Hijab Novel By Amina Khan – Episode 39

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 39

–**–**–

فضہ آپ نے زرمینہ کی جلد صحت یابی کے لیے جو قرآن خانی رکھوائی تھی وہ کس وقت ہے ؟
۔
“ماہ نور میں تو سوچ رہی تھی کسی فری لیسن میں پڑھیں گے ۔۔۔مگر سارے ٹیچرز بھی اِس میں شامل ہونا چاہتے ہیں جو ہمیں پڑھا رہے ہیں “
۔
“یہ تو بہت اچھا ہو گیا ہے ۔۔۔ٹیچرز کی دعاؤں سے تو وہ جلد صحت یاب ہو جائے گی ۔۔”
۔
“ان شاء اللہ بلکل ایسا ہی ہے “
اُس نے نظریں جھکائے ہوئے اپنا رُخ دوسری طرف موڑا جہاں سے اُس کو ہانیہ کی آواز آئی تھی ۔۔۔
۔
“فضہ اگر زرمینہ ٹھیک نہ ہوئی تو ہم سب اُس کو دیکھنے ہاسپٹل چلے جائیں گے ۔۔یونی کی ویں ہی ہائیر کر لیں گے “
۔
“ہانیہ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔مگر ابھی یہ بھی تو نہیں پتا کہ زرمینہ کون سے ہسپتال میں ہے اور ابھی وہ ایبٹ آباد میں ہی ہے یا پھر پنڈی میں “
اُس نے چہرے پہ سنجیدہ سے تاثرات لیے بولا ۔۔۔۔۔زرمینہ کی بیماری کی خبر کے بعد وہ ایک دفعہ بھی نہیں مسکرائی تھی ۔۔۔۔کسی نے اُس کو ہستے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔وہ ہر وقت تسبی ہاتھ میں لیے کچھ نہ کچھ پڑھتی رہتی تھی ۔۔۔۔۔آج اُس نے اپنی کلاس میں قرآن خانی رکھوائی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو لگ رہا تھا جیسے زرمینہ بیمار نہیں ہوئی وہ بیمار ہو گئی ہے ۔”
“زرمینہ کا علاج تو ڈاکٹرز ہیں مگر فضہ کا علاج صرف تم ہو زرمینہ گل صرف تم ۔۔۔آ جاؤ کہ تمہاری فضہ ٹھیک ہو جائے ۔۔دیکھو بہت بیمار ہے وہ ۔۔۔۔تمہارے بغیر وہ بہت بیمار ہے “
۔
وہ کرسی پہ بیٹھی اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کیا ۔۔۔۔اور اُس خالی کرسی کو دیکھنے لگی۔ ۔۔جس پہ وہ آج بھی کسی کو نہیں بیٹھے دیتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وجدان صاحب آپ نے قرآن خانی میں جانا ہے ؟ “
وہ کرسی پہ ٹیک لگائے ۔آنکھیں بند کئے ۔۔۔اپنی سوچوں میں غرق تھا ۔۔۔۔
۔
“کس کی قرآن خانی امجد صاحب ؟ “
۔
“آپ کو نہیں پتا ؟ ہماری ایک سٹوڈنٹ بہت سیریز کنڈیشن میں ہے ۔۔۔۔ہسپتال میں ایڈمٹ ہے ۔۔۔اور سنا کافی دنوں سے اُس کو ہوش نہیں آیا “
وہ اُس کے سامنے کرسی پہ بیٹھے افسردہ سے بول رہے تھے ۔۔۔
“نہیں مجھے تو کچھ نہیں پتا “
اُس نے حیران ہونے والے انداز میں اپنے کالیگ کو دیکھا ۔۔۔وہ کیا سے کیا ہو گیا ہے ۔۔ایک وقت تھا جب اُس کو ہر سٹوڈنٹ کا پتا ہوتا تھا ۔۔۔۔۔انکی لائف میں کیا چل رہا ہے ۔۔اُس کو وہ بھی پتا ہوتا تھا جو انکی پرسنل لائف میں ہوتا تھا ۔۔۔ سٹوڈنٹ اُس کو اپنی لائف کی ایک ایک بات بتاتے تھے ۔۔۔اُس سے مشورے لیتے تھے۔۔۔۔مگر اب ؟ اب تو اُس کو اپنا بھی نہیں پتا ۔۔۔ وہ کون ہے اور کہاں ہے !
۔
“کس وقت ہے قرآن خانی امجد صاحب؟”
اُس کا دل کچھ عجیب سا بےچین ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔جیسے وہ اڑ کے وہاں پہنچنا چاہتا ہو۔ جدھر قرآن خانی ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔
۔
“مسجد میں سب موجود ہیں ۔۔۔۔چلیں ہم بھی چلتے ہیں وقت تو ہو ہی گیا ہے “
انہوں نے اپنی گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔اور اٹھنے لگے ۔۔۔۔
۔
“جی جی چلیں پھر چلتے ہیں “
اُس نے اپنا موبائل لیا اور کمپیوٹر کی طرف رخ کیا ۔۔۔ کمپیوٹر پے کالی سکرین آتے ہی وہ جلدی جلدی اٹھا اور باہر نکلنے لگا ۔۔۔۔
۔
“یا اللہ یہ میرے دل کو کیا ہو رہا ہے ؟”
راستے میں اُس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ہلکا سا آسمان کو دیکھا ۔۔۔۔
۔
“وجدان صاحب میرا تو بہت دل خفا ہوتا ہے جب اتنے اچھے سٹوڈنٹس ایسے بیمار ہو جائیں”
چلتے چلتے امجد صاحب نے اُس کی طرف دیکھا اور افسوس سے کہا ۔۔۔۔۔مسجد ڈیپارٹمنٹ سے تھوڑا سا دور تھی تو اُن دونوں کو جانے میں وقت لگ رہا تھا ۔۔
۔
“بلکل ماجد صاحب ہر سٹوڈنٹ اپنے اُستاد کے بہت قریب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اُن کے ساتھ ایک دل کا اور روح کا رشتہ جھڑ جاتا ہے “
۔
“ٹھیک کہتے ہیں آپ وجدان ۔۔۔۔اور پھر ایسے تابعدار شاگرد ہوں تو دل پھر کچھ زیادہ ہی خفا ہوتا ہے۔۔۔۔۔بیچاری بہت بیمار ہے ۔۔۔مانسہرہ والوں نے ایبٹ آباد ریفر کیا ہے ۔۔۔۔مگر وہاں بھی اسکو ہوش نہیں آیا ۔۔۔۔
انہوں نے مسجد کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے افسوس سے کہا ۔۔۔۔
۔
“آپ نے بتایا نہیں کون ہے وہ لڑکی جو بیمار ہے “
مسجد کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے اُس نے اُن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
۔
“فورتھ سیمسٹر کی ہے وہ ۔۔۔جو ہر وقت برقعے میں ہوتی ہے۔ اور اوپر چادر بھی کرتی ہے”
وہ جو تھوڑا سا اور اوپر چڑھ رہا تھا ۔۔۔وہیں روکا ۔۔۔۔۔اُس کے دل میں ایک عجیب سے چبھن لگی ۔۔۔۔۔اُس چُبھن نے اسکا سارا وجود اندر سے نچوڑ دیا ۔۔۔اُس کے چہرے کا رنگ ایک دم زرد ہوا ۔۔۔جیسے کسی کو بھی سخت یرقان ہوا ہو ۔۔۔۔وہ پیچھے مڑا ۔۔اُس کو لگا جیسے اُس کی ٹانگوں نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔وہ کچھ ہی لمحوں میں زمین پہ گر جائے گا ۔۔۔۔
“۔ن۔۔۔۔۔نا۔۔۔نا ۔۔نام کیا ہے اُس لڑکی کا”
اُس نے کانپتے ہونٹوں سے ہتھلاتے ہوئے اُس کا نام پوچھا ۔۔۔
۔
“وجدان ٹھیک تو ہیں نا آپ ؟ یہ آپکی رنگت کو کیا ہو گیا ہے اچانک ؟”
انہوں نے اُس کے رنگ کو بہت غور سے دیکھا ۔۔۔اُس کے کانپتے ہونٹ صاف صاف دکھائی دے رہے تھے ۔۔۔۔اُس کی آنکھوں کا بدلتا رنگ بلکل عیاں تھا ۔۔۔۔
۔
“کیا نام ہے اسکا ؟”
اُس نے بے جان سے جسم کے ساتھ آنکھیں بند کیں اور ایک بار پھر پوچھا
“زرمینہ سواتی “
انہوں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے حیرت سے اُس کا نام لیا ۔۔۔۔
۔
اُس کا نام اُسکی سماعتوں سے ٹکرایا ۔۔۔۔وہ ہوش کی دنیا سے بے ہوشی کی وادیوں میں جانے لگا ۔۔۔ وہ کھڑے کھڑے اُس سیڑھی سے پھسلا جہاں وہ کھڑا تھا ۔۔۔۔۔اُس کو لگا جیسے اُس کی کائنات آج ختم ہو گئی ہے ۔۔۔بس اُس کی اتنی ہی سانسیں خدا نے لکھی تھیں ۔۔۔۔اس کو بس اتنا ہی جینا تھا ۔۔
۔”
۔ایک عاشق کے لیے اُسکی معشوق کی موت کی خبر دراصل اُس کی اپنی موت کا پروانہ ہوتا ہے جو اسکو تحفے میں ملتا ہے “
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زرمینہ گل پتا ہے تمہارے بابا جان وجدان کے لیے تمہارے رشتے پہ مان گے ہیں”
۔
وہ اس کے سامنے بیٹھیں ۔اُس کے بلکل پاس ۔۔۔اُس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسکو بتا رہیں تھی ۔۔اس کے سامنے مسکرا رہیں تھیں ۔۔۔۔ جو بلکل بے جان سی لیٹی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ گل تمہارے بابا جان نے مجھے خود کہا ہے ۔۔ہم زرمینہ کی شادی اُس کی پسند سے کریں گے ۔۔۔۔جدھر اُسکی مرضی ہو گی وہیں پہ کریں گے “
وہ خوشی خوشی اسکو بتاتی جا رہیں تھیں ۔۔۔۔جیسے کوئی کسی بچے کو بھلا رہا ہو ۔۔۔۔۔اُس کو لالچ دے رہا ہو۔ ۔وہ بھی ایسا ہی کر رہیں تھیں ۔۔۔اپنی بیٹی کو لالچ دے رہی تھیں ۔اُس کی آنکھیں کھلوانے کی لالچ ۔۔۔۔
۔
“زری پتا ہے میں نے بابا جان کو کہا وہ تو سواتی نہیں ہے ۔وہ تو سید ہے۔۔۔۔۔پھر پتا ہے زری انہوں نے کیا کہا ؟ کہنے لگے۔۔ تو کیا ہو گیا وہ سید ہے ۔وہ میری بیٹی کی پسند ہے ۔۔۔۔مجھے اُسکی پسند سے آگے کوئی نہیں ہے ۔۔نہ خاندان ،نہ ذات پات ، نہ حسب نسب ۔۔۔نہ ہی میرا سواتی خون”
۔
پتا ہے زری اتنا خوش ہوئی میں ۔۔۔۔شکر ہے نا دیکھو ہمارے خاندان میں کسی کی تو سوچ بدلی ہے نا ۔۔۔۔تمہیں یاد ہے زری تمہاری پھوپھو کی بیٹی نے تب ہی زہر کھائی تھی نا کہ وہ قوم سے باہر شادی کرنا چاہتی تھی ۔اور ہمارا خاندان مان نہیں رہا تھا ۔میں تمہیں صوفیہ نہیں بننے دوں گی زرمینہ ۔۔۔میری بیٹی محبت کے نام پہ نہیں مرے گی ۔۔۔۔۔تم ٹھیک ہو جاؤ زری ۔۔۔۔تم ٹھیک ہو جاؤ تاںکہ تم اپنے خاندان کی تاریخ بدلو بھرسوں پُرانی روایت بدلو۔۔۔۔۔تم وہ کرو جو آج تک ہونا نا ممکن تھا ۔۔۔۔۔دیکھو زری تمہارے بابا جان تمہارا ساتھ دیں گے ۔۔۔۔بس اس کے لیے تمہیں ایک کام کرنا ہے ۔۔تمہیں اٹھنا ہے اپنی آنکھیں کھولنی ہیں بچے ۔۔۔۔۔
۔
اب کی بار انکی مسکراہٹ بلکل ختم ہوئی ۔۔۔آنکھوں سے آنسوؤں چھلک چھلک کے گرنے لگے ۔۔۔۔۔وہ کبھی اُس کے بالوں میں۔ ہاتھ پھرتیں ۔۔کبھی اُس کے سر کا دوپٹہ ٹھیک کرتیں ۔۔۔پھر تھوڑا آگے ہوتیں ۔اُس کے ماتھے پہ پیار دیتیں ۔۔۔۔اُس کا ہاتھ اٹھاتیں اُس ہاتھ کو اپنے لبوں کے ساتھ لگتیں پھر اسکو اپنے رُخسار کے ساتھ لگتیں ۔۔۔۔روتے روتے ہس دیتیں ۔۔۔۔اپنی بیٹی کو جھوٹی آسیں اور امیدیں دیتیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وجدان ٹھیک تو ہیں آپ ؟ وجدان ہوش کرو یار کیا ہو گیا ہے ؟”
ماجد صاحب اپنی بازوں پہ اُس بے جان مگر زندہ جسم کو سہارا دیے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے وجدان سر کو ؟”
پاس سے گزرتے کچھ سٹوڈنٹس نے اسکو دیکھا تو بھاگتے بھاگتے مسجد کی سیڑھیوں پہ آئے ۔۔۔۔اسکو مضبوطی سے پکڑا اور وہیں سیڑھیوں پہ بٹھایا ۔۔۔۔۔
۔
وہ زندہ تو تھا ، مگر اپنے ہوش میں نہیں تھا۔۔۔۔اُسکی سانسیں تو چل رہیں تھیں مگر سانس نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
۔
“پانی لاؤ جلدی “
ماجد صاحب نے اُن میں سے ایک لڑکے کو پانی کے لیے بھیجا۔۔۔۔جو بھاگتا بھاگتا مسجد میں گیا اور پانی کا گلاس لیے واپس آیا ۔۔۔۔
۔
“سر مجھے لگتا ہے ہمیں سر کو ایمرجنسی لے کے جانا چائیے”
۔
“یار مجھے بھی یہی لگتا ہے ،سر کو ہوا کیا ہے ماجد سر؟”
۔
“کچھ پتا نہیں ہے ۔۔۔۔ ہم مسجد جا رہے تھے اچانک سے گرے اور بے ہوش ہو گے “
انہوں نے اُس کے منہ پہ پانی چھلکاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
وہ آنکھیں بند کیے سیڑھیوں پہ بے ہوش لیٹا تھا ۔۔۔۔۔اُس کا سراپا اُس کے سامنے آیا ۔۔۔۔وہی لڑکی حجاب کیے ہوئے ۔۔۔۔۔چہرے پہ نقاب لیے ہوئے ۔۔۔۔آنکھوں میں ایک اُمید لیے اسکو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جیسے اسکو بولا رہی ہو ۔۔۔
۔
“شاہ جی منتظر ہوں میں آپکی ۔۔۔۔آ جائیں میرے پاس ۔۔۔اِس سے پہلے کہ دیر ہو جائے “
وہ آنکھیں بند کئے اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ وہ اُس کےسامنے بیٹھی اسکو بولا رہی تھی۔۔۔۔
۔
“ملکہ میں ضرور آؤں گا ۔۔میرا انتظار کرنا “
“سر کچھ کہے رہے ہیں ماجد سر “
وہ بے ہوشی میں اُس سے وعدے کر رہا تھا !!
۔
“وجدان “
ماجد صاحب نے اُسکے رخساروں پہ تھپتایا ۔۔۔۔۔ایک بار پھر پانی کا چھلکا اُس کے اوپر پھینکا ۔۔۔۔۔
۔
“ملکہ ۔۔۔ملکہ میرا انتظار کرنا “
اب کی بار بھڑبھڑاکٹ میں صفائی آئی تھی ۔۔کوئی بھی اُس کے منہ کے ساتھ کان لگا کے سنتا تو آسانی سے سمجھ جاتا ۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے سر کو ؟”
۔
“ارے یہ تو وجدان سر ہیں “
۔
“سر اور اِس حالت میں “
۔
“کیا ہوا ہے سر کو ؟”
کچھ ہی منٹوں میں وہاں ایک ہجوم بن گیا تھا ۔۔۔۔۔وہاں کوئی اور نہیں پڑا تھا بلکہ یونیورسٹی کا ہیرو پڑا تھا ۔۔۔۔۔وہ جو ہر دل عزیز تھا ۔۔۔۔جسکو ہر کوئی چاہتا تھا ۔۔۔۔اسکو اِس حالت میں دیکھنا سب کے لیے قابل فکر بات تھی ۔۔۔۔اسکو تو سب نے ہستا کھیلتا دیکھا تھا ۔۔۔مسکراتا دیکھا تھا ۔۔۔۔یہ پیلے چہرے کے ساتھ سامنے لیٹا شخص کون ہے ۔۔۔۔۔جو اپنے ہوشوں میں ہی نہیں ہے ۔ایک زندہ لاش بنا ہوا ہے۔۔
۔
“شاہ جی لیٹ نہ ہو جانا جلدی آنا “
ایک بار پھر وہ حجاب والی اُسکے سامنے آئی۔۔۔۔۔جیسے کوئی فرشتہ اُسکے خیالوں میں آ رہا ہو اسکو جینے کی ایک آس دے رہا ہو ۔۔۔ابھی نہیں مرنا ۔۔۔۔کوئی تمہارا انتظار کر رہا ہے ۔۔۔۔۔
۔
“شاہ جی “
“جی میری ملکہ “
“جلدی آئیں “
“میں آ رہا ہوں ملکہ “
“جلدی آنا “
“جلدی آؤں گا میرے دونوں جہانوں کی ملکہ “
“میرے مرنے سے پہلے آ جانا “
اب کی بار اُن موٹی آنکھوں میں انسوں تھے ۔۔۔۔آنکھوں میں ایک تڑپ تھی ۔۔۔
“ملکہ تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا میں ۔۔ میری ملکہ میرا انتظار کرنا “
وہ بےہوش لیٹا شخص اب سب کو سوچنے پے مجبور کر رہا تھا ۔۔۔۔اُس کے ہونٹوں پہ ملکہ اور آنکھوں سے نکلتا پانی سب کو حیران کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ہر کوئی اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔جن کو اسکے عاشق ہونے پہ شک تھا ۔۔۔آج انکو یقین ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ بار بار ملکہ کے نام کی تسبح پڑھ رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ابراہیم صاحب آپ جتنی جلدی ہو سکے زرمینہ کو پنڈی لے کے جائیں “
ڈاکٹر جدون نے اُسکی رپورٹس کو دیکھنے کے بعد زرمینہ کو دیکھا ۔جو بلکل مردہ پڑی تھی ۔۔۔
۔
“لیکن ڈاکٹر صاحب ….”
۔
“ابراہیم صاحب آپکے پاس اتنا بھی وقت نہیں ہے کہ آپ اِس لیکن کا جواب سُننے میں ضائع کریں ۔۔۔۔۔آپ بچی کو فوراً لے کے جائیں ۔۔۔۔۔ایک منٹ بھی تاخیر نہ کریں “
۔
“میری بیٹی ٹھیک تو ہو جائے گی نا ڈاکٹر صاحب ؟”
“آپکی بیٹی کا ایک گردہ بلکل فیل ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔اب ہم کوما میں آپریشن نہیں کر سکتے ۔۔۔آپ بس دعا کریں کسی بھی طرح یہ ہوش میں آ جائیں “
۔
“آپکی بیٹی کو اب کوئی معجزہ ہی بچائے گا دعا کریں “
ڈاکٹر صاحب نے ابراہیم صاحب کے کندھے پے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور خود باہر چلے گئے ۔۔۔
وہ جو باپ تھا اسکے لیے ایک قدم بھی اٹھانا پل صراط کو پار کرنے کے مترادف تھا ۔۔۔۔۔
۔
“اِن ڈاکٹروں کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔کیسے کسی کو موت کا کہے دیتے ہیں ۔۔۔۔جھوٹی آس تو دے دیں ۔۔۔۔ہمیں کچھ تو امید ہو “
باہر کھڑی ماں نے ساری باتیں سن لیں تھیں ۔۔۔۔وہ بچوں کی طرح سسکیاں لے لے کے رونے لگیں۔ ۔۔
۔
“اماں نہیں روئیں آپ ۔ہماری زری بلکل ٹھیک ہو جائے گی ۔۔پنڈی سے واپسی پے ہستی ہستی آئے گی “
سلطان نے ماں کو اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔۔وہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو سہارا دے رہا تھا ۔۔۔۔ہر ایک کا دل اندر سے کامپ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔مگر انکو مضبوط ہونا تھا ۔باپ کو اولاد کے لیے اور اولاد کو باپ کے لیے ۔۔۔
۔
“زری کی بچی تو ٹھیک ہو جا ایک دفعہ گن گن کے بدلے نہ لیے نا تم سے تو دیکھنا “
ماں کو سینے سے لگائے آنکھوں میں آنسوؤں لیے وہ اُس بہن کو کہے رہا تھا جو نہ زندہ تھی نہ مردہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ملکہ “
ایک زور دار چینخ لگاتے ہی وہ ہوش کی دنیا میں آیا ۔۔۔۔۔اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔اپنے سر کو ہاتھوں میں پکڑا ۔۔۔۔اِدھر اُدھر دیکھنے لگا ۔۔جہاں پوری یونیورسٹی اُسکی آنکھ کھولنے کی منتظر کھڑی تھی ۔۔۔۔۔وہ سب کو دیکھنے لگا ۔۔۔سب کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔اُن کے اُٹھے ہوئے ہاتھ انہوں نے منہ پہ پھرے اور شکر کا کلمہ پڑھا ۔۔۔۔
۔
“سر آپ ٹھیک تو ہیں نا؟”
اُس کے پاس بیٹھے لڑکے نے اُس سے پوچھا ۔۔۔۔
“ہممم”
بس اتنا ہی کہے کر وہ مسجد کی سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔۔۔۔۔مسجد میں جاتے ہی وہ وہیں روکا ۔۔۔وہاں سٹوڈنٹس کا ایک ہجوم بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔اُن میں کچھ ٹیچرز بھی مجود تھے ۔۔۔۔سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے ۔۔۔۔قرآن خانی مکمل ہو چکی تھی ۔۔۔۔سب دعا کر رہے تھے ۔۔۔مسجد کے امام صاحب دعا کر رہے تھے اور وہاں مجود ہر زبان امین کہے رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ مسجد کے اندر گیا ۔۔۔۔وضو بنایا ۔۔اور وہاں آ گیا جدھر سب بیٹھے تھے ۔۔۔اُن کے کچھ فاصلے پہ وہ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔سر پہ ٹوپی پہنی ۔۔۔اور نماز ادا کرنے لگا ۔۔۔اُس نے دو نفل حاجت کی نیت کی ۔۔۔اور نماز شروع کی ۔۔۔
نماز کے دوران ایک ایک لفظ پہ اُس کی آنکھیں بھیگنے لگیں ۔۔۔۔
سب نے اپنی دعا مکمل کی ۔۔۔۔آنکھیں کھولیں تو سامنے کھڑے اُس شخص کو دیکھا ۔۔۔۔جو روتے روتے نماز پڑھ رہا تھا ۔۔۔۔آج سے پہلے کسی نے ایسی نماز کی ادائیگی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔ہر کوئی وہاں سے اٹھنے کے بجائے اسکو دیکھنے لگا۔۔۔۔
۔
اُس نے اپنے دو رکعت نفل ادا کیے ۔۔۔۔سلام پھیرا ۔۔۔۔ہاتھ اٹھائے ۔۔۔۔۔
“یا اللہ میں جا رہا ہوں اپنی ملکہ کے پاس ۔۔۔۔۔مجھے اُس کو دیکھنے سے پہلے موت نہیں دینا ۔۔۔۔مرنے سے پہلے تو جلاد بھی آخری خواہش پوچھتا ہے ۔تو تو میرا رب ہے ۔۔۔۔۔میری آخری خواہش پوری کرنا ۔۔میری سانس اُسکی گود میں نکالنا ۔۔۔۔اُس سے پہلے مجھے موت نہ دینا “
۔
وہ دنیا سے بے خبر اپنے اللہ سے مانگ رہا تھا ۔۔۔۔رو رہا تھا ۔۔۔۔۔تڑپ رہا تھا ۔۔۔۔وہاں پہ موجود سب نے اُس کی دعا پہ با آواز بلند آمین کہا ۔۔۔۔۔وہ حقیقت کی دنیا میں آیا ۔۔۔اُس نے ایک بار پھر وہاں موجود سب حاضرین کو دیکھا جو نم آنکھوں سے اسکو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
اس کے لبوں پہ اظہارِ تشکر کی ایک مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔وہ اٹھا اور باہر گیا ۔۔۔مسجد میں موجود ہر شخص اُس کے پیچھے باہر نکلا ۔۔۔۔۔جتنا ہجوم اُسکے پیچھے تھا اُس سے دس گنا زیادہ اُس کے سامنے تھا ۔۔۔۔
۔
وہ مسجد کی سیڑھیوں پہ کھڑا ہوا ۔۔سب کو ایک نظر دیکھا ۔۔۔جیسے وہ کسی جلسے میں آیا ہو اور سب کو دیکھنے کے لیے اُس کے آگے پیچھے ہو رہے ہوں ۔۔۔۔.
۔
“میرے حق میں دعا کیجیئے گا سب “
وہاں پہ موجود سب کے ہیرو نے اُن سے ایک جملے کا خطاب کیا ۔۔۔۔
اُس کی اِس بات پہ سب نے ایک ساتھ ہاتھ اٹھائے ۔۔۔۔دو منٹ کی خاموشی ہوئی ۔۔۔ایسی خاموشی جیسے کسی سنسان ریگستان میں ہو ۔۔۔۔۔سب کے ہاتھ نیچے ہوئے ۔۔۔اور وہ ایک ہیرو کی طرح سب کے درمیان سے گزرنے لگا ۔۔۔۔وہاں بس ایک کمی تھی کسی کے ہاتھ میں پھول نہیں تھے ۔۔۔۔۔ورنہ ہر کوئی اُس پہ پھولوں کی برسات کرتا ۔۔۔۔۔وہ اپنی محبوبہ کے لیے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ایک محاذ پہ جا رہا تھا ۔۔۔۔جس میں دو ہی صورتیں ہونی تھی۔ ایک جیت اور دوسری ہار ۔۔۔کوئی اپنے ہیرو کو ہارتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ہر کوئی اُسکی جیت کی دعا کر رہا تھا ۔
۔
۔۔۔۔جو لڑکیاں اُس پہ جان دیتیں تھیں۔ اُس کے سپنے دیکھتی تھیں۔ ۔۔۔اُس کے ساتھ کسی اور لڑکی کو کھڑا ہوتا ہوا بھی برداشت نہیں کرتی تھیں ۔۔۔آج وہ بھی اُس کی محبت کی کامیابی کے لیے دعا کر رہی تھیں ۔آنکھوں میں آنسوؤں لیے ہاتھ اٹھائے وہ بھی اللہ سے اسکی منزل تک رسائی مانگ رہی تھیں ۔۔۔
۔
“یا اللہ وجدان کو خالی ہاتھ نہیں لوٹانا”
۔
یا اللہ وجدان کو وہ عطا کرنا جس کی خاطر وہ آج نکلا ہے ۔۔
۔
“اللہ جی آپ سر کو اُن کی محبت دیں گے نا تو میں سمجھوں گی مجھے میری محبت مل گئی ہے”
۔
“اے اللہ ہمیں تو وجدان شاہ نہ مل سکا ۔۔مگر اسکو وہ دینا جو اُس نے مانگا ہے “
۔
“اللہ جی مجھے میری چاہت نہیں ملی مگر سر کو وہ ضرور دینا جو انہوں نے چاہا ہے “
۔
آج ہر لڑکی اُس کو دعاؤں میں رخصت کر رہی تھی ۔۔۔۔اُس کے لیے رو رو کے دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
وہ یونیورسٹی کے گیٹ تک پہنچا ۔۔۔پیچھے مڑا ۔۔۔۔اپنے پیچھے لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا جو اُس کو دروازے تک رخصت کرنے آئے تھا ۔۔۔۔اُس نے سب کی طرف ہاتھ ہلایا ۔۔۔۔جیسے یہ اُس کا آخری سلام ہو ۔۔۔پھر اُس نے کبھی ان سب سے نہ ملنا ہو ۔۔۔۔اُس کے ہاتھ ہلاتے ہی سب نے ہاتھ اوپر کیا ۔۔۔۔۔۔
ایک نے شرارت سے ایک زور دار آواز میں وجدان سر کہا ۔۔۔
باقی سب نے زندہ باد کا نعرہ لگایا ۔۔۔۔۔
۔
وہ ایک عاشق کو رخصت کر رہے تھے ۔۔۔۔اُس عاشق کو جو اُن میں محبت کی ایک الگ ہی پہچان چھوڑ کے جا رہا تھا ۔۔۔محبت کی ایک خوبصورت مثال بن رہا تھا ۔۔ لوگوں کو محبت کرنے کا طریقہ بتا رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
وہ موٹر سائیکل پے بیٹھا ۔۔۔ایک کیک لگائی اور کچھ ہی لمحوں میں وہاں سے رو پوش ہو گیا ۔۔۔۔مگر جو اسکو رخصت کرنے آئے تھے وہ ایک مجسمے کی طرح وہیں کھڑے اسکو جاتا دیکھتے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: