Hijab Novel By Amina Khan – Episode 40

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 40

–**–**–

“پلیز سسٹر آپ ایک بار پھر دیکھ لیں “
اُس نے ریسیپشن پہ کھڑی نرس کو کہا ۔اور بےچینی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا ۔۔جیسے کچھ ڈھونڈ رہا ہو ۔۔۔۔کسی کی اسکو شدت سے تلاش ہو ۔۔
۔
“نہیں سر اِس نام کی کوئی پیشنٹ نہیں ہے ہمارے پاس “
نرس نے ایک بار پھر کمپیوٹر پہ اپنی اُنگلیاں چلائیں ۔۔۔۔۔وہ جو بے چینی سے اسکو دیکھ رہا تھا ۔ایک بار پھر اسکو نفی میں جواب ملا۔۔۔۔
۔
“مگر سسٹر مجھے اسی ہاسپٹل کا بتایا گیا ہے وہ یہیں پہ ایڈمٹ ہیں “
اُس نے ایک بار پھر اُس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اُس کے لہجے اور انداز میں اتنی شدت تھی کہ وہ بار بار اُس کے کہنے پہ دیکھتی ۔۔۔۔۔اپنے دل میں دعا کرتی ۔۔۔کاش مجھ سے دیکھنے میں غلطی ہوئی ہو اور وہ لڑکی یہیں ہو اسی ہسپتال میں۔۔۔۔مگر جن کا ملنا نصیب میں ہی نہ لکھا ہو ۔۔وہ ہزار منتوں کے اور ،لاکھ وظیفوں کے بعد بھی نہیں ملا کرتے ۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے ہاجرہ ؟”
“کچھ نہیں یہ ایک پیشنٹ کا پوچھ رہے ہیں مگر اُنکا ریکارڈ ہماری پرزنٹ لسٹ میں نہیں مل رہا ۔۔۔۔میں نے جوائن بھی ابھی کی ہے ڈیوٹی تو مجھے کوئی آئیڈیا بھی نہیں ہے ۔۔۔ “
اُس نے اپنے ساتھ والی نرس کو تفصیلاً بتایا ۔۔۔۔جو ہاتھ میں کچھ فائلز لیے ابھی ابھی وہاں پہنچی تھی ۔۔
“کیا نام ہے پیشنٹ کا ؟”
ہاجرہ نے ایک نظر اُس لڑکے کو دیکھا جو ایک جنونیت سے اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا ۔۔۔اس کو دیکھنے کے بعد اُس نے پھر کمپیوٹر پہ نظریں جما لیں اور کچھ ٹائپ کرنے لگی
۔
“زرمینہ خان سواتی نام بتا رہے ہیں یہ “
۔
“زرمینہ سواتی؟”
اُس نے اُس لڑکے کی طرف
دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔
“ج ۔۔۔۔۔جی ۔جی ۔۔۔آپ جانتی ہیں اُن کو ؟ وہ یہیں ہیں نا ؟ “
اُس نے نرس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے جلدی جلدی پوچھا ۔۔۔۔اُس کو ایک اُمید ملی ۔۔۔۔وہ ایک بار پھر اسکو اپنی نظروں سے تلاش کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔جیسے وہ اِدھر اُدھر دیکھے گا وہ اسکو اپنے سامنے کھڑی ملے گی۔ ۔
ایبٹ آباد کی کمپلیکس کے گیسٹ حال کا ایک ایک کونا اُس نے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ہر کھولتے دروازے پہ وہ پلٹ کے پیچھے دیکھتا ۔۔۔۔۔پھر دل گرفتہ سا ہو کے اُس نرس کو دیکھنے لگ جاتا ۔۔۔۔۔جو پچھلے آدھے گھنٹے سے اسکو برداشت کر رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“سوری سر آپ لیٹ ہو گے⁦ ہیں وہ آدھا گھنٹا پہلے ہی یہاں سے نکل گے ہیں”
نرس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے معذرت خواہ سے انداز میں کہا ۔۔۔
۔
“نکل گئے ہیں ؟ “
سفید ہوتے ہونٹوں کے ساتھ وہ ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔۔۔۔۔نظریں جھکاتے ہوئے پھر سے ایک بار بولا ۔۔۔۔سامنے کھڑی نرسوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔جیسے وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو وہ بتا رہی ہوں جو اُن کے دل میں چل رہا ہے ۔۔۔۔۔
۔
“جی سر وہ راولپنڈی کے لیے نکلے ہیں “
نرس نے دھیمے لہجے میں اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ویسے بھی عاشقوں سے جتنا ہو سکے نرم بولا جائے وہ اپنے اندر درد لیے پھرتے ہیں !
۔
“وہ بہت بیمار ہے ؟”
اُس نے وہیں کھڑے نظریں جھکائے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔جیسے وہ اُس کے ٹھیک ہونے کی خبر سننا چاہتا ہو ۔۔۔۔۔پنڈی تک جانے کا اپنا سفر آسان کرنا چاہتا ہو ۔۔۔۔۔
۔
“سر اتنا تو مجھے نہیں پتا ڈاکٹر جدوں کے ساتھ میری ڈیوٹی تھی تو تب مجھے علم ہے کہ وہ پنڈی کے لیے نکل چکے ہیں “
۔
وہ ایک لڑکی تھی ۔سامنے کھڑے عاشق کو پہچان سکتی تھی ۔۔۔۔اُس کو دیکھ کے کوئی بھی اندازہ لگا سکتا تھا ۔۔۔وہ کون ہے کیوں اُس لڑکی کا پوچھ رہا ہے ۔۔۔۔اُس کے چہرے کا رنگ اُس کے ہونٹوں کی سفیدی ۔۔۔۔آنکھوں کی ویرانی ۔بات کا انداز ہر ایک کو اُس کی پہچان کروا رہا تھا ۔۔۔۔
اُس لڑکی کو اندازہ تھا وہ جو سچ کہے گئی سامنے کھڑا لڑکا اُس سچ کو برداشت نہیں کر سکے گا ۔۔۔۔۔وہ یہیں مر جائے گا ۔۔۔۔
۔
“کون سے ہسپتال ؟”
اُس نے جھکی نظروں سے کامپتے ہونٹوں کے ساتھ بس اتنا ہی پوچھا ۔۔۔۔
“سر اُن کو ڈاکٹر جدوں نے CMH ریفر کیا ہے “
نرس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔اور سامنے کھڑے اس لڑکے کو بہت غور سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔وہ اُس کی آنکھوں کو دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔کہ وہ نظریں اٹھائے اور وہ اسکی آنکھیں دیکھ لے۔اُس کی آنکھوں میں اُس کی محبوبہ کا عکس دیکھے ۔۔۔۔۔۔
اُس نے جُھکی نظروں کے ساتھ اپنا رُخ دروازے کے طرف موڑا اور بھاگتا ہوا وہاں سے باہر نکلا۔۔۔۔۔
۔
“کیسا عجیب بندہ ہے شکریہ بھی نہیں کہے کر گیا “
ایک نے اُس کو جاتے دیکھ کے کہا اور دوسری اُس کو جاتا دیکھتے رہی۔جیسے اب وہ اُس کے سواء کچھ اور دیکھ نہیں پائے گی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔”اماں ابراہیم کا فون آیا تھا کہے رہا تھا پنڈی کے لیے نکل گئے ہیں۔ راستے میں ہیں ۔کہے رہا تھا اماں کو بولنا دعا کریں”
فیروز صاحب نے پریشانی کے عالم میں ماں کے پاس بیٹھتے ہوئے انکو بتایا ۔۔۔۔
۔
“میں تو ہر وقت دعا کرتی ہوں اپنی زرمینہ گل کے لیے ۔۔۔۔۔دن رات اپنی بچی کے لیے دعا مانگتی ہوں میں۔اپنے رب کے سامنے فریاد کرتی ہوں ۔نا جانے وہ کب سن لے ہماری “
اماں نے روتے روتے اپنی آنکھوں سے چشمہ اُتارا اور کانپتے ہاتھوں کے ہاتھ آنسوؤں صاف کرنے لگیں۔۔۔۔زرمینہ گُل نے اپنے سے جڑے سارے رشتوں کو ضعیف کر دیا تھا ۔۔۔بیمار کر دیا تھا ۔۔۔۔۔فضہ سے لے کے اماں تک ہر کوئی ایک بیماری میں مبتلا ہوا تھا ۔۔۔۔
۔
“اماں اگر زرمینہ کو ہوش نہ آیا تو ۔۔۔۔۔خدا نخستا اگر ۔۔۔۔۔”
فیروز صاحب کی بیگم نے بغور انکو دیکھتے ہوئے بات کی ۔۔اور پھر خود ہی چپ ہو گئیں ۔۔۔۔
۔
“بہو اگر تمہارے منہ سے کچھ اچھا نہیں نکل سکتا تو برا بھی نہ نکالو “
“اماں یہ تو ہے ہی کوئی بیوقوف عورت ۔۔۔عمر ہو گئی ہے اسکی مگر اِس کو نہیں پتا کب کہاں کون سی بات کرنی ہے “
فیروز صاحب نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا جو اپنی ہی بات پہ شرمندہ ہوئی بیٹھی تھی۔ ۔۔
۔
“نہیں نہیں اماں میرا وہ مطلب گر گز نہیں تھا “
۔
“بہو تمہارا جو بھی مطلب تھا اپنے پاس رکھو ۔۔۔اگر چند دن مجھے یہاں گزارنے دیتی ہو تو اپنا منہ بند ہی رکھنا پھر۔۔۔میری بچی کے لیے آئندہ اپنے منہ سے ایسے الفاظ نہیں نکالنا ۔۔۔نہیں تو تم مجھے جانتی نہیں ہو ابھی اچھے سے “
۔
اماں نے خشک آنکھوں سے اسکو اِس انداز سے کہا کہ اُس کی روح بھی کانپ اٹھی ۔۔۔۔آج پہلی بار انہوں نے اماں کا ایسا رویہ اور انداز دیکھا تھا ۔۔۔۔۔آج سے پہلے انہوں نے اِس قدر سخت الفاظ کبھی استعمال نہیں کیے تھے ۔
۔
“اماں مجھے معاف کر دیں “
وہ جلدی جلدی اٹھیں اور اماں کے پاؤں پکڑے ۔۔۔۔۔جو انہوں نے فوراً پیچھے کیے ۔۔۔
۔
“جاؤ یہاں سے تم “
فیروز صاحب نے انکی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے کہا ۔۔۔
۔
“میں نے ایسا بھی تو کچھ غلط نہیں کہا جو آپ ۔۔۔۔”
انہوں نے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے ماتھے پہ بل ڈالے اور بولیں۔
۔
“میں نے کہا جاؤ یہاں سے “
فیروز صاحب نے اب کی بار اِس انداز سے کہا کہ وہ اٹھیں اور جلدی جلدی وہاں سے باہر گئیں ۔۔۔۔
وہ دونوں ماں بیٹا جانتے تھے انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کی ۔۔۔مگر اُن دونوں کے لیے اُس کی موت کا منظر ہی ایسا تھا کہ وہ سن کے بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔”مر جاؤ تم زری “
“ابھی سے ہی مر جاؤں میں؟ ابھی تو میری منگنی بھی نہیں ہوئی”
۔
“ہونی بھی نہیں ہے آپکی منگنی “
“کیوں نہیں ہو گی میری منگنی ؟میرے لیے تو شہزادہ آئے گا شہزادہ “
۔
“ہاں ہاں بلکل آئے گا شہزادہ ۔۔۔آ ہی نہ جائے کوئی شہزادہ “
۔
“ہوں ۔دیکھنا تم “
۔
“ہاں دیکھ لوں گی بس منگنی کرو اور پھر مر جاؤ تم کہیں “
۔
“میں کوئی نہیں مرتی ابھی ۔۔مجھے پتا ہے میری موت پہ سب سے زیادہ تم ہی رو گی ۔۔اور میں مر کے بھی تمہیں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔میں آپ کی ان موٹی موٹی آنکھوں میں موٹے موٹے انسوں کیسے دیکھوں گی ؟ “
۔
“اب زیادہ اوور ایکٹنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے “
۔
“یہ اوور ایکٹنگ ہے جس پہ آپکی آنکھیں نم ہو گئیں ہیں ؟”
۔
“دفع ہو جاؤ تم زری ۔۔۔مر جاؤ”
۔
“اللہ جی دیکھ لیں ایسے بھی دوست ہوتے ہیں اِس جہاں میں ۔۔۔جو بات بات پہ کہتے ہیں مر جاؤ ۔ اور پھر خود ہی روتے بھی ہیں “
۔
وہ اپنے کمرے میں اندھیرا کیے نہ جانے کب سے لیٹی تھی۔۔۔۔۔نہ جانے کب سے اُس کو سوچ رہی تھی۔ اُس کے کہے ہوئے ایک ایک لفظ پہ تکیے پہ منہ رکھے سسکیاں لے رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“زری تم کبھی نہیں مرنا ۔۔۔اللہ جی میری زری کو کچھ نہیں مارنا “
وہ اٹھی دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ۔۔۔۔روتے روتے اونچا اونچا بولنے لگی ۔۔۔۔جیسے اُسکی آواز اُس تک جا رہی ہو۔ وہ اس کو سن رہی ہو ۔۔
“زری ٹھیک ہو جاؤ نا اب “
اُس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پہ رکھے ۔۔۔۔اب کی بار رونے میں شدت آئی ۔ سسکیاں زیادہ ہوئیں۔۔۔وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی ۔۔۔۔۔
۔
٫اللہ جی ہم دونوں کو کبھی الگ نہیں کرنا ۔۔۔ہماری لیلیٰ مجنوں کو جوڑی کو کبھی نہیں توڑنا ….زری تم اتنا تو سوچ لیتیں فضّہ بھی ہے جو تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔جو تمہارے بغیر مر جائے گی “
۔
“اللہ جی مجھ سے کچھ بھی لے لیں مجھ سے ہر چیز لے لیں ۔۔۔مگر میری زرمینہ گل کو مجھ سے نہیں لینا ۔۔۔۔اللہ جی میری زرمینہ گُل کو میرے حصے کی سانسیں دے دیں ۔۔۔۔وہ ٹھیک ہو جائے ۔۔۔میری زری بلکل ٹھیک ہو جاۓ “
۔
وہ ایک بار پھر بیڈ پہ لیٹی ۔۔۔۔۔اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔اپنا چہرہ بیڈ کی طرف کیا ۔۔۔۔ایک ہاتھ سے بیڈ کی چادر مضبوطی سے پکڑی ۔۔۔اپنے دل کے درد کو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔۔وہ جو سسکیاں تھیں کچھ ہی وقت میں چیخوں میں بدلیں ۔۔۔ضبط ٹوٹا اتنے دنوں کا غبار چیخوں کی صورت میں نکلا ۔۔۔وہ زری کے نام پہ چیخیں لگانے لگی ۔۔۔
۔
“فضّہ”
“فضّہ”
“کیا ہوا ہے تمہیں ؟”
“یہ کیا کر رہی ہو تم”
کوئی دروازے سے اندر آیا اُس کو دیکھا جو اپنا سر بیڈ کے ساتھ مار مار کے زخمی کر رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
“یہ کوئی پاگل لگتا ہے مجھے ۔۔۔۔جو ایسے موٹر سائیکل چلا رہا ہے “
“ہاں یار دیکھو تو سہی ۔۔۔لگتا ہے اِس کو اپنی جان پیاری نہیں ہے ۔۔۔تب ہی تو گاڑیوں میں سے ایسے گزر رہا ہے۔۔جیسے مرنے کا کوئی خوف ہی نہ ہو “
۔
“مجھے لگتا ہے کوئی ایمرجنسی ہے اسکو۔۔ورنہ کوئی بھی جان بھوج کے اپنی موت کو ایسے دعوت نہیں دیتا “
۔
“کیا ایمرجنسی ہے یار ہمارے پاس سے ایسے گزر کے گیا ہے جیسے ایک سیکنڈ نہ لگا ہو ۔آگے گاڑی کے ساتھ لگ کے مرتا مرتا بچا ہے ۔۔۔مر جاتا تو لوگ گاڑی والے کو نہ چھوڑتے ۔۔۔۔اسکو قصوروار ٹھہرایا جاتا “
۔
“یار بس کیا کہیں آج کل کی ہماری نو جوان نسل ہوا کے گھوڑے پہ سوار رہتی ہے “
۔
“ہم دعا ہی کر سکتے ہیں بھائی”
۔
وہ ایسے جا رہا تھا جیسے بائک کو اُڈا کے اُس کے پاس پہنچا لے گا بس وہ کسی طرح پنڈی کی اُن سڑکوں تک پہنچ جائے جہاں اُس کی محبوبہ زندگی اور موت کے بیچ جھول رہی ہے ۔۔۔۔
۔
۔۔۔۔وہ جس کے پاس سے بھی گزرتا ۔۔۔ہر کوئی اُس پہ تبصرہ کرتا ۔۔۔۔۔عورتیں ہاتھ اٹھا لیتیں ۔۔۔۔ہر کوئی اُس پہ بات شروع کرتا اور ساری نوجوان نسل کو سمیٹ کے موٹر سائیکل پے ختم کرتا ۔۔۔۔
۔
مانسہرہ سے پنڈی تک کے سفر میں دو گھنٹے لگتے تھے ۔۔۔ وہ یہ دو گھنٹے دو منٹوں میں تہہ کرنا چاہتا تھا ۔
۔
“محبت میں مرنے والوں کو کہاں جینے کی طلب ہوتی ہے “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر صاحب زرمینہ کے چہرے کا رنگ بدل رہا ہے ۔۔۔۔یہ دیکھیں اُس کی رنگت میں فرق آ رہا ہے “
سلطان نے بہن کی طرف دیکھتے ہوئے ڈاکٹر کو کہا ۔۔۔۔جو انکے پاس کھڑا ڈاکٹر جدوں کے لیے ہوئے ٹیسٹ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
۔
اُس کی اِس بات پہ سب اُس کے پاس آئے۔۔۔۔اُس کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔
۔
“ہاں ہاں زرمینہ گُل کےچہرے کا رنگ بدل رہا ہے ۔۔۔”
“اماں نے اُس کو دیکھتے ہوئے خوشی سے اونچا اونچا کہا ۔۔۔۔دیکھیں نا زرمینہ ہوش میں آ رہی ہے ۔۔۔میری بیٹی ٹھیک ہو رہی ہے “
۔
“زرمینہ گُل”
ابراہیم صاحب اُس کے قریب آئے ۔۔۔۔اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔۔عام حالات میں وہ ایسا کبھی نہ کرتے ۔۔۔جب سے زرمینہ بیمار ہوئی تھی وہ ایک باپ بن گئے تھے صرف ایک باپ ۔۔۔اُس کے علاوہ ان کو کچھ بھی یاد نہیں تھا ۔۔۔۔وہ اپنی بیٹی کے پاس بیٹھ کے روتے تھے ۔اُس کا ہاتھ چومتے تھے ۔۔۔۔اُس کے ماتھے پہ پیار کرتے تھے ۔۔۔۔اُس کے سر پہ پڑے دوپٹے کو گھنٹوں دیکھتے رہتے۔۔۔۔۔پھر افسوس کرتے ۔۔۔۔۔انہوں نے اپنی بیٹی کو پہلے ایسے کیوں نہیں دیکھا ۔۔۔اُس کے سر پہ پڑے دوپٹے کو کیوں نہیں دیکھا ۔۔۔۔کتنی پیاری لگتی ہے وہ چادر میں۔۔۔۔۔کتنی معصوم لگتی ہے وہ ایسے چادر کیے ہوئے ۔۔۔
۔
“آپ ہٹیں پیچھے “
ڈاکٹر نے ان کو نرمی سے کہا اور پھر خود اُس کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
۔
“ڈاکٹر صاحب ہماری بیٹی ہوش میں آ رہی ہے نا؟”
ابراہیم صاحب نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جو چہرے کے بدلتے تاثر لیے آنکھیں بند کیے دنیا سے بے خبر سکون کی نیند سو رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“آپ پلیز کچھ وقت باہر انتظار کریں ۔۔۔۔۔ہم اِن کے ٹیسٹ کر لیں۔ پھر آپ کو بتائیں گے “
ڈاکٹر نے آرام سے انکو جانے کا کہا ۔۔۔۔۔اور خود وہاں کھڑی نرس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔اُس کو کچھ کہنے لگا ۔۔۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ملکہ یہ تو راولپنڈی تھا صرف راولپنڈی ۔۔۔۔اگر تم چاند پہ بھی جاتی نا تمہارا وجدان وہاں پہ بھی پہنچ جاتا “
۔۔۔ وہ اُن سڑکوں کو دیکھنے لگا جہاں سے ابھی وہ گزری تھی ۔۔۔۔۔جہاں کی ہوا میں اُس نے سانس لی تھی۔۔۔۔وہ وہیں روڈ کے درمیان میں روکا ۔بائک پہ بیٹھتے ہوئے اُس نے گہری سانس لی ۔۔۔۔جیسے اُس کو کسی عطر کی مہک آئی ہو ۔۔۔ اُس کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔۔جیسے وہ اُس کو مل گئی ہو ۔۔۔۔۔اُس نے بائیک پہ بیٹھے ہی آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔اُسکا مسکراتا چہرہ اُسکے سامنے آیا ۔۔۔جیسے وہ بہت خوش ہو آج ۔۔جیسے اُسکا حجر ختم ہوا ہو ۔۔۔جیسے مانسہرہ سے پنڈی اُس کو اپنی منزل ملی ہو ۔۔۔۔۔وہ اُس کا شکریہ ادا کر رہی ہو ۔۔۔اظہارِ محبت اپنی مسکراہٹ سے کر رہی ہو ۔
۔
اُستاد کیا گاتا ہے عطاءاللہ آج تک کوئی ایسا گانے والا میں نے نہیں دیکھا ۔۔۔۔
۔
“اوئے چپ کر خانہ خرابہ سارا مزہ خراب کر دیا ۔کتنی بار سمجھایا ہے تمہیں جب عطاءاللہ کا گانا چل رہا ہو بیچ میں مت بولا کر “
۔
“جگر تے ہاتھ رکھ کے اسان ڈھول جدا کیتا “
وہ ٹرک چلاتے چلاتے عطاءاللہ کے گانے خود گاتا پھر ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے ہوتے ہی اُن پہ جھومنے لگ جاتا ۔۔۔۔جو بول اُس کے دل کو لگتا اُس پہ سٹرنگ سے ہاتھ چھوڑ دیتا ۔۔۔دونوں ہاتھ اوپر کر کے ساتھ ساتھ گاتا ۔۔۔۔۔جہاں لگے ٹرک اب ڈگمگا رہا ہے وہاں پھر عطاءاللہ کی دنیا سے نکل کے پنڈی کی سڑکوں پہ حاضر ہو جاتا ۔۔۔۔
۔
“اُستاد وہ دیکھو آگے کوئی موٹر سائیکل کھڑا ہے “
۔
“جگر تے ہاتھ رکھ کے اسان ڈھول جُدا کیتا ۔۔۔۔۔۔بلو بتیاں وے ماہی سپ مارو سنگلاں نال …..”
وہ اپنے ہی گانے کی مستی میں جھوم رہا تھا ۔۔۔۔کبھی سٹیرنگ پہ ہاتھ رکھتا کبھی چھوڑ دیتا ۔
۔
“اُستاد ۔۔۔۔۔استاد سامنے دیکھو وہ موٹر سائیکل پے کوئی لڑکا ہے “
“اُستاد وہ مر جائے گا “
وہ بُھکلایا ہوا بار بار اُس کو بتا رہا تھا ۔۔۔۔جس کا حقیقت کی دنیا سے ناطہ اُس گانے کے بعد ٹوٹ جاتا تھا ۔۔
۔
“اُستاد “
“اوئے یہ لڑکا کون ہے “
اُس نے حقیقت کی دنیا میں قدم رکھا اور سامنے کھڑے موٹر سائیکل کو دیکھا جس پہ وہ لڑکا اُس کی طرف منہ کیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔شاید وہ بھی حقیقت کی دنیا سے قطع تعلق تھا ۔۔۔تب ہی تو سامنے سے آتی موت اُس کو دیکھائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔
۔
“استاد تم گاڑی روکو “
کنڈیکٹر نے چیختے ہوئے ڈرائیور کو کہا جو ہوش میں آتے ہی گاڑی کو سنبھالنے کی نا کام کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“ہٹو سامنے سے “
کنڈیکٹر ٹرک کے دروازے پہ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔اُس کو اونچا اونچا کہنے لگا ۔۔۔جو روڈ پہ اُن کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔
۔
“وہ لڑکا مر جائے گا ۔۔۔۔وہ دیکھو سامنے سے ٹرک آ رہا ہے ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔وہ مر جائے گا “
۔
“ہٹو سامنے سے “
وہاں پہ کچھ لوگ اُس کی طرف دوڑے اُس کو بچانے لگے ۔۔۔۔۔ آگے جاتے ہی سب ایک دم وہیں روکے۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا ۔۔۔۔ٹرک کسی چیز کے ساتھ ٹکراتے ہی سامنے بنی دکان کی دیوار توڑتا ہوا اندر گیا ۔۔۔۔
لوگوں نے ٹرک کے ساتھ لگتے اُس موٹر سائیکل کو ہوا میں اُچھلتے دیکھا ۔۔اُس کے بعد اُس لڑکے کو دیکھا جو فٹبال کی طرح اونچائی سے ڈیب کھاتا ہوا نیچے ایک گاڑی پہ گرا اور گاڑی سے زمین پہ ۔۔۔۔۔سب نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔۔آج سے پہلے کسی سے ایسا منظر نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔وہاں پہ موجود ہر بندہ وہیں ساکت کھڑا ہوا ۔۔۔لڑکیوں نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ۔۔۔۔۔موٹر سائیکل ڈیپ کھاتا ہوا ایسے گرا جیسے ایک ایک پرزا الگ ہوا ہو ۔۔۔
۔
اُس لڑکے کو دیکھتے ہی سب اُس کے پاس آئے ۔۔۔۔۔اُس کا خون میں پڑا وجود اوپر کرنے لگے ۔۔۔۔اُس کے منہ کے آگے اُنگلیاں رکھنے لگے جیسے اُس کی چلتی سانس دیکھ رہے ہوں ۔۔۔۔کوئی اُس کے دل پہ ہاتھ رکھے اُس کی دھڑکن دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔کسی نے اُس کی کلائی پکڑی ۔۔۔۔وہاں پہ مجبور ہر شخص اُس پہ کلمہ پڑھنے لگا ۔۔۔۔اُس کی حالت دیکھ کے استغفار کرنے لگا ۔
۔
” اب خدا جانے وہ مر گیا تھا یا زندگی کی آخری چند سانسیں لے رہا تھا “
۔……………………

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: