Hijab Novel By Amina Khan – Episode 42

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 42

–**–**–

۔۔
“ڈاکٹر ہمارا ایک ہی بیٹا ہے مہربانی کر کے اُسے بچا لیں “
وہ ہ ہسپتال میں ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔ڈاکٹر ابھی ابھی آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا ۔۔۔۔۔اُس کو دیکھتے ہی سب کھڑے ہو گے اُس کے پاس جمع ہو گے ۔ڈاکٹر نے ایک نظر سب پہ ڈالی ۔۔۔۔وہاں سب لڑکیاں سروں پہ دوپٹہ لیے ہاتھ اٹھائے کھڑی تھیں ۔۔۔۔۔
۔
“ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔۔اُن کا خون بہت ضائع ہو گیا ہے ۔۔۔۔ہم نے انکو خون تو لگایا ہے ۔۔۔مگر آپریشن کے دوران ہمیں یہ پتا چلا ہے انکی ریڑھ کی ہڈی بہت ڈیمیج ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔ہم اُس کے بھی ٹیسٹ کریں گے ۔۔۔۔تو ہی آپکو کچھ بتا سکیں گے “
۔
“ڈاکٹر صاحب میرا بیٹا بچ تو جائے گا نا”
ڈاکٹر نے ایک نظر اُس عورت کو دیکھا جو ہاتھ جوڑے اُس کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔جیسے اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہو ۔۔۔۔۔اُس کا زرد ہوتا رنگ صاف بتا رہا تھا وہ کوئی اور نہیں اُسکی ماں ہے ۔۔۔۔
۔
“ماں جی ہم کچھ نہیں کہے سکتے فلحال آپ بس دعا کریں “
۔
“ڈاکٹر صاحب میرے بیٹے کو بیچا لینا “
۔
انہوں نے روتے ہوئے ایک اُمید سے کہا ۔۔۔جیسے سامنے کھڑا شخص اُن کے بیٹے کی زندگی کی ضمانت ہو
۔
“بچانے والی ذات اللہ کی ہے ماں جی آپ دعا کریں ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں”
۔
“ڈاکٹر صاحب وجی بچ تو جائے گا نا “
زینب نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے نم آنکھوں سے پوچھا ۔۔۔
۔
اُس کو لگا جیسے وہ سب کچھ بھول گیا ہے ۔۔۔۔اُس لڑکی کی چادر کا اسیر ہو گیا ہے ۔۔۔۔عموماً ڈاکٹر کہاں اتنی لمبی گُفتگو کرتے ہیں ۔۔۔۔اُس نے ایک نظر ڈالتے ہی اُس لڑکی کو دیکھ لیا تھا جیسے ماں کے پیچھے کھڑی خاموش آنسوؤں بہا رہی تھی ۔۔۔۔اپنی سرخ ہوتی ناک بار بار صاف کر رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کی جھکی نظریں اُس کو قید کر رہی تھیں ۔۔۔۔
۔
“ڈاکٹر شاہ آپکو ڈاکٹر وحید بولا رہے ہیں”
کسی نے اسکو آواز دی ۔۔۔۔وہ پیچھے مڑا ۔۔۔۔۔ایک بار پھر اُس لڑکی کو دیکھا ۔۔۔۔دروازہ کھولا اور اندر چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فیروز میرا دل بہت بے چین ہے ۔۔مجھے میرے ابراہیم کے پاس لے چلو ۔۔۔اُس کو میری بہت ضرورت ہے اِس وقت “
۔
انہوں نے فیروز کے کمرے میں آتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“اماں آپ کیوں آ گئیں میں آ ہی رہا تھا آپ کے پاس “
۔
فیروز صاحب اُن کا ہاتھ پکڑ کے اپنے پاس لائے بیڈ پہ بٹھایا ۔۔۔۔۔اور خود بھی اُنکے سامنے بیٹھ گئے ۔۔۔
۔
“فیروز میرا دل آج بہت اُداس ہے پتا نہیں بچی کیسی ہے ہماری ۔۔۔۔۔مجھے اُن کے پاس لے جاؤ “
۔
اماں نے روتے ہوئے انکو دیکھا ۔۔۔۔جیسے انہوں نے فیصلہ کر لیا ہو۔ جیسے انہوں نے آج ہی جانا ہو
۔
” اماں میں خود بھی کہے رہا تھا ۔۔۔بہت دن ہو گے ہیں اب تک نہیں آئے وہ ۔۔۔ہمیں اب جانا چاہیے خود بھی وہاں ۔۔۔ابراہیم کو بہت ضرورت ہو گی ہماری “
۔
“فیروز ایسا کرو تم گاڑی نکالو ہم ابھی ہی نکلیں گے “
انہوں نے بیڈ سے اترتے ہوئے کہا ۔۔۔جیسے وہ جانے کے لیے تیاری کر کے آئیں تھیں ۔۔۔
۔
“اماں میں رجب کو فون کرتا ہوں وہ گھر آئے ۔میں اور آپ ابھی ہی نکلتے ہیں”
انہوں نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا اور نمبر ملانے لگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یار کتنا سا وقت رہتا ہے اور CMH پہنچنے میں ۔۔کب سے ہم یونی سے نکلے ہوئے ہیں “
ہانیہ نے گاڑی میں کھڑے ہوتے ہوئے اپنی گھڑی دیکھی ۔۔۔۔اُس کو ایک ایک منٹ صدیوں کے برابر لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اُس کو ہی نہیں وہاں موجود ہر سٹوڈنٹ بار بار اپنی گھڑی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔انکو وجدان کے ایکسڈنٹ کی خبر مل گئی تھی ۔۔۔۔وہ سب ان دونوں کو دیکھنے ہسپتال جا رہے تھے ۔۔۔۔زرمینہ سے زیادہ سب وجدان کے لیے دعا کر رہے تھے ۔۔۔۔آج آدھی سے زیادہ یونیورسٹی اپنے ٹیچر کی عیادت کے لیے نکلی تھی ۔۔۔۔۔وہاں ہر کلاس کے سٹوڈنٹ موجود تھے ۔کچھ اپنی گاڑی سے جا رہے تھے اور کچھ یونی کی ویں میں تھے ۔۔۔۔پرنسپل سمیت وہاں ہر ٹیچر موجود تھا ۔۔۔۔۔آج یونیورسٹی میں چھٹی کا اعلان کیا گیا تھا ۔۔۔۔یونی کی تین ویں سٹوڈنٹس سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔ہر ایک کی زبان پہ درود تھا ۔۔۔ہر کوئی وجدان کے لیے دعا کر رہا تھا ۔۔۔
۔
“ابھی آپ ایبٹ آباد میں ہیں ہانیہ صاحبہ “
مدثر نے اُس کو کھڑا دیکھتے ہوئے آرام سے کہا ۔۔۔
۔
“کیا ابھی تک ہم ایبٹ آباد میں ہی ہیں ؟ “
ہانیہ نے سیشے سے باہر دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا
۔
“جی ہم ایبٹ آباد ہی میں ہیں”
۔
“انکل پلیز جلدی کریں نا “
اب کی بار اُس نے گاڑی چلاتے ڈرائیور کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“بیٹا آپ ہر پانچ منٹ بعد پوچھتی ہیں ہم پنڈی پہنچ گے ؟….اب گاڑی ہے کوئی جہاز تو ہے نہیں ۔یوں نکلے اور یوں پہنچے “
۔
اب کی بار انہوں نے برا مناتے ہوئے کہا اور وہ آرام سے اپنی سیٹ پہ بیٹھ گئی ۔۔۔۔وہ سہی کہے رہے تھے وہ ہر پانچ منٹ بعد کھڑی ہوتی اور یہی پوچھتی تھی ۔اور انکو رفتار تیز کرنے کا کہتی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
. اے اللہ میں نے اپنی زرمینہ گُل کو کبھی اپنے دل سے نہیں لگایا ۔۔۔۔کبھی اسکو پیار نہیں کیا ۔۔۔۔کبھی اسکو جی بھر کے نہیں دیکھا ۔۔۔۔میں ہمیشہ ایک مرد بن کے سوچتا رہا ۔۔۔میں کبھی باپ تو بنا ہی نہیں تھا ۔۔۔اپنے بچوں کو ہمیشہ خود سے دور رکھا ۔۔۔انہوں نے مجھے سے کبھی کچھ مانگا ہی نہیں ۔۔۔۔مجھے تو یاد بھی نہیں زرمینہ گُل کی بیماری سے پہلے میری اولاد کب میرے پاس بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔مجھے تو یاد ہی نہیں کب میں نے اُن سے مسکرا کے باپ کی ۔۔۔۔کب اپنے بیٹوں کو سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔کب انہوں نے مجھ سے کبھی کوئی فرمائش کی ۔۔۔۔مجھے تو کچھ نہیں یاد۔۔۔۔۔کیسا باپ ہوں میں خدایا ۔۔۔۔اب باپ بنا ہوں جب میری بیٹی زندگی اور موت کے درمیان کھڑی ہے ۔۔۔۔۔اگر آج زرمینہ گُل مر گئی تو میں کب اُس کو بتاؤں گا ۔۔میں اُس سے بے پناہ محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔اتنی محبت کرتا ہوں جتنی کسی باپ نے اپنی بیٹی سے نہ کی ہو ۔۔۔۔اے اللہ اگر آج زرمینہ گُل مر جاتی ہے تو میں کب اُسکا ماتھا چوموں گا ۔۔۔کب اُس کو اپنے دل سے لگاؤں گا ۔۔۔
یا اللہ میری زرمینہ گُل کو کچھ نہ کرنا ۔۔۔۔۔اُس کو اتنا جینے کی مہلت دینا کہ وہ ایک باپ کا پیار بھی دیکھ سکے ۔۔۔۔۔وہ دیکھ سکے ایک باپ بھی اپنی بیٹی سے محبت کرتا ہے ۔۔۔۔وہ اپنے باپ کی محبت سے محروم نہ مرے میرے مالک ۔۔۔۔۔میری بیٹی کو اتنا زندہ رکھنا کہ میں اسکو سارے جہاں کی خوشیاں دوں ۔۔۔۔اسکو وہ پیار بھی دوں جو اسکو کبھی نصیب ہی نہیں ہوا ۔۔۔۔۔میری بیٹی کو میرے لیے زندہ رکھ میرے اللّٰہ۔۔۔۔۔
۔
وہ آپریشن تھیٹر کے باہر پڑی کُرسی پہ آنکھیں بند کئے اللہ سے اسکی زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے ۔۔۔۔اُن کے ہونٹ مسلسل حرکت میں تھے ۔۔۔جیسے کوئی بچہ رو رہا ہو ۔اُسکے ہونٹ کانپ رہے ہوں ۔۔۔۔۔
۔
“بابا جان “
وہ دونوں زمین پہ اپنے باپ کے قدموں میں بیٹھے ۔۔۔۔شہاب نے اُن کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔بہن سے زیادہ انکو باپ کا دُکھ تھا ۔۔۔۔۔اُنکا باپ رو رہا تھا وہ باپ جو کبھی مسکرایا نہیں تھا
وہ باپ جو بات کر دے تو لوگ اُس کو حکم سمجھتے تھے ۔۔۔۔۔وہ باپ جس سے بات کرنے کی ان میں کبھی ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔۔آج وہ باپ کہیں مر گیا تھا ۔۔۔۔۔یہ تو کوئی اور تھا ۔۔۔۔جو اپنی اولاد کو دل سے لگا لیتا تھا ۔۔۔۔۔جِس کے سامنے اُسکی اولاد بیٹھ سکتی تھی۔۔۔
۔
“بابا جان آپ بلکل بھی پریشان نہیں ہوں زرمینہ گُل بلکل ٹھیک ہو جائے گی “
۔
بیٹوں کو سامنے بیٹھا دیکھ کے انکی خاموشی ٹوٹی ۔۔۔۔وہ آگے ہوئے ۔۔ انکی آنکھوں سے اشک کسی پانی کی طرح گرنے لگے ۔۔۔۔دونوں بیٹوں نے باری باری اُن کے ہاتھ چومے ۔۔۔۔۔جیسے اپنے باپ کو تسلی دے رہے ہوں ۔۔۔۔اُن کا ٹوٹا ہوا حوصلا بن رہے ہوں ۔۔۔۔۔
“مبارک ہو آپکو ابراہیم صاحب آپکی بیٹی کا آپریشن کامیاب ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔اُس کا ایک گردہ تو نہیں رہا اب ۔۔۔۔مگر وہ اپنے ایک گردے پہ بھی زندگی جی سکتی ہے ۔۔۔۔۔
۔
ڈاکٹر نیلا دروازہ کھولتے ہی باہر آیا جو اتنے گھنٹوں سے بند تھا۔ ۔۔۔مسکراتے چہرے کے ساتھ انکو خوشخبری سنائی اور وہیں کھڑا ہو گیا ۔۔۔
۔
“میری بیٹی ٹھیک ہو گئی ہے ؟”
رقیہ بیگم خوشی سے اونچا اونچا رونے لگیں ۔۔۔۔۔جیسے انکو بہت عرصے بعد کوئی خوشی ملی ہو ۔اتنی خوشی جس کو وہ سنبھال ہی نہ سکتی ہوں ۔۔۔۔۔
۔
“بابا جان دیکھیں نا زرمینہ گُل ٹھیک ہو گئی ہے آپکی دعا قبول ہو گئی ہے ۔زرمینہ گُل ہمارے لیے ٹھیک ہو گئی ہے بابا جان”
۔
سلطان نے باپ کی طرف دیکھا ۔۔۔انکو خوشی خوشی بتانے لگا جیسے انہوں نے کچھ نہیں سنا ۔۔۔۔وہ انکو اپنی زبانی بتا رہا ہو ۔۔۔۔۔۔
۔
“یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے تو نے مجھ گناہگار کی جھولی خالی نہیں لوٹائی ۔۔۔تو نے مجھ جیسے باپ کو بھی مایوس نہیں کیا۔ تو بہت رحیم ہے بہت کریم ہے میرے مالک “
۔
وہ کرسی سے اٹھے ۔۔زمین پہ بیٹھے ۔۔نیچے جھکے ۔۔ماتھا زمین کے ساتھ لگایا ۔۔۔اور سجده تشکر کیا ۔۔۔۔
۔
“اماں ہماری زرمینہ ٹھیک ہو گئی ہے “
شہاب ماں کے پاس آیا ۔۔۔جھلکتی آنکھوں سے ماں کو اپنے دل سے لگایا ۔۔۔
۔
“ڈاکٹر صاحب ہم زرمینہ گُل سے مل سکتے ہیں “
سلطان نے اپنا رخ ڈاکٹر کی طرف کیا ۔اُسکی نظریں مُسلسل اُس دروازے پہ تھیں ۔۔۔جس کے زرمینہ گلُ تھی ۔۔۔
۔
“نہیں فلحال نہیں ابھی وہ بےہوش ہیں ۔۔۔۔اُنکا ایک گردہ نکلا ہے ۔۔یہ کوئی معمولی آپریشن نہیں تھا ۔۔۔۔بس آپ کو میں اتنا بتانے آیا ہوں کہ وہ اب خطرے سے باہر ہیں ۔۔۔۔۔جیسے ہی انکو ہوش آتا ہے ۔ہم انکو روم میں شفٹ کر لیں گے “
۔
“جی ڈاکٹر صاحب اپکا بہت بہت شکریہ “
۔
“کوئی بات نہیں “
ڈاکٹر نے اُس کے کندھے پے ہاتھ رکھا ۔۔۔اور مسکراتا ہوا وہاں سے جانے لگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ سب ایسا کریں یہاں باہر ہی رکیں ۔۔اتنے لوگوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ملے گی “
پرنسپل صاحب نے سب کو گیٹ سے باہر روکنے کا کہا ۔۔۔۔اور خود دو تین ٹیچرز کے ساتھ اندر جانے لگے۔
۔
“سر ہم کیسے دیکھیں گے وجدان سر کو ؟”
اُن کے جاتے ہی ایک لڑکے نے آواز لگائی ۔۔۔۔اُن کو لگا جیسے اُن کا یہاں آنا بلکل فضول جانے والا ہے ۔۔۔اگر انکو اجازت نہیں ملنی تھی تو پہلے بتا دیتے ۔۔۔۔وہ یوں سب کے ساتھ آتے ہی نہ
۔
“بیٹا میں آپ لوگوں کے لیے ہی جا رہا ہوں ۔۔۔۔یہاں میرے ایک دوست ہیں جو میجر ہیں ۔۔۔۔اُن کی پرمیشن سے آپ لوگ کچھ وقت اندر جا کے وجدان کو دیکھ سکتے ہیں “
پرنسپل صاحب نے پیچھے مڑتے ہی سب کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور نرمی سے کہا جیسے وہ وہاں موجود ایک ایک بندے کے جذبات کو سمجھ رہے ہوں ۔۔۔جیسے انکو اندازہ ہو اِس وقت اُن سب کے دل پہ کیا گزر رہی ہے ۔۔۔۔
۔
“۔آسمان کا رنگ دیکھو یار کیسی کالی گھٹا چھاہ رہی ہے “
وہاں کھڑے ہجوم میں سے ایک لڑکی نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
سب نے ایک ساتھ گردنیں اُٹھائیں ۔۔۔ایک ساتھ سب نے آسمان کو دیکھا ۔۔۔جو دن کی روشنی میں بھی بلکل کالی رات کا عکس بنا ہوا تھا ۔۔۔۔
۔
“یار دن میں آسمان کا ایسے ہونا کوئی اچھی علامت نہیں ہوتی ۔۔۔۔اِس کا تو یہی مطلب ہوا جیسے کہیں کچھ بہت برا ہونے والا ہے “
۔
ماہ نور نے ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
۔
“یار اب ہمیں ڈراؤ تو نہیں ۔۔۔پلیز سب ہاتھ اٹھا کے دعا کرو زرمینہ اور سر بلکل ٹھیک ہوں “
۔
“ہاں یار دعا کرو وہ دونوں بلکل خیر خریت سے ہوں ۔۔۔اُن دونوں کو کچھ نہ ہو “
۔
“ہائے کتنا اچھا ہو زرمینہ اور سر وجی کا نکاح یہیں ہو پھر ہم سب یہاں بھنگڑے ڈالیں “
وہاں مجود ایک لڑکے نے خوشی سے کہا ۔۔۔۔کاش یہاں ایسا ہی ہو ۔۔۔۔۔
۔۔
” یہ کوئی فلم نہیں چل رہی ہم سر کو دیکھنے آئیں ہیں ۔۔۔۔اُن کے نکاح میں شریک ہونے نہیں آئے “
ہانیہ نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔جیسے وجدان کا نام وہ اب بھی زرمینہ کے ساتھ برداشت نہ کر سکتی ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ لوگ پریشان نہیں ہوں وجی بلکل ٹھیک ہو جائے گا “
فاطمہ نے وہاں موجود بہنوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جو ضد کر کے ساری ساتھ آ گئیں تھی ۔۔۔ویسے بھی اپنے بھائی کی ایسی خبر سنتے ہی کون سی بہن گھر میں سکون سے بیٹھ سکتی تھی ۔۔۔۔اُن سب کے سفید ہوتے ہونٹ مُسلسل حل رہے تھے ۔۔جیسے وہ ایک سیکنڈ کے بھی چپ نہ ہوئی ہوں ۔۔۔۔جیسے انہوں نے ایک ایک لمحہ درود پڑھا ہو اپنے بھائی کی زندگی کی دعا مانگی ہو ۔۔۔۔اُن میں سے کسی کے ہاتھ میں تسبی نہیں تھی ۔۔۔۔۔وہ لوگ ہمیشہ دل میں ورد کرتیں تھی۔۔۔۔۔۔انہوں نے کبھی گن کے کچھ نہیں پڑھا تھا۔۔۔جو لوگ گن کے پڑھتے ہیں اُن کو ہمیشہ حساب رکھنے کے لئے کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔اللہ کے لیے پڑھنے میں حساب کیسا؟ جب بھی منہ ہلے تو درود پڑھو ۔۔۔۔اتنا پڑھو کہ دل میں نور ہی نور آ جائے ۔۔۔۔۔
۔
“وہ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔میرا وجی بلکل ٹھیک ہو جائے گا”
بہنوں کو حوصلا دینے والی خود حوصلا ہار گئی تھی ۔۔۔۔اُس کی خشک ہوتی آنکھیں ایک بار پھر چھلکنے لگی ۔۔۔۔۔وہ جو کھڑی ہوئی تھی ۔۔پھر سے وہیں بیٹھ گئی ۔۔۔۔
۔
“آپی اتنا وقت ہو گیا ہے ابھی تک باہر کوئی نہیں آیا ۔۔۔۔۔اتنا لمبا آپریشن ؟ “
زینب نے بہن کے پاس آتے ہوئے سرگوشی سے کہا ۔۔۔جیسے وہ یہ بات اور کسی کو نہ بتانا چاہتی ہو ۔۔۔۔کسی کے حوصلے نہ توڑنا چاہتی ہو۔ ۔۔
۔
“ڈاکٹر صاحب “
دروازے سے باہر آتے ہوئے اماں نے ڈاکٹر کو دیکھا ۔۔۔۔۔جو چہرے پہ افسردگی لیے کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔۔
۔
ڈاکٹر کو دیکھتے ہی سب کھڑے ہوئے اُنکے پاس گے ۔۔جیسے وہ اُسکے اُن تک پہنچنے سے پہلے اُس کے پاس خود پہنچ جائیں ۔۔۔۔وہ جو اتنے وقتوں سے کسی خبر کا انتظار کر رہی تھیں۔ سفید ہوتے رنگ لیے آگے ہوئیں۔ ۔۔۔۔۔۔سامنے کھڑا ڈاکٹر وہاں موجود ہر بندے کے احساسات سمجھ رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس کو پتا تھا یہ خبر اُن پہ کسی دھماکے سے کم نہیں ہو گی۔ وہ دھماکہ جو سارے شہر کو سنسان کر دیتا ہے۔ جو گھروں کے گھر تباہ کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔
۔
“میرا بیٹا زندہ ………”
ایک باپ نے ڈاکٹر کے چہرے کے تاثرات پڑھ لیے تھے ۔۔۔۔۔اُن کو لگا اب جیسے وہ بیٹے کی موت کی خبر سنیں گے تو دوسرا سانس نہیں لے سکیں گے ۔۔۔۔انہوں نے ایک نظر اپنی بیٹیوں پہ ڈالی ۔۔۔۔جن کی نظریں ڈاکٹر کے لبوں تک اٹکی تھیں۔ جیسے وہ بےتاب ہوں اُن کے منہ سے نکلے الفاظ سننے کے لیے ۔۔۔۔
۔
ہم معذرت چاہتے ہیں آپ سب سے ۔۔۔۔۔اللہ نے آپ کے بیٹے کو ایک نئی زندگی تو دی ہے ۔۔۔مگر اُس نئی زندگی میں وہ اب کبھی چل نہیں سکے گا ۔۔۔وہ زندہ تو ہیں مگر وہ کبھی اپنے پیروں پے کھڑے نہیں ہو سکے گا ۔
۔
ڈاکٹر نے یہ خبر سناتے ہوئے ایک نظر پھر سب پہ ڈالی ۔۔جو اپنی جگہ سے ایک ایک قدم پیچھے ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔وہ بغیر چیخے چلائے ایک مجسمے کی طرح پھر وہیں بیٹھ گئیں جہاں سے اٹھی تھیں ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: