Hijab Novel By Amina Khan – Episode 4

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 4

–**–**–

“رجب یہ کیا کہے رہے ہو تم ہوش میں تو ہو نا”
فیروز صاحب زور سے چلاۓ تھے !!!!!
“جب میں تھمارے نکاح کی تاریخ رکھ کر آ گیا ہوں اور اب تم کہے رہے ہو یہ سب “
“میں نے ابراہیم کو زبان دی ہے اور تم جانتے ہو اچھے سے میری زبان میری جان ہے “
فیروز صاحب اُس ہی شدید غصے میں بیٹے پر چلا رہے تھے !!!!!!!
“ابا جی میں ہر گز ایسی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا جو یونیوسٹی جانا چاہتی ہو “
رجب نے آنکھیں نیچے کر کے باپ کو اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔
نازیہ بیگم نے گھر آ کے بیٹے کو سارا منظر بڑھا چڑھا کے سنایا تھا ۔۔۔۔
وہ ایسے بھی زری کے بجائے اپنی بھنجی کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں ۔۔۔۔
یہ تو فیروز صاحب کی ضد تھی کے اُن کے گھر کی بہو اُن کے بھائی کی بیٹی زری بنے ۔۔۔۔۔
“میں اب ابراہیم سے کیا کہوں کہ میرا بیٹا تھماری بیٹی سے اس لیے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔کیوں کہ وہ یونیورسٹی جانا چاہتی تھی “
“یہ کوئی بات کرنے والی ہے ؟”
فیروز صاحب کو اس بات سے بہت زیادہ تیش آیا تھا ۔۔اُن کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اٹھیں اور بیٹے کو مار مار کے نیلا کریں ۔۔۔۔
فیروز صاحب کا ایک ہے بیٹا تھا اُن کو بہت عزیز تھا ، وہ اُس کی کوئی بات نہیں ٹالتے تھے مگر یہ بات ماننے والی کدھر تھی جو اُس نے کہی ہے !!!!!!!!
“ابا جی آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں اُس کو شادی کر کے لے آؤں ، اُس کی اور اپنی زندگی کو تباہ کر لوں؟”
اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے ۔۔۔
اُس نے انتہائی نرم لہجے میں نظریں نیچے کر کے بات کو کہا !!!!!!!
فیروز صاحب کو پتا تھا اگر اُس نے انکار کیا ہے تو شادی کے بعد وہی ہو گا جو اُس نے ابھی کہا ہے !!!!
وہ یہ نہیں چاہتے تھے اُن کے بھائی کی بیٹی اُن کے گھر آ کے کوئی دُکھ اٹھائے !!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
اماں کچھ دیر میں اکیلی بیٹھ جاؤں ؟ اُس نے کمرے میں آتے ہی ماں کو کہا تھا ۔۔۔
رقیہ بیگم کو اپنی پرورش پر بہت ناز تھا۔ ہوتا بھی کیوں نا اُن کو اللہ پاک نے اتنی لحاظ والی بیٹی سے نوازا تھا ۔۔۔
وہ ماں کو کہے سکتی تھی ۔۔خدا کے لیے مجھے اس وقت اکیلا چھوڑ دیں اور جائیں اِدھر سے ۔۔
مگر اُس نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا ۔
آرام سے معصومیت سے ماں سے پوچھا تھا _____ اماں کچھ دیر میں اکیلی بیٹھ جاؤں..
انھوں نے اُس کو گلے سے لگایا ہاں میرا بچہ ، بس رونا نہیں اچھا۔ انھوں نے اُس کا آنسوؤں سے بھرا ہوا چہرہ صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور خود وہاں سے روتے ہوئے چلی گئیں
زری واشروم میں گئی جو اُس کے کمرے کے اندر ہی تھا !!!!!
اُس نے وہاں جا کے شیشے میں اپنا عکس دیکھا اُس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے ۔ اُس کو اس بات کا دُکھ نہیں تھا کہ اُس کو یونیوسٹی جانے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ اُس کو بس اس بات کا دُکھ تھا اُس کو بڑے ابو کی فیملی کے سامنے اسے ذلیل کیا گیا تھا۔
اُس نے کون سی بہت غلط بات کہی تھی۔
بابا جان نے آج تک اُس کو کچھ نہیں کہا تھا۔ اور آج پورے گھر کے سامنے اُس کو۔۔۔۔۔
اُس نے وضو بنایا !!!!
اُس کو ہمیشہ لگتا تھا وضو کے بعد مانگی ہوئی دعا قبول ہوتی ہے۔ اُس نے پیروں پہ پانی ڈالا ۔دوپٹہ سر پہ صحیح کیا جو مسح کرنے کے دوران تھوڑا سا سر سے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔
پھر اُس نے ہاتھ اٹھائے !!!!!
اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ کیا مانگے ، آج تو اُس کے پاس مانگنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں تھا ۔
اس نے بغیر دعا مانگے اپنے ہاتھ اپنے چہرے پہ پھیرے اور روتے روتے باہر آئی !!!!!!
پھر جاۓ نماز ڈالی اور اس پہ بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ بھاگ کے کسی پہاڑی پہ جائے اور اونچا اونچا روئے ۔۔۔۔
جہاں کوئی اُس کی آواز نا سنے کوئی اُس کو نا دیکھے۔ وہ رو رو کے اللہ سے باتیں کرے۔ اُن سے شکایتیں کرے ۔۔۔۔۔اونچا اونچا روئے ۔۔۔مگر وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ ۔۔۔۔
اُس نے اپنا سر گٹھنوں پہ رکھا اور بچوں کے طرح سسکیاں لے لے کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔
“اللہ جی “
“آپ نے دیکھا ہے نا آج مجھے بابا جان نے کتنا ڈانٹا ہے “
وہ سسکیاں لے لے کر اللہ پاک کو آج کی ساری کہانی سنا رہی تھی۔
وہ ایسی ہی تھی دِن میں جو بھی ہوتا وہ جو بھی کرتی رات کو جائے نماز پہ بیٹھ کے اللہ پاک کو ساری کہانی سناتی !!!!!!
وہ آج بھی ایسا ہی کر رہی تھی اور آج تو دُکھ ہی بڑا تھا !!!!
“آپ کو پتا ہے یہ بات؟ بابا جان نے میرے نکاح کی تاریخ بھی رکھ دی ہے “
“اللہ جی سنیں نا مجھے نہیں کرنی نا ابھی شادی “
اُس نے اسی طرح روتے ہوئے کہا ۔۔ہاں البتہ سسکیوں میں تھوڑی کمی ضرور آئی تھی ۔۔۔
وہ جب بھی اللہ پاک سے بات کرتی تھی ہمیشہ پر سکون ہو جاتی تھی ۔۔۔۔۔
مگر آج اُس کو بہت دُکھ تھا ۔۔۔
“اللہ جی بابا جان مجھے ایسے کیسے سب کے سامنے ڈانٹ سکتے ہیں”
اُس نے پھر سے روتے ہوئے کہا !!!!
ابھی تک اُس نے سر گھٹنوں سے نہیں اوپر کیا تھا۔ ۔۔
“اللہ جی میں خفا ہوں آپ سے بھی آپ چاہیں تو بابا جان کے دل میں نرمی ڈال سکتے ہیں نا ۔آپ چاہیں تو میرا نکاح رکوا سکتے ہیں نا , میں آگے پڑھ سکتی ہوں نا “
اُس نے خفا ہوتے ہوئے کہا اور آنسوؤں کو صاف کیا۔
“اللہ جی بس میں نے اپنا فیصلہ آپ پے چھوڑا ہے مجھے پتا ہے آپ میرے حق میں ہی فیصلہ کریں گے “
وہ ہمیشہ اپنے فیصلے اللہ پہ چھوڑ دیا کرتی تھی اور پھر پر سکون ہو جایا کرتی تھی ۔
آج بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔۔۔
وہ کھڑی ہوئی اور نماز ادا کی ۔۔۔ نماز پڑھنے کے بعد اُس نے دو رکعت نفل حاجت کے پڑھے تھے ۔۔۔
وہ روز عشاء کی نماز کے بعد دو رکعت نفل حاجت اور دو رکعت نفل شکرانے کے پڑھا کرتی تھی ۔۔۔
حاجت کے وہ اس لیے پڑھتی تھی اُس کے دل میں جو بھی حاجت ہو وہ اللہ پاک خود ہی قبول کر لیں ۔۔۔۔
اور شکرانے کے وہ اللہ پاک کا شکریہ ادا کرنے کے لیے پڑھتی تھی۔ دِن بھر جو انھوں نے اُس کے لیے کیا ہوتا ۔اُس کے بن مانگے اُس کو وہ سب کچھ دیتے جو وہ چاہتی ۔۔
وہ اللہ کا شکر ادا کرتی جھنوں نے اُس کو پیدا کیا۔ اس قابل بنایا کہ وہ اُن کے سامنے بیٹھے اُن سے باتیں کرے۔ ۔۔۔۔
اللہ جی کدھر ہر ایک سے بات کرتے ہیں وہ تو انھیں سے بات کرتے ہیں جن کے دل میں ان کا نور ہو۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے”
“مجھے پتا ہے آپ میری بات کو ضرور سمجھیں گی “
“میں فیروز صاحب کو بتائے بغیر آئی ہُوں ، مجھے پتا ہے وہ آپ سے اور ابراہیم بھائی صاحب سے کبھی بات نہیں کریں گے “
مجھے میری مجبوری یہاں لائی ہے ورنہ میں ایسے کبھی بھی نہ آتی “
نازیہ بیگم آج اماں کے پاس آئی تھیں ۔اور بناوٹی دُکھ کے ساتھ اماں کو ایک ہی سانس میں سارا قصہ سنا رہی تھیں !!!!!
اماں جی کو اُن کی چالاکیاں ایسے بھی نہیں پسند تھیں ۔تب ہی تو وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس رہتی تھیں ۔۔۔ اُن کو پتا تھا وہ زرمینہ کو بلکل پسند نہیں کرتی ہیں ، مگر وہ پھر بھی اِس رشتے کے حق میں تھیں۔ ۔۔۔وہ چاہتی تھیں دونوں بھائی ہمیشہ جڑے ہی رہیں۔ ۔۔۔۔۔
“بولو بھی مڑا کیا کہنا چاہتا ہے تم “
دادی اماں نے اُکتا جانے والے انداز میں کہا !!!!!!
تو وہ فوراً بول پڑھیں ۔۔۔۔۔
“اماں جی آپ کو تو پتا ہے ماں باپ اولاد کے سامنے مجبور ہوتے ہیں”
“اب تم وہ بھی بولے گا جس کے لیے اتنا لمبا تقریر کر رہا ہے “
اماں جی کو بات سمجھ آ گئی تھی کے وہ کیا کہنا چاہتی ہے
رقیہ بیگم چائے بنانے باہر کچن میں تھیں ۔وہ دونوں اس وقت کمرے میں اکیلی بیٹھی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔
“وہ اماں جی رجب نے نکاح سے انکار کر دیا ہے”
نازیہ بیگم نے نظریں جھکا کے اماں جی کو بتایا ۔۔اُن کے تو دل میں لڑو پھوٹ رہے تھے ۔ فیروز صاحب تو بتانے سے رہے ۔۔۔اچھا ہوا جو اُس نے بتا کے قصہ ہی ختم کر لیا ۔۔۔۔۔
“کیا ؟ رشتے سے انکار؟ کیوں ؟ کیا کمی ہے ہماری زرمینہ گل میں جو ایسے انکار …….؟”
دادی اماں ایک سانس میں بولتی چلی گئیں ۔۔۔۔۔۔اُنکو پتا تھا یہ عورت کچھ نہ کچھ تو ضرور ہی کرے گی ۔۔۔مگر اتنے جلدی اس بات کی انھیں بلکل بھی اُمید نہیں تھی ۔۔۔۔
“اماں وہ رجب کہتا ہے کہ وہ ایسی لڑکی سے شادی نہیں کرے گا جس کو یونیورسٹیاں پڑھنے کا شوق ہو “
“انہوں نے بغیر کسی لحاظ کے ایک دم سے یہ بات کہے دی “
اس سے پہلے کے اماں کچھ بولتیں دروازے پہ کھڑے ابراہیم صاحب ایک دم بول پڑھے !!!!
اُن دونوں کو پتا ہی نہیں چلا تھا وہ کب آئے ہیں اور ساری باتیں بھی سن لی تھیں ۔۔۔۔
“بابھی صاحب آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ہمارا بچی ہم پہ کوئی بھوج نہیں ہے جو کسی کو بھی دے دیں ہم “
انھوں نے بابھی کی طرف کمر کر کے انتہائی روب دار طریقے سے کہا ۔۔۔بابھی نے پردہ نہیں لیا ہوا تھا تو وہ کمر موڈ کے کھڑے ہوئے تھے!!!!!!!
“نہیں نہیں ابراہیم بھائی ہم منا لیں گے اُس کو “
نازیہ بیگم نے بات کو سنبھالتے ہوئے کہا اُنکو بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کے ابراہیم صاحب اُس کے منہ سے ہی سب سن لیں گے ۔وہ تو اماں کو بتانے آئی تھیں کہ اماں ابراہیم صاحب کو خود بتا دیں گیں ۔۔۔اور بغیر اُن پہ بات ائے سارا مسلہ حل ہو جائے گا ۔۔۔مگر یہاں تو مسئلہ ختم ہونے کے بجائے زیادہ ہو گیا تھا ۔۔۔
“اگر رجب کے ابا کو پتا چل گیا کہ میں اُن سے بغیر پوچھے آئی ہوں اور آپ کو یہ بات بتا دی ہے تو وہ مجھے جان سے مار دیں گے “
کچھ وقت پہلے کے مکار نازیہ بیگم اب بلکل خوفزدہ تھیں۔ اُن کو پتا تھا اُن کا کیا انجام ہونے والا ہے !!!!!!
“آپ بھائی صاحب کو بتا دیجیۓ گا بابھی ہم اپنی زرمینہ گل کا ہاتھ رجب خان کے ہاتھ میں نہیں دیں گے۔ کیوں کے میری بیٹی آگے پڑھے گی “
ابراہیم صاحب نے کمر موڑ کے ہی جواب دیا اور خود کمرے سے باہر چلے گئے !!!!!!!
اور رقیہ بیگم ہاتھ میں چائے اور پکوڑوں کا ٹرے لیے وہی کھڑی رہیں۔۔
اُن کو ساری بات سمجھ آئی مگر ایک بات وہ سمجھ نہیں سکیں۔ ۔۔۔
“میری بیٹی آگے پڑھے گی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مانو کیا ہوا ہے تمھیں خفا ہو مجھ سے”
“مانو میرا چھوٹا سا چوزا کھانا کیوں نہیں کھا رہی ؟”
وہ اپنا زیادہ وقت اپنی مانو کے ساتھ گزرا کرتی تھی!!!!!
اُس کو جتنی محبت اپنی مانو سے تھی شاھد ہی کسی اور سے ہو ۔۔۔۔ وُہ اُس کو گود میں کبھی نہیں اٹھاتی تھی ۔۔۔۔اُس کے پاس بیٹھتی ہمیشہ اور اُس کے سر پہ ہاتھ پھیرتی ۔ اُس کی مانو کو اُس کا یہ عمل بہت اچھا لگتا تھا ۔۔۔وہ بھی آگے سے آنکھیں بند کر دیتی تھی جیسے سو رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے کوئی ماں اپنی بچے کے سر پہ پیار سے ہاتھ پھیرے وُہ اُس کے سر پہ پھیرا کرتی تھی !!!!!!
اُس کو لگتا تھا اگر کل کو اُس کے بچے بھی ہوئے وہ اُن کو بھی اتنی محبت نہیں دے سکے گی ، جتنی وہ اپنی مانو سے کرتی ہے ۔۔۔
وہ روز رات کو اُس پہ درود پاک پڑھ کے اُس کو دیکھ کے سوتی تھی!!!!!
۔اُس کے گھر میں بلی کی اجازت نہیں تھی تو وہ اُس کو اپنے کمرے میں نہیں لاتی تھے !!!!!
اُس نے اُس کے لیے باہر صحن میں ہی چھوٹا سا کمرہ بنا رکھا تھا جس میں کارپٹ ڈالی ہوئی تھی اور اپنی ہر گرم جیکٹ اُس کے نیچے وہ لا کے رکھ لیتی۔ ۔۔
چوں کہ مانسہرہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اُدھر شدید ٹھنڈ پڑتی ہے ۔۔۔۔ اور زری جیکٹ کی عاشق تھی ۔۔۔۔۔اُس کے پاس اتنی جیکٹس ہوتیں کے پوری سردیاں بھی ایک ایک جیکٹ روز پہنے تو بھی ختم نہ ہوں ۔۔۔۔
اُس کو جو بھی جیکٹ بہت گرم لگتی وہ مانو کے کمرے میں ڈال دیتی تا کے مانو گرم رہے!!!!!!!
اُس نے اتنے دنوں سے مانو سے صحیح سے بات نہیں کی تھی نہ ہی اُس کو صحیح سے پیار کیا تھا تو خفا ہونا تو اُس کا حق بنتا تھا !!!!!!!!!
وہ پیروں کے بل مانو کے سامنے بیٹھی اُس کو کرسی پہ بٹھایا اور دونوں ہاتھوں میں اُس کا منہ بہت پیار سے لیا ۔۔۔۔
اور خود آگے ہو کے اُس کے ناک پہ پیار کیا !!!!!
“میرا بچہ اب تو راضی ہو جائے نا”
اُس نے تھوڑا سا رونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور وہ فوراً میاؤ میاؤ کرنے لگی ۔۔۔۔
“اُس نے ایک بار پھر اُس کی ناک پہ پیار کیا اور مسکراتے ہوئے بولی مانو بہت محبت ہے مجھے تم سے “
وہ سفید رنگ کی انتہائی خوبصورت بلی تھی ،وُہ اُس کی ہر بات سمجھتی۔ ۔اُس کے ساتھ والک کرتی ۔۔۔ جدھر بھی وہ جاتی اُس کے پیچھے پیچھے ہوتی ۔۔۔۔زری کو اُس کی ناک بہت پسند تھی وہ ہمیشہ اُس کو اُس کی ناک پہ پیار کرتی تھی ۔۔۔۔
اور ساتھ ادھر اُدھر دیکھا بھی کرتی کہیں اماں کی نظر نہ پڑھ جائے اُس پے !!!!!!!
اور پھر سے ایک قوالی شروع ہو جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھابھی کے جانے کے بعد ابراہیم صاحب اماں جی کے پاس آئے تھے ۔۔۔وہ آج بےحد افسردہ تھے اس وجہ سے نہیں کہ رشتے کا انکار ہوا ہے اور رجب نے کیا ہے ۔۔۔۔وہ اس وجہ سے دُکھ میں تھے جس بیٹی نے اُن سے کوئی خواہش بھی نہیں کی ۔ اُس کے نا کی ہوئی خواہش پہ لوگ اُس پے باتیں کریں ۔۔۔۔ اُن کی فرمابردار بیٹی کو کوئی ایسا کہے۔ اگر رجب اُن کے بھائی کا بیٹا نا ہوتا تو یقیناً وہ اُس کو اُس ہی وقت گولی مار دیتے !!!!!!
“اماں جی بچوں کو نہ پتا چلے کے بھابی آئی تھیں اور رجب نے زری کے لیے ایسے کہا ہے “
فیروز صاحب نے نظریں جھکا کے ماں کو کہا تھا ۔۔۔۔۔وُہ ایسے بھی اپنی اُس دن کی بات سے بہت بہت شرمندہ تھے ۔۔۔۔
“اماں جی اگر شہاب اور سلطان کو پتا چل گیا کہ رجب نے ایسے کہا ہے تو وہ اُس کو چھوڑیں گے نہیں میں نہیں چاہتا بچوں کے دل میں ایک دوسرے کی طرف سے کوئی میل آئے “
“تم نے بہت اچھا سوچا ہے بچے”
ماں نے بڑے پیار سے بیٹے کے کاندھے پہ ہاتھ پھیر کے کہا !!!!!
اماں میں نے ایک فصلیہ کیا ہے !!!!!!!!!
انھوں نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بار پھر سب اکھٹے ہوئے اور اس بار زرمینہ کمرے کے باہر کھڑی نہیں سن رہی تھی بلکہ کمرے کے اندر سب کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔
زرمینہ گل تمہارے داخلے یونیورسٹی کے کب جا رہے ہیں ؟
ابراہیم صاحب نے بغیر باتوں کو گول مول کیے ڈائریکٹ بیٹی کو محاطب کرتے ہوئے کہا!!!!!
وہاں پے موجود سب ہی لوگوں نے ابراہیم صاحب کو بہت حیرت سے دیکھا جیسے انھوں نے کوئی بہت ہے انہونی بات کر دی ہو اور زرمینہ گل ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کو لگا جسے اُس نے کچھ غلط سن لیا ہو بابا جان نے شاھد اور کہا ہے اُس نے یونیوسٹی سن لیا ہے!!!!!!!!!
“ج ۔۔۔۔۔۔ج۔۔۔جی بابا جان”
اُس نے بہت ڈر ڈر کے دوبارہ پوچھا ، جیسے وہ تصدیق چاہتی ہو جو اُس نے کچھ لحموں پہلے سنا تھا !!!!!!!!
اب کی بار انھوں نے بڑے بیٹے کی طرف دیکھا جو اُنکو بہت حیرت کے ساتھ دیکھ رہا تھا ، اُس کو بھی لگ رہا تھا جیسے اُس نے کچھ غلط سن لیا ہو !!!!!!
“شہاب خان کل یونیورسٹی جانا اور زرمینہ گل کا داخلہ کروانا “
“لیکن بابا جان۔۔۔۔۔”
باپ کو پتا تھا بیٹا کیا کہنا چاہتا ہے
انھوں نے ایک نظر سب پہ ڈالی ، اور سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھا !!!!!!
کیا تم لوگوں کو میرے فیصلے پہ کوئی اعتراض ہے ؟
کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کے اُن کے سامنے کچھ بول سکے جس کو عتراض بھی تھا وہ بھی خاموش ر ہا !!!!!!!!
ابراہیم صاحب نے ایک بار پھر بولنا شروع کیا ، ویسے تو وہ اتنا نہیں بولا کرتے تھے مگر انھوں نے آج سب کو مطمئن کرنا تھا خصوصاً اپنے بیٹوں کو ۔۔۔۔۔
“زرمینہ گل میرا غرور ہے ، اور مجھے پتا ہے وہ میرا غرور کبھی نہیں توڑے گی “
انھوں نے بڑے مان سے بیٹی کو دیکھ کے کہا تھا ۔۔۔۔
اب آپ لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کے آج سے پہلے کون ہمارے خاندان میں یونیورسٹی گیا ہے ۔۔۔۔بیشک آج سے پہلے کوئی نہیں گیا
“کیوں کہ ہمارے خاندان کی ہر لڑکی زرمینہ گل نہیں ہے”
“میں نے یہ فیصلہ کیا ہے زرمینہ گل آگے پڑھے گی اور میں نے بھائی صاحب کو بھی رشتے سے انکار کر لیا ہے “
زرمینہ کو لگا جیسے وہ جنت میں چلی گئی ہو ، جیسے اُس کو پوری کائنات مل گی ہو ۔
وہ نظریں جھکائے آنکھوں میں آنسوں لیے بیٹھی تھی ۔اُس کو بلکل یقین نہیں تھا اُس کے بابا جان آج اُس کے لیے بولیں گے ۔۔۔
اُس کے لیے اج دنیا کا مبارک ترین دِن تھا اس لیے نہیں کہ اُس کی خواہش پوری ہوئی تھی اُس کی دعا پوری ہوئی تھی ۔۔۔۔آج اُس کے بابا جان نے اُس کو اپنا غرور کہا تھا ۔۔۔۔ اللہ پاک نے اُس کی مانگی ہوئی دعا قبول فرمائی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس نے سوچا تھا وہ بابا جان کا غرور بن کے دیکھائے گی ۔اُن کا یہ مان وہ کبھی نہیں توڑے گی۔ ۔۔وُہ بہت خوش تھی اور شاھد اُس سے زیادہ اُس کی ماں خوش تھی آج اُس کے شوہر نے اپنی بیٹی کے حق میں فیصلہ کیا تھا اُنکو پتا تھا انھوں نے یہ فیصلہ ضد میں لیا ہے ۔۔۔۔اُن کو بس یہ خوشی تھی کہ انھوں نے زری کو پہلی بار اپنا غرور کہا تھا۔ ۔۔۔۔۔ اُس کو اپنا مان کہا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زری کی زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہونے والا ہے۔۔۔
“اب خدا جانے وہ سفرِ تعلیم تھا یا سفرِ عشق “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: