا تھا جیسے کوئی ناکام عاشق اپنی محبت کی ناکامی کے بعد چلتا ہو ۔۔۔۔
۔
“اوئے یہ سر وجی کو کیا ہوا ہے “
“بلکل مجنو لگ رہا ہے بندہ “
۔
“یارا سر کو کھبی بھی ایسے تو نہیں دیکھا “
۔
“جناب کو کوئی روگ لگا ہے جی “
۔
“ہائے میرا ہیرو “
۔
اُس کو آتا دیکھ کے ہر کوئی ایک دوسرے کے کان میں کچھ نہ کچھ کہے بغیر نا رہ سکا ۔۔۔۔کوئی اُس کو مجنوں کہتا تو کوئی شہزادے کا خطاب دیتا ۔۔۔۔
جب بھی وہ کلاس میں آتا ہر کوئی اُسی کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ۔۔۔۔
آج بھی ایسا ہی تھا وہ بلیو شرٹ کے نیچے گرے جینز پہنے ہوئے تھا۔ شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک چڑھائی ہوئی تھیں ۔ایک ہاتھ پہ گھڑی اور دوسرے پہ لال رنگ کے دو تین دھاگوں کے ساتھ ایک کڑا ڈالا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔یہ سب کچھ اس کی شخصیت کو اور بھی دل فریب بنا رہے تھا۔۔۔۔۔
۔
کلاس میں آتے ہی اُس نے سب کو سلام کیا ۔۔۔۔وہ ایسا ہی تھا سٹوڈنٹس کے سلام کرنے کو نہیں دیکھتا تھا بلکہ کلاس میں آتے ہی اُن کو سلام کرتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
اُس کے سلام کے بدلے میں سب نے کھڑے ہو کے اُس کا استقبال کیا ۔۔۔۔۔بچوں کی طرح اونچی آواز میں اُس کے سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔۔۔جب بھی وہ کسی کلاس میں جاتا چاہے وہ جس لیول کی بھی کلاس ہوتی وہاں پہ بیٹھا ہر سٹوڈنٹ خود کو بچہ سمجھتا ۔۔۔۔۔وہ ایسا تو نہیں تھا کہ سٹوڈنٹس اُس کے ساتھ فری ہو جائیں ۔۔ وہ ایسا تھا کہ اُس کے ہوتے سٹوڈنٹس کو اپنی سٹوڈنٹ لائف اچھی لگنے لگتی ۔۔۔۔
کلاس میں آتے ہی وہ اپنی اُسی جگہ کھڑا ہوا جہاں وہ ہمیشہ کھڑا ہوتا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
“کاش زری تو بھی ہوتی یہاں دیکھتی تیرے خان صاحب کتنے اچھے لگ رہے ہیں “
فضہ نے ایک نظر اُس شخص پہ ڈالی اور دوسری اُس کُرسی پہ جو آج بلکل خالی تھی جہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔
۔
“کیسے ہیں آپ سب ؟”
اُس نے ایک نظر پوری کلاس میں ڈالی اور پیکھی سی مسکراہٹ کے ساتھ سب سے پوچھا ۔۔۔
ایک نظر ڈالتے ہی اُس نے اُسکی خالی کُرسی دیکھی ۔۔۔۔اُس کا دل ایک بار پھر ڈوبنے لگا ۔۔۔اُس کو لگا جیسے اب وہ وہاں نہیں روک پائے گا ۔۔۔۔
“وجدان بھاگ جا یہاں سے کون ہے یہاں جس کے لیے تو یہاں کھڑا ہو ۔۔۔کون ہے جس کی خوشبو تجھ تک آئے ۔۔۔۔آخر ہے کون تیرا یہاں ۔۔۔جا چلا جا یہاں سے ۔۔۔روپُوش ہو جا کہیں ۔۔۔ماتم منا اكلیے میں ” ۔
۔
وہاں کھڑے کھڑے اُس کے اندر سے اُس کو آوازیں آنے لگیں۔ وہ خود تو وہاں کھڑا تھا مگر اُس کا دل وہ تو کہیں اور ہی تھا ۔۔۔۔۔وہ اُس کی نقاب میں خوبصورت آنکھوں کو دیکھنے کے لیے ترس گیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ نظریں جھکائے کلاس میں ایک مکمل خاموشی میں کھڑا تھا ۔ہر کوئی خاموشی سے سامنے کھڑے مجنوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔آنکھوں کے اشاروں میں اُس کا حال دل ایک دوسرے کو بتا رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ٹاپک تھا “
اُس نے نظریں اٹھاتے ہوئے سامنے بیٹھے چہروں کو دیکھا ۔۔۔۔جو حیرت سے اُس کو دیکھے جا رہے تھے ۔۔۔۔
۔
“بندے کو بڑا روگ لگا ہوا ہے “
مدثر نے ساتھ بیٹھے اقاش کے کان میں کہا ۔۔۔
۔
“چپ کر جا سن لیا نا تو ذلیل کرنے میں بھی کوئی قصر نہیں چھوڑتا یہ”
اُس نے آرام سے نیچے دیکھتے ہوئے اُس کو کہا ۔۔۔۔
۔
وہ ہمیشہ لیکچر کے دوران کلاس کا ایک چکر لگایا کرتا تھا ۔۔۔۔مگر آج اُس نے بورڈ کا استمعال بھی نہیں کیا تھا ۔۔۔جہاں کھڑا تھا وہیں کھڑے ہوئے بولتا رہا ۔۔۔۔۔جیسے وہ زبردستی بول رہا ہو ۔۔۔۔۔اپنی جان چھوڑا کہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتا ہو ۔۔۔۔۔
۔
“جی کسی کو کچھ پوچھنا ہے ؟ “
ٹاپک کو کسی طرح ختم کرنے کے بعد ایک بار پھر وہ کلاس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔اُس کو پتا تھا کسی کو ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔پھر بھی اُس نے پوچھ لیا ۔ویسے بھی اُس کے سامنے بیٹھے لوگ کہاں اُس کو سنتے تھے وہ تو بس اُس کو دیکھا کرتے تھے ۔۔۔۔
۔
“جی سر سمجھ آ گئی “
سب نے احترم میں سر ہلایا ۔۔۔۔
اُس کو یہ دیکھ کہ عجیب سا دُکھ ہوا اُس کو پتا تھا آج اُس کا بولا ہوا کسی ایک کو بھی سمجھ نہیں آیا ۔۔کیوں کہ اُس کو خود نہیں پتا اُس نے کیا بولا تھا ۔۔۔وہ تھا کہاں ۔۔۔کیا بول رہا تھا
۔
آپ سب لوگ میرے بہن بھائیوں جیسے ہیں میرے لیے بہت قابلِ قدر ہیں آپ سب ۔۔۔۔۔۔یہاں موجود ہر لڑکی میری بہن ہے ۔۔۔ہر لڑکا میرا بھائی ہے۔
۔
ٹاپک کے بعد اُس نے یہ سب کہنا بہت ضروری سمجھا تاںکہ وہاں بیٹھی ہانیہ کو اُس کا جواب مل جائے ۔۔۔
آخری بات کہتے ہوئے اُس نے ہانیہ کو دیکھا ۔۔۔۔جو آنکھوں میں شدید نفرت لیے اُسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
۔
“سر سب آپ کی بہنیں ہیں ؟ “
اُس نے اپنی نفرت کسی طرح باہر نکالنی تھی۔ ۔۔۔اُس کی بات پہ اُس نے ایک طنزیہ سا سوال کیا ۔۔۔
۔
“جی ہاں ہانیہ یہاں موجود ہر لڑکی میری بہن ہے “
اُس نے بھی اسی تیکھے سے انداز میں اُس کو جواب دیا ۔۔۔۔وہ بھی وجدان شاہ تھا رویوں کا جواب اُس کو دینا خوب آتا تھا ۔۔۔۔
۔
“سر اِس کا مطلب یہ ۔۔جو لڑکیاں یہاں نہیں موجود وہ آپ کی بہنیں نہیں ہیں “
اُس نے تھیکھی سی مسکراہٹ کے ساتھ ایک بار پھر سوال کیا ۔۔۔
۔
“کیا مطلب ہے جی “
اب کی بار وہ اور کلاس میں موجود ہر سٹوڈنٹ اُس کا طنز سمجھ چکے تھے ۔۔۔کہ۔وہ کس کی بات کر رہی ہے ۔۔۔۔
۔
“سر آپ ہی نے بولا یہاں موجود ہر لڑکی آپ کی بہن ہے تو یہاں جو موجود نہیں تو کیا وہ آپ کی بہنیں نہیں ہیں ؟ “
پھر سے وہی تلخ لہجہ وہی طنز لیے وہ زہر اُگھل رہی تھی ۔۔۔۔جو اُس کے اندر بھرا پڑا تھا ۔۔۔۔
۔
“آج تو زرمینہ ہی نہیں ہے محترمہ آپ نے جو بات کرنی ہے وہ کھول کے کریں “
فضہ نے ایک نظر وجدان کو دیکھا جو شاید کچھ بول نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔اُس کا جواب اُس نے دینا انتہائی ضروری سمجھا ۔۔۔۔۔وہ ایسی ہی تھی اُس کی ڈھال بن جاتی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو کھبی اکیلا نہیں چھوڑتی تھی ۔۔دوستی کا حق ادا کرتی تھی ۔۔۔ویسے بھی جو دوستی کا حق ادا نہ کر سکے اپنے دوست کی ڈھال نہ بن سکے۔ اُس کو دوستی کرنے کا حق ہی نہیں ہوتا ۔۔۔۔کنارہ کشی بہتر ہوتی ہے اُن دوستوں سے جو خوشیوں میں ہی ساتھ دیں آپ کا ۔۔۔اور برے وقتوں میں چپ ہو جائیں ۔۔رو پوش ہو جائیں ۔۔۔
۔
“میں سر سے بات کر رہی ہوں ۔۔آپ سے نہیں محترمہ ۔۔بس سر سے پوچھ رہی ہوں جو یہاں نہیں ہیں کیا وہ بھی اُن کی بہنیں ہیں “
اُس نے اب کی بار سامنے کھڑے شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہا ۔۔۔۔جس کی روح اندر سے کانپ رہی تھی ۔۔۔وہ اُس کو بہن کیسے کہے سکتا ہے ۔۔کیا یہ رشتہ اتنا بے مول ہوتا ہے جب چاہا محبوبہ بنا لیا اور جب چاہا اُسی محبوبہ کو بہن کہے دیا ۔۔۔۔۔وہ ہر رشتے کی قدر جانتا تھا ۔۔۔۔۔وہ اپنے دل کی ملکہ کو بہن کیسے کہے سکتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“ہانیہ میں آپ کے کسی سوال کے جواب کا پابند نہیں ہوں ۔۔۔آج جس لہجے میں آپ نے بات کی ہے آئندہ بہت خیال رکھیے گا ۔۔۔آپ کسی اور کی عادی ہوں گئی۔ میرے ساتھ بات بہت سوچ سمجھ کے کرنی ہے آئندہ ۔۔۔یہاں پڑھنے کے لیے آتی ہیں آپ پڑھیں اور گھر جائیں ۔۔۔۔۔”
اُس نے اُس کو ایسے انداز میں کہا کہ سامنے بیٹھی لڑکی کے منہ سے اب ایک لفظ نکلنا محال تھا ۔۔۔۔سب کو پتا تھا جب بھی وجدان ذلیل کرنے پہ آتا ہے وہ دنیا کے کسی بندے کا لحاظ نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔
۔
“اگر ٹاپک سے ریلیٹڈ کسی نے اور کچھ پوچھنا ہے تو پوچھ سکتے ہیں “
اُس نے اپنا موبائل ہاتھ میں پکڑا اور سب کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
“نہیں سر سب کلیئر ہے “
“اوکے خدا حافظ “
وہ ہاتھ میں موبائل پکڑے وہاں سے نکلنے لگا ۔۔۔اُس نے اُس کو بہن نہیں کہا تھا بھری محفل میں اُس کے اور اپنے جذباتوں کی تذلیل نہیں کی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر صاحب زرمینہ کی حالات بہتر ہونے کے بجائے اور خراب ہو رہی ہے ۔۔۔۔ایسا بھی کیا ڈپریشن کہ وُہ آج تین دنوں سے ہوش میں ہی نہیں آ رہی “
ابراہیم صاحب ڈاکٹر کے کیبن میں بیٹھے ، پریشانی اور فکر مندی سے اُن سے پوچھ رہے تھے۔ ۔۔
۔
“ابراہیم صاحب آپ میرے پاس نہ بھی آتے میں آپ کو خود بلانے والا تھا ۔۔۔۔بچی کی حالت دِن بدین اور خراب ہوتی جا رہی ہے ۔۔۔مسئلہ صرف ڈپریشن نہیں ہے ۔۔۔۔۔ہمیں اور بھی کچھ شکوک ہیں ۔۔۔آپ کو پتا ہے مانسہرہ میں ایسے ذرائع نہیں ہیں کہ ہم اُس چیز کا ٹیسٹ کر سکیں ۔۔۔جس کا ہمیں شک ہے “
۔
“کیا مطلب ہے ڈاکٹر صاحب کیا شک ہے آپکو ؟ کیا ہوا ہے میری بیٹی کو ؟ “
ڈاکٹر صاحب کے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثر نے اور ان کی باتوں نے سامنے بیٹھے باپ کو مزید اندھیروں کی وادیوں میں دھکیل دیا ۔۔۔۔
۔
“ابراہیم صاحب میں ایک ڈاکٹر ہونے کے ناتے آپ سے کچھ بھی نہیں چھپانا چاہتا ۔۔۔۔۔مگر میں صرف شک کی بُنیاد پہ اتنی بڑی بات بھی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔میں آپ کو یہی مشورہ دوں گا ۔۔۔آپ بچی کو ایبٹ آباد لے جائیں ۔۔۔وہاں آپکو اصل بیماری کا پتا چل جائے گا ۔۔۔۔اگر وہاں بھی نہیں ہوا تو پنڈی یا پشاور لے کے جائیے گا “
۔
“مگر ڈاکٹر صاحب زرمینہ گل کو ہوا کیا ہے “
انہوں نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ پوچھا ۔۔۔ سفید ہوتے ہونٹوں سے پوچھا۔۔۔۔
“دیکھیں ابراہیم صاحب میں شک کی بُنیاد پہ کچھ بھی نہیں کہے سکتا ۔۔۔۔۔بس میں یہی کہوں گا آپ کل کے بجائے بچی کو اج ہی ایبٹ آباد لے کے جائیں “
“جی ڈاکٹر صاحب میں ابھی ہی اُس کو لے کے جاتا ہوں “
وہ وہاں سے اٹھے لڑکھڑاتی ٹانگوں کے ساتھ دیوار کو ہاتھ لگاتے ہوئے اُس کمرے سے نکلے ۔۔۔جہاں اُن کا دم گھٹنے لگا تھا ۔۔۔۔اُن کو لگا اُنکے دل پہ کسی نے ایک بھاری سیل رکھ دی ہے ۔ایک بھاری پتھر رکھ دیا ہے ۔۔۔۔۔۔
“بابا جان ۔۔۔۔۔بابا جان کیا ہوا ہے آپکو “
اُن کو دیوار کے ساتھ ہاتھ لگاتے ہوئے چلتا دیکھ کے شہاب ایک دم آیا باپ کو اپنے گلے سے لگایا ۔۔۔۔۔وہ باپ جو کھبی نہیں رویا تھا آج اونچا اونچا رونے لگا ۔۔۔۔آج اُس کو فرق نہیں پڑ رہا تھا کہ مرد نہیں روتے ۔۔۔۔آج وہ اپنے بیٹے کے سینے سے لگ کے پوری دنیا کے سامنے رو رہا تھا ۔۔
“بابا جان …..”
باپ کو ایسے روتا دیکھ کے بیٹے کو لگا جیسے وہ وہیں ڈھیر ہو جائے گا۔ جس باپ کے سامنے انھوں نے بات تک نہیں کی۔ آج وہ باپ اُس کے سینے سے لگا ہے ۔اُس کو لگا جیسے اُس کا باپ آج دنیا کا ضعیف شخص ہے ۔۔۔۔۔وہ جو دنیا کو جوتی کی نوک پہ رکھ کے چلتا تھا آج بوڑھا ہو گیا تھا ۔اُس کی بیٹی نے اُس کو بوڑھا کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فضہ کیوں اُداس بیٹھی ہیں آپ “
وہ آج اُسی جگہ اکیلی بیٹھی تھی جہاں وہ دونوں ساتھ بیٹھا کرتی تھیں۔۔۔۔
۔
“نہیں اُداس تو نہیں ہوں میں ماہ نور “
اُس نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے سر کو اوپر کیا اور سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھنے لگی۔ ۔۔۔
۔
“میں یہاں بیٹھ سکتی ھوں ؟”
“جی جی بیٹھیں نا پوچھ کیوں رہی ہیں “
“فضہ زرمینہ کیوں نہیں آ رہی ہیں ؟ “.
۔
“کوئی علم نہیں ہے مجھے اُس کا نمبر بند ہے اج جاؤں گی میں اُس کے گھر پھر ہی کچھ پتا چلے گا “
” مجھے بھی پھر لازمی بتایے گا اُس کا “
“جی میں بتاؤں گی “
اُس نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا ۔۔۔
۔
“آج مجھے بہت غصّہ آیا ہانیہ پہ سر سے کیسے بات کر رہی تھی ۔۔۔اور زرمینہ کے بارے میں کتنا غلط بول رہی تھی ۔۔۔۔اُس پہ کتنی آسانی سے تہمت لگا دی اُس نے “
۔
” ماہ نور یہاں پہ لوگوں نے انبیاء کو نہیں چھوڑا تو میں اور آپ کون ہیں ۔۔۔۔جہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں چھوڑا گیا تو ہم کون ہیں زرمینہ کون ہے ۔۔۔۔۔جہاں اماں جان کے کردار پہ لوگوں نے تہمت لگائی وہاں یہ لوگ کسی دوسرے کو کہاں چھوڑتے ہیں ۔۔۔بس ان لوگوں کے لیے ایک ہی جواب ہے “صبر ” آپ صبر کرو اور پھر اوپر والے کا انصاف دیکھو ۔۔۔جب اُس کی بے آواز لاٹھی پڑتی ہے نا تب سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ملتی ۔۔۔جو لوگ کسی کی بہن بیٹی پہ نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں نا در حقیقت وہ الفاظ وہ اپنی بیٹی کو وجدان میں دیتے ہیں ۔۔۔۔۔جب کسی دوسرے کی بیٹی روتی ہے نا اپنے لیے خدا سے انصاف مانگتی ہے ۔۔۔۔۔تب خدا خود انصاف کرتا ہے ۔۔۔۔اُس انسان کا کیا ہوا ایک ایک عمل اُس کے اپنے اوپر آتا ہے ۔۔۔۔اللہ اپنے ساتھ کی گی زیادتی تو معاف کر لیتا ہے نہیں کرتا تو کسی مظلوم کے ساتھ کی گی زیادتی نہیں معاف کرتا ۔۔۔۔”
آپ ٹھیک کہتی ہیں فضہ جو لوگ بغیر کسی کو جانے اُس کو سمجھے جب اُس پہ اُس کے کردار پہ بات کرتے ہیں۔۔۔۔وہ گھاٹے کا سودا کرتے ہیں۔ بعض اوقات کسی کی چھوٹی سی آہ بھی آسمان کا سینہ چیر کے عرش تک جاتی ہے ۔۔۔۔لوگوں کو لگتا ہے ۔۔۔خدا معاف کر دے گا ۔اُن کو تو پتا بھی نہیں ہوتا وہ کیا بول رہے ہیں ۔۔۔۔
۔
بلکل ٹھیک کہتی ہیں آپ ماہ نور صبر سے بڑا کوئی انتقام نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔خدا بہت بڑا ہے بہت رحیم ہے ۔وہ معاف کرتا ہے ۔۔۔مگر جب اُس کے کسی بندے پہ ناحق کیا جائے اُس کو لوگوں میں رُسوا کیا جائے ۔۔تب وہ اپنا جلال دکھاتا ہے۔ تب وہ زمین کے فرہونوں کو بتاتا ہے ۔۔۔۔میں ہُوں انصاف کرنے کے لیے ۔۔میں کھڑا ہوں اُس کے ساتھ جو چپ ہے جو صبر کر رہا ہے ۔۔۔۔پھر پتا ہے کیا شروع ہوتا ہے مکافات عمل جو ہم جیسے بد بخت کھبی نہیں سمجھتے ۔۔۔۔۔۔۔
۔
اور پتا ہے ماہ نور جو لوگ کیسے کو بغیر جانے دوسرے بندے کے نا حق عمل کا ساتھ دیتے ہیں نا تو کم اُن کے ساتھ بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔کسی کا دل دکھانے والا ایک بھی الفاظ آپ کو کھبی سکون سے جینے نہیں دیتا ۔۔۔۔کھبی آپکو خوش نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔تب ہی کہتے ہیں ہر معاملے میں نہیں بولنا چائیے۔ ۔۔جہاں آپکو سچ اور جھوٹ کا پتا نہ ہو ۔۔۔۔۔
“بیشک عنقریب خدا اپنا انصاف کرے گا وہ انصاف کرنے والا بڑا مہربان ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: