Hijab Novel By Amina Khan – Episode 36

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 36

–**–**–

کیا ہوا ہے زری کو ؟ کیا کہا ہے ڈاکٹر نے ؟
بیٹے کی حالت دیکھ کہ وہ سمجھ تو گیں تھیں مسئلہ یقیناً کچھ بڑا ہی ہے ۔ورنہ اُن کا بیٹا ایسا ہو جائے یہ تو کھبی انھوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
“دادی اماں ڈاکٹر نے کہا ہے زری کو ایبٹ آباد لے کے جائیں “
آج پہلی بار ایسا ہوا تھا انہوں نے اپنی ماں کی بات کا جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔وہ گردن جھکائے زمین کو ہی دیکھتے رہے ۔۔۔۔اُن کو پتا ہی نہیں تھا کون اُن سے بات کر رہا ہے ۔کون اُن کے پاس بیٹھا ہے ۔بیٹے نے باپ کی خاموشی دیکھی تو فوراً سے دادی اماں کو جواب دیا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ۔۔۔۔؟ایبٹ آباد مگر وہاں کیوں؟ “
اب کی بار دادی اماں کی جگہ امی بولیں تھیں ۔۔۔۔۔جیسے اُن کا دل باہر آنے والا ہو ۔۔۔۔کسی نے اُن کے دل پہ ضرب لگائی ہو ۔۔
۔
“امی ڈاکٹر نے کہا ہے اگر وہاں بھی علاج نا ہوا تو پھر پنڈی جانا پڑے گا”
“مطلب میری بیٹی بہت بیمار ہے “
انہوں نے ایک نظر اپنی بیٹی کو دیکھا جو آنکھیں بند کیے لیٹی تھی ۔۔جس کو دیکھ کے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا وہ زندہ ہے یا مر گی ہے ۔اُس کی سفید رنگت یہ بتاتی تھی یہ جو لڑکی لیٹی ہے اِس میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی نہیں بچا ۔۔۔۔
۔
وہ بہتے اشکوں کے ساتھ بیٹی کے پاس گیں ۔۔۔۔۔اُس کا ماتھا چُوما ۔۔۔۔اُس کے بال پیچھے کیے دوپٹہ آگے کیا ۔جو سر سے تھوڑا سا پیچھے ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔وہ لیٹے ہوئے بھی با پردہ تھی ۔۔۔پاک تھی ۔۔۔۔اُس کا ایک بال بھی کسی نا محرم نے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔اُس کی بیہوشی میں بھی اُس کی ماں نے اُس کے سر سے دوپٹہ نہیں اترنے دیا تھا ۔۔۔۔وہ ایسے ہی دوپٹہ لیے لیٹی تھے کہ اُس کا ایک بال بھی کوئی نہ دیکھے ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ ٹھیک ہو جاؤ نا دیکھو سب پریشان ہیں ۔تمہارے بابا جان کتنے پریشان ہوتے ہیں تمہارے لیے کب آنکھیں کھولو گی تم “
انہوں نے روتے ہوئے اُس کا ہاتھ پکڑا ۔۔جس ہاتھ پہ جگہ جگہ قلولے کی سوئیوں کے نشان بنے تھے ۔۔۔جیسے کسی نے اُس کے ساتھ پہ جگہ جگہ سوئیاں چبوہی ہوں ۔۔۔۔انھوں نے اُس ہاتھ کو اپنے منہ کے ساتھ لگایا ۔۔۔۔۔پھر اپنے لبوں کے پاس لے گئیں اور اونچا اونچا رونے لگیں ۔۔۔۔۔جیسے اُن کی بیٹی مر گی ہو ۔۔۔۔۔اور انہیں اچانک اطلاع ملی ہو ۔۔۔۔
۔
“رقیہ میری بچی حوصلا رکھو “
دادی اماں بینچ سے اٹھ کے اُن کا پاس گیں اُن کو اپنے دل سے لگایا ۔۔۔اپنی پوتی پہ ایک نظر ڈالی ۔۔۔۔اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔اُن کو لگا اگر وہ دوسری نظر ڈالیں گی تو وہ یہیں نیچے گر جائیں گی ۔۔
۔
“اماں آپ دعا کریں نا ہماری زرمینہ ٹھیک ہو جائے “
رقیہ بیگم نے روتے روتے اُن کو دیکھا جو خاموش آنسوں بہا رہیں تھیں۔ اپنی پوتی کو دیکھ رہی تھیں ۔
زرمینہ گل اللہ تمہیں تمہاری دادی کی عمر لگائے ۔۔۔۔میں مر جاؤں تمہارے جگہ ۔۔۔۔تم ٹھیک ہو جاؤ زرمینہ میرے ابراہیم کے لیے ٹھیک ہو جاؤ “
انہوں نے ایک نظر اُس کو دیکھا پھر اپنے بیٹے کو دیکھا جو گردن جھکائے کسی روگی کی طرح بیٹھا تھا ۔۔۔۔اُن کو لگا اُن کا کلیجہ پھٹ جائے گا ۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے اپنی پوتی سے باتیں کرنے لگیں۔ ۔۔جو شاید کچھ نہیں سن رہی تھی ۔۔۔۔۔کچھ نہیں سمجھ رہی تھی ۔۔۔
۔
“بابا جان ایمبولینس کھڑی ہے ہمیں نکلنا ہو گا “
سلطان بھاگتا ہوا آیا اور باپ کو بتانے لگا۔ ۔۔اُس باپ کو جو دنیا سے بلکل بےنیاز بیٹھا تھا ۔۔۔
۔
“لالا گل “
اُس نے باپ کے بعد بھائی کو دیکھا جو باپ کے بلکل ساتھ بیٹھا تھا باپ کی ڈھال بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے سلطان اؤ زرمینہ کو اٹھا کے سٹاچر پہ ڈالتے ہیں “
“جی لالا گل “
وہ دونوں بہن کے پاس گے جو بلکل بے جان لیٹی تھی ۔۔۔۔دونوں نے ایک نظر بہن کو دیکھا اپنی نم ہوتی آنکھیں صاف کیں ۔۔۔۔۔وہ دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی ۔۔۔۔شہاب اُس کے سر والی طرف گیا ۔۔۔اُس کا ماتھا چُوما ۔۔۔۔
“زرمینہ تمھیں کچھ نہیں ہو گا تمھارا بھائی تمھیں کچھ نہیں ہونے دے گا “
اُس نے کانپتے ہاتھوں سے بہن کو اوپر کیا اور سلطان کو دیکھا ۔۔۔۔جو ایک سکتے کی حالت میں کھڑا بہن کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔جیسے بہن کم وہ زیادہ بیمار ہو ۔۔۔۔۔جیسے بہن سے زیادہ اُس کو تکلیف ہو اُس کو درد ہو ۔۔۔
۔
“سلطان “
شہاب نے ایک نظر اُس کو دیکھا بہن کو وہیں چھوڑا اور بھائی کے پاس گیا جو اُس کے پیروں والی طرف سکتے میں کھڑا تھا ۔۔
۔
“تو کیوں پریشان ہوتا ہے ہاں ہمیں گڑیا ٹھیک ہو جائے گی یار “
اُس نے بھائی کے کندھے پے ہاتھ رکھا ، وہ جو سکتے میں کھڑا تھا بھائی سے ایسے لپٹا جیسے اُس کو کسی چیز کا ڈر ہو ۔جیسے اُس کا دل کامپ رہا ہو ۔۔۔۔
“لالا گل ہماری گڑیا ۔۔۔۔۔کب ۔۔۔۔ٹھیک ؟ “
سسکتے سسکتے اُس نے بھائی کے سینے سے لگے بس اتنا ہی کہا ۔۔اور پھر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا۔ ۔۔
۔
“ٹھیک ہو جائے گی میں دنیا اوپر نیچے کر دوں گا اس کو ٹھیک کروں گا یہ ٹھیک ہو گی “
۔
اُس نے بھائی کے دونوں بازوں مضبوطی سے پکڑے اور خشک آنکھوں سے بہن کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“اگر آپ لوگ ایسے ہمت ہار جاؤ گے تو ماں باپ کو کون سمبھالے گا تمہارے “
اماں نے اپنے آنسوؤں صاف کرتے ہوئے اُن کی طرف دیکھا ۔۔۔
۔
“دعا کرو ۔۔۔۔اپنی بہن کے لیے دعا کرو ۔۔۔۔وہ ٹھیک ہو جائے “
۔
“بابا جان آپ نہ ہوں پریشان گڑیا ٹھیک ہو جائے گی “
شہاب باپ کے پاس آیا اُن کے قدموں میں زمین پہ بیٹھا ۔۔۔جو باپ کب سے دنیا سے بے خبر تھا ۔۔۔بیٹے کی اِس بات پہ اُس نے اوپر دیکھا ۔۔ ۔۔۔۔
۔۔
“ہاں میری گڑیا ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔اٹھاؤ بہن کو اور چلو “
نا جانے اُن کو اتنی ہمت اتنا حوصلا کیسے ملا تھا ۔۔۔۔وہ کھڑے ہوئے سلطان کے کندھے پے ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
“تمھارا باپ زندہ ہے ابھی تم لوگوں کی موت کو اپنے سر لینے کے لیے “
ایک حوصلے سے انھوں نے بیٹے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔وہ بیٹا جو کھبی باپ کے سامنے بیٹھا بھی نہیں تھا۔ باپ کے گلے لگا اور رونے لگا ۔۔۔۔
۔
“اب نہیں رونا سلطان اب کوئی نہ روئے یہاں ۔۔میری بیٹی ٹھیک ہو جائے گی بلکل ٹھیک “
۔
انہوں نے سب کی طرف ایک نظر دیکھا اور اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں ہو میرے دل کی ملکہ کہ وجدان کا جینا محال ہے تمھیں دیکھے بغیر ۔۔
“تمھیں پتا ہے ملکہ مجھے لگتا ہے میں فقط تمہارے لیے زندہ ہُوں ۔۔۔۔میرے جیسے بندے کا اِس دنیا میں کیا کام ہے ۔۔۔نا جانے تم کہاں ہو ۔۔۔میں کدھر ڈھونڈوں تمھیں ۔۔۔۔۔۔ملکہ بتا کے جاتی تو وجدان کو تمہاری واپسی کی آس ہوتی۔ ۔۔۔مگر تم تو بتائیے بغیر چلی گیں ۔۔۔بتا دیتی ملکہ کہ وجدان کا جینا اور مرنا اتنا مشکل نہ ہوتا ۔۔۔۔۔
۔
وہ کھولے آسمان کے نیچے کھڑا چاند کی روشنی میں اُس کو دیکھتے ہوئے باتیں کرنے لگا۔ ۔۔۔یہ تو اُس کا روز کا معمول تھا ۔۔۔۔وہ روز اُس کا دیدار چاند کو دیکھ کے⁦ کرتا تھا ۔۔۔۔
۔
“یہ کیسا درد ہے جانے مجھے۔ ۔۔۔ایسا لگتا ہے کہیں بہت غلط ہو رہا تھا ۔۔۔ایسے بےچینی تو پہلے کھبی نہیں ہوئی مجھے ۔۔۔۔تم کہاں ہو ملکہ !
پہلے بھی تو اتنے دن تمھیں نہیں دیکھتا تھا ۔۔۔تب تو ایسا درد نہیں ہوا ۔۔۔نا جانے کیوں کچھ دنوں سے میرا درد بڑھتا جا رہا ہے ۔۔۔۔میرے اندر کچھ عجیب سی تکلیف ہو رہی ہے۔ ۔۔کیا ہے یہ ۔”
“یا اللہ رحم کر مجھ پہ ۔۔جانتا ہوں بہت گناہگار ہوں میں۔۔۔جانتا ہوں اُس کو مانگنے کے قابل نہیں ہوں ۔۔میں جانتا ہوں ۔۔۔۔مگر تو تو دینے والا ہے مجھے عطا کر “
۔
اُس کی نظر اب چاند سے ہٹی ۔۔۔۔وہ آسمان کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔جو ستاروں کے جھرمٹ میں کچھ زیادہ ہی پر کشش لگ رہا تھا ۔۔۔۔آسمان کو دیکھ کے وہ اللہ سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔۔اللہ سے مانگنے لگا ۔۔۔۔۔
۔
بالکنی میں کھڑے کھڑے اُس نے آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔۔اُس کا عکس اُس کی آنکھوں میں آیا ۔۔۔وہ آنکھیں جن پہ وہ مر مٹا تھا۔۔۔۔آج اُن میں کچھ درد تھا ۔۔۔۔جیسے تکلیف کے باعث کھول نہ پا رہی ہوں ۔۔۔۔
اُس نے فوراً آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔۔اِدھر اُدھر دیکھا ۔۔اپنے دل پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔جو زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔جیسے ابھی باہر آ جائے گا ۔۔۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے تمھیں ملکہ ؟ “
اُس نے کانپتے ہونٹوں کے ساتھ چاند کی طرف دیکھ کے پوچھا ۔۔۔۔جیسے اُس کا دل بہت بری خبر کا الہام دے رہا ہو ۔۔۔۔۔جیسے اُس کے ساتھ بہت غلط ہونے والا ہو۔ ۔۔۔چاند کو دیکھتے ہی وہ گہری گہری سانسیں لینے لگا ۔۔۔۔اپنے ہاتھ گھٹنوں پے رکھ کے وہ جُھک کے کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔۔آنکھوں سے پانی نکل کے فرش پہ گرنے لگا ۔۔۔۔۔
۔
“اے ملکہ ! کہاں ہو تم “
وہ اوپر ہوا آنکھوں کی نمی کو صاف کیا ۔۔۔۔۔اور چاند کو دیکھ کے پھر سے بولنے لگا ۔۔
کبھی اس نگر تجھے ڈھونڈنا
کبھی اُس نگر تجھے ڈھونڈنا ،
کبھی رات بھر تجھے سوچنا
کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا ،
مجھے جا بجا تیری جستجو
تجھے ڈھونڈتا ہوں میں کوبہ کو،..!!!!
کہاں کھُل سکا تیرے روبرو
میرا اس قدر تجھے ڈھونڈنا ،
میرا خواب تھا کہ خیال تھا
وہ عروج تھا یا زوال تھا،..!!!!
کبھی عرش پر تجھے ڈھونڈنا
کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا ،
یہاں ہر کسی سے ہی بیر ہے
تیرا شہر قرئیہ غیر ہے،..!!!!
یہاں سہل بھی تو نہیں
کوئی میرے بےخبر تجھے ڈھونڈنا ،
تیری یاد آئی تو رودیا
تو جو مل دیا تجھے کھو دیا،..!!!!
میرے سلسلے بھی عجیب ہیں
تجھے چھوڑ کر تجھے ڈھونڈنا ،
یہ میری نظر کا کمال ہے
کہ تیری نظر کا جمال ہے،..!!!!
تجھے شعر شعر میں سوچنا
سرِ بام و در تجھے ڈھونڈنا۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا جان ایک منٹ “
وہ ایمبولینس میں اسیچر اندر لے جانے ہی لگے تھے کہ سلطان ایک دم روک گیا ۔۔۔انھوں نے بہن کا اسیچر بھی کسی غیر مرد کو پکڑنے نہیں دیا تھا ۔۔۔۔۔سر کی طرف سے ایک بھائی نے پکڑا تھا اور پیروں کی طرف سے دوسرے بھائی نے ۔۔۔۔ اُس کے اوپر ایسے چادر ڈالی تھی کہ اُس پے کسی کی نظر نہ پڑے ۔
۔
“کیا بات ہے سلطان “
ابراہیم صاحب نے اُس کے روکتے ہوئے اُس سے پوچھا ۔۔۔۔۔
۔
“بابا جان جانے سے پہلے زرمینہ کا صدقہ دینا ہے “
اُس نے خشک ہوتی آنکھوں سے باپ کو دیکھا اور آرام سے کہا ۔۔۔۔
۔
“اِس وقت کیا صدقہ کرنا ہے سلطان تم نے “
شہاب نے استچر کو اپنے ہاتھوں میں پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
” بھائی ایک منٹ “
اُس نے شہاب کی طرف دیکھا اور پھر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔جیسے وہ کسی کو ڈھونڈ رہا ہو کسی کا منتظر ہو ۔۔۔۔
۔
“اِدھر آئیں۔۔۔۔ اِدھر میں نے آپکو بلایا تھا “
اُس نے دُور سے آتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا ۔۔۔اور وہیں سے زور کی آواز دی ۔۔۔۔۔جو اُس کی آواز پہ بکرا لیے اُس کی طرف آیا ۔۔۔۔
۔
“بابا جان زرمینہ کا صدقہ اتاریں “
اُس نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے باپ کی طرف دیکھا ۔۔۔جو آنکھوں میں نمی لیے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھا۔۔۔۔
۔
“لالا گل “
اُس نے بھائی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔جو اُس کا اشارہ سمجھ گیا تھا ۔۔۔۔وہ تھوڑا سا پیچھے ہوا ۔۔۔اتنا پیچھے کے دونوں بھائی بہن کو اٹھائے ایک خالی جگہ پہ گے ۔۔۔۔باپ نے بکرے کی رسی ہاتھ میں پکڑی ۔۔۔۔۔اور بیٹی کے گرد چکر لگانے لگا ۔۔۔۔۔
۔
“میری زرمینہ تمھارا باپ تم پہ صدقے “
پہلا چکر لگاتے ہی انہوں نے اپنی بیٹی کو دیکھا جو دونوں بھائیوں کے ہاتھوں میں ایک زندہ لاش بنے آستچر پہ پڑی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ گل اٹھ جاؤ اپنے بابا جان کی خاطر اٹھ جاؤ “
دوسرا چکر مکمل ہوا ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ گل تمھارے بابا جان بوڑھے ہو گے ہیں ۔۔۔۔وہ تمہارا دُکھ نہیں دیکھ سکتے میری بیٹی اٹھ جاؤ “
تیسرا چکر مکمل کرتے ہی اُن کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب گرنے لگا ۔۔۔۔آج ابراہیم خان سواتی دھاڑیں مار مار کے رونے لگا ۔۔۔۔۔اُن کو لگا اب وہ ایک قدم اگے نہیں چل سکیں گے ۔۔وہ کچھ دیر روکے اور پھر چلنے لگے ۔۔۔
۔
ایک باپ اپنے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے گرد چکر لگا رہا تھا ۔۔اُن کا صدقہ اُتار رہا رہا تھا ۔۔۔
۔
“زرمینہ گل اٹھ جاؤ تمہارے بابا جان کو بہت ضرورت ہے تمہاری “
چوتھا چکر مکمل کرتے ہی وہ وہیں روکے ۔۔۔۔۔گہری گہری سانسیں لیں ۔۔۔اور پھر چلنے لگے ۔۔۔۔
۔
“زرمینہ گل ۔۔۔اپنی ماں کے لیے اٹھ جاؤ اپنے بھائیوں کے لیے اٹھ جاؤ ۔۔۔۔جو اتنے لاڑوں سے تمھیں اٹھائے کھڑے ہیں “
پانچواں چکر لگاتے ہی وُہ بکرا ہاتھ میں پکڑے اپنے پاؤں کی بھل وہیں زمین پہ بیٹھ گے ۔۔۔۔۔آج ایک باپ ہی سمجھ سکتا تھا ۔۔۔ایک باپ پہ اُس وقت کیا گزرتی ہے۔ جب وہ اپنی بیٹی کی زندگی کا صدقہ اپنے ہاتھوں سے دیتا ہے ۔
۔
“زرمینہ گل میں اب نہیں چل سکتا بچے میں ضعیف ہو گیا ہوں “
کامپتی ٹانگوں کے ساتھ وہ پھر اٹھے ۔۔۔۔۔اور چھیواں چکر مکمل کیا ۔۔
۔
“زرمینہ گل اٹھ جاؤ اپنے بابا کے مرنے سے پہلے آٹھ جاؤ ۔۔۔۔مجھ سے پہلے نہیں مرنا زرمینہ گل ۔۔۔میرے بیٹے تو باہر کے ہیں ۔۔۔۔تم میری بیٹی میری چارپائی کے پاس بیٹھنا ۔۔۔۔اپنے بابا جان کی میت پہ آواز دے دے کے رونا ۔۔۔۔۔اپنے بابا کا ماتم ماننا ۔۔تم نہیں ہو گی تو کون میری میت پہ ماتم کرے گا ۔۔۔۔۔کون میری میت پہ بابا جان کہے کہے کر روئے گا ؟ میرے بچے بابا جان سے پہلے نہیں مرنا “
۔
۔۔۔۔آج ایک باپ اپنی بیٹی کا صدقہ اُتار رہا تھا ۔۔۔۔اپنی بیٹی کے گرد سات چکر لگا رہا تھا ۔۔۔۔وہاں پہ موجود ہر شخص وہ نظارہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ منظر ہر ایک کو روکنے پہ مجبور کر رہا تھا ۔۔۔۔جو ایمرجنسی میں جانے کے لیے بھاگ رہے تھے ۔۔۔۔۔وہ بھی وہاں روک روک کے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔دو بھائیوں کو دیکھ رہے تھے جو اپنی بہن کو ہاتھوں پہ اٹھائے آنسوؤں کا سیلاب لیے کھڑے تھے ۔۔۔۔ آج لوگ ایک باپ کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔جو اپنی اولاد کے گرد ہاتھ میں بکرا پکڑے سات چکر لگا رہا تھا ۔۔۔۔نا جانے اُس کے صدقے میں بکرا قربان کر رہا تھا یا اپنی جان ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں آپ نے بہت اچھا کیا جو میری ساتھ آ گئیں “
فیروز صاحب نے ماں کو ہاتھ سے پکڑ کے بیڈ پہ بٹھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
میرا ایک سیکنڈ دل نہیں لگے گا یہاں فیروز ۔۔۔۔میرا دل اُدھر ہی میری زرمینہ گل میں ہو گا ۔۔۔۔اللہ میری زرمینہ کو زندگی دے بس ۔۔۔
۔
انہوں نے روتے ہوئے دونوں ہاتھ اوپر کیے ۔۔۔۔اور دعا مانگیں لگیں ۔۔۔
۔
“اماں وہاں بھی تو آپ نہیں جا سکتی تھیں نا ۔۔۔ابراہیم بیچارہ خود کو ہی نہیں سنبھال سکتا وہاں سفروں میں آپکو کیسے سنبھالتا ۔۔۔۔۔نا جانے اُن کو کتنا وقت لگے اُدھر ۔۔۔۔کیا پتا وہاں سے پنڈی یا پشاور بجھ دیں زرمینہ کو “
انہوں نے پریشان ہوتے ہوئے ماں کو کہا ۔۔جو کب سے دونوں ہاتھ اٹھائے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔
۔
“ٹھیک کہتے ہو تم فیروز ۔۔۔بس میں یہی کہتی ہوں میری بچی ٹھیک ہو جائے۔۔۔ٹھیک ہو کے گھر آئے ۔۔۔میری یہ آنکھیں اُس کو بولتا ہوا دیکھ لیں”
۔
“بہو آج میٹھا پکانا ۔۔۔۔اُس پہ دعا کر کے پورے محلے میں بانٹنا “
انہوں نے آنکھوں سے آنسوؤں صاف کرتے ہوئے بہو کو کہا ۔۔۔۔جو اُن کے پاس ہی بیٹھی تھی ۔۔۔
۔
اماں میں خود زرمینہ کی صحت یابی کے لیے ختم پڑھواؤں گا ۔۔۔۔میں نے دیگھوں کا کہے دیا ہے ۔۔۔۔۔کل مسجد میں قرآن خانی کرواؤں گا میں ۔۔۔۔اللہ اِس کے وسیلے سے ہماری بچی کو ٹھیک کرے ۔۔۔۔
۔
“آمین ۔۔۔۔آپ نے بہت اچھا کیا ۔۔۔۔ابھی تو وقت نہیں ہے ۔انِ شاء اللہ میں بھی کل گھر میں قرآن خانی کرواؤں گی ۔۔۔اپنی بچی کے لیے دعا کرواؤں گی ۔۔”
۔
“بہت اچھا سوچا ہے تم دونوں نے ۔۔۔جب تک زرمینہ گھر نہیں آ جاتی فیروز روز مسجد میں قرآن خانی کروانا ۔اللہ میری بچی کو ٹھیک کرے ۔زرمینہ اللہ تمہیں سوتے ہوئے بھی دیر نہ کرے ۔۔۔خدا تمہاری آنکھیں مجھ سے پہلے نا بند کرے میری بچی “
۔
“اماں نہیں روئیں آپ ۔۔۔آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی بس آپ دعا کریں “
فیروز صاحب ماں کے قریب ہوئے اُن کی آنکھوں سے آنسوؤں صاف کرنے لگے ۔۔۔
۔
“پلوشہ زرمینہ گل کی یونیورسٹی کی دوستوں کو بھی بتاؤ ۔۔۔اُن کو بھی بولو ہماری بچی کے لیے وہ لوگ بھی دعا کریں “
“اماں میرے پاس تو اُس کی یونیورسٹی کی کسی بھی سہیلی کا نمبر نہیں ہے۔ “
اُس نے اُن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“بس اماں جی آپ ہی دعا کریں وہ ٹھیک ہو جائے گی آپ پریشان نہیں ہوں”
۔
فیروز صاحب نے اُن کے پیر دباتے ہوئے کہا
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیند اُس کو نصیبوں سے ہی آتی تھی ۔۔۔بہت کم ایسا ہوتا تھا ۔۔۔۔وہ سوئے اور چین کی نیند سوئے ۔۔۔۔۔وہ اُس کو سوچتے سوچتے کھبی زمین پہ تو کبھی صوفے پے سو جایا کرتا تھا ۔۔۔
۔
آج بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔۔۔وہ زمین پہ ٹھنڈے فرش پہ سویا تھا ۔۔۔
۔
وہ اُس کے پاس تھی بلکل پاس ۔۔۔۔اُس کے بازو پہ سر رکھے بال کھولے لیٹی تھی ۔۔۔۔۔اُس کے دل کی دھڑکن سن رہی تھی ۔۔۔۔اُس کو اچھا لگتا تھا اُس کی سانسوں کو اپنے اندر اتارنا ۔۔۔۔اُس کے دل کی دھڑکن سننا ۔۔۔۔۔
۔
“شاہ جی “
“جی جانِ شاہ “
وہ اُس کی طرف مڑا تھا ۔۔۔اُس نے اپنا منہ چھپا رکھا تھا ۔۔۔۔۔وہ اُس کے دل پہ سر رکھے لیٹی تھی ۔وہ اُس کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔۔۔۔
“ایک بات پوچھوں میں آپ سے ؟”
سر اُس کے سینے پہ رکھے وہ ہاتھ سے اُس کی قمیض پہ گول گول دائرے بنا رہی تھی ۔۔۔۔
“جی میری ملکہ پوچھو نا “
اُس نے اپنا ہاتھ اُس کا بالوں پہ رکھا ہلکا سا اور اُس کی طرف مڑا ۔۔۔۔۔
۔
“کتنا پیار کرتے ہیں آپ مجھ سے ؟”
وہ تھوڑا اوپر ہوئی اپنی سرمائی آنکھیں اُس کی طرف کیں ۔۔۔۔۔اور مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی
۔
“یہ آپ پوچھتی ہو ملکہ ؟ جس کی خاطر وجدان پوری پوری رات سویا نہیں ہے ۔۔۔۔جس کو اُس نے سجدوں میں مانگا ہے ۔۔۔میری محبت کی کوئی حد نہیں ہے ملکہ ۔۔۔اتنی محبت کرتا ہوں اتنی کے اگر میری ملکہ بولے مر جاؤ تو اُسی وقت مر جائے وجدان شاہ “
۔
۔
“اگر میں مر جاؤں تو؟ “
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اُس نے اُس کے دل پہ سر رکھے بولا ۔۔۔۔بولتے ہی اُس کو لگا جو دھڑکن وہ سن رہی تھی وہ روک گی ہے ۔۔۔۔اُس کا گول دائرے بناتا ہاتھ وہیں روکا ۔۔۔۔وہ اوپر ہوئی ۔۔۔۔۔اٹھ کے بیٹھی ۔۔۔۔۔
۔
“شاہ جی “
اُس نے کانپتی آواز کے ساتھ اُس کو بلایا ۔۔۔۔اُس کے منہ کے گرد اپنے دونوں ہاتھ رکھے ۔۔۔۔نیچے ہوئی اُس کی سانسوں کو محسوس کرنے لگی ۔۔۔مگر وہاں تو ایک لاش پڑی تھی ۔۔۔۔۔جس کی سانسیں روک گیں تھیں ۔۔دل کی دھڑکن تھم گی تھی ۔۔۔
۔
“ملکہ تم مر گئی تو وجدان ایسے ہی مر جائے گا “
اُس نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔سامنے بیٹھی اُس لڑکی کو دیکھا ۔۔۔جو بھول گی تھی اُس نے کیا کہا تھا ۔۔۔۔۔سامنے لیٹے شخص نے اُس کو اپنی موت کا منظر بتایا تھا ۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے ۔۔۔ایک بار پھر اُس نے اُس کے دل پہ سر رکھا ۔۔۔جو دھڑکن تھم گئی تھی ایک بار پھر سے چلنے لگی ۔۔۔۔اُس کا دل ایک بار پھر دھڑکنے لگا ۔وہ دھڑکن سن کے اونچا اونچا رونے لگی ۔۔۔۔۔اُس کی سسکیوں کی شدت اتنی تھی۔کہ پورے کمرے میں اُس کو سسکیاں سنائی دینے لگیں ۔۔۔۔۔
۔
“ملکہ نہیں رو ملکہ ۔۔۔ملکہ کیوں رو رہی ہو ۔۔۔ملکہ چپ ہو جاؤ نا ۔۔ملکہ۔۔۔۔ملکہ کیوں روتی ہوئی ۔۔۔ملکہ نہیں روتے ہیں ایسے”
وہ اپنا سر ادھر سے اُدھر کرنے لگا اُس کا پورا وجود درد سے کانپنے گا ۔۔۔۔اُس کے جسم سے پسینے کی نہریں جاری ہونے لگیں ۔۔۔۔وہ پسینے میں نہانے لگا ۔۔۔۔ وہ سسکیاں اور تیز ہونے لگیں ۔۔۔۔
“ملکہ “
اُس نے ایک زوردار چینخ لگائی اور اوپر ہو کے بیٹھا ۔۔۔۔اپنے دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔جلدی جلدی لائٹ لگائی ۔۔۔کانپتے ہاتھوں کے ساتھ گلاس اٹھایا اور پانی پینے لگا ۔۔۔نا جانے اُس نے کتنے ہی گلاس پانی پیا تھا۔ ۔۔۔بیڈ کے پاس پڑا سارا جگ اُس نے خالی کر دیا تھا۔
۔
۔۔۔۔اپنے دل پہ ہاتھ رکھے وہ پیچھے ہو کے لیٹا ۔۔۔۔
۔
“ملکہ تم مر گئی تو وجدان بھی مر جائے گا ۔۔تمہاری موت کی خبر سے ہی اُس کی سانسیں روک جائیں گی ۔اُس کے دل کی دھڑکن تھم جائے گی ۔۔۔۔۔
۔
ملکہ وجدان کی سانسوں کے لیے جینا “
اُس نے کانپتے ہونٹوں کے ساتھ کہا ۔۔۔۔۔پھر کمرہ دیکھنے لگا ۔۔۔جہاں اُس کے سواء کوئی اور موجود نہیں تھا ۔۔۔۔۔صرف وہی تھا اور اُس کے خواب ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: