Hijab Novel By Amina Khan – Episode 5

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 5

–**–**–

کالج کے لیے روز اُسے آواز دے دے کے جگایا جاتا تھا۔۔ مگر آج وہ اتنی خوش تھی کے نماز پڑھنے کے بعد سوئی ہی نہیں ۔۔
اُس نے نماز پڑھی پھر قرآن پاک کھولا اور اُس کی تلاوت کرنے لگی ۔ یہ اُس کا روز کا معمول تھا وہ قرآن مجید تھوڑا تھوڑا ہی سہی مگر پڑھتی ضرور تھی ۔۔
وہ ہمیشہ قرآن مجید سمجھ کے پڑھا کرتی تھی ۔
ایک آیت پڑھتی اُس پہ گھنٹہ سوچتی رہتی جہاں اللہ کے عذاب کا ذکر ہوتا تو سحم سی جاتی پھر اگلی ہی بات میں اللہ کے رحم کا ذکر ہوتا ۔۔۔آنکھیں بند کرتی اور مسکرا دیتی ۔۔۔
“اللہ جی آپ کتنے اچھے ہیں نا”
اُس نے پردہ لینا بھی اِس ہی لیے شروع کیا تھا کیوں کہ اُس کے اللہ کا حکم تھا ۔ انھوں نے سورۃ نور میں واضع پردے کا حکم دیا ہے !!!!!!!
وَقُلْ لِّـلۡمُؤۡمِنٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَا‌ وَلۡيَـضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوۡبِهِنَّ‌ۖ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اٰبَآئِهِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوۡ نِسَآئِهِنَّ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيۡنَ غَيۡرِ اُولِى الۡاِرۡبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يَظۡهَرُوۡا عَلٰى عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ‌ۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِهِنَّ لِيُـعۡلَمَ مَا يُخۡفِيۡنَ مِنۡ زِيۡنَتِهِنَّ‌ ؕ وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيۡعًا اَيُّهَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے
القرآن – سورۃ نمبر 24 النور – آیت نمبر 31
یہ آیت اُس کے دل پہ لگی تھی۔ ایسے تو قرآن پاک کے ہر بات اُس کے دل میں اُترتی تھی ۔مگر پتا نہیں کیوں اُس کو سورۃ نور سے عشق تھا ۔۔۔۔اُس نے سورۃ نور میں پڑھا کے اللہ پاک نے اسے حکم دیا ہے تب سے اُس نے خود کو لپٹنا شروع کر لیا ۔۔
اُس نے بس اللہ پاک کو خوش کرنے کے لیے حجاب لیا تھا۔
اُس کےبابا جان اور بھائی بھی پردے کے معاملے میں بہت سخت تھے مگر وہ ہر وقت اُس کے ساتھ تو نہیں ہوتے تھے ۔۔۔۔ وُہ انکی غیر موجودگی میں بھی سر پہ دوپٹہ لیے رکھتی تھی تا کے اُس کا کوئی ایک بال بھی نہ دیکھ سکے ۔۔۔ کالج میں اُس کی دوستیں اس بات پہ اکثر اُس کا مذاق بھی اڑایا کرتی تھیں مگر اُس نے کبھی اُن کی باتوں پہ دہیان نہیں دیا وہ تو اپنے رب کو خوش رکھے گی بس باقی دنیا سے اُس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ ہمیشہ یہ بات سوچتی تھی۔۔۔۔۔۔
کالج جانے کے لئے وہ چادر لیا کرتی تھی ۔مگر یونیورسٹی کے لیے اُس نے خصوصاً عبایا بنوایا تھا ۔۔۔
مانو کو کھانا کھلانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آئی تھی ۔۔۔
بال برش کیے۔ لمبے خوبصورت بالوں کو ایک جوڑے میں لپٹا ۔۔۔
اور پھر عبایا پہنا ۔۔۔۔
اور حجاب ایسے لیا کے اُس کی آنکھوں کے بغیر اور کچھ نا نظر آئے ۔۔۔وُہ ہمیشہ سوچتی تھی یہ جو لڑکیاں عبایا اور حجاب لیتی ہیں ۔اس میں فیشن والی کون سی بات ہوتی ہے۔ ۔۔۔ حجاب میں کیسا فیشن کہ سارے بال نظر آ رہے ہوں ۔۔۔آنکھوں پہ فل میکپ کیا ہوا ہو ۔۔۔
اور سارا دوپٹہ لا کے بس سر پہ ہی کیا ہو اور اونچا سا جوڑا بنا دیا ہو ۔۔۔۔۔اور عبایا اتنا تنگ ہو کہ آپ ہر ایک ایرے غیرے کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہوں ۔۔۔کیا یہ ہے پردہ؟ کیا یہ ہوتا ہے حجاب؟ جو آج کل کی اکثریت لڑکیوں کی تعداد کرتی ہے۔ ۔
کیا اس پردے کا حکم دیا ہے خدا اور اس کے رسول نے ہمیں ؟؟
وہ جب بھی ایسی لڑکیوں کو دیکھتی تو ہمیشہ شرمندہ ہوتی ۔۔۔۔ وُہ ایسی لڑکیوں کو دیکھ کے ہمیشہ شرم سے اپنی نظریں جُھکا دیتی ۔۔۔۔۔۔
“زری”
اماں اُس کے کمرے میں آئی تھیں ۔۔۔
” میرا بچہ تیار ہو گیا ہے “
وہ اُس کو ہمیشہ پیار سے میرا بچہ کہے کر بلایا کرتی تھیں !!!!!
“جی اماں تیار ہو گئی ہوں “
اُس نے وضو بناتے ہوئے کہا وہ ہمیشہ گھر سے باہر نکلنے سے پہلے وضو کیا کرتی تھی ۔۔
زری جلدی تیار ہو جاؤ نا بھائی کھڑا ہے باہر انھوں نے اُس کو کمرے سے ہی آواز دی جو ابھی تک واشروم میں تھی ۔
“جی اماں بس وضو بنا رہی تھی میں “
اُس نے باہر آتے ہوئے ماں کو کہا !!!!
وہ عباۓ میں انتہاء کی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔اُس نے کھلا کھلا عبایا بنويا تھا۔ اور حجاب بھی ایسے لیا ہوا تھا کہ اُس کی خوبصورتی نکھار رہا تھا۔ شاید ہی کوئی لڑکی حجاب میں اتنی خوبصورت لگے جتنی وہ لگ رہی تھی ۔۔
اُس کی دل نشیں آنکھیں ایک جھیل کا منظر دے رہی تھیں ۔۔۔
کالج میں وہ حجاب نہیں لیتی تھی۔ اُس کی آنکھوں کی خوبصورتی اُس کا ڈمپل اپنی طرف متوجہ کر لیتا تھا ۔۔۔۔ مگر آج اُس نے حجاب لیا تھا نقاب کیا تھا صرف اُس کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں ۔۔۔
جو رات کی گہرائی میں چاندنی کا کام کر رہی تھیں ۔۔
“ما شاء اللہ میری بیٹی آج بہت پیاری لگ رہی ہے”
ماں نے پیار سے اُس کا ماتھا چُوما
“اماں آپ بھی نا “
اُس نے مسکراتے ہوئے ماں کو دیکھا
“یہ کیا ہے اماں؟ “
اُس نے ماں کے ہاتھ میں بڑی سی سفید چادر کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
“زرمینہ گل یہ چادر ہے ، یہ میں تھمارے لیے لائی ہُوں”
ماں نے بیٹی کے ایک کاندھے پہ اور پھر دوسرے کاندھے پہ چادر ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔
“لیکن اماں میں نے تو عبایا لیا ہوا ہے اور حجاب کا دوپٹہ بھی کافی بڑا ہے پھر یہ چادر”
اُس نے حیران ہونے والے انداز میں ماں سے پوچھا ، جو بڑے پیار سے اُس کی چادر کو ٹھیک کر رہی تھیں ۔۔۔۔
“زرمینہ اس کو صرف چادر مت سمجھنا ، اس چادر کو اپنے بابا جان کی عزت سمجھنا “
وہ زرمینہ کی طرف دیکھتے ہوئے اُسے کہے جا رہی تھیں!!
” زری آج تم ہی گھر سے باہر نہیں جا رہی بلکہ ہماری عزت ساتھ لیے جا رہی ہو ۔اپنے ماں باپ اور بھائیوں کی عزت کا برہم رکھنا ۔۔۔ خود کو ایسے رکھنا کہ اس کے بعد خاندان کی اور لڑکیاں بھی پڑھنے جائیں ۔۔ کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے ہماری آنے والی سات نسلوں کی لڑکیاں کبھی نا پڑھ سکیں”
انھوں نے بہت پیار سے بیٹی کو سمجھایا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ جس بیٹی کو سمجھا رہی ہیں وہ پہلے ہی ساری باتیں سمجھتی ہے!!!!!!!
اماں آپ بروسہ رکھیے گا اپنی بیٹی پہ۔ ۔۔اس چادر کا ہمیشہ مان رکھے گی آپ کی بیٹی !!!!
اُس نے ماں کے ہاتھ پکڑے اور اُن کو گلے لگاتے ہوئے بولی پیار سے بولی!!!!
“زری اب آ بھی جاؤ “
“جی جی جان جی بس آ گئی”
بھائی کی آواز پہ وہ فوراً بھاگتے ہوئے باہر گئی
اچھا اماں خدا حافظ ۔۔۔۔۔۔۔
ماں کو خُدا حافظ کہنے کے بعد دادی اماں کے پاس گی جو باہر برآمدے میں ہی بیٹھی تھیں ۔۔۔
“اچھا دادی اماں خدا پامان “
اُس نے اُن کو پیار کرتے ہوئے کہا ۔۔
“خدا پامان زرمینہ گل”
اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا ۔
انھوں نے ہاتھ اٹھا کے دعا کی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زری کی بچی بس تم آج آ جاؤ تمہیں میں سیدھا کروں گی”
فضہ یونی کے گیٹ پے کھڑی ادھر اُدھر ٹھل رہی تھی اور ساتھ جو منہ میں آ رہا تھا وہ زرمینہ کو کہے جا رہی تھی ۔۔۔۔
اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ زرمینہ کا گلا دبا دے ۔۔۔۔
پچھلے ایک گھنٹے سے وہ گیٹ کے پاس کھڑی آتے جاتے لوگوں کو پاؤں اٹھا اٹھا کے دیکھ رہی تھی کہیں زری ہی نہ ہو ۔۔۔
وہ جانتی تھی زری کو اگر وہ نظر نا آئی تو وہ اُدھر ہی بیٹھ کے رونا شروع ہو جائے گی ۔۔۔
“بیٹا آپ کو کوئی مسئلہ ہے؟ خیر تو ہے نا ۔کافی وقت سے تم ادھر گیٹ کے پاس کھڑl ہے “
کافی ٹائم سے فضہ کو ادھر کھڑے دیکھ کر گیٹ پے چوکیدار نے پوچھ ہی لیا ۔۔
“جی جی چچا سب خیر ہے “
“ایک راز کی بات بتاؤں میں آپکو ؟”
“بتائیں گے تو کسی کو نہیں نا “
“پتا نہیں کیوں مجھے آپ پہ ترس آ گیا اور میں نے سوچا میں آپ کو بتا ہی دوں
پہلے آپ وعدہ کریں کسی کو نہیں بتائیں گے۔ “اچھا چلیں میں آپکو بتا ہی دیتی ہوں”
“مجھے نا ادھر آپ پہ نظر رکھنے کے لیے بھیجا ہے”
فضہ نے آواز آہستہ کر کے سرگوشی والے انداز میں اُنکو بولا !!
“ہیں یہ کیا کہے رہا ہے تم”
رضوان خان نے نہایت حیرت سے پوچھا !!!!!!
وہ اتنا بوڑھا بھی نہیں تھا اور نہ ہی اتنا جوان ۔۔۔۔لگ بھگ ۳۵ کا ہو گا ۔۔۔
‘ہم ان لوگوں کو چھوڑے گا نہیں یہ ہماری انکوائری کرواتا ہے ؟ ہم کوئی چور ہے ہم کوئی ڈاکو ہے ؟”
“ہم جاتا ہے ابھی پرنسپل کے پاس ۔رکھو اپنا نوکری اپنے پاس ہم کہیں مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پال لے گا “
فضہ کی تو جیسے ہوائیاں اُڈ گئیں۔ ۔۔اُس نے تو ٹائم پاس کے لیے بس چھوٹا سا مذاق کیا تھا اُس کو کیا پتہ تھا یہ مذاق اُس کو ہی مانگا پڑھ جائے گا!!!!!!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے تو یونیورسٹی کی گاڑی
جاتی تھی جس میں ساری سٹوڈنٹس جاتے تھے ۔۔۔مگر زرمینہ گل کو چھوڑنے اور یونیورسٹی سے لے کے جانے کے لیے بھائی کی ڈیوٹی لگی تھی ۔۔۔۔
“زری”
یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس روکتے ہوئے سلطان نے بہن کی طرف دیکھا ۔۔۔جو پورا راستہ خاموش رہا تھا۔ ۔زری کچھ پوچھ لیتی تو سرسري سا جواب دے دیتا ۔۔۔
اب وہ بہن کی طرف با قاعدہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
“زری تم اُس ماحول میں چل تو جاؤ گی نا”
غصّہ اپنی جگہ تھا مگر بہن کے لیے وہ بے پناہ محبت اپنی جگہ تھی!!!!!!
“جی جان جی “
اُس نے نظریں جھکا کے بس مختصر سا جواب دیا ۔۔ اُس کے اپنے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ اُس نے تو کبھی کسی لڑکے سے بات تک نہیں کی تھی وہ کیسے اِدھر اتنا عرصہ گزرے گی ۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں بہت پریشان تھی۔۔۔۔
“فضہ ہو گی نا تمارے ساتھ ؟”
اُس کی ساری دوستوں کا اُس کے گھر میں پتا ہوتا تھا ۔۔۔اور فضہ تو تھی ہی اُس کی خاص دوست ۔۔۔۔
“جی بھائی فضہ بھی ہو گی رات کو لالا گل کے نمبر سے اُس کو کال کی تھی میں نے ۔وُہ گیٹ کے پاس ہی میرا انتظار کر رہی ہو گی “
“ٹھیک ہے اُس کے ساتھ ہی ہونا اور اپنا بہت خیال رکھنا میں واپسی پہ تمہیں خود لینے آ جاؤں گا”
اُس نے چہرے پہ بغیر کسی تاثر کے بہن کو کہا ۔۔اور گاڑی سے اتر کے بہن کے لیے دروزہ کھولا !!!!!
“اچھا جان جی خدا خافظ”
اُس نے بہت پیار سے بھائی کو کہا تھا ۔۔۔۔
“خیال رکھنا اپنا زری”
“جی جان جی”
“اُس نے مسکراتے ہوئے کہا “
اور گیٹ تک چلی گئی ۔اُس نے ایک نظر پیچھے موڑ کے دیکھا سلطان وہی پہ کھڑا اُس کے دروازے کے اندر جانے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
اُس نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔جان جی جس کی حفاظت کرنے کے لئے آپ جیسے بھائی ہوں وہ کیسے ڈر سکتی ہے ۔۔۔۔۔
“بیشک بھائی بہنوں کی سر کی چادر ہوتے ہیں اُس نے مسکراتے ہوئے دل میں سوچا اور گیٹ کھول کے اندر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوہ چچا سنیں تو سہی مذاق کر رہی تھی میں آپ سے “
فضہ نے رضوان خان کو جاتے ہوئے دیکھ کے زور سے بولا !!!!!
یہ مذاق تھا اس کو تم مذاق کہتا ہے ؟ میرا اور تمارا کوئی مذاق ہے ؟ تایا کی بیٹی ہے تم ہمارا جو مذاق کرتا ہے ہم سے۔۔۔
وہ بھی آخر پٹھان تھا اتنی آسانی سے کدھر مان جاتا !!!!!
چچا جی پلیز سنیں ۔میں اپنی دوست کا انتظار کر رہی ہوں بس آپ نے پوچھا مجھ سے تو میں نے آپ سے مذاق میں کہے دیا ۔۔۔
اُس نے انتہائی بے چارگی سے کہا !!!!!
” فضہ”
زرمینہ نے گیٹ پہ کھڑی فضہ کو دیکھ لیا تھا۔ اور اُس کو اُدھر ہی سے آواز دی تھی۔
“زرمینہ مر ہی جا تو “
اُس نے پاس آتی زرمینہ کو دانت دوبا کے کہا ۔۔
“سوری میں بہت لیٹ ہو گئی نا تب ہی تم غصّہ ہو رہی ہو نا “
زرمینہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے معصومیت سے کہا !!
رضوان خان کھڑا سب سن رہا تھا۔۔۔۔ اُس سے بولے بغیر نہیں رہا گیا ۔۔
“دیکھو تمارے جیسا ہمارا بھی ایک بیٹی ہے ہم تم کو کچھ نہیں کہتا ۔۔۔۔اگر کوئی لڑکا ہوتا تو اُس کے دانت ابھی باہر ہوتے “
رضوان خان نے فضہ کو دیکھتے ہوئے کہا !!!!
“سوری چچا غلطی ہو گئی “
اُس نے زرمینہ کا ہاتھ پکڑا اور جلدی جلدی وہاں سے چلنے لگی!!!!
کیا ہوا ہے وہ تمہیں ایسے کیوں کہے رہے تھے؟ کیا کیِا ہے تم نے ؟
زری ایک ہی سانس میں بہت حیرت سے فضہ سے پوچھ رہی تھی جو غصے میں اُس کو ہاتھ سے پکڑے آگے آگے جا رہی تھی
“چپ کرو گی تم اس وقت یہ اُس پاگل پٹھان کا سارا غصّہ میں تم پہ نکال لوں؟
یہ سارے کے سارے پٹھان ایسے ہی دماغ پھیرے ہوتے ہیں ؟ یا یہ کچھ ضرورت سے زیادہ تھا ؟ “”
فضہ غصے میں بس بولتی چلی جا رہی تھی
“اچھا آرام سے تو چلو نا “
زری نے تقریبََ بھاگتے ہوئے فضہ کو کہا ۔۔۔۔
آہہہہہہہ !!!!!!
“دیکھ کے نہیں چل سکتے آپ”
سامنے سے آتے ہوئے ایک لڑکے سے فضہ کی زور سے ٹکر ہوئی۔۔شاید وہ بھی فضہ کی طرح بہت جلدی میں تھا۔۔ اُس کے ہاتھ میں کچھ کاغذ تھے وہ اُنکو ترتیب دیتا ہوا تقریباً دوڑنے والے انداز میں آ رہا تھا۔۔۔
۔۔ٹکر لگتے ہی اُس کے ہاتھ سے سارے کاغذ نیچے گرے , اُس نے ناگواری سے اُس کو دیکھا اور زمین پہ سے اپنے کاغذ اٹھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
“محترمہ میں تو دیکھ کے ہی چل رہا تھا شاید آپ کو جانے کی مجھ سے بھی زیادہ جلدی ہے “
وہ بغیر اُن کی طرف دیکھے زمین سے اپنے سارے کاغذ اُٹھا رہا تھا !!!!!!
“جدھر کوئی لڑکی دیکھی نہیں اُدھر ہی ان کو کچھ نظر نہیں آتا اور ٹکرانا شروع ہو جاتے ہیں” ۔۔۔
فضہ بغیر لخاظ کیے بس بولی چلی جا رہی تھی ۔جب کہ اُس کو اچھے سے پتا تھا غلطی اُس کی اپنی تھی ۔۔۔۔
“فضہ “
زرمینہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں فضہ کو چپ ہونے کا کہا ۔۔۔۔
دیکھیے محترمہ میں نے جان بھوج کے آپ کو ٹکر نہیں ماری ، پھر بھی میں معذرت کرتا ہوں ۔۔۔
اُس نے اپنے کاغذ اٹھا کے فضہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
اچانک اُس کی نظر پیچھے کھڑی زرمینہ پہ پڑی جو حجاب میں اعباۓ کے اوپر سفید چادر کیے اُس کی بازوں کو زور سے دوبا رہی تھی ۔ اور اُس کو چپ ہونے کا کہے رہی تھی ۔۔۔۔
اُس نے ایک دم اپنی نظریں جُھکا لیں اور معذرت کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔
“ہاں میں سمجھتی ہُوں تم جیسے لڑکوں۔۔۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے کے فضہ کچھ کہتی وہ وہاں سے جا چکا تھا،
“پتا نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں ایسے لوگ “
فضہ نے اُس ہی غصے والے انداز میں بولا ایسے تو اُس کو اتنا غصّہ نہیں آتا تھا ۔مگر آج وہ پہلے زرمینہ پھر رضوان خان اور پھر اس لڑکے کی وجہ سے بہت غصے میں آئی تھی ۔۔۔۔
“اچھا اب چپ ہو جاؤ فضہ “
اُس نے پیار سے فضہ کو دیکھا اور بولا ۔۔۔۔
“فضہ نے اُس کو ایک دم سے گلے سے لگا لیا ۔۔اور معصومیت سے سوری کہا ۔میں نے تمہیں گلے سے بھی نہیں لگایا ان بتمیزوں کی وجہ سے”
یہ پہلا موقع تھا جب اس نے اتنے وقت بعد اُس کو گلے سے لگایا تھا ۔۔۔۔
اُس کی خوبصورت آنکھوں میں اور چمک آئی تھی ۔۔۔
فضہ وُہ دیکھ وہ لڑکا اپنا ایک کاغذ یہیں پہ بھول گیا ہے ۔۔۔۔دیکھو کام کا نا ہو ۔۔
زرمینہ نے زمین پہ پڑے کاغذ کی طرف اشارہ کیا۔۔
فضہ نے وہ کاغذ اٹھایا
اور پڑھنے لگی!!!!
شاید کوئی سرٹیفکیٹ ہے ۔اوپر نام بھی لکھا ہوا ہے اُس کا ۔۔۔۔
“کیا نام ہے خان صاحب کا جہنوں نے آپ کو اٹیتوڑ دکھایا ہے “
زرمینہ نے فضہ کو غصّہ دلانے کے لیے تنگ کرنے والے انداز میں کہا!!!!!
“ہاں اٹیتور نا مي فوٹ “
فضہ نے غصے سے اُس کو دیکھا اور بولی ۔۔۔
“اچھا نام تو پڑھو نا “
زری نے اُس کے ہاتھ سے کاغذ کھنچ کے کہا ۔۔۔۔
نام پڑھ کے اب کیا کرنا نام تو آپ نے اُن کو دے ہی دیا ہے ” *”خان صاحب* “
فضہ نے غصے سے زرمینہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
اُس نے کاغذ کو صحیح کیا اور مسکراتے ہوئے نام پڑھنے لگی ۔۔۔
اُس نے آنکھیں اوپر کر کے فضہ کو دیکھا اور شرارتی سے انداز میں بولی ۔۔۔۔
اچھا تو خان صاحب کا نام ہے جی !!!!
*”سید وجدان حسین شاہ* “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: