Hijab Novel By Amina Khan – Episode 41

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 41

–**–**–

۔
” یہ تو مر گیا ہے “
ایک شخص نے اُس کو دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں بولا !
۔
“نہیں نہیں ، مرا ہوا نہیں ہے دیکھو سانسیں چل رہی ہیں “
خون بہت چل رہا ہے ۔۔۔۔۔
۔
“اگر نہیں بھی مرا ہوا تو کچھ وقت میں مر جائے گا ۔۔۔۔باتوں سے اچھا ہے جلدی اٹھاؤ اِس کو پاس کے کسی ہسپتال لے چلتے ہیں “
۔
“یار پاس تو اِس وقت CMH ہی ہے ۔۔۔اُدھر ہی لے چلتے ہیں “
۔
“ہاں ہاں چلو چلو اُدھر ہی لے جاتے ہیں ۔۔۔۔اِس کے جیب سے موبائل نکالو ۔۔۔گھر والوں کو بھی اطلاع دو”
۔
“یار مجھ سے تو اِس لڑکے کی حالت نہیں دیکھی جا رہی “
۔
“حالت تو کسی سے بھی نہیں دیکھی جا رہی ۔۔۔۔ہمیں لے کے جانا تو ہے نا اِسکو “
۔
“ہٹو مڑہ سب پیچھے ہو جاؤ اِس کو ہم خود لے کے جائے گا ۔۔۔۔اِس کے ماں باپ کا مجرم ہے ہم ۔۔۔۔سب ہٹ جاؤ “
۔
“اُستاد کیا کر رہے ہو .. پھس جائیں گے ہم دونوں ۔۔۔۔نکلو یہاں سے “
۔
“کیسا بات کرتا ہے تم ۔۔۔۔ہم اتنا بے غیرت نہیں ہے ۔۔۔چھپ کے بھاگ جائے گا ۔۔۔۔۔اٹھاؤ میرے ساتھ اِسکو “
۔
وہاں موجود ہر شخص اُس نوجوان کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جس کا پورا وجود خون میں نہا رہا تھا ۔۔۔۔اگر اُس وقت اسکو گھر والے بھی دیکھتے تو پہچان نہ سکتے ۔۔۔۔۔چند بڑے دل والے لوگ ہی اُس کے پاس کھڑے تھے اُس کو اٹھا رہے تھے ۔۔۔۔باقی سب اُس کو دیکھتے ہی اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے پیچھے ہو جاتے ۔۔۔۔ایک نظر ڈالنے کے بعد کوئی اُس پہ دوسری نظر نہیں ڈال سکتا تھا ۔۔۔۔
۔
“یار اِس کے جیب سے شناختی کارڈ نکلا ہے اسکا “
گاڑی میں بیٹھے ایک بندے نے اِس کے جیب میں ہاتھ مارا ۔۔۔۔اُس کا موبائل اور شناختی کارڈز نکالا ۔۔۔۔اور اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔۔جو خون میں سرخ ہو گے تھے ۔۔
۔
“موبائل سے دیکھو اِس نے آخری کال کس کو کی ہوئی ہے اُس نمبر پہ کال کر کے بتاؤ اِس کا “
وہاں موجود ایک مرد نے اُس کے ہاتھ میں موبائل دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“نام کیا ہے بابو کا؟ شناختی کارڈ پہ لکھا ہو گا نام دیکھو “
نور گُل نے اُس لڑکے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔جو موبائل ہاتھ میں لیے اُس کے گھر کال کر رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“اِس کا نام سید وجدان حسین شاہ ہے جی “
اُس نے خون صاف کرتے ہوئے آنکھوں کے قریب لے جا کے اٹکتے ہوئے اُسکا نام پڑھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فضہ کیا ہوا ہے تمہیں ؟”
“فضّہ ہوش میں آئو کیا ہوا ہے تمہیں “
۔
“امی زری “
اُس نے دونوں ہاتھوں سے بال نوچتے ہوئے ایک بار پھر اونچا اونچا رونا شروع کیا ۔۔۔۔زری کا نام لیتے ہی اُس کا دل حلق سے باہر آنے لگتا تھا ۔۔۔
۔
“وہ ٹھیک ہو جائے گی فضہ”
انہوں نے بیٹی کے دونوں ہاتھوں کو نرمی سے پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔اور وہیں اُس کے پاس بیٹھ گئیں ۔۔۔۔
۔
“نہیں امی وہ نہیں ٹھیک ہو رہی ہے ۔۔وہ بہت بیمار ہے “
ماں کے گلے لگتے ہی اُس نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔اُس کا چہرہ اُس کے سامنے آیا ۔۔اُس کے کانوں میں ایک بار پھر اسکی آواز گونجی”
۔
“۔میں مر گئی تو سب سے زیادہ تم ہی رو گئی “
۔
“امی مجھے اُس کے پاس لے چلیں “
ماں کے ساتھ سے پیچھے ہوتے ہوئے اُس نے اپنے بال پیچھے کیے ۔آنکھوں کو صاف کیا ۔۔۔۔۔رونے میں کمی آئی ۔۔۔۔۔
۔
“لے جاؤں گی فضہ ۔۔تمہارے بابا کل بھی کہے رہے تھے ۔زرمینہ کو دیکھنے جائیں گے ۔۔۔بہت ہی پیاری بچی ہے وہ۔ جتنا تمہارا دل خفا ہے اتنا ہمارا بھی تو ہے نا ۔۔۔بس تم تیار ہو جاؤ ہم کل ہی اُس کو دیکھنے جائیں گے “
۔
انہوں نے بیٹی کے ماتھے پہ پیار کرتے ہوئے کہا ۔۔اور اسکو سوچنے لگیں ۔۔۔جس کو انہوں نے یونی میں دیکھا تھا ۔۔اُس وقت اُن کو اپنی بیٹی پے فخر ہوا تھا ۔۔۔کس قدر اچھی لڑکی سے اُس نے دوستی کی تھی۔ ۔۔
۔
امی سچ کہے رہی ہیں نا ہم کل جائیں گے نا زری کو دیکھنے ؟”
۔
“جی بیٹا کل ہم جائیں گے ان شاء اللہ ۔۔راولپنڈی کون سا دور ہے ۔۔۔۔ صبح ہی ہم نکل جائیں گے یہاں سے “
۔
اُن دونوں کے گھر والے جانتے تھے اُن کی دوستی کیسی ہے ۔۔۔۔حالانکہ زرمینہ کبھی اُس کے گھر نہیں گئی تھی ۔۔۔۔اُس کو کبھی دوستوں کے گھر جانے کی اجازت ہی نہیں ملی تھی ۔۔۔۔وہ لوگ اِس چیز کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ وہ ایسے گھروں میں جائے ۔۔۔پھر بھی اُن دونوں کے گھر میں انکی دوستی کی نوعیت کا اندازہ تھا کہ وہ کس حد تک گہری اور پُختہ ہے
۔
“یہ صبح کب ہو گی اللہ جی”
اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائی ۔۔۔ اپنے دماغ میں صبح کا نقشِہ کھینچنے لگی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسلسل ECG کو دیکھتے رہے ۔۔۔۔۔اُس پہ بنتی لکیریں اُن کی سانسیں روکنے لگیں ۔۔۔۔۔اُس کے دل کی دھڑکن میں پہلے سے زیادہ تیزی انے لگی ۔۔۔۔۔
۔
“بابا جان زری کے ہاتھوں کی انگلیاں حرکت کر رہی ہیں “
شہاب نے اُس کی دو انگلیوں کو اوپر نیچے ہوتے دیکھا ۔۔۔۔فوراً اُس کے پاس گیا ۔۔۔۔۔اُس کے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔اُنگلیاں اب بھی حرکت میں تھیں جیسے کوئی درد کی شدت میں بیہوش ہو ۔۔درد کی شدت اتنی سخت ہو کہ بس اُنگلیاں ہی حرکت کر رہی ہوں۔ ۔۔
۔
“بابا جان یہ دیکھیں نا “
اُس نے⁦ خوشی سے پاس کھڑے باپ کو دیکھا پھر سے اسکا ہاتھ اٹھایا اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔۔۔اب بھی اُنگلیاں اہستہ ہی سہی مگر حرکت میں تھیں
۔
“زری “
سلطان اُس کے پاس کھڑا ہوا ۔۔۔اُس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔جیسے وہ اب آٹھ کے بیٹھ جائے گی اس سے بات کرے گی ۔۔۔۔
۔
“سلطان تم جاؤ جلدی ڈاکٹر صاحب کو بولا کے لاؤ “
ابراہیم صاحب نے کانپتے ہونٹوں کے ساتھ بیٹے کو باہر بجھا ۔۔۔اُس کے پاس کھڑے ہوئے نم آنکھوں سے اسکو دیکھتے رہے وہ جو مرنے کے لیے دوبارہ آٹھ رہی تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر فاروقی کدھر ہوں گے ؟”
وہ باہر گیا ، باہر کھڑی ایک نرس سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔جو ہاتھ میں کچھ دوائیاں لیے جا رہی تھی ۔۔۔
۔
آپ یہاں سے لفٹ جائیں ۔۔پھر دو روم چھوڑ کے سیدھے ہاتھ پہ مڑ جائیں وہاں اُنکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
“ہٹو ہٹو سامنے سے۔۔۔۔۔۔۔ہٹو ۔۔۔۔۔جلدی ڈاکٹر کو بلاؤ ۔۔۔۔اِس لڑکے کو کسی طرح بیچا لو “
وہ دونوں وہیں کھڑے تھے کہ لوگوں کا ہجوم اندر آیا ۔۔ ایک پٹھان زور زور سے چلانے لگا ۔لوگوں کو پیچھے ہونے کا کہنے لگا ۔۔۔۔۔سب لوگ اسیچر کے اِدر گرد جمع تھے ۔۔۔۔جیسے کوئی شدید زخمی ہو ۔۔۔۔۔مرنے کے قریب ہو ۔۔۔۔۔
۔
کچھ ہی دیر میں ہسپتال کا عملہ وہاں جمع ہونے لگا ۔۔۔اُس لڑکے کو ایک نظر دیکھ کے سب پیچھے ہونے لگے ۔۔۔۔جیسے اُن سے اسکی یہ حالت دیکھی نہ جا رہی ہو ۔۔۔جیسے انہوں نے آج سے پہلے کبھی کسی کی ایسی حالت نہ دیکھی ہو ۔۔۔۔۔اُس کے منہ کا کچھ حصہ بچا ہوا تھا ۔۔۔۔۔جیسے کوئی غور کرے تو پہچان لے وہ کون ہے ۔۔۔۔۔
۔
“ہٹو نا مڑہ “
وہاں کھڑے ہر شخص کی یہی کوشش تھی کہ وہ اُس لڑکے کو ایک بار دیکھ لے ۔۔۔۔۔اتنے شور میں اتنے ہجوم میں کون ہے جو آیا ہے ۔۔۔۔سب ایک نظر اسکو دیکھتے پھر استغفار کہے کر پیچھے ہو جاتے ۔۔۔۔
۔
“کون ہے یہ ؟”
اُس نے پاس کھڑی نرس کو دیکھا پھر وہاں گیا جہاں اسیچر پہ پڑا لڑکا لوگوں کے ہجورم کے اندر کہیں گم تھا ۔۔۔۔وہ اُس کے پاس گیا جیسے اُسکا دل اُس کو کھنچ کے اُس کے پاس لے جا رہا ہو ۔۔۔۔وہ لوگوں کو آرام سے پیچھے کرتا کرتا اگے جانے لگا ۔۔۔۔وہ اُس کے پاس پہنچا ۔۔۔۔اُس کے جسم کو ایک نظر دیکھا جہاں جگہ جگہ سے کپڑے پٹھے تھے ۔۔۔اُن کپڑوں کے پٹھنے سے اسکا جسم نظر آنے لگا ۔۔۔۔اُس کا سفید رنگ کا کرتا بلکل لال تھا ۔۔۔۔پھر اُس کی نظر اُسکے بازوں پہ پڑی جو ایسے پڑے تھے جیسے کسی مردہ لاش کے ہوں ۔۔۔۔۔اُس کے جسم کی حالت دیکھنے کے بعد اسکی نظر اُس کے چہرے پہ جاتے جاتے روک گئی ۔۔۔۔۔اُس کا سارا وجود خون میں نہا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ایسے لگ رہا تھا جیسے گوشت کے ٹکڑے جگہ جگہ پڑے ہوں ۔۔۔۔۔
۔
“سلطان “
رقیہ بیگم نے دور سے اُس ہجوم میں اپنے بیٹے کو کھڑے دیکھا ۔ اُن کو لگا جیسے اُنکا دل کسی نے اندر سے چیر دیا ہو ۔۔۔۔۔جیسے انکی زرمینہ گل مر گئی ہو ۔۔۔۔۔لوگ اسکو دیکھ رہے ہوں ۔ اُسکی جوانی کی موت پے ترس کھا رہے ہوں ۔۔۔۔
ہاتھ میں سفید چادر پکڑے وہ ہسپتال کے دروازے سے اندر آئیں ۔۔۔انکو اپنی بیٹی کی وصیّت یاد تھی ۔۔۔
“اماں میں مر گئی تو میری میت پہ یہ سفید چادر ڈالنا “
وہ پنڈی آنے سے پہلے گھر گئیں۔۔۔۔۔اُس چادر کو ہاتھ میں پکڑے گھنٹوں روتی رہیں وہ چادر جو اس کے وجدان نے اسکو تحفے میں دی تھی ۔۔۔۔
وہ اس چادر کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتی تھیں ۔۔۔۔۔کب انکی بیٹی کو ہوش آیے اور وہ اسکو یہ چادر اوڑھایں ۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے سلطان . ک۔۔۔ک ۔۔کون ہے یہ “
انہوں نے پاس آتے ہی پہلی نظر اپنے بیٹے پہ ڈالی ۔۔۔۔انکی ٹانگیں کانپنے لگیں ۔۔۔۔انکو لگا سامنے اُن کی زرمینہ گُل پڑی ہے ۔۔۔۔وہ اُس کو ایک نظر بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھیں ۔۔۔۔۔وہ ماں تھیں کیسے دیکھ سکتی تھیں ۔۔۔۔۔
۔
“اماں آپ یہاں کیوں آئیں ہیں ؟ چلیں چلتے ہیں یہاں سے “
وہیں کھڑے اُس نے ماں کو اپنے دل سے لگایا ۔۔۔۔انکو وہاں سے لے جانے لگا ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا اُسکی ماں اُس لڑکے کی ایسی حالت دیکھیں جس کو وہ خود نہیں دیکھ پایا ۔۔
۔
“کون ہے یہ سلطان ؟”
وہ تھوڑا سا اور آگے ہوئیں اسیچر کے پاس پہنچیں ۔۔۔جیسے وہ اس اسیچر پہ پڑے شخص کو دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔اُنکا دل انکو مجبور کر رہا ہو ۔۔۔اُس کو دیکھنے پہ اُکسا رہا ہو
۔
“اماں چلیں نا”
اُس نے ماں کو بازو سے پکڑا ۔۔۔جو اُس لڑکے کو ایسے دیکھنے لگیں جیسے اُس کے ساتھ اُن کا کوئی بہت گہرا تعلق ہو ۔۔۔۔جیسے وہ اُس لڑکے کو برسوں سے جانتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔باقی لوگوں کی طرح وہ خوفزدہ ہو کے پیچھے نہیں ہوئیں ۔۔۔۔۔وہ اُس کو ایک ماں کی نظر سے دیکھنے لگیں۔۔۔۔۔ آنکھوں میں انسوں لیے انہوں نے پیار سے اُس کے خون میں لت پت وجود پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔اپنا ہاتھ اُس کے جسم پہ پھرنے لگیں ۔۔۔۔۔جیسے کوئی ماں اپنی اولاد سے لاڈ کر رہی ہو ۔۔۔۔۔اپنے بیٹے کو پیار سے دیکھ رہی ہو ۔۔۔
۔
“اماں “
سلطان نے ماں کو دیکھتے ہوئے پھر اُن کا ہاتھ پکڑا ۔۔انکو پیچھے کرنے لگا ۔۔۔۔۔ماں کو پیچھے کرتے ہی اُس کو نظر اُس لڑکے کے چہرے پہ پڑی ۔۔جِس کو اُس نے کہیں دیکھا ہوا تھا۔ ۔۔۔۔اُس نے ایک بار پھر اُس کو دیکھا ۔۔۔۔اُس کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوما ۔۔۔
.
“یہ میرے سر ہیں وجدان شاہ “
اُس نے بہن کو پہلی دفعہ کسی غیر مرد کے ساتھ سڑک پہ کھڑا دیکھا تھا ۔۔۔وہ اُس مرد کو کیسے بھول سکتا تھا ۔۔۔۔
۔
“وجدان شاہ “
اُس کو دیکھتے ہی اُس کے منہ سے بے اختیار اُس کا نام نکلا ۔۔۔۔
۔
“ک۔ ۔۔۔۔۔ک۔ ۔۔۔۔کیا کہا تم نے ؟”
ماں نے اُس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔انکو لگا جیسے انہوں نے کچھ غلط سنا ہو ۔۔۔۔۔اُن کے بیٹے نے کچھ اور کہا ہو ۔۔۔۔ان کے کانوں میں وجدان شاہ گھونجا ہو ۔۔۔۔
۔
وہ سکتے کے عالم میں سامنے لیٹے شخص کو دیکھنے لگا۔ ۔۔جس کے لیے اُسکی بہن زندگی اور موت کے درمیان ایک درد میں ایک اذیت میں پڑی تھی ۔۔۔۔
۔
“یہ کون ہے سلطان بولو نا “
انہوں نے اُس کے بازؤں کو پکڑ کے ہلایا ۔۔۔وہ ہلکا سا اُن کی طرف مڑا ۔۔۔”
“اماں”
ماں کے غور سے دیکھتے ہوئے اُس نے پھر سے اُس لڑکے کی طرف دیکھا ۔۔۔
۔
“اماں یہ وجدان شاہ ہے “
آنکھوں میں نمی لیے اُس نے ماں کو بس اتنا ہی کہا ۔۔۔۔۔وہ ایک قدم پیچھے ہوئیں ۔۔۔جیسے ابھی زمین پہ گر جائیں گی ۔۔۔۔۔اُن کی بیٹی کی محبت اُن کے سامنے تھی ۔۔۔۔وہ محبت جس کے لیے اُس نے موت کو گلے لگا دیا تھا۔۔۔۔۔
۔
“وجدان “
انہوں نے بیٹے کی طرف دیکھا ۔۔۔آنسوؤں سیلاب کی صورت اُن کی آنکھوں سے چھلکنے لگے ۔۔۔۔۔ایک بار پھر وہ آگے ہوئیں ۔۔۔۔سامنے پڑے لڑکے کو دیکھنے لگیں ۔۔۔۔اب کی بار اُس وجود میں اُن کو زرمینہ کا عکس دیکھائی دینے لگا ۔۔۔۔۔انہوں نے اُس کو مکمل نظر بھر کے دیکھا ۔۔۔۔اپنے بازو پہ پکڑی اس سفید چادر کو کھولا ۔ بار پھر اسکو دیکھا ۔۔۔ اور آرام سے اس کا وجود اُس سفید چادر میں لپیٹ دیا ۔۔۔۔۔چادر ڈالتے ہی انکو لگا جیسے اُس ہے جان وجود میں کچھ سنسنی سی آئی ہے ۔۔۔اُس وجود نے تھوڑی سی حرکت کی ہے ۔۔۔وہ آگے ہوئیں ۔۔۔۔اُس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا جیسے وہ زرمینہ گُل کے ماتھے پہ رکھتی تھیں ۔۔۔۔۔
۔
“ٹھیک ہو جاؤ میری زرمینہ گُل کے وجدان شاہ …میری زرمینہ گُل کے لیے تھوڑا سا اور جی لو “
۔
انہوں نے ویسے ہی اُس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔اس کے ماتھے پہ پیار کیا ۔۔۔۔اُس کا خُون اُنکے ہونٹوں کے ساتھ لگا ۔۔۔وہاں پہ لوگوں کا شور کم ہوا۔۔۔۔۔۔سب کو لگا اُس کی ماں اُس کے سامنے کھڑی ہے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ابراہیم صاحب ایسی کنڈیشن میں اکثر پیشنٹ اپنے ہاتھ یا انگلی کو ہلاتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔آپ دعا کریں یہ ہوش میں آ جائیں …ان کا ہوش میں انا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔ورنہ بہت مشکل ہے کہ ہم اِن کو بیچا سکیں ۔۔۔۔کچھ ٹیسٹس رپورٹس ہمیں ملیں ہیں ۔۔۔ان کی کنڈیشن بہت سیریز ہے ۔۔۔میں آپ سے کچھ نہیں چپھاؤں گا ۔۔۔اگر یہ ایک دن مزید اسی حالت میں رہتی ہیں تو ۔۔۔۔ہم اِن کو بیچا نہیں سکیں گے ۔۔۔۔ان کی کڑنی بلکل فیلڈ ہے ۔۔اب ایسا ہے وہ کڑنے ساتھ ان کی پوری باڈی کو ڈسٹرب کر رہی ہے ۔۔۔۔اور اگر دونوں کڈنی ضائع ہو گئیں تو پھر ہم کچھ بھی نہیں کر سکیں گے “
۔
اُس کے کمرے کے باہر کھڑے ڈاکٹر فاروقی اُن تینوں باپ بیٹوں کو ایک ایک بات تفصیل سے بتا رہے تھے ۔۔۔اُن کے زخمی دل کو مزید زخمی کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ گُل تمہیں پتا ہے تمہیں لینے کون آیا ہے ؟ “
اماں اُس کے پاس آئیں ۔۔اُس کے پاس جُھکھتے ہوئے نیچے ہوئیں ۔اپنا منہ اُس کے کان کے ساتھ لگایا ۔۔۔۔۔جیسے سرگوشی میں اُس کو کچھ بتا رہی ہوں ۔۔۔جیسے کوئی سہیلی اپنی سہیلی کے کان میں اُس سے بات کر رہی ہو ساتھ مسکرا رہی ہو ۔۔۔۔
۔
“زرمینہ تمہارا وجدان تمہیں لینے آیا ہے “
اب کی بار اُن کی مسکراہٹ میں کمی آئی ۔۔۔۔اُن کی آواز میں ایک درد ایک تکلیف آئی ۔۔۔جیسے وہ اُس لڑکے کے آنے کا منظر اپنے آنکھوں میں لائی ہوں۔ اُس منظر نے اُن کا سارا وجود دکھی کر دیا ہو ۔۔۔۔
۔
“زری”
آج انہوں نے پہلی دفعہ تُمہارا وجدان کہا تھا ۔۔۔۔۔اُن کو لگا جیسے اُس کے جسم میں حرکت ہوئی ہے جیسے چادر ڈالتے اُس لڑکے کے جسم میں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔انہوں نے سامنے لگی EGC کو دیکھا ۔۔۔۔۔وہاں لکیروں میں تیزی آئی ۔۔۔۔۔اُنکا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔۔انکو لگا وہ مزید وجدان کا نام لیں گی تو انکی بیٹی شايد شب تاریک سے نکل کے صبح کے اُجھلے میں آ جائے ۔۔۔۔
۔
“زرمینہ اٹھ جاؤ میری بیٹی وجدان تمہارا انتظار کر رہا ہے “
ایک بار پھر اُس کا عکس اُن کے سامنے گھوما ۔۔۔جو خون میں نہا رہا تھا ۔۔۔۔وہ سامنے پڑی بیٹی کو بھول گئیں ۔۔۔۔۔وہ روتے روتے بولنے لگیں ۔۔۔
۔
“اُٹھ جاؤ زرمینہ گُل تمہارا وجدان سُرخ جوڑے میں آیا ہے “
۔
آنکھیں بند کئے ۔۔۔۔۔انسوں کا سیلاب لیے وہ کہتی چلی گئیں ۔۔۔۔وہ بھی ایک ماں تھیں۔ ۔۔اُن کے سامنے کیسی کا جوان بیٹا خون میں لت پت پڑا تھا۔ ۔۔۔اور وہ جوان بیٹا اُن کی بیٹی کا محبوب تھا ۔۔۔۔۔انکی بیٹی کی زندگی تھا ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ گُل تمہارا وجدان آنکھیں بند کئے خون میں نہاتے ہوئے آیا ہے تمہیں لینے “
وہ دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھے بولتی چلی جا رہی تھیں ۔۔۔۔وہ منظر اُنکے سامنے سے نہیں ہٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ اُسی منظر کی تفسیر بیان کر رہی تھیں جو کچھ وقت پہلے انکی آنکھوں نے دیکھا تھا ۔۔۔
۔
وہ آنکھیں بند کئے بیٹھی ہی تھیں کہ انکو ایک زور دار چیخ کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔آنکھیں کھولتے ہی انہوں نے سامنے بیٹھی بیٹی کو دیکھا ۔۔۔۔جو چہرے پہ خوف لیے ۔۔کانپتے جسم کے ساتھ اُنکے سامنے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔جیسے وہ پیسنے میں نہائی ہو ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ میری بچی “
انہوں نے اسکو دیکھتے ہی چومنا شروع کیا ۔۔۔۔۔اُس کے پیسنے سے بھرا منہ صاف کرنے لگی ۔۔۔اُس نے اپنی ماں کا بازوں پکڑا ۔۔۔۔خوف سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور کانپنے لگی ۔۔۔جیسے وہ اپنی ماں سے پوچھنا چاہتی ہو اُس کا وجدان زندہ تو ہے نا ۔۔۔
۔
“اماں “
ماں کے گلے سے لگتے ہی اُس نے اونچا اونچا رونا شروع کیا ۔۔۔۔اتنے دنوں کا ضبط ٹوٹنے لگا ۔۔۔۔وہ ماں کے سینے سے لگے ہوئے چینخ چینخ کے رونے لگی ۔۔۔۔
۔
“اماں میرا وج۔۔۔۔۔۔”
وہ روتے روتے بس اتنا ہی بولی ۔۔۔۔۔اُس کا باپ اور بھائی اس کے سامنے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔وہ بولنا چاہتی تھی میرا وجدان کہاں ہے ۔۔۔۔کدھر ہے ۔۔۔کیا ہوا ہے اسکو ۔۔۔۔۔مگر اُن رشتوں نے اُس کی آواز کا دم گھونٹ دیا وہ مزید کچھ نہ بول پائی ۔۔۔۔
۔
“زرمینہ گُل کیسی ہو “
ابراہیم صاحب جلدی جلدی آگے آئے ۔۔۔اتنے دنوں کے بعد انہوں نے اپنی بیٹی کی آنکھیں کھلی دیکھیں تھیں۔۔۔۔۔اتنے دنوں کے بعد ایک مردہ جسم میں جان آئی تھی ۔۔۔۔۔
۔
باپ کے آتے ہی اس نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا ۔۔۔۔۔تھوڑا سا اور اوپر ہو کے بیٹھی ۔۔۔۔۔ اسکو اندازہ نہیں تھا اُس کا باپ ابراہیم خان سواتی نہیں رہا ۔۔۔۔صرف اور صرف اُس کا باپ بن گیا ہے ۔۔۔۔وہ باپ جو اپنی بیٹی کے سر سے آنچل گرنے پہ غصے میں اپنا رخ دوسری طرف نہیں موڑ دیتا۔۔۔۔۔۔۔
۔
“میں ٹھیک ہوں بابا جان “
چہرے پہ درد کی شدت لیے اُس نے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔۔۔اور پھر پیچھے ہو گئی ۔۔۔۔جیسے اُس کے اندر درد ہی درد ہو ۔۔۔۔اُس کے جسم میں خون کی جگہ درد نے لے لی ہو..
۔
“زرمینہ گُل کیا ہوا ہے تمہیں ؟”
ابراہیم صاحب اس کے قریب آئے ۔۔۔۔اُس کو اپنی باہوں میں لیا ۔۔اُس کا ماتھا چومہ ۔۔۔۔وہ درد کی شدت لیے اپنے باپ کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔کیا یہ اُسی کا باپ ہے ۔۔۔۔جو آج اسکو اپنے دل سے لگا رہا ہے ۔اُس کا ماتھا چوم رہا ہے ۔۔۔۔۔ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا ۔۔۔۔وہ تو کبھی ڈر کے مارے باپ کے پاس بیٹھی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔شايد اُس کے باپ نے کبھی نظر بھر کے اُس کو دیکھا بھی نہیں تھا ۔۔۔تو آج ؟
کیا باپ کو محبت جتانے کے لیے کسی بڑے سانحہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے؟ کیا ایک بیٹی کو وہ محبت حاصل کرنے کے لیے بِستر مرض تک پہنچنا پڑتا ہے؟ ۔ کیا ان دونوں صورتوں کے علاوہ ایک باپ اپنی بیٹی سے محبت نہیں کر سکتا ..اپنی بیٹی کو سینے سے نہیں لگا سکتا ؟ اور بیٹی بھی کوئی عام بیٹی نہیں۔ ۔۔جو اپنے باپ کی عزت کو خاک میں ملا دے ۔۔۔۔۔وہ تو ایسی بیٹی تھی جو اپنے باپ کی عزت کو اپنی چادر کی صورت میں کندھے پہ ڈالتی تھی ۔۔۔۔۔باپ کے سامنے نہ ہوتے ہوئے بھی باہر کی دنیا میں کبھی نقاب نہیں اتارتی تھی ۔۔۔۔۔کسی مرد کو منہ نہیں لگاتی تھی ۔۔۔۔۔۔
کیا ایک باپ اُس بیٹی سے محبت نہیں کر سکتا ؟اُس بیٹی سے جو اُس کی عزت کی خاطر اپنی محبت کو دل میں دفن کر کے خود دفن ہونے کی تیاری کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔کیا اُس بیٹی کو بھی محبت کا کوئی حق نہیں ہے ؟ کیا ایک بیٹی کو مر کے ہی باپ اور بھائی کی محبت نصیب ہوتی ہے؟ وہ بھول جاتے ہیں وہ کسی بیٹی کے باپ ہیں کسی بہن کے بھائی ہیں۔ یاد رکھتے ہیں تو اتنا وہ سواتی ہیں مرد ہیں ۔۔۔۔جن کے سر کی ٹوپی اور کندھے پہ پڑی چادر اپنی بیٹی اور بہن کی ایک خواہش کی وجہ سے گر نہ جائے ۔وہ کیوں بھول جاتے ہیں بیٹی بھی تو اُن کی ہی ہے بہن بھی تو اُن ہی کی ہے۔ جس کی رگوں میں انہی کا خون ہے ۔۔۔۔۔وہ خود تو زمین میں دفن ہو سکتی ہے ۔وہ محبت سے تو دستبردار ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔وہ ایک ایک پل میں ہزار بار تو مر سکتی ہے ۔۔۔۔۔مگر وہ اپنے باپ کے سر کی ٹوپی کبھی گرنے نہیں دیتی ۔۔۔۔کبھی بھائیوں کا غرور ٹوٹنے نہیں دیتی ۔۔۔مگر شايد ایک بیٹی کو یہ محبت پانے کے لئے مرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔
محبت کی قربانی تو کہاں قربانی ہے ؟ یہ قربانی بس وہی سمجھتے ہیں ۔جو برباد کر دیتے ہیں خود کو اپنے دل کی دنیا کو ۔۔۔۔جو بھول جاتے ہیں کبھی وہ بھی کھلکھلا کے ہستے تھے ۔۔۔۔کبھی وہ بھی تو مسکراتے تھے ۔۔۔۔۔مگر دینی پڑتی ہے ایک بیٹی کو مسکراہٹ کی قربانی ۔۔۔اپنی محبت کی قربانی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جی فرمائیں میں وجدان کا والد بات کر رہا ہوں ؟ کون ہیں آپ ؟ اور میرے بیٹے کا موبائل آپ کے پاس کیسے ؟ “
۔
۔
“میں CMH سے بات کر رہا ہوں ۔آپ کے بیٹے کا ایکسڈنٹ ہوا ہے ۔۔۔۔وہ پنڈی میں ہے ۔۔۔۔بے ہوش ہے آپ جلد از جلد پہنچیں یہاں “
۔
“کیا ۔۔۔وجدان کا ایکسڈنٹ ؟ ک۔۔۔کیسے ہوا ؟ میرا بیٹا ٹھیک تو ہے نا؟”
۔
ایک باپ کو اُس کے جوان بیٹے کی موت کی خبر دی جا رہی تھی۔ وہ بیٹا جو اُنکا اکلوتا سہارا تھا ۔۔۔۔جو اپنی پانچ بہنوں کے سر کی اکلوتی چادر تھا ۔۔۔۔وہ کانپتے کانپتے وہیں زمین پہ بیٹھے ۔۔۔۔جیسے اب وہ کبھی آٹھ نہیں سکیں گے ۔۔۔۔اب وہ کبھی بول نہیں سکیں گے ۔۔
۔
“کیا ہوا ہے ابو جی ؟”
باپ کو دیکھتے ہی فاطمہ بھاگتی بھاگتی باپ کے پاس آئی ۔۔۔۔۔اُنکے پاس وہیں زمین پہ بیٹھی ۔۔۔جو موبائل کان کے ساتھ لگائے کچھ سن رہے تھے ۔۔۔۔مگر انکی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔دوسری طرف والا انسان کیا کہے رہا ہے ۔۔
۔
“کون ہے ابو کس کی کال ہے ؟”
اُس نے باپ کے ہاتھ سے موبائل لیا ۔۔۔سکرین پر چمکتا نمبر اُس کے بھائی کا تھا ۔۔۔۔اُس نے موبائل کان کے ساتھ لگایا ۔۔۔۔
۔
“وجی …وجی کیا ہوا ہے تمہیں؟”
۔
“بہن میں ہسپتال سے بول رہا ہوں ۔۔۔وجدان شاہ کا بری طرح ایکسڈنٹ ہوا ہے ۔۔۔۔آپ لوگ راولپنڈی تشریف لے آئیں”
۔
دوسری طرف کی جانے والی چند باتوں نے اُس کے اندر کی دنیا کو ہلا دیا ۔۔اُس کے ہاتھ سے بے اختیار موبائل نیچے گرا ۔۔۔
۔
“ابو آپ نہیں ہوں پریشان وجی بلکل ٹھیک ہو جائے گا “
۔
زمین پہ بیٹھے نہ جانے وہ باپ کو تسلی دے رہی تھی یا خود کو ۔۔۔
۔
“ابو اُٹھیں ہمیں ابھی جانا ہے ۔۔۔ہمیں ابھی کے ابھی وجی کے پاس جانا ہے “
۔
اُس نے اٹھتے ہوئے ایک نظر باپ کو دیکھا ۔۔جو اپنے ہوشوں میں نہیں تھا ۔۔۔۔جو مُسلسل زمین کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زرمینہ کیا ہوا ہے تمہیں….شہاب جلدی جاؤ ڈاکٹر کو بولا کے لاؤ جلدی کرو “
۔
وہ مسلسل ایک تکلیف میں تڑپ رہی تھی۔ ۔نہ جانے وہ کیسی تکلیف تھی جو اُس کو تھی۔ نہ جانے وہ کیسا درد تھا جو اسکو ملا تھا۔ ۔۔۔۔درد اسکو پورے وجود میں تھا مگر ہاتھ اُس نے اپنے دل پہ رکھا تھا ۔۔۔۔۔وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھے اُس درد کو برداشت کر رہی تھی ۔۔درد کی شدت اتنی زیادہ تھی ۔۔اُسکی برداشت ختم ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔درد سے اسکی آنکھیں بند ہونے لگی۔ ۔۔۔۔اُس کے چہرے کا رنگ بلکل سفید ہونے لگا ۔۔۔۔۔ایک بار پھر وہ بلکل سکون سے سونے لگی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ نے اِن کے گھر والوں کو اطلاع دی ہے “
۔
“جی ڈاکٹر صاحب دی ہے ۔۔وہ لوگ پہنچنے والے ہوں گے “
آپریشن تھیٹر میں کھڑے ڈاکٹر نے ساتھ کھڑے لڑکے کو کہا ۔۔
۔
“خون بہت بہے گیا ہے ۔۔۔ہمیں جلدی از جلد خون کا بندوبست کرنا ہے ۔۔۔۔”
۔
“ڈاکٹر وحید مشکل ہی ہے یہ بچ سکے “
۔
۔ سامنے کھڑے ڈاکٹر ارسلان نے ڈاکٹر وحید کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔اور پھر آپریشن تھیٹر میں روشنیوں کے نیچے پڑے لڑکے کو دیکھا ۔۔۔۔۔جو ایسے سانس لے رہا تھا ۔جیسے اگلے سانس اُسکی آخری ہو۔ ۔۔۔وہ کسی بھی وقت دم توڑ دے گا ۔۔۔۔
۔
“بچانے والی کو اللہ کی ذات ہے ڈاکٹر ارسلان ۔۔۔ہم کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ ۔۔۔”
۔
“اگر یہ بچ بھی گیا تو یہ کبھی بھی نارمل زندگی نہیں گزار سکے گا ۔پہلے تو مشکل ہے یہ بچ بھی جائے “
۔
ڈاکٹر نے اُس کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
۔
“لیٹس سی ۔۔۔۔ہمیں آپریشن شروع کرنا چاہئے “
۔
“آپریشن شروع کرنے سے پہلے میں سورہ یٰسین پڑھتا ہوں ڈاکٹر ۔۔۔آپ شروع کریں میں پانچ منٹ میں آیا “
۔
“جی بہت بہتر “
پنڈی کے دو مشہور سرجن نے آپس میں مسکراہٹ کا تبادلہ کیا ۔۔۔ایک نے وہاں پہ پڑی یٰسین اٹھائی اور وہیں کھڑے کھڑے اونچی آواز میں پڑھنے لگا۔۔۔ ۔۔۔۔ ہسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
“جی نرس مجھے انسٹرومنٹ پکڑایں “
آپریشن شروع ہو چکا تھا ۔وہ زندگی اور موت کے بیچ جھول رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ابراہیم صاحب ہمیں فوراً بچی کا آپریشن کرنا ہے”
ڈاکٹر نے وہاں پہنچے ہی انکو کہا ۔۔۔۔ساتھ کھڑی نرس کو آپریشن کی تیاری کرنے کا حکم صادر کیا ۔۔۔۔اور جلدی جلدی وہاں سے نکلنے لگے
۔
“ابھی ہی آپریشن ؟”
رقیہ بیگم نے اپنی بیٹی پہ ایک نظر ڈالی ۔۔۔کیا اسکی حالت ہے آپریشن کے لیے ؟
۔
“جی اگر ہم نے ابھی کے ابھی آپریشن نہیں کیا تو یہ بچ نہیں سکے گی ۔۔۔ہمیں انکو بچانا بہت مشکل ہو جائے گا “
۔
“آپ جلدی سے O-ive کا انتظام کریں ۔۔۔۔خُون جتنی جلدی ہو سکے ارنج کریں ورنہ ہم اُنکو بچا نہیں سکیں گے “
۔
“نرس آپ جلدی کریں “
“جی جی ڈاکٹر صاحب”
وہ جلدی جلدی اُس کمرے سے باہر نکلے ۔۔۔۔اُنکے پیچھے پیچھے نرس بھی جانے لگیں ۔۔۔۔۔وہاں کمرے میں موجود سب اُس لڑکی کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔جو کچھ ہی وقت میں اپنی زندگی اور موت کی خبر سنانے والی تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: