Hijab Novel By Amina Khan – Episode 38

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 38

–**–**–

“اسلام علیکم بھائی ..میں فضّہ بات کر رہی ہوں”
اُس نے اتنے دنوں کے انتظار کے بعد شہاب کو کال کی ۔۔
“جی وعلیکم اسلام “
اس کو پتا تھا فضّہ کون ہے وہ جانتا تھا اس کو ۔وہ زرمینہ کی واحد سہیلی تھی ۔۔۔جس کی وہ بات کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔
۔
“بھائی میں نے زرمینہ کا پوچھنا تھا ۔۔۔۔وہ اتنے دنوں سے یونیورسٹی نہیں آئی ۔۔۔وہ ٹھیک تو ہے نا ؟”
اس نے یونیورسٹی کے گارڈین میں کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
۔
“آپ دعا کیجیئے گا اس کے لیے اُس کی ٹیسٹ رپورٹس صحیح آ جائیں “
اس نے اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“کیا مطلب ٹیسٹ رپورٹس ؟ کیا ہوا ہے اُس کو ؟ “
وہ جانتی تھی یقیناً کوئی بڑی وجہ ہے تب ہی وہ یونی نہیں آ رہی ۔۔۔۔ورنہ ایسا کب ہوتا تھا وہ نہ آئے ۔۔وہ تو اتنا بیمار بھی ہوتی پھر بھی وہ وجدان کو دیکھنے کے لیے ضرور آتی تھی ۔۔۔۔
۔
“فلحال کچھ نہیں پتا کیا ہوا ہے اسکو ۔۔۔۔۔ابھی رپورٹس آئیں گی تو ہمیں پتا چلے گا “
“زری کدھر ہے کون سے ہاسپٹل میں ہے ؟مانسہرہ میں ہیں آپ لوگ ؟”
اس نے جلدی جلدی سوالوں پہ سوال کرنے شروع کئے !
۔
“نہیں ہم مانسہرہ میں نہیں ہیں ہم ایبٹ آباد کمپلیکس میں ہیں”
“بھائی میں وہاں آ جاؤں گی اس کو دیکھنے “
اُس نے بھاری ہوتی ہوئی آواز میں کہا ۔۔۔
۔
“آپ ابھی نہیں آئیں ۔۔۔ہو سکتا ہے ہم آج کل میں پنڈی کے لیے نکل جائیں “
“کیا پنڈی ؟”
اُس نے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔اور سسکیاں لینے لگی ۔۔۔۔
۔
“جی اگر اُس کی رپورٹس سہی نہیں آئیں تو پنڈی یا پشاور جانا پڑے گا “
“بھائی آپ میری اُس سے بات کروا دیں پلیز “
اُس نے منت کرنے والے انداز میں کہا ۔۔۔۔
“آج پانچ دن ہو گے ہیں وہ ہوش میں نہیں آئی “
اُس نے آنکھوں کے کونوں کو صاف کرتے ہوئے کہا ۔
“کیا پانچ دن ؟ “
اس کو لگا جیسے اب وہ زمین پہ گر جائے گی ۔۔۔۔
“پانچ دن سے وہ ہوش میں نہیں آئی تو کسی کو نہیں پتا اس کو کیا ہوا ہے ؟”
اُس نے روتے ہوئے غصے والے انداز میں کہا ۔۔
“جی ڈاکٹر کہتے ہیں وہ کوما میں ہے فلحال “
اُس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔نظریں زمین پہ کیں۔ ۔۔۔۔اور اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے بولا
۔
“جی کوما ؟ ایسے کیسے کوما ؟ بیٹھے بٹھائے کوئی کوما میں جا سکتا ہے بھلا ؟”
وہ بھول گئی تھی وہ زرمینہ سے نہیں اس کے بھائی سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ روانی میں سوال پہ سوال کیے جا رہی تھی ۔۔۔۔اور و نم آنکھوں سے جواب دیتا جا رہا تھا ۔۔۔
۔
“آپ دعا کیجیئے گا “
اس کے اتنے سارے سوالوں پہ وہ بس اتنا ہی بول پایا تھا ۔۔اور پھر چپ ہو گیا ۔۔۔
۔
“میں بہت دعا کروں گی بہت “
اس نے اب کی بار باقیدہ اونچا اونچا رونا شروع کیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ جو سسکیاں لے رہی تھی ۔۔۔آپ یونیورسٹی میں ہی کھڑے رو رہی تھی ۔۔۔۔
۔
دوسری طرف سے کال بند ہوئی ۔۔۔جیسے دوسری طرف کوئی خود بھی رو رہا ہو ۔۔۔۔۔اور وہ کسی دوسرے کا رونا برداشت نہیں کر سکتا ہو ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
“امی اگر وجدان اُس لڑکی سے اتنی ہی محبت کرتا ہے تو چھوڑ دے پھر یہ سب “
فاطمہ نے سوچنے والے انداز میں ماں کو کہا ۔۔۔۔جو خود بھی بلکل خاموش بیٹھی تھیں ۔۔۔۔
۔
“کیا چھوڑ دوں میں آپی؟”
وہ حال کے دروازے میں کھڑا تھا ۔۔۔۔۔جب بہن نے اس کی طرف مڑ کے دیکھا۔۔۔۔۔۔
۔
“وجدان “
اس کو بلکل بھی اندازہ نہیں تھا وہ باہر کھڑا ہو گا اور اس کی بات کو سن لے گا
“آپی بتائیں نا میں کیا چھوڑ دوں؟ “
اُس نے وہیں پہ کھڑے ایک بار پھر کہا ۔۔۔
“وجدان تم وہ سب چھوڑ دو جس کی وجہ سے لوگ تمہیں ایک الگ ہی نام دیتے ہیں ۔۔۔۔۔جو تم نہیں ہو تمہیں وہ کہتے ہیں “
۔
“آپ کے کہنے کا مطلب ہے میں اہل بیت سے محبت کرنا چھوڑ دوں؟ “
“نہیں وجی میں یہ نہیں کہ رہی “
وہ اپنی ہی بات پہ شرمندہ ہوئی ۔۔۔۔۔اور شرمندہ نظروں سے اس کو دیکھنے لگی ۔
نہیں آپی یہ ممکن نہیں ہے دنیا مجھے کچھ بھی کہے کچھ سمجھے ۔۔۔۔۔میں اہلِ بیت کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔۔اُن کی محبت میری رگوں میں ہے ۔۔۔میرے خون میں ہے ۔۔میرے جسم کے ایک ایک ریشے میں ہے ۔۔۔۔۔مجھے اِس دنیا کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
“مجھے غرور ہے میرا پیر مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں ۔۔اور فخر یہ ہے کہ میں فقیرِ حسین ہوں “
اور آپ کہتی ہیں میں چھوڑ دوں اُن کا در ؟
وہ بہن کے پاس آیا۔۔۔۔وہیں بیٹھا جہاں اُس کی ماں اور بہن پہلے سے بیٹھے تھے۔۔۔۔
۔
“وجی میں وہ نہیں کہے رہی کہ تم اہلِ بیت کو چھوڑ دو ۔۔۔میں یہ کہے رہی ہوں تم وہ چیزیں کرنا چھوڑ دو جس سے تمہیں لوگ شیعہ سمجھتے ہیں ۔۔۔شیعہ کہتے ہیں “
فاطمہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔جو اس کو حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“کس چیز کو چھوڑ دوں میں ؟”
علی کا نام لینا چھوڑ دوں؟ محرم کے مہینے میں غم کرنا چھوڑ دوں ؟ حسین کا کے دُکھ پہ دھکی ہونا چھوڑ دوں؟ اہلِ بیت پہ کیے جانے والے مظالم کا تذکرہ کرنا چھوڑ دوں؟ مولا علی کی شہادت پہ ابنِ مجلم کو لعنت بجھنا چھوڑ دوں؟ یزید اور اس کے ساتھیوں کو لعنتی کہنا چھوڑ دوں؟ حسین کی مجلس میں بیٹھنا چھوڑ دوں؟ فاطمہ بنت محمّد سے محبت چھوڑ دوں؟ میں آخر کیا کیا چھوڑوں؟
آپی میں اِن میں سے کون سی چیز چھوڑوں کہ لوگ مجھے شیعہ نہ کہیں ۔۔۔لوگ میری وجہ سے آپ کو اہل تشیع نہ کہیں ؟ اور وہ مجھے مل جائے ۔۔۔۔۔آپی اگر وہ مجھے اہلِ بیت کو چھوڑنے پے ملتی ہے نا تو خدا کی قسم یہ تو میری ایک محبت ہے ۔۔۔۔اہل بیت کے نام پہ میری ایسی ہزار محبتیں قربان”
وہ آج ایک لڑکی کی محبت میں نہیں بول رہا تھا وہ اہلِ بیت کی محبت میں بول رہا تھا ۔۔۔۔فاطمہ نے اس کو بہت غور سے دیکھا تھا ۔۔۔۔جب بھی وہ زرمینہ کا نام لیتا تھا ہمیشہ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں ہوتے تھے ۔دل میں ایک اُلجھن ہوتی تھی ۔۔اور جب وہ اہلِ بیت کی محبت میں بولتا تھا اس کی آنکھوں میں چمک ہوتی ۔۔۔چہرے پہ نور ہوتا۔ اور دل میں سکون ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔
۔
آپی مجھے یہ نہیں سمجھ آتی ۔۔۔۔جو اہلِ بیت سے محبت کرتا ہے اس کو شیعہ کیوں کہا جاتا ہے ؟ کیوں سنیوں کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اہلِ بیت سے محبت کریں ؟ اُن سے محبت کا اظہار کریں ؟ اگر میں ایک سید اور ایک سنی ہو کہ اہلِ بیت سے محبت کرتا ہوں تو مجھے شیعہ کہا جاتا ہے میرا مسلک اہل تشیع ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔آپی یہی چیز تو میرے دل کو لگتی ہے ۔۔کیا ہم اہلِ بیت سے محبت نہیں کر سکتے ؟ ۔۔۔۔۔
آپی میں بھی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح لوگوں کو صرف ایک ہی بات کہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
۔
” اگر اہل بیت کی محبت رافضیت ہے تو مجھ سے بڑا کوئی رافضی نہیں یعنی شیعہ”(امام شافعی)
“جو انہوں نے کہا میں بھی وہی کہتا ہوں۔ اگر اہل بیت کی محبت سے میں شیعہ ہو جاتا ہوں تو اللہ رب العزت کی قسم مجھ سے بڑا کوئی شیعہ نہیں “
۔
وہ جب بھی اہلِ بیت کی محبت پہ بولتا تھا وہ نہیں دیکھتا تھا سامنے کون بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔وہ ایک محبت سے عقیدت سے بولتا چلا جاتا تھا ۔۔۔۔
۔
آپی اہل بیت سے محبت کرنا عقیدہ اہل سنت ہے۔ وہ شخص اہل سنت نہیں، جس کا دل محبت و مؤدتِ اہلِ بیت سے خالی ہے، اس کے اندر خارجیت نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ اہل سنت کی شناخت حُب و تکریمِ صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم ہے۔ یہ دونوں شاخیں مل کر حُب رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بنتی ہیں۔ محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، محبت اہل بیت کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ شخص جھوٹا ہے جو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر اس کا دل محبتِ اہلِ بیت سے خالی ہے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ چودہ سو سال کی تاریخ اسلام میں ہمارے کل آئمہ کا طریق، مسلک و مشرب اہل بیت اطہار کی محبت میں یہی رہا ہے۔ اہل سنت کے چاروں آئمہ فقہ امام اعظم ابوحنیفہ، سیدنا امام مالک، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ کا مسلک بھی یہی ہے۔ وہ شخص جو محبت و مؤدت اہل بیت میں کم ہے، کمزور ہے یا ناقص ہے، وہ نہ حنفی ہے، نہ مالکی، نہ شافعی اور نہ حنبلی ہے۔۔۔
۔
آپی ہم کب محبت کرتے ہیں اہل بیت سے ؟ ہم نے کیا ہی کیا ہے اُن کے لیے؟ ہم لوگ تو بس باتیں کرتے ہیں فقط باتیں۔ باتوں سے تو محبت ظاہر نہیں ہوتی نا ۔۔۔۔۔ہمارا دل دماغ ہماری روح اُن کی محبت میں سرشار ہی نہیں ہوئی تو کہاں کی محبت کیسی محبت ؟
۔
وہ بہن اور ماں کو دیکھتا ہوا بول رہا تھا ۔۔۔۔ وہ دونوں ماں بیٹی آج ایک اہل بیت کے عاشق کو دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔۔ وہ عاشق جو ایک لڑکی سے عشق کرتا ہے تو پوری پوری رات اُس کی محبت میں روتا ہے سسکتا ہے ۔دیوانہ بن جاتا تو۔۔۔۔ جب وہی عاشق اُس لڑکی کے عشق کو اہل بیت کی خاک بھی نہیں سمجھتا ۔۔۔۔تو اُس کی اہلِ بیت کے لیے محبت کی کیا انتہا ہو گی ۔۔۔۔
۔
آپی ہم لوگوں نے اپنے اپنے فرقے بنا رکھے ہیں ۔۔۔۔۔ہر فرقہ جب تک اہلِ بیت سے محبت نہیں کرے گا ۔۔۔اُن کی محبت میں مست ملنگ نہیں ہو گا ۔۔۔۔تو وہ کبھی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔میں اُس کو ایک مومن مان ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔
۔
آپی میں آپکو سنی فرقہ کی زبانی اہلِ بیت کی محبت بتاتا ہوں ۔آج کل کے مجھ جیسے جاہل لوگوں کو پتا ہی کیا ہے محبت کا ۔۔۔
کوئی حسین ابنِ علی کا نام لے گا تو اس کو شیعہ کہا جائے گا ۔۔۔میں کہتا ہوں وہ اپنی تاریخ کیوں نہیں پڑھتے ۔۔۔۔۔وہ تاریخ جو اُن کے بڑوں نے لکھی ہے ۔۔۔۔۔جن کو وہ مانتے ہیں ۔۔۔جن کو مان کے وہ اپنا فقہ بناتے ہیں۔۔۔۔۔اہلِ بیت سے محبت تو اہل سنت ہے۔۔۔۔۔۔میں آپ کو اہل سنت کہ ہی کچھ اماموں کا بتاتا ہوں ۔۔۔۔انہوں نے کس قدر اہلِ بیت سے محبت کی ہے ۔۔۔۔۔
۔
حضرت عبداللہ بن مبارک روایت کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جب مدینہ گئے تو سیدنا امام محمد الباقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا:
فَاِنَّ لَکَ عِنْدِی حُرْمَةً کَحُرْمَةِ جَدِّکَ صلیٰ الله عليه وآله وسلم فِيْ حَيَاتِهِ عَلٰی اَصْحَابِهِ.
’’آپ کی حرمت اور تعظیم و تکریم میرے اوپر اس طرح واجب ہے جس طرح صحابہ کرام پر تاجدار کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم واجب تھی‘‘۔
یعنی جو تعظیم و تکریم صحابہ کرام آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا کرتے تھے، میں اسی طرح وہ تعظیم آپ کی کرتا ہوں چونکہ آپ کی حرمت و تعظیم اور محبت اور مؤدت میں مجھے حرمت و تعظیم اور مؤدت و محبتِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمنظر آتی ہے۔
(المناقب للموفق المکی صفحہ 168)
۔
ازیں سیدنا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو درج ذیل آئمہ اہل بیت اطہار کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا اعزاز حاصل ہوا:
امام زید بن علی (یعنی امام زین العابدین کے بیٹے اور امام حسین کے پوتے)
امام عبداللہ بن علی (یعنی امام زین العابدین کے بیٹے اور سیدنا امام حسین کے پوتے)
امام عبداللہ بن حسن المثنیٰ (امام عبداللہ الکامل)
امام حسن المثلث (امام حسن مجتبیٰ کے پڑپوتے)
امام حسن بن زید بن امام حسن مجتبیٰ
حسن بن محمد بن حنفیہ (سیدنا علی شیر خد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے)
امام جعفر بن تمام بن عباس بن عبدالمطلب (حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس کے پوتے)
امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں اہل بیت اطہار کے نو اِمام حیات تھے اور آپ نے ہر ایک کے پاس جاکر زانوئے تلمذ طے کیا۔ آئمہ اطہار اہل بیت میں سے جو امام بھی بنو امیہ یا بنو عباس کی ظالمانہ حکومت یا کسی حکمران کے خلاف خرو ج کرتے، آپ خفیہ طور پر اپنے تلامذہ کے ذریعے بارہ/ بارہ ہزار درہم تک بطور نذرانہ آئمہ اطہار اہل بیت کی خدمت میں بھیجتے۔
آپ نے چیف جسٹس بننے کی حکمرانوں کی طرف سے دی جانے والی پیشکش کو قبول نہ کیا، اس کا بہانہ بناکر آپ کو قید میں ڈال دیا گیا حتی کہ آپ کا جنازہ بھی قید خانے سے نکلا۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ نے چیف جسٹس بننا قبول نہیں کیا تو کیا یہ اتنا بڑا جرم تھا کہ عمر بھر قید کی سزا دے دی جائے اور جنازہ بھی قید خانے سے نکلے؟ دراصل یہ حکمرانوں کا بہانہ تھا کہ ہمارا حکم نہیں مانا اور چیف جسٹس کا عہدہ قبول نہیں کیا۔ سبب یہ تھا کہ حکمران جانتے تھے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ گھر بیٹھ کر اہل بیت کے ہر شہزادے کی خدمت کرتے ہیں، ان کے ساتھ محبت و مؤدت کا اظہار کرتے ہیں۔ لہذا ان کو محبت اہل بیت کی سزا دی جائے۔ پس آپ نے محبت اہل بیت میں شہادت پائی۔۔۔
آپی ان لوگوں نے اہلِ بیت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔۔۔ہم لوگ کیا کرتے ہیں ؟ جو اہلِ بیت سے محبت کرتا ہے اس کو شیعہ اور کافر کہے دیتے ہیں؟
۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور محبتِ اہلِ بیت
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو اہل بیت اطہار سے شدید محبت و مؤدت تھی۔ حضرت امام جعفر الصادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی ہستیوں کے پاس اگر کوئی مسئلہ پوچھنے جاتا تو فرماتے:
اِذْهَبْ اِلٰی مَالِک عِنْدَهُ عِلْمُنَا.
’’مالک کے پاس چلے جاؤ، ہم اہل بیت کا علم اس کے پاس ہے‘‘۔
آپ کل آئمہ اہل بیت کے شاگرد تھے اور ان کی محبت و مودت میں فنا تھے۔ ایک طلاق کے مسئلے کو بہانہ بناکر بنو عباس کے حکمرانوں نے ان کو محبت و مودتِ اہل بیت کی سزا دی۔ یہاں تک کہ ان کے سر اور داڑھی کو مونڈھ دیا اور سواری پر بٹھا کر مدینے کی گلیوں میں گھمایا اور حکم دیا کہ سب کو بتاؤ کہ میں امام مالک ہوں۔ آپ کہتے جاتے: جو مجھے پہچانتا ہے پہچان لے کہ میں کون ہوں اور جو مجھے اس حال میں دیکھ کر نہیں پہچان رہا وہ جان لے کہ میں مالک بن انس ہوں۔ اس واقعہ کے بعد آپ پیچس سال تک گھر میں گوشہ نشین ہوگئے اور باہر نہیں نکلے۔
یہ دور بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں کا تھا کہ جہاں آئمہ اہلبیت اطہار کا نام نہیں لیا جاسکتا تھا۔ بنو عباس نے اہل بیت کے نام پر حکومت پر قبضہ کرلیا اور پھر چن چن کے ایک ایک اہل بیت کے امام اور اہل بیت کے محب کو شہید کیا۔ بنو عباس کا تعلق چونکہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ تھا لہذا اس تعلق کی وجہ سے یہ آئمہ کرام ان سے بھی محبت کرتے۔ ان کے ایمان اور محبت و مودت کا عالم یہ تھا کہ بنو عباس اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے مگر یہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کے ساتھ اُن کو حاصل نسبت کی وجہ سے معاف کردیتے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو عباسی خلیفہ جعفر بن سلیمان عباسی کے حکم پر جب کوڑے مارے جاتے تو آپ بے ہوش ہوجاتے، جب ہوش آتا تو کہتے:
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ وَاللّٰه مَاارْتَفَعَ مِنْهَا سَوْطٌ عَنْ جِسْمِيْ اِلَّا وَاَنَا اجعله فِيْ حِلٍّ من ذٰالِکَ الْوَقْت لقرابته من رسول الله..
لوگو گواہ ہوجاؤ! باری تعالیٰ میں نے کوڑے مارنے اور مروانے والے کو معاف کردیا۔ جوں ہی ہوش آتا؟ پہلا جملہ یہی بولتے کہ میں نے معاف کردیا، پھر کوڑے لگتے، پھر کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہوجاتے۔ مگر ہوش میں آتے ہی انہیں معاف کردیتے۔
ذرا سوچئے! ان آئمہ کرام کے ہاں مودت، محبت، نسبت اور حرمت اہل بیت کا کیا عالم تھا۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ اتنا بڑا ظلم آپ کی ذات کے ساتھ ہوا مگر آپ جوں ہی ہوش میں آتے تو کہتے کہ معاف کردیا، ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے لگ رہا تھا کہ شاید کوڑے کھاتے کھاتے میں مرجاؤں گا۔ ساتھ ہی ساتھ معاف اس لئے کرتا جارہا ہوں کہ بے شک مجھ پر ظلم ہورہا ہے مگر یہ لوگ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کے خاندان میں سے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ قیامت کے دن میری وجہ سے میرے آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کے خاندان کا کوئی فرد دوزخ میں جائے۔ بے شک اس نے ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو مگر میں اس کا سبب نہ بنوں۔ اس لئے ہوش میں آتے ہی ساتھ ہی ساتھ معاف کرتا جاتا ہوں۔
اس قدر ظلم و ستم کے باوجود حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادے کے ساتھ حیاء کا تعلق برقرار رکھا۔ یہ عقیدہ اہل سنت والجماعت ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور محبتِ اہلِ بیت
امام شافعی پر اہل بیت کی محبت و مؤدت کی وجہ سے ملاؤں نے شیعہ اور رافضی ہونے کے فتوے اور تہمت لگا دی ۔۔۔
آپی چاروں آئمہ فقہ کی فطرت میں محبت اور مودت اہل بیت تھی، ان کے علم اور ایمان کا خمیر محبت اور مودت اہل بیت سے اٹھا تھا۔ امام شافعی نے اپنے دیوان میں ایک رباعی لکھی:
يَا آلَ بَيْتِ رَسُوْلِ اللّٰهِ حُبُّکُمْ
فَرْضٌ مِّنَ اللّٰهِ فِی الْقُرْآنِ اَنْزَلَهُ
’’اے اہل بیت رسول تمہاری محبت اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرض کردی ہے اور اس کا حکم قرآن میں نازل ہوا ہے‘‘۔
يَکْفِيْکُمْ مِنْ عَظِيْمِ الْفَخْرِاَنَّکُمْ
مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْکُمْ لَا صَلاَة لَهُ
’’اے اہل بیت تمہاری عظمت اور تمہاری شان اور تمہاری مکانت کی بلندی کے لئے اتنی دلیل کافی ہے کہ جو تم پر درود نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی‘‘۔
دوسرے مقام پر فرمایا:
اِنْ کَاْن رَفْضًا حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ
فَلْيَشْهَدِ الثَّقَلاَن اَنِّيْ رَافِضٌ
’’اگر آل محمد سے محبت کرنے کا نام رافضی/ شیعہ ہوجانا ہے تو سارا جہان جان لے کہ میں شیعہ ہوں‘‘۔
۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور محبتِ اہلِ بیت
امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ آپ یزید کے بارے میں کیا حکم کرتے ہیں؟ انہوں نے جو فتویٰ دیا آفاقِ عالم میں آج تک اس کی آواز گونجتی ہے، فرمایا:
میرے نزدیک یزید کافر ہے۔ آپ کے صاحبزادے عبداللہ بن احمد بن حنبل نے اس کو روایت کیا اور کثیر کتب میں آج تک بلااختلاف امام احمد بن حنبل کی تکفیر کا فتویٰ یزید پر آج تک قائم ہے۔ آپ کی مودت اور محبت بھی اہل بیت کے ساتھ لاجواب تھی۔
ان ساری باتوں کو کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ اہل سنت کہلاتے ہیں تو محبت و مؤدت اہل بیت سے گھبراتے کیوں ہیں۔ اس لئے کہ بعض خارجی الذہن لوگ، بعض فتنہ پرور شرپسند آپ کو شیعہ کہہ دیں گے، کسی کے شیعہ کہہ دینے سے کیا آپ شیعہ ہوجائیں گے؟ کوئی کسی کو کہہ دے کہ تم ہندو ہوگئے تو کیا صرف اتنا کہنے سے وہ ہندو ہوجائے گا؟ کئی ہندو شعراء نے نعتیں لکھی ہیں، کوئی کہہ دے کہ وہ مسلمان ہوگئے، تو کیا اتنا کہنے سے وہ مسلمان ہوگئے؟
یہ کچھ فتنہ پرور ملا ہیں جن کا ایجنڈا خارجیت کو فروغ دینا ہے، جن کا ایجنڈا محبت و ادبِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محبت آل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ختم کرنا ہے۔ اگر وہ اہل بیت کے ذکر اور ذکر حسین کا طعنہ دیتے ہیں اور پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ تم شیعہ ہوگئے تو ان کے پروپیگنڈہ پر لعنت ہوگی، قیامت کے دن مواخذہ ہوگا، کسی کے پروپیگنڈے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ کیا مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت کی نسبت اور اہل بیت کے ساتھ تعلق کی پختگی میں ہمارا ایمان اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ کسی کے پروپیگنڈہ کے ڈر سے چپ کرکے بیٹھ جائیں اور مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد کے ذکر کو چھوڑ دیں۔ جب امام مالک نے کوڑے کھاکر ان کی محبت کی راہ نہیں چھوڑی۔۔۔ امام اعظم کا جنازہ جیل سے اٹھا مگر مودت نہیں چھوڑی۔۔۔ امام شافعی پر رافضی/ شیعہ ہونے کی تہمت لگی مگر مودت نہیں چھوڑی۔۔۔ امام احمد بن حنبل نے کوڑے کھائے فتوی دیا، محبت نہیں چھوڑی۔۔۔ تو پھر ہم کیوں اہل سنت والجماعت کا اپنا طریق چھوڑتے ہیں۔ کل اولیاء، ابدال، قطب، غوث اور ولی محبتِ و مؤدتِ اہل بیت میں ڈوبا ہوا تھا۔ کوئی ولی مرتبہ ولایت کو نہیں پہنچتا جب تک اس کی ولایت کو سیدہ کائنات فاطمۃ الزہرائ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توثیق نہیں ملتی۔۔۔ کوئی ولی شان ولایت کو نہیں پاتا جب تک مولا علی شیر خدا کی مہر نہیں لگتی کیونکہ وہ فاتح الولایت اور امام ولایت ہیں۔
سلسلہ قادریہ بھی آگے چل کر امام علی رضا کے ساتھ ملتا ہے۔ امام معروف کرخی، امام علی رضا کے ہاتھ پر توبہ کرکے ان کے مرید اور خلیفہ ہوئے ہیں۔ یہ طریق ولایت آئمہ اطہار اہل بیت کے ذریعے امام علی رضا، امام موسیٰ کاظم سے ہوتا ہوا امام جعفر صادق تک جاتا ہے۔ الغرض ولایت حضرت فاطمۃ الزہرائ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی خیرات ہے۔ اگر آپ طعنوں سے ڈرتے ہیں تو پھر آپ اہل سنت والجماعت نہیں ہیں۔ محبت اور مودت اہل بیت کو اپنے اندر زندہ کریں۔ یہ صرف اہل تشیع کا شعار نہیں ہے بلکہ یہ اہل سنت کا بھی ایمان ہے، کل امت کا ایمان ہے۔ کوئی بھی مکتب فکر ہو، خواہ شیعہ ہو یا سنی ہو، جس کی نسبت تاجدار کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہے، جو صاحب ایمان ہے وہ آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہلبیت کے ساتھ محبت کئے بغیر مومن رہ ہی نہیں سکتا۔
۔
اور آپ کہتی ہیں کہ میں چھوڑ دوں یہ سب ؟
اس نے اپنی بات مکمل کرتے ہی بہن کی طرف ایک دُکھ سے ایک تکلیف سے دیکھا ۔۔۔۔جو ندامت سے آنسوؤں بہا رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
ایک اور بات آپی جو کہتے ہیں ماتم حرام ہے ۔۔۔۔۔ماتم نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔میں بھی کہتا ہوں ماتم نہیں کرنا چاہئے وہ شہید ہیں ۔۔وہ زندہ ہیں ۔۔۔۔ماتم تو مرے ہویوں کا ہوتا ہے۔ زندہ لوگوں کا کب ماتم ہوتا ہے ؟
لیکن آپی اگر امام حسین کے گم پہ اُن کی تکلیف پہ اُن کے دُکھ پہ اُن کی اولاد کے اتنی بے رحمی پہ مارے جانے پہ میں روتا ہوں ۔۔۔اِس ظلم پہ روتا ہوں ان کو کسی کافر نے نہیں شہید کیا بلکہ خود کو مسلمان کہنے والے نے شہید کیا ہے ۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔اور دنیا مجھے شیعہ کہتی ہے تو ہاں میں شیعہ ہوں ۔۔۔۔۔۔
۔
آپی آپ کو میں ایک واقعہ سناتا ہوں ۔۔۔
۔
ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمرے میں تشریف فرما تھے ۔۔۔۔۔آپ نے امالمومنین حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا دروازے پہ کھڑی ہو جاؤ ۔۔۔۔آج مجھ سے ایک ایسا فرشتہ ملنے کو آ رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں آیا ۔۔۔۔۔آپ فوراً گئیں اور دروازے پہ کھڑی ہو گئیں ۔۔۔۔اتنے میں امام حسین علیہ السلام کھلتے کھلتے اندر آئے ۔۔۔۔۔۔اور اُس کمرے میں چلے گئے جہاں حضور اقدس تشریف فرما تھیں ۔۔۔تھوڑی دیر بعد حضور کے رونے کی آواز آئی ۔۔۔۔زور سے رونے کی آواز آئی ۔۔۔۔حضرت ام سلمہ حضور پر نور کے رونے کی آواز پہ بھاگتی بھاگتی اندر گئیں ۔۔۔۔آپ نے دیکھا حضور نے امام حسین کو اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے ۔۔اور زاروقطار پھوٹ پھوٹ کے روئے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔آپ گھبرا گئیں فوراً عرض کی میرے ماں باپ آپ پہ قربان آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ جو فرشتہ آیا تھا اِس نے مجھے بتایا میرے اِس بچّے کو میری امت قتل کر دے گی ۔۔۔۔فرشتے نے مجھے وہ زمین دکھائی ہے جہاں اِس کا خون گرے گا ۔۔۔مجھے وہ مٹی دیکھائی ہے ۔۔۔۔۔۔
جب حضور پر نور روتے ہیں تو بتاؤ ہماری جان اتنی سخت کیسے ہو سکتی ہے کہ ہم اُس دن پہ اپنا دل پتھر کا کر لیں ۔۔۔۔
۔
آپی ایک اور واقعہ بتاتا ہوں میں آپ کو ۔امام زین العابدین پوری پوری رات رویا کرتے تھے ۔۔ایک دن اُن کے خادم نے پوچھا حضور آپ ساری ساری رات کیوں روتے ہیں سوتے ہی نہیں ۔۔۔۔اُس کی اِس بات پہ آپ پھر رونے لگے۔ آپ نے عرض کی یعقوب علیہ السلام کا یوسف گم ہوا تھا ۔۔۔۔وہ مل بھی گیا تھا ۔۔۔۔یعقوب علیہ السلام ایک بیٹے کی جدائی میں چالیس سال روتے رہے اتنا کہ آنکھوں کی بینائی چلی گی ۔۔۔میں نے اِن آنکھوں سے سارے گھر کو ذبح ہوتے دیکھا تھا۔۔۔۔۔تو کیسے نیند آ جائے مجھے کیسے سو جاؤں میں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر صاحب میری بیٹی ٹھیک تو ہو جائے گی نا؟”
ابراہیم صاحب نے ڈاکٹر کو غور سے رپورٹس دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا ۔۔۔۔
۔
دیکھیں ابراہیم صاحب ہمیں بلکل سمجھ نہیں آ رہی آپ کو بیٹی کو بیماری کیا ہے ۔۔۔۔۔وہ کوما میں ایسے اچانک کیسے چلی گئی ۔۔۔۔یہ تو بہت کی کم کیسیئس میں ہوتا ہے کہ پیشنٹ ایسے کوما میں جائے ۔۔۔۔مجھے بہت حیرت ہوئی ہے ۔میری زندگی میں آج تک کبھی کوئی کیس نہیں آیا ایسے سامنے کہ پیشنٹ بیٹھے بٹھاے کوما میں جائے ۔۔۔۔۔
دوسرا مجھے یہ بھی اندیشہ ہے آپ کی بیٹی کو گردوں کا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔اس کی ایک کڈنی بلکل نہیں کام کر رہی ہے ۔۔۔۔۔اور مجھے یہ لگتا ہے ہمیں آپریشن کر کے اس کڈنی کو نکالنا ہے۔۔۔۔۔۔اور ہم کوما کی حالت میں آپریشن بھی نہیں کر سکتے ہیں ۔۔۔۔اور اگر ہم نے یہ کڈنی جلد از جلد نہ نکالی ۔۔۔تو ہو سکتا ہے وہ ساتھ والی کڈنی کو بھی ڈیمیج کرے ۔۔۔۔۔اگر دونوں گردے نہ ہوں تو آپکو پھر پتا ہی ہے ایک مریض کا بچنا کتنا مشکل ہے ۔۔۔۔فلحال ہم بس اُن کے ہوش میں آنے کا انتظار کر⁦ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
۔
ڈاکٹر اُن کو ہر بات تفصیل سے بتا رہا تھا ۔۔۔اور وہ ڈوبتے دل کے ساتھ سن رہے تھے ۔۔۔
۔
“ڈاکٹر صاحب اب ہم کیا کر سکتے ہیں”
انہوں نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنا پسینہ صاف کرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
۔
فلحال ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے سوائے دعا کے ۔۔۔۔۔دعا کریں کہ وہ ہوش میں آ جائیں ۔۔۔۔آپ لوگ اُن کے پاس بیٹھا کریں باتیں کیا کریں ۔۔۔۔۔بیشک وہ بےہوش ہے ۔۔۔مگر آپ کی باتیں وہ سن سکتی ہے ۔۔۔۔۔اب ایسا ہے کہ کوئی معجزہ ہی ہو ۔۔۔وہ ہوش میں آ جائیں ورنہ ان کو بچانا بہت مشکل ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فضہ کیا ہوا ہے آپکو ؟ کیوں رو رہی ہیں آپ ؟”
نتاشا نے اُس کو روتا دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔
۔
“جی میں ۔۔۔۔۔”
وہ ایک دم چونکی اور سامنے دیکھا ۔۔۔اس کے سامنے اُس کی کلاس کی ایک لڑکی کھڑی تھی ۔۔۔۔اُس کو تو اندازہ ہی نہیں ہوا وہ کلاس میں بیٹھی ہے ۔۔۔۔۔اور کب اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں نکلے ۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے آپکو فضہ ؟”
نتاشا کی اِس بات پہ سامنے بیٹھی ماہ نور نے اس کو دیکھا ۔۔۔۔اور فوراً اس کے پاس آئی ۔۔۔۔۔
۔
“کچھ نہیں یار “
وہ جو کب سے ضبط کیے بیٹھی تھی ۔۔۔منہ پہ ہاتھ رکھ کے اونچا اونچا رونے لگی ۔۔۔۔۔اُس کے رونے پہ ساری کلاس اُس کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔۔۔کچھ ہی وقت میں سب کرسیوں سے اٹھ کے اُس کے سامنے کھڑے ہو گے ۔۔۔۔۔
۔
“یار بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے ؟”
“وہ زرمینہ ۔۔۔۔۔”
اُس نے روتے ہوئے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔۔۔اُس سے آگے کچھ بولا ہی نہیں گیا ۔۔۔۔۔
۔
زرمینہ کے نام پہ سب نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔اور پھر اس لڑکی کو جو اونچا اونچا سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے زرمینہ کو فضّہ؟ “
سامنے کھڑے مدثر نے اس کے رونے پہ حیرت سے پوچھا ۔۔۔۔۔مدثر ہی نہیں وہاں ہر کوئی حیران کھڑا تھا ۔۔۔۔ہر کوئی ایک دوسرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ۔۔۔۔۔ ایبٹ آباد ہوسپشل میں ہے ۔۔کوما ۔۔۔ کی حالت میں”
اُس نے روتے روتے ٹکڑوں میں بات کی ۔۔۔۔جو ہر بندہ سمجھ گیا تھا ۔۔۔۔ہر کوئی وہاں ایک سکتے کی حالت میں کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
“مطلب”
کچھ وقت بعد ماہ نور نے ایک بار پھر اُس سے پوچھا ۔۔۔جیسے اُس کو حیرت ہوئی ہو ۔۔۔۔۔جیسے اُس نے کچھ غلط سنا ہو ۔۔۔
۔
“یار ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ ایک دم اچانک کوئی کوما میں کیسے جا سکتا ہے “
سب اُس کی طرف دیکھ کے حیرت سے پوچھ رہے تھے ۔بات کر رہے تھے ۔۔۔
۔
“ہاں میں ٹھیک کہے رہی ہوں میری آج صبح ہی کچھ وقت پہلے اُس کے بھائی سے بات ہوئی ہے ۔۔۔۔انہوں نے بتایا ہے مجھے “
۔
اُس کے ساتھ ساتھ آج ہر کوئی پریشان ہوا تھا ۔۔۔جیسے سب کے دل کو چھوٹ لگی ہو ۔۔۔کلاس فیلو جتنا بھی برا کیوں نا ہو ۔۔۔جب بھی اُس پہ برا وقت آتا ہے ۔سارے اُس کے دُکھ میں برابر کے شریک ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔پھر وہ تو تھی ہی زرمینہ گل ۔۔۔جو ہر ایک کے دل میں گھر کیے ہوئے تھی ۔۔۔۔۔ہر ایک کی مدد کرتی تھی ۔۔۔ہر ایک کے کام آتی تھی۔۔۔۔۔کلاس کی ہر لڑکی اُس سے اپنے راز شیئر کرتی تھی ۔۔۔۔اور وہ اُن کو اپنے دل کے ایک کونے میں محفوظ کر دیتی تھی ۔دفن کر دیتی تھی ۔۔۔۔فضہ کے پوچھنے پہ بھی وہ اُس کو نہیں بتاتی تھی ۔۔۔۔
۔
یہ خبر سب کے لیے بہت بری تھی ۔۔۔۔آج وہاں موجود ہر کوئی افسردہ تھا ۔۔۔۔۔ اور اُن سب میں ایک ہانیہ بھی تھی ۔۔۔جس کو لاکھ اس سے اختلاف سہی۔۔۔مگر اُس کا سن کے وہ برداشت نہ کر سکی ۔۔۔اور دل میں اُس کی بہتری کے لیے دعا کرنے لگی ۔۔۔۔
۔
“فضہ آپ مت روئیں ۔۔۔۔آپ دیکھنا وہ ٹھیک ہو جائے گی بلکل “
ہانیہ نے اُس کے پاس آتے ہوئے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
“اِن شاء اللہ وہ ٹھیک ہو جائے گی ۔۔اور ہم سب اس کو دیکھنے بھی چلیں گے”
مدثر نے اُس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔اور ہانیہ نے برا سا منہ بنا کے اُس کو دیکھا ۔اُس کو شدید چڑ تھی اُسکا اپنی بات میں بولنا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپی میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے مذہب میں ماتم جائز ہے۔۔۔ایسا بلکل بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔اور وہ بھی شہیدوں کا ۔۔۔۔میں بس یہ کہتا ہوں اگر کوئی امام حسین کے گم میں آنسوؤں بہا دے تو وہ کافر بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔بیشک ماتم کرنا اسلام میں جائز نہیں ۔۔لیکن ماتم سے مراد اونچا اونچا رونا ۔۔۔۔یہ نہیں کہ ہم پتھر بن جائیں ۔۔۔۔۔اِس دُنیا میں امام حسین سے زیادہ مظالم کسی پے نہیں ڑھاۓ گے ۔۔۔۔
۔
بیشک وجی ماتم کرنا جائز نہیں ہے ۔۔۔۔۔تمہاری اِس بات سے مجھے ایک واقعہ یاد آیا ہے ۔۔۔۔۔
حضرت جعفر طیار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا زاد بھائی میدان جنگ میں شہید ہوئے ۔۔۔۔اُن کی چار زوجہ محترمہ بیوہ ہوئیں ۔۔۔چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوئے ۔۔۔۔۔
وہ اونچا اونچا رونے لگیں ۔۔۔۔۔آقا صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی اِس حرکت سے اِس قدر غضب ناک ہوئے اور کہا اِن کے منہ پہ خاک پھنک دو ۔۔۔۔حالانکہ حضرت جعفر طیار علیہ السلام اہلِ بیت میں سے تھے ۔۔۔۔اور اِس قدر ظلم سے شہید ہوئے تھے ۔۔۔مگر پھر بھی آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیویوں کو زور زور سے چینخ کے رونے کی اجازت نہیں دی ۔۔۔۔۔۔یہاں سے ہمیں پتا چلتا ہے ۔رونا تو جائز ہے مگر سر سے دوپٹے اُتار کے چینخ چینخ کے سینے پیٹ کے رونا اسلام میں حرام قرار دیا ہے ۔۔۔
۔
بیشک آپی آپ بلکل ٹھیک کہتی ہیں ۔۔۔میں تو یہ کہتا ہوں کوئی سنی ہے تو اس کو سنی چھوڑ دو ۔۔۔کوئی شیعہ ہے تو اس کو شیعہ رہنے دو ۔۔۔۔۔اِس دُنیا میں تو ۷۳ فرقے ہیں ۔۔۔۔اور جنت میں صرف ایک فرقہ ہی جائے گا ۔۔۔اب ہمیں کیا پتا ہے ۔۔۔وہ کون سا ایک فرقہ ہے جو جنت میں جائے گا ۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اِن فرقوں نے زمین پہ ہی ختم ہو جانا ہے ۔۔۔۔۔کسی کا فرقہ ختم کرنا ہماری ذمےداری نہیں ہے ۔۔۔۔۔یہ جس کا کام ہے ہمیں انہی پہ چھوڑنا چاہتے نا ۔۔۔۔۔بس اپی دعا کریں حضرت عیسٰی علیہ السلام اور امام مہدی کا نزول ہو جائے ۔۔۔۔اور اُس دنیا دے یہ فتنے ختم ہو جائیں ۔۔۔۔
۔
بیشک وجی ایک حدیث مبارکہ میں ہے
“صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ ۔عدل اور انصاف سے فیصلے کریں گے ۔۔اس وقت ایک سجدہ کرنا دنیا اور مافیہا سے بہتر ہو گا ۔۔۔۔پھر حضرت ابو ہریرہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی تائید میں یہ آیت پڑھی (ترجمہ)
“اہل کتاب میں سے ہر شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے اُن کی تصدیق کرے گا “
۔
اور ایک جگہ حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور قیامت تک حق پہ قائم رہے گا اور ثابت رہے گا ۔۔۔۔یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئیں گے۔۔۔۔مسلمانوں کا امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہے گا آئیے نماز پڑھایے ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے نہیں تمہیں تم میں سے بعض کی امامت کروں گا ۔۔۔۔۔حضور پاک نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول اس اُمت کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے ہو گا” (صحیح مسلم ۳۰۳)
۔
بیشک اپی بلکل ایسا ہی ہے ۔۔۔۔مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے ہم اُس نبی کی اُمت ہیں جس نے کفار کو بھی کبھی بد دعا نہیں دی ۔۔۔۔اور ہم سب مسلمان ہو کہ ایک دوسرے کو سلام بھی نہیں کرتے ۔۔ایک دوسرے پے کافر ہونے کے فتوے لگا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آتی اگر ہم سب کافر ہی ہیں تو جنت میں کون ہو گا؟…. جب ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمےدار ہے تو ہم ہوتے کون ہے اُس کے عمال میں بولنے والے ۔۔۔۔کیا اقا کو یہ سب دیکھ کے خوشی ہوتی ہو گی؟ ۔۔۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں اہلِ بیت سے محبت کرنا شیعہ کا ہی کام ہے….ہم اپنی انا کو ایک طرف کیوں نہیں رکھ لیتے ۔۔۔۔کیا حضور کی اولاد ہماری کچھ نہیں لگتی ؟ کیا اُن سے بغض رکھ کے ہم اپنے ایمان کی تکمیل کر سکتے ہیں؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 9

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: