Hijab Novel By Amina Khan – Episode 44

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 44

–**–**–

آپ لوگوں میں سے اکثر سٹوڈنٹس فوج میں آنا چاہتے ہوں گے ۔۔۔اُن کا خواب ہو گا وہ آرمی جوائن کریں ۔۔۔۔بہت ساری یہاں پہ موجود لڑکیاں فوجی کے خواب دیکھتی ہوں گی ۔۔۔۔بہت سارے لوگ میری طرح میجر بننا چاہتے ہوں گے ۔۔۔۔جیسے میں نے چاہا تھا ۔۔۔۔۔مگر آج مجھے بہت افسوس ہے میں میجر کیوں ہوں ؟ میں ایک استاد کیوں نہیں ہُوں؟ ایسا اُستاد جس کے شاگرد اُس کو ایک نظر دیکھنے اتنے دور سے آئیں ہیں ۔۔۔۔جس کی صحت یابی کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔جو دھوپ میں بھی اُس کے لیے کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔جنہوں نے بارش کی بھی پرواہ نہیں کی ۔۔۔۔اُن کو منظور نہیں ہے کہ وہ اپنے استاد کو دیکھے بنا جائیں ۔۔۔۔۔مجھے بہت افسوس ہے آج ۔۔۔۔کاش میں بھی ایک استاد ہوتا ۔۔۔۔۔
۔
وہ یونیفارم پہنے وہاں کھڑے ہر سٹوڈنٹ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔جیسے اُن سے خطاب کر رہا ہو ۔۔۔۔جیسے اُن کو شاباش دے رہا ہو ۔۔۔ آرمی والے کی دات بھی ایک الگ ہی سرور دیتی ہے ۔۔۔۔۔مردہ قوم کو دوبارہ سے زندہ کرتی ہے ۔۔مگر وہاں تو ہر کوئی زندہ تھا ۔اپنے استاد کو دیکھنے کا منتظر تھا ۔۔۔۔میجر کا خطاب اُن کے خون کو اور گرم کر رہا تھا ۔۔اُن میں اور جوشِ و ولولہ پیدا کر رہا تھا ۔۔۔
۔
آج کل مجھے لگتا تھا ایک استاد کی کوئی عزت ہی نہیں رہی ۔۔۔۔وہ ایک پندرہ بیس ہزار کمانے والا ایک مزدور بن کے رہے گیا ہے ۔۔۔جو پورا مہینہ محنت کرتا ہے ۔اور مہینے کے آخر میں اپنی محنت کا پورا پورا صلح بھی وصول نہیں کرتا ۔۔۔۔مگر آج مجھے اندازہ ہو گیا ہے۔ ایک استاد کی آج بھی وہی عزت ہے جو میرے رسول کے زمانے میں تھی ۔۔۔آپ لوگوں نے ثابت کیا ہے ۔۔۔اپنا شاگرد ہونا ثابت کیا ہے۔ اپنے استاد کا مقام ثابت کیا ہے ۔۔۔۔۔وہ جو اندر بستر مرض پہ پڑا ہے اُس کا کیا مقام ہے ۔۔۔۔۔میں دعا کروں گا اللہ اُس کو اتنی زندگی دے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔۔۔اپنی آنکھوں سے اپنی عزت دیکھے ۔۔جو اُس کے سٹوڈنٹس اُس کی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جِس کے لیے وہ اِس بارش میں کھڑے ہیں ۔۔۔۔
۔
اگر مجھے دوبارہ زندگی ملتی تو میں اللہ سے ایک ہی دعا کرتا۔ ۔اللہ مجھے اُس زندگی میں میجر نہیں بنانا ۔۔بلکہ ایک استاد بنانا ۔۔۔۔جِس کو دیکھنے اُس سٹوڈنٹس آئیں ۔۔۔بے شک مجھے مرنے پہ توپوں کی سلامی نہ دی جائے ۔۔۔۔بیشک میری قبر پہ پھولوں کے ہار نہ چڑھائیں جائیں ۔۔۔۔مجھے بس ایسے ہاتھ اٹھانے والے طالب علم دیئے جائیں ۔۔۔۔جو میری زندگی کی دعا کریں ۔۔میرے مرنے کے بعد مجھے یاد رکھیں ۔۔۔
۔
جنید مجھے بہت خوشی ہے تم ایسے ادارے میں کام کرتے ہوں ۔جہاں استاد کو ایسی عزت ایسا مقام دیا جاتا ہے ۔۔۔
۔
وہاں موجود سٹوڈنٹس سے بات کرتے کرتے وہ سامنے کھڑے اپنے دوست کی طرف مڑے ۔۔۔جِس کے طالب علموں نے اُس کی چھاتی چوڑی کر دی تھی ۔۔۔۔وہ کُچھ وقت پہلے جس دوست پہ فخر کر رہا تھا ۔۔۔اب اُسے خود پہ فخر ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ایسا فخر جو اُس کے سٹوڈنٹس نے اسکو دیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے اپنے بازؤں پہ اٹھائے اُس کے کمرے میں لے جا رہا تھا ۔۔۔ہر کوئی اُن دونوں بہن بھائیوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔مسکرا رہا تھا ۔۔۔کوئی ایسا بھی بھائی ہوتا ہے جو اپنی بہن کو اپنے بازؤں پہ اٹھائے لے جائے ۔۔۔۔۔وہ مُسلسل اُس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جو آگے چلتا جا رہا تھا ۔۔۔۔اُس نے اُس کی گردن کے گرد اپنے دونوں بازوں کر رہے تھے ۔۔۔۔۔وہ لوگوں کو مسکراتا ہوا دیکھتا ۔۔۔پھر اپنی بہن کی طرف دیکھتا اور خود بھی مسکرا دیتا ۔۔۔۔۔
“کتنی موٹی ہو نا تم “
اُس نے مصنوعی سے انداز میں تھکتے ہوئے کہا ۔۔
۔
“کیا ؟ کیا ؟ موٹی ہوں میں؟ یہ دیکھیں میری ہڈیاں ہی تو ہیں”
اُس نے برا مناتے ہوئے اپنی ایک بازوں کو آگے کیا ۔۔۔۔۔جو آپریشن کے بعد مزید کمزور ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“تھوڑا کھایا کرو ۔۔۔۔۔ میری بازوں ٹوٹ گئی ہیں “
ایک بار پھر اُس نے اُسے چھیڑنے والے انداز میں کہا ۔۔۔۔اُس کو پتا تھا وہ مذاق میں بھی موٹی لفظ کو اپنے دل پہ لے لیتی ہے ۔۔۔۔ویسے بھی اُس کا چڑیا جتنا دل اتنا مذاق برداشت بھی نہیں کرتا تھا ۔۔۔یا تو وہ رونا شروع ہو جاتی یا پھر اپنا سارا غصہ دوسرے بندے پہ اُتار دیتی تھی ۔۔۔غصے کے معاملے میں ویسے بھی بہت بری تھی وہ ۔۔۔۔اپنا غصہ کبھی دل میں نہیں رکھتی تھی ۔۔ہمیشہ دوسرے کے منہ پہ بولا کرتی ۔۔چاہے اگلے بندے کو اچھا لگے يا برا ۔۔۔۔وہ لحاظ رکھنے والوں میں سے نہیں تھی ۔۔۔غلط بات اگلے کے منہ پہ مار دیا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔بہت کم ایسا ہوتا کہ وہ برداشت کر جائے ۔۔۔وجدان کی محبت میں اُس نے بہت لوگوں کو اپنی نفرت کا مرکز بنایا تھا ۔۔۔اُس کی محبت میں اسے بہت لوگوں سے نفرت ہوئی تھی ۔۔ایسی نفرت کہ وہ اُن لوگوں کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔پھر اُسی محبت نے اسکو موم بنایا تھا ۔۔۔کہ کوئی اُس کو گالیاں بھی دیتا تو خاموش ہو جاتی ۔۔۔۔مسکرا دیتی۔۔۔۔۔۔پھر گھنٹوں سوچتی رہتی ۔۔۔۔کیا یہ وہی ہے جس کے سامنے بولنے کی کسی میں ہمت نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔۔آج لوگ اُس پہ باتیں کرتے ہیں اور وہ مسکرا کے چپ ہو جاتی ہے ۔۔۔کیا محبت انسان کو اتنا جھکا دیتی ہے کہ بندہ اپنے آپ میں ہی مر جائے ۔۔۔۔محبتیں کامیاب ہوں تو انسان کو مغرور کر دیتی ہیں۔ اور پھر جب وہی محبتیں ناکام ہو جائیں تو انسان کو مجبور کر دیتی ہیں ۔۔۔۔اتنا مجبور کہ وہ دنیا سے کنارہ کش ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ہر تعلق سے لا تعلق ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔اپنا آپ بھول جاتا ہے ۔ محبوب کے رنگ میں رنگ جاتا ہے ۔۔۔اُس کا جسم تو اس کا ہوتا ہے۔ مگر روح ۔۔۔۔۔روح اُس میں محبوب کی ہوتی ہے ۔۔۔۔
۔
“کیا سوچ رہی ہو موٹو “.
اُس نے ایک بار پھر اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔اُس کو لگا جیسے وہ اسکی باہوں میں ہی سو گئی ہے ۔۔
۔
“اگر آپ نے ایک دفعہ پھر مجھے موٹو کہا تو میں نے اُتر جانا ہے “
اب کی بار وہ باقاعدہ خفا ہوئی تھی ۔۔۔۔جیسے وہ مکمل خاموشی چاہتی ہو ۔۔۔اتنی خاموشی کہ وہ ایک ایک منٹ محسوس کرے۔ ۔۔اپنے وجدان کے پاس جانے کا ایک ایک لمحہ یاد رکھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر میں آپ سے ایک ریکویسٹ کرنا چاہتا ہوں “
مدثر نے میجر کے پاس آتے ہوئے بہت معصومیت سے کہا ۔۔۔۔جیسے اُس سے زیادہ معصوم تو کوئی دنیا میں ہے ہی نہیں ۔
۔
“یہ دیکھو معصومیت کا ریکاڈ توڑ رہے ہیں مدثر صاحب “
ارم نے ہانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
“ہاں جیسے ہم تو اِس کو جانتے ہی نہیں ہیں نا۔ ایسے معصوم بنا ہوا ہے اِدھر “
ہانیہ نے منہ بناتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا جو میجر کے سامنے ہاتھ باندھے نظریں جھکائے کھڑا تھا ۔۔
۔
“جی جی بیٹا بولو “
میجر ویسے بھی اُن سب سے بہت متاثر ہوا تھا ۔۔۔دوسرا وہ اُس کے دوست کے سٹوڈنٹس تھے ۔۔۔۔اُس کے لیے قابل عزت تھے ۔۔
۔
“سر میں یہ کہنا چاہتا ہوں وجی سر کے ہوش میں آنے کے بعد آپ ہم سب کو ایک ساتھ ان کے پاس جانے کی اجازت دیجیے گا ۔۔ تاکہ ہم ایک ساتھ اُن کو ملیں ۔۔انکو سسپرائز دیں “
۔
مدثر نے ایک کی بار نظریں اٹھائیں اُسکی طرف دیکھا ۔۔۔اور فوراً نظریں نیچے کر لیں ۔۔۔۔وہ ویسے بھی آرمی والوں سے بہت ڈرتا تھا ۔۔۔آج تو پھر اُس کے سامنے ایک میجر کھڑا تھا ۔
۔
“جی بیٹا آپ کے سر کو ہم روم میں شفٹ کر لیں گے ۔۔۔آپ سب ایک دفعہ میں اُن سے مل لینا ۔مگر یاد رہے ہاسپٹل میں موجود دوسرے پیشنٹ ڈسٹرب نہ ہوں “
انہوں نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے انتہائی نرم انداز میں کہا ۔۔۔
۔
“تھینک یو سو مچھ سر آپ بلکل بھی اِس بات کی فکر نہ کریں ۔۔۔ہم کسی کو ڈسٹرب نہیں کریں گے “
وہاں کھڑے ہر سٹوڈنٹ نے اظہارِ تشکر کیا ۔۔۔۔سب کے چہروں پہ مسکراہٹ آئی۔۔۔۔۔ہر کوئی بے چینی سے اپنے ہیرو کے ملنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وجدان بھائی کہاں ہیں ؟ “
سلطان نے بہن کو اٹھائے ہوئے سامنے کھڑے شخص سے پوچھا ۔۔۔
۔
وہاں موجود سب اُس کو دیکھ کے کھڑے ہوئے ۔۔سب اُس لڑکی کو دیکھنے لگے ۔۔۔جو نظریں جھکائے ہوئے بھائی کی گردن کے گرد بازو ڈالے ہوئے تھی ۔۔۔
۔
وہاں موجود دو شخص اُس کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ ۔وہ دونوں اُس کے پاس آئے۔ ۔۔ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔جیسے اُن کو اُمید نہ تھی کہ وہ لڑکی بھی یہیں ہو گی ۔۔۔اور اِس حالت میں ہو گی ۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے زرمینہ گُل “
وجدان کی والدہ پریشانی سے اُس کی طرف آئیں۔ اُس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔ایک نظر پورا اُس کی طرف دیکھا ۔۔جیسے وہ اسکو دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔کیا ہوا ہے اسکو ۔وہ اتنی زرد کیوں ہو گئی ہے ۔۔۔وہ خود چل کیوں نہیں رہی ہے ۔۔۔
۔
“بھائی مجھے نیچے اتاریں “
اُس نے سلطان کی طرف دیکھتے ہوئے آرام سے کہا ۔۔۔جیسے اُس نے سرگوشی کی ہو ۔۔۔
۔
لیکن زرمینہ گُل ۔۔۔۔۔۔اُس نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا جیسے اسکو بتانا چاہتا ہو ۔وہ ابھی چل نہیں سکتی۔ چل تو کیا وہ تو ابھی صحیح سے کھڑے ہونے کے بھی قابل نہیں ہے ۔۔۔
۔
“جان جی مجھے اتاریں نا “
اُس نے آنکھوں میں آنسوؤں لیے ایک بار پھر اُس کی طرف دیکھا ۔۔۔اپنا بازو اُس کی گردن سے آگے کیا ۔۔جیسے وہ خود نیچے اُترنا چاہتی ہو ۔۔۔۔اگر وہ اسکو نیچے نہیں اُتارے گا تو وہ خود اتر جائے گی ۔۔
۔
“کیا ہوا ہے زرمینہ گُل کو ؟”
اب کی بار انہوں نے سلطان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ۔۔
۔
“جی آپریشن ہوا ہے اسکا ۔۔ایک کڈنی نکالی ہے اسکی “
سلطان نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے نظروں کو جھکا کے کہا ۔۔۔۔وہ لوگ ویسے بھی لڑکیوں میں نظریں نہیں اُٹھاتے تھے ۔۔۔۔اب بھی اگر بات اُس کی بہن کی نہ ہوتی تو وہ کبھی یہاں نہ کھڑا ہوتا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ؟”
یہ خبر سنتے ہی انہوں نے اپنے سر پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔وہ اپنے بیٹے کو بھول گئیں ۔۔۔۔اُس لڑکی کو دیکھنے لگیں ۔۔۔جو انکے بیٹے کی پسند تھی ۔اُسکی چاہت تھی ۔۔۔۔
“جان جی …..”.
اب کی بار اُس نے پھر بھائی کی طرف دیکھا ۔۔جو اُس کو نیچے اتارنا بھول گیا تھا ۔۔۔۔۔اُس نے آرام سے اُس کو نیچے اتارا ۔۔۔۔نیچے قدم رکھتے ہی اُس کو لگا جیسے وہ گر جائے گی ۔۔۔وہ اپنا ایک قدم بھی آگے نہیں اٹھا سکے گی۔ ۔۔درد کی ٹیس اُس کے سارے وجود میں اترنے لگیں ۔۔۔۔۔اُس نے فوراً اپنا ہاتھ اپنی کمر پہ رکھا ۔۔۔۔درد کی لہریں اُس کے چہرے پہ آنے لگیں ۔۔جیسے وہ درد سے یہیں بیٹھ جائے گی ۔۔۔۔
“زرمینہ “
فاطمہ نے اُس کو بیٹھتا دیکھا ۔۔۔جیسے وہ بیٹھ رہی ہو ۔۔۔وہ جلدی جلدی اُس کے پاس آئی اُس کو اپنے سینے سے لگایا ۔۔جیسے وہ کب سے اُس لمحے کا انتظار کر رہی ہو ۔جب وہ اپنے وجدان کی محبوبہ کو دیکھے ۔۔۔۔اُس کو ملے ۔۔اسکو اپنے دل سے لگائے۔ اِس کو پیار دے ۔۔۔۔
۔
“میرے وجدان کی ملکہ “
اُس نے ایک لمحے کو اُس کو پیچھے کیا ۔۔۔اُس کا آنسووں میں بہتا چہرہ اوپر کیا ۔۔۔۔اس کے ماتھے پہ پیار کیا ۔۔۔۔اُس کو ملکہ کا خطاب دیا جو اُس کے وجدان نے برسوں پہلے اُسے دیا تھا ۔۔۔
۔
وہ وہاں موجود کسی کو نہیں جانتی تھی سوائے اُس کے ماں باپ کے جو اُس کے گھر آئے تھے ۔جن کو اُس نے دیکھا تھا ۔۔۔۔بس وہ اتنا جانتی تھی یہ پانچوں لڑکیاں اُس کی بہنیں ہیں جو اُس کو اتنی محبت سے دیکھ رہی ہیں ۔۔۔۔۔اُس پہ رشک کر رہی ہیں۔ کتنی خوش قسمت ہو تم کہ ہمارا اکلوتا بھائی تم پہ جان دیتا ہے ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے ایک نظر سب کو دیکھا ۔۔۔اپنی چادر ٹھیک کی ۔۔۔۔فاطمہ کے بازؤں کے سہارے کھڑی ہوئی ۔۔۔۔اُس کے چہرے پہ درد بھری ایک مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔اُس نے کتنا انتظار کیا تھا ۔۔اُس کے گھر والوں میں اُس کے ساتھ کھڑے ہونے کا۔ آج وہ وقت آ گیا تھا ۔سب وہاں موجود تھے۔ بس وہی نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ اُنکے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔جس کی نسبت سے وہ سارے رشتے اُس کے اپنے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا جان مجھے نہیں لگتا وجدان بچ سکے گا “
زرمینہ کے جانے کے بعد وہ اُس کے بیڈ پہ بیٹھے ہوئے باپ کو کہے رہا تھا ۔۔اُن کو پتا تھا زرمینہ کی زندگی کے لیے وجدان کی سانسیں کتنی ضروری ہیں ۔۔۔۔۔اگر وجدان مر گیا تو زرمینہ بھی بچ نہیں سکے گی۔۔۔۔۔
۔
“بس بچے دعا کرو خدا اُس کو بچا لے “
ابراہیم صاحب نے درد بھری ایک آہ لی ۔۔۔۔نظروں کو اوپر کیا ۔جیسے وہ اللہ سے کہے رہے ہوں ۔۔۔اُس لڑکے کو بچا لیں ۔۔جس میں انکی بیٹی کی سانسیں بستی ہیں ۔۔۔
۔
“بابا جان وہ بچ بھی گیا تو کیا ہو جائے گا ۔۔وہ لڑکا ساری زندگی اپنے پیروں پہ چل نہیں سکے گا ۔۔۔میں نے اُس کے ڈاکٹر سے پوچھا تھا۔۔۔۔انکو بلکل اُمید نہیں تھی اُس کے بچنے کی بھی “
شہاب نے باپ کے سامنے پڑے صوفے پے بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“کیا وجدان ساری زندگی چل نہیں سکے گا ؟”
دادی اماں نے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے یکدم پوچھا ۔۔۔جیسے اُن کے جسم میں کرنٹ لگا ہو ۔۔۔اُن کو بلکل بھی ایسی انہونی کی امید نہ ہو ۔
“جی دادی اماں میں ٹھیک کہے رہا ہوں “
شہاب نے اب کی بار دادی اماں کو دیکھا جو پٹھی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھی جا رہیں تھیں ۔۔۔
۔
“نہ مڑہ ۔۔۔۔وہ بچ بھی جائے بیشک ہم اپنی بچی کی شادی کبھی بھی اُس کے ساتھ نہیں کروائیں گے “
دادی اماں نے ابراہیم صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔
۔
“اماں یہ ممکن نہیں ہے اب زرمینہ گُل اُس کے بغیر نہیں رہ سکتی “
رقیہ بیگم نے اپنے آنسوؤں صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔جیسے اماں سے زیادہ اُن کو دھجھکا لگا ہو ۔۔۔۔وہ اماں کی بات سے اتفاق رکھتی ہوں ۔۔۔مگر اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے اُس کا معذور ہونا قبول کر رہی ہوں۔۔۔
۔
“کیسے ممکن نہیں ہے ؟ یہ پوری زندگی کا سوال ہے بہو ۔پوری زندگی ایک بندہ چل نہیں سکتا تو وہ اپنی بیوی کو کھلاۓ گا کیا ۔۔۔محبت سے پیٹ نہیں بھرتا ۔۔وہ پوری زندگی ایک اپایج کے ساتھ کیسے گزرا کرے گی۔ جو اپنے پیروں پے چل بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔مڑہ میں بتا رہی ہوں یہ شادی کبھی بھی نہیں ہو سکتا “
انہوں نے وہاں موجود سب کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔جیسے یہ انکا آخری فیصلہ ہو ۔۔۔۔اِس کے بعد مزید کوئی بات نہ کرے
۔
“دادی اماں تو آپکی پوتی کون سی مکمل رہی ہے اب ؟ “
سلطان نے دادی اماں کی بات سنتے ہوئے کہا ۔۔۔۔سب نے مڑ کے اُس کو دیکھا جو دروازے کے پاس اکیلا کھڑا تھا ۔۔۔کچھ وقت پہلے جو اُس کے ساتھ گئی تھی واپسی پہ ساتھ نہیں تھی ۔۔۔۔
۔
بتائیں نا اماں جی آپ کی پوتی مکمل ہے ؟ ایک گردہ نہیں ہے اسکا جسم پہ ٹانکے ہی ٹانکے ہیں ۔۔۔۔خون کا ایک قطرہ اُس میں اپنا نہیں ہے۔۔۔۔۔ایک قدم وہ چل نہیں سکتی۔ ۔۔جب تک زندہ ہے روز ڈھیروں دوائیاں کھاۓ گی ۔۔۔تو بتائیں کون سا شہزادہ آئے گا اُس کے لیے؟
آج پہلی دفعہ ایسا ہوا تھا ۔۔۔کسی نے اماں جی کے فیصلے پہ اِس طرح کا ردِ عمل دیا تھا ۔۔۔ورنہ وہ تو کیا اُس کے باپ کو بھی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ اُن کے سامنے کچھ بولے ۔۔۔۔
۔
“چل تو سکتی ہے نا زرمینہ گُل “.
اُس کی اِس بات پہ دادی اماں نے سخت لہجے میں اُس سے پوچھا ۔۔۔
“چلنے سے کچھ نہیں ہوتا دادی اماں ہر مرد کو ایک مکمل عورت چاہیے ہوتی ہے ۔۔۔۔آپ کے پوتے نے تو اُس کے یونیورسٹی جانے پہ رشتے سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔تو بتائیں کون سا مکمل مرد اُس سے شادی کرے گا ؟”
سلطان اُن کو حقیقت بتا رہا تھا ۔۔۔پوتے کی بات پہ اُس نے سامنے کھڑے تایا کو دیکھا تھا ۔۔۔جہنوں نے فوراً اپنی نظریں جُھکا لیں تھیں ۔۔۔جیسے وہ اپنے بیٹے کی اُس حرکت سے آج تک شرمندہ ہوں ۔۔
۔
“سلطان تم میری ماں سے بات کر رہے ہو ۔۔۔تم لوگوں کا باپ ابھی اتنا کمزور نہیں ہوا ۔۔کہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے تم میری ماں سے اِس انداز میں بات کرو ۔۔۔مجھے مجبور نہیں کرنا میں اُٹھوں اور تمہارے منہ پہ لگاؤں “
وہ جو کب سے اتنے دنوں نے خاموش تھے آج بولے تھے اور ایسا بولے تھے کہ سامنے کھڑے لڑکے کی ٹانگیں کانپنے لگیں ۔۔۔۔۔اُس نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا جہنوں نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے چپ ہونے کا اشارہ کیا ۔۔
۔
“رہی بات زرمینہ گُل کی شادی کی تو جو میری ماں کا فیصلہ ہے وہی میرا بھی ہے ۔۔۔۔جو اماں چاہیں گی وہی ہو گا “
اُس نے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھا جو کچھ وقت پہلے موم تھا ۔۔۔۔۔۔۔تب وہ ایک باپ تھا صرف ایک باپ ۔۔۔اب وہ ایک بیٹا بھی تھا جس نے اپنی ماں کے حکم کا پاس رکھنا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر صاحب بچی کو اندر جانے دیں”
وہ icu میں تھا بے ہوش تھا ۔۔ڈاکٹر کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔وہ کب سے وہاں بیٹھی تھی ۔۔۔۔اُس کو دیکھنے کی منتظر تھی ۔۔۔کب سے اُس کے ماں باپ ڈاکٹر کی منتیں کر رہے تھے ۔۔نا جانے وہ کیسے ماں باپ تھے جو اپنے دل پہ پتھر رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔وہ اپنے جانے کی منتیں نہیں کر رہے تھے ۔۔۔وہ تو اُس لڑکی کی منظوری کی التجاء کر رہے تھے ۔۔جو اُن کے بیٹے کی محبت تھی۔ اُن کے بیٹے کے لیے سر پہ چادر کیے نظریں جھکائے آنکھوں میں آنسوؤں لیے وہاں بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“کیا بات ہے ڈاکٹر وحید ؟”
ڈاکٹر شاہ نے دور سے آتے ہوئے وہاں کھڑے لوگوں کو دیکھا ۔۔۔۔جو ڈاکٹر کو کچھ کہے رہے تھے ۔اور وہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہا تھا ۔۔۔
۔
“ڈاکٹر شاہ یہ وجدان شاہ سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔۔اُن کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ ہم اِن کو اجازت دیں “
انہوں نے چادر میں بیٹھی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“کیا لگتی ہیں آپ وجدان کی ؟”
اُس نے اُس لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو چہرے پہ درد لیے نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔وہ جانتی تھی اُس ڈاکٹر نے اُس سے پوچھا ہے ۔۔۔۔وہ اُس کو جواب نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔۔۔وہ جواب دیتی بھی تو کیا کہتی ؟ کون ہے وہ اسکی ؟ کیا رشتہِ ہے اُس کے ساتھ اُسکا ۔۔۔۔اُس کے پاس دینے کے لیے کوئی جواب نہیں تھا ۔۔۔۔کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ ۔۔
۔
“بہو ہے یہ انکی “
اُس نے نظریں اٹھا کے اوپر دیکھا ۔۔سامنے اُس کا باپ کھڑا تھا ۔۔۔۔سب نے حیرت سے اسکو دیکھا جو مسکراتے چہرے کے ساتھ اُس کو وجدان کی بیوی کے رہا تھا ۔۔۔۔سامنے کھڑے شخص کی بہو کہے رہا تھا ۔۔۔۔ابراہیم صاحب کی بات سنتے ہی وہ اُن کے پاس گے ۔۔اُن کو اپنے دل سے لگایا ۔۔۔۔وہ زبان کا پکا پٹھان تھا ۔۔۔اپنی بیٹی کو دی ہوئی زبان سے مُکر نہیں سکتا تھا ۔۔۔ماں کے حکم کو اُس نے اپنی دی ہوئی زبان سے افضل رکھا ۔۔۔اُسی ماں نے ایک بار پھر انکو حکم دیا۔۔۔۔زرمینہ گُل کی خوشیوں کو بحال کرنے کا حکم ۔۔۔
۔
“بی بی صاحبہ آپکی امانت ہے یہ میرے پاس جب چاہیں لے جائیں “
ابراہیم صاحب نے نظریں جھکاتے ہوئے انکی طرف رُخ کیا ۔۔۔۔وہ جو رو رہیں تھیں ایک بار پھر اونچا اونچا رونے لگیں ۔۔۔۔انہوں نے ایک بار پھر وہاں بیٹھی لڑکی کو دیکھا ۔۔۔۔ایک بار پھر اسکو اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔اُس کو پیار کیا ۔۔۔پہلے جب انہوں نے اسکو دیکھا تھا اُس وقت وہ صرف وجدان کی پسند تھی ۔۔۔آج وہ اُس کے ہونے والی بیوی کے روپ میں انکے سامنے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زرمینہ گُل کہاں ہو تم “
فضہ نے ہاسپٹل کے گیٹ کو پکڑتے ہوئے اپنے دل میں کہا ۔جیسے وہ اُسکا نام لے گئی اور وہ اُس کے سامنے حاضر ہو جائے گی ۔۔۔اُس کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھے گی خاموش ہو جائے گی ۔۔۔اُس کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھتے ہی اپنی آنکھیں بند کر لے گی ۔۔۔۔اپنے ہونٹ کو دانت میں دبائے گی ۔۔۔ ہونٹ کو اندر کرنے سے اُس کا ڈمپل اور گہرا ہو جائے گا ۔۔۔۔”اور وہ اُس کے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھ کے میری جان بولے گی “۔۔۔۔اُس کا شرارتی سا انداز ایک دم ناراضگی میں بدل جائے گا ۔۔۔ اُس کے ہاتھوں کی گرفت کمزور پڑ جائے گی ۔”کیسے پہچان لیتی ہو تم مجھے ” آنکھوں پہ ہاتھ رکھے وہ ناراضگی میں اُس سے بولے گی ۔۔۔۔اور وہ اُس کے دونوں ہاتھ تھوڑا سا نیچے کر لے اپنے ہونٹوں سے لگائے گی ۔۔۔اُن ہاتھوں کو باری باری چومے گی ۔۔”مجھے خوشبو آتی ہے آپکی ” وہ جو ناراض ہوئی تھی ایک دم مان جائے گی ۔۔۔اپنے ہاتھ اُس کی گردن کے گرد لے جائے گی ۔۔اور اُس کو گلے سے لگا لے گی ۔۔۔
۔
“جاناں “
اُس کی سوچوں کا حسار ٹوٹا ۔۔۔۔اُس کو وہی آواز آئی ۔۔جس کو سننے کے لیے وہ ترس گئی تھی ۔۔۔۔ یہ تو وہی آواز ہے ۔۔۔۔اُسی کی۔ آواز ۔۔۔وہ فوراً پیچھے مڑ ی ادھر اُدھر دیکھا وہاں تو کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔وہ آواز کہاں سے آئی تھی ۔۔۔وہ پھر سے یہاں وہاں دیکھنے لگی ۔۔۔جیسے وہ اس کو نظر آ جائے گی ۔۔۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔۔وہ نزدیک تو کیا اسکو دور بھی نظر نہیں آئی ۔۔۔۔۔
ایک بار پھر وہ آ کے گیٹ کے پاس کھڑی ہو گئی۔ اپنی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں صاف کیے ۔۔۔۔۔ وہ گیٹ کے بلکل ساتھ کھڑے ہونا چاہتی تھی جیسے ہی انکو اندر جانے کی اجازت ملے سب سے پہلے وہ اُس کے پاس پہنچے ۔۔۔۔اُس کو ایک نظر دیکھے ۔۔۔اُس کے ساتھ لڑے ۔۔اپنے پیروں کی دونوں جوتیاں اُس کے سر سر میں لگائے ۔اور وہ سر جھکائے اُس کے سامنے کھڑی ہو ۔”لو اور مارو “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے آپ جائیں اندر “
ڈاکٹر شاہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔وہ دونوں ہاتھوں کو اپنی گود میں رکھ کے بیٹھی تھی ۔۔۔جیسے وہ سوچ رہی ہو ۔۔۔۔وہ کیسے دیکھے گی اسکو ۔کیا بات کرے گی اُس سے ۔۔کیسے بتائے گی اسکو کہ مر جائے گی وہ تمہارے بغیر ۔۔۔۔۔۔۔کیا وہ اُس کی خاطر آٹھ جائے گا ؟ کیا وہ اُس کی خاطر تھوڑا سا اور اُس کے سنگ جیے ؟ کیا وہ محبت کے اقرار پہ اُس کو وہی پاکیزہ ہستی سمجھے گا ؟ کیا وہ بھی اُس کی زندگی میں اُن لڑکیوں کی لسٹ میں آ جائے گی جن سے وہ اپنی جان چھڑاتا ہے ؟ کیا قبول کرے گا وہ اُس کی پاکیزہ محبت ؟
“زرمینہ ؟”
فاطمہ نے اُس کو گہری سوچ میں ڈوبتا دیکھا ۔۔۔۔۔اُس کو آرام سے ہلایا جیسے اُس کو ایک بار پھر کہے رہی ہو ۔۔۔۔تم جا سکتی ہو اب اندر ۔۔
۔
اُس نے فاطمہ کی طرف دیکھا ۔وہ سمجھ گئی تھی ۔اُس کو اٹھنا ہے اب ۔جانا ہے اندر ۔۔۔۔۔اُس نے اپنا ایک ہاتھ کرسی پہ رکھا ۔جیسے اُس ہاتھ کے زور پے اٹھنا چاہتی ہو ۔۔۔۔درد کی شدت اتنی تھی کہ وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔”صبر زرمینہ میں آپکو اندر لے جاتی ہوں”
فاطمہ نے اُس کو بازوں سے پکڑ کے اوپر کیا ۔۔۔۔اُس کو اپنے کندھے کا سہارا دیا ۔۔۔۔وہ اٹھ کے کھڑی ہوئی ۔۔۔اُس دروازے کو دیکھنے لگی جہاں اُس کا وجدان تھا۔ ۔۔
۔
“ڈاکٹر شاہ جلدی اندر آئیں پیشنٹ کی حالت بہت خراب ہے “
وہ جس دروازے کو دیکھ رہی تھی وہاں سے ایک نرس بھاگتی ہوئی باہر نکلی ۔۔۔۔ڈاکٹر کو مریض کی اطلاع دی اور اُسی رفتار سے بھاگتی ہوئی اندر گئی ۔۔۔
۔
وہ جو سہارا لے کے اٹھی تھی وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جنید کیا سوچا ہے تم لوگوں نے پھر ۔۔۔اگر وجدان ساری زندگی ایسے ہی رہتا ہے تو ۔یونیورسٹی والے اُس کے لیے کیا اسٹیپ لیں گے کیا اقدامات کریں گے ۔کچھ بھی ہو وہ آپ لوگوں کی فیکلٹی کا ممبر ہے ۔۔۔۔اور جس طرح سے اُس کے لیے سٹوڈنٹس نکلے ہیں۔ اِس کا یہی مطلب ہے کہ بہت مشہور شخصیت ہے وہ یونیورسٹی کی “
میجر نے اپنے آفس میں بیٹھے ہوئے پرنسپل کو کہا ۔۔۔۔۔۔
۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے میجر ہم اُس کو اُس کے مشکل وقت میں اکیلا چھوڑ دیں ۔۔جب کے ہمیں پتا ہے وہ اپنے ماں باپ کا واحد سہارا ہے ۔۔۔۔۔میں نے سوچ رکھا ہے اُس کے لیے ۔۔۔۔مجھے پورا یقین ہے وہ ویل چیئر پہ بھی ہوا وہ یونیورسٹی ضرور آئے گا ۔۔۔۔اگر وہ نہ بھی آیا ۔۔ہم گھر میں ہی اُس کے لیے آنلائن کلاسز کا بندوبست کریں گے ۔۔۔۔اُس کے سٹوڈنٹس اُس سے آنلائن کلاسس لیں ۔ہم ہر مہینے اُس کو سلری اُس کے گھر پہنچا دیا کریں گے ۔۔۔جب تک میں ہوں یونیورسٹی میں سب اُس کے حق میں بہتر ہوتا رہے گا ۔۔۔ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔اللہ نے اُس کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ بہت بہتر سوچ رکھا ہو گا ۔۔۔ویسے بھی وہ اتنا قابل ہے کہ وہ اپنے لیے خود بھی کچھ نہ کچھ ضرور سوچے گا ۔ضرور کوئی نہ کوئی راستہ نکال لے گا ۔۔۔وہ اُن لوگوں کے لیے خود کو مثال بنا لے گا جو اپنے پیروں پہ نہیں چل سکتے ۔۔۔خود کو دوسروں کے رحم و کرم پے چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔مجھے یقین ہے وجدان خود کو اِس حالت میں بھی اپنے ہیرو والی پوسٹ سے نیچے نہیں گرنے دے گا ۔۔۔
۔۔
انہوں نے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے مسکراتے ہوئے ایک مان سے کہا ۔۔۔۔وہ مان جو انکو وجدان پہ تھا ۔۔۔جو اُس نے کبھی توڑا نہیں تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ اندر کیوں آ گئیں ہیں آپ پلیز باہر جائیں “
وہ اپنی کمر پہ ہاتھ رکھے ایک ایک قدم چل کے اندر آ رہی تھی ۔۔۔جیسے درد کی شدت سے اُس سے چلا نہ جا رہا ہو ۔۔۔ڈاکٹر نے اُس کو دروازے پہ دیکھتے ہی باہر نکلنے کا کہا ۔۔۔وہ کہاں باہر نکلنے کو آئی تھی ۔وہ تو آئی ہی اندر آنے کے لیے تھی ۔۔۔۔ڈاکٹر کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ آگے جانے لگی ۔۔۔۔اُس کی نظر بیڈ پہ پڑے شخص پہ پڑی ۔۔۔جس کے سر پہ سفید پٹی بھندی تھی ۔۔۔۔منہ پہ جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے ۔۔۔۔ناک پہ آکسیجن ماسک لگی تھی ۔۔۔۔وہ مُسلسل اوپر نیچے ہو رہا تھا ۔جیسے بہت مشکل سے سانس لے رہا ہو ۔ایک ایک سانس پہ اُس کو تکلیف ہو رہی ہو۔۔۔۔۔وہ بغیر کسی کو دیکھے چیزوں کو پکڑے اُس تک پہنچ رہی تھی ۔۔۔۔آج اُس کی آنکھوں میں آنسوؤں نہیں تھے ۔۔۔۔وہ خشک ہوتی آنکھوں سے اُس تک جا رہی تھی ۔۔۔۔جیسے جیسے وہ اُس کے قریب پہنچ رہی تھی ۔۔۔اُس کی حرکت میں اضافہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔اُس کے سانس لینے کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔وہ بند آنکھوں سے اُس کو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ اُس کے پاس تھی بلکل پاس۔۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا تھا وہ اُس کے پاس آئے اور اُس کو محبوبہ کی خوشبو نہ آئے ۔۔۔۔۔وہ آنکھیں بند کئے لیٹا تھا ۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا وہ اُس کے پاس آئے اُس کو اِس حالت میں دیکھے ۔۔۔۔
۔
وہ اُس کے پاس آئی ۔۔اُس کی سر والی طرف کھڑی ہوئی ۔۔۔اپنے دونوں ہاتھ اُس کے بیڈ پہ رکھے ۔۔۔اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔آرام آرام سے سانسیں لینے لگی۔۔۔۔۔۔
۔
“کیوں آئیں ہیں آپ یہاں؟ “
وہ اپنی آنکھیں بند کئے وہاں کھڑی تھی کہ اُس کو آواز سنائی دی۔۔۔۔۔اُس نے ایک دم اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔وہ اپنے منہ کا رُخ دوسری طرف کر کے آنکھیں بند کیے لیٹا تھا ۔۔۔۔جیسے وہ اُس کو دیکھنا نہ چاہتا ہو ۔۔۔۔آکسیجن ماسک کی وجہ سے وہ لفظوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیان کر رہا تھا ۔۔۔جیسے اُس کو بولنے میں تکلیف ہو رہی ہو ۔۔۔۔پاس کھڑے ڈاکٹر اور نرس یہ سب دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔ڈاکٹر کے اندر آتے ہی وہ ہوش میں آ گیا تھا ۔۔۔۔۔بس اُس کو مسئلہ تھا تو سانس لینے میں۔ جِس کی وجہ سے نرس اتنا ڈری ہوئی باہر آئی تھی ۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے پاس کھڑے اسٹاف کو آنکھوں کے اشارے سے باہر جانے کا کہا۔اور خود بھی دروازہ کھولے باہر نکل گیا ۔۔۔۔اب وہاں اُن دونوں کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا ۔۔۔وہ ایک سکتے کے عالم میں کھڑی اُس کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ اتنا بے رحم کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔کتنی سوچوں کے بعد وہ وہاں اُس کے پاس آئی تھی ۔۔۔۔وہ اُس کو کیسے دودکار سکتا ہے ۔۔۔۔کیسے اُس کو رُسوا کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔وہ تو اُس کو اپنی ہی نظروں میں گرا رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“جائیں آپ یہاں سے “
ویسے ہی رُخ دوسری طرف کیے وہ ایک بار پھر بولا ۔۔۔۔۔۔اُس کا لحاظ رکھے بغیر بولا کہ وہ بیمار ہے ۔۔۔۔۔مشکل سے چل کے آئی ہے ۔۔۔۔بہت مشقتوں کے بعد اُس تک پہنچی ہے۔
۔
“چلی جاؤں میں ؟”
نظریں جھکائے ایک ہاتھ سے منہ پہ ہلکی سی چادر کیے آنکھوں میں آنسوؤں لیے وہ اُس کو طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔اُس نے ایسے چادر کر رکھی تھی کہ اُس کا منہ کسی کو نظر نہ آئے۔۔۔۔۔ایک ہاتھ سے وہ مسلسل چادر کو آگے کرتی رہی تھی ۔۔۔
۔
“ہاں چلی جائیں آپ یہاں سے “
اُس نے ایک بار پھر اُسی بے رحمی سے کہا ۔۔۔۔۔اپنے ہاتھوں کی موٹھیوں میں بیڈ پہ پڑی چادر کو مضبوطی سے پکڑے لگا ۔۔۔۔۔
۔
“آپ کو چھوڑ کے چلی جاؤں میں؟”
بھاری ہوتی آواز کے ساتھ اُس نے معصومیت سے پوچھا ۔۔۔۔وہ مسلسل اُس کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جیسے اُس نے آج سے پہلے کبھی اُس کو نہ دیکھا ہو ۔۔۔
۔
“ہاں”
اب کی بار اُس کے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔۔۔۔رُخ دوسری طرف کیے ۔آنکھوں کی نمی کو ایک ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے ۔۔اُس نے بس ایک لفظ میں جواب دیا ۔۔۔جیسے وہ کچھ اور بولے گا تو اپنا ضبط کھو دے گا ۔۔۔اُس کے سامنے کمزور پڑ جائے گا ۔۔۔
۔
“لیکن میں تو نہیں جاؤں گی آپکو چھوڑ کے “
آنکھوں سے آنسوؤں صاف کرتے ہوئے اُس نے معصومیت سے ڑہٹھ بنتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“آپ میری بات کیوں نہیں سمجھتی ہیں ؟ “
غصے سے بولتے ہوئے وہ اُس کی طرف مڑا ۔۔۔۔۔۔۔اُس کو اپنے سامنے کھڑا دیکھا ۔۔۔۔اب اُس کے دونوں ہاتھ نیچے تھے ۔۔۔۔چادر اُس کے چہرے پہ ایسے تھی کہ ایک طرف بلکل چپھا تھا۔ ۔۔۔اُس کی آنکھوں میں آنسوؤں تھے ۔۔۔۔اُس کی محبوبہ اُس کے سامنے کھڑی تھی پھر بھی وہ اسکو دیکھنے کی ہمت نہیں کر پایا ۔۔۔۔اُس کو ایک نظر دیکھتے ہی اُس نے اپنا رُخ پھر دوسری طرف موڑ دیا ۔۔۔۔۔آنسوؤں اُس کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے تکیے پہ گرنے لگے۔ ۔۔وہ آنسوؤں صاف نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔وہ اُس کو محسوس نہیں کروانا چاہتا تھا وہ رُخ دوسری طرف کیے رو رہا ہے ۔۔۔۔۔
۔
“اِدھر دیکھیں میری طرف “
اب کی بار وہ تھوڑا آگے ہوئی۔۔۔۔ایک ہاتھ کو اُس کے بیڈ پہ رکھا ۔۔۔اور آرام سے اُس کے پاس اُس کے بیڈ پہ بیٹھی ۔۔۔اُس وقت وہ بھول گئی تھی وہ خود بھی بیمار ہے اُس کو بھی درد ہے ۔اُس کو بس اتنا یاد تھا وہ اپنے وجدان کے پاس ہے ۔۔
۔
“دیکھیں نا “
اُس نے روتے ہوئے اُس کے کندھے پے ہاتھ رکھا ۔۔جیسے اُس کو اپنی طرف موڑ رہی ہو۔ اپنی طرف دیکھنے کا کہے رہی ہو ۔۔۔
۔
اُس کے کندھے پے ہاتھ رکھتے ہی اُس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔وہ رو رہی تھی ۔۔۔اُس سے کچھ مانگ رہی تھی ۔۔۔۔کتنا ہے بس تھا وہ کچھ دینا تو دور اُس کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔
۔
“ناراض ہیں مجھ سے بہت ؟”
آنکھوں میں آنسوں لیے وہ ایک بار پھر بولی ۔۔۔۔جیسے وہ چاہتی ہو سامنے لیٹا شخص اُس سے بات کرے اپنی چپ کو توڑے
۔
“جائیں نا یہاں سے آپ “
وہ جو کچھ وقت پہلے خود کو بہت مضبوط بنا رہا تھا۔ ۔۔ایک دم سے ہار گیا ۔۔۔اُس کی طرف اپنے چہرے کا رُخ کرتے ہوئے سسکیاں لے لے کے رونے لگا ۔۔۔
۔
“کیوں روتے ہیں آپ “
وہ اُس کے قریب ہوئی ۔اُس کے چہرے پہ ہاتھ رکھا ۔۔اُس کے انسوں ایسے صاف کرنے لگے جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو پیار کرتی ہو ۔۔۔۔
۔
“آپ خود کو کیوں برباد کر رہی ہیں ؟”
اُس نے آنکھیں بند کیے نرمی سے اس کو کہا ۔۔۔۔
۔
“کس نے کہا میں خود کو برباد کر رہی ہُوں ؟”
اُس کے پاس اُس کے اوپر جُھکے وہ اُس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اُس سے پوچھنے لگی۔
۔
“مجھے نہیں لگتا ۔۔میں ساری زندگی کبھی اپنے پیروں پہ کھڑا ہو سکوں گا ۔۔۔۔میں کبھی چل سکوں گا “
اُس نے گہری سسکی لیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے اُس نے اپنے پاؤں ہی نہیں کھو دیے۔ اُس لڑکی کو بھی کھو دیا ہے ۔جِس کو اُس نے دن رات دعاؤں میں مانگا تھا ۔۔۔
۔
“میں نے تو آپ سے محبت کی ہے ۔۔۔۔۔فقط آپ سے۔ ۔۔اگر آپ ساری زندگی ہوش میں بھی نہ آتے میں تب بھی آپکا انتظار کرتی ۔۔۔آپ کے پاس ایسے ہی بیٹھی رہتی ۔۔۔آپکی داڑھی کو دیکھی۔ آپکو پتا کتنی اچھی لگتی ہے مجھے آپکی داڑھی ۔۔آپ کے چہرے کی مسکراہٹ “
اُس نے آرام سے اُس کے منہ سے ماسک نیچے کیا ۔۔۔۔جیسے اب وہ نارمل سانس لے رہا ہو۔ صحیح سے بات کر رہا ہو ۔۔۔۔
،وہ اُس سے اظہارِ محبت کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔بچوں کی طرح اُس سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔جیسے وہ سب کچھ بھول گئی ہو ۔۔اُس کو یاد ہی نہ ہو سامنے بیٹھے شخص سے اُس کی اِس طرح پہلی ملاقات ہے۔ ۔۔۔اُس کو وہ صدیوں کا بندھن لگ رہا تھا ۔۔جیسے وہ صدیوں سے اُس کو جانتی ہو۔۔ روز اُس سے ایسے ہی باتیں کرتی ہو ۔
“آپ میری بات کیوں نہیں سمجھ رہی ہیں ۔کیوں نہیں سن لیتی ہیں میری بات “
اُس نے نظریں جھکائے ہوئے کہا ۔۔۔۔ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہوا تھا وہ اُس کو دیکھتا ۔۔۔۔آج پہلی دفعہ تھی جب وہ اُس کے سامنے مکمل نقاب اُتارے بیٹھی تھی ۔۔اُس کی ہو کے بیٹھی تھی ۔۔۔
۔
فرض کریں آپ بلکل ٹھیک ہوں۔ ۔۔۔میں ایسے آپ کے سامنے لیٹی ہوں۔۔۔۔میں آپکو کہوں میں ایک مکمل عورت نہیں رہی ۔۔۔۔میں بیمار ہوں بہت ۔۔۔میرا ایک گردہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔زندگی میں آپ پہ بھوج بنی رہوں گی ۔تو آپ کیا کہیں گے ؟ چھوڑ جائیں گے مجھے ؟
۔
اُس نے نرمی سے اسکا چہرہ اوپر کیا ۔۔جیسے وہ چاہتی ہو وہ اِس بات کا جواب اُس کی طرف دیکھ کے دے ۔۔۔
۔
“آپ کو میں مر کے بھی نہ چھوڑوں ۔آپ میرے پاس ہوں میرے ساتھ ہوں بس یہی بہت ہے۔ ۔۔۔آپ کا سہارا بنوں گا میں۔۔آپکو اتنی محبت دوں گا کہ بھول جائیں گی آپ سب کچھ ۔۔۔۔آپ کو اپنے دل سے لگا کے رکھوں گا میں۔ محبت کی ہے میں نے آپ سے ۔۔۔شدید محبت۔ ۔میری محبت کو فرق نہیں پڑتا کہ اُس کی محبوبہ مکمل نہیں ہے “
وہ آنکھیں بند کئے بس بولے چلے جا رہا تھا ۔۔۔جیسے وہ اُس کو بیڈ پہ لیٹے دیکھ رہا ہو ۔۔۔۔اُس سے باتیں کر رہا ہو۔۔
۔
“میرا بھی یہی جواب ہے ۔۔میری محبت اِس بات کی محتاج نہیں ہے کہ میرا محبوب چل نہیں سکتا “
اُس نے اُس کے دل پہ سر رکھتے ہوئے کہا۔ ۔وہ بھول گئی تھی وہ جو شخص اُس کے سامنے لیٹا ہے ۔وہ اُس کا نا محرم ہے ۔۔۔۔
۔
ویسے بھی محبت کہاں دیکھتی ہے. وہ کسی نا محرم سے ہو رہی ہے یا محرم سے ۔وہ تو بس ہو جاتی ہے ۔۔۔کچھ خاص دلوں کو کچھ خاص لوگوں سے ۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ خاص دلوں کو عشق کے الہام ہوتے ہیں..
محبت تو معجزہ ہے اور معجزے کب عام ہوتے ہیں…
۔
اُس کے دل پہ سر رکھتے ہی وہ کچھ وقت پہلے کا اپنا سارا دُکھ بھول گیا ۔۔۔آنکھیں بند کئے اُس نے اُس کے کندھوں کے گرد اپنی باہوں کا ہار ڈالا ۔۔۔جیسے اُس کی باہوں میں پوری دنیا سما گئی ہے ۔۔۔۔اُس کو اسکی کائنات مل گئی ہو ۔۔۔۔
“ملکہ بہت محبت کرتا ہے وجدان تم سے “
کچھ وقت کے بعد اُس نے اپنے دل پہ سر رکھے اُس لڑکی کو کہا ۔۔۔۔
“مجھ سے کم “
اُس نے آنکھیں بند کیے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔
۔
“اہاں اہاں “
فاطمہ نے ہلکا سا دروازہ کھولا ۔۔۔وہ فوراً اوپر ہوئی۔۔۔۔۔سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ سامنے لیٹے شخص کو دیکھنے لگی۔ جیسے وہ اب شرم سے پیچھے نہیں دیکھ پائے گی ۔۔۔۔اُس کو دیکھتے ہی وہ مسکرانے لگا ۔۔۔
۔
“آئیں نا آپی “
اسی مسکراہٹ کے ساتھ اُس نے بہن کو اندر آنے کا کہا ۔۔۔۔اور پھر سے اُس لڑکی کو دیکھنے لگا ۔۔۔جو چہرے پہ ہاتھ رکھے بیٹھی تھی ۔۔۔فاطمہ کے اندر آتے ہی وہ جلدی جلدی وہاں سے اٹھنے لگی ۔۔
۔
“آرام سے زرمینہ ۔۔۔کیوں آٹھ رہی ہو۔۔۔ تمہاری ہی تو جگہ ہے یہ “
فاطمہ نے اُس کو آرام سے پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
” فلحال ایسا ہے کہ مستقل یہاں بیٹھنے کے لیے تمہیں کچھ وقت یہاں سے اٹھنا پڑے گا “
اُس نے باری باری دونوں کو دیکھا ۔۔۔جو حیرت سے اُس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔
نہیں سمجھے ؟ بھئی مولوی صاحب باہر کھڑے ہیں ۔۔۔اور آپکی یونیورسٹی کی پوری پلٹون بھی ۔۔۔جن کا بس نہیں چل رہا وہ دروازہ توڑ کے اندر آ جائیں ۔۔۔۔۔
۔
اُس بات پہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔دونوں کے بیچ مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا ۔۔جیسے آج سے پہلے انہیں کبھی ایسی خوشی نہیں ملی ۔۔۔
۔
“ارے لیلیٰ مجنوں سن رہے ہو نا دونوں باہر مولوی صاحب کھڑے ہیں “
فاطمہ نے اُن دونوں کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا ۔۔۔۔فاطمہ کی بات پہ وہ ایک دم اٹھی ۔۔۔جیسے شرمندہ ہوئی ہو ۔۔۔۔وہ کب سے اُسے اٹھنے کا کہے رہی ہیں اور وہ یہیں بیٹھی ہے ۔۔
۔
“زرمینہ تم یہاں صوفے پہ بیٹھ جاؤ”فاطمہ نے اسکو بازوں سے پکڑ کے آرام سے وہاں پہ بٹھایا ۔۔
۔
“آپی وہ چادر “
اُس نے اپنے پاس پڑی اُس سفید چادر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بہن کو کہا ۔۔۔۔جو اُس کی اگلی بات سمجھ گئی تھی۔ وہ بہن کو کیا کہنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔
۔
فاطمہ نے وہ چادر اٹھائی ۔۔اور صوفے پہ بیٹھی لڑکی کے سر پہ ڈال دی ۔۔۔۔جیسے اُس کا سارا چہرہ اُس چادر نے ڈھانپ دیا ہو ۔۔۔۔۔آج اُس کی شادی تھی ۔اُس کی زندگی کا سب سے بڑا دن ۔۔۔عموماً شادی پہ دلہنیں سُرخ جوڑا پہنتی ہیں ۔۔۔اُس نے سفید چادر اوڑھی تھی جو اُس کو اُس کے محبوب نے تحفے میں دی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“آپی مولوی صاحب آ جائیں؟”
باہر سے ایک بہن نے اندر آتے ہوئے کہا ۔۔۔
“جی اُن کو بولو آ جائیں “
فاطمہ نے مسکراتے ہوئے اس کو کہا ۔۔اور پھر اپنے بھائی کو دیکھا جو آنکھیں بند کیے لیٹا تھا جیسے خدا کا شکر ادا کر رہا ہو ۔۔۔۔انکی دی کوئی نعمت پے خود کو اُن کے سپرد کر رہا ہو ۔۔۔۔اِس کے بعد کسی چیز کی خواہش سے انکار کر رہا ہو ۔۔۔۔۔کہے رہا ہو مجھے میری دنیا مل گئی ہے اب مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: