Hijab Novel By Amina Khan – Episode 43

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 43

–**–**–

“بولا تھا نا میں نے آپکو جلدی نکلیں مگر آپ لوگ میری نہیں سنتے ۔۔۔یہاں سب مجھ سے پہلے پہنچ گے ہیں اور میں ابھی آئی ہوں”
فضہ نے گاڑی سے اُترتے ہوئے وہاں موجود سب کو باہر کھڑا دیکھا ۔۔۔۔۔وہاں اُس کی کلاس سمیت کئی سٹوڈنٹس اور بھی تھے ۔۔۔۔وہ غصہ ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ کی طرف مڑی ۔۔۔۔جو کسی کام کے تحت گھر سے تھوڑا لیٹ نکلے تھے ۔۔۔
۔
“فضہ آپ ابھی آئی ہیں ؟ ہمیں تو لگا تھا آپ اندر ہوں گی زرمینہ کے پاس “
وہ گاڑی سے اُترتے ہی سب کے پاس گئی ۔۔سب وہاں مین گیٹ کے باہر ہی کھڑے تھے جیسے کوئی دھرنا دے رہے ہوں ۔۔اُس کو آتا دیکھتے ہی سب حیران ہوئے ۔۔۔۔اُس کی دوست اور اُن کے بعد آئی ہے ۔۔۔
۔
“جی بس راستے میں گاڑی خراب ہو گئی تھی “
اُس نے سر کو جھکائے ہوئے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔۔ویسے بھی وہ جلد از جلد زرمینہ کے پاس پہنچنا چاہتی تھی ۔۔۔وہ وہاں کھڑے ہونے پہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
۔
“آپ لوگ یہاں باہر کیوں کھڑے ہیں ؟”
اُس نے سب پہ سرسری سی نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا ۔۔
“یار وہ پرنسپل صاحب گے ہیں پرمیشن لینے ..جیسے ہی اجازت ملتی ہے ہم اُن دونوں کو دیکھنے چلے جائیں گے “
۔
“دونوں کو ؟ مطلب کن دونوں کو ؟ “
اُس کی بات پہ فضہ نے چونکتے ہوئے اسکو دیکھا ۔۔جیسے وہ اُس کی بات کا مطلب نہ سمجھ پائی ہو
“تمہیں نہیں پتا سر وجی کا ایکسڈنٹ ہوا ہے ۔وہ اِس ہوسپشل میں ایڈمٹ ہیں ۔۔۔اور بہت کریٹیکل کنڈیشن میں ہیں”
ماہ نور نے ایک بار پھر اسکو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
۔
“نہیں مجھے تو نہیں پتا کہ سر کا ایکسڈنٹ ہوا ہے ۔۔میں یونی نہیں گئی تھی “
اُس نے ایک بار پھر اُس کو دیکھتے ہوئے شرمندگی سے کہا ۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے زرمینہ کی زندگی کا سب کو پتا ہو سوائے اُس کے ۔۔۔سب اُس کو دیکھنے پہلے پہنچ گے ہوں اور وہی لیٹ ہو …
۔
“چلو میں اندر جاتی ہوں انکو دیکھنے “
“فضہ ملاقات کا ٹائم ختم ہو گیا ہے اب اندر نہیں چھوڑ رہے کسی کو آپ بھی پرنسپل صاحب کا ویٹ کریں ۔۔وہ آتے ہیں تو ہم سب ساتھ چلے جائیں گے “
۔
“کیا مطلب ؟ اندر نہیں چھوڑ رہے اب؟”
اُس نے چونک کے اُس کی طرف دیکھا ۔۔۔ایسے کیسے ہو سکتا ہے وہ زرمینہ کے اتنے پاس ہو اور وہ اسکو دیکھ نہ سکے ۔۔”ایسا کیوں ہو رہا ہے میرے ساتھ اللہ جی “
اُس نے ایک نظر آسمان پے ڈالی اور دوسری اپنے ماں باپ پہ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زرمینہ گُل میری بچی کیسی ہو تم اب “
دادی اماں نے اُس کے زرد رنگ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
۔
“ٹھیک ۔۔۔ٹھیک ۔۔۔ہوں اماں جی “
ہلکی سی آنکھیں کھولے اُس نے ایک جملے کو ٹکڑوں میں بانٹ کے بیان کیا ۔۔۔جیسے وہ ابھی بلکل ہوش میں نہ ہو درد کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ وہ بول نہ سکتی ہو .
۔
“رقیہ میری بچی کا بہت خیال رکھنا “
اب کی بار دادی اماں نے پاس بیٹھی بہو کی طرف دیکھا ۔۔۔جو اپنی بیٹی کو ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے پہلے انہوں نے کبھی اسے نہ دیکھا ہو ۔
۔
“جی اماں میں بہت خیال رکھوں گی ۔۔۔۔اللہ نے میری بچی کو ایک نئی زندگی دی ہے”
انہوں نے آنکھوں کی نمی کو دوپٹے کے ساتھ صاف کرتے ہوئے کہا اور پھر اسکی طرف متوجہ ہو گئیں ۔
۔
“یہ لڑکے کدھر ہیں ؟”
انہوں نے اردگرد دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔
“اماں وہ ڈاکٹر صاحب نے انکو بلایا تھا تو سب ہی ساتھ چلے گئے ہیں “
“دیکھو ذرا ان کی لاپروائیاں کیسے جوان جہاں بیٹی اور بیوی کو اکیلے کمرے میں چھوڑ کے خود کب سے غائب ہیں “
اماں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا جیسے وہ انکو دیکھنے باہر جا رہی ہوں۔
۔
“اماں نہ پریشان ہوں آپ وہ آ جائیں گے ابھی “
انکے اٹھتے ہی رقیہ بیگم ایک دم اٹھیں ۔۔اُنکا ہاتھ پکڑا ۔۔۔اور پھر سے انکو زرمینہ کے پاس بیٹھا دیا ۔۔۔
۔
“اماں”
“جی میرا بچہ کیا ہوا ہے زرمینہ گل؟”
اُس نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔ہاتھ سے اشارہ کیا ۔۔ماں کو اپنے پاس بلایا ۔۔۔اُس کی آواز اتنی تھی کہ بس کان پاس لے کے جانے پہ سمجھ آتی ۔۔۔۔۔اُس کے پاس بھی کوئی بیٹھا ہو اُس تک بھی آواز نہ جاتی کوئی کیا کہے رہا ہے ۔۔۔
۔
“زرمینہ بولو بچے کیا ہوا ہے ؟”
اب کی بار دادی اماں نے اُس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بہت پیار سے پوچھا۔ ۔۔
۔
“اماں وجدان “
وجدان کا نام لیتے ہی درد کے کئی رنگ اُسکے چہرے سے گزرے ۔۔۔جیسے اُس کے اندر بہت تکلیف ہوئی ہو ۔۔۔۔اُس کو بہت درد ہو رہا ہو ۔۔۔۔لیٹے لیٹے آنکھیں بند کئے اُس نے ایک بار پھر وجدان کا نام لیا ۔۔۔۔جیسے وہ پوچھنا چاہتی ہو ۔۔۔اُس کو دیکھنا چاہتی ہو ۔۔
۔
“وہ ٹھیک ہے زرمینہ گُل وہ بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔اُس کا آپریشن ہو گیا ہے تمہارے ساتھ ہی ہوا ہے ۔اب ٹھیک ہے وہ “
انہوں نے بیٹی کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اُس کو جھوٹی تسلی دی۔ اندر سے خود کو ملامت کرنے لگیں ۔۔۔وہ ایک بار تو جا کے اُس لڑکے کا حال پوچھ آتیں۔ ۔۔نہ جانے کیسا ہو گا وہ ۔۔۔۔پتا نہیں اُس کے ماں باپ آئے بھی ہوں گے يا نہیں۔ نہ جانے وہ زندہ ہو گا بھی یا نہیں ۔۔۔۔انہوں نے بیٹی کو تو جھوٹ کہے دیا مگر اُنکا ضمیر انکو ملامت کرنے لگا ۔۔۔
۔
“اماں مجھے ۔۔۔۔۔وجدان “
اُس نے آدھی آنکھیں کھولے اُٹھنے والے انداز میں ماں کو بولا ۔۔۔۔درد کی ایک لہر اُسکے وجود میں دوڑی ۔۔۔اُس نے درد کی شدت سے ایک آہ بھری ۔۔۔۔اور ایک بار پھر وہیں نیچے ہو گئی ۔۔۔
۔
“زرمینہ گُل تم کیوں آٹھ رہی ہو ۔۔۔مت اٹھو ۔۔وہ ٹھیک ہے بلکل ٹھیک ہے۔ ۔۔تم تھوڑا سا ٹھیک ہو جاؤ نا میں خود تمہیں اس کے پاس لے جاؤں گی۔ ابھی تو تمہارا آپریشن ہوا ہے ابھی کیسے جا سکتی ہو تم “
رقیہ بیگم نے اُس کو آرام سے نیچے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔جو اُس کو دیکھنے کے لیے اُس مچھلی کی طرح ٹرپ رہی تھی جو پانی سے باہر نکالنے پہ بے چین ہوتی ہے تڑپتی رہی ہے۔۔۔
۔
………………………………….
“میجر آپکا بڑا احسان ہو گا اگر آپ میرے سٹوڈنٹس کو اُنکے ٹیچر کو دیکھنے کی اجازت دے دیں تو “
پرنسپل صاحب نے مسکراتے ہوئے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
“جنید اب تم بھی احسان والی بات کرو گے؟ “
میجر نے مصنوئی سا ناراض ہوتے ہوئے اُس کو کہا جو اُسکے بچپن کا دوست تھا ۔۔۔جہنوں نے اسکول کالج ساتھ پڑھا تھا ۔ایک فوج کا میجر بن گیا تھا اور دوسرا یونیورسٹی کا پرنسپل۔
۔
“آپ نے ابھی میری پلٹون دیکھی نہیں ہے تب ہی میں نے ایسا کہا “
پرنسپل صاحب نے شرارتی سے انداز میں ساتھ بیٹھے ٹیچر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔جو انکو دیکھتے ہی مسکرانے لگے
۔
“کیوں بھئی اتنے عرصے بعد دیدار کروایا ہے اور ساتھ فوج لے کے آ گے ہو “
“بھئی میجر میں تم سے اب ایسے تو مل نہیں سکتا تھا ۔۔۔پورے پروٹوکول کے ساتھ ہی آنا تھا مجھے “
۔
“ایسا ہے جنید جس بندے سے ملنے کی اجازت تم مانگ رہے ہو میں نے اُس کی فائل منگوا لی ہے ۔۔۔۔۔وہ ابھی ابھی آپریشن تھیٹر سے باہر آیا ہے ۔۔۔ہوش میں نہیں ہے وہ ۔۔۔۔اُس کے ہوش تک آنے کا انتظار کرنا پڑے گا تم لوگوں کو ۔ہے بھی وہ انتہائی سیریز کنڈیشن میں ۔۔۔icu میں ہے وہ اِس وقت “
سامنے بیٹھے میجر نے اُس کی فائل پہ دیکھتے ہوئے انکو تفصیل سے بتایا ۔۔
۔
“وہ بچ تو جائے گا نا”
کچھ وقت پہلے کا خوشگوار ماحول ایک دم افسردگی میں بدلا ۔۔۔۔پرنسپل نے ساتھ بیٹھے دونوں ٹیچر کو دیکھا ۔۔۔۔جہنوں نے ایک دوسرے سے پہلے ہی نظروں کا تبادلہ کر لیا تھا ۔۔۔۔جیسے انکو شک گزرا ہو کہ وہ کوئی بری خبر سننے والے ہیں ۔۔۔
۔
“بچنے کے چانسز بھی بہت کم ہیں ۔۔۔لیکن اگر بچ بھی گیا تو ساری زندگی اپنے پیروں پے کھڑا نہیں ہو سکے گا ۔۔۔وہ کبھی چل نہیں سکے گا “
۔
اِس خبر سے سامنے بیٹھے تینوں شخص ایک سکتے کی حالت میں آ گے ۔۔۔جیسے انہوں نے کچھ ایسا سنا ہو جس کے بعد مزید بولنے کی ہمت نہ رہی ہو ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ابو آپ نہیں روئیں ۔۔۔ہمیں تو اللہ پاک کا بہت شکر گزار ہونا چائیے ۔۔۔انہوں نے ہمیں پھر سے وجدان کو دیا ہے ۔۔۔کوئی بات نہیں ابو جو وہ ساری زندگی چل نہیں سکے گا ۔۔۔۔ہم ہیں نا اپنے وجی کا سہارا ۔۔۔آپ ہیں امی ہیں ہم بہنیں ہیں۔ ہم بنیں گے اُس کا سہارا ۔۔۔۔اگر اللہ پاک ہم سے وجی کو لے لیتے ہمیں دوبارہ دیتے ہی نہ تو کیا کرتے ہم ؟ ہمیں تو شکر ادا کرنا چاہیے ۔۔۔وہ ہمارے ساتھ ہو گا ہمارے پاس ہو گا “
فاطمہ زمین پہ باپ کے قدموں میں بیٹھے انکو تسلی دے رہی تھی ۔۔۔۔وہ جو خود اپنی ہمت ہار گئی تھی ۔۔۔اپنے ٹوٹے ماں باپ کی ہمت بن رہی تھی ۔۔۔۔وہ جانتی تھی اِس وقت اُس کے ماں باپ اُسکی بہنوں پہ کیا گزر رہی ہے ۔شايد اُس کا دُکھ اُس کی تکلیف وہاں بیٹھے ماں باپ سے بھی زیادہ ہو جو اپنے دل میں چھپاۓ سب کو حوصلا دے رہی تھی انکی ہمت بن رہی تھی ۔۔
۔
“آپی کیا بھائی کبھی نہیں چل سکیں گے ؟ وہ ہمارے ساتھ کبھی نہیں کھلیں گے اب ؟”
پندرہ سالہ خدیجہ نے روتے ہوئے بہن کی طرف آتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے وہ اب بھی نہ سمجھیں ہو ۔۔۔ڈاکٹر نے کیا کہا ہے ۔۔۔سب گھر والے ایسے کیوں رو رہے ہیں ۔۔۔
۔
“نہیں گڑیا بھائی بلکل ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔وہ چلے گا بھی ۔۔۔ہمارے ساتھ کھیلے گا بھی ۔۔۔وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گا بلکل پہلے جیسا ہو جائے گا “
بہن کی آنکھوں سے انسوں صاف کرتے ہوئے اُس نے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔وہ جو اپنے بھائی کے معاملے میں سب سے کمزور تھی ۔۔۔۔آج سب کی خاطر خود کو مضبوط رکھے ہوئے تھی۔ جیسے اگر وہ ہمت ہار گئی تو یہاں موجود ہر شخص مر جائے گا ۔۔۔۔وجدان سے پہلے مر جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“پلیز سر مجھے اندر جانے دے دیں ۔۔۔میں اسکو دور سے ہی دیکھ کے آ جاؤں گی واپس “
فضہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے اُس آدمی کو کہا جو اُنکا راستہ روکے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔جیسے اُس کی ذمےداری ہو باہر سے کسی کو اندر نہ چھوڑنے کی ۔۔
۔
“دیکھیں میں آپ کو کوئی پچاس دفعہ کہے چکا ہوں ۔ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے ۔آپ اب اِس وقت نہیں مل سکتیں انکو ۔۔۔آپ چار بجے کا انتظار کر لیں ۔۔۔۔ابھی کچھ وقت میں ایسے بھی آپ مل سکیں گی انکو۔۔۔۔۔مگر تب بھی آپ اتنے لوگوں کو ایسے جانے کی اجازت نہیں ملے گی “
۔
فضہ کے بار بار پوچھنے پہ وہ ہر بار اُس کو ایک ہی جواب دیتا ۔۔۔۔اُس جواب کو سنتے ہی وہ پھر اپنے ہاتھ پہ بندھی گھڑی کو دیکھتی۔ ۔۔۔اور پھر وقت کو گننا شروع کر دیتی ۔۔۔۔جو آج کہیں سے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔۔
۔
“یار ان لوگوں نے ہمیں جانے نہ دیا تو ؟”
مدثر نے مین گیٹ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“میں بھی تو وہی سوچ رہا ہوں اگر ہمیں سر وجی کو ملنے ہی نہ دیا گیا تو ؟”.
“ایسا نہیں بولو آپ لوگ ۔۔ان شاء اللہ ہم ضرور سر کو مل کے جائیں گے “
“یار وہ دیکھو پرنسپل صاحب آ رہے ہیں”
اُن میں سے ایک لڑکے نے پرنسپل کو آتا دیکھتے ہی زور سے بولا ۔۔سب اُس کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔اور سامنے سے آتے ہوئے پرنسپل کو دیکھنے لگے ۔جاتے ہوئے وہ صرف تین گے تھے ۔۔مگر آتے ہوئے اُنکے ساتھ ایک اور بندے کا بھی اضافہ ہوا تھا جو یونیفارم پہنے اُن کے ساتھ ساتھ آ رہا تھا ۔۔۔۔جس کے پیچھے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔۔۔ انکو لگا اب اُن کو اندر جانے کی اجازت مل جائے گی ۔اب وہ اندر جا سکیں گے۔
۔
“اب ہم بھی دیکھتے ہیں آپ ہمیں کیسے روکتے ہیں “
پرنسپل کو آتا ہوا دیکھتے ہی وہاں کھڑے ایک لڑکے نے گارڈ کو ایسے کہا جیسے اب اُن کو اندر جانے سے کوئی روک ہی نہیں سکے گا ۔۔۔
۔
“سر ہم اندر جا سکتے ہیں ؟ وجدان سر کیسے ہیں؟ آپ نے انکو دیکھا ہے ؟”.
پرنسپل کے گیٹ سے باہر آتے ہی سب اُنکے ارد گرد ہو گے۔ جیسے انکو کب سے اُنکے آنے کا انتظار تھا۔ وجدان کی خریت کی خبر سننے کا انتظار تھا ۔۔
۔
“بچو آپ سب کو تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا ۔۔۔۔وجدان ہوش میں نہیں آیا ۔۔۔وہ اِس وقت icu میں ہے ۔۔۔۔۔جیسے ہی اُس کو ہوش آتا ہے آپ لوگوں میں سے تھوڑے تھوڑے سٹوڈنٹس کو ہم اندر بھجیں گے “
۔
پرنسپل نے سامنے کھڑے سٹوڈنٹس کے ہجوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
۔
وہاں پہ کھڑا ہر شخص اندر جانا بھول گیا تھا ۔۔۔۔اُن کو یاد تھا تو بس اتنا اُن کا ہیرو بے ہوش ہے۔ ۔۔icu میں ہے ۔ابھی بھی زندگی اور موت کے درمیان کھڑا ہے ۔اپنی موت سے لڑ رہا ہے ۔۔۔۔
۔
“سر پلیز ہمیں بتائیں وجدان سر ۔۔۔۔۔۔”
وہاں موجود ایک لڑکی اُس ہجوم میں سے گزر کے آگے ہوئی ۔۔۔۔عموماً یونیورسٹی کالج کی لڑکیوں کو فوجی بہت متاثر کرتے ہیں ۔۔۔۔مگر آج کسی نے فوجیوں پے دھیان نہیں دیا تھا ۔۔۔۔۔کسی نے چھپ چھپ کے اُن کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔کسی نے اپنی سہیلی کے کان میں فوجی کو دیکھتے ہوئے کچھ نہیں کہا تھا۔ ۔۔اِس وقت اُن کو ایک ہی شخص یاد تھا ۔۔وہ ایک ہی شخص کے منتظر تھے ۔۔۔جس کے لیے وہ اتنے دور سے آئے تھے ۔۔۔۔۔اُس لڑکی نے بس اتنا ہی کہا اور چہرے پہ ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔۔۔۔اُس لڑکی کو روتا دیکھ کے سب کی آنکھوں میں نمی آئی۔ وہاں موجود ہر سٹوڈنٹ اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کرنے لگا ۔۔۔۔اپنا ضبط برقرار رکھنے لگا ۔۔۔
۔
“بیٹا آپ سب دعا کریں ۔اپنے سر کے لیے دعا کریں ۔۔۔وہ ٹھیک ہو جائے۔ ۔۔چل کے آپ لوگوں کے درمیان آئے “
پرنسپل صاحب نے اُن کو دیکھتے ہوئے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔وہ جانتے تھے اگر وہ اپنے ہیرو کے اپاہج ہونے کی خبر سنے گے تو انکو سنبھالنا کتنا مشکل ہو جائے گا ۔۔۔۔آج اُن کا ساتھ دینے کے لیے وجدان جیسا ہیرو موجود نہیں ہے ۔۔۔۔۔یہ کہتے ہی اُن کی نظریں نیچے جھکیں ۔۔۔جیسے اب اگر وہ کچھ بولیں گے تو اونچا اونچا رونے لگ پڑیں گے ۔۔۔انہوں نے وجدان کو کب اپنی فیکلٹی کا ممبر سمجھا تھا ۔انہوں نے تو ہمیشہ اُس کو اپنا بیٹا کہا تھا ۔۔۔۔
۔
پرنسپل کی بات ختم ہوتے ہی سب نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے ۔۔۔۔وہاں موجود ہر سٹوڈنٹ کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے تھے ۔۔۔ہر ایک کی آنکھیں بند ہوئیں تھیں جیسے وہ بند آنکھوں سے اپنے ہیرو کی نئی زندگی مانگ رہے ہوں ۔۔۔اُن کو دیکھتے ہی وہاں کھڑے میجر اور اُس کے فوجیوں نے بھی اپنے ہاتھ اٹھائے ۔۔جیسے اُن سٹوڈنٹس کے دعا کے قبولیت کی سفارش کر رہے ہوں ۔۔۔اللہ کو کہے رہے ہوں ۔۔ان کو مایوس نہ لوٹانا ۔۔۔ان کی دعا کو قبول کرنا ۔۔۔۔
۔
اُن کے ہاتھ نیچے نہیں ہوئے تھے کہ آسمان سے اشکوں کا دریا نیچے گرنے لگا ۔۔۔۔۔جیسے اُن کو دیکھتے ہوئے آسمان آج زاروقطار رو رہا ہو ۔۔۔۔۔ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔جو ایسے لال ہوا تھا جیسے آسمان میں آگ لگ گئی ہو ۔۔۔۔۔اُس کے شعلے پانی کی صورت زمین تک آ رہے ہوں ۔۔۔
۔
“بچو آپ لوگ گاڑیوں میں بیٹھ جاؤ بہت تیز بارش ہو رہی ہے۔۔۔۔۔وجی جیسے ہی ہوش میں آتا ہے ۔۔میں آپ لوگوں کو باری باری بولا لوں گا “
۔
پرنسپل نے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اونچی آواز میں کہا ۔۔۔جیسے اُن کی آواز وہاں کھڑے ہر سٹوڈنٹ تک پہنچ پائے ۔۔۔
۔
“نہیں سر یہ بارش ہمیں کچھ نہیں کہتی ۔۔۔ہم سر سے ملنے تک یہیں کھڑے رہیں گے ۔۔۔۔۔ہم سر کو دیکھے بغیر گاڑیوں میں دوبارہ نہیں بیٹھیں گے “
۔
پیچھے کھڑے ایک سٹوڈنٹ نے اِس قدر بلند آواز میں کہا کہ سامنے کھڑے ہر شخص تک اُس کی آواز گئی ۔۔۔۔اُس کو سنتے ہی ۔۔۔سب نے ایک ساتھ “yes sir” کہا ۔۔۔ اور وہیں کھڑے رہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ جی میرے وجدان کو کچھ نہیں کرنا . میرا دوسرا گردہ بھی لے لیں آپ اللہ جی ۔آپ میری زندگی ہی لے لیں ۔۔میری زندگی کے بدلے میرے وجدان کو زندگی دے دیں۔ وہ ٹھیک ہو جائیں ۔۔۔۔وہ بلکل ٹھیک ہو جائیں ۔۔۔اللہ جی اپنی زرمینہ گُل کے لیے اُن کو ٹھیک کر دیں نا ۔۔آپ کی تو بہت لاڑلی ہوں نا میں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا جو میں نے آپ سے مانگا ہو آپ نے مجھے نہ دیا ہو ۔۔۔آپ نے ہر وہ چیز دی مجھے جو میں نے مانگی ہے ۔۔۔۔جِس کی میں نے خواہش بھی کی آپ نے مانگنے سے پہلے مجھے دے دی ۔۔۔۔میں جانتی ہوں میں بہت گناہگار ہوں ۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ کو خفا کیا ہے میں نے ۔ایک نامحرم سے بات کی ہے میں نے ۔آپکو نہیں پسند میں نے پھر بھی یہ غلطی کی ہے ۔اُس کو ملنے کی خواہش کی ہے ۔۔۔۔کچھ لمحے ہی سہی اُس کا ساتھ مانگا ہے ۔۔۔۔۔اُس کے ساتھ کچھ پل چلنا ہی سہی میں نے آپ سے وہ بھی مانگا ہے ۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں میں نے غلط کیا ہے بہت غلط۔ ۔۔۔اللہ جی مجھ گناہگار کی سزا مجھے ہی دینا ۔۔مجھے ہر سزا منظور ہے چاہے تو میری جان لے لیں ۔۔۔مجھے اگلا سانس نہ آئے ۔۔۔بس اللہ جی مجھے میرے وجدان کی جدائی کی سزا نہ دینا ۔۔۔مجھے سزا دینے کے لئے اُسکی سانسیں نہ چھین لینا ۔۔۔اللہ جی میرے وجدان کو زندہ رکھنا ۔۔۔وہ بیشک مجھے نہ ملے ۔۔بیشک اُس کو مجھے نہ دینا ۔۔بس اُس کو زندہ رکھنا ۔۔۔میں یہ سوچ کے ہی جی لوں گی ۔میرا وجدان زندہ ہے ۔۔۔اسی ہوا میں سانس لے رہا ہے جس میں زرمینہ سانس لیتی ہے ۔۔۔۔۔وجدان بھی یہی چاند دیکھتا ھے جس کو میں دیکھتی ہوں ۔۔۔میں بہت خوش رہوں گی۔ ہمیشہ خوش رہوں گی ۔۔۔لیکن وہ مر گیا تو میں مر جاؤں گی اللہ جی ۔۔۔میں مر جاؤں گی۔
۔
وہ ہسپتال کے ہیڈ پہ لیٹی ۔۔درد سے تڑپتے ہوئے آنکھیں بند کئے ۔۔۔اپنے درد سے نجات نہیں مانگ رہی تھی ۔۔۔۔وہ اپنے محبوب کی زندگی مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کا دل گواہی دے رہا تھا وہ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔اُس کے معاملے میں ہمیشہ اُس کا دل اُس کو بتا دیتا تھا ۔۔۔۔۔وجدان کی گواہی اسکو اُسکا دل دیتا تھا ۔۔۔
۔
آنکھیں بند کئے وہ مُسلسل آنسوؤں بہا رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کی سسکیاں وہاں مجور ہر شخص سن رہا تھا ۔۔۔۔ہر کوئی اُس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس کے آنسوؤں سے اُس کے سر کے نیچے رکھا تکیہ گیلا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔وہاں کھڑا ہر شخص یہ جانتا تھا ۔۔۔۔سامنے لیٹی لڑکی کو کیا درد ہے ۔۔۔۔وہ کون سے درد سے سسک رہی ہے ۔۔۔۔خود کو اذیت دے رہی ہے ۔۔۔۔
۔
“زری اٹھو تمہیں تمہارے وجدان کے پاس لے جاؤں”
سلطان نے اُس کے پاس جاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے اُس کو آج بہن کے سواء وہاں موجود کسی شخص کی کوئی پرواہ نہ ہو۔۔۔۔۔۔اُس کو آج فکر ہو تو صرف اُس بہن کی جو محبت پہ اپنا آپ وار رہی تھی ۔۔۔۔
۔
اُس نے اچانک اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔جیسے اُس نے خواب میں سنا ہو ۔۔۔۔کوئی اُس کو وجدان کے پاس لے جانے کا کہے رہا ہو ۔۔۔۔
“زری اٹھو میں تمہیں اٹھا کے لے جاؤں گا اُس کے پاس “
اُس نے حیران ہوتی بہن کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔وہ حیرت سے اُس بھائی کو دیکھ رہی تھی جو اُس پہ کبھی اُس کسی نامحرم کی نظر بھی پڑنے نہیں دیتا تھا۔ آج وہ اُس کو خود لے جانے کا کہے رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“مگر جان جی …..”
اُس نے ایک نظر وہاں کھڑے اپنے باپ اور بھائی پہ ڈالی ۔۔۔جیسے وہ اُس کو کہنا چاہتی ہو ۔اُس کو بتانا چاہتی ہو ۔۔۔۔بابا جان کھڑے ہیں بڑا بھائی کھڑا ہے۔ جن کو شايد اُس نے دیکھا نہیں ہے ۔۔۔۔۔
۔
“بابا جان میں زرمینہ گُل کو لے جاؤں؟”
وہ جانتا تھا اُس کا باپ اسے کبھی نہیں روکے گا ۔۔۔۔وہ جانتا تھا اُس کا باپ اب ایک خر دماغ پٹھان نہیں رہا ۔۔۔۔وہ صرف ایک باپ ہے ۔۔۔۔پھر بھی اُس نے بہن کی تسلی کے لیے باپ سے پوچھا ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا وہ باپ سے پوچھے ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا اُس کا باپ کبھی اپنی روایتیں چھوڑے ۔۔وہ نہیں چاہتا تھا اُس کا باپ موم بن کے پھگل جائے ۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا اُس کا باپ کبھی اپنی اولاد کے سامنے ہار جائے۔ ۔۔۔وہ اپنے باپ کو پہلے جیسا ایک مضبوط پٹھان ہی دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ سواتی جو کبھی نہیں ہارتا۔ جو کبھی نہیں روتا ۔۔۔۔وہ سواتی جس کے پاس اُس کی اولاد بیٹھتے ہوئے سو بار سوچے ۔۔۔۔جِس باپ کے سامنے وہ کبھی اونچی آواز میں بات نہ کر سکیں ۔۔۔۔مگر اب سب کچھ بدل گیا تھا ۔۔۔۔۔سامنے کھڑا پٹھان موم بن کے پھگل گیا تھا ۔۔۔
انہوں نے اُس کو دیکھتے ہوئے ہلکا سا سر ہلایا ۔۔۔جیسے جانے کی اجازت دی ہو ۔۔۔۔
۔
باپ کو دیکھتے ہی اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں نکلنے لگے ۔۔۔کیا یہ اُسی کا باپ ہے ؟ نہیں نہیں اُس کا باپ تو ایسا نہیں تھا ۔وہ تو عزت کے نام پہ جان دینا بھی جانتا تھا ۔اور عزت کے لیے جان لینا بھی اُسے آتا تھا ۔۔۔۔آج وہ اپنی عزت کو باہر جانے کی ایک مرد کے پاس جانے کی اجازت دے رہا تھا ۔۔۔کیا یہ وہی باپ ہے ؟
۔
“نہیں نہیں بابا جان میں نہیں جاؤں گی کبھی بھی “
باپ کو دیکھتے ہوئے وہ اونچا اونچا رونے لگی۔ ۔۔جیسے اُس کو لگا ہو اُسکا باپ مر گیا ہے۔ اور وہ اُسکے موت کی ذمےدار ہے ۔۔۔۔ایک اولاد ایک بیٹی کب چاہتی ہے ۔۔۔اُس کا باپ اُس کے سامنے ہار جائے۔ ۔۔
۔
“نہیں جان جی مجھے نہیں جانا “
بھائی کا ہاتھ پکڑے ہوئے وہ اونچا اونچا روتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ گُل نہ رو میری بیٹی “
وہ اُس کے پاس آئے ۔۔اُس کو اپنے دل سے لگایا ۔۔۔۔اُس کا ماتھا چُما ۔۔۔۔جیسے اُس کو کہے رہے ہوں اُس کا باپ بدل گیا ہے ۔۔۔۔جیسے وہ اسکو بتا رہے ہوں ۔۔۔تمہارا بھی اپنی زندگی پہ کچھ حق ہے ۔۔۔بیشک تم میری بیٹی ہو مگر اپنی پسند کی شادی کا حق رکھتی ہو ۔۔۔۔۔اپنی حد میں رہے کے جینے کا اختیار ہے تمہیں ۔۔۔۔۔
۔
“مگر بابا جان ۔۔۔۔۔۔”.
باپ کے سینے سے لگے ہوئے اُس نے ایک بار پھر سے سوال کیا ۔۔۔اُس کا باپ سمجھ گیا تھا ۔وہ کیا کہنا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔انکو اپنی پرورش پہ ایک بار پھر فخر ہوا ۔۔۔۔۔
۔
“شہاب مولوی صاحب کو بلاؤ ۔۔۔۔ہماری بیٹی کا نکاح ہے آج “
انہوں نے شہاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔بیٹی کو اُس کے “مگر “کا ایک خوبصورت جواب دیا ۔۔۔
۔
سلطان تم زرمینہ گُل کو اُس (وجدان) کے کمرے میں لے جاؤ ۔۔۔۔ہم مولوی صاحب کے ساتھ آتے ہیں ۔۔۔۔مجھے شاہ صاحب اور بی بی صاحبہ سے بھی بات کرنی ہے ۔۔۔۔اُن کے لائے ہوئے رشتے کی قبولیت کا اقرار کرنا ہے ۔۔۔۔
۔
“بابا جان ابھی مولوی صاحب کو نہ بلائیں “
وہ باہر جانے ہی لگے تھے کہ سلطان نے اُن کو آواز دیتے ہوئے روکا ۔۔۔۔
“کیوں سلطان ….”
شہاب نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔جو آنکھوں ہی آنکھوں میں اُن کو کچھ بتا رہا تھا ۔۔۔اُن کو کہے رہا تھا ہماری بہن کا ہونے والا دولہا بستر مرض پہ پڑا ہے ۔۔ اپنی زندگی کی چند سانسیں گن رہا ہے ۔۔۔۔۔سامنے کھڑے دونوں شخص سمجھ گے تھے ۔اُس کی آنکھوں میں کی جانے والی گُفتگو کو وہ سمجھ چکے تھے ۔۔۔صرف وہی نہیں اُن کے پاس لیٹی وہ لڑکی بھی سمجھ گئی تھی ۔۔۔۔جو اُس کی خاطر اپنی زندگی کی چند سانسیں جی رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: