Hijab Novel By Amina Khan – Episode 37

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 37

–**–**–

اُس خواب کے بعد وہ رات بھر سویا نہیں تھا ۔۔۔اُس کے دل میں کچھ عجیب سی اُلجھن تھی ۔۔کچھ عجیب سی بےچینی اُس کو چین نہیں لینے دے رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ پوری رات جاگتا رہا ۔۔۔۔۔کھبی بالکنی میں جا کے کھڑا ہو جاتا کھبی زمین پہ بیٹھ جاتا ۔۔کھبی چاند کو دیکھتا رہتا ۔۔اِس دوران نہ جانے اُس نے کتنی ہی سگریٹ کی ڈبیاں خالی کیں تھیں۔۔۔۔ وہ اتنے سگریٹ پینے لگا تھا کہ اُس کو لگنے لگتا اُس کا اندر خالی ہو گیا ہے ۔۔۔اُس کے پھیپھڑے ختم ہو چکے ہیں ۔۔۔۔
۔
وہ زمین پہ لیٹا ہی تھا کہ اُس کو ازان کی آواز سنائی دی ۔۔۔وہ فوراً اٹھا ۔وضو بنایا ۔۔اور مسجد کی طرف نکل پڑا ۔۔۔۔
راستے میں جگہ جگہ اُسے لگتا جیسے وہ گر رہا ہے ۔۔۔۔اُس کی ٹانگیں اُس کا ساتھ چھوڑنے والی ہیں ۔۔۔۔۔
وہ نیم اندھیرے میں ٹکرئیں کھاتا ہوا جا رہا تھا ۔۔۔کھبی زمین پہ پڑے پتھر سے اٹک جاتا اور نیچے گر جاتا ۔۔۔۔۔اُس کو لگا جیسے اُس کو جان بوجھ کے گرایا جا رہا ہے ۔۔۔۔اُس کو جان بوجھ کے ضعیف کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔
۔
اُس کو اندازہ ہو گیا تھا وہ اپنی جوانی میں ہی صدیوں پرانا ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔اُس کی عمر کے مرد تو ابھی ھستے ہیں کھلتے ہیں ۔۔۔۔۔مگر اُس کی ھسی اتنی بے معنی کیوں ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔اُس کا وجود اتنا ضعیف کیوں ہو گیا تھا ۔۔۔۔کیا ابھی اُس کی عمر ہے چھوٹے چھوٹے پتھروں کے ساتھ ٹکرا کے گر جانے کی ؟ ۔۔۔
کیا یہ عمر اُس کی گرنے والی ہے ؟ وہ تو ہزار لوگوں کو سہارا دیے ہوئے ہے ۔۔۔اُس کا ایک وجود نا جانے کتنے ہی گھروں کا چولہا جلاتا ہے ۔۔۔۔کتنے ہی لوگ اُس ایک وجود کی بدولت پڑھتے ہیں ۔۔۔۔کتنی ہی بیٹیوں کی شادی اُس ایک وجود کے ہونے سے ہوتی ہیں۔۔۔۔۔وہ تو کھبی مانگنے والوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا ۔۔۔۔عزت سے بغیر دنیا کو بتائے اتنے کام کرتا ہے ۔ہزاروں لوگوں کی دعائیں لیتا ہے ۔۔۔۔پھر وہ کیسے انِ ٹھوکروں سے گر رہا ہے ۔۔۔۔۔پھر وہ کیسے اپنا وجود گھسیٹ گھسیٹ کے مسجد تک پہنچا رہا ہے ۔۔۔۔
“کیا یہ وہی وجدان ہے جس کے چہرے سے مسکراہٹ کھبی مدھم نہیں ہوئی ۔۔۔۔کیا یہ وہی وجدان ہے جو اپنے ساتھ ساتھ ہزاروں لوگوں کو ھسنے پر مجبور کر دیتا تھا ۔۔۔۔۔کیا یہ وہی وجدان ہے جو محفل کی جان ہوا کرتا تھا ؟ “
۔
“یا اللہ مجھے بس مسجد کی گیٹ تک پہنچا دے۔ ۔۔اُس سے پہلے میری سانسیں نا روکنا “
۔
اُس نے گلی کی دیوار کے ساتھ ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔جس کا راستہ مسجد کے گیٹ تک جاتا تھا ۔۔۔۔
۔
وہ ایک ایک قدم گلی کی دیوار کا سہارا لیے اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔جیسے کوئی بوڑھا بہت بوڑھا انسان مسجد تک پہونچے کی کوشش کر رہا ہو ۔۔۔۔
۔
وہ دو منٹ کا سفر اُس کو میلوں کے برابر لگ رہا تھا ۔۔۔۔جیسے وہ چلتے چلتے بہت تھک گیا ہو ۔۔۔اتنا تھک گیا ہو کہ اب ایسا مقام چاہتا ہو جہاں وہ کچھ دیر بیٹھ جائے ۔۔۔۔۔کچھ دیر اُس کو سکون مل جائے ۔۔۔۔۔
۔
مسجد کے دروازے تک پہنچتے ہی اُس نے لمبی لمبی سانسیں لیں۔ جیسے وہ لمبا سفر طے کر کے آیا ہو۔ بہت تھک گیا ہو ۔۔۔۔
۔
“وجدان “
مولوی صاحب نے اُس کو مسجد کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے دیکھا ۔۔۔۔جو کچھ ہی لمحوں میں وہیں بیٹھنے والا تھا ۔اُس دروازے کے بلکل سامنے ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے وجدان “
انہوں نے اُس کو اپنے بازو کا سہارا دیا جو گرنے کو تھا ۔۔۔۔جس کی آنکھیں بند ہونے کو تھیں ۔۔۔۔
۔
“اندر اؤ وجدان “
انہوں نے اپنے بازوں کے سہارے سے لاتے ہوئے اُس کو کسی طرح مسجد کے اندر کیا ۔۔۔۔۔اُس کو لگا مسجد میں قدم رکھتے ہی اُس کے دل میں سکون اتر آیا ہے ۔۔۔۔۔اُس کے بے جان جسم میں جان واپس آئی ہے ۔۔۔۔۔
۔
“مولوی صاحب میں ٹھیک ہوں اب “
اُس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے خود چلنا شروع کیا ۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ممبر شریف تک پہنچا جہاں مولوی صاحب بیٹھا کرتے تھے ۔۔۔۔۔اور وہ ان کے پیروں کے پاس بیٹھا کرتا ۔ ۔۔کھبی کھبی عقیدت سے اُن کے پاؤں بھی دھوبا لیتا ۔۔۔۔۔جیسے کوئی چھوٹا کسی بزرگ کے پاس بیٹھا ہو اُن کی باتیں سن رہا ہو۔ اور ساتھ اُس بزرگ کے پاؤں بھوبا رہا ہو ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے وجدان ؟ “
مولوی صاحب آج ممبر پہ نہیں بیٹھے تھے ۔۔۔۔اُس کے پاس اُس کے بلکل سامنے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔وہ اُس کو دیکھ رہے تھے جو شاید کتنی ہی راتوں سے سویا نہیں تھا ۔۔۔۔وہ اُس کو دیکھ رہے تھے جس سے سگریٹ کی مہک آ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
انہوں نے ایک عرصے سے اُس کے چہرے پہ وہ مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی ۔۔۔جو زندہ دل لوگوں کے چہرے پہ ہوتی ہے ۔۔
۔
وہ جانتے تھے اُس وجدان میں اور اِس وجدان میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔۔۔وہ وجدان تو زندہ دل انسان تھا ۔جو بات بات پہ مسکرا دیتا تھا ۔۔۔اونچا اونچا ھس دیتا تھا ۔۔۔مولوی صاحب کو شعر سنایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔اُن کے ساتھ مذاق کرتا تھا ۔۔گپ لگاتا تھا۔۔۔
“مولوی صاحب بتائیں نا کھبی اسکول کے دور میں کسی لڑکی کو آنکھ ماری ہے آپ نے “
۔
مولوی صاحب اُس کی اِس بات پہ ہس دیتے ۔۔۔۔اگر کھڑے ہوتے تو پیروں کی جوتی اُتار دیتے ۔۔اور وُہ بھاگ کے اُن سے دور کھڑا ہو جاتا ۔ دونوں کانوں کو شرارت سے پکڑتا ۔۔۔۔اور مسکرا دیتا ۔۔۔۔
۔
مگر یہ جو وجدان اُن کے سامنے بیٹھا تھا ۔وہ تو هستا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔ہر وقت مسجد کے پلر کے ساتھ ٹیک لگائے گردن جھکائے بیٹھا رہتا تھا۔۔۔۔۔اُس کو نہیں ہوش تھی کون آ رہا ہے کون جا رہا ہے ۔۔۔۔۔مولوی صاحب بھی سامنے ہوتے تو سلام کر دیتا ۔۔۔نہیں تو بیٹھا رہتا ۔۔۔۔۔بغیر کچھ پڑھے وہ کتنے ہی گھنٹے وہاں گزار دیتا ۔۔۔۔۔اور بغیر مانگے پھر اٹھ جاتا ۔۔۔۔جیسے اُس نے پہلے سے بہت کُچھ مانگا ہے۔۔۔اور اُسی کے قبول ہونے کا منتظر ہے ۔
۔ اُن کو پتا تھا اُس کا دل مر چکا ہے ۔۔۔۔۔وہ جو اپنے لیے کچھ نہیں مانگتا تھا ۔۔وہاں پہ ہر آتا جاتا اُس کو دیکھتا ۔۔۔۔اور ہاتھ اٹھا کے دعا کرتا ۔۔۔۔وہ ہر ایک کے دل میں گھر کیے ہوئے تھا ۔۔۔ہر کوئی اُس سے محبت کرتا تھا۔ محلے کا ہر مسئلہ اُس سے ڈسکس ہوتا تھا ۔۔۔مگر پیچھے کچھ عرصے سے وہ خود اپنے آپ میں نہیں تھا۔ ۔۔۔جسم تو اُس کا اپنا تھا مگر روح ۔۔۔روح اُس میں کیسی اور کی تھی ۔۔۔ وہ جس وجدان کو سب جانتے تھے وہ مر گیا تھا ۔۔۔وہ جو وجدان اُن کے سامنے بیٹھا تھا وہ تو کوئی روگی تھا۔۔۔کوئی دیوانہ ۔۔۔۔
۔
“وجدان اتنی محبت تم اللہ سے کرو تو کیا کچھ نہیں مل جائے تمھیں “
مولوی صاحب نے اُس کا جُھکا سر دیکھ کے بہت نرم انداز میں کہا ۔۔۔۔
۔
مولوی صاحب کی اِس بات پہ اُس نے اپنا سر اوپر کیا ۔۔۔۔اُس کا دل ایک دم کانپا ۔۔۔۔اور اُس کپکپاہٹ نے اُس کے پورے وجود کو اندر سے ہلا دیا ۔۔
۔
۔۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مانسہرہ سے ایبٹ آباد پہونچنے میں اُن کو تقریاً ۴۵ منٹ لگے ۔۔۔۔وہ کچھ ہی وقت بعد ایمرجنسی پنچ گے تھے ۔۔۔۔۔زرمینہ کو ایمبولینس میں ہی چھوڑے شہاب اور سلطان ڈاکٹر اسلم جدون کے کلینک گے ۔ہسپتال میں اُن کا الگ سے کیبن تھا ۔۔۔اُن کو ڈاکٹر جدون کا ڈاکٹر بابر خان نے بتایا تھا۔۔۔۔۔
۔
ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں ؟”
شہاب نے باہر کھڑی نرس سے پوچھا ۔۔۔۔
“ڈاکٹر صاحب تو آپریشن تھیٹر میں ہیں “
“کتنے وقت میں آئیں گے ؟”
“یہ تو کچھ نہیں کہے سکتی میں “
“ہماری بہن ہے ایمبولینس میں ۔۔۔۔ڈاکٹر بابر نے ہمیں ڈاکٹر جدون کا بتایا تھا ۔۔۔۔ہمیں اُن سے فوراً ملنا ہے “
شہاب نے پریشانی سے گھڑی دیکھتے ہوئے اُس کو بتایا ۔۔۔
۔
“دیکھیں اگر آپ کی بہن سیریس ہیں تو آپ اُن کو لے آئیں…اور اگر آپ کو مانسہرہ سے ایبٹ آباد ریفر کیا گیا ہے پھر تو آپ اُن کو ورڈ میں لے آئیں ۔۔۔۔۔جب تک ڈاکٹر صاحب نہیں آتے۔۔۔۔۔
۔
“نہیں ہمیں روم چائیے ہم اپنی بہن کو ورڈ میں نہیں چھوڑ سکتے “
سلطان نے شہاب کو دیکھتے ہوئے نرس کو کہا۔۔۔۔
۔
“فلحل تو ورڈ میں بھی جگہ ملنا بہت مشکل ہے آپکو ۔۔۔۔آج ایک کیس آیا ہے بس گرنے سے تیس افراد زخمی ہوئے ہیں ۔۔اور بھی دو تین ایسے ہی کیس آئے ہیں ۔۔۔۔۔تو اج تو روم ملنا ممکن نہیں ہے “
۔
“یہ کیا بات ہوئی اتنی بڑی ہسپتال ہے اور آپ کہے رہی ہیں روم ملنا مشکل ہے۔ اب ہم اپنی بہن کو ورڈ میں رکھیں گے جہاں ہر آتا جاتا اُس کو دیکھے “
سلطان نے جذباتی انداز میں اُس نرس کو کہا ۔۔۔۔جو اپنی ہی بات سے تھوڑا سا کنفیوزڈ ہوئی تھی ۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے ؟”
“کچھ نہیں ڈاکٹر صاحب یہ لوگ کہے رہے ہیں ڈاکٹر بابر خان نے اُن کو ریفر کیا ہے یہاں “
نرس نے ڈاکٹر کے آتے ہوئے اُن دونوں کو دیکھ کے وضاحت دی۔ ۔
۔
“جی جی بلکل مجھے خان صاحب نے بتایا تھا ۔۔لے آئیں آپ پیشنٹ “
ڈاکٹر جدون نے کلینک کی طرف جاتے ہوئے کہا ۔۔
۔
“لیکن ڈاکٹر صاحب یہ کہے رہی ہیں یہاں روم کوئی نہیں خالی ۔۔۔۔ہم اپنی بہن کو ورڈ روم میں نہیں رکھ سکتے “
شہاب نے نرمی سے ڈاکٹر کو دیکھا اور آرام سے کہا ۔۔۔
۔
“ابھی تو ہم اُن کو روم میں شفٹ بھی نہیں کریں گے ۔خان صاحب نے اُن کی کنڈیشن کا مجھے بتا دیا ہے ۔۔۔۔وہ چار دن سے بے ہوش ہیں ۔ہم اُن کو u۔c۔I۔ میں رکھیں گے اُن کے ٹیسٹ ہوں گے ۔۔۔ابھی تو اُن کو انڈر اوبصرویشن رکھنا ہے ۔جب اُن کو ہوش آیا تو پھر روم میں شفٹ کریں گے “
۔
“جی ڈاکٹر صاحب بہت بہتر “
ابھی آپ اُن کو لے کے آئیں ۔۔۔۔جس حساب سے خان صاحب نے مجھے بتایا ہے۔ ہم سے نہ ہو سکا تو ہم اُن کو پنڈی ریفر کر دیں گے “
ڈاکٹر صاحب کی اِس بات پہ سلطان نے شہاب کو دیکھا۔ ۔۔جس کا دل شاید اُس سے زیادہ ڈرا ہوا تھا ۔۔۔۔اُس سے زیادہ کامپ رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا مطلب مولوی صاحب …کیا میں اللہ سے محبت نہیں کرتا؟ “
اُس نے بہت حیرت سے خالی آنکھوں سے مولوی صاحب کی طرف دیکھا ۔۔۔۔وہ کیسے نہیں کرتا اللہ سے محبت پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے۔ اُس کے بندوں سے حُسن سلوک سے پیش آتا ہے۔ ۔جھوٹ نہیں بولتا۔ ۔۔دھوکہ نہیں کرتا۔ ۔کسی کی دل آزاری نہیں کرتا ۔۔۔۔پھر وہ کیسے اللہ سے محبت نہیں کرتا ۔اُس نے مولوی صاحب کو دیکھتے ہوئے اپنے دل میں کہا ۔۔۔۔
۔
“یہ سوال تم اپنے آپ سے کرو وجدان ۔۔۔کیا تم اللہ سے اتنی ہی محبت کرتے ہو جتنی اُس لڑکی سے ؟”
آج پہلی بار ایسا ہوا تھا مولوی صاحب نے ڈائریکٹ اُس سے لڑکی کا حوالہ دے کے پوچھا تھا ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ ڑھکے چھپے الفاظ میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے تھے ۔۔مگر آج مولوی صاحب نے کوئی لحاظ نہیں رکھا تھا ۔۔۔۔اُس سے منہ پہ پوچھا تھا ۔
۔
مولوی صاحب کی اِس بات پہ اُس نے ایک بار پھر اُن کو دیکھا۔ ۔۔اُس کو سمجھ نہیں آیا مولوی صاحب اُس کو کیا کہے رہے ہیں ۔اُس کو ایسا کیوں کہے رہے ہیں ۔۔اُس کو پتا تھا مولوی صاحب اُس کو جانتے ہیں۔ اُن کو پتا ہے وہ پانچ وقت کا نمازی ہے۔ لوگوں کی مدد کرتا ہے ۔۔۔۔اچھے اخلاق سے پیش آتا ہے ۔۔۔۔۔پھر وہ کیوں اُس سے ایسے پوچھ رہے ہیں۔
۔
“وجدان پوچھ رہا ہوں میں کچھ ؟ “
مولوی صاحب نے اُس کی خالی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی۔۔۔۔۔
۔
“مولوی صاحب مجھے سمجھ نہیں آ رہی آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں ؟”
پُتر میں یہ پوچھ رہا ہوں جتنی محبت تم اُس سے کرتے ہو کیا اللہ سے بھی اتنی ہی کرتے ہو ؟کیا اللہ کی محبت بھی تم ایسی ہی شدت سے کرتے ہو ؟ کیا کھبی تم اللہ کی محبت میں ایسے روئے ہو ؟ کیا کھبی اللہ کی محبت میں تم جوگی بن کے مسجد میں بیٹھے ہو ۔۔۔کیا کھبی اللہ کی محبت میں تم نے اللہ کو ہی مانگا ہے ؟ کیا اللہ کی محبت میں تم رات رات بھر جاگے ہو ؟
۔
مولوی صاحب اُس سے پوچھتے گے اور وہ اُن کو بغیر پلک جھپکے دیکھتا رہا ۔۔۔۔
۔
اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔اُس کو کھبی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں یاد آیا جب وہ اللہ کی محبت میں رویا ہو ۔۔۔جب وہ اللہ کی محبت میں رات رات بھر جھاگا ہو ۔ جب اُس نے اللہ کی خوشی کے لیے اپنی نیند قربان کی ہو۔ اُن کی حمدو ثناء کی ہو ۔۔۔ اُس نے اللہ سے اللہ کو ہی مانگا ہو ۔
۔
اُس کے دل میں ندامت آنے لگی ۔۔۔آنکھوں میں نمی آئی ۔۔۔ہونٹوں پہ ایک مکمل خاموشی چھا گئی ۔۔۔اُس کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔۔اُس کے پاس مولوی صاحب کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں تھا ۔۔۔۔وہ کیا کہتا اُن کو وہ تو ایک لڑکی کی محبت میں جوگی بنا پھرتا ہے ۔وہ تو اللہ سے ایک لڑکی کو مانگتا ہے ۔۔۔۔اُس نے تو کھبی نہیں کہا اللہ مجھے اپنی محبت دے دے ۔اللہ مجھے تو ہی چائیے ۔۔مجھے تیرے سواء اور کوئی نہیں چائیے ۔۔۔۔۔
۔
“خاموش کیوں ہو گے وجی ؟ کوئی جواب نہیں ہے تمہارے پاس ؟”
مولوی صاحب نے اُس کا جُھکا سر ۔۔۔ کانپتے ہونٹ دیکھ لیے تھے۔ ۔۔اُن کو اپنا جواب مل گیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“وجی جب تم محبوب سے زیادہ کسی کو چاہو گے تو اُس سے کیس منہ سے کچھ مانگو گے ؟ “
مولوی صاحب نے اُس کے دل پہ دوسرا وار کیا ۔۔۔۔۔اُس کو بہت غور سے دیکھا۔۔۔۔۔جو اب بھی نظریں جھکائے بیٹھا تھا ۔۔۔
۔
وجی تم مجھے بتاؤ ۔تھیں اگر کسی سے کچھ چاہیے ہو ۔۔۔تمھیں پتا ہو اُس کے سواء کوئی تمھیں وہ چیز نہیں دے سکتا ۔۔۔۔۔اور تم اُس سے محبت ہی نہ کرو ۔۔۔تو تمھیں کیا لگتا ہے وہ تمہیں وہ چیز دے گا ۔،؟؟۔۔۔
وجی وہ تو رب کائنات ہے ۔۔۔پوری کائنات کا رب ۔۔۔۔جس نے یہ پوری دنیا بنائی ہے ۔جس نے ہمیں کیا کچھ نہیں دیا ۔۔۔۔جس کی ایک ایک سانس کا ہم شکر نہیں ادا کر سکتے ۔۔۔۔۔وہ ہم سے بدلے میں کیا مانگتا ہے ؟ فقط محبت ؟ اور ہم کیا کرتے ہیں وجی اُس کی محبت اُس کی مخلوق کے ایک بندے کو وقف کر دیتے ہیں ۔۔۔۔اور پھر اُس سے محبت مانگتے ہیں ۔۔۔۔۔
۔
وجی ایک بات یاد رکھو ۔۔اللہ رب العزت اپنی محبت میں شراکت کھبی بھی برداشت نہیں کرتا ۔۔۔ وہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔۔۔۔اور ہم کیا کرتے ہیں ایک شخص کی خاطر اُس کی ساری محبتوں کو بُھول جاتے ہیں ۔۔۔۔۔اور پھر بے ہسی کی حد تو دیکھو ہم اُسی سے اُس کی جگہ کسی اور کو مانگتے ہیں ۔۔۔۔تو کیا کوئی محبوب برداشت کر سکتا ہے اُس کا محبوب اُسی سے کسی اور کو مانگے ؟
تمھیں کیا لگتا ہے وجی پھر وہ تمہیں سکون دے گا؟ میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا ۔۔۔۔اللہ رب العالمین سے اُسی کو مانگو ۔۔۔اُس کے ہو جاؤ ۔۔۔۔
یہ دنیا کی محبت فانی ہے وجدان ۔۔۔۔کیا تمہیں اِس دنیا کی محبت نے ایک دن بھی سکون دیا ہے ؟ کیا تم اُس محبت کے بعد ایک رات بھی سکون کی نیند سوئے ہو ؟ کیا اُس محبت کے بعد تم کھبی دل سے مسکرائے ہو ۔۔۔جس محبت میں تم دیوانے بن گے ہو ۔دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔۔۔۔۔کیا اُس محبت نے ایک لمحے کے لیے تمھیں سکون بخشا ہے ۔۔۔۔ ؟
وجدان یہی محبت تم اللہ ربّ العزّت سے کرتے ۔۔۔۔اُس کی محبت میں دنیا سے کنارہ کش ہو جاتے ۔۔اُس کی محبت میں مسجد کے پلر کے ساتھ ٹیک لگا کے آنسوؤں بہاتے ۔۔۔۔۔اُس کی محبت میں دیوانے ہو جاتے ۔۔۔۔اُس کے محبوب کے نام پہ خود کو قربان کر دیتے ۔۔۔۔تو کیا تم اسی حالت میں ہوتے ؟ جس حالات میں تم ابھی میرے سامنے بیٹھے ہو؟
۔
وجدان مجھے تمہیں دیکھ کے بہت دُکھ ہوتا ہے بہت افسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔تم نے فقط ایک لڑکی کے لیے اپنا یہ حال بنا لیا ہے ۔۔۔؟
تم اتنی ہی شدت سے محبت اُس ذات سے کرو ۔۔وہ تمہیں نور ہی نور کر دے ۔۔۔۔۔جتنی صدق دل سے محبت تم ایک لڑکی سے کرتے ہو ۔اُس سے زیادہ اللہ سے کرو ۔۔۔۔۔اُس کو مانگو وجی ۔۔۔وہ تمہیں مانگنے پہ اپنا آپ دے گا ۔۔۔۔۔خود کو تمہارے حوالے کر دے گا ۔۔۔۔تم کھبی اِس طرح چل کے نہیں ائو گے جس طرح تم آج آئے ہو ۔۔۔۔
۔
مولوی صاحب نے دُکھ سے ایک آہ بھری اور اُس کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔جو اپنے دل پہ ہاتھ رکھے سر کو جھکائے اُن کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔
۔
” وجی اُس سے زیادہ محبت اپنے محبوب سے کسی نے نہیں کی ہے نہ کوئی کر سکتا ہے ۔۔۔۔”
انہوں نے آسمان کی طرف اپنی انگلی کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
وہ بھی محبت کرتا ہے اپنے محمّد سے محبت کرتا ہے اپنے احمد سے محبت کرتا ہے ۔۔۔۔
چلو وجی میں تمھیں بتاتا ہوں خدا پاک اپنے محبوب سے کس نوعیت کی محبت کرتا ہے ۔۔۔۔۔یہ تو تم نے سنا ہی ہو گا اللہ رب العالمین نے اپنے محبوب کی محبت میں زمین آسمان بنائے یہ جہاں بنایا یہ دنیا بنائی ۔۔۔۔۔
میں تمہیں بتاتا ہُوں اُس نے اپنے محبوب سے اور کس کس انداز میں محبت کی ہے ۔۔۔۔
اُس نے اپنے محبوب کا نام “محمد” رکھا ہے ، “احمد ” رکھا ہے ۔۔۔۔۔
اب میری بات غور سے سننا ۔۔۔اُن کا کچھ وقت پہلے کا غصّہ نرمی میں بدلا ۔۔۔اُن کے چہرے میں مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔وہ اُس کو اللہ رب العزت کی محبوب سے محبت کا انداز بتانے لگے ۔۔۔۔۔
۔
اب تم محمد کا “م” ہٹاؤ تو پیچھے کیا بچا ؟ “حمد”
یہی بات ہے نا؟ اُنھوں نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جو مکمل دہیان سے اُن کو سن رہا تھا ۔۔۔
اب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو دوسرا نام دیا “احمد” اب احمد کا الف ہٹاؤ تو کیا بنا “حمد”
اب مجھے بتاؤں قرآن پاک کہاں سے شروع ہوا قرآن پاک کی پہلی آیت کیا ہے ؟
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
ترجمہ:
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے۔۔
اب تم اِس میں سے پہلا لفظ لو ۔
اَلْحَمْدُ جس کا مطلب ہے تمام تعریفیں ۔۔۔اب تم اِس میں سے “ال” ہٹا دو ۔۔۔۔۔پیچھے کیا بچا ؟
مولوی صاحب “حمد”
اُس نے پر جوش ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
سبحان اللہ سبحان اللہ تم سمجھ گے ہو ۔۔۔
اب دیکھو وجی اُس رب کے محبوب کی شان تو دیکھو ۔۔۔۔۔اُس رب العالمین نے قرآن مجید کی شروعات ہی اپنے محبوب کے نام سے کی ۔۔۔۔۔۔
اور کیا کہا “تعریف ” ۔۔۔۔۔اِس کا کیا مطلب ہوا ۔۔میرے محبوب میں دنیا میں تمھیں اسی عزت دوں گا جو کسی عاشق نے اپنے محبوب کو نہ دی ہو ۔۔۔۔۔۔میں تمھیں اِس دنیا میں وہ مقام دوں گا جو کسی اور کا نہ ہو ۔۔۔۔اُس کملی والے کی شان دیکھو اللہ نے خود بھی اُس کی تعریف سے شروعات کی اور پورے جہاں سے اُس کی تعریف کاروائی ۔۔
” اللہ و اکبر “
انہوں نے ایک گہرائی سانس لی اور پھر بولنے لگے
۔
محبت تو اللہ نے کی ہے وجی ۔۔۔۔اُس رب نے کی ہے اپنے محبوب سے ۔۔۔۔۔بدلے میں اُس کے محبوب نے اُس رب کائنات پہ اپنا آپ لوٹا دیا ۔۔۔۔۔اپنا پورا خاندان اُس کے نام پہ قربان کر دیا …
۔
وجی پہلے اُس کے تو ہو جاؤ جو محبتوں کا حقدار ہے ۔۔۔۔۔۔پہلے اُس سے تو محبت کرو ۔۔۔۔جس کو ہماری محبت کے سواء ہم سے کچھ نہیں چائیے ۔۔۔۔تم اُس سے محبت کرتے بھی نہیں ہو ۔۔اور اُس سے مانگتے بھی ہو ۔۔۔۔۔۔؟
۔
اللہ کی محبت سے زیادہ کسی کی محبت نہیں ہے ۔۔۔۔دنیا کی محبت ہمیں ذلیل کر دیتی ہے ۔۔اِس قدر ذلیل کر دیتی ہے کہ ہم جس سے محبت کرتے ہیں ہم اُسی کے ہاتھوں رسواء ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
۔۔
یہی محبت تم اللہ سے کر کے دیکھو ۔۔۔۔وہ تمہیں کھبی تنہا نہیں چھوڑے گا ۔۔۔۔وہ تمہیں کھبی ذلیل نہیں کرے گا نہ دنیا کے ہاتھوں ہونے دے گا ۔۔۔۔وہ تمہیں چلتا پھیرتا نور بنا دے گا ۔۔۔
۔
اللہ سے اللہ کو مانگو ۔۔۔اُس کی محبت مانگو ۔۔۔اُس کے محبوب کی محبت مانگو ۔۔۔اُس کی اولاد کی محبت مانگو ۔۔۔۔۔۔تم کیا مانگتے ہو ؟ ایک عورت ؟ محبوب کے حضور کھڑے ہو کہ تم ایک عورت مانگتے ہو وجی ؟ اُس کے لیے مسجد تم گلی کی دیوار پکڑ کے آتے ہو ؟ تم اُس سے وہ محبت مانگتے ہو جس نے تمھیں صدیوں پرانا کر دیا ہے ۔۔۔تمھیں تمہاری جوانی میں ہی ضعیف بنا دیا ہے ۔۔۔۔۔
۔
مولوی صاحب کا وہ نرم لہجہ ایک بار پھر سخت ہوا ۔۔۔۔اُن کے چہرے کی وہ مسکراہٹ جو خدا اور اُس کے محبوب کی محبت پہ آئی تھی ۔۔۔۔اُس کی محبت پہ پھر غائب ہوئی ۔۔۔۔اور وہ دل میں ڈر، ندامت ، خوف لیے اُن کو سنتا رہا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فاطمہ وجدان کو کیا ہوا ہے ؟ “
“اماں کچھ نہیں بتایا اُس نے مجھے “
انہوں نے دستر خوان پہ بیٹھے ہوئے بیٹی سے پوچھا جو کچن میں کھڑے ناشتہ بنا رہی تھی ۔۔۔
۔
“اماں آپ ایک بار پھر کیوں نہیں چلی جاتیں زرمینہ کے گھر “.
فاطمہ نے انڈا فرائی پان میں ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“اب ہم کیسے جائیں اُن کے گھر ۔۔۔۔انھوں نے اُسی دن ہمیں کہے دیا تھا۔ ۔۔ہم اپنے خاندان سے باہر رشتے نہیں کرتے ۔۔”
انہوں نے تسبی کا دانہ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
۔
“اماں اب ایک بار میں تو کوئی ہاں نہیں کر دیتا ہے نا ۔۔۔آپ پھر جائیں اُن کے گھر “
۔
“فاطمہ وجی کی یہ حالت تم سے اگر نہیں دیکھی جاتی ۔۔۔میں تو پھر ایک ماں ہوں ۔۔۔میرا گلاب کی طرح کھیلتا بچہ بلکل مرجا گیا ہے ۔۔۔۔اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھنے کو میں ترس گی ہوں ۔۔۔۔تمھیں نہیں پتا اُس کو دیکھ کے میرا دل خون کے آنسوں روتا ہے ۔۔مجھے میرے اندر سے خون کی بُو آتی ہے ۔۔۔مگر میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے ۔۔میرے ہاتھ میں اگر ہوتا ۔۔میں اُس لڑکی کو آج ہاتھ سے پکڑ کے لے آتی ۔۔اپنے بیٹے کے ہاتھ میں اُس کو دیتی۔ یہ لو وجی اپنی زرمینہ لو۔ ۔۔وہ زرمینہ جو تمہاری خوشی ہے تمہاری مسکراہٹ ہے ۔۔۔۔۔مگر میرے بس میں نہیں ہے کچھ “
انہوں نے اپنی آنکھوں سے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
۔
“اماں آپ میرے کہنے پہ ایک بار پھر چلی جائیں “
اب وہ کچن سے نکل کے ماں کے پاس آئی تھی اُن کے پاس بیٹھی ۔۔۔۔۔
۔
فاطمہ ہم پہلے بھی تمہاری اور وجی کی خاطر گے ہیں ۔۔۔۔وہ لڑکی بہت پیاری ہے اتنی پیاری کہ مجھے تم بیٹیوں سے زیادہ محبت ہوئی ہے اُس سے ۔۔مگر کچھ چیزیں قدرت کی طرف سے ہی ممکن نہیں ہوتیں ۔۔۔۔۔اگر وہ ہمیں سید ہونے کے ناطے اپنی بیٹی دے بھی دیں ۔۔۔۔جتنی عزت وہ میری کر رہے تھے ۔۔میں اُن کے سامنے اپنے بیٹے کی خوشیوں کی بھیک مانگوں ۔۔۔۔اُن کے سامنے اپنی جھولی پھلا دوں ۔۔۔۔۔وہ کھبی انکار نہ کریں ۔۔۔۔۔۔میری جھولی کھبی خالی پیچھے نہ ہونے دیں ۔۔۔وہ اُسی وقت اپنی لختِ جگر ہمیں دے دیں ۔۔۔۔۔لیکن جب اُن کو یہ پتا چلے کہ ہم اہلِ تشیع ہیں تو پھر ؟
پھر کیا ہو ؟ جو چیز ممکن ہی نہیں ہے۔ جو چیز قدرت کی طرف سے ہی ممکن نہیں ہے اُس میں میں اور تم کیا کر سکتے ہیں ؟
انہوں نے ایک سرد آہ بھری اور بیٹی کو دیکھنے لگیں۔ ۔۔۔جو نظریں جھکائے گہری سوچ میں گم تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: